Explained with ayahs 71–72
شیطان کی تقلید
بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت و بندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ01107) 23۔ المؤمنون :117) جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بےدلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی باز پرس کرلے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں۔ " یہاں بھی فرمایا کہ ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 120
یعنی نہ تو خدا کی کسی کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے فلاں فلاں کو اپنے ساتھ خدائی میں شریک کیا ہے لہٰذا ہمارے ساتھ تم ان کی بھی عبادت کیا کرو، اور نہ ان کو کسی علمی ذریعہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ واقعی الوہیت میں حصہ دار ہیں اور اس بنا پر ان کو عبادت کا حق پہنچتا ہے۔ اب یہ جو طرح طرح کے معبود گھڑے گئے ہیں، اور ان کی صفات اور اختیارات کے متعلق قسم قسم کے عقائد تصنیف کرلیے گئے ہیں، اور ان کے آستانوں پر جبہ سائیاں ہو رہی ہیں، دعائیں مانگی جا رہی ہیں، چڑھاوے چڑھ رہے ہیں، نیازیں دی جا رہی ہیں، طواف کیے جا رہے اور اعتکاف ہو رہے ہیں، یہ سب جاہلانہ گمان کی پیروی کے سوا آخر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
خلاصہ تفسیر
اور یہ (مشرک) لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے جواز عبادت) پر اللہ تعالیٰ نے کوئی حجت (اپنی کتاب میں) نہیں بھیجی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی (عقلی) دلیل ہے اور (قیامت میں) جب (ان کو شرک پر سزا ہونے لگے گی تو) ان ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا (نہ قولاً کہ ان کے فعل کے استحسان پر کوئی حجت پیش کرسکے نہ عملاً کہ ان کو عذاب سے بچا لے) اور (ان لوگوں کو اسی گمراہی اور اہل حق سے عناد رکھنے میں یہاں تک غلو ہے کہ) جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں (متعلق توحید وغیرہ کے) جو کہ (اپنے مضامین میں) خوب واضح ہیں (اہل حق کی زبان سے) پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم کافروں کے…
Read the full tafseer →ایک اور غلط فہمی کا ازالہ
یہ ایک اور غلط فہمی بھی رفع فرما دی کہ جس دن خدا انصاف کے لئے بیٹھے گا تو اس دن کوئی ان ظالموں کا مددگار نہ بن سکے گا۔ جن چیزوں کو انہوں نے خدا کا شریک و شفیع بنا رکھا ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے نہ خدا نے ان کے حق میں کوئی پروانہ جاری کیا ہے کہ وہ اس کی خدائی میں شریک ہیں اور نہ ان کے اپنے ہی پاس ان کے باب میں کوئی علم ہے۔ خدا کے اذن کے بدوں کسی کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ خدا نے اس کو اپنا شریک بنایا ہے اللہ پر افتراء ہے جو ایک جرم عظیم ہے اور جس چیز کے بارے میں کوئی عقلی و فطری دلیل نہیں ہے اس کو معبود بنانا محض ظن کی پیروی و ہے اور ظن علم اور حق کا قائم مقام نہیں…
Read the full tafseer →71۔ 1 یعنی ان کے پاس نہ کوئی نقلی دلیل ہے، جسے آسمانی کتاب سے یہ دکھا سکیں، نہ عقلی دلیل ہے جسے غیر اللہ کی عبادت کے اثبات میں پیش کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
31: یعنی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس سے یہ علم حاصل ہوسکے کہ یہ بت واقعی خدائی کا درجہ رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →ویعبدون ……من نصیر (17)
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جس صورتحال یا قانن یا معاشرے کو اللہ کی طرف سے کوئی سند حاصل نہ ہو اس میں کوئی قوت نہیں ہوتی۔ جس چیز کی پشت پر اللہ کی قوت نہ ہو وہ کمزور ہے۔ اس کے اندر قوت کا بنیادی عنصر ہی موجود نہیں ہے جو سلطان الٰہی ہے۔
یہ لوگ بت پرست ، انسان پرست یا شیطان پرست ہیں۔ ان سب چیزوں پر خدائی ہاتھ موجود نہیں ہے اس لئے ایسے لوگ حقیقی قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ مذکورہ بالا چیزوں کی بندگی کسی دلیل ، کسی علم اور کسی یقین کی اساس پر نہیں کرتے۔ محض وہم اور خرافات کی بنیاد پر ان چیزوں کو مانتے ہیں۔ جبیہ اللہ کی نصرت اور مدد سے محروم ہوگئے تو اب دنیا و آخرت میں ان کا…
Read the full tafseer →3 محض باپ دادوں کی کو رانہ تقلید میں ایسا کرتے ہیں، کوئی نقلی یا عقلی دلیل نہیں رکھتے۔
4 سب سے بڑا ظلم اور بےانصافی یہ ہے کہ خدا کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے۔ سو ایسے ظالم اور بےانصاف لوگ خوب یاد رکھیں کہ ان کے شرکاء مصیبت پڑنے پر کچھ کام نہ آئیں گے نہ اور کوئی اس وقت مدد کرسکے گا۔
Read the full tafseer →آیت 71 وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا ”
اگرچہ وہ اللہ کو مانتے ہیں لیکن اللہ کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ‘ جن کے بارے میں ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔
وَّمَا لَیْسَ لَہُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط ”
نہ صرف یہ کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کوئی سند نہیں بلکہ کوئی اثری ثبوت ‘ کوئی عقلی بنیاد اور کوئی منطقی دلیل بھی ان کے پاس ان من گھڑت معبودوں کی پرستش کے لیے نہیں ہے۔
Read the full tafseer →99 یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کسی کتاب میں کہیں بھی یہ ذکر موجود نہیں کہ اس نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ لہذا ان کاموں میں تم ان سے رجوع کرکے ان سے اپنی حاجات طلب کرسکتے ہو۔ نہ ہی انھیں کسی علمی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ امور کائنات میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو بھی تصرف کا حق حاصل ہے۔ اور اس بنا پر ان کی بھی عبادت کرنا درست ہے۔ لہذا جو معبدا ان لوگوں نے بنا رکھے ہیں اور ان سے کئی صفات اور اختیارات منسوب کردیئے گئے ہیں ان کے آستانوں پر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ نذریں، نیازیں چڑھائی جاتی ہیں بعض کے طواف اور اعتکاف تک بھی کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت جاہلانہ توہمات کے…
Read the full tafseer →120۔ یعنی جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں، ان کی معبودیت پر نہ کوئی دلیل اللہ نے اپنی کتابوں، صحیفوں کے ذریعہ سے نازل کی ہے۔ نہ اس پر کوئی دلیل علمی وعقلی قائم ہے اور ان معبودوں کی بیکسی اس سے ظاہر ہے کہ قیامت کے دن ان کی ذرا بھی مدد نہ کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
آیت نمبر 65 تا 72
ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی…
Read the full tafseer →ویعبدون من دون اللہ ما لم ینزل بہ سلطنا وما لیس لہم بہ علم اور (مذکورہ دلائل توحید کے
بعد بھی یہ مشرک) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن (کی پرستش کے جواز) کی اللہ نے کوئی دلیل (اپنی کتابوں میں) نازل نہیں کی اور نہ ان کے پاس ان چیزوں کی عبادت کی کوئی (عقلی) دلیل ہے۔
سلطان یعنی جواز عبادت کی کوئی حجت یا دلیل۔
عِلْمٌ یعنی ان کے پاس کوئی ایسا علم نہیں جو ہدایت عقلی یا فطری استدلال سے حاصل ہوا ہو یا کسی سچے خبر دینے والے کی خبر سے ملا ہو جس کی صداقت پر کوئی برہان دلالت کرتی ہو یا متواتر خبر ہو جو حواس خمسہ میں سے کسی ایک کے ذریعہ سے حاصل ہوئی ہو۔
وما للظلمین من نصیر۔ اور ان ظالموں کے…
Read the full tafseer →(71) اور یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں کہ جن کے جواز عبادت پر اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب اور حجت نہیں بھیجی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی نقلی دلیل اور ان مشرکین سے کوئی عذاب خداوندی کو روکنے والا ان کا مددگار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی کتاب میں نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات دے رکھے ہیں، لہٰذا ان کاموں کے لیے اپنی حاجات ان سے طلب کرو اور نہ اس بات کی کوئی علمی یا عقلی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو بھی کائنات میں اپنی مرضی چلانے کا اختیار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس سے مرادیں مانگی جائیں۔ دیکھیے سورة احقاف (4، 5) اور فاطر (40) جب شرک کی نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی، تو معلوم ہوا کہ لوگوں نے جو غیر اللہ کے آستانے بنا رکھے ہیں، یا زندہ یا فوت شدہ بزرگوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھ کر ان کی نذریں نیازیں چڑھا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ویعبدون اس سے مراد کفار قریش ہیں جو بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطناً ۔ سلطان سے مراد حجت اور دلیل ہے۔ یہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو پیدا فرمایا مخلوق کو پیدا کرنے سے سو سال پہلے اور قلم سے فرمایا لکھ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اور اللہ تعالیٰ عرش پر تھے۔ اس نے کہا میں کیا لکھوں ؟ فرمایا (لکھ) میرا علم لکھ مخلوق کے بارے میں قیامت قائم ہونے کے دن تک تو قلم جاری ہوا۔ اور اس نے وہ سب کچھ لکھا جو قیامت تک علم الٰہی میں ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا۔ آیت الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السماء والارض، یعنی سب کو اللہ جانتا ہے یعنی جو کچھ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں میں ہے۔ آیت ان ذلک۔ یعنی یہ علم، فی کتاب، یعنی لوح محفوظ…
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ [ اور وہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کی ] لَمْ يُنَزِّلْ [ اس نے اتاری ہی نہیں ] بِهٖ [ جس کی ] سُلْطٰنًا [ کوئی سند ] وَّمَا [ اور اس کی ] لَيْسَ لَهُمْ [ نہیں ہے ان کے لئے ] بِهٖ [ جس کا ] عِلْمٌ ۭ [ کوئی علم ] وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ [ اور نہیں ہے ظالموں کے لئے ] مِنْ نَّصِيْرٍ [ کوئی بھی مدد گار ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) (اے مخاطب کیا تجھے معلوم نہیں جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ اس سب کو جانتا ہے) (اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ) (بلاشبہ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے) یعنی لوح محفوظ میں مرقوم ہے (اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ) (بلاشبہ یہ اللہ پر آسان ہے) لوح محفوظ میں سب کچھ محفوظ فرمانا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ کوئی منکر اور معاند یہ نہ سمجھے کہ اتنی زیادہ مخلوق کے حالات ایک ہی کتاب میں کیسے سمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
تہدید مجادلین دربار احکام شریعت
قال اللہ تعالیٰ لکل امۃ جعلنا منسکا .... الیٰ .... وبئس المصیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل الوہیت کو بیان کیا، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ قرون ماضیہ میں ہر امت کو ایک خاص شریعت عطاء کی گئی جو اس زمانے کے مناسب تھی اور اب اخیر میں آپ کو یہ شریعت عطاء کی گئی تمام شریعتیں اپنے اپنے وقت میں حق تھیں اور واجب الاتباع تھیں اب اخیر زمانہ میں یہ شریعت کاملہ ہے جو آخری شریعت ہے سب پر اس کا اتباع واجب ہے کسی کو اس میں مجادلہ اور منازعت کا حق نہیں چناچہ فرماتے ہیں، ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور بندگی کی ایک راہ مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں اسی طرح ہم نے آپ کو ایک…
Read the full tafseer →84:۔ ” وَ یَعْبُدُوْنَ الخ “ یہ بطور زجر دلائل مذکورہ کا ثمرہ ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا ایسے خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے معبود ہونے کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور جن کے معبود ہونے پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ” سُلْطَانًا “ سے دلیل وحی اور دلیل نقلی اور علم سے دلیل عقلی مراد ہے۔ سلطانا ای حجۃ و برھانا سماویا من جہۃ الوحی والسمع و ما لیس لھم بہ علم ای دلیل عقلی ضروری او غیرہ (بحر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں قربانی کا ذکر اور کفروشرک کا رد تھا۔ اللہ نے توحید کے کچھ دلائل بیان فرمائے اور قربانی کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر یہ لوگ اس معاملہ میں کوئی جھگڑا کریں تو اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ آپ انہیں توحید کی طرف دعوت دیں ، نیز بتادیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کار گزاریوں کو جانتا ہے ، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کے متعلق وہ قیامت کو فیصلہ کردے گا۔
متعلقات قربانی :
گزشتہ آیات میں قربانی کا خصوصی ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ معلوم دنوں میں لوگ حلال مویشیوں کو اللہ کے…
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّمَا لَيْسَ لَہُمْ بِہٖ عِلْمٌ 0ۭ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ 71
عبد
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
نہ خدا ہی مددگارہوتا نہ ان کے وہ خیالی معبود جن کو وہ مددگار سمجھ کر پوج رہے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّمَا لَیْسَ لَھُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ۔ (الحج : 71)
(اور یہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور نہ ان کے بارے میں ان کو کوئی علم ہی ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ )
مشرکین کے مصنوعی سہارے بیکار ثابت ہوں گے
مشرکین کو جن تصورات نے غیر معمولی طور پر بگاڑا اور جن نام نہاد سہاروں نے انھیں اپنی عاقبت سے بیگانہ کردیا ان میں سے ایک غلط تصور یہ تھا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم جن قوتوں کی پرستش کرتے ہیں چاہے پتھر کے تراشیدہ بت ہوں جو کبھی زندہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا اور اس نے سب کچھ لکھ رکھا ہے جس میں یہ بھی تحریر ہے کہ ہر دور کے مشرک کس کس کی عبادت کریں گے۔
انسان کے اعمال نامہ اور لوح محفوظ کا ذکر فرما کر یہ اشارہ دیا ہے کہ اے انسان تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس طرح بھی شرک کرے گا اسے اپنے اعمال نامہ میں درج پائے گا۔ اگر کتاب سے مراد لوح محفوظ لیا جائے تو اس کا معنٰی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں چھوٹی بڑی ہر بات لکھی ہے لیکن شرک کے حمایت میں کوئی بات درج نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے کوئی عقلی و نقلی دلیل شرک کی حمایت میں نازل کی ہے۔ اس لیے شرک کرنے والے کسی آسمانی کتاب سے اس کی تائید میں کوئی دلیل…
Read the full tafseer →71: یہاں سے کفار کی اس جہالت کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ان کی عبادت کرتے ہیں جو عبادت کے حقدار ہی نہیں ہیں۔ فرمایا : وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا (اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی معبودیت کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری)
قراءت : یُنْزِلْ مکی و بصری نے پڑھا ہے۔ سلطاناؔ حجت وبرہان کو کہتے ہیں۔
وَّمَا لَیْسَ لَھُمْ بِہٖ عِلْمٌ (اور نہ ان کے پاس ان کی عبادت کے متعلق علم ہے) (یعنی عقلی دلیل نہیں ہے) یعنی عبادت میں نہ تو کسی آسمانی وحی کی دلیل سے استدلال کرنے والے ہیں اور نہ وہ کسی عقلی دلیل کو پیش کرسکتے ہیں۔ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ…
Read the full tafseer →71۔ ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطانا، سلطان سے مراد حجت اور دلیل ہے ، ومالیس لھم بہ علم، جو کچھ انہوں نے کام کیا وہ محض جہالت کی بناء پر کیا نہ کہ علم کی بنیاد پر ۔ وماللظالمین ، اس سے مراد مشرکین ہیں۔ من نصیر، ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگاجو اللہ کے عذاب سے ان کو بچاسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
71۔ 72:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ اسی کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ دنیا میں پایا جاتا ہے ‘ اس بات کو پورا کرنے کے لیے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کے غلط طریقہ کا حال بیان فرمایا کہ یہ لوگ رات دن بت پرستی کی کوئی سند نہیں ہے ‘ پھر فرمایا بت پرستی کے جائز ہونے پر کوئی سند نقلی موجود نہ ہونے کے علاوہ ان لوگوں کے پاس کوئی عقلی سند بھی بتوں کے معبود ٹھہرانے کی نہیں ہے کیونکہ یہ بت تو پتھر کی مورتیں ہیں ‘ ان میں نہ بولنے چالنے کی طاقت ہے نہ اپنی پوجا کرانے کی خواہش ‘ اب رہے وہ لوگ جن کی شکل کی یہ مورتیں ہیں وہ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انہوں نے اپنے گمراہ آباؤ اجداد سے حاصل کیا ہے۔۔۔. اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس۔۔۔. فی نفس الامر۔۔۔. کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
جہاد فی سبیل اللہ
قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…
Read the full tafseer →131 اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی معبود کی کوئی حقیقت نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایسی بےحقیقت چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری "۔ اپنی کسی بھی وحی اور آسمانی کتاب میں کہ تمام آسمانی کتابوں نے توحید ہی کا درس دیا ہے ‘ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ‘ اور حصر و تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ‘ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیٓ اِلَیْہِ اَلّہ ‘ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (الانبیاء -25) سو شرک کیلئے کوئی دلیل ممکن ہی نہیں نہ عقلی نہ نقلی، اور جب اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک نہ واقع میں کہیں ہے، اور نہ ہی ممکن ہوسکتا ہے تو پھر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
(جدید تکنیک کا علم ضروری ہے)
انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند…
Read the full tafseer →4 ۔ یعنی اپنی کسی کتاب میں یہ نہیں فرمایا کہ یہ ہمارے شریک ہیں تم ان کی پوجا کرسکتے ہو۔ 5 ۔ سوائے ادہام پرستی اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے۔ اس کا رو قرآن میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ دیکھئے مائدہ :104)
Read the full tafseer →(22:71) مالم ینزل بہ سلطنا۔ میں ما موصولہ ہے لم ینزل مضارع نفی حجد بلم واحد مذکر غائب کا صیغہ بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ سلطنا لم ینزلکا مفعول ہے۔ جس کی الوہیت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل یا سند نازل نہیں کی۔ (یہ دلیل سمعی ہے جو من جہت الوحی حاصل ہوسکتی ہے) ۔
وما لیس لہم بہ علم۔ اور نہ ہی خود انہیں اس کے متعلق کوئی علم ہے (یہ دلیل عقلی ہوئی) ۔ وما للظلمین من نصیر۔ میں ما نافیہ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 72 :
امۃ (امت۔ جماعت) ‘ منسکا (طریقہ عبادت و بندگی) ‘ ناسکون (وہ اس (طریقہ) پر عبادت کرتے ہیں۔ عبادت کرنے والے) ‘ ینازعن (وہ جھگڑا کرتے ہیں) ‘ ادع (بلائیے۔ دعوت دی جئے) ھدی (ہدایت) ‘ جادلو (وہ جھگڑنے والے ہیں) ‘ یسیر (آسان) ‘(لم ینزل ( نہیں اتارا) ‘ سلطان (سند۔ دلیل) ‘ المنکر (ناگوار) ‘ یکادون (وہ قریب ہوتے ہیں) ‘ یسطون (وہ حملہ کرتے ہیں) ‘ انبئی (میں بتاتا ہوں) ۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 72 :
اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے رسول بھیجے انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنی امتوں کو طریق عبادت سکھایا۔ خاتم الانبیا حضرت مصطفیٰ ﷺ کو بھی اللہ نے عبادت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
کفار کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ کیسے بیوقوف ہیں کہ سوا اللہ کے اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں حالانکہ ان کی معبودیت کی کوئی دلیل نہیں اور اللہ کی طرف سے بھی ان کے پاس کوئی بھی سند نہیں اور ان کا یہ مقولہ ہے کہ یہ بت بروز قیامت ہماری شفاعت کریں گے خدا نے ان کی نام کوئی پروا نہ بھیجا ہے جس کی وجہ سے وہ اس بات کے مدعی ہیں اور ان ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں پھر فرمایا کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں جو لوگ گمراہ ٹھہرچکے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ جب قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں جس میں بیان احکام اور تفصیل حلال و حرام ہے حالانکہ یہ ایسی روشن ہیں کہ ان آیات کو مانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
[50] یعنی تمہاری اس ناگواری سے بڑھ کر جو اللہ کی آیات پڑھے جانے پر پیدا ہوتی ہے ایک ناگوار تر چیز اور وہ ہے دوزخ کی آگ جس پر تم کسی طرح صبر نہ کرسکو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
شرک ناقابل فہم ہے !:
(ف 1) (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ سے مقصود یہ ہے کہ شرک کے لئے کوئی عقل وجہ جواز موجود نہیں ، اور یہ کیونکر ممکن ہے ؟ کہ ایک مٹھی یا پتھر کے بت کو خدا قرار دے لیا جائے ، یا ایک شخص کو جس کی زندگی اور زندگی کی بےچارگیاں ہمارے سامنے ہیں ہم اس کو خدائی مسند پر بٹھا دیں ، اللہ تعالیٰ نے بار بار شرک کی مذمت فرمائی ہے ، اور اس کو ایک غیر عقلی اور غیر مدلل عقیدہ قرار دیا ہے ، مگر یہ عجیب بات ہے کہ اکثر لوگ اسی شرک کے مرض میں مبتلا ہیں ، اور نہیں محسوس کرتے کہ یہ کھلی گمراہی ہے ، بھلا جو شخص بھوک کی شدت سے بےتاب ہوجاتا ہے ، جسے پیاس بےقرار کردیتی ہے ، بیمار ہوتا ہے تو طبیب کا…
Read the full tafseer →(71) اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت پر نہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کوئی حجت اور سند نازل فرمائی اور نہ ان کے پاس ان چیزوں کی عبادت کے جواز پر کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ ایسے ظالموں کا کوئی مددگار ہوگا۔ یعنی جو لوگ بلا دلیل نقلی و عقلی کے شرک کا ارتکاب کریں ان کی کون مدد کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 4۔ نہ قولا کہ ان کے فعل کے استحسان پر کوئی حجت پیش کرسکے، نہ عملا کہ ان کو عذاب سے بچا سکے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سوا یہ لوگ جن کو حاجت روا سمجھتے ہیں اس پر وہ کوئی دلیل نہیں رکھتے :
71۔ آج جن معبود ان کی عبادت سے روکا جا رہا ہے کیا اس سے پہلے کبھی اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کرنے کا انکو کہا تھا ؟ اگر کہا تھا تو یہ لوگ اس کی دلیل پیش کردیں اے پیغمبر آج آپ ﷺ جن بزرگوں کے بتوں ‘ قبروں ‘ اور شہیدوں کی پرستش سے ہم کو روک رہے ہیں ان کی پرستش سے ہم کو روک رہے ہیں ان کی پرستش کا یہ سرٹیفکیٹ ‘ یہ دلیل ہمارے پاس موجود ہے اور اگر ایسی کوئی بات موجود نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے تو پھر یہ لوگ خواہ مخواہ آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو کیوں ٹھکرا رہے ہیں ؟ کیا یہ بات کہ ہمارے باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
Commentary
لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا (For every ummah (religious community) We have appointed a way of worship - 22:67). This sentence has come earlier in almost identical words in verse number 34 of this Surah, but the word مَنسَكً (mansak) conveys a different meaning in each verse. In the earlier verse the words مَنسَكً and نسَكً have been used in the context of the rites of Hajj and mean sacrifice of animals, while in the present verse the word مَنسَكً has been used in the sense of the rules of slaughter or general rules of worship. That is why, unlike the verse 34, the present…
Read the full tafseer →120. That is, neither there is any mention of their deities in any revealed Book nor do they have any other source of knowledge about them nor any authority to worship them. Therefore, it is sheer ignorance that they have associated their self invented deities with Allah and worship them, make vows and offer sacrifices to them and supplicate them for their needs etc.
121. This is to warn the foolish people that they are absolutely wrong in expecting that their deities would help them in this world and in the Hereafter because they have no power to help them. Thus, they will find no helper,…
Read the full tafseer →