Explained with ayahs 63–66
اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ سو کھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے۔ یہاں پر "" تعقیب کے لئے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی "" آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہوجاتی ہیں فاللہ اعلم۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 112
وہی " غنی " ہے، یعنی صرف اسی کی ذات ایسی ہے جو کسی کی محتاج نہیں۔ اور وہی " حمید " ہے، یعنی تعریف اور حمد اسی کے لیے ہے اور وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے، خواہ کوئی حمد کرے یا نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
خلاصہ تفسیر
یہ (مومنین کا غالب کردینا) کہ اللہ تعالیٰ (کی قدرت بڑی کامل ہے وہ) رات (کے اجزاء) کو دن میں اور دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتا ہے (یہ کائناتی انقلاب ایک قوم کو دوسری پر غالب کرنے والے انقلاب سے زیادہ عجیب ہے) اور اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ (ان سب کے اقوال و احوال کو) خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے (وہ کفار کے ظلم اور مومنین کی مظلومیت کو سنتا دیکھتا ہے اس لئے وہ سب حالات سے باخبر بھی ہے اور قوت وقدرت بھی اس کی سب سے بڑی ہے یہ مجموعہ سبب ہوگیا کمزوروں کو غالب کرنے کا) اور (نیز) یہ (نصرت) اس سبب سے (یقینی) ہے کہ (اس میں کسی طاقت کی مجال نہیں جو اس میں اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →خدا بےہمہ بھی ہے اور باہمہ بھی
یہ اوپر کے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا اور اسی کے تصرف میں ہے تو اس کے ارادے میں کون مزاحم ہوسکتا ہے ؟ وہ سب سے بےنیاز اور اپنی ذات میں مستغنی ہے۔ ’ حمید ‘ کی صفت یہاں بطور بدرقہ ہے یعنی وہ غنی ہونے کے ساتھ حمید بھی ہے۔ حمید کے معنی ہیں ستو وہ صفات اور تمام سزاوار حمد کا موں کا منبع۔ اس بدرقہ کی ضرورت اس لئے تھی کہ خدا کے بےنیاز ہونے کے سبب سے بندوں کے اندر مایوسی نہ پیدا ہو بلکہ وہ امید رکھیں کہ اس کے بےنیاز ہونے کے باوجود خلق کے لئے اس کا فیض ہر وقت جاری ہے۔ وہ بےہمہ ہونے کے ساتھ ساتھ باہمہ بھی ہے۔
Read the full tafseer →64۔ 1 پیدائش کے لحاظ سے بھی، ملکیت کے اعتبار سے بھی اور تصرف کرنے کے اعتبار سے بھی۔ اس لئے سب مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ کیونکہ وہ غنی بےنیاز ہے۔ اور جو ذات سارے کمالات اور اختیارات کا منبع ہے، ہر حال میں تعریف کی مستحق بھی وہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
30: بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے جو احکام دئیے ہیں، ان میں سے کچھ ان احکام سے مختلف ہیں جو پچھلے انبیائے کرام کی امتوں کو دئیے گئے تھے اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے یعنی مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں اللہ نے عبادت کے مختلف طریقے مقرر فرمائے تھے اور ہر دور کے مناسب شریعت کے مختلف احکام دئیے تھے۔ لہذا اگر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے کچھ احکام پچھلی شریعتوں سے الگ ہیں تو اس میں نہ کوئی اعتراض کی بات ہے، اور نہ بحث مباحثے کا کوئی موقع۔
Read the full tafseer →لہ ما فی ……الحمید (46)
اسے زمین و آسمان کی کسی مخلوق کی حاجت نہیں ہے۔ وہ تو غنی ہے ، حمید ہے ، محمود ہے ، اور تمام مخلوق پر اس کا کرم ہے۔
مزید بات اس مضمون پر آگے بڑھتی ہے کہ لوگوں کے لئے اسی کائنات میں سوچنے کی کی چیزیں ہیں جو ان کی نظروں کے سامنے بڑی ہیں۔
Read the full tafseer →4 یعنی آسمان و زمین کی تمام چیزیں جب اسی کی مملوک و مخلوق ہیں اور سب کو اس کی احتیاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں تو ان میں جس طرح چاہے تصرف اور ادل بدل کرے، کوئی مانع و مزاحم نہیں ہوسکتا۔ البتہ باوجود غنائے نام اور اقتدار کامل کے کرتا وہ ہی ہے جو سراپا حکمت و مصلحت ہو۔ اس کے تمام افعال محمود ہیں اور اس کی ذات تمام خوبیوں اور صفات حمیدہ کی جامع ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ”
اسے کوئی احتیاج نہیں ‘ وہ ستودہ صفات ہے ‘ اپنی ذات میں خود محمود ہے ‘ اسے کسی حمد کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →93 چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے۔ لہذا ہر چیز اپنی ہستی اور اس کی بقاء تک کے لئے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوئی۔ جبکہ وہ خود کسی کا محتاج نہیں۔ تمام کائنات کے وجود سے پہلے بھی اس کی ہستی قائم و دوائم تھی اور وجود کے بعد بھی وہ اس سے بےنیاز ہے۔ لہذا کوئی اس کی حمد و ثنا بیان کرے یا نہ کرے اس سے اسے کچھ فرق نہیں پڑا (البتہ حمد و ثنا بیان کرنے والے کی اپنی ذات کو ضرور فائدہ پہنچ جاتا ہے) کیونکہ وہ اپنی ذات میں خود ہی محمود ہے۔
Read the full tafseer →111۔ یعنی وہی سب کا مالک بھی ہے اور وہی ہر ضرورت سے، ہر حاجت سے پاک و بالاتر ہے۔ اور ہر ایک کی عبادت سے اور اعانت سے بےنیاز، اور وہی سرتاسر محمود ستودہ صفات ہے۔ جامع کمالات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
آیت نمبر 58 تا 64
ترجمہ : اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا یعنی اس کی طاعت میں مکہ سے مدینہ کی طرف (ہجرت کی) پھر وہ شہید کر دئیے گئے یا اپنی موت مرگئے اللہ تعالیٰ ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا، وہ جنت کا رزق ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے، یعنی عطا کرنے والوں میں بہتر عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا کہ کہ وہ اس کو پسند کریں گے اور وہ جنت میں مدخلاً میم کے ضمہ کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ، داخل کرنا یا داخل کرنے کی جگہ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں سے واقف ہے ان کو سزا دینے کے معاملہ میں حلیم ہے، بات ایسی ہے جیسی کہ ہم نے تم کو…
Read the full tafseer →لہ ما فی السموت وما فی الارض وان اللہ لہو الغنی الحمید۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں
ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے (یعنی وہی سب کا خالق اور مالک اور حاکم ہے) اور بلاشبہ اللہ (اپنی ذات میں) ہر چیز سے بےنیاز ہے اور مستحق ستائش ہے۔ یعنی اس کی صفات و افعال مستحق ستائش ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ بذات خود محمود ہے خواہ حمد کرنے والا اس کی ذات کے سوا کوئی اور موجود نہ ہو۔
Read the full tafseer →(64) جو کچھ آسمانوں و زمین میں مخلوقات وغیرہ ہیں وہ سب اسی کی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں اور وہ اپنے کارخانہ قدرت میں ہر طرح کی تعریف کے لائق ہے یا یہ کہ جو بھی اس کی تعریف کرے ہر قسم کی تعریفوں کے لائق ہے۔
Read the full tafseer →لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : یہ دوسری دلیل ہے، یعنی وہ صرف آسمان سے بارش برسانے اور زمین سے سبزہ اگانے ہی کا مالک نہیں بلکہ آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا وہ اکیلا مالک ہے، بارش برسانا اور سبزہ اگانا تو اس کے اختیار کا معمولی سا حصہ ہے۔ ”لَهٗ“ کو پہلے لانے سے قصر کا مفہوم پیدا ہوا۔ تو جب ہر چیز کا مالک وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں ہو ؟
وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : یہ عام مشاہدہ ہے کہ انسان جن چیزوں کا مالک ہوتا ہے ان کا محتاج بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کی ضرورت ہوتی ہیں، اس لیے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہونے کے ذکر کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک بان اللہ ھو الحق یعنی وہ حق والا ہے۔ اس کا دین حق ہے اور اس کی عببادت حق ہے اور مومنین اس سے نصرت کے مستحق ہوتے ہیں اس کے حق وعدہ کے حکم سے۔ کو ان ما یدعون من دونہ ھوالباطل یعنی وہ بت جن کا عبادت میں کوئی استحقاق نہیں ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابن عامر اور ابوبکر نے وان ماتدعون تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے اور باقی قراء نے خبر کی بناء پر یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة لقمان میں بھی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید نے اس کو اختیار کیا ہے۔ وان اللہ ھو العلی یعنی اپنی قدرت کی وجہ سے ہر چیز سے بلند ہے۔ اور اشباہ، انداد سے بلند ہے اور ظالم لوگ جو ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے آیت ذالک ومن عاقب الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک فوجی دستہ بھیجا جبکہ محرم میں سے دو راتیں باقی تھیں۔ وہ مشرکین سے ملے تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ محمد ﷺ کے اصحاب سے لڑو۔ مگر وہ تو شہر حرام یعنی عزت والے مہینے میں قتال کو حرام سمجھتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے ان کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر قتال نہ کرنے کو کہا۔ کیونکہ وہ شہر حرام میں قتال کو حلال نہیں سمجھتے تھے مگر جو ان سے قتال شروع کرے تو پھر وہ بھی لڑتے ہیں مشرکین نے لڑنے کا آغاز کیا تو صحابہ کرام ؓ نے بھی ان سے لڑنے کو حلال جانا اور لڑنا شروع کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی مدد فرمائی۔
2۔…
Read the full tafseer →لَهٗ [ اس کا ہی ہے ] مَا [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَا [ اور وہ جو ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ہے ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَهُوَ [ یقینا وہ ہی ہے ] الْغَنِيُّ [ بےنیاز ] الْحَمِيْدُ [ حمد کیا ہوا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات کے مظاہرے
یہ مظلوم کو غالب کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہے، جو کچھ عالم سفلی اور عالم علوی میں ہے وہ سب اسی کا ہے سارے انقلابات زمان میں ہوں یا مکان میں سب اسی کی قدرت و مشیت اور ارادہ سے ہوتے ہیں، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے وہ ہر بات سنتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے وہ حق ہے اس کے علاوہ جو لوگوں نے معبود بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ برتر ہے بڑا ہے وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے وہ لطیف ہے یعنی مہربان ہے اور خبیر ہے جو اپنی ساری مخلوق کی خبر رکھتا ہے وہ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔
اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
بیان بعض دلائل کمال قدرت و حکمت بالغہ و کمال تسخیر
قال اللہ تعالیٰ الم تر ان اللہ انزل من السماء .... الیٰ .... ان الانسان لکفور۔
(ربط) گزشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت اور کمال تسخیر کے کچھ دلائل بیان کرتے ہیں جو چھ دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل نعمت بھی۔
دلیل اول
الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فتصبح الارض مخضرۃ ان اللہ لطیف خبیر۔
اے مخاطب تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین سرسبز اور تروتازہ ہوجاتی ہے یعنی ہر قسم کے نباتات اگاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی زندگی کا سامان اگایا اور بیشک وہ خبردار ہے بندوں کا حال…
Read the full tafseer →78:۔ ” لَهٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ الخ “ تقدیم خبر افادہ حصر کے لیے ہے زمین و آسمان سے وہی ہر ایک کو روزی بہم فرماتا ہے اور ساری کائنات اسی کے ملک و اختیار اور اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” اَلْغَنِیُّ “ وہ کسی کا محتاج نہیں مگر ساری کائنات اس کی محتاج ہے۔ ” اَلْحَمِیْدُ “ وہ تمام کمالات کا مالک ہے ضمیر فصل اور تعریف خبر مفید حصر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہی مستغنی ہے اور وہی تمام صفات الوہیت کا مالک ہے اس کے سوا نہ کوئی غنی ہے اور نہ صفات کارسازی کا مالک۔ جو بلندو برتر اور قادر وعلیم ذات صفات بالا سے متصف ہے وہی کارساز اور حاجت روا ہے لہذا اسکے سوا حاجات و مشکلات میں کسی کو مافوق الاسباب مت پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کفار کا شک وتردد :
اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0ۭ وَاِنَّ اللہَ لَہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 64ۧ
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک…
Read the full tafseer →لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الحج : 64)
(اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور بیشک اللہ ہی ہے جو بےنیاز اور سزاوارِ حمد ہے۔ )
قریش کو تنبیہ
سابقہ مضمون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ اس نے جن وانس کو فی الجملہ آزادی دے رکھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ شعوروعقل بھی، تاکہ وہ آزادانہ مرضی اور شعوروعقل سے کام لے کر حق و باطل میں سے کسی ایک راستے پر چلنے کا فیصلہ کرے۔ لیکن انسان کو اس آزادی کی نعمت سے متمطع ہوتے ہوئے یہ کبھی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے معبودِبرحق ہونے کے مزید دلائل۔
معبودِ حق کی کبریائی اور علّو مرتب جاننا چاہو تو اس بات پر غور کرو کہ وہ آسمان سے کس طرح بارش نازل کرتا ہے جس سے ویران اور مردہ زمین سبزہ کی چادر پہن لیتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں اسی کی ملکیت ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی اور ہر چیز سے بےنیاز اور ہر حوالے سے قابل تعریف ہے۔ بارش اور زمین کی شادابی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین، باخبر اور ہر اعتبار سے غنی اور قابل تعریف ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے لطیف، خبیر زمین و آسمان کا…
Read the full tafseer →64: لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے) ملکیت اور حاکمیت کے لحاظ سے۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لھُوَ الْغَنِّی (اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی اپنی ذات سے بےنیاز ہے) آسمانوں اور زمین کے مابین سب کچھ فناء ہوجانے کے بعد اپنی کمال قدرت کے ساتھ وہ بےنیاز ہے۔ الْحَمِیْدُ وہ (مستحق ستائش ہے) آسمانوں اور زمین میں جو موجود ہیں ان سے قبل وہ اپنے انعامات کے سبب ذاتی طور پر محمود ہے۔ خواہ کوئی حمد کرنے والا ہو یا نہ ہو۔
Read the full tafseer →64۔ لہ مافی السموات ومافی الارض، زمین میں خواہ اس کے بندے ہوں یا اور کوئی چیز اس کی ملکیت میں ہو۔ وان اللہ لھوالغنی ، اپنے بندوں سے ، الحمید، اس کے افعال میں، یعنی وہ اپنے افعال میں خود محمود ہے خواہ اس کی حمد کی جائے یا نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
61: 64:۔ اوپر مظلوم کی غیبی مدد کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں رات دن کے گھٹنے بڑھنے اور اس موسم کی تبدیلی سے برسات کا موسم آجانے اور اس موسم میں مینہ کے برسنے اور اس مینہ سے طرح طرح کی پیداوار کے پیدا ہونے قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا تاکہ ہر شخص کی سمجھ میں آجاوے کہ جس کی قدرت میں یہ خلاف عقل آنکھوں کے سامنے کی سب باتیں ہیں اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ جس کمزور کو چاہے خلاف عقل بڑے سے بڑے ظالم دشمن پر فتح یاب کر دے ‘ صحیح بخاری میں براء بن العازب سے اور صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے جو 2 ؎ روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام کی تعداد تین سو انیس سے بڑھ کر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت 63
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آیات الٰہی میں تفکر و تدبر کی ترغیب ہے، جو اس کی وحدانیت اور اس کے کمال پر دلالت کرتی ہیں، چناچہ فرمایا : (الم تر) یعنی کیا تم نے چشم بصارت اور چشم بصیرت سے دیکھا نہیں ؟ (ان اللہ انزل من السماء ماء) ” بیشک اللہ اتارتا ہے آسمان سے پانی۔ “ اس سے مراد بارش ہے جو پیاسی اور قحط زدہ زمین پر، جس کے کنارے غبار آلود اور اس میں موجود تمام درخت اور نباتات خشک ہوچکے ہوتے ہیں، نازل ہوتی ہے۔ پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے، ہر قسم کا خوبصورت لباس پہن لیتی ہے اور اس طرح زمین خوش منظر بن جاتی ہے۔ بلاشبہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کیا، مردوں کو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →126 کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر وقصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی اور دنیا کے ظاہری اسباب کے دائرے میں اس کائنات کی جس چیز پر بھی کسی کو ملکیت اور حکم و تصرف کا جو کوئی حق کسی بھی درجے میں ملا ہوا ہے ‘ وہ بھی اسی کی بخشش وعطاء سے ملا ہوا ہے ‘ کہ اسی کی شان ہے ۔ { تُؤْتِی الْملْکَ مَنْ تَشَائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکِ مَّنْ تَشَائُ } ۔ جب کہ ظاہری اسباب کے بغیر کوئی بھی اس دنیا میں کسی بھی چیز کا مالک نہیں ہوسکتا ‘ کہ یہ دنیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
(صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سب سے پہلی مثال ہیں)
کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں ، گھر بار چھوڑ دیے مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہ چھوڑی اس پر بھی کفار نے بس نہ کی اور ان پر جنگ مسلط کی حتی کہ وہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہوئے یا مسافری میں موت نے انھیں آلیا تو اگر آخرت ہی نہ ہو تو انھیں کیا ملا یقینا آخرت بھی ہے اور ایسے لوگ نقصان میں بھی نہ رہیں گے اور اللہ جل جلالہ انھیں ان گھروں سے بہترین گھر اور ان نعمتوں سے کروڑوں گناہ بہترین نعمتیں یعنی جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا ، بیشک اللہ کریم ہی بہترین انعامات عطا کرنے والے ہیں ، ان…
Read the full tafseer →9 ۔ یعنی وہ بذات خود تعریف کا سزا وار ہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔
Read the full tafseer →(22:64) الحمید۔ حمد سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ ستو وہ۔ تعریف کیا ہوا۔ بمعنی مفعول۔ یعنی محمود۔ صفت کیا گیا۔ سزاوار حمد وثنائ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–66
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66
ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر 58 تا 66 :
جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
صفات الٰہیہ۔
(ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ بڑا قدرت والا ہے جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں بڑھا کر رات کی گھڑیاں گھٹا دیتا ہے اس طرح جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں گھٹا کر رات کی گھڑیاں بڑھا دیتا ہے مظلوموں کی ہر وقت کی فریاد کو سنتا اور ظالموں کے ہر طرح کے ظلم کو دیکھتا ہے یہ اس واسطے ہے کہ وہ بڑا بادشاہ ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں پھر یہ نادان مشرک ایسے بڑے صاحب قدرت کی تعظیم میں بتوں کو تو اللہ کے کارخانہ میں کچھ بھی دخل نہیں، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ صاحب قدرت موسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
[46] یعنی اتنے احسانات و انعامات دیکھ کر بھی اللہ کا حق نہیں مانتا اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کے آگے جھکنے لگتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی مزید عنائیت کا ذکر فرمایا ہے ارشاد ہے کہ جو کچھ دنیا میں موجود ہے ہم نے تمہیں اس کا حاکم بنایا ہے اور ہر چیز پر تمہیں اختیار دیا ہے ، گویا کائنات میں تمہارا درجہ ہر شے سے بڑا ہے ، تم اس لئے پیدا کئے گئے ہو کہ یہاں حاکمانہ رہو ، اور خدا کی مہربانیوں کا شکر ادا کرتے رہو فرمایا دیکھو کشتیاں اور پہاڑوں کے لئے بھی ہم نے ایسے مفید قانون بہا دیئے ہیں کہ تم ان کے ذریعے سے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہو ، پھر یہ بھی ہماری نوازش ہے کہ تمہیں آسمان اور آسمانی حوادث سے محفوظ رکھا ہے ، اور سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ تمہیں زندگی کا خلعت بخشا ہے ، یاد رکھو تم موت سے محفوظ نہیں رہ…
Read the full tafseer →(64) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور کچھ زمین ہے سب اسی کی مملوک ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے جو بےنیاز اور کسی کا محتاج نہیں ہے اور ستودہ صفات ہے اور ہر قسم کی تعریف کے لائق ہے۔ یعنی آسمان اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہر کسی سے بےنیاز اور غیر محتاج اور سب خوبیوں سراہا ہے۔ وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ اس کے مقابلے میں اس کی مخلوق اس بات کی اہل نہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
ف 3۔ اگر یہ شخص بدلہ لینا چاہئے تو دنیا میں نصرت شرعیہ یقینی ہے، یعنی اجازت انتقام کی، اور اگر بدلا نہ لے تو آخرت میں نصرت حسیہ ضروری ہے، یعنی ظالم کی تعذیب۔ فائدہ : یہ رعایت مماثلت کا وجوب ہے معاملات معاشرت میں نہ کہ جہاد میں، نیز جو افعال ہر حال میں معصیت ہیں وہ اس عموم سے مستثنی ہیں۔ مثلا کوئی کسی کے والدین کو برا کہے تو عوض میں اس کے والدین کو برا کہنا جائز نہ ہوگا۔
4۔ اوپر مومنین کے غالب اور کفار کے مغلوب ہونے کا بیان تھا۔ چونکہ مسلمانوں کی موجودہ بےسرو سامانی اور کفار کی عدد اور عدد میں فراوانی پر نظر کرنے پر اس میں ایک گونہ استبعاد تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے وہ غنی ہے اور تعریف کیا گیا ہے :
64۔ ان آیات میں توحید الہی کا درس دیا جا رہا ہے یہ صرف تعریفی فقرے نہیں بلکہ ان کا ہر لفظ اس پس منظر سے گہرا ربط رکھتا ہے جس میں یہ آیات کریمات نازل ہوئیں ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ اور قرآن کریم کے خلا جو لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے ان کے اعتراضات کی اولین بنیاد یہ تھی کہ آپ ﷺ ان کو توحید کی دعوت دے رہے تھے اور ان لوگوں کے اس دعوت کو سن کر کان کھڑے ہو رہے تھے اور وہ کہتے تھے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ محمد ﷺ کو کیا ہوگیا ہے ؟ پھر خود ہی کہتے کہ شاید اس پر کسی کا سایہ ہوگیا ہے یا یہ پاگل ہوگیا ہے اس پر کسی نے جادو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
Commentary
In an earlier verse it has been mentioned that Allah Ta’ ala helps those who are wronged unjustly وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (Allah is powerful to give them victory - 22:39) Some people bear their sufferings patiently and do not seek vengeance from their oppressors, but there are others who retaliate and serve a full measure of retribution on their oppressors which should, therefore, place them both on even terms as being quits. But if the oppressor, incensed at the retaliation, attacks him again, then this person once again becomes the victim of oppression.…
Read the full tafseer →112. He alone is All-Sufficient and is not in need of anyone in any way. He is All-praiseworthy because all praise belongs to Him alone whether anyone praises Him or not.
Read the full tafseer →