Explained with ayahs 58–60
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ
یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی راہ میں ہجرت کرجائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لئے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بےلڑے بھڑے اپنی قضا کے ساتھ اپنے بستر پر موت آجائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01000) 4۔ النسآء :100)۔ یعنی جو شخص اپنے گھر اور دیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
سورة الْحَجّ 102
اصل میں لفظ " عَقِیْم " استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ " بانجھ " ہے۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، ہر کوشش الٹی پڑے، اور ہر امید مایوسی میں تبدیل ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔ مثلاً جس روز قوم نوح پر طوفان آیا، وہ اس کے لیے " بانجھ " دن تھا۔ اسی طرح عاد، ثمود، قوم، لوط، اہل مَدْیَن، اور دوسری سب تباہ شدہ قوموں کے حق میں عذاب الہٰی کے نزول کا دن بانجھ ہی ثابت ہو۔ کیونکہ اس " امروز " کا کوئی چارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
خلاصہ تفسیر
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں (یعنی دین کی حفاظت کے لئے) اپنا وطن چھوڑا (جن کا ذکر پچھلی آیت میں بھی الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ کے الفاظ سے آ چکا ہے) پھر وہ لوگ (کفار کے مقابلہ میں) قتل کئے گئے یا (ویسے ہی طبعی موت سے) مر گئے (وہ ناکام و محروم نہیں، گو ان کو دنیاوی فوائد نہ ملے مگر آخرت میں) اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ایک عمدہ رزق دے گا (یعنی جنت کی بیشمار نعمتیں) اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے اچھا (دینے والا) ہے (اور اس اچھے رزق کے ساتھ) اللہ تعالیٰ ان کو (مسکن بھی اچھا دے گا یعنی) ایسی جگہ لے جا کر داخل کرے گا جس کو وہ (بہت ہی) پسند کریں گے (رہی یہ بات کہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون …… آیات 76-58
آگے ان مسلمانوں کی پہلے دلداری فرمائی ہے ج و اس پر محن دور میں، اعدائے حق کی ستم رانیوں سے تنگ آ کر اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے مختلف علاقوں کو ہجرت کر رہے تھے۔ ان کو اپنی صفات کا حالہ دے کر اطمینان دلایا ہے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے جس طرح مایوسی کے بعد رحمت کی گھٹائیں اٹھتی ہیں اور زمین کو جل تھل کردیتی ہیں اسی طرح تمہارے لئے بھی رحمت کی گھٹائیں برسیں گی اور تم نہال ہو جائو گے۔ تمہارے اعداد کو خدا جو مہلت دے رہا ہے تو اس لئے دے رہا ہے کہ خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا لیکن اس مہلت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
58۔ 1 یعنی اسی ہجرت کی حالت میں موت آگئی یا شہید ہوگئے۔
58۔ 2 یعنی جنت کی نعمتیں جو ختم نہ ہونگیں نہ فنا۔
58۔ 3 کیونکہ وہ بغیر حساب کے، بغیر استحقاق کے اور بغیر سوال کے دیتا ہے۔ علاوہ ازیں انسان بھی جو ایک دوسرے کو دیتے ہیں تو اسی کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں۔ اس لئے اصل رازق وہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
28: اوپر آیت 39 میں مسلمانوں کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے تھے ؛ حالانکہ اس سے پہلے ان کے ظلم کے جواب میں صبر اور درگزر کے احکام دئیے جاتے رہے تھے، اب یہاں صرف جنگ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر قسم کے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے، بشرطیکہ وہ اتنا ہو جتنا ظلم ہوا، اور بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ درگزر کا معاملہ زیادہ افضل ہے ؛ لیکن برابر کا بدلہ لینا بھی جائز ہے، اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ؛ بلکہ یہاں اور آگے بڑھ کر یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر برابر کا بدلہ لینے کے بعد ظالم دوبارہ زیادتی کرے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
درس نمبر 741 ایک نظر میں
اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا تھا کہ آخرت میں مومنین اور مکذبین کا خاتمہ کیا ہوگا ، جہاں بادشاہت صرف اللہ وحدہ کی ہوگی۔ مضمون یہ چل رہا تھا کہ اللہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت کرتا ہے اپنی دعوت کو خود بچاتا ہے اور جو ایمان لاتا اسے اجر دیتا ہے جو کفر کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے۔
اس سبق کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے ، ا سے قبل مہاجرین و انصار کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کا دفاع بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ جب تک وہ جہاد نہ کریں گے نہ وہ اللہ کی بندگی کرسکتے ہیں ، نہ عبادات ، نہ اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ اپنے دین کی ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
4 مومنین کا انجام پہلے بتلایا تھا، یہاں ان میں سے ایک ممتاز جماعت کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا۔ یعنی جو لوگ خدا کے راستہ میں گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے خواہ وہ لڑائی میں شہید ہوں یا طبعی موت سے مریں دونوں صورتوں میں اللہ کے ہاں ان کی خاص مہمانی ہوگی۔ کھانا پینا، رہنا سہنا سب ان کی مرضی کے موافق ہوگا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس چیز سے راضی ہوں گے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کن لوگوں نے خالص اس کے راستہ میں اپنا گھر بار ترک کیا ہے۔ ایسے مہاجرین و مجاہدین کی فرو گذاشتوں پر حق تعالیٰ تحمل کرے گا۔ اور شان عفو سے کام لے گا یا " علیم " و " حلیم " کی صفات اس غرض سے ذکر کیں کہ اللہ سب کو جانتا ہے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
آیت 58 وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ”
ہجرت کا یہ مضمون یہاں پر موقع محل کی مناسبت سے آیا ہے۔ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورت ہے اور جس طرح ہجرت سے متصلاً بعد سورة البقرۃ کا نزول ہوا اسی طرح ہجرت سے متصلاً قبل سورة الحج نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
86 اہل ایمان کا ذکر کرنے کے بعد خصوصی طور پر مہاجرین کا ذکر فرمایا۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے دین کی خاطر اپنے گھر بار، جائیداد اور وطن مالوف کو خیرباد کہا اس کے بعد خواہ جہاد کرکے شہید ہوجائیں یا طبعی موت سے وفات پاجائیں۔ ان کی ہجرت کا عمل ہی اتنا گرانقدر ہے جس کے عوض اللہ انھیں ہزارہا گناہ بہترین کھانے پینے کا سامان اور بہترین رہائش عطا فرمائے گا۔ اتنا بہتر جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
100۔ (جنت میں) یعنی لوگ راہ دین میں ترک وطن کے بعد یا شہید ہوگئے یا اپنی طبعی موت سے مرگئے۔ غرض کسی سبب سے بھی اہل کفر پر غلبہ وفتحمندی کے ثمرات سے اس دنیا میں محروم رہ گئے، وہ اطمینان کامل رکھیں کہ وہ جنت میں ضرور اعلی سے اعلی نعمتوں سے مستفید ومحظوظ ہوں گے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ اللہ کی راہ “۔ سے مراد اللہ کے دین کی راہ میں۔ رزق کا مفہوم بہت وسیع ہے صرف کھانا پینا ہی مراد نہیں۔ نعمتیں، راحتیں اور آسائشیں دنیوی واخروی ہر قسم کی اس میں آگئی۔ الرزق ھو یقال للعطاء الجاری دنیویا کان اودینیا (ابو البقاء)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
آیت نمبر 58 تا 64
ترجمہ : اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا یعنی اس کی طاعت میں مکہ سے مدینہ کی طرف (ہجرت کی) پھر وہ شہید کر دئیے گئے یا اپنی موت مرگئے اللہ تعالیٰ ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا، وہ جنت کا رزق ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے، یعنی عطا کرنے والوں میں بہتر عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا کہ کہ وہ اس کو پسند کریں گے اور وہ جنت میں مدخلاً میم کے ضمہ کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ، داخل کرنا یا داخل کرنے کی جگہ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں سے واقف ہے ان کو سزا دینے کے معاملہ میں حلیم ہے، بات ایسی ہے جیسی کہ ہم نے تم کو…
Read the full tafseer →والذین ہاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا او ما توا لیرزقنہم اللہ رزقا حسنا وان اللہ لہو خیر الرزاقین۔ اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے اللہ ان کو اچھی روزی ضرور ضرور عطا
فرمائے گا اور کوئی شبہ نہیں کہ اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
ہَاجَرُوْا یعنی اعزا و اقارب اور وطن کو چھوڑ دیا۔ اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے۔
مَاتُوْا یعنی اپنی موت (بغیر قتل و قتال کے) سے مرگئے۔
لَیَرْزُقَنَّہُمُ اللّٰہُیعنی جنت کے اندر اللہ ان کو رزق عطا فرمائے گا۔
رِزْقًا حَسَنًا یعنی عیش و راحت دوامی بےمثال۔
اللہ بہترین رزاق ہے کیونکہ وہ بےحساب روزی عطا فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →(58) جن لوگوں نے اطاعت خداوندی میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی پھر ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کفار نے قتل بھی کیا یا سفر یا حضر میں وہ انتقال کر گئے تو ان لوگوں میں سے انتقال فرمانے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں بہترین ثواب اور ان میں سے جو زندہ ہیں ان کو پاکیزہ اور حلال اموال غنیمت عطا فرمائے گا اور یقینا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں سب دینے والوں سے اچھا ہے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔ : اس سے پہلے ”فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ“ کے ساتھ عام مومنوں کا ذکر فرمایا تھا، اب ان میں سے خاص لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے اللہ کی خاطر اپنے وطن، گھر بار اور خویش و اقارب کو چھوڑا۔ مقصد ہجرت کی شان اور اس کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ یہ اتنا عظیم عمل ہے کہ ہجرت کرنے والے جہاد فی سبیل اللہ میں قتل ہوں یا لڑائی کے بغیر فوت ہوجائیں، دار الکفر سے ہجرت کے بعد آخرت کے درجات میں برابر ہیں۔ (ابن عاشور) پہلی آیات سے اس کی ایک اور مناسبت یہ ہے کہ چونکہ مشرکین ان شیطانی شبہات اور رکاوٹوں کے ساتھ، جن کا اوپر ذکر ہوا، بہت سے لوگوں کو ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الملک یومئذ للہ یحکم بینہم یعنی قیامت کے روز حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اس میں نہ کوئی جھگڑنے والا ہوگا نہ دفاع کرنے والا۔ الملک کا معنی ہے جس کے لیے امور کی تدبیر ہے۔ اس کے لیے قدرت کا وسیع ہونا پھر اس کا حکم بیان فرمایا۔ فالذین امنوا وعملوا الصلحت فی جنت النعیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا فاولئک لھم عذاب مھین۔
میں کہتا ہوں : یہ احتمال ہے کہ یومئذ سے یوم بدر کی طرف اشارہ ہو اس نے اس دن میں کافر کو ہلاک کرنے اور مومن کو سعادت بخشنے کا فیصلہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا تھا : ” تجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر کرم کیا اور فرمایا جو چاہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص (مسلمانوں کی) سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مرگیا تو اللہ تعالیٰ اس کو مجاہد کا اجر عطا فرمائے گا اور اس پر رزق کو بھی جاری فرمائے گا اور فتنوں سے اس کو امن دے گا۔ اگر چاہو تو پڑھ لو۔ آیت والذین ہاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا او ماتو۔ سے لے کر حلیم تک۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے فضالہ بن عبید انصاری صحابی ؓ سے روایت ہے کہ وہ ” ارودس “ میں تھے کہ دو جنازوں کو گزارا گیا ان میں سے ایک شہید تھا اور دوسرا متوفی تھا۔ لوگ اس شہید کی طرف مائل ہوئے۔ فضالہ ؓ نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور جنھوں نے ] هَاجَرُوْا [ ہجرت کی ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] ثُمَّ [ پھر ] قُتِلُوْٓا [ وہ قتل کئے گئے ] اَوْ [ یا ] مَاتُوْا [ مرگئے ] لَيَرْزُقَنَّهُمُ [ تو لازما روزی دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] رِزْقًا [ جیسا خوبصورت روزی کا حق ہے ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَهُوَ [ یقینا وہی ] خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ [ روزی دینے والوں کا بہترین ہے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، ہجرت کرنے والوں کے لیے رزق حسن ہے
اسلام کے عہد اول میں مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو طرح طرح سے تکلیفیں دی جاتی تھی جن کی وجہ سے بہت سے صحابہ نے حبشہ کو ہجرت کی اور بہت سے حضرات نے مدینہ منورہ کو ہجرت کی خود رسول اللہ ﷺ نے اپنا وطن مالوف مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی پھر حبشہ کے مہاجرین بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے، جب مدینہ منورہ مرکز اسلام بن گیا تو مختلف قبائل اور مختلف علاقوں کے لوگ بھی مدینہ منورہ آگئے محض اللہ کے لیے وطن کو چھوڑنا وطن میں جو کچھ اموال و املاک گھر جائیداد ساز و سامان ہو اس سب کو چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر بس جانا اس میں بڑا امتحان ہے، بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
بشارت مہاجرین و مجاہدین و نعمائے آخرت و وعدہ فتح و نصرت
وتنبیہ بر کمال قدرت و حکمت
قال اللہ تعالیٰ والذین ھاجروا فی سبیل اللہ .... الیٰ .... وان اللہ ھو العلی الکبیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مومنین صالحین کی فضیلت بیان فرمائی ان آیات میں خاص مہاجرین و مجاہدین کی فضیلت بیان فرماتے ہیں آیت مذکورہ بالا اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرہم لقدیر میں مہاجرین کو جہاد کی اجازت اور فتح و نصرت کی بشارت سناتے ہیں کہ ہم دنیا میں بھی ان مہاجرین کی ضرور مدد گے اس لیے کہ یہ مظلوم ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ لوگوں کو چاہئے کہ ان مہاجرین کی بےسرو سامانی کی طرف نظر نہ کریں بلکہ اللہ کی قدرت کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
71:۔ ” وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا “ تا ” ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْر “ یہ ” اِنَّ اللّٰهَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ سے متعلق ہے۔ وہاں مشرکین سے جہاد کرنے کی اجازت دی گئی اور یہاں اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کی ترغیب دی گئی۔ مشرکین ایمان والوں کی مسجد حرام سے روکتے اور خود اللہ کے اس گھر میں علانیہ شرک کرتے ہیں اور مسلمانوں پر بےدریغ ظلم و ستم کرتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو ان ظالموں سے جہاد کرنے کی اجازت دی گئی اور ساتھ ان کو فتح و کامرانی کی خوشخبری اور شہید ہونے والوں کو جنت کی بشارت سنائی گئی۔ ” وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا الخ “ جن لوگوں نے محض اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کی اپنا مال و جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کفار کا شک وتردد :
اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ ہَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّہُمُ اللہُ رِزْقًا حَسَـنًا 0ۭ وَاِنَّ اللہَ لَہُوَخَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 58
هجر
الهَجْرُ والهِجْرَان : مفارقة الإنسان غيره، إمّا بالبدن، أو باللّسان، أو بالقلب . قال تعالی:
وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ [ النساء/ 34] كناية عن عدم قربهنّ ، وقوله تعالی: إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً [ الفرقان/ 30] فهذا هَجْر بالقلب، أو بالقلب واللّسان . وقوله :
وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا [ المزمل/ 10] يحتمل الثلاثة، ومدعوّ إلى أن يتحرّى أيّ الثلاثة إن أمكنه مع تحرّي المجاملة، وکذا قوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
1 ؎ یعنی قرآن ووحی سے۔ 12 منہ
بعض مفسرین کی عادت ہے کہ وہ قرآن مجید کے صاف اور سیدھے مطلب کو الجھاوے میں ڈال دیتے ہیں اور جب کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا تو اس کے لیے کوئی قصہ گھڑ لیتے ہیں پھر اس کو شان نزول قرار دے لیتے ہیں اور پھر لفظ حدثنا یا اخبرنادیکھ کر خوش اعتقاد لوگ اس مہمل بات کو حدیث سمجھ لیتے ہیں چناچہ انہیں آیات کی تفسیر میں ایک قصہ نقل کیا کرتے ہیں کہ مکہ میں آنحضرت ﷺ نے سورة النجم کی اس آیت کے بعد ومناۃ الثالثہ الاخری القائِ شیطانی سے جو آپ کے دل میں خیال تھا بت پرستوں کے خوش کرنے کو یہ جملہ بھی پڑھا دیا تلک الغرانیق العلٰی وان شفاعتھن لترتجیٰ جس سے مشرکین خوش ہوگئے مگر جبرئیل (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْمَا تُوْا لِیَرْزُقَنَّھُمُ اللّٰہُ رِزْقًا حَسَنًا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَخَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ لِیُدْخِلَنَّھُمْ مُدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ۔ (الحج : 58، 59)
(اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا طبعی طور پر فوت ہوئے تو اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ وہ انھیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے بڑا بردبار ہے۔ )
راہِ ہجرت میں اول قدم بھی منزل کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم القرآن
ربط کلام : ذلیل کردینے والے عذاب سے مامون رہنے اور جنت کی نعمتیں پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کفر کے ماحول کو چھوڑ دے۔
ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیزکو ترک کرنا، چھوڑ دینا، لیکن شری اصطلاح میں جو چیز جو اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہو اس کو چھو ڑنا ہجرت کہلاتا ہے اور چھوڑنے والا مہا جر ہوگا۔ کسی قوم کا داعی حق کے مقا بلے میں آجانا ہی ہجرت کا جو از پیدا نہیں کردیتا۔ بلکہ جب تک یہ واضح نہ ہوجائے کہ اس قوم میں خیر کی آبیاری ناممکن ہوگئی ہے ایسے حالات میں نبی کو اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم آجایا کرتا ہے۔ مصلح اور عام داعی حق کو حکم نہیں آیا کرتا تاہم خدا داد بصیرت اور…
Read the full tafseer →بلا مثال پیدا کرنے والا بلا ملال دے گا :
58: وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی) وہ اپنے اوطان سے جہاد کرنے کیلئے نکلے ہیں۔ ثُمَّ قُتِلُوْا (پھر وہ قتل کردیئے گئے) جہاد میں۔
قراءت : شامی نے قُتِّلُوْا پڑھا ہے۔ اَوْمَاتُوْا (یا طبعی موت آگئی) لَیَرْزُقَنَّھُمُ اللّٰہُ رِزْقًاحَسَنًا (اللہ تعالیٰ ضرور ان کو رزق حسن سے نوازیں گے) ایک قول یہ ہے رزق حسن وہ ہے جو کبھی بھی منقطع نہ ہو۔
وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی بہترین رزق عنایت فرمانے والے ہیں) کیونکہ وہ بلامثال مخلوق کو ایجاد کرنے والے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →58۔ والذین ھاجروا فی سبیل اللہ۔ جو لوگ اپنے وطن سے اور اپنے قبیلہ والوں سے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں اور اس ی رضا کے حصول کے لیے ہجرت کی۔ ثم قتلوا اوماتوا، قتلو تشدید کے ساتھ بھی ہے ۔ لیرزقنھم اللہ رزقا حسنا، رزق حسن سے مراد جو کبھی ختم ہونے والانہ ہو اور وہ جنت کا رزق ہے۔ وان اللہ لھو خیرالرازقین ، بعض نے کہا کہ اس قول کا مطلب دوسری آیت سے واضح ہے۔ بل احیاء عندربھم یرزقون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58۔ 59:۔ اوپر جن لوگوں کا ذکر تھا کہ شیطان کی شرارت کے کھل جانے کے بعد ان کا ایمان زیادہ مضبوط ہوگیا ‘ ان آیتوں میں ان کے ایمان کی مضبوطی کا حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی راہ میں اپنے وطن ‘ اہل و عیال سب کو چھوڑا ‘ پھر فرمایا اس لیے وطنی اور مسافرت کی حالت میں جو کوئی ان میں سے شہید ہوا یا اپنی موت سے مرا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کر کے وہ نعمتیں دے گا جن کو یہ لوگ پسند کریں گے ‘ پھر فرمایا ان وطن کے چھوڑنے والوں میں ان لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں نہیں بلکہ دنیا کی کسی غرض کے لئے مکہ کو چھوڑا ہے اور ظاہر میں وہ اپنے آپ کو مہاجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
آیت 58
یہ آیت کریمہ اس شخص کے لئے بہت بڑی بشارت ہے جس نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی نصرت کی خاطر اپنا گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر وطن سے نکلا۔ اب یہ شخص خواہ اپنے بستر پر جان دے یا جہاد کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر واجب ہوگیا ( لیرزقنھم اللہ رزقا حسنا) ” اللہ تعالیٰ انہیں اچھا رزق عطا کرے گا “ عالم برزخ میں اور قیامت کے روز جنت میں داخل کر کے اچھے رزق سے نوازے گا۔ اس جنت میں آرام، خوشبوئیں، حسن، احسان اور قلب و بدن کی تمام نعمتیں جمع ہوں گی۔
اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →115 ہجرت کی عظمت و فضیلت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جنہوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں "۔ اور انہوں نے اپنے گھر اور وطن کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کی خاطر چھوڑا تو وہ اطمینان رکھیں کہ ان کیلئے کامیابی ہی کامیابی ہے، وہ اس راہ میں مارے جائیں تو بھی اور طبعی موت مرجائیں تو بھی، کہ اس راہ میں پہلا قدم بھی منزل کا درجہ رکھتا ہے،۔ سو ان کو اگر دار الہجرت پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیا گیا یا ان کو موت آگئی تو ان کو بہرصورت شہادت کا درجہ و مرتبہ نصیب ہوگیا اور اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت نمبر 169 میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
مہاجر اور شہید کی تعریف
تشریح : اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جاننے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ ذکر یہاں پر مہاجر اور شہید کا ہو رہا ہے یہ دونوں اعمال بےحد مشکل ہیں۔ یعنی صرف ایمان بچانے کے لیے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے گھر بار آل اولاد ‘ مال جائیداد اور وطن چھوڑ دینا جس قدر مشکل ہے اسی قدر اللہ کو پسند بھی ہے اسی لیے ایسے لوگوں کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ہجرت کرتے ہوئے یا ہجرت کر کے فوت ہوجاتے ہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ان کی خواہش اور پسند کے مطابق بہترین ٹھکانے اور بہترین رزق بھی دیا جائے گا اور پھر اللہ نیتوں کو خوب اچھی۔ طرح جانتا ہے کہ کون منافق ہے اور کون سچا مومن ہے۔ سچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
(صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سب سے پہلی مثال ہیں)
کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں ، گھر بار چھوڑ دیے مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہ چھوڑی اس پر بھی کفار نے بس نہ کی اور ان پر جنگ مسلط کی حتی کہ وہ اللہ جل جلالہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہوئے یا مسافری میں موت نے انھیں آلیا تو اگر آخرت ہی نہ ہو تو انھیں کیا ملا یقینا آخرت بھی ہے اور ایسے لوگ نقصان میں بھی نہ رہیں گے اور اللہ جل جلالہ انھیں ان گھروں سے بہترین گھر اور ان نعمتوں سے کروڑوں گناہ بہترین نعمتیں یعنی جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا ، بیشک اللہ کریم ہی بہترین انعامات عطا کرنے والے ہیں ، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
4 ۔ اس لئے کہ بےحساب روزی دیتا ہے بغیر اس کے کہ اسے ہماری کوئی حاجت ہو۔ بندے ایک دوسرے کو اگر کوئی چیز دیتے ہیں تو اپنے پاس سے نہیں دیتے بلکہ اللہ ہی کا دیا ہوا دیتے ہیں۔ پس اللہ کے سوا کوئی راز ق اور کوئی دینے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(22:58) لیرزقنہم اللہ۔ لیرزقن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ تاکید۔ واحد مذکر غائب وہ ضرور رزق دیتا ہے یا دے گا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اللہ فاعل اللہ تعالیٰ ان کو ضرور رزق دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–66
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 66
ھاجروا (جن لوگوں نے ہجرت کی) ‘ قتلوا (قتل (شہید) کردیئے گئے) ماتوا (وہ مر گئے) ‘ یرزقن (ضرور رزق دیئے جائیں گے) ‘ مدخلا (داخل ہونے کی جگہ) ‘ یرضون (وہ خوش ہوگئے۔ وہ پسند کریں گے) ‘ عاقب (ستایا۔ بدلہ لیا) ‘ یولج (داخل کرتا ہے) ‘ مخضر (سرسبز و شاداب) ‘ سخر (اس نے مسخر کردیا) ‘ یمسک (وہ روکتا ہے) ‘ تقع (وہ گر پڑتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر 58 تا 66 :
جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں اور ایمان کی دولت کو سب سے پیمتی چیز سمجھ کر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
جہاد میں شہداء اور اپنی موت سے مرنے والوں کے اجرکاذکر۔
(ف 1) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم سے آپ کے بعض اصحاب نے عرض کیا، یارسول اللہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ جہاد کو جاتے ہیں تو ان میں سے جو شہید ہوجاتے ہیں وہ بارگاہ الٰہی سے بڑے بڑے درجے اور انعام پاتے ہیں لیکن جو شہید نہ ہو اور جہاد ہی میں اپنی موت سے مرے تو اس ک لیے بھی کچھ مرتبہ ہے یا نہیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑ کر چلے جاتے ہیں پھر وہ لوگ جو کفار کے مقابلہ میں شہید کیے گئے یا اپنی موت سے مر گئے بیشک ان کو اللہ عمدہ روزی دے گا اور ان کو جنت میں اس شان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
[43] یعنی وہ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات اور دن کا الٹ پلٹ کرنا اور گھٹانا اور بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ایک مظلوم شخص یا قوم کو مدد دے کر ظالموں کے پنجے سے نکال دے بلکہ ان پر غالب و مسلط کر دے۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جس طرح اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اسی طرح کفر کی سر زمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا۔
[44] یعنی مظلوم کی فریاد سنتا ہے اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
مسلمان کیوں ہجرت کرتا ہے :
(ف 1) اسلامی نقطہ نگاہ سے دین کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے اور مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے کلچر اپنی تہذیب اور اپنی روایات کو برقرار رکھے ، اس کے نزدیک ملک قوم اور وطنی کشش وجاذبیت کا مفہوم کچھ حیثیت نہیں رکھتا مسلمان کی جان اس کا مال اور اس کا سب کچھ مذہب ہے ، وہ افلاس کو برداشت کرسکتا ہے وہ بھوکا رہ سکتا ہے اور دنیا کی ہر مصیبت کیلئے تیار وآمادہ ہو سکتا ہے مگر دین اور روح کے ادنی وداعی سے ایک لمحہ کے لئے بھی وہ جدا نہیں ہو سکتا ، جو لوگ مسلمان کی نفسیات دینی سے واقف نہیں ، وہ ان کے جذبات وحسیات کو نہیں سمجھ سکتے ان کے نزدیک مذہب کیلئے وطن چھوڑ دینا ، مال…
Read the full tafseer →(58) اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا پھر وہ قتل کردیئے گئے یا اپنی موت سے مرگئے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کو عمدہ اور اچھی روزی عطا فرمائے گا اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے اوپر فرمایا تھا۔ اخرجوا من دیارھم انہی کی تفصیل ہے کہ جن کو ترکف وطن کرنا پڑا پھر اگر وہ کبھی جنگ میں مار ڈالے گئے یا راستہ چلتے کسی نے ان کو مار ڈالا یا وہ اپنی طبعی موت سے مرگئے تو ان کو کوئی نقصان نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو رزق حسن عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر ہے۔
والمحصنٰت میں گزرا ہے ومن یخرج من بیتہ مہاجراً الی اللہ ورسولہ ثم یدرکم الموت فقد وقع اجرہ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 2۔ یعنی جنت کے میوے اور دیدار حق۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے ہجرت کی پھر جہاد کیا اور قتل ہوئے یا مر گئے ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا :
58۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو ایک عام مضمون سے منتقل کرکے خاص مضمون کی طرف لایا گیا ہے وہ اس طرح کہ بات تو عام مسلمانوں کی ہو رہی تھی لیکن اب ان خاص مسلمانوں کی طرف مضمون کا رخ پھیر دیا گیا جو کفار قریش کے ظلم وستم سے تنگ آکر ہجرت پر مجبور ہوگئے تھے اور اس ہجرت سے ان کا مقصود اصل فقط دین اسلام کو بچانا تھا کہ وہ وہی کچھ کریں جو ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے تھے فرمایا ” جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی “ یعنی گھر بار چھوڑا اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے جب انکو اس کے باوجود جہاں وہ ہجرت کرکے گئے وہاں بھی آرام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
Commentary
Those people who had left their hearth and homes in the cause of Allah and were killed or died of natural death, they would definitely be rewarded. If they have not benefited in this world, their reward will be there in the Hereafter.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
102. The epithet“barren”has been applied to the day in its metaphorical and not literal sense. :A day is barren if all the plans, hopes and devices remain unproductive in it, or it does not bring forth its night. For instance, the days on which the people of Prophet Noah, the tribes of Aad and Thamud, the people of Lot and of Midian met with their destruction by scourge from Allah, were barren days in this sense, because those days did not bring forth any tomorrow for them, and no device of theirs could avert their doom.
Read the full tafseer →