Explained with ayahs 61–62
اس پر کوئی حاکم نہیں
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے فرمان ہے آیت (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26) 3۔ آل عمران :26) الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 106
اس پیرا گراف کا تعلق اوپر کے پورے پیراگراف سے ہے نہ کہ صرف قریب کے آخری فقرے سے۔ یعنی کفر و ظلم کی روش اختیار کرنے والوں پر عذاب نازل کرنا، مومن و صالح بندوں کو انعام دینا، مظلوم اہل حق کی داد رسی کرنا، اور طاقت سے ظلم کا مقابلہ کرنے والے اہل حق کی نصرت فرمانا، یہ سب کس وجہ سے ہے ؟ اس لیے کہ اللہ کی صفات یہ اور یہ ہیں۔
سورة الْحَجّ 107
یعنی تمام نظام کائنات پر وہی حاکم ہے اور گردش لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو خدا رات کی تاریکی میں سے دن کی روشنی نکال لاتا ہے اور چمکتے ہوئے دن پر رات کی ظلمت طاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
خلاصہ تفسیر
یہ (مومنین کا غالب کردینا) کہ اللہ تعالیٰ (کی قدرت بڑی کامل ہے وہ) رات (کے اجزاء) کو دن میں اور دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتا ہے (یہ کائناتی انقلاب ایک قوم کو دوسری پر غالب کرنے والے انقلاب سے زیادہ عجیب ہے) اور اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ (ان سب کے اقوال و احوال کو) خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے (وہ کفار کے ظلم اور مومنین کی مظلومیت کو سنتا دیکھتا ہے اس لئے وہ سب حالات سے باخبر بھی ہے اور قوت وقدرت بھی اس کی سب سے بڑی ہے یہ مجموعہ سبب ہوگیا کمزوروں کو غالب کرنے کا) اور (نیز) یہ (نصرت) اس سبب سے (یقینی) ہے کہ (اس میں کسی طاقت کی مجال نہیں جو اس میں اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →وعدہ نصرت کی پہلی دلیل
یہ اوپر کے وعدہ نصرت کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ خدا اس کائنات میں کوئی ناکارہ وجود نہیں ہے، جیسا کہ ان احمقوں نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ مصرف حقیقی وہی ہے وہی ہر روز دن کے بعد رات کو لاتا ہے اور رات کے بعد دن کو نمایاں کرتا ہے اور وہ سمیع وبصیر ہے یعنی (نعوذ باللہ) وہ کوئی اندھا بہرا نہیں ہے کہ اشرار و مفسدین اس کی دنیا میں جو دھاندلی مچاتے پھریں وہ بے، خبر بیٹھا رہے۔ وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے۔ تو جب مصرف حقیقی بھی وہی ہے اور وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا بھی ہے تو آخر وہ اس کائنات کی سیاست سے بےتعلق کیسے رہے گا ؟ لازم ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابل میں، جو اس کی دنیا میں فساد…
Read the full tafseer →61۔ 1 یعنی جو اللہ اس طرح کام کرنے پر قادر ہے، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس کے جن بندوں پر ظلم کیا جائے ان کا بدلہ وہ ظالموں سے لے۔
Read the full tafseer →29: یعنی ایک موسم میں جو دن کا وقت تھا، دوسرے موسم میں اللہ تعالیٰ نے اسے رات بنادیا، اور ایک موسم میں جو رات کا وقت تھا، اسے دوسرے موسم میں دن بنادیا۔ چاند سورج کی گردش کا یہ نظام اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بیشمار مظاہر میں سے یہاں خاص طور پر اس کو شاید اس لیے ذکر کیا گیا ہو کہ یہاں مظلوم کی مدد فرمانے کا ذکر ہے، اور جس طرح رات دن کے اوقات بدلتے رہتے ہیں، اسی طرح جو کبھی مظلوم تھا، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کر کے اسے فتح دلا دیتے ہیں، اور جو ظالم اور بالا دست تھا، اسے نیچا دکھا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ ……بصیر (16)
یہ ایک طبیعی کائناتی منظر ہے اور رات دن ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ گرمیوں اور سردیوں کی صورت میں ہم اس کے آثار دیکھتے ہیں۔ سورج کے غروب کے وقت رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور سورج کے طلوع کے وقت دن رات میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رتا دن میں داخل ہوتی ہے اور سردیوں میں دن کے حدود کو چھوٹا کردیتی ہے اور دن رات میں داخل ہوتا ہے ، گرمیوں میں اور رات کی حدود کو چھوٹا کردیتا ہے۔ انسان ان مناظر کو رات اور دن دیکھتا رہتا ہے کہ دن رات میں اور رات دن میں داخل ہو رہے ہیں لیکن بہت زیادہ انس کی وجہ سے اور بہت زیادہ تکرار کی وجہ سے یہ عجیب و غریب مناظر ہمارے لئے دلکش نہیں رہے…
Read the full tafseer →7 یعنی وہ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات دن کا الٹ پلٹ کر اور گھٹانا بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے اسی کے تصرف سے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں۔ پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ایک مظلوم قوم یا شخص کو امداد دے کر ظالموں کے پنجہ سے نکال دے بلکہ ان پر غالب و مسلط کر دے۔ پہلے مسلمان مہاجرین کا ذکر تھا اس آیت میں اشارہ فرما دیا کہ عنقریب حالات رات دن کی طرح پلٹا کھانے والے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کو دن میں لے لیتا ہے اسی طرح کفر کی سرزمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا۔
8 یعنی مظلوم کی فریاد سنتا اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 61 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ”
یعنی اس کائنات کا پورا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ رات دن کا یہ الٹ پھیر اس نظام کے اندر موجود اعتدال و توازن کی ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کا یہ نظام ایسے ہی چل رہا ہے جیسے کہ اسے چلنا چاہیے۔ اس نظام کو درست رکھنے کے لیے قدرت کی طرف سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ان سے متعلق قبل ازیں آیت 40 میں ایک راہنما اصول بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام میں ظالم اور مفسد قوتوں کو مستقلاً برداشت نہیں کرتا اور دوسری قوتوں کے ذریعے انہیں نیست و نابود کرتا رہتا ہے : وَلَوْلَا دَفْعُ…
Read the full tafseer →90 کائنات میں اللہ تعالیٰ کے تصرف اور قدرت کا یہ عالم ہے کہ دن اور رات کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے کبھی دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور کبھی راتیں گھٹنا اور دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اب جو ہستی کائنات میں اس قدر تصرف کی قدرت رکھتی ہے کیا وہ ظالم سے بدلہ نہ لے سکے گی۔ لہذا جہاں تک ہوسکے ظلم اور زیادتی سے اجتناب کرو اور اس سے بہتر یہ روش ہے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اسے معاف کردیا کرو۔
Read the full tafseer →106۔ (سوجس کی قدرت اس قدر کامل، اور جس کا انتظام اس قدر مستحکم ہو اس کے لیے نصرت مومنین میں تعجب کی کونسی بات ہے) رات جیسی مہیب، سنسان، کامل تاریکی والی ہستی کو روز روشن میں، اور دن جیسی چہل پہل، ہنگامہ و حرکت اور روشنی کامل والی ہستی کو شب تاریک میں تبدیل کرنا، قدرت کا کوئی معمولی نہیں، نہایت درجہ غیر معمولی کرشمہ ہے۔ بےحسی اس کی طرف سے ہم میں صرف اس سبب سے پیدا ہوگئی ہے کہ اس دائمی معجزہ کو دن رات آنکھوں کے سامنے دیکھتے رہتے ہیں۔
107۔ وہ ظالموں کے اقوال کو سن رہا ہے، ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے، اسی طرح مظلوم کی مظلومیت قولی وفعلی سب اس پر روشن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
آیت نمبر 58 تا 64
ترجمہ : اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا یعنی اس کی طاعت میں مکہ سے مدینہ کی طرف (ہجرت کی) پھر وہ شہید کر دئیے گئے یا اپنی موت مرگئے اللہ تعالیٰ ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا، وہ جنت کا رزق ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے، یعنی عطا کرنے والوں میں بہتر عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا کہ کہ وہ اس کو پسند کریں گے اور وہ جنت میں مدخلاً میم کے ضمہ کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ، داخل کرنا یا داخل کرنے کی جگہ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں سے واقف ہے ان کو سزا دینے کے معاملہ میں حلیم ہے، بات ایسی ہے جیسی کہ ہم نے تم کو…
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ یولج الیل فی النہار ویولج النہار فی الیل (اللہ کی یہ مدد) اس لئے ہے کہ
اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یعنی وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے لیکن اس کا دستور یہ ہے کہ متضاد اشیاء میں ادل بدل کرتا رہتا ہے رات کا دن میں اور دن کا رات میں داخلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جتنا ایک کو بڑھاتا ہے اتنا ہی دوسرے کو گھٹا دیتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ روشنی کی جگہ غروب آفتاب کی وجہ سے تاریکی لے آتا ہے اور رات کی تاریکی جگہ طلوع آفتاب کی وجہ سے روشنی کردیتا ہے۔
وان اللہ سمیع بصیر۔ اور اس وجہ سے بھی اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ یعنی بدلہ لینے والے کے اور جس سے
بدلہ لیا…
Read the full tafseer →(61) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے تو بعض اوقات دن رات سے لمبا ہوتا ہے اور دن کے اجزا کو رات میں داخل کرتا ہے تو بسا اوقات رات دن سے زیادہ لمبی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو باتوں کو خوب سننے والا اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ جو مظلوم اور بےنوا کی مدد کرتا ہے، وہ اس لیے ہے کہ یہ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، رات کو دن میں داخل کرکے دن کو رات پر غالب کردیتا ہے اور دن بڑا ہوجاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر کے رات کو دن پر غالب کردیتا ہے اور رات بڑی ہوجاتی ہے۔ تو اس کے لیے مظلوموں کو ظالموں پر غالب کرنا کیا مشکل ہے ؟
وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کے مظلوم کی مدد کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے حال سے پوری طرح باخبر ہے، سب کچھ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے، سنتے اور دیکھتے ہوئے وہ ظلم کو کس طرح برداشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الملک یومئذ للہ یحکم بینہم یعنی قیامت کے روز حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اس میں نہ کوئی جھگڑنے والا ہوگا نہ دفاع کرنے والا۔ الملک کا معنی ہے جس کے لیے امور کی تدبیر ہے۔ اس کے لیے قدرت کا وسیع ہونا پھر اس کا حکم بیان فرمایا۔ فالذین امنوا وعملوا الصلحت فی جنت النعیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا فاولئک لھم عذاب مھین۔
میں کہتا ہوں : یہ احتمال ہے کہ یومئذ سے یوم بدر کی طرف اشارہ ہو اس نے اس دن میں کافر کو ہلاک کرنے اور مومن کو سعادت بخشنے کا فیصلہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا تھا : ” تجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر کرم کیا اور فرمایا جو چاہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے آیت ذالک ومن عاقب الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک فوجی دستہ بھیجا جبکہ محرم میں سے دو راتیں باقی تھیں۔ وہ مشرکین سے ملے تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ محمد ﷺ کے اصحاب سے لڑو۔ مگر وہ تو شہر حرام یعنی عزت والے مہینے میں قتال کو حرام سمجھتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے ان کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر قتال نہ کرنے کو کہا۔ کیونکہ وہ شہر حرام میں قتال کو حلال نہیں سمجھتے تھے مگر جو ان سے قتال شروع کرے تو پھر وہ بھی لڑتے ہیں مشرکین نے لڑنے کا آغاز کیا تو صحابہ کرام ؓ نے بھی ان سے لڑنے کو حلال جانا اور لڑنا شروع کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی مدد فرمائی۔
2۔…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] يُوْلِجُ [ داخل کرتا ہے ] الَّيْلَ [ رات کو ] فِي النَّهَارِ [ دن میں ] وَيُوْلِجُ [ اور داخل کرتا ہے ] النَّهَارَ [ دن کو ] فِي الَّيْلِ [ رات میں ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] سَمِيْعٌۢ [ سننے والا ہے [ بَصِيْرٌ[ دیکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات کے مظاہرے
یہ مظلوم کو غالب کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی وجہ سے ہے، جو کچھ عالم سفلی اور عالم علوی میں ہے وہ سب اسی کا ہے سارے انقلابات زمان میں ہوں یا مکان میں سب اسی کی قدرت و مشیت اور ارادہ سے ہوتے ہیں، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے وہ ہر بات سنتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے وہ حق ہے اس کے علاوہ جو لوگوں نے معبود بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ برتر ہے بڑا ہے وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے وہ لطیف ہے یعنی مہربان ہے اور خبیر ہے جو اپنی ساری مخلوق کی خبر رکھتا ہے وہ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔
اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
بشارت مہاجرین و مجاہدین و نعمائے آخرت و وعدہ فتح و نصرت
وتنبیہ بر کمال قدرت و حکمت
قال اللہ تعالیٰ والذین ھاجروا فی سبیل اللہ .... الیٰ .... وان اللہ ھو العلی الکبیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مومنین صالحین کی فضیلت بیان فرمائی ان آیات میں خاص مہاجرین و مجاہدین کی فضیلت بیان فرماتے ہیں آیت مذکورہ بالا اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرہم لقدیر میں مہاجرین کو جہاد کی اجازت اور فتح و نصرت کی بشارت سناتے ہیں کہ ہم دنیا میں بھی ان مہاجرین کی ضرور مدد گے اس لیے کہ یہ مظلوم ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ لوگوں کو چاہئے کہ ان مہاجرین کی بےسرو سامانی کی طرف نظر نہ کریں بلکہ اللہ کی قدرت کی طرف…
Read the full tafseer →74:۔ ” ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الخ “ یہ فتح و نصرت کی دلیل انی ہے وعدہ فتح و نصرت کا اعادہ کیا گیا تاکہ اس کی دو دلیلیں ذکر کی جائیں قلت عدد کے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے کثیر العدد لشکر اور مسلح فوجوں پر فتح دے سکتا ہے۔ کیونکہ یہ نظام شب و روز اسی کے قبضہ میں ہے جو رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاسکتا ہے وہ ایک جماعت کو دوسری جماعت پر غلبہ بھی دے سکتا ہے ای ذلک النصر کائن بسبب ان اللہ تعالیٰ شانہ قادر علی تغلیب بعض مخلوقاتہ علی بعض والمداولۃ بین الاشیاء المتضادۃ و من شانہ ذلک (روح ج 17 ص 190) ۔
75:۔ ” وَ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ بَصِیْر “ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے والا اور سننے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کفار کا شک وتردد :
اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ وَاَنَّ اللہَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 61
ولج
الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ
[ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ
[ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها .
( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ میں داخل ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] یہاں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
2 ؎ یعنی اس مظلوم کی جس نے بدلہ لیا تھا اور پھر ظالم یا اس کے مددگار نے اس بدلہ لینے والے پر باردگر ظلم کیا تو خدا اس مظلوم کا مددگار ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔ (الحج : 61)
(یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن میں رات کو داخل کرتا ہے اور بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ )
وعدہ نصرت پر اللہ کی قدرت سے استشہاد
ممکن ہے مشرکین کو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے اس وعدے پر یقین نہ ہو کیونکہ وہ اپنے تئیں اپنے مشرکانہ تصور کے باعث اللہ تعالیٰ کو ایک لاتعلق اور بےکا روجود تصور کرتے تھے۔ جو اپنے تمام اخیتار ات اپنے شرکاء کے سپرد کرنے کے بعد کائنات سے دور کسی گوشے میں چھپکر بیٹھ گیا۔ ان کی اس غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : رات اور دن کی گردش سے بتلایا گیا ہے کہ اے رب کے راستے کے راہی تجھے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے یہ تو گردش ایام ہے۔ جو ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ بہتر حالات پیدا کرے گا۔ کیونکہ جس رب کی خاطر تو ہجرت کر رہا ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ حق کو ضرور غلبہ دے گا کیونکہ ” اللہ “ بالا دست اور بڑا ہے۔
ہجرت کا ذکر کرنے کے بعد اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یقیناً وہ ہر بات سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ لوگو ! اللہ تعالیٰ ہی معبودِ حق ہے۔ اس کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں وہ جھوٹ ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار…
Read the full tafseer →نمونہ ہائے قدرت :
61: ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِیْ النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی اللَّیْلِ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ (اور یہ اللہ تعالیٰ کی مدد اس لئے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے اور دیکھنے والے ہیں) یعنی یہ مظلوم کی مدد اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں اور اس کی آیات قدرت میں سے یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی اس میں اس کا اضافہ کردیتا ہے۔ اور اس کا اس میں اضافہ نمبر 2۔ اس وجہ سے کہ وہ دن رات کا خالق ہے اور ان میں تصرف وہی کرنے…
Read the full tafseer →61۔ ذالک، یہ مدد نصرت ، باان اللہ، وہ قادر ہے جس پر وہ چاہے اور اس کی قدرت کی یہ بھی نشانی ہے کہ ، یولج اللیل فی النھار۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
61: 64:۔ اوپر مظلوم کی غیبی مدد کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں رات دن کے گھٹنے بڑھنے اور اس موسم کی تبدیلی سے برسات کا موسم آجانے اور اس موسم میں مینہ کے برسنے اور اس مینہ سے طرح طرح کی پیداوار کے پیدا ہونے قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا تاکہ ہر شخص کی سمجھ میں آجاوے کہ جس کی قدرت میں یہ خلاف عقل آنکھوں کے سامنے کی سب باتیں ہیں اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ جس کمزور کو چاہے خلاف عقل بڑے سے بڑے ظالم دشمن پر فتح یاب کر دے ‘ صحیح بخاری میں براء بن العازب سے اور صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے جو 2 ؎ روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام کی تعداد تین سو انیس سے بڑھ کر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
آیت 61
وہ اللہ جس نے تمہارے لئے یہ اچھے اور انصاف پر مبنی احکام مشروع کئے ہیں، اپنی تقدیر اور تدبیر میں بہترین طریقے سے تصرف کرتا ہے، جو (یولج الیل فی النھار) رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ پس وہ دن کے بعد رات کو اور رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور وہ ان دونوں میں سے ایک کو بڑھاتا اور دوسرے میں اسی حساب سے کمی کرتا رہتا ہے، پھر اس کے برعکس پہلے میں کمی کرتا ہے اور دوسرے کو بڑھاتا ہے۔ پس دن رات کی اس کمی بیشی پر موسم مترتب ہوتے ہیں اور اسی پر شب و روز اور سورج چاند کے فوائد کا انحصار ہے، جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور یہ مختلف مواسم ان کے لئے نہایت ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →120 اللہ کی قدرت کا ایک عظیم الشان مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں۔ سو رات اور دن کا یہ عظیم الشان ادل بدل اللہ پاکی کی قدرت وحکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے جو دنیا کے سامنے آتا ہے اور لگاتار اور پوری پابندی کے ساتھ آتا ہے اور اپنی زبان بےزبانی میں ان کو دعوت غور و فکر دیتا ہے مگر غافل دنیا ہے کہ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتی اور وہ اپنی غفلت سے چونکنے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو ایسا قادر مطلق جو چاہے کرے اس کی قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں ‘ نیز رات دن کے اس ہیر پھیر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
(صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سب سے پہلی مثال ہیں)
کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں ، گھر بار چھوڑ دیے مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہ چھوڑی اس پر بھی کفار نے بس نہ کی اور ان پر جنگ مسلط کی حتی کہ وہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہوئے یا مسافری میں موت نے انھیں آلیا تو اگر آخرت ہی نہ ہو تو انھیں کیا ملا یقینا آخرت بھی ہے اور ایسے لوگ نقصان میں بھی نہ رہیں گے اور اللہ جل جلالہ انھیں ان گھروں سے بہترین گھر اور ان نعمتوں سے کروڑوں گناہ بہترین نعمتیں یعنی جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا ، بیشک اللہ کریم ہی بہترین انعامات عطا کرنے والے ہیں ، ان…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو مظلوم کی مدد کرتا ہے وہ اس لئے ہے کہ…3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور یہ اسی کے کمال قدرت کا کرشمہ ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے چناچہ کبھی دن بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے اور دن چھوٹا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(22:61) ذلک۔ یہ اس لئے کہ۔ ذلک کا اشارہ کس طرف ہے اس میں دو مختلف قول ہیں۔ اول یہ کہ اس کا مشار الیہ خداوند تعالیٰ کی وہ قدرت اور طاقت ہے جس کا بیان آیت ہذا میں ایلاج لیل ونہار کی صورت میں آیا ہے۔
دوم۔ مشار الیہ اللہ تعالیٰ کی وہ تمام صفات ہیں جو آیات 56 تا 60 میں مذکور ہوئی ہیں یعنی قیامت کے روز اس وحدہ لا شریک کی بلا شرکت غیرے مکمل بادشاہی ۔ روز قیامت اس کا خلقت کے لئے واحد حاکم ہونا۔ صالحین کو جنت النعیم میں داخل کرنے کی قدرت کا مالک ہونا۔ اور کفار و مکذبین کو عذاب مہین میں مبتلا کرنا اور اپنے مومن بندوں میں سے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو اس کی امداد کرنا۔ ان تمام صفات کی دلیل اس کی وہ قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–66
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66
ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر 58 تا 66 :
جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
صفات الٰہیہ۔
(ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ بڑا قدرت والا ہے جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں بڑھا کر رات کی گھڑیاں گھٹا دیتا ہے اس طرح جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں گھٹا کر رات کی گھڑیاں بڑھا دیتا ہے مظلوموں کی ہر وقت کی فریاد کو سنتا اور ظالموں کے ہر طرح کے ظلم کو دیکھتا ہے یہ اس واسطے ہے کہ وہ بڑا بادشاہ ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں پھر یہ نادان مشرک ایسے بڑے صاحب قدرت کی تعظیم میں بتوں کو تو اللہ کے کارخانہ میں کچھ بھی دخل نہیں، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ صاحب قدرت موسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
[43] یعنی وہ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات اور دن کا الٹ پلٹ کرنا اور گھٹانا اور بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ایک مظلوم شخص یا قوم کو مدد دے کر ظالموں کے پنجے سے نکال دے بلکہ ان پر غالب و مسلط کر دے۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جس طرح اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اسی طرح کفر کی سر زمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا۔
[44] یعنی مظلوم کی فریاد سنتا ہے اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کو بیان فرمایا ہے کہ کیونکر وہ رات کے بعض اجزا کو دن میں شامل کردیتا ہے ، اور دن کے اجزا کو رات میں یعنی تاریکی آہستہ آہستہ روشنی میں تبدیل ہوجاتی ہے ، اور روشنی تاریکی کی شکل اختیار کرلیتی ہے ، اسی طرح اللہ کی لئے یہ بھی آسان ہے کہ وہ کفر وشرک کی ظلمتوں کو اسلام و ایمان کی روشنی میں بدل دے اور کفار ومنکرین کفر و طغیان کے اندھیرے سے نکل کر توحید و طمانیت کے اجالے میں آجائیں ۔
Read the full tafseer →(61) یہ وعدئہ نصرت اور یہ وعدئہ غلبہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا یہ اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سب کی سنتا سب کو دیکھتا ہے یعنی جس اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی قدرت اور عالم علوی اور سفلی پر اتنی بڑی فرمانروائی ہے کہ رات کے اجزا کو دن میں اور دن کے اجزا کو رات میں داخل کردیتا ہے اور کبھی کا دن بڑا اور کبھی کی رات بڑی ہوجاتی ہے۔ وہی اللہ تعالیٰ اس کی بھی قدرت رکھتا ہے کہ مظلوم کی مدد فرما کر اس کو ظالم پر غالب کردے وہ مظلوم مسلمانوں کی دعا کو سننے والا اور کافروں کے مظالم اور ان کی زیادتیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
ف 3۔ اگر یہ شخص بدلہ لینا چاہئے تو دنیا میں نصرت شرعیہ یقینی ہے، یعنی اجازت انتقام کی، اور اگر بدلا نہ لے تو آخرت میں نصرت حسیہ ضروری ہے، یعنی ظالم کی تعذیب۔ فائدہ : یہ رعایت مماثلت کا وجوب ہے معاملات معاشرت میں نہ کہ جہاد میں، نیز جو افعال ہر حال میں معصیت ہیں وہ اس عموم سے مستثنی ہیں۔ مثلا کوئی کسی کے والدین کو برا کہے تو عوض میں اس کے والدین کو برا کہنا جائز نہ ہوگا۔
4۔ اوپر مومنین کے غالب اور کفار کے مغلوب ہونے کا بیان تھا۔ چونکہ مسلمانوں کی موجودہ بےسرو سامانی اور کفار کی عدد اور عدد میں فراوانی پر نظر کرنے پر اس میں ایک گونہ استبعاد تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتی رہتی ہے :
61۔ اوپر ذکر کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کا ساتھی ہے اور یہ ایسی بات ہے جو لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرسکتی ہے ، اس لئے کہ جس کمزور کا ساتھی زور آور ہو اس کمزور کو کوئی کمزور نہیں سمجھتا اور اگر کوئی بات ایسی کر دے تو زور آور ساتھی یہ کب برداشت کرسکتا ہے کہ اس کے کمزور ساتھی پر کوئی ظلم کرے اور پھر وہ بچ کر نکل جائے اگر ایسا ہو تو گویا اس زور آور کے لئے بھی یہ ایک طرح کا طعنہ ہے اور بلاشبہ وہ بھی اس کو اپنے لئے طعنہ سمجھتا ہے ۔ اس بات کا ازالہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھی ہونے کا مطلب تم کہیں غلط نہ سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
Commentary
In an earlier verse it has been mentioned that Allah Ta’ ala helps those who are wronged unjustly وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (Allah is powerful to give them victory - 22:39) Some people bear their sufferings patiently and do not seek vengeance from their oppressors, but there are others who retaliate and serve a full measure of retribution on their oppressors which should, therefore, place them both on even terms as being quits. But if the oppressor, incensed at the retaliation, attacks him again, then this person once again becomes the victim of oppression.…
Read the full tafseer →106.“That is”(as stated in the preceding paragraph) because Allah is the Ruler of the universe and has the power to give punishments and rewards to those who deserve them.
107. The fact that“Allah causes.........night”is a proof that He is the Master, Sovereign and Ruler of the universe. But the deeper meaning of the verse is that Allah, Who is able to bring forth the light of the day out of the darkness of the night, has the power to bring out the light of the truth out of the darkness of disbelief and ignorance, and the light of justice out of the darkness of tyranny.
108. He hears…
Read the full tafseer →