Explained with ayahs 58–60
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ
یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی راہ میں ہجرت کرجائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لئے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بےلڑے بھڑے اپنی قضا کے ساتھ اپنے بستر پر موت آجائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01000) 4۔ النسآء :100)۔ یعنی جو شخص اپنے گھر اور دیس…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 104
پہلے ان مظلوموں کا ذکر تھا جو ظلم کے مقابلے میں کوئی جوابی کارروائی نہ کرسکے ہوں، اور یہاں ان کا ذکر ہے جو ظالموں کے مقابلے میں قوت استعمال کریں۔
امام شافعی ؒ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ قصاص اسی شکل میں لیا جائے گا جس شکل میں ظلم کیا گیا ہو۔ مثلاً کسی شخص نے اگر آدمی کو ڈبو کر مارا ہے تو اسے بھی ڈبو کر مارا جائے گا، اور کسی نے جلا کر مارا ہے تو اسے بھی جلا کر مارا جائے گا۔ لیکن حنفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ قاتل نے قتل خواہ کسی طریقے سے کیا ہو، اس سے قصاص ایک ہی معروف طریقے پر لیا جائے گا۔
سورة الْحَجّ 105
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور غالباً دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یہ (مضمون تو) ہوچکا اور (آگے یہ سنو کہ) جو شخص (دشمن کو) اسی قدر تکلیف پہنچا دے جس قدر (دشمن کی طرف سے) اس کو تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر (اس برابر سرابر ہوجانے کے بعد اگر اس دشمن کی طرف سے) اس شخص پر زیادتی کی جاوے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی ضرور امداد کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا بہت مغفرت کرنے والا ہے۔
معارف و مسائل
چند آیات پہلے یہ مضمون مذکور ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی مدد کرتا ہے ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ مگر مظلوم کی دو قسم ہیں ایک تو وہ جس نے دشمن سے ظلم کا کوئی انتقام اور بدلہ لیا ہی نہیں بلکہ معاف کردیا یا چھوڑ دیا۔ دوسرا وہ شخص جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60
مہاجرین کے لئے عظیم بشارت
فرمایا کہ ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں پہنچ کر وہ نہال ہوجائیں گے۔ یرضونہ کا لفظ ہے تو نہایت مختصر سا لیکن اس کے اندر معانی کا ایک جہاں پوشیدہ ہے۔ یعنی خدا کی خاطر جو بندہ اپنے گھر اور وطن سے نکلتا ہے، اگر اسی راہ میں اس کو موت آجاتی ہے تو وہ اطمینان رکھے کہ خدا اس کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں اس کی ساری توقعات ہی پوری نہیں ہوجائیں گی بلکہ وہ کچھ اس کو ملے گا جس کا اس جہان میں وہ کوئی تصور نہیں کرسکتا۔
وان اللہ لعلیم حلیم یعنی ہمارے بندے پورا اطمینان رکھیں کہ اس دنیا میں ہماری خاطر اعدائے حق کے ہاتھوں وہ جو کچھ جھیل رہے ہیں ہم اس سے بیخبر نہیں ہیں ہم ہر چیز…
Read the full tafseer →60۔ 1 یعنی یہ کہ مہاجرین بطور خاص شہادت یا طبعی موت پر ہم نے جو وعدہ کیا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا۔
60۔ 2 کسی نے اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے تو جس سے زیادتی کی گئی ہے، اسے بقدر زیادتی بدلہ لینے کا حق ہے۔ لیکن اگر بدلہ لینے کے بعد، جب کہ ظالم اور مظلوم دونوں برابر سربرا ہوچکے ہوں، ظالم، مظلوم پھر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس مظلوم کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ یعنی یہ شبہ نہ ہو کہ مظلوم نے معاف کردینے کی بجائے بدلہ لے کر غلط کام کیا ہے، نہیں، بلکہ اس کی بھی اجازت اللہ ہی نے دی ہے، اس لئے آئندہ بھی اللہ کی مدد کا مستحق رہے گا۔
60۔ 3 اس میں پھر معاف کردینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ درگزر کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
28: اوپر آیت 39 میں مسلمانوں کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے تھے ؛ حالانکہ اس سے پہلے ان کے ظلم کے جواب میں صبر اور درگزر کے احکام دئیے جاتے رہے تھے، اب یہاں صرف جنگ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر قسم کے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے، بشرطیکہ وہ اتنا ہو جتنا ظلم ہوا، اور بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ درگزر کا معاملہ زیادہ افضل ہے ؛ لیکن برابر کا بدلہ لینا بھی جائز ہے، اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ؛ بلکہ یہاں اور آگے بڑھ کر یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر برابر کا بدلہ لینے کے بعد ظالم دوبارہ زیادتی کرے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →ذلک ……غفور (06)
اس نصرت کی شرط یہ ہے کہ سزا بطور قصاص دی گئی ہو ، اس میں زیادتی نہ ہو اور نہ ہی سرکشی کر کے سزا کو ظلم سے بدل دیا گیا ہو۔ سزا میں غلونہ کیا گیا ہو۔
اس سزا کے جواز کے بعد یہ جملہ آیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ اللہ ہر جرم کو معاف بھی کرسکتا ہے لیکن انسانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعض اوقات کسی قیمت پر جرم کو معاف نہیں کرتے اور قصاص اور سزا کے نفاذ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اللہ نے ان کو یہ حق دیا ہے۔ معاف نہ کرنا انسان کی بشری کمزوری ہے۔
ایک شخص پر ظلم ہو ، وہ اس کے بدلے متوازن قصاص لے ، لیکن ظالم اگر پھر ظلم پر اتر آئے تو اللہ کی نصرت کا وعدہ اس شخص کے ساتھ ہے جس نے قصاص لیا۔ ظالم…
Read the full tafseer →5 یعنی مظلوم اگر ظالم سے واجبی بدلہ لے لے۔ پھر ازسر نو ظالم اس پر زیادتی کرے تو وہ پھر مظلوم ٹھہر گیا۔ حق تعالیٰ پھر مدد کرے گا جیسا کہ اس کی عادت ہے کہ مظلوم کی آخر حمایت کرتا ہے۔ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہ، لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کرد
ناجابت از درِ حق بہر استقبال می آید
6 یعنی بندوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ذاتی اور معاشرتی معاملات میں عفو و درگزر کی عادت سیکھیں۔ ہر وقت بدلہ لینے کے درپے نہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی واجبی بدلہ لینے والے کو خدا عذاب نہیں کرتا اگرچہ بدلہ نہ لینا بہتر تھا " بدر " کی لڑائی میں مسلمانوں نے…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ ”
یعنی مسلمانوں پر اس سے قبل جو زیادتیاں ہوچکی ہیں اب وہ ان کا بدلہ لے سکتے ہیں ‘ اور پھر مزید کسی زیادتی کی صورت میں بھی اللہ ان کی مدد فرمائے گا۔
Read the full tafseer →88 پچھلی دو آیات میں ان مہاجر مسلمانوں کا ذکر تھا۔ جو کفار کے ظلم و تشدد سے مجبور ہو کر گھر بار چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے اور وہ ظلم کا بدلہ لے ہی نہ سکتے تھے۔ اب ان لوگوں کا ذکر ہے۔ جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوں۔ انھیں یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر وہ بدلہ لینا چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لیں جس قدر ان پر زیادتی ہوئی ہے۔ اور اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں گے تو یہ خود ظالم ٹھہریں گے اس صورت میں اللہ ان کی مدد کرے گا۔ جو مظلوم ہیں۔ کیونکہ اللہ ہمیشہ مظلوم کی مدد کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبل کو جب یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو جہاں اور بہت سی نعمتیں ارشاد فرمائیں وہاں سب سے آخر میں اور بطور…
Read the full tafseer →103۔ یعنی ایک شخص پر اس کے دشمن نے ظلم کیا اور اس نے اپنا انتقام لے لیا، اور معاملہ برابر سرابر ہوگیا۔ لیکن اس پر بھی اس مظلوم پر از سرنو زیادتی شروع ہوئی۔
104۔ (دنیا میں نصرت شرعی ہے، آخرت میں نصرت معنوی ہے) ” اور یہ جو اوپر قید لگائی گئی، (آیت) ” بمثل ماعوقب “ الخ سو اس مماثلت کی مراعاۃ مظلوم کے اجتہاد پر ہے جس میں اس نے اپنی وسعت حتی الامکان مبذول کی ہو اور اس پر بھی اگر مماثلت سے قدرے بیشی ہوجائے جو بوجہ غایت غموض وخفاء کے ضبط میں نہ آسکے تو وہ موجب مؤاخذہ مخل وعدۂ نصرت نہیں “۔ (تھانوی (رح) ” یہ رعایت مماثلت کو وجوب معاملات معاشرت میں ہے نہ کہ جہاد میں، چناچہ ادلہ شرعیہ سے یہ امر ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
آیت نمبر 58 تا 64
ترجمہ : اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا یعنی اس کی طاعت میں مکہ سے مدینہ کی طرف (ہجرت کی) پھر وہ شہید کر دئیے گئے یا اپنی موت مرگئے اللہ تعالیٰ ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا، وہ جنت کا رزق ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے، یعنی عطا کرنے والوں میں بہتر عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا کہ کہ وہ اس کو پسند کریں گے اور وہ جنت میں مدخلاً میم کے ضمہ کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ، داخل کرنا یا داخل کرنے کی جگہ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں سے واقف ہے ان کو سزا دینے کے معاملہ میں حلیم ہے، بات ایسی ہے جیسی کہ ہم نے تم کو…
Read the full tafseer →ذلک بات یہی ہے یا یہ بات حق ہے۔
ومن عاقب بمثل ما عوقب بہ ثم بغی علیہ لینصرنہ اللہ ان اللہ لعفو غفور۔
اور جو شخص (دشمن کو) اسی قدر تکلیف پہنچائے جس قدر (اس دشمن کی طرف سے) اس کو تکلیف پہنچائی گئی تھی (اور) پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس شخص کی ضرور مدد کرے گا ‘ اللہ بڑا معاف کرنے والا کثیر المغفرت ہے۔ یعنی ظالم سے اتنا ہی بدلہ لے جتنا اس نے ظلم کیا ہے پھر دوبارہ اس پر ظلم کیا جائے تو اللہ یقیناً اس مظلوم کی مدد کرے گا۔ ابتدائی ظلم کو بھی عقاب کہا گیا۔ حالانکہ عقاب (بدلہ) وہ ہوتا ہے جو ظلم کے بعد بطور عوض دیا جائے۔ ایسا صرف ہم شکل ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔ (ابتدائی ظلم ہو یا ظلم کا بدلہ…
Read the full tafseer →(60) جو شخص دشمن کے ولی کو قتل کرے جیسا کہ اس نے اس کے ولی کو قتل کیا ہے اور پھر اس دشمن کی طرف سے اس شخص پر ظلم کیا جائے تو مظلوم کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائے گا کہ وہ اسے قتل کردے گا تو اس سے دیت نہیں کی جائے گی، یہ جس شخص کے بھائی پر زیادتی کی گئی ہے یہ اس کے لیے انتقام ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ذلک ومن عاقب بمثل ما عوقب۔“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ ایک چھوٹے لشکر کے بارے میں نازل ہوئی جس کو رسول اکرم ﷺ نے روانہ فرمایا تھا چناچہ راستے میں ان سے مشرکین ایسے وقت میں ملے جب کہ ماہ محرم الحرام کے اختتام میں دو راتیں باقی تھیں مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ ۚ وَمَنْ عَاقَبَ۔۔ : ”ذٰلِكَ“ کا لفظ دو کلاموں کے درمیان فاصلے کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ تو ہوا، اب اگلی بات سنو کہ جو شخص اتنا ہی بدلہ لے جتنی اسے ایذا دی گئی ہے، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس کی ضرور ہی مدد کرے گا۔ اس میں جہاد کی ترغیب ہے اور ”اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا“ اور ”وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ“ کا مضمون دہرایا گیا ہے۔ عطف اس کا ”وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔“ پر ہے، جس میں ان مظلوموں کا ذکر تھا جو بدلہ نہیں لے سکے، اب ان مظلوموں کا ذکر ہے جو ظالموں کے مقابلے میں قوت استعمال کریں۔ انھیں تاکید ہے کہ وہ اتنا ہی بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الملک یومئذ للہ یحکم بینہم یعنی قیامت کے روز حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اس میں نہ کوئی جھگڑنے والا ہوگا نہ دفاع کرنے والا۔ الملک کا معنی ہے جس کے لیے امور کی تدبیر ہے۔ اس کے لیے قدرت کا وسیع ہونا پھر اس کا حکم بیان فرمایا۔ فالذین امنوا وعملوا الصلحت فی جنت النعیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا فاولئک لھم عذاب مھین۔
میں کہتا ہوں : یہ احتمال ہے کہ یومئذ سے یوم بدر کی طرف اشارہ ہو اس نے اس دن میں کافر کو ہلاک کرنے اور مومن کو سعادت بخشنے کا فیصلہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا تھا : ” تجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر کرم کیا اور فرمایا جو چاہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے آیت ذالک ومن عاقب الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک فوجی دستہ بھیجا جبکہ محرم میں سے دو راتیں باقی تھیں۔ وہ مشرکین سے ملے تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ محمد ﷺ کے اصحاب سے لڑو۔ مگر وہ تو شہر حرام یعنی عزت والے مہینے میں قتال کو حرام سمجھتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے ان کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر قتال نہ کرنے کو کہا۔ کیونکہ وہ شہر حرام میں قتال کو حلال نہیں سمجھتے تھے مگر جو ان سے قتال شروع کرے تو پھر وہ بھی لڑتے ہیں مشرکین نے لڑنے کا آغاز کیا تو صحابہ کرام ؓ نے بھی ان سے لڑنے کو حلال جانا اور لڑنا شروع کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی مدد فرمائی۔
2۔…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ ۚ [ یہ ہے ] وَمَنْ [ اور جو ] عَاقَبَ [ بدلہ لے ] بِمِثْلِ مَا [ اس کے جیسا ] عُوْقِبَ [ اس پر زیادتی کی گئی ] بِهٖ [ جیسی ] ثُمَّ [ پھر ] بُغِيَ [ چڑھائی کی گئی ] عَلَيْهِ [ اس پر ] لَيَنْصُرَنَّهُ [ تو لازما مدد کرے گا اس کی ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَعَفُوٌّ [ یقینا بےانتہا درگزر کرنے والا ہے ] غَفُوْرٌ[ بخشنے والا ہے ]
نوٹ ۔ 1: ایک شخص نے اپنے دشمن سے برابر برابر بدلہ لے لیا جس کا تقاضہ یہ تھا کہ اب دونوں برابر ہوگئے آگے یہ سلسلہ ختم ہو۔ مگر دشمن نے مشتعل ہوکر مزید ظلم کیا تو یہ شخص پھر مظلوم ہی رہ گیا ۔ اس آیت میں ایسے مظلوم کی امداد کا وعدہ ہے ۔ مگر چونکہ…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ذلک صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یہ مبتدا ہے اور خبر مخدوف ہے یعنی یہ بات جو اوپر بیان ہوئی یہ طے شدہ ہے اللہ تعالیٰ نے جیسا فرمایا ہے ویسا ہوگا (وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِہٖ ) (الایۃ) اور جو شخص اس قدر بدلہ لے جس قدر اسے تکلیف پہنچائی گئی پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اس کی مدد فرمائے گا اس آیت سے زیادہ کرنے والے سے بدلہ لینے کی اجازت معلوم ہوئی بشرطیکہ بدلہ لینے میں برابری کا دھیان رہے یعنی جتنی تکلیف پہنچائی گئی ہو اس قدر تکلیف پہنچا سکتا ہے اگر کسی نے اتنا ہی بدلہ لیا جتنا بدلہ لینے کا اختیار تھا پھر اس پر اس شخص کی طرف سے زیادتی کی گئی جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
بشارت مہاجرین و مجاہدین و نعمائے آخرت و وعدہ فتح و نصرت
وتنبیہ بر کمال قدرت و حکمت
قال اللہ تعالیٰ والذین ھاجروا فی سبیل اللہ .... الیٰ .... وان اللہ ھو العلی الکبیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مومنین صالحین کی فضیلت بیان فرمائی ان آیات میں خاص مہاجرین و مجاہدین کی فضیلت بیان فرماتے ہیں آیت مذکورہ بالا اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرہم لقدیر میں مہاجرین کو جہاد کی اجازت اور فتح و نصرت کی بشارت سناتے ہیں کہ ہم دنیا میں بھی ان مہاجرین کی ضرور مدد گے اس لیے کہ یہ مظلوم ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ لوگوں کو چاہئے کہ ان مہاجرین کی بےسرو سامانی کی طرف نظر نہ کریں بلکہ اللہ کی قدرت کی طرف…
Read the full tafseer →73:۔ ” وَ مَنْ عَاقَبَ الخ “۔” وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهَ “۔ من ینصر میں مسلمانوں کو فتح کی خوشخبری دی اب یہاں وعدہ فتح و نصر کا اعادہ کیا گیا تاکہ اس کی دو دلیلیں ایک انی اور لمی کا ذکر کیا جائے۔ ” ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ “ ثم تعقیب ذکر کے لیے ہے یعنی جن لوگوں نے ظالموں سے اپنے اوپر کیے گئے مظالم کا بدلہ لیا اور بدلہ لینے میں حد سے تجاوز نہیں کیا اور پھر ظالموں کی طرف سے وہ سخت مظالم وشدائد کا نشانہ بھی بنے ہوں۔ ظالموں کے مقابلہ میں ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرے گا اور انہیں فتح و ظفر سے ہمکنار کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کفار کا شک وتردد :
اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ 0ۚ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْہِ لَيَنْصُرَنَّہُ اللہُ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ 60
عاقب
والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ،
( ع ق ب ) العاقب
اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
2 ؎ یعنی اس مظلوم کی جس نے بدلہ لیا تھا اور پھر ظالم یا اس کے مددگار نے اس بدلہ لینے والے پر باردگر ظلم کیا تو خدا اس مظلوم کا مددگار ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ذٰلِکَ ج وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَاعُوْقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْہِ لَیَنْصُرَنَّہُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ (الحج : 60)
(یہ بات یاد رکھو ! اور جس نے ویسا ہی بدلہ دیا جیسا کہ اس کے ساتھ کیا گیا ہے پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا، بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔ )
ایک اہم اعلان
ذٰلِکَ : پورے جملے کا قائم مقام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جو کچھ کہا گیا ہے اسے اچھی طرح سمجھ لو اور پلے باندھ لو۔ یہاں بھی اسی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اس سے پہلے کی آیتوں میں مہاجرین فی سبیل اللہ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور ان پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بیشک اللہ تعالیٰ حوصلے والا ہے۔ لیکن وہ اپنے مظلوم بندوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ بدلہ لے سکتے ہیں۔
بدلہ لینے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مظلوم اس قدر ہی بدلہ لے سکتا ہے جس قدر اس پر زیادتی کی گئی ہو۔ اگر بدلہ لینے والے پر دوبارہ زیادتی کی گئی تو اللہ تعالیٰ مظلوم کی مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، بخش دینے والا ہے۔ بدلہ فوجداری، دیوانی اور لسانی معاملات میں ہوگا۔ اخلاقی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے حدود کا نفاذ ہے یعنی اگر کسی کی بہو، بہن، بیٹی یا کسی عزیزہ کے ساتھ کوئی شخص بدکاری کرتا ہے تو اس کی شرعی سزا ہوگی نہ کہ بدکاری کرنے والے کی عزیزہ کے ساتھ بدکاری کی…
Read the full tafseer →60: ذٰلِکَ ای الامرذٰلک (معاملہ یہی ہے۔ ) اس کے بعد والا جملہ مستانفہ ہے۔ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَاعُوْقِبَ بِہٖ (جو شخص دشمن کو اسی قدر تکلیف پہنچائے جتنی اس کو دی گئی) ابتدائے جزاء کو عقوبت سے تعبیر کیا کیونکہ وہ عقوبت سے سبب کی نسبت سے ملی ہوئی ہے اور یہ اس کے نتیجے میں ہوا۔ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْہِ لَیَنْصُرَ نَّہُ اللّٰہُ (پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ضرور مدد دے گا) جس نے اتنی سزا دی جتنی زیادتی اس سے ہوئی۔ پھر اس کے بعد اس پر ظلم کیا گیا اللہ تعالیٰ کے ذمہ حق بن گیا کہ اس کی مدد کرے۔
اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ(بےشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں) وہ گناہوں کے…
Read the full tafseer →60۔ ذالک ، جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کیا۔ ومن عاقب بمثل ماعوقب بہ، ظالم کو اس کے ظلم کے بدلے میں جزا دی جائے گی۔ حسن نے اس کی تشریح اس طرح کی ہیے۔ من عاقب، جس نے مشرکوں کے ساتھ جنگ کی۔ ثم بغی علیہ، اس کو گھر سے نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ وہ ظلم وجور جو مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ کیے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو ان کے گھروں سے نکالا گیا۔
اس آیت کا شان نزول مشرکین کے بارے میں ہوا، کہ کچھ مشرک مسلمانوں کی ایک جماعت پر 28، محرم کو لڑنے کے لیے چڑھ آئے۔ مسلمانون نے ماہ محرم کے احترام کی وجہ سے لڑنا مناسب نہ سمجھا اور مشرکوں سے درخواست کی کہ محر م میں جنگ نہ کرو لیکن مشرکوں نے یہ درخواست رد کردی اور…
Read the full tafseer →60:۔ تفسیر مقاتل بن حیان ‘ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان 1 ؎ نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ مسلمانوں اور مشرکوں کا مقابلہ محرم کے مہینہ میں پڑگیا۔ مشرکوں نے آپس میں صلاح کی کہ اس مہینے میں مسلمانوں پر ضرور حملہ کرنا چاہیے کس لیے کہ اس مہینہ میں یہ لوگ لڑائی کو جائز نہیں سمجھتے اس واسطے یہ اوپرے دل سے ان دنوں میں لڑیں گے اور ہم ان پر غالب رہیں گے ‘ مسلمانوں نے اگرچہ مشرکوں کو طرح طرح کی قسمیں دیں اور کہا کہ محرم کے مہینے میں مقابلہ نہ کرو لیکن مشرکوں نے نہ مانا ‘ آخر مقابلہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی مگر مسلمانوں کے دل میں خلش رہی کہ…
Read the full tafseer →آیت 60
جس شخص کے ساتھ زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کیا گیا ہو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس ظالم کا مقابلہ ویسی ہی زیادتی کے ساتھ کرے۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس پر کوئی مواخذہ اور کوئی ملامت نہیں۔ پس اگر اس کے بعد بھی وہ اس پر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس ظالم کی مدد کرے گا کیونکہ وہ اب مظلوم ہے، اس بنا پر اس کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنانا جائز نہیں کیوں کہ اس نے اپنا حق وصول کرلیا ہے پس جب دوسرے سے اس کی برائی کا بدلہ لینے والا شخص اپنا بدلہ لینے کے بعد زیادتی کرے تو اس کے بعد اس پر پھر ظلم کیا جائے، اللہ تعالیٰ اس دوسرے کی (جواب مظلوم ہے) مدد فرماتا ہے اور وہ مظلوم جو سرے سے بدلہ ہی نہ لے، تو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →118 اللہ اپنے بندوں کی پشت پر ہے : پس وہ اپنے بندوں کی مدد ضرور فرمائے گا کہ ہر کسی کی مدد کرنے والا اور حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے، سو اگر کسی مسلمان پر ظلم ہوا تو اس کو اپنے ظلم کا برابر بدلہ لینے کا حق ہے، اور اس کو اس کی اجازت ہے، اگر اس کے بعد بھی اس پر زیادتی کی گئی تو دشمنان اسلام یاد رکھیں کہ اللہ اپنے ایسے مظلوم بندوں کی پشت پر ہے، وہ ان مظلوموں کا ضرور انتقام ضرور لیگا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو مظلوم مسلمان اگر اپنی جان و مال کی مدافعت میں برابر سرابر کا کوئی اقدام کروں تو ان کو اس کا حق ہے۔ اور ان کو اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ سو اگر اس کے بعد ان پر کوئی زیادتی کی گئی تو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
(صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سب سے پہلی مثال ہیں)
کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں ، گھر بار چھوڑ دیے مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہ چھوڑی اس پر بھی کفار نے بس نہ کی اور ان پر جنگ مسلط کی حتی کہ وہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہوئے یا مسافری میں موت نے انھیں آلیا تو اگر آخرت ہی نہ ہو تو انھیں کیا ملا یقینا آخرت بھی ہے اور ایسے لوگ نقصان میں بھی نہ رہیں گے اور اللہ جل جلالہ انھیں ان گھروں سے بہترین گھر اور ان نعمتوں سے کروڑوں گناہ بہترین نعمتیں یعنی جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا ، بیشک اللہ کریم ہی بہترین انعامات عطا کرنے والے ہیں ، ان…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی مظلوم کے ظالم سے اپنا بدلہ لینے کے بعد، پھر ازسرنو ظالم سے اس پر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس مظلوم کی ضرور مدد فرمائے گا کیونکہ مظلوم کی مدد کرنا اس کا قاعدہ ہے جیسا کہ حضرت انس ؓ سے صحیح روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اتقوا دعوۃ المظلوم وان کان کافرا فانھا لیس بینھما حجاب۔ کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرو چاہے وہ کافر ہو اس لئے کہ اس کے ( اور اللہ کے) درمیان پردہ نہیں ہے۔ (الجامع الصغیر) مقصد یہ ہے کہ مسلمان مظلوم ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کا وعدہ فرمایا ہے۔ (قرطبی)
1 ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنانے کی کوشش کریں اور اپنے ذاتی معاملات میں…
Read the full tafseer →(22:60) ذلک۔ ای الامر ذلک۔ سو یہ بات ہے۔ یہ تو ہے ان کا حال۔ ذلک وقف ج ہے جو وقف جائز کو ظاہر کرتا ہے یہاں پچھلی بات ختم ہوتی ہے ۔ اگلا جملہ مستانفہ ہے اور یہاں سے نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔
عاقب۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ معاقبۃ (مفاعلۃ) سے۔ اس نے بدلہ دیا۔ اس نے سزا دی۔ عوقب ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اسے ایذا دی گئی۔ اسے تکلیف پہنچائی گئی۔ وہ ستایا گیا۔ عقاب مصدر۔ من عاقب بمثل ما عوقب بہ۔ جو شخص اسی قدر تکلیف پہنچائے جتنی تکلیف اسے پہنچائی گئی (یعنی جس نے دشمن کی ایذا کا بدلہ اس کی ایذا کے برابر لے لیا اور یوں معاملہ برابر کردیا )
ثم۔ پھر اس کے بعد۔ بغی علیہ۔ اس پر زیادتی کی گئی۔ بغی ماضی مجہول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–66
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66
ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر 58 تا 66 :
جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول :
یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو ماہ محرم کی آخر تاریخوں میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں نے ماہ مبارک کی حرمت کے خیال سے لڑنا نہ چاہا مگر مشرک نہ مانے اور انہوں نے قتل شروع کردیا، اس وقت مجبورا مسلمانوں کو لڑنا پڑا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور فتح ہوئی مگر مسلمانوں کے دل میں یہ خلش رہی کہ محرم مہینے میں لڑنے سے لالہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوگا، چونکہ اللہ تعالیٰ تو غیب دان ہے اس کو ان کے دلوں کا حال معلوم تھا کہ ان کے دلوں میں محرم کی تعظیم ہے اور اپنی طرف سے ہرگز یہ لڑنا نہیں چاہتے تھے مشرکوں نے جب ان پر کمال زیادتی کی اس وقت انہوں نے بدلہ لینے کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
[43] یعنی وہ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات اور دن کا الٹ پلٹ کرنا اور گھٹانا اور بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ایک مظلوم شخص یا قوم کو مدد دے کر ظالموں کے پنجے سے نکال دے بلکہ ان پر غالب و مسلط کر دے۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جس طرح اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اسی طرح کفر کی سر زمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا۔
[44] یعنی مظلوم کی فریاد سنتا ہے اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
(ف 1) اس آیت میں ایک تو اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی حمایت فرماتے ہیں اور اس کو توفیق دیتے ہیں ، کہ وہ ظلم وجور کے خلاف احتجاج کرسکے ، دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ کی ذات سراسر عفو وکرم سے کام لینی ہے ، وہ غفور اور رحیم ہے ، یعنی اپنوں اور بیگانوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو بخشنے والا اور رحم کر نیوالا ہے ، مقصد یہ ہے کہ تم بھی فورا احتجاج اور جہاد کے لئے آمادہ نہ ہوجاؤ بلکہ اولے اور بہتر یہ ہے کہ ابتداء وسعت حوصلہ سے کام لو ، اور جب دیکھو کہ معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے اور سوائے اس کے اب کوئی طریق نہیں ہے کہ ان لوگوں سے جہاد کیا جائے تو پھر جہاد اولی اور ضروری ہے ۔
Read the full tafseer →(60) یہ مضمون تو ہوچکا اور جس نے اپنے تکلیف پہنچانے والے کو صرف اتنی تکلیف پہنچائی جتنی اس کو پہنچائی گئی تھی پھر اس برابر سرابر بدلا لینے والے پر دوبارہ زیادتی کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی جس پر زیادتی کی جائے گی ضرور مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا درگزر کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے یعنی کسی شخص نے دوسرے شخص یا جماعت پر زیادتی کی کوئی تکلیف پہنچائی یا گھر سے بےگھر کیا پھر اس جماعت یا شخص نے اپنا بدلہ لیا اور بدلا بھی برابر سرابر یعنی بدلا لینے میں کوئی زیادتی نہیں کی۔ لیکن برابر سرابر بدلہ لینے کے بعد پھر پہلے فریق یا شخص نے زیادتی کی تو یہ وعدہ ہے کہ اس مظلوم شخص یا فریق کی ضرور مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
ف 3۔ اگر یہ شخص بدلہ لینا چاہئے تو دنیا میں نصرت شرعیہ یقینی ہے، یعنی اجازت انتقام کی، اور اگر بدلا نہ لے تو آخرت میں نصرت حسیہ ضروری ہے، یعنی ظالم کی تعذیب۔ فائدہ : یہ رعایت مماثلت کا وجوب ہے معاملات معاشرت میں نہ کہ جہاد میں، نیز جو افعال ہر حال میں معصیت ہیں وہ اس عموم سے مستثنی ہیں۔ مثلا کوئی کسی کے والدین کو برا کہے تو عوض میں اس کے والدین کو برا کہنا جائز نہ ہوگا۔
4۔ اوپر مومنین کے غالب اور کفار کے مغلوب ہونے کا بیان تھا۔ چونکہ مسلمانوں کی موجودہ بےسرو سامانی اور کفار کی عدد اور عدد میں فراوانی پر نظر کرنے پر اس میں ایک گونہ استبعاد تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →مدافعت میں برابر برابر کا اقدام کرلینے کی اجازت ہے :
60۔ زیر نظر آیت کا آدھا حصہ تو بالکل وہی ہے جو قبل ازیں سورة النحل 16 : 126 میں گزر چکا ہے اور لفظ (ذلک) زائد ہے لیکن اس کا ذکر پیچھے آیت 30 میں گزر چکا ہے کہ یہ جہاں کہیں بھی بیان ہوا ہے گزشتہ مضمون کا قائم مقام ہو کر بیان ہوا ہے گویا تاکید مزید کے لئے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ ” جتنی سختی اس کے ساتھ کی گئی ٹھیک اتنی سختی ہی اس کے بدلے میں کرنی چاہئے ۔ “ تو دراصل حکومت اسلامی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی رعایا کے لوگوں کے فیصلے کرتے وقت اس اصول کو ملحوظ خاطر رکھے مدعی سے تحقیق کے بعد مدعی علیہ سے بھی تحقیق کرے اور اگر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
Commentary
In an earlier verse it has been mentioned that Allah Ta’ ala helps those who are wronged unjustly وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (Allah is powerful to give them victory - 22:39) Some people bear their sufferings patiently and do not seek vengeance from their oppressors, but there are others who retaliate and serve a full measure of retribution on their oppressors which should, therefore, place them both on even terms as being quits. But if the oppressor, incensed at the retaliation, attacks him again, then this person once again becomes the victim of oppression.…
Read the full tafseer →104. The preceding verses referred to those persecuted people who could not retaliate and here the reference is to those victims of persecution who could fight back.
From this verse, Imam Shafai has concluded that retaliation will be effected in the way as life was taken in the original act. If a person is killed by immersion in water, the killer also should be put to death by immersion in water; or if a person is burnt to death, the killer also will be burnt to death. The Hanafites dispute this. According to them, retaliation against a murderer will be incurred in one and the same…
Read the full tafseer →