Al-Hajj 22:67

Al-Hajj · from ayah 67

22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰی رَبِّكَ ؕ— اِنَّكَ لَعَلٰی هُدًی مُّسْتَقِیْمٍ ۟لِّـكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًا هُمۡ نَاسِكُوۡهُ‌ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِى الۡاَمۡرِ‌ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ‌ ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ

ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی ہے جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

For every religion We have appointed rites which they perform. So, [O Muhammad], let the disbelievers not contend with you over the matter but invite them to your Lord. Indeed, you are upon straight guidance.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:67

ہر امت کے لیے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے محمدؐ، وہ اِس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں تم اپنے رب کی طرف دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی ہے جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہر امت کے لئے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے، جسے وه بجا ﻻنے والے ہیں پس انہیں اس امر میں آپ سے جھگڑا نہ کرنا چاہئے آپ اپنے پروردگار کی طرف لوگوں کو بلائیے۔ یقیناً آپ ٹھیک ہدایت پر ہی ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے ہر امت کے لوگوں کے لیے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ لہذا (اے پیغمبر) لوگوں کو تم سے اس معاملے میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور تم اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیتے رہو۔ تم یقینا سیدھے راستے پر ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کے قاعدے بنادیے کہ وہ ان پر چلے تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں اور اپنے رب کی طرف بلاؤ بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم نے ہر ایک امت کے لئے (احکامِ شریعت یا عبادت و قربانی کی) ایک راہ مقرر کر دی ہے، انہیں اسی پر چلنا ہے، سو یہ لوگ آپ سے ہرگز (اﷲ کے) حکم میں جھگڑا نہ کریں، اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں۔ بیشک آپ ہی سیدھی (راہِ) ہدایت پر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہر امت کے لیے ہی ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرنے والے ہیں، سو وہ تجھ سے اس معاملے میں ہرگز جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف دعوت دے، بیشک تو یقینا سیدھے راستے پر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے ہر ایک امت کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا جس پر وہ چلتے ہیں۔ لہذا انھیں اس معاملہ میں آپ سے جھگڑنا نہیں چاہئے۔ آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیں۔ بلاشبہ آپ راہ راست پر ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ہر امت کے واسطے ایک طریقہ ٹھہرا دیا ہے تو وہ اسی پر چلیں گے۔ تو وہ اس معاملے میں تم سے نزاع کی راہ نہ پائیں اور اپنے رب کی طرف بلاتے رہو۔ بیشک تم ہی سیدھی راہ پر ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہر امت کے لئے ہم نے عبادت کا اک طریقہ مقرر کیا ہے جس پر ان کو چلنا ہوتا ہے پس ان لوگوں کو آپ کے ساتھ اس معاملے میں کسی بھی طرح جھگڑے کا حق نہیں اور آپ بلاتے رہیں اپنے رب کی عبادت و بندگی کی طرف بلاشبہ آپ قطعی طور پر سیدھے راستے پر ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے ہر امت کے واسطے ایک طریقہ (ذبح و عبادت کا) مقرر کر رکھا ہے کہ وہ اس پر چلنے والے ہیں سو انہیں نہ چاہیے کہ آپ سے جھگڑا کریں (اس) امر میں۔ اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہیے بیشک آپ ہی سیدھے راستے پر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے ہر امتّ کے لیے قربانی (اور عبادت) کے طریقے مقرر کردیے ہیں جن کی وہ پیروی کرتے ہیں تو انہیں آپ ﷺ سے اس معاملے میں جھگڑنا نہیں چاہیے اور آپ ﷺ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیے۔ یقیناً آپ ﷺ ہدایت کے سیدھے راستے پر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے ہر ایک امت کے لیے ایک شریعت مقرر کردی ہے جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ آپ سے اس بات میں جھگڑا نہ کریں اور آپ لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں ‘ بیشک آپ سیدھے رستے پر ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

For every people We have prescribed a way of worship which they follow. So, (O Muhammad), let them not dispute with you concerning this, and call them to Your Lord. You are certainly on the Straight Way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For every Ummah (religious community) We have appointed a way of worship they are to observe. Therefore, they should never quarrel with you in the matter. And do call (them) to your Lord. Surely, you are on straight Guidance.

— Muhammad Taqi Usmani

For every Ummah (religious community) We have appointed a way of worship they are to observe. Therefore, they should never quarrel with you in the matter. And do call (them) to your Lord. Surely, you are on straight Guidance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For every nation We have made Mansak which they must follow; so let them not dispute with you on the matter, but invite them to your Lord. Verily, you indeed are on the straight guidance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto each nation have We given sacred rites which they are to perform; so let them not dispute with thee of the matter, but summon thou unto thy Lord. Lo! thou indeed followest right guidance.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For every religion We have appointed rites which they perform. So, [O Muhammad], let the disbelievers not contend with you over the matter but invite them to your Lord. Indeed, you are upon straight guidance.

— Saheeh International

We enjoined every nation with certain worship acts which they perform. The unbelievers must not dispute with you about the manner of your worship. Invite them to follow the right path of the Lord.

— Muhammad Sarwar

To every nation We appointed acts of devotion which they observe, therefore they should not dispute with you about the matter and call to your Lord; most surely you are on a right way.

— Muhammad Habib Shakir

Unto every community We have appointed a rite which they perform. Let them not therefore contend with thee in the affair; and call them thou unto thy Lord, verily thou art on true guidance.

— Abdul Majid Daryabadi

To every People have We appointed rites and ceremonies which they must follow: let them not then dispute with thee on the matter, but do thou invite (them) to thy Lord: for thou art assuredly on the Right Way.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–69

مناسک کے معنی اصل میں عربی زبان میں منسک کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجاآوری کو اس لئے مناسک کہا جاتا ہے کہ لوگ بار بار وہاں جاتے ہیں اور ٹھیرتے ہیں۔ منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لئے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمان ہے کہ ہر ایک لئے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے یہاں بھی ہے کہ وہ اس کے بجالانے والے ہیں تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ اللہ کی قدرت اور ارادے سے کررہے ہیں ان کے جھگڑنے سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 67–69

سورة الْحَجّ 115 یعنی ہر نبی کی امت۔ سورة الْحَجّ 116 یہاں مَنْسَک کا لفظ قربانی کے معنی میں نہیں بلکہ پورے نظام عبادت کے معنی میں ہے۔ اس سے پہلے اسی لفظ کا ترجمہ " قربانی کا قاعدہ " کیا گیا تھا، کیونکہ وہاں بعد کا فقرہ " تاکہ لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں " اس کے وسیع معنی میں سے صرف قربانی مراد ہونے کے تصریح کر رہا تھا۔ لیکن یہاں اسے محض " قربانی " کے معنی میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ عبادت کو بھی اگر " پرستش " کے بجائے " بندگی " کے وسیع تر مفہوم میں لیا جائے تو مدعا سے قریب تر ہوگا۔ اس طرح منسک (طریق بندگی) کے وہی معنی ہوجائیں گے جو شریعت اور منہاج کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–70

خلاصہ تفسیر (جتنی امتیں اہل شرائع گزری ہیں ان میں) ہم نے ہر امت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے کہ وہ اسی طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے تو (اعتراض کرنے والے) لوگوں کو چاہئے کہ اس امر (ذبح) میں آپ سے جھگڑا نہ کریں (ان کو تو آپ سے بحث اور جھگڑا کرنے کا حق نہیں مگر آپ کو حق ہے اس لئے) آپ (ان کو) اپنے رب (یعنی اس کے دین) کی طرف بلاتے رہے آپ یقینا صحیح راستہ پر ہیں۔ (صحیح راستہ پر چلنے والے کو حق ہوتا ہے کہ غلط راستے پر چلنے والے کو اپنی طرف بلائے غلط راستہ والے کو یہ حق نہیں ہوتا) اور اگر (اس پر بھی) یہ لوگ آپ سے جھگڑا کرتے رہیں تو آپ یہ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ منک پر آیت 34 میں بحث گزر چکی ہے۔ یہاں یہ لفظ طریقہ عبادت، شریعت کے ظاہری ڈھانچہ اور اس کے قواعد و ضوابط کے لئے آیا ہے۔ مناظرہ بازوں سے گریز کرنے کی ہدایت پچیھے اسی سورة میں یہ تفصیل بھی گزر چکی ہے کہ اس دور میں یہو داور نصاریٰ بھی کھلم کھلا قریش کا ساتھ دے رہے تھے بلکہ اس مناظرہ بازی کو سب سے زیادہ غذا دہی بہم پہنچا رہے تھے۔ اس وجہ سے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے ایک ضابطہ ٹھہرایا تھا اور مقصود اس سے یہ تھا کہ یہ اس ضابطہ کے مطباق خدا کی عبادت کریں اور جب خدا اس میں کوئی تبدیلی کر دے تو اس کو بھی دل و جان سے قبول کرلیں تاکہ یہ ان کے مخالصین و جامدین میں امتیاز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67۔ 1 یعنی ہر زمانے میں ہم نے لوگوں کے لئے ایک شریعت مقرر کی، جو بعض چیزوں میں سے ایک دوسرے سے مختلف بھی ہوتی، جس طرح تورات، امت موسیٰ ؑ کے لئے، انجیل امت عیسیٰ ؑ کے لئے شریعت تھی اور اب قرآن امت محمدیہ کے لئے شریعت اور ضابطہ حیات ہے۔ 67۔ 2 یعنی اللہ نے آپ کو جو دین اور شریعت عطا کی ہے، یہ بھی مذکورہ اصول کے مطابق ہی ہے، ان سابقہ شریعت والوں کو چاہیے کہ اب آپ ﷺ کی شریعت پر ایمان لے آئیں، نہ کہ اس معاملے میں آپ ﷺ سے جھگڑیں۔ 67۔ 3 یعنی آپ ﷺ ان کے جھگڑے کی پرواہ نہ کریں، بلکہ ان کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیں، کیونکہ اب صراط مستقیم پر صرف آپ ہی گامزن ہیں، یعنی پچھلی شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

30: بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے جو احکام دئیے ہیں، ان میں سے کچھ ان احکام سے مختلف ہیں جو پچھلے انبیائے کرام کی امتوں کو دئیے گئے تھے اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے یعنی مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں اللہ نے عبادت کے مختلف طریقے مقرر فرمائے تھے اور ہر دور کے مناسب شریعت کے مختلف احکام دئیے تھے۔ لہذا اگر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے کچھ احکام پچھلی شریعتوں سے الگ ہیں تو اس میں نہ کوئی اعتراض کی بات ہے، اور نہ بحث مباحثے کا کوئی موقع۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 67–69

لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96) ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 67–69

1 تمام انبیاء اصول دین میں متفق رہے ہیں۔ البتہ ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بندگی کی صورتیں مختلف زمانوں میں مختلف مقرر کی ہیں۔ جن کے موافق وہ امتیں خدا کی عبادت بجا لاتی رہیں۔ اس امت محمدی کے لیے بھی ایک خاص شریعت بھیجی گئی لیکن اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا۔ بجز اللہ کے کبھی کسی دوسری چیز کی عبادت مقرر نہیں کی گئی۔ اس سے توحید وغیرہ کے ان متفق علیہ کاموں میں جھگڑا کرنا کسی کو کسی حال زیبا نہیں۔ جب ایسی کھلی ہوئی چیز میں بھی حجتیں نکالی جائیں تو آپ کچھ پروا نہ کریں۔ آپ جس سیدھی راہ پر قائم ہیں لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیے۔ اور خواہ مخواہ کے جھگڑے نکالنے والوں کا معاملہ خدائے واحد کے سپرد کیجئے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67 لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ہُمْ نَاسِکُوْہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ ” یعنی بنی اسرائیل کے لیے قربانی کا طریقہ اور تھا ‘ بنی اسماعیل کسی اور طریقے سے قربانی کرتے تھے ‘ جبکہ مسلمانوں کو ان دونوں سے مختلف طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہ ہر امت کی اپنی اپنی شریعت کا معاملہ ہے ‘ اس میں جھگڑنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ مضمون اس سے پہلے آیت 34 میں اس طرح آچکا ہے : وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّنْم بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِط فَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْاط وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ”اور ہر امت کے لیے ہم نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

96 منسک کا لفظ اگرچہ حج کے شعائر و احکام اور ادائیگی سے مختص ہوگیا ہے اور مناسک حج سے مراد اعمال اور ارکان حج ادا کرنے کے مقامات، قاعدے اور طریقے ہے اور نسک اس قربانی کو کہتے ہیں جو حج کے دوران کی جاتی ہے۔ تاہم اس لفظ کے معانی میں یہ وسعت ہے کہ اس کا اطلاق تمام عبادات کے طریق کار پر ہوتا ہے اور یہ لفظ منہاج سے اخص ہے۔ منہاج کے معنی میں تمام شرعی احکام کی ادائیگی کا طریق کار شامل ہے اور یہ طریق کار بھی اللہ ہی کی طرف سے بتلایا جاتا ہے اور منسک کا اطلاق صرف عبادات کے طریقے کار پر ہوتا ہے۔ 97 عبادات کا طریق کار ہر نبی اور اس کی امت کے لئے مختلف رہا ہے اور اس میں وقت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

115۔ یعنی یہ منکرین تو تقلید محض کے پجاری ہیں، انہیں اصلا کیا حق آپ پر اعتراض و گرفت کا ہے۔ (آیت) ” منسکا ھم ناسکوہ “۔ منسک سے مراد خصوصی اگرچہ موضع ذبح ہے لیکن لفظ جملہ عبادات کے لیے عام ہے۔ قال عکرمۃ ذبائح ھم ذابحوہ (جصاص) ولیس یمنع ان یکون المراد جمیع العبادات ویکون الذبح احد ماارید بالایۃ (جصاص) محققین نے کہا ہے کہ منسک یہاں شریعت کے مرادف ہے۔ قال ابن عباس یعنی شریعۃ ھم عاملون بھا (معالم) (آیت) ” فی الامر “۔ یعنی مسئلہ جو از ذبیحہ میں۔ یعنی فی امر الذبائح (معالم) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ بعض مشرکوں نے مسلمانوں سے یہ عجیب کٹھ حجتی شروع کی تھی کہ تم لوگ اپنے مارے ہوئے (ذبح کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لکل امۃ جعلنا منسکاہم ناسکوہ فلا ینازعنک فی الامر (جتنی صاحب شریعت امتیں گزری ہیں ان میں سے) ہر امت کے لئے ذبح کا طریقہ مقرر کردیا تھا جس پر وہ ذبح کیا کرتے تھے سو ان لوگوں کو چاہئے کہ ذبح کے معاملے میں آپ سے (خواہ مخواہ کا) جھگڑا نہ کریں۔ اس جملہ کا گزشتہ سے پیوستہ جملوں سے معنوی بعد تھا اس لئے حرف عاطف ذکر نہیں کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر اس طرح فرمائی ‘ ہم نے ہر امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی تھی جس پر وہ چلتے تھے۔ بعض نے منسک کا ترجمہ تیوہار کیا ہے ‘ مجاہد اور قتادہ نے قربانی کا مقام ترجمہ کیا ہے جس میں وہ قربانی کرتے تھے۔ بعض کے نزدیک منسک سے مراد ہے عبادت گاہ۔ بعض نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(67) کیوں کہ ہم نے ہر ایک دین والے کے لیے ذبح اور یہ کہ عبادت کا طریقہ متعین کردیا ہے وہ اپنے دین کے طریقہ پر ذبح کیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ : ”مَنْسَكًا“ ”نَسَکَ یَنْسُکُ“ (ن، ک) سے مصدر میمی ہے، عبادت، قربانی، عبادت کا طریقہ یا قربانی کا طریقہ، یا یہ ظرف ہے، یعنی عبادت یا قربانی کی جگہ۔ ”نَسْکٌ“ اور ”نُسُکٌ“ عبادت، ذبیحہ۔ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں کی طرف رخ کرکے فرمایا : (إِنَّ أَوَّلَ نُسُکِنَا فِيْ یَوْمِنَا ھٰذَا أَنْ نَّبْدَأَ بالصَّلَاۃِ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ) [ بخاري، العیدین، باب استقبال الإمام الناس في خطبۃ العید : 976، عن البراء۔ ] ”ہمارے آج کے دن میں ہماری پہلی عبادت یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر واپس جائیں اور قربانی کریں۔“ یہاں نماز کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لکل امۃ جعلنا منسکاً یعنی ہم نے ہر امت کے لیے شریعت مقرر کی ہے ھم ناسکوہ وہ اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ فلا ینازعنک فی الامر تمہاری امت کے لیے جو شریعت ہے اس میں کوئی شخص آپ سے جھگڑا نہ کرے۔ ہر زمانہ کی اپنی شریعت تھی۔ ایک فرقہ نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کفار جو ذبائح کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے اس کے سبب نازل ہوئی اور جو وہ مومنین سے کہتے تھے : تم وہ کھاتے ہو جو تم خود ذبح کرتے ہو اور اسے نہیں کھاتے جس کو اللہ تعالیٰ مارتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ مارتا ہے وہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اسے کھائو بنسببت اس کے جس کو تم ہی چھریوں سے قتل کرتے ہو۔ تو اس جھگڑا کے سبب یہ آیت نازل ہوئی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–69

رسول اللہ ﷺ کا سیدھے راستہ پر ہونا یقینی ہے 1۔ ابن ابی حاتم نے ابو الملیح (رح) سے روایت کیا کہ چالیس سے سو تک اور اس سے زائد افراد کو امت کہتے ہیں۔ 2۔ احمد والحاکم وصححہ والبیہقی نے شعب الایمان نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ آیت لکل امۃ جعلنا منسکاہم ناسکوہ سے مراد ہے کہ ہر امت کے لیے ایک خاص جانور تھا قربانی کے لیے جس کو وہ ذبح کرتے تھے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابو رافع ؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب قربانی کرتی ہوتی تو آپ دو مینڈھے موٹے چتکبرے سینگوں والے خریدتے جب آپ خطبہ اور عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو ان میں سے ایک کو ذبح فرماتے اور یہ فرماتے کہ اے اللہ یہ میری ساری امت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِكُلِّ اُمَّةٍ [ ہر ایک امت کے لئے ] جَعَلْنَا [ ہم نے مقرر کیا ] مَنْسَكًا [ بندگی کا ایک طریقہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] نَاسِكُوْهُ [ بندگی کرنے والے ہیں اس (طریقے ) سے ] فَلَا يُنَازِعُنَّكَ [ پس وہ لوگ ہرگز جھگڑا نہ کریں آپ سے ] فِي الْاَمْرِ [ اس معاملہ میں ] وَادْعُ [ اور آپ دعوت دیں ] اِلٰى رَبِّكَ ۭ [ اپنے رب کی طرف ] اِنَّكَ [ بیشک آپ ] لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِيْمٍ [ یقینا سیدھی رہنمائی پر ہیں ] نوٹ ۔ 1 ۔ آیت ۔ 67 ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ مخالفین اسلام جو شریعت محمدیہ کے احکام میں بحث کرتے ہیں اور بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ان کے مذہب میں وہ احکام نہ تھے تو وہ سن لیں کہ پچھلی کسی شریعت وکتاب سے نئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے ہیں مشرکین اور دیگر کافرین جو رسول اللہ ﷺ کا اور آپ کے بیان فرمودہ اعتقادات اور احکام شرعیہ پر اعتراض کرتے تھے ان میں یہود و نصاری بھی تھے یہ لوگ یوں کہتے کہ یہ احکام اور اعمال ہم نے پہلے کسی سے نہیں سنے۔ آپ کی بتائی ہوئی ایسی چیزیں بھی ہیں جن کا پرانی امتوں کے اعمال و احکام میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا، مقصد یہ تھا کہ جھگڑے کرتے رہیں اور انکار پر تلے رہے، اللہ جل شانہٗ نے ان لوگوں کو جواب دے دیا (لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ ) (ہم نے ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کردیئے جن کے مطابق وہ عمل کرتے تھے) اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–72

تہدید مجادلین دربار احکام شریعت قال اللہ تعالیٰ لکل امۃ جعلنا منسکا .... الیٰ .... وبئس المصیر۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل الوہیت کو بیان کیا، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ قرون ماضیہ میں ہر امت کو ایک خاص شریعت عطاء کی گئی جو اس زمانے کے مناسب تھی اور اب اخیر میں آپ کو یہ شریعت عطاء کی گئی تمام شریعتیں اپنے اپنے وقت میں حق تھیں اور واجب الاتباع تھیں اب اخیر زمانہ میں یہ شریعت کاملہ ہے جو آخری شریعت ہے سب پر اس کا اتباع واجب ہے کسی کو اس میں مجادلہ اور منازعت کا حق نہیں چناچہ فرماتے ہیں، ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور بندگی کی ایک راہ مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں اسی طرح ہم نے آپ کو ایک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

81:۔ ” لِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا الخ “ یہ سورت کے مضمون ثانی یعنی نفی شرک فعلی کا اعادہ ہے۔ ” مَنْسَکًا “ قربانی کی جگہ۔ قال قتادۃ و مجاھد موضع قربانی یذبحون فیہ (خازن و معالم ج 5 ص 26) ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان سابقہ سے دلیل نقلی پیش فرمائی کہ محض اللہ کی رضا کے لیے ہم نے ہر شریعت میں قربانی دینے کا دستور مقرر کیا تھا اور یہ شرک فعلی جس کا مشرکین ارتکاب کرتے ہیں کسی دین میں ہم نے جائز نہیں کیا اس لیے اس معاملہ میں آپ ان کے جھگڑے کی پروا نہ کریں اور نرمی اور احسن طریق سے توحید کی دعوت دیتے رہیں کیونکہ آپ سیدھی راہ پر ہیں اور یہ مسئلہ توحید ہر پیغمبر نے اپنی امت کو واضح کر کے بتایا۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–69

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ کی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف رغبت دلائی گئی تھی۔ اللہ کے سوا کسی دوسری ذات کی عبادت کو باطل قرار دے کر اس سے منع کیا گیا تھا ، پھر رات اور دن کے اختلاف ، آسمان کی طرف سے پانی کے نزول اور زمین کے سرسبز و شاداب ہونے کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ نشانات قدرت اس لئے بیان فرمائے ہیں تاکہ انسان ان میں غوروفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکیں اور اس پر ایمان لے آئیں۔ تسخیر اشیائے ارضی : اسی ضمن میں اللہ نے اپنی قدرت کی کچھ مزید نشانیوں کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ الم ترا اے مخاطب ! کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا۔ اس مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِكُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا ہُمْ نَاسِكُوْہُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ۝ 0ۭ اِنَّكَ لَعَلٰى ہُدًى مُّسْتَقِيْمٍ۝ 67 الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–70

پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَامَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ ط اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الحج : 67) (ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریق عبادت مقرر کردیاجس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ تو اس معاملے میں وہ آپ سے جھگڑا نہ کریں۔ آپ انھیں اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں بیشک آپ اپنے رب کی طرف سے سیدھے راستے پر ہیں۔ ) قریش اور یہود کے اعتراضات اس آیت کریمہ میں ہر امت کے لیے ایک منسک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور یہی مضمون انھیں الفاظ کے ساتھ اسی سورة کی آیت نمبر 24 میں گزر چکا ہے۔ لیکن دونوں منسک کے معنی میں اختلاف ہے۔ آیت نمبر 24 میں منسک کا معنی قربانی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–69

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے دلائل دے کر اپنی توحید سمجھا دی ہے۔ اس کے باوجود کوئی شخص توحید کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو اس کی مرضی کیونکہ ہر کسی کے لیے گمراہی اور ہدایت کا راستہ متعین ہوچکا ہے۔ یہود و نصاریٰ ہر اس بات پر اعتراض اور تنقید کرتے ہیں جو ان کی شریعت کے خلاف ہے۔ اس پر انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ جہاں تک دین کے بنیادی اصولوں کا معاملہ ہے وہ تو ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ لیکن ہر دور کے حالات کے مطابق شریعت یعنی دین کے کچھ اصولوں کی تشریح میں فرق رہا ہے۔ جس کی حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو دین پر عمل کرنا آسان رہے۔ اسی وجہ سے پہلی شریعتوں کے ساتھ شریعت محمدیہ کا بعض…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہر امت کی ایک شریعت : 67: لِکُلِّ اُمَّۃٍ (اور ہر امت کیلئے) اہل دین کیلئے جَعَلْنَا مَنْسَکًا (ہم نے عبادت کا ایک طریق مقرر فرمایا) اس کی وضاحت اسی سورت میں گزری ہے یہاں دوبارہ اس کو ان لوگوں کی تردید کرنے کیلئے لایا گیا ہے جو کہتے ہیں کہ ذبح کرنا اللہ تعالیٰ نے شروع نہیں فرمایا حالانکہ یہ تو ہر امت کی شریعت میں ہے۔ ھُمْ نَاسِکُوْہُ (جس کو وہ اختیار کرنے والے تھے) عمل کرنے والے تھے۔ فَلاَ یُنَازِعُنَّکَ (پس ہرگز وہ تم سے مجاد لہ نہ کریں) مطلب یہ ہے۔ ان کی بات کی طرف مت دھیان دیں اور نہ ان کو موقعہ دیں کہ آپ سے مجادلہ کریں۔ فِی الْاَمْرِ (اس معاملے میں) ذبائح کا معاملہ مراد ہے یا دین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 67–68

67۔ لکل امۃ جعلنامنسکا ھم ناسکوہ، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر امت کے لیے ایک شریعت مقرر کردی تھی جس پر وہ چلتے تھے۔ بعض نے منسک کا ترجمہ تہوار کے ساتھ کیا ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قربان گاہ ہے جس میں وہ جانوروں کو ذبح کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ منسک سے مراد عبادت کی جگہ ہے اور بعض نے کہا مراکز انس جس سے وہ مانوس تھے۔ عربی میں منسک اس مقام کو کہتے ہیں جہاں کسی اچھے یابرے کام کے لیے لوگ جمع ہونے کے عادی ہوں۔ مناسک حج کو مناسک اس وجہ سے کہاجاتا ہے لوگ حج کے مقامات پر ہر سال آتے اور جمع ہوتے ہیں۔ ” فلاینازعنک فی الامر، ، ذبح کرنے کے معاملے میں۔ اس آیت کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 67–70

67۔ 70:۔ چند مشرکوں نے صحابہ ؓ سے جھگڑا کیا تھا کہ تم اپنے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھاتے ہو اور اللہ کا مارا ہوا جانور نہیں کھاتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مفسروں نے ان آیتوں کے معنی دو طرح بیان کئے ہیں ‘ ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہر زمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک شریعت قائم کی ہے ‘ کبھی شریعت موسوی ہے اور کبھی عیسوی اور کبھی محمدی ‘ اپنے اپنے زمانے میں ہر شریعت حق اور اللہ کی بھیجی ہوئی ایک شریعت ہے ‘ ایک شریعت کا حکم پکڑ کر دوسری شریعت کے حکم میں حجت کرنا ٹھیک نہیں ہے دوسرے معنی یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کے علم میں نیک وبد چھٹ چکے ہیں اس لیے ہر ایک گروہ اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 67–70

آیت 67 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لئے (منسکا) ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لکل جعلنا منکم شرآ و منھا جاو لو شاء اللہ لجعلکم آپ واحآ و لکن لیبلوکم فی ما اٰتکم) (الماء آ : 5 /84) ” ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لئے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمہیں دیئے ہیں وہ ان میں تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ “ (ھم ناسکوہ) یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں، اس لئے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 53–67

منسک کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 67–69

129 بیشک آپ قطعی طور پر سیدھی راہ پر ہیں : سو کوئی مانے یا نہ مانے ‘ تسلیم کرے یا نہ کرے ‘ راہ حق و صواب بہرحال وہی اور صرف وہی ہے ‘ جس پر آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے گامزن ہیں ‘ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والی راہ ہے ‘ اب جو کوئی صدق دل سے اس راہ کو اپنائے گا وہ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریگا، اور اس کے برعکس جو کوئی اس سے اعراض کریگا اور منہ موڑے گا والعیاذ باللہ وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا، والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس آپ راہ حق پر گامزن رہو اور اسی کی دعوت دنیا کو دیتے رہو جو حق اور حقیقت کے طالب ہوں گے وہ اس دعوت کو قبول کریں گے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف (جدید تکنیک کا علم ضروری ہے) انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

13 ۔ چناچہ توراۃ کی شریعت اس زمانہ والوں کے لئے مقرر کی۔ پھر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بعثت آنحضرت ﷺ کی بعثت کے لوگوں کیلئے انجیل شریعت چلتی رہی اب آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لئے قرآن و سنت کی شریعت مقرر رہے گی۔ (شوکانی) 14 ۔ کیونکہ یہ آپ ﷺ کی شریعت کا زمانہ ہے انہیں آپ ﷺ سے جھگڑا کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتایا آپ ﷺ ان کے جھگڑنے کی پروا نہ کریں (شوکانی) 15 ۔ اب سیدھا راستہ صرف آپ ﷺ کا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : لو نزل موسیٰ فاتعتموہ و ترکتمو فیلضللتم۔ اگر موسیٰ ( علیہ السلام) بھی نازل ہوجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگو تو گمراہ ہوجائو۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:67) منسکا۔ شریعت۔ طریق عبادت ۔ قربانی کرنا۔ (یا قربانی کرنے کا طریقہ) (نیز ملاحظہ ہو 22:34) ناسکوہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ناسکو اصل میں ناسکون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون گرادیا گیا۔ نسک ینسک (باب نصر) سے اسم فاعل جمع مذکر۔ عبادت یا شریعت کے طریقہ پر چلنے والے۔ خدا کے لئے قربانی کرنے والے۔ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع منسکا ہے۔ ہم ناسکوہ جس پر وہ چلنے والے ہیں۔ فلا ینازعنک۔ فعل نہی جمع مذکر غائب بانون ثقیلہ۔ منازعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تجھ سے جھگڑا نہ کریں۔ سوا نہیں نہ چاہیے کہ تجھ سے جھگڑا کریں۔ فی الامر۔ ای فی امر الدین۔ دین کے بارہ میں ۔ دین کے معاملہ میں۔ یا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–72

لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 72 : امۃ (امت۔ جماعت) ‘ منسکا (طریقہ عبادت و بندگی) ‘ ناسکون (وہ اس (طریقہ) پر عبادت کرتے ہیں۔ عبادت کرنے والے) ‘ ینازعن (وہ جھگڑا کرتے ہیں) ‘ ادع (بلائیے۔ دعوت دی جئے) ھدی (ہدایت) ‘ جادلو (وہ جھگڑنے والے ہیں) ‘ یسیر (آسان) ‘(لم ینزل ( نہیں اتارا) ‘ سلطان (سند۔ دلیل) ‘ المنکر (ناگوار) ‘ یکادون (وہ قریب ہوتے ہیں) ‘ یسطون (وہ حملہ کرتے ہیں) ‘ انبئی (میں بتاتا ہوں) ۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 72 : اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے رسول بھیجے انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنی امتوں کو طریق عبادت سکھایا۔ خاتم الانبیا حضرت مصطفیٰ ﷺ کو بھی اللہ نے عبادت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–70

ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ (ف 2) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ بدیل بن ورقاء اور بشیر بن سفیان اور یزید بن خنیس نے اصحاب رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ کیا سبب ہے کہ جس جانور کو تم ذبح کرتے ہو اسے تو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی حجتیں پیش کرنے کا سبب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ پایاجاتا ہے اور اس واسطے اے رسول کے تم ان لوگوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دو کیونکہ جس طریقہ پر تم ہو اللہ کا بتایا ہوا سیدھاراستہ ہے اور جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[47] اس آیت میں اس اصل عظیم کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دین ہمیشہ سے ایک رہا ہے۔ البتہ '' مناسک '' یعنی عبادت کے طور طریقے میں اختلاف ہوا کیونکہ ہر عہد میں اور ہر قوم کی حالت یکساں نہ تھی۔ جس کی جو حالت تھی اس کے مطابق ایک طور طریقہ اسے دے دیا۔ پس طالب حق کو چاہئے کہ سب سے پہلے اصل کو دیکھے نہ کہ فرع کے پیچھے پڑجائے۔ لہذا اس بارے میں لوگوں کو تم سے نزاع کرنے کا حق نہیں۔ جس بات پر انھیں غور کرنا چاہئے وہ تو یہ ہے کہ اصل دعوت کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 67–68

(ف 2) پھر اصل موضوع کی جانب توجہ فرمائی ہے یعنی سورة الحج کا مقصد عبادات اور مناسک کی تشریح کرنا ہے اور اس ضمن میں جس قدر شبہات پیدا ہو سکتے ہیں ان کو دور کرنا ہے ، ارشاد ہے کہ تم اسلامی طریق عبادت اور قربانی پر کیوں معترض ہو ، ہر قوم اور گروہ میں کسی نہ کسی طریق سے ان مذہبی رسوم کو ادا کیا جاتا رہا ہے ، طریقہ کے مختلف ہونے سے اصل غرض مفقود نہیں ہو سکتی ۔ ، بہرحال مختلف شرائع کے طریقے بمقتضاء وقت ہم نے ہی مقرر کئے ہیں اس لئے مسلمانوں سے دوسرے لوگوں کو جھگڑنا نہ چاہئے ۔ حل لغات : کفور : ناشکر گزار اس کی نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھانے والا ۔ منسکا : فسک سے ہے جس کے معنے قربانی اور عبادت دونوں کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(67) ہم نے سب سابقہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے ایک طریقہ عبدت اور بندگی کی راہ مقرر کی ہے کہ وہ اس طریقہ پر عبادت کرتے ہیں لہٰذا ان کو چاہئے کہ وہ آپ سے اس کام میں جھگڑا نہ کریں اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے اور دعوت دیتے رہئے آپ یقیناً سیدھی راہ پر ہیں۔ سب انبیاء سابقین اصول میں متفق رہے ہیں البتہ فروع اور احکامِ شرعیہ میں ضرورت زمانہ کے اعتبار سے کچھ فرق ہوتا رہا ہے ورنہ توحید باری، قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ان سب باتوں میں تمام پیغمبروں کی ایک سی تعلیم رہی ہے۔ اسی طرح آپ کی نبوت کے زمانے میں آپ کو بھی عبادت کے کچھ طریقے تعلیم کئے گئے ہیں اس پر جھگڑا کرنے کی کیا بات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–69

ف 2۔ صحیح رستہ والے کو حق ہوتا ہے غلط رستہ والے کو اپنی طرف بلانے کا، اور غلط رستہ والے کو یہ حق نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر امت کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر ہے آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیتے جائیں : 67۔ (منسک) کے متعلق سورة ہذا کی آیت 34 میں ذکر گزر چکا ہے اور سورة البقرہ کی آیت 200 سے 256 تک مناسک حج کا ذکر کیا جا چکا ہے وہاں پوری تفصیل کردی گئی ہے اس جگہ پر لفظ شریعت اسلامی کے قواعد و ضوابط کے لئے بیان کیا گیا ہے اور یہ بات گویا تمام امتوں اور جماعتوں کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے جو قرآن کریم کے نزول کے وقت مذہب کے نام سے معرض وجود میں آچکی تھی اور خصوصا یہود ونصاری جو بزعم خویش اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہونے کے دعویدار تھے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی مخالفت کے باعث قریش مکہ کے کان بھرتے رہتے تھے اور مناظرہ کے لئے ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–72

Commentary لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا (For every ummah (religious community) We have appointed a way of worship - 22:67). This sentence has come earlier in almost identical words in verse number 34 of this Surah, but the word مَنسَكً (mansak) conveys a different meaning in each verse. In the earlier verse the words مَنسَكً and نسَكً have been used in the context of the rites of Hajj and mean sacrifice of animals, while in the present verse the word مَنسَكً has been used in the sense of the rules of slaughter or general rules of worship. That is why, unlike the verse 34, the present…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–69

115. That is, the community of every Prophet. 116. Here the Arabic word mansak has been used in its most comprehensive sense which also includes sacrifice (verse 34). It means service, worship, in short, the entire way of life. The same theme has been expressed in (Surah Al-Maidah, Ayat 48): We prescribed a law and a way of life for each of you. 117. That is, now you have brought a way of life just as the former Prophets brought ways of life for their people. Therefore the people have no right to dispute with you concerning the law you have brought. 118. This confirms the explanation given…

Read the full tafseer →