Al-Hajj 22:70

Al-Hajj · from ayah 70

22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ؕ— اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ ؕ— اِنَّ ذٰلِكَ عَلَی اللّٰهِ یَسِیْرٌ ۟اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ اِنَّ ذٰ لِكَ فِىۡ كِتٰبٍ‌ ؕ اِنَّ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے۔ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔ بےشک یہ سب خدا کو آسان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you not know that Allah knows what is in the heaven and earth? Indeed, that is in a Record. Indeed that, for Allah, is easy.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:70

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے۔ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔ بےشک یہ سب خدا کو آسان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کے علم میں ہیں ؟ یہ سب باتیں ایک کتاب میں محفوظ ہیں۔ بیشک یہ سارے کام اللہ کے لیے بہت آسان ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تو نے نہ جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اﷲ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب کتاب (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے، یقیناً یہ سب اﷲ پر (بہت) آسان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں جانا کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔ بیشک یہ ایک کتاب میں درج ہے، بیشک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ بلاشبہ یہ سب کچھ ایک کتاب (لوح محفوظ) میں درج ہے۔ اللہ کے لئے یہ بات بالکل آسان ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے۔ یہ سب چیزیں ایک رجسٹر میں درج ہیں۔ بیشک یہ اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ قطعی طور پر جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمان و زمین اس کائنات میں ہے بیشک یہ سب کچھ ثبت ومندرج ہے ایک عظیم الشان کتاب میں بلاشبہ یہ سب کچھ اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ واقف ہے ہر اس چیز سے جو آسمان اور زمین میں ہے یہ سب نامہ اعمال میں (بھی درج) ہے بیشک یہ (یعنی فیصلہ) اللہ کے نزدیک آسان ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان میں اور زمین میں ہے یقیناً یہ سب کچھ ایک کتاب میں (در ج) ہے یقیناً یہ اللہ پر بہت آسان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ اس کو جانتا ہے ‘ یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے بیشک یہ سب اللہ کے لیے آسان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Are you not aware that Allah knows all that is in the heaven and the earth? Surely it is all preserved in a Book. Indeed that is easy with Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you not know that Allah knows all that is in the sky and the earth? Surely, that is contained in a Book. Indeed it is so easy for Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Do you not know that Allah knows all that is in the sky and the earth? Surely, that is contained in a Book. Indeed it is so easy for Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not known that Allah knoweth all that is in the heaven and the earth? Lo! it is in a record. Lo! that is easy for Allah.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you not know that Allah knows what is in the heaven and earth? Indeed, that is in a Record. Indeed that, for Allah, is easy.

— Saheeh International

Do you not know that God knows all that is in the heavens and the earth? His decree is already recorded in the Book and issuing such a Judgment is not difficult for Him at all.

— Muhammad Sarwar

Do you not know that Allah knows what is in the heaven and the earth? Surely this is in a book; surely this is easy to Allah.

— Muhammad Habib Shakir

Knowest thou of that Allah knoweth whatsoever is in the heaven and the earth? Verily that is in a Book; verily that is for Allah easy.

— Abdul Majid Daryabadi

Knowest thou not that Allah knows all that is in heaven and on earth? Indeed it is all in a Record, and that is easy for Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کمال علم رب کی شان رب کے کمال علم کا بیان ہو رہا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم کے احاطہ میں ہے ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں کائنات کے وجود سے پہلے ہی کائنات کا علم اسے تھا بلکہ اس نے لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا مخلوق کی تقدیر لکھی۔ سنن کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلک کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے دریافت کیا کہ کیا لکھوں ؟ فرمایا جو کچھ ہونے والا ہے پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اسے قلم نے قلم بند کردیا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سو سال کی راہ میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 119 سلسلہ کلام سے اس پیرا گراف کا تعلق سمجھنے کے لیے اس سورے کی آیات 55 تا 57 نگاہ میں رہنی چاہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–70

خلاصہ تفسیر (جتنی امتیں اہل شرائع گزری ہیں ان میں) ہم نے ہر امت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے کہ وہ اسی طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے تو (اعتراض کرنے والے) لوگوں کو چاہئے کہ اس امر (ذبح) میں آپ سے جھگڑا نہ کریں (ان کو تو آپ سے بحث اور جھگڑا کرنے کا حق نہیں مگر آپ کو حق ہے اس لئے) آپ (ان کو) اپنے رب (یعنی اس کے دین) کی طرف بلاتے رہے آپ یقینا صحیح راستہ پر ہیں۔ (صحیح راستہ پر چلنے والے کو حق ہوتا ہے کہ غلط راستے پر چلنے والے کو اپنی طرف بلائے غلط راستہ والے کو یہ حق نہیں ہوتا) اور اگر (اس پر بھی) یہ لوگ آپ سے جھگڑا کرتے رہیں تو آپ یہ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خطاب پیغمبر سے عتاب مخالفین پر اس آیت میں اگرچہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس کے لفظ لفظ میں جو عتاب ہے اس کا رخ تمام تر مخالفین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ کیا نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے خدا سب سے باخبر ہے تو اب ان اشرار کے معاملہ کو اللہ ہی کے حوالہ کر، وہی ان سے نمٹے گا ! ان ذلک فی کتاب سابق جملے کی دھمکی اس میں اور زیادہ تیز ہوگئی ہے۔ یعنی کوئی یہ نہ سمجھنے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں بلکہ ہر شخص کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا نے ہر شخص کا سارا ریکارڈ پورے اہتمام کے ساتھ، ایک دفتر میں محفوظ کر رکھا ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر اور کوئی اس مغالطہ میں بھی نہ رہے کہ بھلا ایک ایک فرد اور ایک ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

70۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم اور مخلوقات کے احاطے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی اس کی مخلوقات کو جو جو کچھ کرنا تھا، اس کو علم پہلے سے ہی تھا، وہ ان کو جانتا تھا۔ چناچہ اس نے اپنے علم سے یہ باتیں پہلے ہی لکھ دیں۔ اور لوگوں کو یہ بات چاہے، کتنی ہی مشکل معلوم ہو، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔ یہ وہی تقدیر کا مسئلہ ہے، اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے، جسے حدیث میں اس طرح بیان فرمایا گیا ' اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے، جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں (صحیح مسلم) اور سنن کی روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ' اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم پیدا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–71

31: یعنی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس سے یہ علم حاصل ہوسکے کہ یہ بت واقعی خدائی کا درجہ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض ان ذلک فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر (22 : 08) ” کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے “۔ اللہ کا علم نہایت کامل اور نہایت ہی باریک ہے اور اس پر اس کائنات کی کوئی شے مخفی نہیں ہے۔ وہ ایسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے کوئی چیز محو ہوجاتی ہے یا بھول جاتی ہے۔ یہ سب کچھ تو ایک کتاب میں قلم بند ہے اور یہ ریکارڈ رکھنا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ انسانی عقل تو تھک جاتی ہے۔ خصوصاً اس کلیاتی نظام پر غور کرتے ہوئے بھی عقل تھک جاتی ہے۔ پھر جب ہم اس پوری کائنات کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی کچھ ان کے اعمال پر منحصر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو محیط ہے اور بعض مصالح اور حکمتوں کی بناء پر اسی علم کے موافق تمام واقعات " لوح محفوظ " میں اور بنی آدم کے تمام اعمال ان کے اعمالناموں میں لکھ بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے موافق قیامت کے دن فیصلہ ہوگا۔ اور اتنی بیشمار چیزوں کا ٹھیک ٹھیک جاننا اور لکھ دینا اور اسی کے مطابق ہر ایک کا فیصلہ کرنا، ان میں سے کوئی بات اللہ کے ہاں مشکل نہیں، جس میں کچھ تکلیف یا دقت اٹھانی پڑے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ط ” یہ وہی کتاب ہے جسے ”اُمّ الکتاب“ بھی کہا گیا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم قدیم کی کتاب۔ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ” تمہیں یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک چیز کا علم کیسے رکھتا ہے لیکن اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 68–70

98 یعنی مختلف انبیاء کی شریعت یا عبادات کے طریقوں میں تبدیلی اور اس کی وجوہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق اور پہلے سے ہی طے شدہ ہیں اور اللہ کی کتاب میں پہلے ہی سے ثبت ہیں۔ پھر اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ کون لوگ اس واضح سی بات پر بھی جھگرے پیدا کرنے والے ہیں۔ اللہ کو ان سب باتوں کا پہلے سے علم ہونا، پھر ان جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرکے انھیں ان کی ہٹ دھرمی کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کی وسعت علم اور عظیم قدرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ اور معمولی باتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

119۔ یعنی جب حکومت کے ساتھ ساتھ علم بھی اللہ کا کامل ہے تو اسے فیصلہ صادر کرنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔ کتاب سے مراد لوح محفوظ بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی اللوح المحفوظ (معالم) اس وقت ذلک سے مراد معلومات الہی لی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض ان ذلک فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر۔ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے یہ (سب) بلاشبہ ایک کتاب میں (درج) ہے۔ یقینی طور پر یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ استفہام تقریری ہے (یعنی آپ ضرور جانتے ہیں) کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے اللہ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا (پس ان مشرکوں کے ہر کردار و گفتار واطوار کا اندراج بھی لوح محفوظ میں موجود ہے) اس لئے آپ ان کے کردار اور خصومتوں کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ اللہ اس سب سے واقف ہے اور یہ سارے امور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(70) اے محمد ﷺ کیا آپ کو معلوم نہیں (خطاب خاص مراد عام ہے) کہ آسمان والوں میں جو نیکیاں اور زمین والوں میں جو کچھ نیکیاں اور برائیاں ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور یہ تمام چیزیں لوح محفوظ میں محفوظ ہیں اور لوح محفوظ کے بغیر بھی ان تمام چیزوں کا محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یعنی کیا تمہیں واضح بات بھی معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ؟ نہ اس کے مخلص اور فرماں بردار بندوں کی فرماں برداری اس سے مخفی ہے اور نہ اس کے منکروں اور نافرمانوں کی شرارتیں اور فساد اس سے اوجھل ہے۔ اس لیے اس علم کے ساتھ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح فرما دیا کہ ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ پورے اہتمام کے ساتھ ایک کتاب میں محفوظ ہے، اس لیے کوئی اس خام خیالی میں نہ رہے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں، اتنی مخلوق کے ہر عمل کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض، یعنی اے محمد ! ﷺ جب آپ کو یہ معلوم ہے اور آپ کو یقین ہے تو جان لو کہ وہ بھی جانتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ بعض نے کہا : یہ غیر کے لیے استفہام تقریر ہے۔ ان ذلک فی کتب یعنی جو کچھ اس عالم میں ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر۔ اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرنا اللہ پر آسان ہے۔ بعض نے کہا : اس قلم کا لکھنا جس کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ہونے والے امور کے لکھنے کا حکم دیا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–71

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو پیدا فرمایا مخلوق کو پیدا کرنے سے سو سال پہلے اور قلم سے فرمایا لکھ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اور اللہ تعالیٰ عرش پر تھے۔ اس نے کہا میں کیا لکھوں ؟ فرمایا (لکھ) میرا علم لکھ مخلوق کے بارے میں قیامت قائم ہونے کے دن تک تو قلم جاری ہوا۔ اور اس نے وہ سب کچھ لکھا جو قیامت تک علم الٰہی میں ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا۔ آیت الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السماء والارض، یعنی سب کو اللہ جانتا ہے یعنی جو کچھ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں میں ہے۔ آیت ان ذلک۔ یعنی یہ علم، فی کتاب، یعنی لوح محفوظ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَمْ تَعْلَمْ [ کیا تو نے جانا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ہے ] اِنَّ ذٰلِكَ [ بیشک یہ ] فِيْ كِتٰبٍ ۭ[ ایک کتاب میں ہے ] اِنَّ ذٰلِكَ [ بیشک یہ ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] يَسِيْرٌ [ آسان ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 70–71

(اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) (اے مخاطب کیا تجھے معلوم نہیں جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ اس سب کو جانتا ہے) (اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ) (بلاشبہ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے) یعنی لوح محفوظ میں مرقوم ہے (اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ) (بلاشبہ یہ اللہ پر آسان ہے) لوح محفوظ میں سب کچھ محفوظ فرمانا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ کوئی منکر اور معاند یہ نہ سمجھے کہ اتنی زیادہ مخلوق کے حالات ایک ہی کتاب میں کیسے سمائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–72

تہدید مجادلین دربار احکام شریعت قال اللہ تعالیٰ لکل امۃ جعلنا منسکا .... الیٰ .... وبئس المصیر۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل الوہیت کو بیان کیا، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ قرون ماضیہ میں ہر امت کو ایک خاص شریعت عطاء کی گئی جو اس زمانے کے مناسب تھی اور اب اخیر میں آپ کو یہ شریعت عطاء کی گئی تمام شریعتیں اپنے اپنے وقت میں حق تھیں اور واجب الاتباع تھیں اب اخیر زمانہ میں یہ شریعت کاملہ ہے جو آخری شریعت ہے سب پر اس کا اتباع واجب ہے کسی کو اس میں مجادلہ اور منازعت کا حق نہیں چناچہ فرماتے ہیں، ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور بندگی کی ایک راہ مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں اسی طرح ہم نے آپ کو ایک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

83:۔ ” اَلَمْ تَعْلَمُ الخ “ یہ دونوں مضمونوں سے متعلق ہے اور ان پر بمنزلہ دلیل ہے۔ ” فِیْ کُتُبٍ “ یعنی لوح محفوظ اور علم الٰہی میں۔ اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔ اس کے سوا کوئی بشر، کوئی فرشتہ اور کوئی جن اس صفت سے متصف نہیں اس لیے اس کے سوا متصرف و کارساز اور مستحق نذر و نیاز بھی کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 70–72

ربط آیات : گزشتہ آیات میں قربانی کا ذکر اور کفروشرک کا رد تھا۔ اللہ نے توحید کے کچھ دلائل بیان فرمائے اور قربانی کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر یہ لوگ اس معاملہ میں کوئی جھگڑا کریں تو اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ آپ انہیں توحید کی طرف دعوت دیں ، نیز بتادیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کار گزاریوں کو جانتا ہے ، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کے متعلق وہ قیامت کو فیصلہ کردے گا۔ متعلقات قربانی : گزشتہ آیات میں قربانی کا خصوصی ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ معلوم دنوں میں لوگ حلال مویشیوں کو اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝ 0ۭ اِنَّ ذٰلِكَ فِيْ كِتٰبٍ۝ 0ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرٌ۝ 70 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–70

پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ (الحج : 70) (کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے یہ سب چیزیں ایک رجسٹر میں محفوظ ہیں۔ بیشک یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔ ) قریش پر عتاب اس آیت کریمہ میں بظاہر خطاب نبی کریم ﷺ سے ہورہا ہے لیکن حقیقت میں اس کا روئے سخن قریش کی طرف ہے اور اس کے ایک ایک لفظ سے عتاب جھلک رہا ہے۔ قریش اور دیگر مشرکین سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم جو کچھ نبی کریم ﷺ مسلمانوں اور دعوت اسلامی کے ساتھ کررہے ہو اور جس طرح اس کے خلاف منصوبہ بندیاں کرتے ہو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے لوح محفوظ پر ہر چیز لکھ رکھی ہے۔ نبی کریم ﷺ کو جھگڑا لو لوگوں کے ساتھ نہ الجھنے کی تلقین کرنے کے بعد یہ کہہ کر تسلّی دی گئی ہے کہ اے پیغمبر ! آپ کو ان کے ساتھ الجھنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نا صرف ان لوگوں کے اعمال کو جانتا ہے بلکہ وہ تو زمین و آسمانوں کے چپہ چپہ سے واقف ہے آپ سے اختلاف کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ صرف ان کے اعمال کو جانتا ہے وہ ان کے اعمال جاننے کے باوجود ان کا ہر قول و فعل لکھ بھی رہا ہے۔ ان کے اعمال کا احاطہ کرنا اور سب کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے مشکل نہیں،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 69–70

69: اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (اللہ تعالیٰ تمہارے مابین ان باتوں میں قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے جن میں تم اختلاف کرتے تھے) اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤمنین اور کفار کو خطاب کیا کہ ثواب و عقاب کا فیصلہ حقیقی قیامت کے دن ہوگا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو ان تکالیف پر تسلی دی گئی جو کفار کی طرف سے روز پیش آتی تھیں۔ 70: اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ (کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو جو آسمان اور زمین میں ہے جانتے ہیں) یعنی کس طرح تمہارے اعمال اس سے مخفی رہ سکتے ہیں۔ علماء کے ہاں یہ بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70۔ الم تعلم ان اللہ یعلم مافی السماء والارض ان ذالک، سب کچھ وہ جانتا ہے ، فی کتاب ، لوح محفوظ میں۔ ان ذالک، اس کا علم تمام چیزوں میں ، علی اللہ یسیر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 67–70

67۔ 70:۔ چند مشرکوں نے صحابہ ؓ سے جھگڑا کیا تھا کہ تم اپنے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھاتے ہو اور اللہ کا مارا ہوا جانور نہیں کھاتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مفسروں نے ان آیتوں کے معنی دو طرح بیان کئے ہیں ‘ ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہر زمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک شریعت قائم کی ہے ‘ کبھی شریعت موسوی ہے اور کبھی عیسوی اور کبھی محمدی ‘ اپنے اپنے زمانے میں ہر شریعت حق اور اللہ کی بھیجی ہوئی ایک شریعت ہے ‘ ایک شریعت کا حکم پکڑ کر دوسری شریعت کے حکم میں حجت کرنا ٹھیک نہیں ہے دوسرے معنی یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کے علم میں نیک وبد چھٹ چکے ہیں اس لیے ہر ایک گروہ اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 67–70

آیت 67 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لئے (منسکا) ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لکل جعلنا منکم شرآ و منھا جاو لو شاء اللہ لجعلکم آپ واحآ و لکن لیبلوکم فی ما اٰتکم) (الماء آ : 5 /84) ” ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لئے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمہیں دیئے ہیں وہ ان میں تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ “ (ھم ناسکوہ) یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں، اس لئے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

جہاد فی سبیل اللہ قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

130 ہر کسی کا ریکارڈ پوری طرح محفوظ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ سب کچھ ثبت و مندرج ہے ایک عظیم الشان کتاب میں "۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ (ابن کثیر، مدارک، معالم، خازن، جلالین، جمل، صفوۃ وغیرہ) اور اس کو محفوظ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر قسم کی تحریف و تغییر اور انسانی دسترس و رسائی سے محفوظ ہے اور اس میں قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب محفوط و مندرج ہے ‘ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ اس کائنات میں قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ‘ وہ سب اسمیں ثبت و مندرج ہے ‘ اور اس کائنات کی پیدائش سے پچاس ہزار برس قبل یہ سب کچھ لکھ دیا گیا تھا (ابن کثیر ‘ وغیرہ) سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف (جدید تکنیک کا علم ضروری ہے) انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ لہٰذا وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن میں تم لوگ اختلاف کر رہے ہو۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز کا علم رکھنا یا قیامت کے دن لوگوں کے اختلافات کا صہ چکا دینا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:70) کتب۔ ای لوح محفوظ۔ یسیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مذکر یسر سے بروزن فعیل۔ آسان سہل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–72

لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 72 : امۃ (امت۔ جماعت) ‘ منسکا (طریقہ عبادت و بندگی) ‘ ناسکون (وہ اس (طریقہ) پر عبادت کرتے ہیں۔ عبادت کرنے والے) ‘ ینازعن (وہ جھگڑا کرتے ہیں) ‘ ادع (بلائیے۔ دعوت دی جئے) ھدی (ہدایت) ‘ جادلو (وہ جھگڑنے والے ہیں) ‘ یسیر (آسان) ‘(لم ینزل ( نہیں اتارا) ‘ سلطان (سند۔ دلیل) ‘ المنکر (ناگوار) ‘ یکادون (وہ قریب ہوتے ہیں) ‘ یسطون (وہ حملہ کرتے ہیں) ‘ انبئی (میں بتاتا ہوں) ۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 72 : اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے رسول بھیجے انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنی امتوں کو طریق عبادت سکھایا۔ خاتم الانبیا حضرت مصطفیٰ ﷺ کو بھی اللہ نے عبادت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–70

ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ (ف 2) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ بدیل بن ورقاء اور بشیر بن سفیان اور یزید بن خنیس نے اصحاب رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ کیا سبب ہے کہ جس جانور کو تم ذبح کرتے ہو اسے تو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی حجتیں پیش کرنے کا سبب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ پایاجاتا ہے اور اس واسطے اے رسول کے تم ان لوگوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دو کیونکہ جس طریقہ پر تم ہو اللہ کا بتایا ہوا سیدھاراستہ ہے اور جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–70

[48] یعنی لوح محفوظ میں۔ [49] یعنی جب حکومت کے ساتھ علم بھی اللہ کا کامل ہے تو اسے فیصلہ صادر کرنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–71

شرک ناقابل فہم ہے !: (ف 1) (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ سے مقصود یہ ہے کہ شرک کے لئے کوئی عقل وجہ جواز موجود نہیں ، اور یہ کیونکر ممکن ہے ؟ کہ ایک مٹھی یا پتھر کے بت کو خدا قرار دے لیا جائے ، یا ایک شخص کو جس کی زندگی اور زندگی کی بےچارگیاں ہمارے سامنے ہیں ہم اس کو خدائی مسند پر بٹھا دیں ، اللہ تعالیٰ نے بار بار شرک کی مذمت فرمائی ہے ، اور اس کو ایک غیر عقلی اور غیر مدلل عقیدہ قرار دیا ہے ، مگر یہ عجیب بات ہے کہ اکثر لوگ اسی شرک کے مرض میں مبتلا ہیں ، اور نہیں محسوس کرتے کہ یہ کھلی گمراہی ہے ، بھلا جو شخص بھوک کی شدت سے بےتاب ہوجاتا ہے ، جسے پیاس بےقرار کردیتی ہے ، بیمار ہوتا ہے تو طبیب کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(70) کیا اے مخاطب تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں سے واقف ہے اور ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہیں بلاشبہ یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ سب امور اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہیں۔ یعنی ہر چیز کو آسمان و زمین کی جانتا ہے لہٰذا تمہارے اقوال و افعال کو بھی جانتا ہے اور تمہارے تمام اقوال و افعال لوح محفوظ میں یا اعمال ناموں میں موجود بھی ہیں پھر فیصلہ کردینا کیا مشکل ہے جب مجرم کے جرم کا ثبوت بھی موجود ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندوں کے عمل بھی ایک کتاب میں لکھے ہیں۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہر بات سے واقف ہے اور اس کے علم میں ہرچیز موجود ہے : 70۔ (الم تعلم) کا لفظ تیسری بار اس سورت میں آیا ہے اور ہم پیچھے اس کے متعلق عرض کرچکے ہیں کہ بظاہر خطاب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے لیکن اس کا لفظ لفظ شہادت پیش کر رہا ہے کہ اس کا رخ تمام ترمخالفین کی طرف ہے جیسا کہ قرآن کریم کا اسلوب بیان شروع سے چلا آرہا ہے کہ وہ نبی اعظم وآخر ﷺ کا مخاطب کر کے آپ ﷺ کے مخالفین سے اکثر بات کرتا ہے اور یہ بات عام انسانوں کی بول چال میں داخل ہے کہ وہ بعض اوقات مخاطب ” ا “ کو کرتا ہے اور بات ” ب “ سے اور یہ صورت حال اکثر اس وقت پیش آتی ہے جب وہ اپنے مخالفین کو بات پہنچانا چاہتا ہے اس طرح گویا اس کا مطلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–72

Commentary لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا (For every ummah (religious community) We have appointed a way of worship - 22:67). This sentence has come earlier in almost identical words in verse number 34 of this Surah, but the word مَنسَكً (mansak) conveys a different meaning in each verse. In the earlier verse the words مَنسَكً and نسَكً have been used in the context of the rites of Hajj and mean sacrifice of animals, while in the present verse the word مَنسَكً has been used in the sense of the rules of slaughter or general rules of worship. That is why, unlike the verse 34, the present…

Read the full tafseer →