Al-Hajj 22:69

Al-Hajj · from ayah 69

22:69

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ۟اللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا تم میں قیامت کے روز ان کا فیصلہ کردے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah will judge between you on the Day of Resurrection concerning that over which you used to differ."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:69

اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا تم میں قیامت کے روز ان کا فیصلہ کردے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک تمہارے سب کے اختلاف کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آپ کرے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ تم پر فیصلہ کردے گا قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ تمہارے درمیان قیامت کے دن ان تمام باتوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کر رہے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن اس چیز کا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ فیصلہ فرما دے گا تم سب کے درمیان عملی اور آخری طور پر ان تمام باتوں کا جن کے بارے میں تم لوگ اختلاف کرتے رہے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اس باب میں جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ فیصلہ کر دے گا تمہارے مابین قیامت کے دن ان تمام چیزوں کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ قیامت کے روز تم میں اس کا فیصلہ کر دے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah will judge among you on the Day of Resurrection concerning matters about which you disagreed."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah will judge between you, on the Day of Judgment, about what you used to dispute.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah will judge between you, on the Day of Judgment, about what you used to dispute.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Allah will judge between you on the Day of Resurrection about that wherein you used to differ."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah will judge between you on the Day of Resurrection concerning that wherein ye used to differ.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah will judge between you on the Day of Resurrection concerning that over which you used to differ."

— Saheeh International

He will issue His decree about your differences on the Day of Judgment."

— Muhammad Sarwar

Allah will judge between you on the day of resurrection respecting that in which you differ.

— Muhammad Habib Shakir

Allah will judge between you on the Day of Judgment concerning that wherein ye have been differing.

— Abdul Majid Daryabadi

"Allah will judge between you on the Day of Judgment concerning the matters in which ye differ."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–69

مناسک کے معنی اصل میں عربی زبان میں منسک کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجاآوری کو اس لئے مناسک کہا جاتا ہے کہ لوگ بار بار وہاں جاتے ہیں اور ٹھیرتے ہیں۔ منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لئے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمان ہے کہ ہر ایک لئے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے یہاں بھی ہے کہ وہ اس کے بجالانے والے ہیں تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ اللہ کی قدرت اور ارادے سے کررہے ہیں ان کے جھگڑنے سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 67–69

سورة الْحَجّ 115 یعنی ہر نبی کی امت۔ سورة الْحَجّ 116 یہاں مَنْسَک کا لفظ قربانی کے معنی میں نہیں بلکہ پورے نظام عبادت کے معنی میں ہے۔ اس سے پہلے اسی لفظ کا ترجمہ " قربانی کا قاعدہ " کیا گیا تھا، کیونکہ وہاں بعد کا فقرہ " تاکہ لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں " اس کے وسیع معنی میں سے صرف قربانی مراد ہونے کے تصریح کر رہا تھا۔ لیکن یہاں اسے محض " قربانی " کے معنی میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ عبادت کو بھی اگر " پرستش " کے بجائے " بندگی " کے وسیع تر مفہوم میں لیا جائے تو مدعا سے قریب تر ہوگا۔ اس طرح منسک (طریق بندگی) کے وہی معنی ہوجائیں گے جو شریعت اور منہاج کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–70

خلاصہ تفسیر (جتنی امتیں اہل شرائع گزری ہیں ان میں) ہم نے ہر امت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے کہ وہ اسی طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے تو (اعتراض کرنے والے) لوگوں کو چاہئے کہ اس امر (ذبح) میں آپ سے جھگڑا نہ کریں (ان کو تو آپ سے بحث اور جھگڑا کرنے کا حق نہیں مگر آپ کو حق ہے اس لئے) آپ (ان کو) اپنے رب (یعنی اس کے دین) کی طرف بلاتے رہے آپ یقینا صحیح راستہ پر ہیں۔ (صحیح راستہ پر چلنے والے کو حق ہوتا ہے کہ غلط راستے پر چلنے والے کو اپنی طرف بلائے غلط راستہ والے کو یہ حق نہیں ہوتا) اور اگر (اس پر بھی) یہ لوگ آپ سے جھگڑا کرتے رہیں تو آپ یہ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 68–69

آیت 69-68 یعنی جہاں تک تمہارا تعلق ہے تم اپنی طرف سے ان کو کسی بحث و مناظرہ کا موقع نہ دو۔ لیکن تمہارے اس رویہ کے باوجود اگر وہ مناظرہ کے لئے آہی دھمکیں تو بس ان کو یہ کہہ کر دفع کرنے کی کوشش کرو کہ اللہ ہمارے اور تمہارے اس اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن فرمائے گا۔ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے وہ اچھی واقف ہے مطلب یہ ہے کہ اب ان کو زیادہ منہ نہ لگائو بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں، جان بوجھ کر محض شرارت کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ یہ دلیلوں سے قائل ہونے والے اسامی نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 68–69

69۔ 1 یعنی بیان اور اظہار حجت کے بعد بھی اگر یہ جھگڑے سے باز نہ آئیں تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں کہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن فرمائے گا، پس اس دن واضح ہوجائے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ کیونکہ وہ اس کے مطابق سب کو جزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–71

31: یعنی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس سے یہ علم حاصل ہوسکے کہ یہ بت واقعی خدائی کا درجہ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 67–69

لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96) ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 67–69

1 تمام انبیاء اصول دین میں متفق رہے ہیں۔ البتہ ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بندگی کی صورتیں مختلف زمانوں میں مختلف مقرر کی ہیں۔ جن کے موافق وہ امتیں خدا کی عبادت بجا لاتی رہیں۔ اس امت محمدی کے لیے بھی ایک خاص شریعت بھیجی گئی لیکن اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا۔ بجز اللہ کے کبھی کسی دوسری چیز کی عبادت مقرر نہیں کی گئی۔ اس سے توحید وغیرہ کے ان متفق علیہ کاموں میں جھگڑا کرنا کسی کو کسی حال زیبا نہیں۔ جب ایسی کھلی ہوئی چیز میں بھی حجتیں نکالی جائیں تو آپ کچھ پروا نہ کریں۔ آپ جس سیدھی راہ پر قائم ہیں لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیے۔ اور خواہ مخواہ کے جھگڑے نکالنے والوں کا معاملہ خدائے واحد کے سپرد کیجئے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 68–69

آیت 68 وَاِنْ جٰدَلُوْکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ” میرے پاس جو ہدایت میرے رب کی طرف سے آئی ہے میں اس کی پیروی کر رہا ہوں۔ اگر آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ میرے مقابلے میں آپ زیادہ حق پر ہیں تو آپ جانیں اور آپ کا رب جانے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 68–70

98 یعنی مختلف انبیاء کی شریعت یا عبادات کے طریقوں میں تبدیلی اور اس کی وجوہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق اور پہلے سے ہی طے شدہ ہیں اور اللہ کی کتاب میں پہلے ہی سے ثبت ہیں۔ پھر اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ کون لوگ اس واضح سی بات پر بھی جھگرے پیدا کرنے والے ہیں۔ اللہ کو ان سب باتوں کا پہلے سے علم ہونا، پھر ان جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرکے انھیں ان کی ہٹ دھرمی کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کی وسعت علم اور عظیم قدرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ اور معمولی باتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

118۔ فیصلہ سے مراد عملی مشاہد فیصلہ ہے۔ ورنہ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ دنیا ہی میں ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے دمیان (عملی) فیصلہ کرے گا ‘ یعنی مؤمنوں اور کافروں کا فیصلہ کر دے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ حق و باطل کا اس روز فیصلہ ہوجائے گا۔ مؤمنوں کو ثواب ملے گا اور کافروں پر عذاب ہوگا (یہ عملی فیصلہ ہوگا) یوں فیصلہ تو دلائل وبراہین کے ساتھ دنیا میں بھی کردیا گیا ہے۔ فیما کنتم فیہ تختلفون۔ ان (دینی) امور کا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔ اختلاف کا معنی ہے دو جھگڑا کرنے والوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے خلاف جانا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(69) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم لوگوں کے درمیان عملی فیصلہ فرما دے گا جن چیزوں یعنی امر ذبح اور توحید کے بارے میں مخالفت کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 68–69

وَاِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔۔ : یعنی اگر دین حق کی پوری وضاحت کے بعد بھی کفار جھگڑے سے باز نہ آئیں تو آپ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں اور ان سے کہہ دیں کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، وہ تمہیں اس کا بدلہ ضرور دے گا اور دین کی جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–69

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان جدلوک، اے پیارے محمد ! ﷺ اگر وہ آپ سے جھگڑیں یعنی مشرکین مکہ فقل اللہ اعلم بما تعملون۔ تو کہو : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو یعنی جو وہ حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت نبی کریم ﷺ پر شب معراج نازل ہوئی جب آپ ساتویں آسمان میں تھے اور جو آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی وان جدلوک اگر وہ بطل کے ساتھ تم سے جھگڑیں تو انہیں اللہ اعلم بما تعملون کے قول کے ساتھ جواب دو یعنی کفرو تکذیب جو تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے بہتر جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو جھگڑا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–69

رسول اللہ ﷺ کا سیدھے راستہ پر ہونا یقینی ہے 1۔ ابن ابی حاتم نے ابو الملیح (رح) سے روایت کیا کہ چالیس سے سو تک اور اس سے زائد افراد کو امت کہتے ہیں۔ 2۔ احمد والحاکم وصححہ والبیہقی نے شعب الایمان نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ آیت لکل امۃ جعلنا منسکاہم ناسکوہ سے مراد ہے کہ ہر امت کے لیے ایک خاص جانور تھا قربانی کے لیے جس کو وہ ذبح کرتے تھے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابو رافع ؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب قربانی کرتی ہوتی تو آپ دو مینڈھے موٹے چتکبرے سینگوں والے خریدتے جب آپ خطبہ اور عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو ان میں سے ایک کو ذبح فرماتے اور یہ فرماتے کہ اے اللہ یہ میری ساری امت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَللّٰهُ [ اللہ ] يَحْكُمُ [ فیصلہ کرے گا ] بَيْنَكُمْ [ تم لوگوں کے درمیان ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن ] فِيْمَا [ اس چیز (کے بارے ) میں ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] فِيْهِ [ جس میں ] تَخْتَلِفُوْنَ [ اختلاف کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان چیزوں کے بارے میں فیصلہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے) جب اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا تو سب کچھ ظاہر ہوجائے گا مگر اس وقت منکرین کو حق واضح ہوجانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ جو حکم بھیجا ہے۔ (یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ ) کے طور پر یہیں اسی دنیا میں تسلیم کرلیں تو یہ ایمان لانا آخرت کے دن مفید ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–72

تہدید مجادلین دربار احکام شریعت قال اللہ تعالیٰ لکل امۃ جعلنا منسکا .... الیٰ .... وبئس المصیر۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل الوہیت کو بیان کیا، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ قرون ماضیہ میں ہر امت کو ایک خاص شریعت عطاء کی گئی جو اس زمانے کے مناسب تھی اور اب اخیر میں آپ کو یہ شریعت عطاء کی گئی تمام شریعتیں اپنے اپنے وقت میں حق تھیں اور واجب الاتباع تھیں اب اخیر زمانہ میں یہ شریعت کاملہ ہے جو آخری شریعت ہے سب پر اس کا اتباع واجب ہے کسی کو اس میں مجادلہ اور منازعت کا حق نہیں چناچہ فرماتے ہیں، ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور بندگی کی ایک راہ مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں اسی طرح ہم نے آپ کو ایک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 68–69

82:۔ ” وَ اِنْ جَادَلُوْکَ الخ “ اور وہ اگر خواہ مخواہ آپ سے جھگڑا کریں تو بھی آپ ان سے اعراض کریں اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد فرمائیں وہ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے اور ان اعمال کی ان کو پوری پوری سزا ملے گی۔ ” اَللّٰهُ یَحْکُمُ الخ “ اور قیامت کے دن اس جھگرے کا صاف فیصلہ کردیا جائے گا۔ مومنین جنت میں داخل کیے جائیں گے اور مشرکین جہنم میں یہ نرم اور مشفقانہ انداز میں تخویف وتحذیر ہے۔ وھذا وعید وانذار ولکن برفق ولین (بحر ج 6 ص 368) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–69

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ کی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف رغبت دلائی گئی تھی۔ اللہ کے سوا کسی دوسری ذات کی عبادت کو باطل قرار دے کر اس سے منع کیا گیا تھا ، پھر رات اور دن کے اختلاف ، آسمان کی طرف سے پانی کے نزول اور زمین کے سرسبز و شاداب ہونے کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ نشانات قدرت اس لئے بیان فرمائے ہیں تاکہ انسان ان میں غوروفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکیں اور اس پر ایمان لے آئیں۔ تسخیر اشیائے ارضی : اسی ضمن میں اللہ نے اپنی قدرت کی کچھ مزید نشانیوں کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ الم ترا اے مخاطب ! کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا۔ اس مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ۝ 69 حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ قِيامَةُ والقِيامَةُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–70

پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 68–69

وَاِنْ جٰدَ لُوْکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (الحج : 68، 69) (اور اگر وہ آپ سے جھگڑ اکریں تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان امور کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو۔ ) تفویض کا حکم آنحضرت ﷺ کی پہلو تہی کے باوجود وہ لوگ احکام کے حوالے سے بحث وجدال کرنے سے باز نہیں آتے اور آپ کو اس میں الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ ان سے بحث میں الجھ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–69

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے دلائل دے کر اپنی توحید سمجھا دی ہے۔ اس کے باوجود کوئی شخص توحید کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو اس کی مرضی کیونکہ ہر کسی کے لیے گمراہی اور ہدایت کا راستہ متعین ہوچکا ہے۔ یہود و نصاریٰ ہر اس بات پر اعتراض اور تنقید کرتے ہیں جو ان کی شریعت کے خلاف ہے۔ اس پر انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ جہاں تک دین کے بنیادی اصولوں کا معاملہ ہے وہ تو ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ لیکن ہر دور کے حالات کے مطابق شریعت یعنی دین کے کچھ اصولوں کی تشریح میں فرق رہا ہے۔ جس کی حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو دین پر عمل کرنا آسان رہے۔ اسی وجہ سے پہلی شریعتوں کے ساتھ شریعت محمدیہ کا بعض…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 69–70

69: اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (اللہ تعالیٰ تمہارے مابین ان باتوں میں قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے جن میں تم اختلاف کرتے تھے) اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤمنین اور کفار کو خطاب کیا کہ ثواب و عقاب کا فیصلہ حقیقی قیامت کے دن ہوگا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو ان تکالیف پر تسلی دی گئی جو کفار کی طرف سے روز پیش آتی تھیں۔ 70: اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ (کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو جو آسمان اور زمین میں ہے جانتے ہیں) یعنی کس طرح تمہارے اعمال اس سے مخفی رہ سکتے ہیں۔ علماء کے ہاں یہ بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

69۔ اللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ فیما کنتم فیہ تختلفون، اس وقت تم لوگ پہچان لوگے کہ کیا حق ہے، اور باطل کیا ہے، اختلاف کا معنی ہے ، دوجھگڑا کرنے والوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے خلاف ہوجانا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 67–70

67۔ 70:۔ چند مشرکوں نے صحابہ ؓ سے جھگڑا کیا تھا کہ تم اپنے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھاتے ہو اور اللہ کا مارا ہوا جانور نہیں کھاتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مفسروں نے ان آیتوں کے معنی دو طرح بیان کئے ہیں ‘ ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہر زمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک شریعت قائم کی ہے ‘ کبھی شریعت موسوی ہے اور کبھی عیسوی اور کبھی محمدی ‘ اپنے اپنے زمانے میں ہر شریعت حق اور اللہ کی بھیجی ہوئی ایک شریعت ہے ‘ ایک شریعت کا حکم پکڑ کر دوسری شریعت کے حکم میں حجت کرنا ٹھیک نہیں ہے دوسرے معنی یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کے علم میں نیک وبد چھٹ چکے ہیں اس لیے ہر ایک گروہ اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 67–70

آیت 67 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لئے (منسکا) ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لکل جعلنا منکم شرآ و منھا جاو لو شاء اللہ لجعلکم آپ واحآ و لکن لیبلوکم فی ما اٰتکم) (الماء آ : 5 /84) ” ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لئے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمہیں دیئے ہیں وہ ان میں تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ “ (ھم ناسکوہ) یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں، اس لئے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

جہاد فی سبیل اللہ قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 67–69

129 بیشک آپ قطعی طور پر سیدھی راہ پر ہیں : سو کوئی مانے یا نہ مانے ‘ تسلیم کرے یا نہ کرے ‘ راہ حق و صواب بہرحال وہی اور صرف وہی ہے ‘ جس پر آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے گامزن ہیں ‘ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والی راہ ہے ‘ اب جو کوئی صدق دل سے اس راہ کو اپنائے گا وہ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریگا، اور اس کے برعکس جو کوئی اس سے اعراض کریگا اور منہ موڑے گا والعیاذ باللہ وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا، والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس آپ راہ حق پر گامزن رہو اور اسی کی دعوت دنیا کو دیتے رہو جو حق اور حقیقت کے طالب ہوں گے وہ اس دعوت کو قبول کریں گے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف (جدید تکنیک کا علم ضروری ہے) انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 68–69

1 ۔ وہاں عقل کے اندھوں کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ حق بات کیا تھی اور باطل کیا ؟ جو شخص باطل پر جھگڑا کرے، اس کو سنجیدگی سے یہی جواب دینا چاہیے۔ (شوکانی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 68–69

(22:68) جادلوک۔ جادلوا ماضی جمع مذکر غائب مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اگر وہ تجھ سے جھگڑا کریں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–72

لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 72 : امۃ (امت۔ جماعت) ‘ منسکا (طریقہ عبادت و بندگی) ‘ ناسکون (وہ اس (طریقہ) پر عبادت کرتے ہیں۔ عبادت کرنے والے) ‘ ینازعن (وہ جھگڑا کرتے ہیں) ‘ ادع (بلائیے۔ دعوت دی جئے) ھدی (ہدایت) ‘ جادلو (وہ جھگڑنے والے ہیں) ‘ یسیر (آسان) ‘(لم ینزل ( نہیں اتارا) ‘ سلطان (سند۔ دلیل) ‘ المنکر (ناگوار) ‘ یکادون (وہ قریب ہوتے ہیں) ‘ یسطون (وہ حملہ کرتے ہیں) ‘ انبئی (میں بتاتا ہوں) ۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 72 : اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے رسول بھیجے انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنی امتوں کو طریق عبادت سکھایا۔ خاتم الانبیا حضرت مصطفیٰ ﷺ کو بھی اللہ نے عبادت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–70

ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ (ف 2) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ بدیل بن ورقاء اور بشیر بن سفیان اور یزید بن خنیس نے اصحاب رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ کیا سبب ہے کہ جس جانور کو تم ذبح کرتے ہو اسے تو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی حجتیں پیش کرنے کا سبب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ پایاجاتا ہے اور اس واسطے اے رسول کے تم ان لوگوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دو کیونکہ جس طریقہ پر تم ہو اللہ کا بتایا ہوا سیدھاراستہ ہے اور جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–70

[48] یعنی لوح محفوظ میں۔ [49] یعنی جب حکومت کے ساتھ علم بھی اللہ کا کامل ہے تو اسے فیصلہ صادر کرنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–71

شرک ناقابل فہم ہے !: (ف 1) (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ سے مقصود یہ ہے کہ شرک کے لئے کوئی عقل وجہ جواز موجود نہیں ، اور یہ کیونکر ممکن ہے ؟ کہ ایک مٹھی یا پتھر کے بت کو خدا قرار دے لیا جائے ، یا ایک شخص کو جس کی زندگی اور زندگی کی بےچارگیاں ہمارے سامنے ہیں ہم اس کو خدائی مسند پر بٹھا دیں ، اللہ تعالیٰ نے بار بار شرک کی مذمت فرمائی ہے ، اور اس کو ایک غیر عقلی اور غیر مدلل عقیدہ قرار دیا ہے ، مگر یہ عجیب بات ہے کہ اکثر لوگ اسی شرک کے مرض میں مبتلا ہیں ، اور نہیں محسوس کرتے کہ یہ کھلی گمراہی ہے ، بھلا جو شخص بھوک کی شدت سے بےتاب ہوجاتا ہے ، جسے پیاس بےقرار کردیتی ہے ، بیمار ہوتا ہے تو طبیب کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(69) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں تم اختلاف کرتے ہو اور اگر وہ باوجود سمجھانے کے بھی پھر جھگڑے کی باتیں نکالیں تو ان سے کہہ دیجئے کہ تمہاری ان حرکات کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے وہی تم سے سمجھے گا اور قیامت کے دن تمہارے باہمی اختلاف کا عملی فیصلہ کردے گا اور وہ یہی کہ جو حق پر ہے وہ نجات پائے گا اور جو کج بحثی اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرنے والے ہیں ان کو سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–69

ف 2۔ صحیح رستہ والے کو حق ہوتا ہے غلط رستہ والے کو اپنی طرف بلانے کا، اور غلط رستہ والے کو یہ حق نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ تمہارا فیصلہ کر دے گا جس معاملہ میں تم الجھنا چاہتے ہو : 69۔ فرمایا ان مذہبی پروہتوں کا جھگڑا ایسا نہیں ہوتا جس کا کوئی حل کسی کے پاس ہو کیونکہ یہ لوگ بےدلیل جھگڑتے ہیں اور جواب ہمیشہ دلیل کا دلیل سے ہوتا ہے آپ کو جو کچھ دیا گیا وہ ایسا نہیں جو بغیر دلیل کے ہو اور ان کے پاس ایک بات بھی ایسی نہیں جس پر کوئی دلیل ہو لہذا اس کا حل ایک ہی ہے کہ ان سے صاف صاف الفاظ میں یہ بات کہہ دے کہ تمہارے اس اختلاف کا جو تم حق کے خلاف کرتے ہو فیصلہ فیصلہ قیامت کے روز خود رب ذوالجلال والاکرام ہی کرے گا ۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے وہ خوب واقف ہے ، کوئی اس سے یہ نہ سمجھ لے کہ دنیا میں اللہ ان کا فیصلہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–72

Commentary لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا (For every ummah (religious community) We have appointed a way of worship - 22:67). This sentence has come earlier in almost identical words in verse number 34 of this Surah, but the word مَنسَكً (mansak) conveys a different meaning in each verse. In the earlier verse the words مَنسَكً and نسَكً have been used in the context of the rites of Hajj and mean sacrifice of animals, while in the present verse the word مَنسَكً has been used in the sense of the rules of slaughter or general rules of worship. That is why, unlike the verse 34, the present…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–69

115. That is, the community of every Prophet. 116. Here the Arabic word mansak has been used in its most comprehensive sense which also includes sacrifice (verse 34). It means service, worship, in short, the entire way of life. The same theme has been expressed in (Surah Al-Maidah, Ayat 48): We prescribed a law and a way of life for each of you. 117. That is, now you have brought a way of life just as the former Prophets brought ways of life for their people. Therefore the people have no right to dispute with you concerning the law you have brought. 118. This confirms the explanation given…

Read the full tafseer →