Explained with ayahs 58–60
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ
یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی راہ میں ہجرت کرجائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لئے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بےلڑے بھڑے اپنی قضا کے ساتھ اپنے بستر پر موت آجائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01000) 4۔ النسآء :100)۔ یعنی جو شخص اپنے گھر اور دیس…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 103
" علیم " ہے، یعنی وہ جانتا ہے کہ کس نے فی الحقیقت اسی کی راہ میں گھر بار چھوڑا ہے اور وہ کس انعام کا مستحق ہے۔ " حلیم " ہے یعنی ایسے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں اور کمزوریوں کی وجہ سے ان کی بڑی بڑی خدمات اور قربانیوں پر پانی پھیر دینے والا نہیں ہے۔ وہ ان سے درگزر فرمائے گا اور ان کے قصور معاف کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
خلاصہ تفسیر
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں (یعنی دین کی حفاظت کے لئے) اپنا وطن چھوڑا (جن کا ذکر پچھلی آیت میں بھی الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ کے الفاظ سے آ چکا ہے) پھر وہ لوگ (کفار کے مقابلہ میں) قتل کئے گئے یا (ویسے ہی طبعی موت سے) مر گئے (وہ ناکام و محروم نہیں، گو ان کو دنیاوی فوائد نہ ملے مگر آخرت میں) اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ایک عمدہ رزق دے گا (یعنی جنت کی بیشمار نعمتیں) اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے اچھا (دینے والا) ہے (اور اس اچھے رزق کے ساتھ) اللہ تعالیٰ ان کو (مسکن بھی اچھا دے گا یعنی) ایسی جگہ لے جا کر داخل کرے گا جس کو وہ (بہت ہی) پسند کریں گے (رہی یہ بات کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60
مہاجرین کے لئے عظیم بشارت
فرمایا کہ ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں پہنچ کر وہ نہال ہوجائیں گے۔ یرضونہ کا لفظ ہے تو نہایت مختصر سا لیکن اس کے اندر معانی کا ایک جہاں پوشیدہ ہے۔ یعنی خدا کی خاطر جو بندہ اپنے گھر اور وطن سے نکلتا ہے، اگر اسی راہ میں اس کو موت آجاتی ہے تو وہ اطمینان رکھے کہ خدا اس کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں اس کی ساری توقعات ہی پوری نہیں ہوجائیں گی بلکہ وہ کچھ اس کو ملے گا جس کا اس جہان میں وہ کوئی تصور نہیں کرسکتا۔
وان اللہ لعلیم حلیم یعنی ہمارے بندے پورا اطمینان رکھیں کہ اس دنیا میں ہماری خاطر اعدائے حق کے ہاتھوں وہ جو کچھ جھیل رہے ہیں ہم اس سے بیخبر نہیں ہیں ہم ہر چیز…
Read the full tafseer →59۔ 1 کیونکہ جنت کی نعمتیں ایسی ہونگیں، جنہیں آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔ اور دیکھنا سننا تو کجا، کسی انسان کے دل میں ان کا وہم و گمان بھی نہیں گزرا، بھلا ایسی نعمتوں سے بہرا یاب ہو کر کون خوش نہیں ہوگا ؟
59۔ 2 عَلِیْم وہ نیک عمل کرنے والوں کے درجات اور ان کے مراتب استحقاق کو جانتا ہے۔ کفر و شرک کرنے والوں کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کو دیکھتا ہے۔ لیکن ان کا فوری مؤاخذہ نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
28: اوپر آیت 39 میں مسلمانوں کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے تھے ؛ حالانکہ اس سے پہلے ان کے ظلم کے جواب میں صبر اور درگزر کے احکام دئیے جاتے رہے تھے، اب یہاں صرف جنگ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر قسم کے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے، بشرطیکہ وہ اتنا ہو جتنا ظلم ہوا، اور بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ درگزر کا معاملہ زیادہ افضل ہے ؛ لیکن برابر کا بدلہ لینا بھی جائز ہے، اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ؛ بلکہ یہاں اور آگے بڑھ کر یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر برابر کا بدلہ لینے کے بعد ظالم دوبارہ زیادتی کرے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
درس نمبر 741 ایک نظر میں
اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا تھا کہ آخرت میں مومنین اور مکذبین کا خاتمہ کیا ہوگا ، جہاں بادشاہت صرف اللہ وحدہ کی ہوگی۔ مضمون یہ چل رہا تھا کہ اللہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت کرتا ہے اپنی دعوت کو خود بچاتا ہے اور جو ایمان لاتا اسے اجر دیتا ہے جو کفر کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے۔
اس سبق کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے ، ا سے قبل مہاجرین و انصار کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کا دفاع بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ جب تک وہ جہاد نہ کریں گے نہ وہ اللہ کی بندگی کرسکتے ہیں ، نہ عبادات ، نہ اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ اپنے دین کی ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
4 مومنین کا انجام پہلے بتلایا تھا، یہاں ان میں سے ایک ممتاز جماعت کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا۔ یعنی جو لوگ خدا کے راستہ میں گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے خواہ وہ لڑائی میں شہید ہوں یا طبعی موت سے مریں دونوں صورتوں میں اللہ کے ہاں ان کی خاص مہمانی ہوگی۔ کھانا پینا، رہنا سہنا سب ان کی مرضی کے موافق ہوگا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس چیز سے راضی ہوں گے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کن لوگوں نے خالص اس کے راستہ میں اپنا گھر بار ترک کیا ہے۔ ایسے مہاجرین و مجاہدین کی فرو گذاشتوں پر حق تعالیٰ تحمل کرے گا۔ اور شان عفو سے کام لے گا یا " علیم " و " حلیم " کی صفات اس غرض سے ذکر کیں کہ اللہ سب کو جانتا ہے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
آیت 58 وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ”
ہجرت کا یہ مضمون یہاں پر موقع محل کی مناسبت سے آیا ہے۔ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورت ہے اور جس طرح ہجرت سے متصلاً بعد سورة البقرۃ کا نزول ہوا اسی طرح ہجرت سے متصلاً قبل سورة الحج نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →87 یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ کسی نے کس کس قدر خلوص نیت کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ لہذا وہ اتنا ہی اسے زیادہ اجر دے گا اور یہاں حلیم کے لفظ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کسی مہاجر سے کچھ خطا ہو بھی گئی تو اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ نہیں کرے گا اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے مہاجرین کو ہجرت پر مجبور کیا تھا اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ حلیم ہے۔ لہذا ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ فوراً عذاب نازل نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →101۔ ہر واقعہ کی حکمت ومصلحت اس پر خوب روشن رہتی ہے۔ اہل ایمان کو دنیا میں اگر ناکامی بھی ہو تو اس سے مایوس وبددل ہرگز نہ ہونا چاہیے۔
102۔ چناچہ بڑے سے بڑے مجرموں، غداروں، باغیوں کو بھی ہمیشہ فوری ہی سزا نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
آیت نمبر 58 تا 64
ترجمہ : اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا یعنی اس کی طاعت میں مکہ سے مدینہ کی طرف (ہجرت کی) پھر وہ شہید کر دئیے گئے یا اپنی موت مرگئے اللہ تعالیٰ ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا، وہ جنت کا رزق ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے، یعنی عطا کرنے والوں میں بہتر عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا کہ کہ وہ اس کو پسند کریں گے اور وہ جنت میں مدخلاً میم کے ضمہ کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ، داخل کرنا یا داخل کرنے کی جگہ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں سے واقف ہے ان کو سزا دینے کے معاملہ میں حلیم ہے، بات ایسی ہے جیسی کہ ہم نے تم کو…
Read the full tafseer →لیدخلنہم مدخلا یرضونہ بیشک ان کو ایسے مقام میں داخل فرمائے گا جس کو وہ پسند کریں گے یعنی جنت کے اندر داخل فرمائے گا جہاں ہر دل پسند چیز باصرہ نواز ہوگی ‘ ایسی جس کو (اس سے پہلے) نہ کسی آنکھ نہ دیکھا ہوگا نہ کان نے سنا ہوگا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا تصور آئے گا۔
وان اللہ لعلیم حلیم۔ اور بیشک اللہ (ان کے اور ان کے دشمنوں کے احوال سے) خوب واقف ہے (اور) بڑے تحمل والا کہ فوری سزا نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →(59) اور اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ اپنے لیے بہت ہی پسند کریں گے یعنی کہ ان کو جنت میں لے جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے ثواب اور ان کی شرافت و بزرگی کو خوب جاننے والا اور جن لوگوں نے ایسے برگزیدہ لوگوں کو قتل کیا ان کی سزا کے موخر کرنے میں بڑا حلیم ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا جو اللہ تعالیٰ آخرت میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فرمائے گا۔
Read the full tafseer →لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗ : مراد جنت ہے جسے دیکھ کر وہ خوش ہوں گے اور اس میں اپنی ہر خواہش موجود پائیں گے۔ پسندیدہ رہائش بھی رزق حسن میں شامل ہے، اس کا الگ ذکر اس لیے فرمایا کہ خوبصورت اور بہترین گھر کا اہتمام لوگ کھانے پینے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔
وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ : صفت ”عَلِیْمٌ“ کی مناسبت اس مقام کے ساتھ دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والوں کے اعمال اور ان کی نیتوں کو خوب جاننے والا ہے، وہ ہر ایک کو ان کے مطابق جزا دے گا اور اسی طرح ہجرت پر مجبور کرنے والے کفار کے اعمال اور نیتوں سے بھی خوب واقف ہے، انھیں بھی ان کے مطابق سزا دے گا۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الملک یومئذ للہ یحکم بینہم یعنی قیامت کے روز حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اس میں نہ کوئی جھگڑنے والا ہوگا نہ دفاع کرنے والا۔ الملک کا معنی ہے جس کے لیے امور کی تدبیر ہے۔ اس کے لیے قدرت کا وسیع ہونا پھر اس کا حکم بیان فرمایا۔ فالذین امنوا وعملوا الصلحت فی جنت النعیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا فاولئک لھم عذاب مھین۔
میں کہتا ہوں : یہ احتمال ہے کہ یومئذ سے یوم بدر کی طرف اشارہ ہو اس نے اس دن میں کافر کو ہلاک کرنے اور مومن کو سعادت بخشنے کا فیصلہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا تھا : ” تجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر کرم کیا اور فرمایا جو چاہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص (مسلمانوں کی) سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مرگیا تو اللہ تعالیٰ اس کو مجاہد کا اجر عطا فرمائے گا اور اس پر رزق کو بھی جاری فرمائے گا اور فتنوں سے اس کو امن دے گا۔ اگر چاہو تو پڑھ لو۔ آیت والذین ہاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا او ماتو۔ سے لے کر حلیم تک۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے فضالہ بن عبید انصاری صحابی ؓ سے روایت ہے کہ وہ ” ارودس “ میں تھے کہ دو جنازوں کو گزارا گیا ان میں سے ایک شہید تھا اور دوسرا متوفی تھا۔ لوگ اس شہید کی طرف مائل ہوئے۔ فضالہ ؓ نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں…
Read the full tafseer →لَيُدْخِلَنَّهُمْ [ وہ لازما داخل کرے گا ان کو ] مُّدْخَلًا [ داخل کرنے کی ایسی جگہ میں ] يَّرْضَوْنَهٗ ۭ [ وہ لوگ پسند کریں گے جس کو ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَعَلِيْمٌ [ یقینا جاننے والا ہے ] حَلِيْمٌ [ بردبار ہے ]
Read the full tafseer →(لَیُدْخِلَنَّھُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ ) (اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس سے وہ خوش ہونگے) یعنی انہیں جنت نصیب فرمائے گا جو انہیں پسند ہوگی وہاں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کہیں جانا گوارا نہیں کریں گے (وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ) (اور اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے حلم والا ہے) سب کے اعمال کو جانتا ہے اپنے علم کے مطابق جزا سزا دے گا اور وہ حلیم بھی ہے سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا حکمت کے مطابق اور اجل مقرر کے موافق سزا دے گا۔ شاید کسی کو اشکال ہو کہ مقتول اور طبعی موت مرنے والے کے درمیان بظاہر فرق ہونا چاہئے لیکن آیت شریفہ کے ظاہری الفاظ سے مساوات مفہوم ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
بشارت مہاجرین و مجاہدین و نعمائے آخرت و وعدہ فتح و نصرت
وتنبیہ بر کمال قدرت و حکمت
قال اللہ تعالیٰ والذین ھاجروا فی سبیل اللہ .... الیٰ .... وان اللہ ھو العلی الکبیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مومنین صالحین کی فضیلت بیان فرمائی ان آیات میں خاص مہاجرین و مجاہدین کی فضیلت بیان فرماتے ہیں آیت مذکورہ بالا اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرہم لقدیر میں مہاجرین کو جہاد کی اجازت اور فتح و نصرت کی بشارت سناتے ہیں کہ ہم دنیا میں بھی ان مہاجرین کی ضرور مدد گے اس لیے کہ یہ مظلوم ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ لوگوں کو چاہئے کہ ان مہاجرین کی بےسرو سامانی کی طرف نظر نہ کریں بلکہ اللہ کی قدرت کی طرف…
Read the full tafseer →72:۔ ” لَیُدْخِلَنَّھُمْ الخ “ اور ان کو ایسے بہشتوں میں داخل کیا جائے گا جنہیں وہ پسند کریں گے اور جہاں انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔ اور نہ کسی چیز کی کمی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لیے ان کی نیات صالحہ کے مطابق ان کو اعزازو اکرام عطا کرے گا اور ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں سے در گذر فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کفار کا شک وتردد :
اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →لَيُدْخِلَنَّہُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَہٗ 0ۭ وَاِنَّ اللہَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ 59
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
رضي
يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
1 ؎ یعنی قرآن ووحی سے۔ 12 منہ
بعض مفسرین کی عادت ہے کہ وہ قرآن مجید کے صاف اور سیدھے مطلب کو الجھاوے میں ڈال دیتے ہیں اور جب کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا تو اس کے لیے کوئی قصہ گھڑ لیتے ہیں پھر اس کو شان نزول قرار دے لیتے ہیں اور پھر لفظ حدثنا یا اخبرنادیکھ کر خوش اعتقاد لوگ اس مہمل بات کو حدیث سمجھ لیتے ہیں چناچہ انہیں آیات کی تفسیر میں ایک قصہ نقل کیا کرتے ہیں کہ مکہ میں آنحضرت ﷺ نے سورة النجم کی اس آیت کے بعد ومناۃ الثالثہ الاخری القائِ شیطانی سے جو آپ کے دل میں خیال تھا بت پرستوں کے خوش کرنے کو یہ جملہ بھی پڑھا دیا تلک الغرانیق العلٰی وان شفاعتھن لترتجیٰ جس سے مشرکین خوش ہوگئے مگر جبرئیل (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْمَا تُوْا لِیَرْزُقَنَّھُمُ اللّٰہُ رِزْقًا حَسَنًا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَخَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ لِیُدْخِلَنَّھُمْ مُدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ۔ (الحج : 58، 59)
(اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا طبعی طور پر فوت ہوئے تو اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ وہ انھیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے بڑا بردبار ہے۔ )
راہِ ہجرت میں اول قدم بھی منزل کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم القرآن
ربط کلام : ذلیل کردینے والے عذاب سے مامون رہنے اور جنت کی نعمتیں پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کفر کے ماحول کو چھوڑ دے۔
ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیزکو ترک کرنا، چھوڑ دینا، لیکن شری اصطلاح میں جو چیز جو اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہو اس کو چھو ڑنا ہجرت کہلاتا ہے اور چھوڑنے والا مہا جر ہوگا۔ کسی قوم کا داعی حق کے مقا بلے میں آجانا ہی ہجرت کا جو از پیدا نہیں کردیتا۔ بلکہ جب تک یہ واضح نہ ہوجائے کہ اس قوم میں خیر کی آبیاری ناممکن ہوگئی ہے ایسے حالات میں نبی کو اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم آجایا کرتا ہے۔ مصلح اور عام داعی حق کو حکم نہیں آیا کرتا تاہم خدا داد بصیرت اور…
Read the full tafseer →59: لَیُدْ خِلَنَّھُمْ مُّدْخَلًا (ضرور وہ ان کو ایسے مقام میں داخل فرمائے گا)
قراءت : مدنی نے مَدْخلاً پڑھا ہے اس سے مراد جنت ہے۔ یَّرْضَوْنَہٗ (جس کو وہ پسند کرتے ہیں) کیونکہ اس میں وہ چیزیں ہیں جو نفس کو پسند ہیں اور جن سے آنکھیں لذت اندوز ہوتی ہے۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ (اور بیشک اللہ تعالیٰ ضرور جاننے والے ہیں) ان کے حالات کو جنہوں نے جہاد میں اپنا وقت پورا کیا اور وہ فوت ہونے والے جو آس لگائے بیٹھے تھے مگر زندگی نے وفاء نہ کی۔ حَلِیْمٌ (حوصلہ والے ہیں) اس کو بھی مہلت دیتے ہیں جو ان سے عناد کے ساتھ قتال کرتا ہے۔
شان نزول : روایت میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب نے عرض کیا اے اللہ کے…
Read the full tafseer →59۔ لیدخلنھم مدخلایرضونہ، کیوں کہ اس میں ان کی من پسند اشیاء ہوں گی اور ایسی اشیاء ہوں گی جو آنکھوں کو لذت بخشیں۔ وان اللہ لیعلم ، ان کی نیتوں کو جانتا ہے۔ “ حلیم، وہ بڑے تحمل والا ہے فوری سزا نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58۔ 59:۔ اوپر جن لوگوں کا ذکر تھا کہ شیطان کی شرارت کے کھل جانے کے بعد ان کا ایمان زیادہ مضبوط ہوگیا ‘ ان آیتوں میں ان کے ایمان کی مضبوطی کا حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی راہ میں اپنے وطن ‘ اہل و عیال سب کو چھوڑا ‘ پھر فرمایا اس لیے وطنی اور مسافرت کی حالت میں جو کوئی ان میں سے شہید ہوا یا اپنی موت سے مرا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کر کے وہ نعمتیں دے گا جن کو یہ لوگ پسند کریں گے ‘ پھر فرمایا ان وطن کے چھوڑنے والوں میں ان لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں نہیں بلکہ دنیا کی کسی غرض کے لئے مکہ کو چھوڑا ہے اور ظاہر میں وہ اپنے آپ کو مہاجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
آیت 58
یہ آیت کریمہ اس شخص کے لئے بہت بڑی بشارت ہے جس نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی نصرت کی خاطر اپنا گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر وطن سے نکلا۔ اب یہ شخص خواہ اپنے بستر پر جان دے یا جہاد کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر واجب ہوگیا ( لیرزقنھم اللہ رزقا حسنا) ” اللہ تعالیٰ انہیں اچھا رزق عطا کرے گا “ عالم برزخ میں اور قیامت کے روز جنت میں داخل کر کے اچھے رزق سے نوازے گا۔ اس جنت میں آرام، خوشبوئیں، حسن، احسان اور قلب و بدن کی تمام نعمتیں جمع ہوں گی۔
اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →117 ایسے خوش نصیبوں کے لیے ایک اور خوش خبری : سو ارشاد فرمائے گا کہ " اللہ ان کو ضرور داخل فرمائے گا ایک عظیم الشان جگہ میں "۔ یعنی جنت میں (ابن کثیر) اور جہاں ان کو وہ ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا جو ان کے خواب و خیال میں بھی کبھی نہ گزری ہوں گی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین سو اللہ کی راہ میں ہجرت اور اللہ کی رضا کیلئے قربانی دینا ایک ایسی عظیم الشان سعادت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے، یہاں تک کہ اس راہ میں طبعی موت مرنا بھی شہادت کا درجہ رکھتا ہے، جیسا کہ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا اور بغیر قتل کے یونہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
مہاجر اور شہید کی تعریف
تشریح : اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جاننے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ ذکر یہاں پر مہاجر اور شہید کا ہو رہا ہے یہ دونوں اعمال بےحد مشکل ہیں۔ یعنی صرف ایمان بچانے کے لیے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے گھر بار آل اولاد ‘ مال جائیداد اور وطن چھوڑ دینا جس قدر مشکل ہے اسی قدر اللہ کو پسند بھی ہے اسی لیے ایسے لوگوں کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ہجرت کرتے ہوئے یا ہجرت کر کے فوت ہوجاتے ہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ان کی خواہش اور پسند کے مطابق بہترین ٹھکانے اور بہترین رزق بھی دیا جائے گا اور پھر اللہ نیتوں کو خوب اچھی۔ طرح جانتا ہے کہ کون منافق ہے اور کون سچا مومن ہے۔ سچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
(صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سب سے پہلی مثال ہیں)
کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں ، گھر بار چھوڑ دیے مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہ چھوڑی اس پر بھی کفار نے بس نہ کی اور ان پر جنگ مسلط کی حتی کہ وہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہوئے یا مسافری میں موت نے انھیں آلیا تو اگر آخرت ہی نہ ہو تو انھیں کیا ملا یقینا آخرت بھی ہے اور ایسے لوگ نقصان میں بھی نہ رہیں گے اور اللہ جل جلالہ انھیں ان گھروں سے بہترین گھر اور ان نعمتوں سے کروڑوں گناہ بہترین نعمتیں یعنی جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا ، بیشک اللہ کریم ہی بہترین انعامات عطا کرنے والے ہیں ، ان…
Read the full tafseer →5 ۔ مراد ہے جنت جسے دیکھ کر وہ خوش ہونگے اور اس میں اپنی ہر خواہش کو موجود پائیں گے۔ (کذا فی الوحیدی) 6 ۔ یعنی اسے معلوم ہے کہ وہ کس چیز سے خوش ہونگے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ کس نے اخلاص کے ساتھ اس کیلئے اپنے گھر بار کو چھوڑا۔ 7 ۔ یعنی ان کو جلدی عذاب نہیں دیتا۔ جنہوں نے ایسے نیک بندوں کو اذیتیں پہنچائیں اور انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا۔
Read the full tafseer →(22:59) لیدخلنہم۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ ادخال (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو ضرور داخل کرے گا
مدخلا۔ داخل ہونے کی جگہ۔ یعنی جنت۔ یرضونہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مدخلا کی طرف راجع ہے جسے وہ پسند کریں گے۔ حلیم۔ تحمل والا۔ باوقار۔ بردبار۔ حلم سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–66
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66
ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر 58 تا 66 :
جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
جہاد میں شہداء اور اپنی موت سے مرنے والوں کے اجرکاذکر۔
(ف 1) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم سے آپ کے بعض اصحاب نے عرض کیا، یارسول اللہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ جہاد کو جاتے ہیں تو ان میں سے جو شہید ہوجاتے ہیں وہ بارگاہ الٰہی سے بڑے بڑے درجے اور انعام پاتے ہیں لیکن جو شہید نہ ہو اور جہاد ہی میں اپنی موت سے مرے تو اس ک لیے بھی کچھ مرتبہ ہے یا نہیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑ کر چلے جاتے ہیں پھر وہ لوگ جو کفار کے مقابلہ میں شہید کیے گئے یا اپنی موت سے مر گئے بیشک ان کو اللہ عمدہ روزی دے گا اور ان کو جنت میں اس شان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
[43] یعنی وہ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات اور دن کا الٹ پلٹ کرنا اور گھٹانا اور بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ایک مظلوم شخص یا قوم کو مدد دے کر ظالموں کے پنجے سے نکال دے بلکہ ان پر غالب و مسلط کر دے۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جس طرح اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اسی طرح کفر کی سر زمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا۔
[44] یعنی مظلوم کی فریاد سنتا ہے اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
(ف 1) اس آیت میں ایک تو اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی حمایت فرماتے ہیں اور اس کو توفیق دیتے ہیں ، کہ وہ ظلم وجور کے خلاف احتجاج کرسکے ، دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ کی ذات سراسر عفو وکرم سے کام لینی ہے ، وہ غفور اور رحیم ہے ، یعنی اپنوں اور بیگانوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو بخشنے والا اور رحم کر نیوالا ہے ، مقصد یہ ہے کہ تم بھی فورا احتجاج اور جہاد کے لئے آمادہ نہ ہوجاؤ بلکہ اولے اور بہتر یہ ہے کہ ابتداء وسعت حوصلہ سے کام لو ، اور جب دیکھو کہ معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے اور سوائے اس کے اب کوئی طریق نہیں ہے کہ ان لوگوں سے جہاد کیا جائے تو پھر جہاد اولی اور ضروری ہے ۔
Read the full tafseer →(59) یقیناً اللہ تعالیٰ ان مہاجرین مذکورکو ایک ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وہ اس جگہ کو دیکھ کر بہت ہی پسند کریں گے اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب جاننے والا اور بڑے تحمل والا ہے۔ یعنی رزق حسن کے ساتھ مسکن بھی ایسا ہوگ جس کو یہ مہاجرین بہت پسند کریں گے۔ رہی یہ بات کہ مسلمان قتل کیوں کئے گئے اور کفار کو پکڑ ا کیوں نہیں تو اس کا جواب ہے کہ ہم اپنی مصالح کو خوب جانتے ہیں اور بڑے علیم ہیں۔ کفار سے جلدی بدلہ نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ ہم بڑے علم اور تحمل کے مالک ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 2۔ یعنی جنت کے میوے اور دیدار حق۔
Read the full tafseer →مہاجرین کے لئے ایک مزید عظیم بشارت کہ وہ خوش کردیئے جائیں گے ۔
59۔ ” وہ ضرور ان کو ایسی جگہ پہنچائے گا جہاں وہ خوشنود ہوں گے “ اندازہ کیجئے اس معجزانہ کلام کا کہ دو لفظوں میں دو انعامات بیان کئے اور دونوں کی وسعت اتنی ہے کہ اگر اس کو کھولا جائے تو دفتر بھر جائیں ، ایک (جنات النعیم) میں داخلہ کا انعام اور دوسرے خوشنودی حاصل ہونے کا انعام اور اس طرح بیان فرمایا کہ نہ تو اس مسکن کی کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کی حدود کو بیان کیا جاسکتا ہے ظاہر ہے کہ جو چیز نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہو ‘ نہ کسی کان نے سنی ہو اور نہ ہی کسی کے دل میں اس کی اصلیت اور حقیقت سما سکتی ہو اس کو بیان کیا جائے تو کیسے اور کیونکر ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
Commentary
Those people who had left their hearth and homes in the cause of Allah and were killed or died of natural death, they would definitely be rewarded. If they have not benefited in this world, their reward will be there in the Hereafter.
Read the full tafseer →103. As Allah is All-Knowing, He knows well those who left their homes for His sake and what reward they deserve. He is Clement, and forgives minor errors and weaknesses of the people; therefore these things will not hinder Him from rewarding the believers for their services and sacrifices.
Read the full tafseer →