Al-Hajj 22:65

Al-Hajj · from ayah 65

22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ ؕ— وَیُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۟اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَـكُمۡ مَّا فِى الۡاَرۡضِ وَالۡـفُلۡكَ تَجۡرِىۡ فِى الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ ؕ وَيُمۡسِكُ السَّمَآءَ اَنۡ تَقَعَ عَلَى الۡاَرۡضِ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیرفرمان کر رکھی ہیں اور کشتیاں (بھی) جو اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں۔ اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گڑ پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بےشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you not see that Allah has subjected to you whatever is on the earth and the ships which run through the sea by His command? And He restrains the sky from falling upon the earth, unless by His permission. Indeed Allah, to the people, is Kind and Merciful.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:65

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا؟ واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیرفرمان کر رکھی ہیں اور کشتیاں (بھی) جو اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں۔ اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گڑ پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بےشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کر دی ہیں اور اس کے فرمان سے پانی میں چلتی ہوئی کشتیاں بھی۔ وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر نہ گر پڑے، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر شفقت ونرمی کرنے واﻻ اور مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین کی ساری چیزیں تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، اور وہ کشتیاں بھی جو اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہیں ؟ اور اس نے آسمان کو اس طرح تھام رکھا ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہیں گر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے جو کچھ زمین میں ہے تمہارے لئے مسخر فرما دیا ہے اور کشتیوں کو (بھی) جو اس کے اَمر (یعنی قانون) سے سمندر (و دریا) میں چلتی ہیں، اور آسمان (یعنی خلائی و فضائی کرّوں) کو زمین پر گرنے سے (ایک آفاقی نظام کے ذریعہ) تھامے ہوئے ہے مگر اسی کے حکم سے (جب وہ چاہے گا آپس میں ٹکرا جائیں گے)۔ بیشک اﷲ تمام انسانوں کے ساتھ نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے تمہاری خاطر مسخر کردیا ہے جو کچھ زمین میں ہے اور ان کشتیوں کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رکھتا ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔ بیشک اللہ یقینا لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ زمین میں ہے وہ اللہ نے تمہارے تابع فرمان بنادیا ہے اور کشتی کو بھی جو اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے۔ اور وہ اسمان کو یوں تھامے ہوئے ہے کہ وہ اس کے اذن کے بغیر زمین پر گر نہیں سکتا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ترس کھانے والا اور نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو اور کشتی کو بھی، وہ چلتی ہے سمندر میں اس کے حکم سے اور وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ زمین پر گر پڑے، مگر یہ کہ اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ بڑا ہی مہربان اور بڑا ہی رحیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر کیا تم نے کبھی اپنے گردو پیش پھیلی ہوئی اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس قدر حکمتوں بھرے نظام کے تحت تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان سب چیزوں کو جو کہ زمین میں ہیں اور ان دیو ہیکل جہازوں اور طرح طرح کی کشتیوں کو بھی جو کہ رواں دواں ہیں سمندر میں اس کے حکم سے اور اسی نے روک رکھا ہے آسمان کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس سے کہ وہ گرپڑے زمین پر مگر اسی کے اذن سے بلاشبہ اللہ پاک لوگوں پر بڑا ہی مہربان نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے تمہارے واسطے کام میں لگارکھا ہے اس کو بھی جو کچھ زمین پر ہے اور کشتی کو بھی کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور وہی آسمان کو اس سے روکے ہوئے ہے کہ وہ زمین پر گرپڑے مگر ہاں کہ اسی کا حکم (ہوجائے)۔ بیشک اللہ انسانوں پر بڑا شفقت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے زمین کی سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخرّ کردیا ہے اور کشتی کو جو چلتی ہے سمندر میں اس کے حکم سے اور وہ تھامے ہوئے ہے آسمان کو کہ وہ گر نہ جائے زمین پر مگر اس کے حکم سے یقیناً اللہ انسانوں کے ساتھ بہت ہی شفیق ہے بہت مہربان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ نے تمہارے لیے مسخر کردی ہیں اور کشتیاں بھی جو اس کے حکم سے چلتی ہیں دریا میں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے۔ کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے بیشک اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you not seen how Allah has subjected to you all that is in the earth, and the vessels that sail in the sea by His command, and it is He Who holds back the sky that it may not fall on earth except by His leave? Surely Allah is Most Gentle, Ever Compassionate to people.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did you not see that Allah has subjugated to you everything on the earth, and the ships that sail at sea with His command? And He holds the sky so as it cannot fall on the earth except with His permission. Surely Allah is Very-Kind to the people, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Did you not see that Allah has subjugated to you everything on the earth, and the ships that sail at sea with His command? And He holds the sky so as it cannot fall on the earth except with His permission. Surely Allah is Very-Kind to the people, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See you not that Allah has subjected to you all that is on the earth, and the ships that sail through the sea by His command He withholds the heaven from falling on the earth except by His leave. Verily, Allah is for mankind, full of kindness, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen how Allah hath made all that is in the earth subservient unto you? And the ship runneth upon the sea by His command, and He holdeth back the heaven from falling on the earth unless by His leave. Lo! Allah is, for mankind, Full of Pity, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you not see that Allah has subjected to you whatever is on the earth and the ships which run through the sea by His command? And He restrains the sky from falling upon the earth, unless by His permission. Indeed Allah, to the people, is Kind and Merciful.

— Saheeh International

Have you not seen that God, through His command, has made all that is in the earth and the ships that sail on the sea subservient to you? He prevents the sky from falling on the earth unless He decides otherwise. God is Compassionate and Merciful to mankind.

— Muhammad Sarwar

Do you not see that Allah has made subservient to you whatsoever is in the earth and the ships running in the sea by His command? And He withholds the heaven from falling on the earth except with His permission; most surely Allah is Compassionate, Merciful to men.

— Muhammad Habib Shakir

Beholdest thou not that Allah hath subjected to Himself for you whatsoever is on the earth and the ships running in the sea by His command? And He with holdeth the heaven that it fall not on the earth save by His leave. Verily Allah is, unto mankind, Clement, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Seest thou not that Allah has made subject to you (men) all that is on the earth, and the ships that sail through the sea by His Command? He withholds the sky (rain) from failing on the earth except by His leave: for Allah is Most Kind and Most Merciful to man.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–66

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ سو کھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے۔ یہاں پر "" تعقیب کے لئے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی "" آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہوجاتی ہیں فاللہ اعلم۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 113 آسمان سے مراد یہاں پورا عالم بالا ہے جس کی ہر چیز اپنی اپنی جگہ تھمی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

معارف و مسائل سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ ، یعنی زمین کی سب چیزوں کو انسان کا مسخر بنادیا۔ مسخر بنانے کے ظاہری اور عام معنے یہ سمجھے جاتے ہیں کہ وہ اس کے حکم کے تابع چلے۔ اس معنے کے لحاظ سے یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ زمین کے پہاڑ اور دریا اور درندے پرندے اور ہزاروں چیزیں انسان کے حکم کے تابع تو نہیں چلتے مگر کسی چیز کو کسی شخص کی خدمت میں لگا دینا جو ہر وقت یہ خدمت انجام دیتی رہے یہ بھی درحقیقت اس کے لئے تسخیر ہی ہے اگرچہ وہ اس کے حکم سے نہیں بلکہ مالک حقیقی کے حکم سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے۔ اسی لئے یہاں ترجمہ تسخیر کا کام میں لگا دینے سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

متمر دین کے لئے دھمکی یعنی اس دنیا میں انسان کو جو مہلت ملی ہوئی ہے یہ خدا کے فضل و کرم اور اس کی عنایت و مہربانی سے ملی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین کی ہر چیز جو انسان کی خدمت گزاری میں لگی ہوئی ہے اور جس کے بغیر اس دنیا میں انسان کا بقاء ایک لمحہ کے لئے بھی ممکن نہیں ہے، یہ خدا ہی کے حکم سے لگی ہوئی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہو تو اس کائنات کی ہر چیز انسان کی باغی اور اس کی دشمن بن جائے۔ کشتی ہی کو دیکھ لو یہ خدا ہی کا حکم اور اسی کے قانون کی تسخیر ہے کہ وہ تمہارے لئے سمندر کے سینہ کو چیرتی ہوئی چلتی ہے ورنہ چشم زدن میں سارا بیڑا غرق ہوجائے۔ یہ خدا ہی ہے جو آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

65۔ 1 مثلًا جانور، نہریں، درخت اور دیگر بیشمار چیزیں، جن کے منافع سے انسان بہرہ ور اور لذت یاب ہوتا ہے۔ 65۔ 2 یعنی اگر وہ چاہے تو آسمان زمین پر گرپڑے، جس سے زمین پر ہر چیز تباہ ہوجائے۔ ہاں قیامت والے دن اس کی مشیت سے آسمان بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ 65۔ 3 اس لئے اس نے مذکورہ چیزوں کو انسان کے تابع کردیا ہے اور آسمان کو بھی ان پر گرنے نہیں دیتا۔ تابع (مسخر) کرنے کا مطلب ہے کہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھانا اس کے لئے ممکن یا آسان کردیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

30: بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے جو احکام دئیے ہیں، ان میں سے کچھ ان احکام سے مختلف ہیں جو پچھلے انبیائے کرام کی امتوں کو دئیے گئے تھے اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے یعنی مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں اللہ نے عبادت کے مختلف طریقے مقرر فرمائے تھے اور ہر دور کے مناسب شریعت کے مختلف احکام دئیے تھے۔ لہذا اگر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے کچھ احکام پچھلی شریعتوں سے الگ ہیں تو اس میں نہ کوئی اعتراض کی بات ہے، اور نہ بحث مباحثے کا کوئی موقع۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم تر ……رحیم (56) اس زمین میں کس قدر قوت ہے ، کس قدر ثروت ہے ، اور ان قوتوں اور ذخا ئرکو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کردیا ہے لیکن انسان اللہ کے ان انعامات سے غافل ہے۔ یہ ان انعامات میں رات اور دن ڈوبا ہوا ہے ، لیکن غافل پڑا ہے۔ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے مفید بنایا ہے اور مسخر کردیا ہے۔ اس کائنات کے طبیعی قوانین کو انسانی فطرت کے مطابق اور موافق بنایا ہے۔ اگر اللہ نے اس زمین کے طبیعی حالات کو انسان کے طبیعی حالات کے خلاف بنایا ہوتا تو انسان کے لئے یہاں زندہ رہنا مشکل ہوتا چہ جائیکہ وہ یہاں اس کائنات کے ذخیرہ سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر انسان کی جسمانی تربیت اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اس کو تمہاری یا کسی کی کیا پروا تھی۔ محض شفقت و مہربانی دیکھو کہ کس طرح خشکی اور تری کی چیزوں کو تمہارے قابو میں کردیا۔ پھر اسی نے اپنے دست قدرت سے آسمان، چاند، سورج اور ستاروں کو اس فضائے ہوائی میں بدون کسی ظاہری کھمبے یا ستون کے تھام رکھا ہے جو اپنی جگہ سے نیچے نہیں سرکتے۔ ورنہ گر کر اور ٹکرا کر تمہاری زمین کو پاش پاش کردیتے۔ جب تک اس کا حکم نہ ہو یہ کر ات یوں ہی اپنی جگہ قائم رہیں گے مجال نہیں کہ ایک انچ سرک جائیں۔ " اِلَّابِاِذْنِہِ " کا استثناء محض اثبات قدرت کی تاکید کے لیے ہے۔ یا شاید قیامت کے واقعہ کی طرف اشارہ ہو۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 65 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ ” یعنی تمہاری خدمت گزاری اور تمہاری ضروریات کی بہم رسانی میں لگا دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

94 اس آیت اور اس سے پہلی آیات میں دراصل ایسی باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے بعیر انسان کا اس دنیا میں زندہ رہنا اور باقی رہنا مشکل تھا۔ اللہ کا سب سے پہلا احسان توبہ ہے کہ زمین سبزہ اگاتی ہے اور اسی سبزہ پر انسان کیا دوسرے جانوروں کی زندگی کا بھی اسی پر انحصار ہے۔ اگر زمین میں پانی کی آمیزش سے روئیدگی کی قوت پیدا نہ ہوتی تو کسی بھی جاندار کا اس زمین پر زندہ رہنا مشکل تھا اللہ کا دوسرا احسان انسان پر یہ ہے کہ اس نے زمین کی ہر چیز کو اس کے لئے مسخر کردیا ہے۔ ورنہ زمین پر بسنے والے درندے اسے چیر پھاڑ کر کھا جاتے اور اس کی ہستی کا خاتمہ کرسکتے تھے۔ پھر کئی ایسے عظیم الجثہ جانور بھی ہیں کہ انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

112۔ یعنی اس سارے خارخانہ حیات کو انسان کے کام میں لگا دینے والا، بحری قوتوں کو انسان کا مسخر کردینے والا، زمین آسمان کو ان کی موجودہ ہیئتوں کے ساتھ موجودہ حالتوں پر قائم و برقرار رکھنے والا، سب وہی اکیلا ہے، کوئی اور دیوی دیوتا ان کاموں میں شریک نہیں جیسا کہ بہت سی مشرک قوموں کا مفروضہ ہے۔ اصل مقصود توحید ہی پر استدلال ہے۔ باقی سماء سے مراد بارش اور ابر دونوں بھی ہوسکتے ہیں۔ وسمی المطر سماء لخروجہ منھا (راغب) السماء السحاب والسماء المطر (لسان) قیل للسحاب السماء لانھا عالیۃ (لسان) سمی السحاب سماء لعلوھا (عن الزجاج) وسمی المطر سماء لخروجہ من السماء (تاج) 113۔ اس کی صفات رافت و رحمت کی تجلیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر ان اللہ سخر لکم ما فی الارض والفلک تجری فی البحر بامرہ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ زمین میں ہے اس کو تم لوگوں کے کام پر اللہ نے لگا دیا ہے اور کشتیوں کو (تمہارے کام پر لگا دیا ہے) جو سمندر میں اللہ کے حکم سے چلتی ہیں۔ مسخر کردیا ‘ یعنی تمہارے کام پر لگا دیا ‘ تمہارے منافع کے لئے تیار کردیا۔ بعض نے کہا آیت کا معنی یہ ہے کہ زمینی یعنی خشکی پر جو سواری کے جانور ہیں ان کو تمہارے تابع بنا دیا تاکہ تم ان پر سوار ہو اور سمندر میں سوار ہونے کے لئے کشتیوں کو تمہارے زیر اختیار کردیا۔ ویمسک السمآء ان تقع علی الارض الا باذنہ اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے (ہاں) مگر اسی کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(65) اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن اس چیز کی خبر نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے درختوں اور جانوروں کو تم لوگوں کے کام میں لگا رکھا ہے اور کشتیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے کہ وہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہیں۔ اور وہی قیامت تک کے لیے آسمان کو زمین پر گرنے سے اپنے حکم سے روکے ہوئے ہے، بیشک اللہ تعالیٰ مومنین پر بڑی شفقت و رحمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ : یہ تیسری دلیل ہے۔ زمین کی ہر چیز کو انسان کے لیے مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس طرح بنایا ہے کہ آدمی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ سورج اور چاند اس رفتار سے چل رہے ہیں جو انسان کے لیے مفید ہے۔ ہوا، پانی، آگ، بجلی، ایٹم، غرض کتنی ہی منہ زور قوتیں ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔ پالتو جانور ہیں تو ان پر سواری کرتا ہے، ان کا دودھ پیتا، گوشت کھاتا اور کئی ضروریات پوری کرتا ہے، غرض وہ ہر طرح سے انسان کے تابع کردیے گئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اونٹ، گائے، بھینس اور گھوڑے کو انسان کے تابع نہ کرتا تو انسان کبھی انھیں پالتو نہ بنا سکتا، فرمایا :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–65

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک بان اللہ ھو الحق یعنی وہ حق والا ہے۔ اس کا دین حق ہے اور اس کی عببادت حق ہے اور مومنین اس سے نصرت کے مستحق ہوتے ہیں اس کے حق وعدہ کے حکم سے۔ کو ان ما یدعون من دونہ ھوالباطل یعنی وہ بت جن کا عبادت میں کوئی استحقاق نہیں ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابن عامر اور ابوبکر نے وان ماتدعون تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے اور باقی قراء نے خبر کی بناء پر یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة لقمان میں بھی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید نے اس کو اختیار کیا ہے۔ وان اللہ ھو العلی یعنی اپنی قدرت کی وجہ سے ہر چیز سے بلند ہے۔ اور اشباہ، انداد سے بلند ہے اور ظالم لوگ جو ایسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–66

1۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر تو کسی خوفناک بادشاہ کے پاس جائے اور اس کے غالب ہونے کا اندیشہ ہو تو تین مرتبہ یہ کلمات پڑھو :۔ الہ اکبر اللہ اکبر من خلقہ جمیعا اللہ اعز ممن اخاف واحذ اعوذ باللہ الذی لا الہ الا ہو الممسک السمون السبع ان یقعن علی الارض الا باذنہ من شر عبدک فلان وجندہ واشیاعہ من الجن والانس الہی کن لی جار من شرہم جل شانک وعز جارک و تبارک اسمک ولا الہ غیرک اللہ سب سے بڑے ہیں اللہ سب سے بڑے ہیں اپنی ساری مخلوق سے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ قوی ہیں جس سے میں ڈرتا ہوں اور خوف کھا رہا ہوں۔ میں اس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں روکنے والا ہے ساتوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَمْ تَرَ [ کیا تو نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ نے ] سَخَّرَ [ مسخر کیا ] لَكُمْ [ تم لوگوں کے لئے ] مَّا [ اس کو جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] وَالْفُلْكَ [ اور کشتی کو ] تَجْرِيْ [ وہ چلتی ہے ] فِي الْبَحْرِ [ سمندر میں ] بِاَمْرِهٖ ۭ [ اس کے حکم سے ] وَيُمْسِكُ [ اور وہ تھامتا ہے ] السَّمَاۗءَ [ آسمان کو ] اَنْ [ کہ (کہیں ) ] تَقَعَ [ وہ گرپڑے ] عَلَي الْاَرْضِ [ زمین پر ] اِلَّا [ مگر ] بِاِذْنِهٖ ۭ [ اس کی اجازت سے [ اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] بِالنَّاسِ [ لوگوں پر ] لَرَءُوْفٌ [ یقینا بےانتہا نرمی کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–66

اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات کے مظاہرے یہ مظلوم کو غالب کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہے، جو کچھ عالم سفلی اور عالم علوی میں ہے وہ سب اسی کا ہے سارے انقلابات زمان میں ہوں یا مکان میں سب اسی کی قدرت و مشیت اور ارادہ سے ہوتے ہیں، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے وہ ہر بات سنتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے وہ حق ہے اس کے علاوہ جو لوگوں نے معبود بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ برتر ہے بڑا ہے وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے وہ لطیف ہے یعنی مہربان ہے اور خبیر ہے جو اپنی ساری مخلوق کی خبر رکھتا ہے وہ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–66

بیان بعض دلائل کمال قدرت و حکمت بالغہ و کمال تسخیر قال اللہ تعالیٰ الم تر ان اللہ انزل من السماء .... الیٰ .... ان الانسان لکفور۔ (ربط) گزشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت اور کمال تسخیر کے کچھ دلائل بیان کرتے ہیں جو چھ دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل نعمت بھی۔ دلیل اول الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فتصبح الارض مخضرۃ ان اللہ لطیف خبیر۔ اے مخاطب تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین سرسبز اور تروتازہ ہوجاتی ہے یعنی ہر قسم کے نباتات اگاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی زندگی کا سامان اگایا اور بیشک وہ خبردار ہے بندوں کا حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

79:۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ الخ “ یہ نفی شرک فی التصرف پر دوسری دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے زمین کی تمام قوتوں کو۔ زمین پیدا ہونے والی تمام چیزوں کو اور زمین میں بسنے والی ساری مخلوق کو اپنے حکم سے انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ ہر چیز کسی نہ کسی شکل میں انسان ہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ کشتیوں اور بحری جہازوں کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ دریاؤں اور سمندروں میں پانی کی غضبناک لہروں اور فلک بوس موجوں میں سے کس طرح بکمال قدرت بچا کر صحیح سالم کنارے لگاتا ہے آسمان کو اس نے اپنے حکم سے ستونوں کے بغیر قائم کر رکھا ہے کیا مجال ہے کہ زمین پر گر پڑے یہ سب اللہ تعالیٰ کی شفقت اور مہربانی ہے وہ اللہ جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–69

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ کی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف رغبت دلائی گئی تھی۔ اللہ کے سوا کسی دوسری ذات کی عبادت کو باطل قرار دے کر اس سے منع کیا گیا تھا ، پھر رات اور دن کے اختلاف ، آسمان کی طرف سے پانی کے نزول اور زمین کے سرسبز و شاداب ہونے کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ نشانات قدرت اس لئے بیان فرمائے ہیں تاکہ انسان ان میں غوروفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکیں اور اس پر ایمان لے آئیں۔ تسخیر اشیائے ارضی : اسی ضمن میں اللہ نے اپنی قدرت کی کچھ مزید نشانیوں کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ الم ترا اے مخاطب ! کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا۔ اس مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ۝ 0ۭ وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝ 65 سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–70

پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَلَکُمْ مَّافِی الْاَرْضِ وَالْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ط وَ یُمْسِکُ السَّمَآئَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (الحج : 65) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کررکھا ہے جو زمین میں ہے اور اس نے کشتی کو بھی مسخر کررکھا ہے وہ چلتی ہے سمندر میں اسی کے حکم سے اور وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ زمین پر گرپڑے مگر یہ کہ اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور بڑا ہی رحیم ہے۔ ) اللہ کی قدرت اور اس کی رحمت سے استدلال کرتے ہوئے قریش کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–66

فہم القرآن ربط کلام : اگر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا ادراک چاہتے ہو تو پھر دریاؤں میں چلنے والی کشتیوں اور آسمان کی بلندیوں پر غور کرو۔ انسان کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے دائیں بائیں، اوپر نیچے بیشمار چیزوں کو دیکھتا اور ان سے استفادہ کرتا ہے۔ مگر ان کی حقیقت جاننے کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ انسان کی توجہ حقائق کی طرف مبذول کرنے کے لیے قرآن مجید کئی مقامات پر اَلَمْ تَرَ کے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ اے انسان ! کیا تو دیکھتا اور سوچتا نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز کو کس طرح پیدا فرمایا ہے ؟ یہاں زمین و آسمان اور سمندر میں چلنے والی کشتیوں کی طرف توجہ دلا کر ارشاد فرمایا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرت کے مزید نمونے : 65: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ (کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا دیا جو کچھ کہ زمین میں ہے) خشکی میں چو پائے تمہاری سواریوں کیلئے مطیع کردیے گئے۔ وَالْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بَاَمْرِہٖ (اور سمندر میں کشتیاں اور جہاز اسی کے حکم سے چلتے ہیں) یعنی بعض سواریاں سمندر میں چلنے والی ہیں۔ نحو : الفلک کو منصوب پڑھا گیا ہے۔ اس کا عطف ماؔ پر ہے اور تجری اس کا حال ہے تقدیر کلام یہ ہے سخرلکم الفلک فی حال جریھا اور اس نے کشتیوں کو چلنے کی حالت میں مطیع کردیا۔ وَیُمْسِکُ السَّمَآ ئَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ (اور وہ آسمان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65۔ الم تر ان اللہ سخرلکم مافی الارض والفلک، ، اور تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا، تجری فی البحر، اور خشکی جن میں جو چوپائے ہیں جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ اور کشتیاں جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ ویمسک السماء ان تقع علی الارض، تاکہ وہ زمین پر نہ گرے۔ الاباذنہ ان اللہ بالناس لروف رحیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

65:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں ‘ مثلا مینہ کا موسم پر برسنا جس سے طرح طرح کی پیداوار کھیتوں اور باغات میں پیدا ہوتی ہے ‘ یہی مینہ اگر بےوقت برسے یا ضرورت سے زیادہ یا کم برسے تو کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا نقصان ہوتا ہے اور اگر بالکل نہ برسے تو قحط بڑھ جاتا ہے ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ وہی مینہ کا پانی ندیوں اور دریاؤں میں جمع ہوجاتا ہے اور اس پانی میں کشتیاں چلتی ہیں اور اس ملک کی پیداوار اس ملک میں اور اس ملک کی اس ملک میں ان کشتیوں کے ذریعہ سے دریاؤں میں چلی جاتی ہے ‘ اسی طرح جانور جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ان کے ذریعہ سے طرح طرح کی تجارت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–66

آیت 65 کیا تم نے اپنی آنکھ اور دل سے اپنے رب کی بےپایاں نعمت اور بےحد احسانات کو نہیں دیکھا ؟ (ان اللہ سخر لکم ما فی الارض) یعنی اللہ تعالیٰ نے حیوانات نباتات اور جمادات کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے۔ روئے زمین کی تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لئے مسخر کردیا ہے، چناچہ زمین کے تمام حیوانات کو انسان کی سواری، نقل و حمل، کام کاج، کھانے اور مختلف انواع کے استفادے کے لئے مسخر کردیا اور اس کے تمام درختوں اور پھلوں کو بھی مسخر کردیا تاکہ وہ ان سے خوراک حاصل کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو درخت لگانے زمین سے غلہ حاصل کرنے اور معدنیات نکالنے کی طاقت عطا کی تاکہ وہ ان سے استفادہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 53–67

منسک کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

127 کچھ اور مظاہر قدرت میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے قدرت خداوندی کے کچھ اور مظاہر میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ جب ان تمام عظیم الشان نعمتوں کے پیدا کرنے اور ان کے عطاء فرمانے، اور ان میں تصرف کرنے میں کوئی اس وحدہ لاشریک کا شریک وسہیم نہیں ‘ تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ‘؟ سو قیام و رکوع ‘ سجود و طواف ‘ اور نذر و نیاز وغیرہ ‘ عبادت کی ہر قسم اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ { اَلا لَہُ الْخَلْقُ وَ الاَمْرُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ (الاعراف : 54) پس کسی بھی قسم کی عبادت کا اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف (جدید تکنیک کا علم ضروری ہے) انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

10 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو یہ احسانات فرمائے اور تمہاری زندگی کے لئے جو یہ اسباب فراہم کئے وہ اس وجہ سے نہیں ہیں کہ وہ تمہارا حاجت مند ہے بلکہ یہ سراسر اس کی شفقت و مہربانی کا کرشمہ ہے تمہارا اس پر کوئی زور نہ تھا کہ وہ چاہتا یا نہ چاہتا تم اس سے یہ اسباب حاصل کرلیتے۔ 11 ۔ یعنی تمہیں زندگی بخشی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:65) والفلک ای الم تر ان الفلک تجری۔۔ الخ۔ اس کا عطف اسم ان پر ہے۔ یمسک۔ مضارع واحدمذکر غائب امساک (افعال) سے ، وہ تھامے ہوئے ہے وہ روکے ہوئے ہے ۔ وہ سنبھالے ہوئے ہے۔ ان تقع۔ میں ان مصدریہ ہے تقع۔ دقع یقع (فتح) منصوب بوجہ عمل ان اس سے قبل عن حرف جار محذوف ہے۔ ای یمسک السماء عن ان تقع علی الارض۔ وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے۔ رؤف رافۃ سے۔ بروزن فعول ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بہت شفقت کرنے والا۔ بڑا مہربان۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–66

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66 ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔ تشریح آیت نمبر 58 تا 66 : جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ کے احسانات بندوں پر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ دیکھو مینہ کا پانی ندیوں اور دریاؤں میں جمع ہوجاتا ہے اور اس پانی میں کشتیاں چلتی ہیں اور اس ملک کی پیداوار اس ملک میں اور اس ملک کی اس ملک میں ان کشتیوں کے ذریعہ سے دریاؤں میں چلی جاتی ہیں اس طرح جانوروں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں ان کے ذریعہ سے طرح طرح کی تجارت خشکی میں ہوتی ہے اور آسمان جو اتنی بڑی چھت ہے اس کو بغیر ستون کے اللہ نے پیدا کیا ہے جو اللہ کی حفاظت اور اس کے حکم سے کھڑا ہے ایسے خالق کو چھوڑ کر لوگ اس کے سوا اوروں کی پرستش کرتے ہیں اللہ چاہے تو آسمان کو پٹخ دیوے کہ تمام دنیا کے لوگ دب کر مرجائیں، یا مینہ ضرورت سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–66

[46] یعنی اتنے احسانات و انعامات دیکھ کر بھی اللہ کا حق نہیں مانتا اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کے آگے جھکنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–66

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی مزید عنائیت کا ذکر فرمایا ہے ارشاد ہے کہ جو کچھ دنیا میں موجود ہے ہم نے تمہیں اس کا حاکم بنایا ہے اور ہر چیز پر تمہیں اختیار دیا ہے ، گویا کائنات میں تمہارا درجہ ہر شے سے بڑا ہے ، تم اس لئے پیدا کئے گئے ہو کہ یہاں حاکمانہ رہو ، اور خدا کی مہربانیوں کا شکر ادا کرتے رہو فرمایا دیکھو کشتیاں اور پہاڑوں کے لئے بھی ہم نے ایسے مفید قانون بہا دیئے ہیں کہ تم ان کے ذریعے سے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہو ، پھر یہ بھی ہماری نوازش ہے کہ تمہیں آسمان اور آسمانی حوادث سے محفوظ رکھا ہے ، اور سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ تمہیں زندگی کا خلعت بخشا ہے ، یاد رکھو تم موت سے محفوظ نہیں رہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(65) اے مخاطب ! کیا تو نے نہیں دیکھا اور کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو زمین میں ہیں تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہارے بس میں کردیا ہے اور کشتی کو بھی جو اس کے حکم سے دریا میں چلتی ہے اور اسی نے آسمان کو اس بات سے روک رکھا ہے کہ زمین پر گرپڑے مگر اس کا حکم ہوجائے تو اور بات ہے۔ بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑی شفقت کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی یہ اس کی شفقت و مہربانی ہے کہ زمین کی ہر چیز کو خواہ وہ نباتات ہو یا حیوانات و جمادات ہو تمہارے قابو میں دے دیا ہے اور دریائوں میں کشتیاں دوڑاتے پھر وتے ہو اور آسمان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے آسمان میں کوئی ستون…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 3۔ اگر یہ شخص بدلہ لینا چاہئے تو دنیا میں نصرت شرعیہ یقینی ہے، یعنی اجازت انتقام کی، اور اگر بدلا نہ لے تو آخرت میں نصرت حسیہ ضروری ہے، یعنی ظالم کی تعذیب۔ فائدہ : یہ رعایت مماثلت کا وجوب ہے معاملات معاشرت میں نہ کہ جہاد میں، نیز جو افعال ہر حال میں معصیت ہیں وہ اس عموم سے مستثنی ہیں۔ مثلا کوئی کسی کے والدین کو برا کہے تو عوض میں اس کے والدین کو برا کہنا جائز نہ ہوگا۔ 4۔ اوپر مومنین کے غالب اور کفار کے مغلوب ہونے کا بیان تھا۔ چونکہ مسلمانوں کی موجودہ بےسرو سامانی اور کفار کی عدد اور عدد میں فراوانی پر نظر کرنے پر اس میں ایک گونہ استبعاد تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتے ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کو مسخر کرنے والا ہے اور سارا نظام اسی کا قائم کردہ ہے : 65۔ (سخر) اس نے کام میں لگا دیا ‘ اس نے بس میں کردیا (تسخیر) سے جس کے معنی زبردستی کسی خاص کام میں لگا دینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب قرآن کریم میں (سخر) کا لفظ 16 بار استعمال ہوا ہے اور (المسخر) کا صرف ایک بار سوہ البقرہ کی آیت 164 میں لایا گیا ہے اس طرح (مسخرات) تین بار استعمال ہوا ہے ایک بار سورة الاعراف کی آیت 54 میں اور دو بار سورة النحل کی آیت 12 ‘ 79 میں اور یہ نشاندہی اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں بڑے اجرام سماوی اور ارضی کا نام لے کر مسخر کرنے کا بیان آیا ہے اور ماحصل ان سب کا یہ ہے کہ دنیا ومافیہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–66

Commentary سَخَّرَ‌ لَكُم مَّا فِي الْأَرْ‌ضِ (Allah has subjugated to you whatever there is on the earth - 22:65) It means that everything on this earth has been placed under the control of man. This raises the question that the mountains, rivers, beasts and birds and thousands of similar objects do not follow the commands of man. But placing something in the service of someone is also like putting it under his control, and in this verse the word Taskhir (subjugation) has been used to mean ` to serve'. The verse therefore means that all the things mentioned above are all the time working in…

Read the full tafseer →