Al-Hajj 22:66

Al-Hajj · from ayah 66

22:66

وَهُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ ؗ— ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ؕ— اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ ۟وَهُوَ الَّذِىۡۤ اَحۡيَاكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَـكَفُوۡرٌ‏

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی۔ پھر تم کو مارتا ہے۔ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He is the one who gave you life; then He causes you to die and then will [again] give you life. Indeed, mankind is ungrateful.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:66

وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکرِ حق ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی۔ پھر تم کو مارتا ہے۔ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر وہی تمہیں زنده کرے گا، بے شک انسان البتہ ناشکرا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر وہ تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ واقعی انسان بڑا ناشکرا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا اور پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (دوبارہ) زندگی دے گا۔ بیشک انسان ہی بڑا ناشکر گزار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ بیشک انسان یقینا بہت ناشکرا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر تمہیں مارتا ہے پھر تمہیں (دوبارہ) زندہ کرے گا اور حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکر حق ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر وہ تم کو زندہ کرے گا۔ بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ اللہ وہی ہے جس نے تم سب کو زندگی بخشی پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے اور دے گا پھر وہی تمہیں قیامت میں زندہ کرے گا پھر بھی یہ انسان اس کا ناشکرا اور نافرمان ہے ؟ واقعی یہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہی تو ہے جس نے تم کو زندگی دی پھر تمہیں موت دے گا پھر تم کو چلائے گا بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا یقیناً انسان بڑا ہی نا شکرا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زندگی بخشی پھر تم کو مارتا ہے ‘ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا بیشک انسان تو بڑا ناشکرا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And it is He Who has endowed you with life and it is He who causes you to die, and it is He Who will then resurrect you. Man is indeed extremely prone to denying the Truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who gave life to you, then He brings death to you, then He will give you life (again). Surely, man is very ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who gave life to you, then He brings death to you, then He will give you life (again). Surely, man is very ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is He, Who gave you life, and then will cause you to die, and will again give you life. Verily, man is indeed Kafurun.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He it is Who gave you life, then He will cause you to die, and then will give you life (again). Lo! man is verily an ingrate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He is the one who gave you life; then He causes you to die and then will [again] give you life. Indeed, mankind is ungrateful.

— Saheeh International

It is He who has given you life, He will make you die and will make you live again. Surely the human being is ungrateful.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who has brought you to life, then He will cause you to die, then bring you to life (again); most surely man is ungrateful.

— Muhammad Habib Shakir

And He it is who gave you life and will thereafter cause you to die, and will thereafter give you life; verily man is ingrate.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who gave you life, will cause you to die, and will again give you life: Truly man is a most ungrateful creature!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–66

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ سو کھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے۔ یہاں پر "" تعقیب کے لئے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی "" آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہوجاتی ہیں فاللہ اعلم۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 114 یعنی یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اس حقیقت کا انکار کیے جاتا ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) نے پیش کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

معارف و مسائل سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ ، یعنی زمین کی سب چیزوں کو انسان کا مسخر بنادیا۔ مسخر بنانے کے ظاہری اور عام معنے یہ سمجھے جاتے ہیں کہ وہ اس کے حکم کے تابع چلے۔ اس معنے کے لحاظ سے یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ زمین کے پہاڑ اور دریا اور درندے پرندے اور ہزاروں چیزیں انسان کے حکم کے تابع تو نہیں چلتے مگر کسی چیز کو کسی شخص کی خدمت میں لگا دینا جو ہر وقت یہ خدمت انجام دیتی رہے یہ بھی درحقیقت اس کے لئے تسخیر ہی ہے اگرچہ وہ اس کے حکم سے نہیں بلکہ مالک حقیقی کے حکم سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے۔ اسی لئے یہاں ترجمہ تسخیر کا کام میں لگا دینے سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سرکشی کی اصل عظمت یہ آخرت کی یاد دہانی فرما دی کہ اگر اس دنیا میں عذاب نہ آئے تو یہ کون سی اطمینان کی بات ہے ؟ آگے آخرت جو موجود ہے ! بالآخر لوٹنا تو سب کو اللہ ہی کی طرف ہے۔ خدا ہی نے زندگی بخشی ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ پھر وہی زندہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ جب اس کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو آخر دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے میں اس کو کیں دشواری پیش آئے گی ! ان الانسان لکفورٌ یہ اس ساری سرکشی کی اصل علت بیان ہوئی ہے کہ جہاں تک قرآن اور پیغمبر ﷺ کی باتوں کا تعلق ہے وہ تو بالکل واضح ہیں، ان میں کسی بحث و نزاع کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ لوگ نہایت ناشکرے اور ناقدرے ہیں۔ لفظ انسان سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 یہ بحیثیت جنس کے ہے۔ بعض افراد کا اس ناشکری سے نکل جانا اس کے منافی نہیں، کیونکہ انسانوں کی اکثریت میں یہ کفر و جحود پایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

30: بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے جو احکام دئیے ہیں، ان میں سے کچھ ان احکام سے مختلف ہیں جو پچھلے انبیائے کرام کی امتوں کو دئیے گئے تھے اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے یعنی مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں اللہ نے عبادت کے مختلف طریقے مقرر فرمائے تھے اور ہر دور کے مناسب شریعت کے مختلف احکام دئیے تھے۔ لہذا اگر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے کچھ احکام پچھلی شریعتوں سے الگ ہیں تو اس میں نہ کوئی اعتراض کی بات ہے، اور نہ بحث مباحثے کا کوئی موقع۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وھو ……لکفور (66) انسان کے ڈھانچے میں زندگی ڈالنا یعنی پہلے انسان ڈھانچے میں تو ایک عظیم معجزہ ہے ، اور رات اور دن جن چیزوں میں اللہ تعالیٰ زندگی ڈالتا ہے اس سے اس معجزے کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔ یہ ” حیات “ کیا چیز ہے۔ ابھی تک یہ امور غبیبہ سے ہے اور عقل اس کے بارے میں حیراں ہے۔ اس میں بہرحال تامل و تدبر اور سائنسی تحقیق کے لئے بڑی گنجائش ہے۔ پھر موت بھی ایک دوسرا معجزہ ہے کہ انسان اس کی حقیقت سے آج تک عاجز ہے۔ موت نہایت ہی مختصر ٹائم میں واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن زندگی اور موت کے آثار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ انسان کے لئی اس میں غور و فکر کے وسیع امکانات ہیں۔ اب تیسرا مرحلہ کہ موت کے بعد زنگدی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 اسی طرح کفر و جہل سے جو قوم روحانی موت مرچکی تھی، ایمان و معرفت کی روح سے اس کو زندہ کر دے گا۔ 7 یعنی اتنے احسانات و انعامات دیکھ کر بھی اس کا حق نہیں مانتا منعم حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ ” یعنی پہلے تم مردہ تھے اور اس نے تمہیں زندہ کیا۔ یہ آیت سورة البقرۃ کی اس آیت سے گہری مشابہت رکھتی ہے : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاَحْیَاکُمْْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ دونوں آیات کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہیں۔ صرف سورة البقرۃ کے ”کُنْتُمْ اَمْوَاتاً“ کے الفاظ کو زیر مطالعہ آیت میں دہرایا نہیں گیا۔ مضمون دونوں آیات کا بہر حال ایک ہی ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ارواح کو عالم ارواح میں پیدا کیا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہد اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ؟ لینے کے بعد سب کو سلا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

95 انسان کو اللہ کا زندگی بخشنا ایسا احسان ہے جسے ہر شخص احسان سمجھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا انسان کو موت دینا اس لحاظ سے احسان ہے کہ اگر آدم سے لے کر موجودہ دور تک تمام مخلوق زندہ رہتی۔ تو انسان کو زمین پر کھڑا ہونے کو بھی جگہ نہ ملتی۔ وسائل معاش اور ضروریات زندگی کا مہیا ہونا تو دور کی بات ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ ساتھ ہی ساتھ پہلوں کو موت کی نیند سلا کر آنے والوں کے لئے جگہ اور ضروریات زندگی مہیا کردیتا ہے۔ اسی طرح مرنے کے بعد زندہ کرنا پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دینا بھی اللہ تعالیٰ کا انسان پر احسان عظیم ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس اخروی زندگی اور اس کی تفصیلات سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114۔ (کہ اس یکتا وقابل پر ستش معبود کی توحید کی ناقدری کرکے کفر وشرک کی طرف ڈھل جانا ہے۔ (آیت) ” ھو ........ یحییکم “۔ یہاں اس عقیدہ کا اثبات ہے کہ پیدا کرنے، مارنے اور پھر جلا اٹھنے کی ساری قوتیں ایک ہی معبود یکتا کی ذات بےہمتا میں جمع ہیں، اور سارے تصرفات کی مرکز اسی کی ذات ہے۔ اور اس میں ہندی مشرکوں کے اس عقیدہ کا رد آگیا کہ پیدا کرنے والا کوئی اور ہے، اور باقی رکھنے والا کوئی اور، ہلاک کرنے والا اس کے بھی علاوہ کوئی اور۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو الذی احیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم اور وہی تو ہے جس نے تم کو زندگی عطا کی پھر تم کو مردہ کر دیتا ہے پھر تم کو زندہ کرے گا۔ یعنی تم پہلے جمادی حالت میں تھے پھر غذا سے اس نے نطفہ بنایا پھر نطفہ کو بستہ کر کے لوتھڑا بنایا پھر بوٹی بنا دی پھر جسم بنا دیا پھر اس میں جان ڈال دی ‘ پھر جب تمہاری مدت حیات پوری ہوجائے گی تو تمہارے بدن سے جان کھینچ لے گا ‘ پھر دوبارہ جسم بنا کر اسی میں جان ڈال دے گا۔ یہ زندگی آخرت میں ملے گی۔ ان الانسان لکفور۔ بیشک انسان (یعنی مشرک) بڑا منکر نعمت ہے اللہ کی نعمتیں سامنے ہیں پھر بھی انکار کرتا ہے ‘ نہ ابتدائی پیدائش کی نعمتوں کا اقرار کرتا ہے نہ مرنے کی نعمت کا حالانکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(66) اور اسی نے تمہیں کو تمہاری ماؤں کے رحم ہی میں زصفر کی حالت میں زندگی دی اور وہی تمہیں بچپن یا بڑے ہونے کی حالت میں موت دے گا اور وہی تمہیں مرنے کے بعد پھر زندہ کرے گا، واقعی بدیل بن ورقاء کافر اور اللہ تعالیٰ اور بعث بعد الموت اور مسلمانوں کے ذبیحہ کا منکر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَحْيَاكُمْ۔۔ : یہ چھٹی نعمت ہے اور پہلے ذکر کی گئی تمام نعمتوں کی اصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا، اگر پیدا ہی نہ کرتا تو دوسری تمام نعمتیں تمہارے کس کام کی تھیں ؟ اس بات کو ہر ملحد شخص بھی مانتا ہے کہ ہم پہلے نہیں تھے، بعد میں پیدا ہوئے۔ ”ۡ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ“ پھر وہ تمہیں موت دے گا، یہ حقیقت بھی ہر شخص تسلیم کرتا ہے۔ ”ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ“ جو شخص پہلی دونوں باتیں مانتا ہے اسے یہ بھی ماننا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد زندہ بھی کرے گا۔ 3 بظاہر ان تینوں میں سے نعمت صرف پہلی دفعہ پیدا کرنا ہے، کیونکہ پھر مارنا اور زندہ کرنا تو محاسبے کے لیے ہے، لیکن اگر غور کیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھو الذی احیاکم یعنی تمہارا نطفہ ہونے کے ببعد اس نے تمہیں زندگی دی ثم یمیتکم اور تمہاری عمر پوری ہونے کے وقت وہ تمہیں موت دے گا ثم یحییکم پھر وہ تمہیں حساب، ثواب اور عقاب کے لیے زندہ کرے گا۔ ان الانسان لکفور۔ جب وہ آیات ظاہر ہوچکی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں پھر بھی انسان منکر بنا ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الانسان سے مراد اسود ببن عبدالاسد، ابو جہل بن ہشام، عاص بن ہشام اور مشرکین کی ایک جماعت ہے۔ بعض نے کہا : یہ اس لیے فرمایا کیونکہ اکثر انسان نعمتوں 0 کی ناشکری کرتے ہیں جیسے فرمایا : قلیل من عببادی الشکور۔ (سبا)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–66

1۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر تو کسی خوفناک بادشاہ کے پاس جائے اور اس کے غالب ہونے کا اندیشہ ہو تو تین مرتبہ یہ کلمات پڑھو :۔ الہ اکبر اللہ اکبر من خلقہ جمیعا اللہ اعز ممن اخاف واحذ اعوذ باللہ الذی لا الہ الا ہو الممسک السمون السبع ان یقعن علی الارض الا باذنہ من شر عبدک فلان وجندہ واشیاعہ من الجن والانس الہی کن لی جار من شرہم جل شانک وعز جارک و تبارک اسمک ولا الہ غیرک اللہ سب سے بڑے ہیں اللہ سب سے بڑے ہیں اپنی ساری مخلوق سے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ قوی ہیں جس سے میں ڈرتا ہوں اور خوف کھا رہا ہوں۔ میں اس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں روکنے والا ہے ساتوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَحْيَاكُمْ ۡ [ زندگی دی تم لوگوں کو ] ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ [ پھر وہ موت دے گا تم کو ] ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ۭ [ پھر وہ زندگی دے گا تم کو ] اِنَّ الْاِنْسَانَ [ بیشک انسان ] لَكَفُوْرٌ [ یقینا انتہائی ناشکرا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–66

اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات کے مظاہرے یہ مظلوم کو غالب کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہے، جو کچھ عالم سفلی اور عالم علوی میں ہے وہ سب اسی کا ہے سارے انقلابات زمان میں ہوں یا مکان میں سب اسی کی قدرت و مشیت اور ارادہ سے ہوتے ہیں، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے وہ ہر بات سنتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے وہ حق ہے اس کے علاوہ جو لوگوں نے معبود بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ برتر ہے بڑا ہے وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے وہ لطیف ہے یعنی مہربان ہے اور خبیر ہے جو اپنی ساری مخلوق کی خبر رکھتا ہے وہ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–66

بیان بعض دلائل کمال قدرت و حکمت بالغہ و کمال تسخیر قال اللہ تعالیٰ الم تر ان اللہ انزل من السماء .... الیٰ .... ان الانسان لکفور۔ (ربط) گزشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت اور کمال تسخیر کے کچھ دلائل بیان کرتے ہیں جو چھ دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل نعمت بھی۔ دلیل اول الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فتصبح الارض مخضرۃ ان اللہ لطیف خبیر۔ اے مخاطب تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین سرسبز اور تروتازہ ہوجاتی ہے یعنی ہر قسم کے نباتات اگاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی زندگی کا سامان اگایا اور بیشک وہ خبردار ہے بندوں کا حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

80:۔ ” وَھُوَ الَّذِيْ اَحْیَاکُمْ الخ “ دلائل مذکورہ بالا سے معلوم ہوگیا کہ کارساز اور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں کیونکہ وہ قادر علی الاطلاق اور ساری کائنات میں متصرف مطلق ہے۔ جس طرح وہ مردہ زمین میں بارش سے زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہے اور بےجان نطفہ سے انسانوں اور دیگر جانداروں کو پیدا کرسکتا ہے اسی طرح وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ“ لیکن یہ انسان کس قدر احسان فراموش اور ناشکر گذار واقع ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احسانات و انعامات کو بھلا کر ان کی ناشکری کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی عاجز مخلوق کو شریک بنانا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–69

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ کی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف رغبت دلائی گئی تھی۔ اللہ کے سوا کسی دوسری ذات کی عبادت کو باطل قرار دے کر اس سے منع کیا گیا تھا ، پھر رات اور دن کے اختلاف ، آسمان کی طرف سے پانی کے نزول اور زمین کے سرسبز و شاداب ہونے کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ نشانات قدرت اس لئے بیان فرمائے ہیں تاکہ انسان ان میں غوروفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکیں اور اس پر ایمان لے آئیں۔ تسخیر اشیائے ارضی : اسی ضمن میں اللہ نے اپنی قدرت کی کچھ مزید نشانیوں کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ الم ترا اے مخاطب ! کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا۔ اس مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْٓ اَحْيَاكُمْ۝ 0ۡثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ۝ 0ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ۝ 66 حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–70

پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَھُوَالَّذِیْٓ اَحْیَاکُمْ ز ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ۔ (الحج : 66) (اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی عطا کی پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ ) انسان کے کردار کی بنیادی خرابی اس آیت کریمہ میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک تو یہ بات کہ گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ احسانات کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ اس کی الطاف و عنایات صرف اس لیے ہیں کہ وہ رؤف ورحیم ہے۔ یہ بات بجائے خود شرم دلانے کے لیے کافی ہے کہ قریش اور دوسرے مشرکین مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں وہ تو اس قابل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–66

فہم القرآن ربط کلام : اگر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا ادراک چاہتے ہو تو پھر دریاؤں میں چلنے والی کشتیوں اور آسمان کی بلندیوں پر غور کرو۔ انسان کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے دائیں بائیں، اوپر نیچے بیشمار چیزوں کو دیکھتا اور ان سے استفادہ کرتا ہے۔ مگر ان کی حقیقت جاننے کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ انسان کی توجہ حقائق کی طرف مبذول کرنے کے لیے قرآن مجید کئی مقامات پر اَلَمْ تَرَ کے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ اے انسان ! کیا تو دیکھتا اور سوچتا نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز کو کس طرح پیدا فرمایا ہے ؟ یہاں زمین و آسمان اور سمندر میں چلنے والی کشتیوں کی طرف توجہ دلا کر ارشاد فرمایا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

66: وَھُوَ الَّذِیْ اَحْیَاکُمْ (اور وہی تو ہے جس نے تمہیں زندگی عطا کی) تمہاری مائوں کے رحموں میں ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ (پھر وہ تمہیں موت دے گا) جب تمہاری اجل مقررہ ختم ہوجائے گی۔ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (پھر وہ تمہیں زندہ کریں گے) تاکہ تمہارا بدلہ دے اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ (بیشک انسان البتہ ناشکرا ہے) اس لئے کہ بیشمار قسم کی نعمتوں کا جو اس پر کی گئی ہیں شدت سے انکار کرنے والا ہے۔ اور بیشمار اقسام کے عذاب اس سے ہٹا لئے وہ پھر مرغ کی ایک ٹانگ ہانک رہا ہے۔ نمبر 2۔ یہ نعمت پیدائش کو نہیں پہچان رہا جو کہ اس کا ابتدائی وجود ہے اور نہ یہ فناء کو جان رہا ہے جو کہ وعدہ مقررہ سے اس کو قریب کرنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 66۔ وھوالذین احیاکم، تمہیں اس نے پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے تم کچھ نہ تھے۔ ثم یمینکم ، پھر تمہاری مدت پوری ہونے پر تمہیں موت دے دے گا۔ ثم یحییکم ، پھر وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، قیامت کے دن ثواب اور عقاب کے لیے ، ان الانسان لکفور، انسان اللہ کی نعمتوں کاناشکر ا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

66:۔ اوپر انسان کی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا احسان جتلایا جاکر اس آیت میں خود انسان کے پیدا کرنے کا احسان جتلایا گیا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ انسان کی کچھ ہستی نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو نسیت سے ہست کیا ‘ اس کی سب ضروری کی چیزوں کو پیدا کیا۔ انسان کی عمر کی ایک تعداد مقرر کی جس کے پورے ہوجانے کے بعد ہر شخص مرجاوے گا اور پھر وقت مقررہ پر سزا وجزا کے لئے ہر شخص کو دوبارہ زندہ کیا جاوے گا کہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے لیکن انسان ایسا ناشکرہ ہے کہ اللہ کے ان سب احسانات کو بھول کر اللہ کی تعظیم میں ایسے غیروں کو شریک کرتا ہے کہ نہ انہوں نے انسان کو پیدا کیا نہ انسان کی کسی ضرورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–66

آیت 65 کیا تم نے اپنی آنکھ اور دل سے اپنے رب کی بےپایاں نعمت اور بےحد احسانات کو نہیں دیکھا ؟ (ان اللہ سخر لکم ما فی الارض) یعنی اللہ تعالیٰ نے حیوانات نباتات اور جمادات کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے۔ روئے زمین کی تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لئے مسخر کردیا ہے، چناچہ زمین کے تمام حیوانات کو انسان کی سواری، نقل و حمل، کام کاج، کھانے اور مختلف انواع کے استفادے کے لئے مسخر کردیا اور اس کے تمام درختوں اور پھلوں کو بھی مسخر کردیا تاکہ وہ ان سے خوراک حاصل کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو درخت لگانے زمین سے غلہ حاصل کرنے اور معدنیات نکالنے کی طاقت عطا کی تاکہ وہ ان سے استفادہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 53–67

منسک کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

128 واقعی انسان بڑا ناشکرا ہے : جو ان اور ان عظیم الشان نعمتوں کے باوجود اپنے خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے ہے ‘ والعیاذ باللہ نہ وہ ان کا حق شکر ادا کرتا ہے اور نہ وہ اپنے منعم حقیقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے، ان کو جن کا ان نعمتوں کی عطاء و بخشش میں کوئی حصہ سرے سے ہی نہیں اور ہوسکتا ہی نہیں، سو ناشکری اور بےقدری بیماریوں کی بیماری ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے سرکشی کی اصل علت کو آشکارا فرما دیا گیا ہے۔ سو جہاں تک قرآن حکیم اور رسول کریم کی باتوں کا تعلق ہے وہ تو بالکل واضح ہیں۔ ان میں کسی بحث و نزاع کی کوئی گنجائش نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف (جدید تکنیک کا علم ضروری ہے) انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

12 ۔ جو یہ سب کچھ دیکھتا ہے پھر بھی اس کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔ یعنی اس دعوت کو نہیں مانتا جو اس کی طرف سے اس کے رسول ﷺ پیش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–66

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66 ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔ تشریح آیت نمبر 58 تا 66 : جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اوپر انسان کی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا احسان جتلاکر اس آیت میں خود انسان کے پیدا کرنے کا احسان جتلایا گیا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ انسان کی کچھ ہستی نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو نیست وہست کیا اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا انسان کی عمر کی تعداد مقرر کی جس کے پورے ہوجانے کے بعد ہر شخص مرجاتا ہے اور پھر وقت مقررہ پر جزوسزا کے لیے ہر شخص کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا کہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے۔ لیکن انسان ایسا ناشکرا ہے کہ اللہ کے ان سب احسانات کو بھول کر اللہ کی تعظیم میں ایسے غیروں کو شریک کرتا ہے نہ انہوں نے انسان کو پیدا کیا نہ انسان کی کسی ضرورت کی چیز کو پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–66

[46] یعنی اتنے احسانات و انعامات دیکھ کر بھی اللہ کا حق نہیں مانتا اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کے آگے جھکنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–66

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی مزید عنائیت کا ذکر فرمایا ہے ارشاد ہے کہ جو کچھ دنیا میں موجود ہے ہم نے تمہیں اس کا حاکم بنایا ہے اور ہر چیز پر تمہیں اختیار دیا ہے ، گویا کائنات میں تمہارا درجہ ہر شے سے بڑا ہے ، تم اس لئے پیدا کئے گئے ہو کہ یہاں حاکمانہ رہو ، اور خدا کی مہربانیوں کا شکر ادا کرتے رہو فرمایا دیکھو کشتیاں اور پہاڑوں کے لئے بھی ہم نے ایسے مفید قانون بہا دیئے ہیں کہ تم ان کے ذریعے سے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہو ، پھر یہ بھی ہماری نوازش ہے کہ تمہیں آسمان اور آسمانی حوادث سے محفوظ رکھا ہے ، اور سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ تمہیں زندگی کا خلعت بخشا ہے ، یاد رکھو تم موت سے محفوظ نہیں رہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(66) اور وہی ہے جس نے تم کو پہلی مرتبہ زندگی بخشی۔ پھر وہ تم کو موت دے گا۔ پھر موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ واقعی انسان بڑا ناسپاس اور ناشکرا ہے۔ پہلی مرتبہ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کرکے انسان کی پیدائش کا سلسلہ جاری کیا۔ پھر زندگی کے بعد موت دیتا ہے اور مرنے کے بعد عالم آخرت میں دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا ان تمام انعامات الٰہیہ کے بعد بھی انسان اللہ تعالیٰ کی توحید کا قائل نہیں ہوتا اور شرک کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کا حق نہیں مانتا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ زیادہ اجزاء سورت میں کفار کے جدال اور اس کے وجوہ ابطال کا بیان ہے، منجملہ ان مجادلات کے ایک مجادلہ متعلق ذبح کے تھا جس کا حاصل وہی ہے جو اب بھی بعض کفار کی زبان پر مشہور ہے کہ خدا کی ماری مردار اور اپنی ماری حلال، آگے اس پر مشرکین کو زجر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی ہے جس نے تم کو زندگی بخشی اور اسی نے موت بھی لازم کردی : 66۔ آپ کا انکار کیوں اور کیسے ہے ؟ محض اس لئے کہ اس نے تم کو زندہ کیا لیکن تم اس کی عطا کردہ زندگی کا ماننے والے نہیں تمہارے زعم میں ہے کہ ہم ایسے ہی بغیر کسی کے پیدا کرنے کے پیدا ہوگئے ہیں لیکن ایسی بات ہے تو پھر تم مرتے کیوں ہو جب کہ مرنے پر تمہاری خواہش اور مرضی بھی نہیں ہوتی پھر یہی نہیں بلکہ تم مرنے سے پہلے کتنی سٹیجوں سے گزرے ‘ جوانی تک پہنچ کر گزشتہ ساری تبدیلیوں کو تم نے پس پشت ڈال دیا اور اب تم کندھوں پر تھوکنے لگے اس جوانی نے تم کو ایسا مست کیا کہ تم گزشتہ اپنی پیدائش سے لے کر جوانی تک کے ایک ایک مرحلہ کو بھول گئے لیکن اب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–66

Commentary سَخَّرَ‌ لَكُم مَّا فِي الْأَرْ‌ضِ (Allah has subjugated to you whatever there is on the earth - 22:65) It means that everything on this earth has been placed under the control of man. This raises the question that the mountains, rivers, beasts and birds and thousands of similar objects do not follow the commands of man. But placing something in the service of someone is also like putting it under his control, and in this verse the word Taskhir (subjugation) has been used to mean ` to serve'. The verse therefore means that all the things mentioned above are all the time working in…

Read the full tafseer →