Al-Hajj 22:63

Al-Hajj · from ayah 63

22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ؗ— فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ۟ۚاَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَتُصۡبِحُ الۡاَرۡضُ مُخۡضَرَّة ً  ؕاِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ‌

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ بےشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you not see that Allah has sent down rain from the sky and the earth becomes green? Indeed, Allah is Subtle and Acquainted.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 8 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:63

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ بےشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برساتا ہے، پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ مہربان اور باخبر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا مہربان، ہر بات سے باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو صبح کو زمین ہریالی ہوگئی، بیشک اللہ پاک خبردار ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ آسمان کی جانب سے پانی اتارتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بیشک اﷲ مہربان (اور) بڑا خبردار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو زمین سر سبز ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ نہایت باریک بین، ہر چیز سے باخبر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے تو اس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ وہ بڑا باریک بین اور ہر چیز سے باخبر ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے تو زمین اس سے سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ کی بناء پر کیسے حکمت بھرے نظام کے مطابق آسمان سے پانی اتارا ہے پھر اس سے ہری بھری اور سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے خشک اور مردہ پڑی ہوئی یہ زمین بلاشبہ اللہ بڑا ہی مہربان نہایت ہی باخبر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تو یہ نہیں دیکھتا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی برساتا ہے سو زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان ہے بڑا خبر رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے یقیناً اللہ باریک بین اور بہت باخبر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سر سبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ مہربان اور خبردار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you not see that Allah sends down water from the sky whereby the earth turns green? Verily Allah is Subtle, All-Aware.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did you not see that Allah has sent down water from the sky, whereby the land becomes green? Surely, Allah is All-Kind, All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani

Did you not see that Allah has sent down water from the sky, whereby the land becomes green? Surely, Allah is All-Kind, All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See you not that Allah sends down water from the sky, and then the earth becomes green Verily, Allah is the Most Kind and Courteous, Well-Acquainted with all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Seest thou not how Allah sendeth down water from the sky and then the earth becometh green upon the morrow? Lo! Allah is Subtile, Aware.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you not see that Allah has sent down rain from the sky and the earth becomes green? Indeed, Allah is Subtle and Acquainted.

— Saheeh International

Have you not seen that God has sent water from the sky and has made the earth green all over. He is Kind and All-aware.

— Muhammad Sarwar

Do you not see that Allah sends down water from the cloud so the earth becomes green? Surely Allah is Benignant, Aware.

— Muhammad Habib Shakir

Beholdest thou not that Allah sendeth down water from the heaven and the earth becometh green? Verily Allah is subtile, Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

Seest thou not that Allah sends down rain from the sky, and forthwith the earth becomes clothed with green? for Allah is He Who understands the finest mysteries, and is well-acquainted (with them).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–66

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ سو کھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے۔ یہاں پر "" تعقیب کے لئے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی "" آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہوجاتی ہیں فاللہ اعلم۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 110 یہاں پھر ظاہر مفہوم کے پیچھے ایک لطیف اشارہ چھپا ہوا ہے۔ ظاہر مفہوم تو محض اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔ مگر لطیف اشارہ اس میں یہ ہے کہ جس طرح خدا کی برسائی ہوئی بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی تم دیکھتے ہو کہ سوکھی پڑی ہوئی زمین یکایک لہلہا اٹھتی ہے، اسی طرح یہ وحی کا باران رحمت جو آج ہو رہا ہے، عنقریب تم کو یہ منظر دکھانے والا ہے کہ یہی عرب کا بنجر ریگستان علم اور اخلاق اور تہذیب صالح کا وہ گلزار بن جائے گا جو چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ سورة الْحَجّ 111 " لطیف " ہے، یعنی غیر محسوس طریقوں سے اپنے ارادے پورے کرنے والا ہے۔ اسکی تدبیریں ایسی ہوتی ہیں کہ لوگ ان کے آغاز میں کبھی ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–64

خلاصہ تفسیر یہ (مومنین کا غالب کردینا) کہ اللہ تعالیٰ (کی قدرت بڑی کامل ہے وہ) رات (کے اجزاء) کو دن میں اور دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتا ہے (یہ کائناتی انقلاب ایک قوم کو دوسری پر غالب کرنے والے انقلاب سے زیادہ عجیب ہے) اور اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ (ان سب کے اقوال و احوال کو) خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے (وہ کفار کے ظلم اور مومنین کی مظلومیت کو سنتا دیکھتا ہے اس لئے وہ سب حالات سے باخبر بھی ہے اور قوت وقدرت بھی اس کی سب سے بڑی ہے یہ مجموعہ سبب ہوگیا کمزوروں کو غالب کرنے کا) اور (نیز) یہ (نصرت) اس سبب سے (یقینی) ہے کہ (اس میں کسی طاقت کی مجال نہیں جو اس میں اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وعدہ نصرت کی تائید میں آفاق کی شہادت الم تم کے خطاب پر ہم مختلف مقامات میں بحث کرچکے ہیں کہ یہ مخاطب گروہ کے ایک ایک فرد کو توجہ دلانے کے لئے آتا یہ۔ اوپر کی آیات میں وعدہ نصرت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے حوالہ سے مئوند کیا ہے۔ اس آیت میں اپنی صفات کے ساتھ آفاق کی شہادت بھی شامل کردی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی موجودہ ظاہری حالات کی ناسازگاری کو دیکھ کر خدا کی نصرت کے ظہور کو بعید از امکان نہ سمجھے۔ یہ ہر شخص نہیں سمجھ سکتا کہ خدا کی شان کس طرح ظاہر ہوگی اور اس کے ہاتھ کدھر سے نمودا رہوں گے۔ زمین کو دیکھتے ہو کہ بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے، نہ اس پر سبزہ اور روئیدگی کا کوئی اثر ہوتا اور نہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

63۔ 1 لَطِیْف (باریک بین) ہے، اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کو محیط ہے یا لطف کرنے والا یعنی اپنے بندوں کو روزی پہنچانے میں لطف و کرم سے کام لیتا ہے۔ خَیْر وہ ان باتوں سے باخبر ہے جن میں اس کے بندوں کے معاملات کی تدبیر اور اصلاح ہے۔ یا ان کی ضروریات و حاجات سے آگاہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–67

30: بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے جو احکام دئیے ہیں، ان میں سے کچھ ان احکام سے مختلف ہیں جو پچھلے انبیائے کرام کی امتوں کو دئیے گئے تھے اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے یعنی مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں اللہ نے عبادت کے مختلف طریقے مقرر فرمائے تھے اور ہر دور کے مناسب شریعت کے مختلف احکام دئیے تھے۔ لہذا اگر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے کچھ احکام پچھلی شریعتوں سے الگ ہیں تو اس میں نہ کوئی اعتراض کی بات ہے، اور نہ بحث مباحثے کا کوئی موقع۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم تر ……خبیر (46) آسمانوں سے بارش برسنا ، زمین کا سرسبز اور شاداب ہونا ، صبح و شام ایسے منظار کا دہرایا جانا ، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمارے سامنے بار بار دہرایا جاتا ہے اور ہم اس سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، لیکن اگر ہم اپنے شعور کو ایک شاعر کی طرح بیدار کرلیں تو یہ منظر دلوں اور دماغوں کے اندر بیشمار احساسات پیدا کر یدتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا جو زمین کو پھاڑ کر سرباہر نکالتا ہے ، مٹی اور کیچڑ سے باہر آتا ہے ، یہ ایک چھوٹا سا بچہ ہے اور اس دنیا کی طرف نکل کر ہنستا ہے اور اس کے منہ پر فرحت بخش تبسم ہوتا ہے۔ نظر آتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا اپنی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اسی طرح کفر کی خشک و ویران زمین کو اسلام کی بارش سے سبزہ زار بنا دے گا۔ 3 وہ ہی جانتا ہے کہ کس طرح بارش کے پانی سے سبزہ اگ آتا ہے۔ قدرت اندر ہی اندر ایسی تدبیر و تصرف کرتی ہے کہ خشک زمین پانی وغیرہ کے اجزاء کو اپنے اندر جذب کر کے سرسبز و شاداب ہوجائے اسی طرح وہ اپنی مہربانی، لطیف تدبیر و تربیت، اور کمال خبرداری و آگاہی سے قلوب بنی آدم کو فیوض اسلام کا مینہ برسا کر سرسبز و شاداب بنا دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ” یہاں پر ”لطیف“ کے یہ معنی بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ خفیہ تدبیریں کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

92 یہاں لطیف کا لفظ کا استعمال ہوا ہے اس کے مادہ ل طمیں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں (1) دقت نظر اور (2) نرمی المقائیس اللغہ~ن)~ اور لطیف کے معنوں میں کبھی تو ایک ہی معنی پایا جاتا ہے۔ جیسے اس آیت میں دقیقہ رس (یا ایک ہی معاملہ کی چھوٹی چھوٹی جزئیات پر تک نظر رکھنے والا) کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ بیک وقت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ تمام مخلوق کی چھوٹی سے چھوٹی ضروریات اور تکلیفات کا علم رکھنا پھر ان کا ازالہ بھی کرنا۔ اس صورت میں لطیف کا ترجمہ مہربان کرلیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تصرف کی ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے۔ یعنی پانی اور خشک مٹی کے اجزاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

110۔ وہی اپنے بندوں کی ساری ضرورتوں سے خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، قومی ہوں یا ذاتی، جسمانی ہوں یاروحانی، مادی ہوں یا اخلاقی، ذرہ ذرہ واقف ہے۔ اور انہیں کی مناسبت سے یہ کمال مہربانی بڑے بڑے باریک طریقوں سے انتظام کرتا رہتا ہے۔ جاہل و مشرک قوموں ہی نے نہیں، بعض جاہلی فلاسفہ نے بھی خدا کی قدرت وعلم کو محدود وناقص تسلیم کیا ہے اس قسم کی آیتیں ایسے ہی عقائد ترید میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–64

آیت نمبر 58 تا 64 ترجمہ : اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا یعنی اس کی طاعت میں مکہ سے مدینہ کی طرف (ہجرت کی) پھر وہ شہید کر دئیے گئے یا اپنی موت مرگئے اللہ تعالیٰ ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا، وہ جنت کا رزق ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے، یعنی عطا کرنے والوں میں بہتر عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا کہ کہ وہ اس کو پسند کریں گے اور وہ جنت میں مدخلاً میم کے ضمہ کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ، داخل کرنا یا داخل کرنے کی جگہ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں سے واقف ہے ان کو سزا دینے کے معاملہ میں حلیم ہے، بات ایسی ہے جیسی کہ ہم نے تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلَمْ تَرَکیا تو نے نہیں دیکھا یا کیا تجھے معلوم نہیں (اوّل ترجمہ پر رویت سے مراد ہوگا آنکھوں سے دیکھنا اور دوسرا ترجمہ اس وقت ہوگا جب دیکھنے سے مراد ہوگا دل سے دیکھنا اور جاننا) استفہام انکاری یعنی دیکھ اور جان لے۔ ان اللہ انزل من السمآء مآء فتصبح الارض مخضرۃ کہ اللہ اوپر سے پانی اتارتا ہے (جس سے سبزہ پیدا ہوتا ہے) پھر زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ اس جملہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ کی قدرت کامل اور علم محیط کل ہے۔ ان اللہ لطیف خبیر۔ بیشک اللہ لطف والا (اور) مکمل باخبر ہے۔ لطیف سے مراد یا لطیف العلم ہے یعنی اس کا علم دقیق ہے ہر ذرہ کا علم اس کو ہے یا لطیف کا معنی ہے مہربان یعنی اس کی مہربانی ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن کریم اس چیز کی خبر نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے بارش برسائی جس سے زمین نباتات کی وجہ سے سرسبز ہوگئی اللہ تعالیٰ ان نباتات کے نکالنے میں بڑا مہربان اور ان کے پورے مکانات کی خبر رکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ۔۔ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کی نعمت کا ذکر فرما کر اپنے حق ہونے اور دوسرے تمام معبودوں کے باطل ہونے کا اور اپنی صفات ”سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ“ اور ”الْعَلِيُّ الْكَبِيْر“ کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اپنے ہر چیز پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر اپنی چھ نعمتیں شمار فرمائیں، جن میں سے پہلی نعمت اس آیت میں بیان فرمائی ہے۔ ”اَلَمْ تَرَ“ کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا۔“ یہاں یہ معنی بھی مراد ہوسکتا ہے، کیونکہ بارش برسنا اور زمین کا سرسبز ہونا ہر دیکھنے والے کو نظر آتا ہے۔ مگر عام طور پر قرآن مجید میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–65

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک بان اللہ ھو الحق یعنی وہ حق والا ہے۔ اس کا دین حق ہے اور اس کی عببادت حق ہے اور مومنین اس سے نصرت کے مستحق ہوتے ہیں اس کے حق وعدہ کے حکم سے۔ کو ان ما یدعون من دونہ ھوالباطل یعنی وہ بت جن کا عبادت میں کوئی استحقاق نہیں ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابن عامر اور ابوبکر نے وان ماتدعون تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے اور باقی قراء نے خبر کی بناء پر یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة لقمان میں بھی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید نے اس کو اختیار کیا ہے۔ وان اللہ ھو العلی یعنی اپنی قدرت کی وجہ سے ہر چیز سے بلند ہے۔ اور اشباہ، انداد سے بلند ہے اور ظالم لوگ جو ایسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–64

1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے آیت ذالک ومن عاقب الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک فوجی دستہ بھیجا جبکہ محرم میں سے دو راتیں باقی تھیں۔ وہ مشرکین سے ملے تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ محمد ﷺ کے اصحاب سے لڑو۔ مگر وہ تو شہر حرام یعنی عزت والے مہینے میں قتال کو حرام سمجھتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے ان کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر قتال نہ کرنے کو کہا۔ کیونکہ وہ شہر حرام میں قتال کو حلال نہیں سمجھتے تھے مگر جو ان سے قتال شروع کرے تو پھر وہ بھی لڑتے ہیں مشرکین نے لڑنے کا آغاز کیا تو صحابہ کرام ؓ نے بھی ان سے لڑنے کو حلال جانا اور لڑنا شروع کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی مدد فرمائی۔ 2۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَمْ تَرَ [ کیا تو نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً ۡ [ کچھ پانی ] فَتُصْبِحُ [ تو ہوجاتی ہے ] الْاَرْضُ [ زمین ] مُخْضَرَّةً ۭ [ سرسبز ہوجانے والی ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَطِيْفٌ [ باریک بین ہے ] خَبِيْرٌ [ باخبر ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–66

اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات کے مظاہرے یہ مظلوم کو غالب کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہے، جو کچھ عالم سفلی اور عالم علوی میں ہے وہ سب اسی کا ہے سارے انقلابات زمان میں ہوں یا مکان میں سب اسی کی قدرت و مشیت اور ارادہ سے ہوتے ہیں، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے وہ ہر بات سنتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے وہ حق ہے اس کے علاوہ جو لوگوں نے معبود بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ برتر ہے بڑا ہے وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے وہ لطیف ہے یعنی مہربان ہے اور خبیر ہے جو اپنی ساری مخلوق کی خبر رکھتا ہے وہ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–66

بیان بعض دلائل کمال قدرت و حکمت بالغہ و کمال تسخیر قال اللہ تعالیٰ الم تر ان اللہ انزل من السماء .... الیٰ .... ان الانسان لکفور۔ (ربط) گزشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت اور کمال تسخیر کے کچھ دلائل بیان کرتے ہیں جو چھ دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل نعمت بھی۔ دلیل اول الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فتصبح الارض مخضرۃ ان اللہ لطیف خبیر۔ اے مخاطب تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین سرسبز اور تروتازہ ہوجاتی ہے یعنی ہر قسم کے نباتات اگاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی زندگی کا سامان اگایا اور بیشک وہ خبردار ہے بندوں کا حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

77:۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ “ تا ” اِنَّ الْاِنْسَانَ لِکَفُوْرٌ“ یہ مضمون حصہ اول (نفی شرک اعتقادی) کا اعادہ اور اس پر دو عقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ الخ “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے تم سب اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو کہ آسمان سے بارش اللہ تعالیٰ ہی برساتا ہے جس سے خشک اور بنجر زمین میں سرسبز و شاداب کھیت لہلہانے لگتے ہیں۔ ” لَطِیْفٌ“ وہ ایسا باریک بین باریک دانوں کو اگا کر زمین سے باہر نکال دیتا ہے۔ ” خَبِیْر “ اور اپنے بندوں اور تمام جاندار مخلوق کی حاجتوں اور ضرورتوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کی ضرورت اور حاجت کے مطابق زمین سے روزی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 55–64

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کفار کا شک وتردد : اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۝ 0ۡفَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ۝ 63ۚ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–70

پھر اپنی قدرت اور جبروت کا اظہار عالم میں گوناگوں تصرفات سے ظاہر کرتا ہے بقولہ یولج الیل فی النہار الی ان الانسان لکفور اور انہیں جملوں میں انسان ناقدرے اور ہٹ دھرم کو اپنی بیشمار نعمتیں بھی یاد دلاتا ہے۔ شبہ ہوتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ ایسا رحیم ‘ کریم ‘ منعم ہے اور اس کی رحمت اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں تو پھر بندوں کو محمد ﷺ کی معرفت پابندی شریعت و احکام کی کیوں تکلیف دیتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ کہ ہم نے بندوں کی بھلائی کے لیے ہر امت کے لیے ان کے مناسب ان کے انبیاء اور ہادیوں کی معرفت (جیسا کہ فرمایا ہے ولکل قوم ھاد، وان من امۃ الاخلافیھا نذیر) ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً ز فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً ط اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ۔ (الحج : 63) (کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے۔ ) گزشتہ آیات کریمہ میں جب مسلمانوں کی نصرت و تائید کا وعدہ فرمایا تو کفار نے اسے ایک مذاق سمجھا کیونکہ وہ مسلمانوں کے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے دور دور تک اس کی امید نہ رکھتے تھے کہ مسلمانوں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکتی ہے۔ پروردگار نے ان کے اس تصور استبعاد کو غلط ثابت کرنے کے لیے اپنی بعض صفات کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–64

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے معبودِبرحق ہونے کے مزید دلائل۔ معبودِ حق کی کبریائی اور علّو مرتب جاننا چاہو تو اس بات پر غور کرو کہ وہ آسمان سے کس طرح بارش نازل کرتا ہے جس سے ویران اور مردہ زمین سبزہ کی چادر پہن لیتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں اسی کی ملکیت ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی اور ہر چیز سے بےنیاز اور ہر حوالے سے قابل تعریف ہے۔ بارش اور زمین کی شادابی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین، باخبر اور ہر اعتبار سے غنی اور قابل تعریف ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے لطیف، خبیر زمین و آسمان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ پانی اوپر سے اتارتا ہے) یعنی بارش کی صورت میں فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً (جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے) نبتات کے ذریعہ اس کے بعد کہ وہ سیاہ خشک تھی۔ لطیفہ نحویہ : تصبح صیغہ مضارع ہے۔ ماضی نہیں لایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ بارش کا اثر زمانہ درزمانہ باقی رہتا ہے جیسا کہتے ہیں۔ انعم علی فلان فاروحُ واغدوشاکرًا لہٗ میں صبح و شام اس کا شکر گزار رہونگا۔ اگر تم یوں کہتے فرحت، و غدوت، یہ مفہوم ہرگز پیدا نہ ہوتا۔ البتہ تصبح کا لفظ مرفوع لایا گیا۔ استفہام کے جواب میں منصوب آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63۔ الم تر ان اللہ، ،، ، اس سے نباتات مراد ہیں۔ ان اللہ لطیف، اپنے بندوں کو رزق دیتا ہے اور اپنے بندوں کے لیے زمین سے سبزہ نکالا، خبیر، جو بندوں کے دلوں میں ہے اس کو جانتا ہے جب ان سے بادل ، بارش کو روک لیاجاتا ہے تو بندوں کے دلوں میں اس کے متعلق کیا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–64

61: 64:۔ اوپر مظلوم کی غیبی مدد کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں رات دن کے گھٹنے بڑھنے اور اس موسم کی تبدیلی سے برسات کا موسم آجانے اور اس موسم میں مینہ کے برسنے اور اس مینہ سے طرح طرح کی پیداوار کے پیدا ہونے قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا تاکہ ہر شخص کی سمجھ میں آجاوے کہ جس کی قدرت میں یہ خلاف عقل آنکھوں کے سامنے کی سب باتیں ہیں اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ جس کمزور کو چاہے خلاف عقل بڑے سے بڑے ظالم دشمن پر فتح یاب کر دے ‘ صحیح بخاری میں براء بن العازب سے اور صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے جو 2 ؎ روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام کی تعداد تین سو انیس سے بڑھ کر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–64

آیت 63 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آیات الٰہی میں تفکر و تدبر کی ترغیب ہے، جو اس کی وحدانیت اور اس کے کمال پر دلالت کرتی ہیں، چناچہ فرمایا : (الم تر) یعنی کیا تم نے چشم بصارت اور چشم بصیرت سے دیکھا نہیں ؟ (ان اللہ انزل من السماء ماء) ” بیشک اللہ اتارتا ہے آسمان سے پانی۔ “ اس سے مراد بارش ہے جو پیاسی اور قحط زدہ زمین پر، جس کے کنارے غبار آلود اور اس میں موجود تمام درخت اور نباتات خشک ہوچکے ہوتے ہیں، نازل ہوتی ہے۔ پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے، ہر قسم کا خوبصورت لباس پہن لیتی ہے اور اس طرح زمین خوش منظر بن جاتی ہے۔ بلاشبہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کیا، مردوں کو ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 53–67

منسک کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

123 مظاہر قدرت میں غور و فکر کی دعوت و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا " تم دیکھتے نہیں قدرت کے ان عظیم الشان مظاہر میں "۔ یعنی ان میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے ‘ تاکہ تم اس وحدہ لاشریک کی عظمت ‘ قدرت ‘ اور بےپایاں رحمت کے جابجا بکھرے اور نکھرے آثار و نشانات دیکھ سکو ‘ اور اس کی معرفت سے سرشار ہو کر دارین کی سعادت اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہو سکو ‘ سو اگر تم کائنات کی اس عظیم الشان اور کھلی کتاب کے انہی چند و مظاہر کو دیکھو، اور ان میں غور و فکر سے کام لو جو ہر وقت تمہاری آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں، یعنی آسمان سے پانی اتارنے کے اور اس کے ذریعے مردہ پڑی زمین کو زندگی بخشنے، اور اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–64

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سب سے پہلی مثال ہیں) کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں ، گھر بار چھوڑ دیے مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہ چھوڑی اس پر بھی کفار نے بس نہ کی اور ان پر جنگ مسلط کی حتی کہ وہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہوئے یا مسافری میں موت نے انھیں آلیا تو اگر آخرت ہی نہ ہو تو انھیں کیا ملا یقینا آخرت بھی ہے اور ایسے لوگ نقصان میں بھی نہ رہیں گے اور اللہ جل جلالہ انھیں ان گھروں سے بہترین گھر اور ان نعمتوں سے کروڑوں گناہ بہترین نعمتیں یعنی جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا ، بیشک اللہ کریم ہی بہترین انعامات عطا کرنے والے ہیں ، ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ اسی طرح جو زمین آج کفر و شرکت کی بدولت ویران و بےرونق پڑی ہے اللہ تعالیٰ اسلام کی بارش برسا کر اسے سبزہ زار بنا دے گا۔ 8 ۔ اس سے اپنے بندوں کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا اخلاقی ضرورت پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ اپنے کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندہ کی ضرورت جو اس کے مناسب حال ہو، پوری ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:63) فتصبح۔ میں فاء تعقیب کی ہے یا سببیہ بھی ہوسکتی ہے۔ تصبح۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اصباح (افعال) مصدر۔ ہو ہوجاتی ہے وہ ہوجائے گی ! مخضرۃ۔ الخضرۃ۔ ایک قسم کا رنگ جو سیاہی اور سفیدی کے بین بین ہوتا ہے مگر سیاہی غالب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسود (سیاہ) اور اخضر (سبز) ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ عراق کا وہ علاقہ جو بہت سرسبز ہے سواد العراق کہلاتا ہے۔ خضر (سمع) بمعنی سرسبز ہوگیا اور اخضر (افعال) سبز کردیا ۔ باب افعلال (اخضرار) سے اخضر سبز ہوگیا۔ سیاہ ہوگیا۔ اسی سے مخضوۃ اسم فاعل واحد مؤنث کا صیغہ ہے یعنی سبز۔ سیاہی مائل رنگ۔ بہت سبز۔ لطیف۔ لطف سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے دقیقہ رس۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–66

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66 ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔ تشریح آیت نمبر 58 تا 66 : جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–64

صفات الٰہیہ۔ (ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ بڑا قدرت والا ہے جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں بڑھا کر رات کی گھڑیاں گھٹا دیتا ہے اس طرح جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں گھٹا کر رات کی گھڑیاں بڑھا دیتا ہے مظلوموں کی ہر وقت کی فریاد کو سنتا اور ظالموں کے ہر طرح کے ظلم کو دیکھتا ہے یہ اس واسطے ہے کہ وہ بڑا بادشاہ ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں پھر یہ نادان مشرک ایسے بڑے صاحب قدرت کی تعظیم میں بتوں کو تو اللہ کے کارخانہ میں کچھ بھی دخل نہیں، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ صاحب قدرت موسم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–63

[45] اسی طرح کفر کی خشک ویران سرزمین کو اسلام کی بارش سے سبزہ زار بنا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–63

مستور معانی کی جھلک : (ف 1) قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے کہ وہ مشاہدات قدرت سے عجیب عجیب استدلال کرتا ہے اور وجہ استدلال کو بعض دفعہ بیان نہیں کرتا ، تاکہ ذہن پر زیادہ زور پڑے ، اور پوشیدہ معارف کو حاصل کرکے وہ ایک نوع کی روحانی مسرت محسوس کرے ۔ اس آیت میں کہنے کو تو ایک صریح حقیقت بیان کی ہے کہ دیکھو بارش کے بعد خشک زمین کیسی سرسبز ہوجاتی ہے ، مگر آخری الفاظ (آیت) ” ان اللہ لطیف خبیر “۔ پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ پس پردہ معافی اور معارف کا قصر بلند موجود ہے ، یعنی کفار کی توجہ کو اللہ کے لطف عمیم کی جانب مبذول کیا ہے تاکہ وہ اسلام کی ضرورت واہمیت کو سمجھ سکیں ۔ جب اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(63) اے مخاطب ! کیا تو نے یہ نہیں دیکھا اور تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان کی جانب سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ تعالیٰ بہت مہربان اور خبر رکھنے والا ہے۔ یعنی بندوں کی ضرورتوں سے مطلع اور خبردار ہے اسی لئے سب کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 3۔ اگر یہ شخص بدلہ لینا چاہئے تو دنیا میں نصرت شرعیہ یقینی ہے، یعنی اجازت انتقام کی، اور اگر بدلا نہ لے تو آخرت میں نصرت حسیہ ضروری ہے، یعنی ظالم کی تعذیب۔ فائدہ : یہ رعایت مماثلت کا وجوب ہے معاملات معاشرت میں نہ کہ جہاد میں، نیز جو افعال ہر حال میں معصیت ہیں وہ اس عموم سے مستثنی ہیں۔ مثلا کوئی کسی کے والدین کو برا کہے تو عوض میں اس کے والدین کو برا کہنا جائز نہ ہوگا۔ 4۔ اوپر مومنین کے غالب اور کفار کے مغلوب ہونے کا بیان تھا۔ چونکہ مسلمانوں کی موجودہ بےسرو سامانی اور کفار کی عدد اور عدد میں فراوانی پر نظر کرنے پر اس میں ایک گونہ استبعاد تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتے ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو بادل سے بارش نازل کرتا ہے اور زمین کو ہرا بھرا کردیتا ہے : 63۔ (الم تر) کے الفاظ قرآن کریم میں تقریبا 32 ‘ 33 بار آئے ہیں جیسے سورة البقرہ 25 کی آیت 107 ‘ 243 ‘ 256 ‘ سورة آل عمران کی آیت 22 سورة النساء 4 : 43 ‘ 47 ‘ 58 ‘ 75 ‘ سورة ابراہیم 14 کی آیت 19 ‘ 24 ‘ 28 ‘ سورة الحج 22 کی آیت 18 : 63 ‘ 65 : 70 ‘ سورة مریم 19 کی آیت 88 سورة النور 24 کی آیت 41 ‘ 43 ‘ سورة الفرقان 25 کی آیت 45 ‘ سورة الشعراء کی آیت 225 ‘ سورة القمان کی آیت 20 ‘ 29 سورة الفاطر 35 ‘ کی آیت 25 ‘ سورة الزمر کی آیت 31 ‘ سورة ال مومن : 40 کی آیت 69 ‘ سورة المجادلہ کی آیت 7 ‘ 8 ‘ 14 ‘ سورة الحشر کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–64

Commentary In an earlier verse it has been mentioned that Allah Ta’ ala helps those who are wronged unjustly وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِ‌هِمْ لَقَدِيرٌ‌ (Allah is powerful to give them victory - 22:39) Some people bear their sufferings patiently and do not seek vengeance from their oppressors, but there are others who retaliate and serve a full measure of retribution on their oppressors which should, therefore, place them both on even terms as being quits. But if the oppressor, incensed at the retaliation, attacks him again, then this person once again becomes the victim of oppression.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

110. This verse has a deeper meaning also, though apparently it merely declares that Allah alone has the power to send down rain which makes the land green. The deeper meaning is that the rainfall of the blessed revelation will, in the near future, turn the barren land of Arabia into a garden of knowledge, morality and bring forth a high and righteous civilization. 111. Latif implies that Allah fulfills His designs in such fine ways that it is difficult to understand them till they become real and apparent. As He is fully aware of everything, He knows how to conduct the affairs of His Kingdom.

Read the full tafseer →