Explained with ayahs 52–54
شیطان کا تصرف غلط ہے
یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکہ آگئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، واللہ اعلم۔ چناچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے مکہ شریف میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے آیت (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19ۙ) 53۔ النجم :19) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی) پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور ﷺ نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 101
یعنی شیطان کی ان فتنہ پردازیوں کو اللہ نے لوگوں کی آزمائش، اور کھرے کو کھوٹے سے جدا کرنے کا ایک ذریعہ بنادیا ہے۔ بگڑی ہوئی ذہنیت کے لوگ انہی چیزوں سے غلط نتیجے اخذ کرتے ہیں اور یہ ان کے لیے گمراہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ صاف ذہن کے لوگوں کو یہی باتیں نبی اور کتاب اللہ کے بر حق ہونے کا یقین دلاتی ہیں اور وہ محسوس کرلیتے ہیں کہ یہ سب شیطان کی شرارتیں ہیں اور یہ چیز انہیں مطمئن کردیتی ہے کہ یہ دعوت یقیناً خیر اور راستی کی دعوت ہے، ورنہ شیطان اس پر اس قدر نہ تلملاتا۔
سلسلہ کلام کو نظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو ان آیات کا مطلب صاف سمجھ میں آجاتا ہے۔ نبی ﷺ کی دعوت اس وقت جس مرحلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ یہ لوگ جو شیطان کے اغواء سے آپ سے مجادلہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے (اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے) کچھ پڑھا (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ (اور اعتراض) ڈالا (اور کفار انہی شبہات اور اعتراضات کو پیش کر کے انبیاء سے مجادلہ کیا کرتے جیسا دوسری آیات میں ارشاد ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا، ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیت 54-53
حق کے مقابل میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی پہلی حکمت
اب یہ حکمت واضح فرمائی جا رہی ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں یہ صورت حال کیوں ہے کہ جب کوئی دعوت حق و خیر اٹھتی ہے تو اس کے مقابل میں اشرار و شیاطین بھی اپنی تمام فتنہ انگیزیوں کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں ؟ فرمایا کہ یہ اسلئے ہے کہ اللہ نے حق کے ساتھ باطل کو بھی اس دنیا میں مہلت دے رکھی ہے تاکہ جو حق کو اختیار کرے وہ بھی اختیار وتمیز کے ساتھ کرے اور جو باطل کی طرف جانا چاہے وہ بھی وضوح حق اور اتمام حجت کے بعد جائے۔ اس کشمکش سے اہل ایمان کا ایمان پختہ ہوتا ہے اور اسی سے منافقین اور سخت دلوں پر اللہ کی حجت تمام ہوتی ہے۔
اشرار کے فتنوں…
Read the full tafseer →54۔ 1 یعنی یہ القائے شیطانی، جو دراصل اغوائے شیطانی ہے، اگر اہل مشرکین اور اہل کفر و شرک کے حق میں فتنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف جو علم معرفت کے حال ہیں، ان کے ایمان و یقین میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ کی نازل کردہ بات یعنی قرآن حق ہے۔ جس سے ان کے دل بارگاہ الٰہی میں جھک جاتے ہیں۔
3: دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دنیا میں اس طرح کی ان کی راہنمائی حق کی طرف کردیتا ہے اور اس کے قبول اور اتباع کی توفیق سے بھی نواز دیتا ہے باطل کی سمجھ بھی ان کو دے دیتا ہے اور اس سے انھیں بچا بھی لیتا ہے اور آخرت میں سیدھے راستے کی راہنمائی یہ ہے کہ انھیں جہنم کے عذاب الیم و عظیم سے بچا کر جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
28: اوپر آیت 39 میں مسلمانوں کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے تھے ؛ حالانکہ اس سے پہلے ان کے ظلم کے جواب میں صبر اور درگزر کے احکام دئیے جاتے رہے تھے، اب یہاں صرف جنگ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر قسم کے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے، بشرطیکہ وہ اتنا ہو جتنا ظلم ہوا، اور بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ درگزر کا معاملہ زیادہ افضل ہے ؛ لیکن برابر کا بدلہ لینا بھی جائز ہے، اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ؛ بلکہ یہاں اور آگے بڑھ کر یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر برابر کا بدلہ لینے کے بعد ظالم دوبارہ زیادتی کرے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
وما ارسلنا ……صراط مستقیم (45)
اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم !
ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1 " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی اس میں گمراہ بہکتے ہیں سو ان کا کام ہے بہکنا، اور ایمان والے اور زیادہ مضبوط ہوتے ہیں کہ اس کلام میں بندہ کا دخل نہیں۔ اگر ہوتا تو یہ بھی بندہ کے خیال کی طرح کبھی صحیح کبھی غلط نکلتا۔ اور جس کی نیت اعتقاد پر ہو۔ اللہ اس کو یہ بات سمجھاتا ہے۔ " حضرت شاہ صاحب نے یہ فائدہ اپنے مذاق کے موافق لکھا ہے۔ ہمارا جو خیال ہے اس کی تقریر گذشتہ فائدہ میں گزر چکی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 54 وَّلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ”
ایسے لوگ کسی بھی معاملے میں اللہ کے فیصلے پر پورے شرح صدر کے ساتھ ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔
وَاِنَّ اللّٰہَ لَہَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ”
یعنی مخلص اہل ایمان سے کسی وقت اگر کہیں کوئی لغزش ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کا رخ پھیر کر درست سمت کی طرف موڑ دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
83 یعنی ایمان والے فوراً یہ سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں بات تو فی الواقع وحی الٰہی ہے یا ہوسکتی ہے اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے۔ واضح رہے کہ مندرجہ بالا واقعہ میں سے اس کا صرف آخری حصہ ہی ایسا ہے۔ جو درست ہے اور صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ یعنی کسی موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے سورة النجم تلاوت فرمائی۔ اس کے اختتام پر آپ نے اور مسلمانوں نے سجدہ کیا تو پاس بیٹھے ہوئے مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ ماسوائے ایک شخص (امیہ بن خلف) کے کہ اس نے کنکریں ایک مٹھی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی سے لگا کر کہنے لگا کہ بس مجھے اتنا ہی کافی ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة والنجم) رہی یہ بات کہ قرآن شریف میں بتوں کی…
Read the full tafseer →95۔ یعنی یہ شیطان کو جو حق تصرف شبہات ڈالنے کا دیا گیا ہے، یہ ایک طرف تو منکرین ومذبذبین کے حق میں آزمائش کا طریقہ ہے، دوسری طرف اہل حق کے لیے ان کے ایمان میں اضافہ اور نور ہدایت میں ترقی کا باعث ہے۔
96۔ راہ راست پر تو ایمان والے شروع ہی سے ہوتے ہیں، یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ اس زیادت یقین کی برکت سے انہیں راہ راست کے انتہائی مقامات تک پہنچا کر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
آیت نمبر 49 تا 57
ترجمہ : آپ اعلان کر دیجئے کہ اے لوگو یعنی مکہ والو میں تم کو واضح طور ڈرانے والا ہوں یعنی کھلے طور پر آگاہ کرنے والا ہوں اور میں مومنین کو خوشخبری دینے والا ہوں، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے (سابقہ) گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے وہ جنت ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں یعنی قرآنی آیات کے ابطال کے روپے رہتے ہیں عاجز کرنے کے لئے ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کی ہے نبی ﷺ کی یعنی ان کی طرف عاجز ہونے کی نسبت کرنے کے لئے، اور روکتے ہیں ان کو ایمان سے یا ہم کو عاجز گمان کرتے ہوئے ان کی گرفت سے، اور ایک قرأۃ میں معاجزین بمعنی مسابقین ہے یعنی ہمارے بارے میں یہ…
Read the full tafseer →ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک فیومنوا بہ فتخبت لہ قلوبہم
اور تاکہ جن لوگوں کو فہم (صحیح) عطا ہوا ہے وہ زیادہ یقین کرلیں کہ یہ (جو نبی نے پڑھا ہے) بلاشک و شبہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے اور اس یقین کی وجہ سے ایمان پر (اور زیادہ) قائم ہوجائیں پھر اس کی طرف ان کے دل اور بھی جھک جائیں۔
لِیَعْلَمَ کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی ہم نے جو شیطان کو القاء کی قدرت عطا فرمائی پھر القاء شیطانی کو نابود کردیا اور اپنی آیات کو مضبوط کردیا اس کی دو وجوہ ہیں ایک سبب تو یہ ہے کہ القاء شیطانی کو بیمار دل والے منافقوں اور مشرکوں کے لئے فتنہ بنا دینا مقصود ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اہل علم کے علم میں ایمانی…
Read the full tafseer →(54) تاکہ جن حضرات کو قرآن کریم اور توریت کا علم دیا گیا وہ اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ یہ حق و باطل کی وضاحت اللہ کی طرف سے ہے اور یہ نبی کی زبان پر جو حق بات ظاہر ہوئی ہے وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے سو اللہ تعالیٰ کے اس حق کے اظہار کی اور تصدیق کریں اور پھر اس کی طرف ان کے دل اور بھی جھک جائیں اور بسر و چشم قبول کرلیں۔
اور واقعی اللہ تعالیٰ ہی ایسے لوگوں کو جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے راہ راست یعنی دین اسلام دکھاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً۔۔ : ”شِقَاقٍ“ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے ”قِتَالٌ“ ہے، مراد آمنے سامنے مقابلہ ہے، جس میں ایک فریق ایک شق میں ہوتا ہے اور دوسرا فریق دوسری شق میں۔ اس آیت میں شیطان کو انبیاء کی دعوت اور آیات الٰہی میں شکوک و شبہات ڈالنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی فرصت دینے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ شیاطین کو جو اس طرح کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ابتلا و آزمائش کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں اہل باطل اپنا من بھاتا کھا جا پا کر اہل باطل کے علمبرداروں کے ساتھ ہوجائیں اور اہل حق باطل والوں کے تمام شور و غوغا کے باوجود راہ حق پر مزید…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولیعلم الذین اوتوا العلم اس سے مراد مومنین ہیں۔ بعض نے کہا اہل کتاب ہیں۔ انہ یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ نے آیات قرآنی سے محکم فرمائیں وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ ان کے دل ایمان لائیں اس کے ساتھ اور جھک جائیں اور سکون پائیں۔ بعض نے فتخبت کا معنی تخلص (خالص ہونا) کیا ہے۔ وان اللہ لھاد الذین امنوا ابو حیوہ نے واللہ لھاد الذین امنوا یعنی تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ الی صراط مستظیم۔ یعنی وہ انہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
1۔ عبد بن حمدی وابن الانباری نے مصاحف میں عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث،
2۔ ابن ابی حاتم نے سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی سے پہلے ولا محدث اتارا گیا تھا پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔ اور محدثون یہ تھے۔ صاحب یسین، لقمان یہ آل فرعون میں سے تھے اور صاحب موسیٰ ۔
3۔ ابن المنذور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر آیات نازل کی جاتی ہیں۔ لیکن اس کی طرف نئی شریعت نہیں…
Read the full tafseer →وَّلِيَعْلَمَ [ اور تاکہ جان لیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کو ] اُوْتُوا [ دیا گیا ] الْعِلْمَ [ علم ] اَنَّهُ [ کہ یہ ہی ] الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ [ حق ہے آپ کے رب (کی طرف) سے ] فَيُؤْمِنُوْا [ نتیجتا وہ لوگ ایمان لائیں ] بِهٖ [ اس پر ] فَتُخْبِتَ [ نتیجتا عاجزی اختیار کریں ] لَهٗ [ اس کے لئے ] قُلُوْبُهُمْ ۭ [ ان کے دل ] وَاِنَّ اللّٰهَ [ اور بیشک اللہ ] لَهَادِ الَّذِيْنَ [ یقینا ان کو ہدایت دینے والا ہے جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ سیدھے راستے کی طرف ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت میں شیطان کی حرکتیں اہل علم کے یقین میں پختگی آنا اور کافروں کا شک میں پڑے رہنا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کے مخالفین جو کچھ حرکتیں کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات رسل عظام (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے ان حضرات نے جب اپنے مخاطبین کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے ان کی قرأت اور تلاوت کے بارے میں مخاطبین کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک اور شبہات ڈال دیئے جیسا کہ سوۂ انعام میں فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
ذکر فتنہ شیطان برائے امتحان مخلصان ومنافقان
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی .... الیٰ .... فاولئک لہم عذاب مھین۔
(ربط) گزشتہ آیات والذین سعوا فی ایاتنا معاجزین۔ میں اس بات کا بیان تھا کہ مجادلین اور معاندین ہمیشہ آیات خداوندی کے ابطال کی سعی میں اور دین حق کی تخریب کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں ابطال آیات کی سعی اور اس میں جدوجہد ان مجادلین اور معاندین کی قدیمی عادت ہے اور اس سلسلہ میں شیطان طرح طرح کے فتنے برپا کرتا رہتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شبے ڈالتا رہتا ہے جو کافروں اور ضعیف الایمان لوگوں کے لیے فتنہ بن جاتے ہیں۔ اے نبی آپ ﷺ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
67:۔ ” لِیَجْعَلَ الخ “ یہ ” اَلْقٰی “ سے متعلق ہے یعنی شیطانی وسوسے منافقین اور مشرکین کے لیے مزید گمراہی کا باعث بن جائے اور وہ وساوس و شبہات کے تابع ہو کر کفر وعناد پر مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ” اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مّرض “ سے منافقین ” القاسیة قلوبھم “ سے۔ ” وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الخ “” فَیَنْسَخُ اللّٰهُ “ سے متفعلق ہے یعنی اہل ایمان کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے شیطانی وسوسوں کا اثر زائل کر کے ان کے دلوں کو یقین سے بہرہ مند فرمایا تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ یہ قرآن شریف اور مسئلہ توحید حق ہے اور ان کے دلوں میں مزید اطمینان اور انابت پیدا ہوجائے۔ ” وَاِنَّ اللّٰه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
ربط آیات :
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو اس کی آیتوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور فرمایا کہ یہ لوگ جہنمی ہیں۔ اب آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی کے طور پر فرمایا ہے کہ آپ مخالفین کی مخالفت سے گھرائیں نہیں کیونکہ کافروں اور مشرکوں کا ابتداء سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے اور اللہ کے نبیوں کو ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مگر نہ تو وہ سابقہ ادوار میں کامیاب ہوئے اور نہ اب ہوں گے بلکہ ذلیل وخوارہوں گے۔ ان کے مقابلے میں فتح و کامرانی اہل حق کو ہی نصیب ہوگی۔
نبی اور رسول میں…
Read the full tafseer →وَّلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوْا بِہٖ فَتُخْبِتَ لَہٗ قُلُوْبُہُمْ 0ۭ وَاِنَّ اللہَ لَہَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 54
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
اس کے بعد فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ تم کس لیے جلدی کرتے ہو میں تمہیں مطلع کرنے آیا ہوں کہ جو ایمان لائے گا ‘ نیک کام کرے گا ‘ مغفرت اور دنیا و آخرت میں عزت پاوے گا اور جو مقابلہ کرے گا جہنم میں جائے گا میں نذیر ہوں بشیر ہوں نہ خدا ہوں نہ خدا کے گھر کا مالک و مختار کہ جو چاہوں تمہاری خواہشوں کے موافق اس کو کرد کھائوں۔ اس لیے اس بات کی تائید کے لیے یہ کلام بعد میں صادر فرمایا وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی لشیطان فی امنیۃ کہ اے محمد ﷺ ! تم پر کیا موقوف ہے تم سے پیشتر جس قدر رسول اور نبی بھیجے گئے ہیں گو وہ معصوم تھے مگر بشر تھے خواص بشریہ سے خالی نہ تھے جب کبھی کسی نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
لِّیَجْعَلَ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ ۔ لا وَّلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَیُؤُ مِنُوْا بِہٖ فَتُخْبِتَ لَہٗ قُلُوْبُھُمْ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الحج : 53، 54)
(یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ذریعے ڈالے ہوئے وسوسوں کو ان لوگوں کے لیے فتنہ بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں۔ اور بیشک ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل جاتے ہیں۔ نیز اس میں یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کے مقابلے میں ایمانداروں کے دل اور کردار۔
اللہ تعالیٰ اس لیے شیطان کی شیطنت کو دباتا اور مٹاتا ہے تاکہ حقیقی علم رکھنے والے لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ اور حق ہے۔ حقیقی علم رکھنے والے لوگ ” اللہ “ کے فرمان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل حق بات کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ضرور رہنمائی کرتا اور انھیں سیدھے راستے پر گامزن رہنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں علم سے مراد شریعت کا وہ علم ہے جس سے ایماندار لوگ رہنمائی حاصل کرکے شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ” اُوْتُوْ العِلْمَ “ سے مراد وہ لوگ…
Read the full tafseer →54: وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ (اور تاکہ علم والے جان لیں) جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین اور آیات کا علم ملا ہے۔ اَنَّہٗ (کہ یہ) قرآن الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَیُؤْمِنُوْا بِہٖ (برحق ہے تیرے پروردگار کی طرف سے پس وہ اس قرآن پر یقین کریں) فَتُخْبِتَ (پس عاجزی کریں) مطمئن ہوجائیں۔ لَہٗ قُلُوْبُھُمْ وَاِنَّ اللّٰہَ لَھَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (اس کے لئے ان کے دل اور بیشک اللہ ایمان والوں کی راہنمائی کرنے والے ہیں سیدھے راستے کی طرف) پس وہ دین میں متشابہ آیات کی تاویلات صحیحہ کرتے ہیں اور جو ان پر اشکال پیدا کرے۔ اس کا صحیح محل تلاش کرتے ہیں۔ جس کا…
Read the full tafseer →54۔ ولیعلم الذین اوتوالعلم ، اس سے مراد توحید اور قرآن ہے سدی کا قول ہے کہ اللہ کے منسوخ کردہ احکامات کی تصدیق کرنا ۔ انہ ، اس سے مراد محکم آیات قرآنی ہیں۔ الحق من ربک فیومنوابہ، یہ اعتقاد رکھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ فتخبت لہ قلوبھم۔ اس کے ذریعے سے اپنے دلوں میں سکون حاصل کرتے ہیں۔ وان اللہ لھاد الذین آمنوا الی صراط مستقیم۔ سیدھاراستہ اور وہ اسلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
54۔ 57:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کے حق میں شیطان کی شرارت کا کیا نتیجہ ہوا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ اسی شیطانی شرارت سے سمجھ دار لوگوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انہیں یقین اور زیادہ ہوگیا کیونکہ وہ لوگ سمجھ گئے کہ شیطان کا دخل مٹانے اور قرآن کی آیتوں کو پکا کرنے کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لئے فرمایا گیا کہ قرآن اس کا کلام ہے اس کو اپنے کلام میں شیطان کا دخل اچھا معلوم نہیں ہوا ‘ پھر فرمایا ‘ اس یقین کی زیادتی کے سبب سے قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرنے کے لئے ان لوگوں کے دل پہلے سے زیادہ نرم ہوگئے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم غیب میں جو لوگ ایماندار ٹھہر چکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لئے جو کچھ اختیار کر رکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٓ سے پہلے (من رسول ولا نبی الا اذا تمنی) ” جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی “ یعنی قرٓت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا (القی الشیطن فی امنیتہ) ” تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کردیتا ہے۔ “ یعنی اس کی قرءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قرءت کے مناقض (مخالف) ہوتا۔۔۔. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →111 باطل کو مہلت ملنے کی ایک اور حکمت و فائدہ : سو اس سے حق کے مقابلے میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی دوسری حکمت واضح فرمائی گئی ہے۔ پس کوئی مانے یا نہ مانے ‘ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ حق یہی کلام و پیغام ہے جو آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے ‘ سو یہ حق کے مقابلے میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی دوسری حکمت بیان فرمائی گئی ہے، کہ اس طرح وہ لوگ جن کو قرآن اور کتاب الہی کا علم ملا ہوتا ہے، وہ اپنے علم میں پوری طرح راسخ ہوجاتے ہیں کہ جو علم ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملا ہے وہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے، اور ان کے علم کی اس پختگی سے ان کے ایمان و یقین کو اور بھی رسوخ حاصل ہوجاتا ہے ۔ اللہ ہر فتنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
شیطان کی چال اور اللہ کا انتظام
تشریح : ان آیات میں بھی رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں شیطان اور شیطان خصلت لوگ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں کو تنگ کرتے رہے ہیں۔ مگر اللہ علم والا ہے اور حکمت والا ہے۔ پیدائش شیطان کا مقصد یہ ہے تاکہ کھرے کھوٹے لوگ دنیا کے سامنے اچھی طرح ظاہر ہوجائیں ورنہ اللہ کا علم تو ناقابل حد تک وسیع ہے۔ وہ اپنے علم اور اپنی حکمت سے سب لوگوں کے اعمال ‘ نیتیں اور ارادے جانتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون لوگ شیطان کا مقابلہ کر کے اس کو بھگا سکتے ہیں اور کون اس کے جال میں پھنس کر تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔ بہرحال سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے حضور حاضر ہوں گے نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آپ فرما دیجئے لوگو میرا منصب عالی یہ ہے کہ جس راہ پر تو چل رہے ہو یعنی کفر ونافرمانی اس کے انجام بد سے بروقت مطلع کردوں اور بس عذاب لانا نہ میرا کام ہے نہ میں نے اس کا دعوی کیا ہے ہاں جس راہ پر تم چل رہے ہو وہ عذاب ہی پہ پہنچتی ہے اور صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لے آئے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی انھیں اللہ جل جلالہ کی بخشش بھی نصیب ہوگی اور بہترین نعمتیں بھی مگر جو بدبخت اپنی اصلاح کے بجائے اللہ جل جلالہ کے نبی کی بات کو جھٹلانے اور اللہ جل جلالہ کے احکام کی تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ یقینا دوزخ میں رہیں گے
(نبی اور رسول)
اور یہ کوئی نئی بات…
Read the full tafseer →1 ۔ ” تخبت “ میں مطمئن ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے اور جھکنے اور نرم ہونے کا بھی (شوکانی) 2 ۔ یعنی انہیں شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھے گا۔
Read the full tafseer →(22:54) اوتوا العلم۔ اوتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) سے مصدر۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو دیا گیا۔ اوتوا العلم۔ جنہیں علم دیا گیا۔ اصحاب علم و فراست ۔
انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب القرآن کے لئے ہے۔ اسی طرح اسی آیت میں فتخبت لہ اور فیؤمنوا بہ میں بہ اور لہ کی ضمائر کا مرجع القرآن ہے اور ان ہر دو میںبمعنی تعقیب ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عطف سببی کے لئے ہو۔ فیؤمنوا بہ ای یزدادوا ایمانا ان کا ایمان اور پختہ ہوجائے فتخبت لہ قلوبہم پھر اس کی طرف ان کے دل اور بھی زیادہ جھک جائیں۔
تخبت۔ مضارع واحد مؤنث غائب اخبات (افعال) مصدر وہ (مزید) نرمی و انکساری اختیار کریں۔ الخبت اصل میں نشیبی اور نرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 57
نذیر مبین (کھلا ہوا ڈرانے والا) رزق کریم (عزت کا رزق) سعوا (جودوڑے) ‘ معجزین (عاجزی کرنے والا۔ نیچا دکھانے والے) ‘ تمنی (اس نے آرزو کی۔ اس نے بات کہی) ‘ ینسخ (وہ منسوخ کرتا ہے۔ وہ ہٹا تا ہے) ‘ یحکم (وہ مضبوط کرتا ہے) ‘ القاسیۃ (سخت) ‘ شقاق (ضد۔ ہٹ دھرمی) ‘ مریۃ (شک و شبہ) ‘ بغتۃ (اچانک) عقیم (منحوس) ۔
ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہیے اے لوگو ! میں نہایت واضح طریقہ پر صاف صاف ان اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر رہا ہوں جن کی صداقت کو تم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لاکر عمل صالح کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسی شیطانی شرارت سے سمجھ دار لوگوں نے یہ تو فائدہ اٹھایا کہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا نہیں یقین اور زیادہ ہوگیا، کیونکہ وہ لوگ سمجھ گئے کہ شیطان کا دخل مٹانے اور قرآن کی آیتوں کا پکا کرنے کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پھر فرمایا اس یقین کی زیادتی کے سبب سے قرآن کی نصیحت موافق عمل کرنے کے لیے ان لوگوں کے دل پہلے سے نرم ہوگئے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم میں جو لوگ ایماندار ٹھہرچکے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سیدھے رستے پر آجانے کے لیے اسی طرح کے سامان پیدا کردیتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم میں کافرقرار پاچکے ہیں وہ ہمیشہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
[42] اصل میں لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جس کے معنی بانجھ کے ہیں۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو اور ہر کوشش الٹی پڑے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
مسلمان کیوں ہجرت کرتا ہے :
(ف 1) اسلامی نقطہ نگاہ سے دین کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے اور مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے کلچر اپنی تہذیب اور اپنی روایات کو برقرار رکھے ، اس کے نزدیک ملک قوم اور وطنی کشش وجاذبیت کا مفہوم کچھ حیثیت نہیں رکھتا مسلمان کی جان اس کا مال اور اس کا سب کچھ مذہب ہے ، وہ افلاس کو برداشت کرسکتا ہے وہ بھوکا رہ سکتا ہے اور دنیا کی ہر مصیبت کیلئے تیار وآمادہ ہو سکتا ہے مگر دین اور روح کے ادنی وداعی سے ایک لمحہ کے لئے بھی وہ جدا نہیں ہو سکتا ، جو لوگ مسلمان کی نفسیات دینی سے واقف نہیں ، وہ ان کے جذبات وحسیات کو نہیں سمجھ سکتے ان کے نزدیک مذہب کیلئے وطن چھوڑ دینا ، مال…
Read the full tafseer →(54) اور نیز اس لئے ہوتا ہے تاکہ وہ لوگ جن کو صحیح فہم عطا ہوا ہے وہ اس امر کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ جو کچھ پیغمبر نے تلاوت کیا ہے اور قرآن کریم کا جو حصہ آپ نے پڑھا ہے وہ آپ کے پروردگار کی جانب سے حق ہے۔ پھر یہ اہل علم اس پر ایمان لانے میں اور پختہ ہوجائیں اور ان کے دل اس قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے کی طرف اور جھک جائیں اور بیشک جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔
یعنی جو الہ علم و فہم ہیں وہ اس آزمائش میں پورے اتریں اور وہ اس بات کا اعتراف کریں کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے ہے وہ حق ہے خواہ وہ متشابہات ہوں یا محکمات ہوں وہ سب حق اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 5۔ کہ وہ شک سے بڑھ کر باطل کا جزم کئے ہوئے ہیں، سو ان کی آزمائش ہوتی ہے کہ دیکھیں بعد جواب کے اب بھی شبہات کا اتباع کرتے ہیں یا جواب کو سمجھ کر حق کو قبول کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →حق کے مقابلہ میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ ۔
54۔ فرمایا کہ اہل علم میں ایمانی پختگی اس وقت ہی پیدا ہو سکتی ہے جب حق اور باطل کی ٹکر ہو اور باطل کو اپنا زور دکھانے کے لئے مہلت دی جائے ، یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ اس ٹکر میں ہمیشہ حق کامیاب رہا اور باطل مٹ گیا لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہی کہ اس سے اصلیت واضح ہوگئی جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے اصل حقیقت اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے ۔ ایک بات آپ مانتے اور یقین رکھتے ہیں لیکن اس کے خلاف جو کچھ بیان کیا جاسکتا ہے اس کا آپ کو علم نہیں تو اس بات کا امکان یقینا موجود ہے کہ اس کے خلاف اگر کچھ بیان کیا جائے یا کوئی بیان کرنے والا کر دے تو آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
Commentary
مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ (any messenger and any prophet - 22:52) This shows that the words Rasul رَّسُولٍ and Nabi carry different meanings, though there is no consensus as to the precise nature of the difference. For our purpose it is enough to understand that Nabi نَبِيٍّ is a person whom Allah Ta’ ala designates with a mission to reform his people and who receives revelations from Him. He may receive a Scripture and a code of laws or he may be commanded to convey the message of an earlier Book and code of laws. Sayyidna Musa (علیہ السلام) and ` Isa' (علیہ السلام) belong to…
Read the full tafseer →101. That is, Allah lets Satan work such mischief to put to the test both the righteous and the wicked people. The people with a perverted mentality deduce wrong conclusions from these and deviate from the right way, while those, who think on the right lines, realize that all these things are the mischief of Satan and that the message of the Prophet is based on the truth. They conclude that the very fact that Satan has been so much agitated and become active against it is a clear proof of its being the truth. It is very important to understand the real significance of this passage (verses…
Read the full tafseer →