Explained with ayahs 52–54
شیطان کا تصرف غلط ہے
یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکہ آگئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، واللہ اعلم۔ چناچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے مکہ شریف میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے آیت (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19ۙ) 53۔ النجم :19) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی) پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور ﷺ نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
سورة الْحَجّ 96
رسول اور نبی کے فرق کی تشریح سورة مریم حاشیہ 30 میں کی جا چکی ہے۔
سورة الْحَجّ 97
تمنّٰی کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی تو وہی ہیں جو اردو میں لفظ تمنا کے ہیں، یعنی کسی چیز کی خواہش اور آرزو۔ دوسرے معنی تلاوت کے ہیں، یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔
سورة الْحَجّ 98
" تمنا " کا لفظ اگر پہلے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ شیطان نے اس کی آرزو پوری ہونے میں رخنے ڈالے اور رکاوٹیں پیدا کیں۔ دوسرے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ جب بھی اس نے کلام الہٰی لوگوں کو سنایا، شیطان نے اس کے بارے میں طرح طرح کے شبہ اور اعتراضات پیدا کیے، عجیب عجیب معنی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ یہ لوگ جو شیطان کے اغواء سے آپ سے مجادلہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے (اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے) کچھ پڑھا (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ (اور اعتراض) ڈالا (اور کفار انہی شبہات اور اعتراضات کو پیش کر کے انبیاء سے مجادلہ کیا کرتے جیسا دوسری آیات میں ارشاد ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا، ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیت 54-53
حق کے مقابل میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی پہلی حکمت
اب یہ حکمت واضح فرمائی جا رہی ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں یہ صورت حال کیوں ہے کہ جب کوئی دعوت حق و خیر اٹھتی ہے تو اس کے مقابل میں اشرار و شیاطین بھی اپنی تمام فتنہ انگیزیوں کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں ؟ فرمایا کہ یہ اسلئے ہے کہ اللہ نے حق کے ساتھ باطل کو بھی اس دنیا میں مہلت دے رکھی ہے تاکہ جو حق کو اختیار کرے وہ بھی اختیار وتمیز کے ساتھ کرے اور جو باطل کی طرف جانا چاہے وہ بھی وضوح حق اور اتمام حجت کے بعد جائے۔ اس کشمکش سے اہل ایمان کا ایمان پختہ ہوتا ہے اور اسی سے منافقین اور سخت دلوں پر اللہ کی حجت تمام ہوتی ہے۔
اشرار کے فتنوں…
Read the full tafseer →53۔ 1 یعنی شیطان یہ حرکتیں اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرے اور اس کے جال میں لوگ پھنس جاتے ہیں جن کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ ہوتا ہے گناہ کرکے ان کے دل سخت ہوچکے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
28: اوپر آیت 39 میں مسلمانوں کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے تھے ؛ حالانکہ اس سے پہلے ان کے ظلم کے جواب میں صبر اور درگزر کے احکام دئیے جاتے رہے تھے، اب یہاں صرف جنگ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر قسم کے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے، بشرطیکہ وہ اتنا ہو جتنا ظلم ہوا، اور بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ درگزر کا معاملہ زیادہ افضل ہے ؛ لیکن برابر کا بدلہ لینا بھی جائز ہے، اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ؛ بلکہ یہاں اور آگے بڑھ کر یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر برابر کا بدلہ لینے کے بعد ظالم دوبارہ زیادتی کرے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
وما ارسلنا ……صراط مستقیم (45)
اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم !
ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1 " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی اس میں گمراہ بہکتے ہیں سو ان کا کام ہے بہکنا، اور ایمان والے اور زیادہ مضبوط ہوتے ہیں کہ اس کلام میں بندہ کا دخل نہیں۔ اگر ہوتا تو یہ بھی بندہ کے خیال کی طرح کبھی صحیح کبھی غلط نکلتا۔ اور جس کی نیت اعتقاد پر ہو۔ اللہ اس کو یہ بات سمجھاتا ہے۔ " حضرت شاہ صاحب نے یہ فائدہ اپنے مذاق کے موافق لکھا ہے۔ ہمارا جو خیال ہے اس کی تقریر گذشتہ فائدہ میں گزر چکی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آیت 52 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج ”
لفظ ”تمنا“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لغوی اعتبار سے اس مادہ میں آرزو اور خواہش کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح ایک عام آدمی سوچتا ہے ‘ خواہش کرتا ہے اور مختلف امور میں منصوبہ بندی کرتا ہے اسی طرح نبی علیہ السلام اور رسول علیہ السلام بھی سوچتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے۔ مثلاً ابو طالب کی وفات کے بعد جب ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بن گیا اور اس کی ذاتی دشمنی کے باعث آپ ﷺ کو اپنے قبیلے کی پشت پناہی حاصل نہ رہی تو آپ ﷺ نے سوچا کہ اب کیا کروں ؟ ع ”کس طرف جاؤں ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
83 یعنی ایمان والے فوراً یہ سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں بات تو فی الواقع وحی الٰہی ہے یا ہوسکتی ہے اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے۔ واضح رہے کہ مندرجہ بالا واقعہ میں سے اس کا صرف آخری حصہ ہی ایسا ہے۔ جو درست ہے اور صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ یعنی کسی موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے سورة النجم تلاوت فرمائی۔ اس کے اختتام پر آپ نے اور مسلمانوں نے سجدہ کیا تو پاس بیٹھے ہوئے مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ ماسوائے ایک شخص (امیہ بن خلف) کے کہ اس نے کنکریں ایک مٹھی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی سے لگا کر کہنے لگا کہ بس مجھے اتنا ہی کافی ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة والنجم) رہی یہ بات کہ قرآن شریف میں بتوں کی…
Read the full tafseer →93۔ (شک یا تذبذب یاکھلے ہوئے انکار کا) یہ مصلحت تکوینی بیان ہورہی ہے شیطان کے اختیار ووسوسہ اندازی کی۔
94۔ (کہ حق کو باوجود اس کے وضوح کے قبول نہیں کرتے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
آیت نمبر 49 تا 57
ترجمہ : آپ اعلان کر دیجئے کہ اے لوگو یعنی مکہ والو میں تم کو واضح طور ڈرانے والا ہوں یعنی کھلے طور پر آگاہ کرنے والا ہوں اور میں مومنین کو خوشخبری دینے والا ہوں، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے (سابقہ) گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے وہ جنت ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں یعنی قرآنی آیات کے ابطال کے روپے رہتے ہیں عاجز کرنے کے لئے ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کی ہے نبی ﷺ کی یعنی ان کی طرف عاجز ہونے کی نسبت کرنے کے لئے، اور روکتے ہیں ان کو ایمان سے یا ہم کو عاجز گمان کرتے ہوئے ان کی گرفت سے، اور ایک قرأۃ میں معاجزین بمعنی مسابقین ہے یعنی ہمارے بارے میں یہ…
Read the full tafseer →لیجعل ما یلقی الشیطن فتنۃ للذین فی قلوبہم مرض والقاسیۃ قلوبہم
(یہ سارا واقعہ اس لئے کیا گیا) تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ ایسے لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں شک کا مرض ہے اور جن کے دل (بالکل ہی) سخت ہیں۔ فتنہ یعنی آزمائش اور مصیبت۔ مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ سخت دل والوں سے مراد ہیں مشرک۔
وان الظلمین لفی شقاق بعید۔ اور واقعی یہ ظالم لوگ بڑی مخالفت میں ہیں۔ الظالمین سے مراد ہیں منافق اور مشرک۔ شقاق سے مراد ہے خلافِ حق۔ یا رسول اللہ اور مؤمنوں کی مخالفت اِنَّہُمْکی جگہ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَصراحت کے ساتھ اس لئے کہا گیا تاکہ منافقوں اور مشرکوں کی ناحق کوشی کی صراحت…
Read the full tafseer →(53) تاکہ اللہ تعالیٰ نبی کے اس پڑھنے میں شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ایسے لوگوں کے لیے آزمایش کا ذریعہ بنا دے جن کے دل میں شک واختلاف کا مرض ہے اور جن کے دل یاد الہی سے بالکل ہی شقی ہیں تاکہ دیکھیں کہ کس پر عمل کرتے ہیں اور واقعی یہ مشرک لوگ جیسا کہ ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھ حق اور ہدایت کی بڑی مخالفت اور دشمنی میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً۔۔ : ”شِقَاقٍ“ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے ”قِتَالٌ“ ہے، مراد آمنے سامنے مقابلہ ہے، جس میں ایک فریق ایک شق میں ہوتا ہے اور دوسرا فریق دوسری شق میں۔ اس آیت میں شیطان کو انبیاء کی دعوت اور آیات الٰہی میں شکوک و شبہات ڈالنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی فرصت دینے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ شیاطین کو جو اس طرح کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ابتلا و آزمائش کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں اہل باطل اپنا من بھاتا کھا جا پا کر اہل باطل کے علمبرداروں کے ساتھ ہوجائیں اور اہل حق باطل والوں کے تمام شور و غوغا کے باوجود راہ حق پر مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل یایھا الناس، الناس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ انما انالکم نذیر، نذیر بمعنی منذر اور مخوف (ڈرانے والا) ہے۔ انذار کا معنی سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ مبین۔ یعنی دینی معاملات میں سے جس کی تمہیں ضرورت ہوتی ہے میں تمہارے لیے اسے بیان کرنے والا ہوں۔ رزق کریم۔ سے مراد جنت ہے۔ والذین سعوافی ایتنا وہ لوگ جو ہماری آیات کو باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاجزین غلبہ پانے کے لیے جنگ کرنے کے لیے۔ یہ حضرت اببن عباس ؓ کا قول ہے۔راء نے کہا : اس کا معنی ہے دشمنی کرتے ہوئے۔ حضرت عببداللہ بن زبیر نے کہا : اسلام سے باز رکھنے والے تھے۔ اخفش نے کہا : معاندین مسابقین۔ زجاج نے کہا : یہ گمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
1۔ عبد بن حمدی وابن الانباری نے مصاحف میں عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث،
2۔ ابن ابی حاتم نے سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی سے پہلے ولا محدث اتارا گیا تھا پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔ اور محدثون یہ تھے۔ صاحب یسین، لقمان یہ آل فرعون میں سے تھے اور صاحب موسیٰ ۔
3۔ ابن المنذور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر آیات نازل کی جاتی ہیں۔ لیکن اس کی طرف نئی شریعت نہیں…
Read the full tafseer →لِّيَجْعَلَ [ تاکہ وہ بنائے ] مَا [ اس کو جو ] يُلْقِي [ ڈالتا ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] فِتْنَةً [ ایک آزمائش ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لئے ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [ کوئی بیماری ہے ] وَّالْقَاسِيَةِ [ اور سخت ہونے والے ہیں ] قُلُوْبُهُمْ ۭ [ جن کے دل ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے ] لَفِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ [ یقینا ایک دور والی مخالفت میں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت میں شیطان کی حرکتیں اہل علم کے یقین میں پختگی آنا اور کافروں کا شک میں پڑے رہنا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کے مخالفین جو کچھ حرکتیں کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات رسل عظام (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے ان حضرات نے جب اپنے مخاطبین کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے ان کی قرأت اور تلاوت کے بارے میں مخاطبین کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک اور شبہات ڈال دیئے جیسا کہ سوۂ انعام میں فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
ذکر فتنہ شیطان برائے امتحان مخلصان ومنافقان
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی .... الیٰ .... فاولئک لہم عذاب مھین۔
(ربط) گزشتہ آیات والذین سعوا فی ایاتنا معاجزین۔ میں اس بات کا بیان تھا کہ مجادلین اور معاندین ہمیشہ آیات خداوندی کے ابطال کی سعی میں اور دین حق کی تخریب کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں ابطال آیات کی سعی اور اس میں جدوجہد ان مجادلین اور معاندین کی قدیمی عادت ہے اور اس سلسلہ میں شیطان طرح طرح کے فتنے برپا کرتا رہتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شبے ڈالتا رہتا ہے جو کافروں اور ضعیف الایمان لوگوں کے لیے فتنہ بن جاتے ہیں۔ اے نبی آپ ﷺ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
67:۔ ” لِیَجْعَلَ الخ “ یہ ” اَلْقٰی “ سے متعلق ہے یعنی شیطانی وسوسے منافقین اور مشرکین کے لیے مزید گمراہی کا باعث بن جائے اور وہ وساوس و شبہات کے تابع ہو کر کفر وعناد پر مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ” اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مّرض “ سے منافقین ” القاسیة قلوبھم “ سے۔ ” وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الخ “” فَیَنْسَخُ اللّٰهُ “ سے متفعلق ہے یعنی اہل ایمان کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے شیطانی وسوسوں کا اثر زائل کر کے ان کے دلوں کو یقین سے بہرہ مند فرمایا تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ یہ قرآن شریف اور مسئلہ توحید حق ہے اور ان کے دلوں میں مزید اطمینان اور انابت پیدا ہوجائے۔ ” وَاِنَّ اللّٰه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
ربط آیات :
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو اس کی آیتوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور فرمایا کہ یہ لوگ جہنمی ہیں۔ اب آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی کے طور پر فرمایا ہے کہ آپ مخالفین کی مخالفت سے گھرائیں نہیں کیونکہ کافروں اور مشرکوں کا ابتداء سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے اور اللہ کے نبیوں کو ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مگر نہ تو وہ سابقہ ادوار میں کامیاب ہوئے اور نہ اب ہوں گے بلکہ ذلیل وخوارہوں گے۔ ان کے مقابلے میں فتح و کامرانی اہل حق کو ہی نصیب ہوگی۔
نبی اور رسول میں…
Read the full tafseer →لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَۃً لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْقَاسِـيَۃِ قُلُوْبُہُمْ 0ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ لَفِيْ شِقَاقٍؚبَعِيْدٍ 53ۙ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13]
(ت ن ) الفتن
دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
اس کے بعد فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ تم کس لیے جلدی کرتے ہو میں تمہیں مطلع کرنے آیا ہوں کہ جو ایمان لائے گا ‘ نیک کام کرے گا ‘ مغفرت اور دنیا و آخرت میں عزت پاوے گا اور جو مقابلہ کرے گا جہنم میں جائے گا میں نذیر ہوں بشیر ہوں نہ خدا ہوں نہ خدا کے گھر کا مالک و مختار کہ جو چاہوں تمہاری خواہشوں کے موافق اس کو کرد کھائوں۔ اس لیے اس بات کی تائید کے لیے یہ کلام بعد میں صادر فرمایا وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی لشیطان فی امنیۃ کہ اے محمد ﷺ ! تم پر کیا موقوف ہے تم سے پیشتر جس قدر رسول اور نبی بھیجے گئے ہیں گو وہ معصوم تھے مگر بشر تھے خواص بشریہ سے خالی نہ تھے جب کبھی کسی نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
لِّیَجْعَلَ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ ۔ لا وَّلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَیُؤُ مِنُوْا بِہٖ فَتُخْبِتَ لَہٗ قُلُوْبُھُمْ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الحج : 53، 54)
(یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ذریعے ڈالے ہوئے وسوسوں کو ان لوگوں کے لیے فتنہ بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں۔ اور بیشک ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل جاتے ہیں۔ نیز اس میں یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلی بات کا تتمہّ
شیطان کو شیطنت کا اس لیے اختیار دیا گیا تاکہ جن کے دلوں میں کسی قسم کی کھوٹ اور جن کے دل حق کے بارے میں سخت ہوگئے ہیں شیطان اپنی شیطنت کے ذریعے ان کو فتنہ میں ڈالے رکھے۔ جو لوگ شیطان کے فتنہ میں مبتلا ہوئے وہ ظالم ہیں وہ حق کی مخالفت میں بہت دور جا چکے ہیں۔ یہ بات سورة البقرۃ کی آیت دس کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے کہ جس طرح انسان کے جسم کو بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ اسی طرح انسان کا دل روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جن میں نفاق اور دل کی سختی شامل ہے۔ دل میں منافقت پیدا ہوجائے تو آدمی حق بات کے بارے میں بھی شک کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص حق بات کے قریب…
Read the full tafseer →53: لِّیَجْعَلَ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَہً (تاکہ شیطان کے شبہات کو اللہ تعالیٰ آزمائش بنا دے) آزمائش و مصیبت لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ (ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں بیماری ہے) یعنی شک و نفاق ہے۔ وَّالْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ (اور جن کے دل سخت ہیں) یعنی مشرک اور مکذب لوگ مراد ہیں۔ اس سے انکا شک اور ظلمت بڑھ جاتا ہے وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ (اور بلاشبہ ظالم) منافق و مشرک لوگ۔
نکتہ : یہ اصل میں اِنّھم تھا مگر ضمیر کی جگہ اسم ظاہر الظالمین لائے تاکہ ان کی ناحق کوشی کی صراحت ہوجائے اور ظالم ہونا پختہ ہوجائے لَفِیْ شِقَاقٍ (البتہ ضد میں ہیں) مخالفت بَعِیْدٍ (دور کی) جو حق سے بہت دور…
Read the full tafseer →تفسیر۔
53۔ لیجعل مایلقی الشیطان فتنہ، ، آزمائش اور مصیبت۔ للذین فی قلوبھم مرض، مرض سے مراد شک اور نفاق ہے۔ والقاسیۃ ، جامد ہیں۔ قلوبھم ، حق کے قبول کرنے سے وہ سخت ہیں اور اس سے مراد مشرک لوگ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہا کہ مشرکین نے جو کچھ سنا تھا اس سے ان کو خوشی ہوئی تھی۔ پھر اس کلام کو ختم کردیا گیا اور اس پڑھنے کی بناء پر ہم نے ان کی دشمنی میں مزید اضافہ ہی کیا اور ان لوگوں نے یہ گمان کیا کہ یہ محمد نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے۔ پھر ان کو اس بات سے ندامت حاصل ہوئی۔ وان الظالمین ، ظالمین سے مراد مشرکین ہیں۔ لفی شقاق، اس سے مراد گمراہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
52۔ 53:۔ مسند بزار تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن منذر ‘ تفسیر ابن مردویہ ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن جریر وغیرہ 2 ؎ میں مختلف سندوں سے اس آیت کی شان نزول میں جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت سورة والنجم مکہ میں نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ اس سورت کو مشرکین مکہ کے روبرو پڑھنے لگے اور سورة والنجم کی اس آیت پر پہنچے جس میں لات، عزی اور منات بتوں کا نام ہے تو شیطان نے آنحضرت ﷺ کی قرأت کے سکتہ کے وقت کچھ کلمے پڑھ دیئے ‘ جس کے معنوں سے ان بتوں کی تعریف کا ذکر اور ان کی شفاعت کا ذکر نکلتا ہے ‘ ان کلموں کو مشرکین مکہ نے قرآن کی آیت اور اس شیطان کی آواز کو آنحضرت ﷺ کی آواز خیال کیا اور کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لئے جو کچھ اختیار کر رکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٓ سے پہلے (من رسول ولا نبی الا اذا تمنی) ” جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی “ یعنی قرٓت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا (القی الشیطن فی امنیتہ) ” تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کردیتا ہے۔ “ یعنی اس کی قرءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قرءت کے مناقض (مخالف) ہوتا۔۔۔. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →108 شیطان کی خلل اندازی باعث فتنہ و ابتلاء : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان کی خلل اندازی دل کے روگیوں اور سنگدلوں کیلئے فتنہ اور آزمائش کا ذریعہ ہے کہ شیطان کے القاء اور اس کی خلل اندازی کا شکار اصل میں ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں ‘ والعیاذ باللہ العظیم سو یہ اللہ پاک کی سنت اور اس کا دستور ہے جو اس کائنات میں کارفرما ہے، جسکے مطابق ہر کسی کو اس کے ارادہ و اختیار کی آزادی ہے کہ وہ اپنے ارادہ ومرضی کے مطابق جونسا راستہ و طریقہ چاہے اختیار کرے، اور اسی بنا پر وہ ثواب یا عقاب کا مستحق قرار پاتا ہے، اور یہاں پر دل کے روگیوں سے مراد منافق لوگ ہیں جن کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے، اور قاسیۃ القلوب یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
شیطان کی چال اور اللہ کا انتظام
تشریح : ان آیات میں بھی رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں شیطان اور شیطان خصلت لوگ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں کو تنگ کرتے رہے ہیں۔ مگر اللہ علم والا ہے اور حکمت والا ہے۔ پیدائش شیطان کا مقصد یہ ہے تاکہ کھرے کھوٹے لوگ دنیا کے سامنے اچھی طرح ظاہر ہوجائیں ورنہ اللہ کا علم تو ناقابل حد تک وسیع ہے۔ وہ اپنے علم اور اپنی حکمت سے سب لوگوں کے اعمال ‘ نیتیں اور ارادے جانتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون لوگ شیطان کا مقابلہ کر کے اس کو بھگا سکتے ہیں اور کون اس کے جال میں پھنس کر تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔ بہرحال سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے حضور حاضر ہوں گے نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آپ فرما دیجئے لوگو میرا منصب عالی یہ ہے کہ جس راہ پر تو چل رہے ہو یعنی کفر ونافرمانی اس کے انجام بد سے بروقت مطلع کردوں اور بس عذاب لانا نہ میرا کام ہے نہ میں نے اس کا دعوی کیا ہے ہاں جس راہ پر تم چل رہے ہو وہ عذاب ہی پہ پہنچتی ہے اور صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لے آئے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی انھیں اللہ جل جلالہ کی بخشش بھی نصیب ہوگی اور بہترین نعمتیں بھی مگر جو بدبخت اپنی اصلاح کے بجائے اللہ جل جلالہ کے نبی کی بات کو جھٹلانے اور اللہ جل جلالہ کے احکام کی تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ یقینا دوزخ میں رہیں گے
(نبی اور رسول)
اور یہ کوئی نئی بات…
Read the full tafseer →8 ۔ ان سے مراد وہ کافر ہیں جن کو اپنے کفر پر اصرار ہے اور ” فی قلوبھم مرض “ سے مراد اہل نفاق اور آزمائش اسی معنی میں ہے کہ آیا وہ شک و نفاق سے باز آتے ہیں یا اس میں مزید ترقی کرتے ہیں۔ 9 ۔ کہ شیطانی وساوس اور شبہات کو اللہ تعالیٰ کا فرمودہ خیال کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(22:53) لیجعل۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ یعنی یہ القا من جانب الشیطن اس لئے ہے کہ جن کے دلوں میں مرض ہے یا جو شقی القلب ہیں ان کے لئے فتنہ کا موجب ہو۔
فتنۃ۔ الفتن۔ اس کے معنی دراصل سونے کو آگ میں گھلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے۔ قرآن مجید میں فتنہ اور اس کے مشتقات کو مختلف معنی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً ، آزمائش، مصیبت، فساد ، بدنظمی، عبرت، ایذا۔ دکھ، عذاب عذر وغیرہ۔ اصل معنی کے لحاظ سے انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوا ہے مثلاً یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جب ان کو آگ پر تپایا جائے گا۔
اور آیت ثم لم تکن فتنتہم الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین (6:23)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 57
نذیر مبین (کھلا ہوا ڈرانے والا) رزق کریم (عزت کا رزق) سعوا (جودوڑے) ‘ معجزین (عاجزی کرنے والا۔ نیچا دکھانے والے) ‘ تمنی (اس نے آرزو کی۔ اس نے بات کہی) ‘ ینسخ (وہ منسوخ کرتا ہے۔ وہ ہٹا تا ہے) ‘ یحکم (وہ مضبوط کرتا ہے) ‘ القاسیۃ (سخت) ‘ شقاق (ضد۔ ہٹ دھرمی) ‘ مریۃ (شک و شبہ) ‘ بغتۃ (اچانک) عقیم (منحوس) ۔
ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہیے اے لوگو ! میں نہایت واضح طریقہ پر صاف صاف ان اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر رہا ہوں جن کی صداقت کو تم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لاکر عمل صالح کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(ف 2) شان نزول۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ جب سورة والنجم نازل ہوئی تو سید عالم نے مسجد حرام میں اس کی تلاوت فرمائی اور بہت آہستہ آہستہ آیتوں کے درمیان وقفہ فرماتے ہوئے جس سے سننے والے غور بھی کرسکیں اور یاد کرنیوالوں کو یاد کرنے میں بھی مدد ملے جب آپ نے آیت ومناۃ الثالۃ الاخری پڑھ کر حسب دستور وقفہ فرمایا تو شیطان نے مشرکین کے کان میں اس سے ملا کردو کلمے ایسے کہہ دیے جن سے بتوں کی تعریف نکلتی تھی تو جبرائیل امین نے سید عالم کی خدمت میں حاضر ہوکر فرمایا اس سے حضور کو رنج ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
[42] اصل میں لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جس کے معنی بانجھ کے ہیں۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو اور ہر کوشش الٹی پڑے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
مسلمان کیوں ہجرت کرتا ہے :
(ف 1) اسلامی نقطہ نگاہ سے دین کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے اور مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے کلچر اپنی تہذیب اور اپنی روایات کو برقرار رکھے ، اس کے نزدیک ملک قوم اور وطنی کشش وجاذبیت کا مفہوم کچھ حیثیت نہیں رکھتا مسلمان کی جان اس کا مال اور اس کا سب کچھ مذہب ہے ، وہ افلاس کو برداشت کرسکتا ہے وہ بھوکا رہ سکتا ہے اور دنیا کی ہر مصیبت کیلئے تیار وآمادہ ہو سکتا ہے مگر دین اور روح کے ادنی وداعی سے ایک لمحہ کے لئے بھی وہ جدا نہیں ہو سکتا ، جو لوگ مسلمان کی نفسیات دینی سے واقف نہیں ، وہ ان کے جذبات وحسیات کو نہیں سمجھ سکتے ان کے نزدیک مذہب کیلئے وطن چھوڑ دینا ، مال…
Read the full tafseer →(53) یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان شکوک و شبہات کو جو شیطان ڈالتا ہے ان لوگوں کے لئے موجب امتحان و آزمائش کردے جن کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ یہ ظالم ایک ایسی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں جو طریق حق سے بہت دور ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق آل عمران کی ابتدا میں فرمایا تھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے تو وہ متشا بہات کے پیچھے ہولیا کرتے ہیں اور فتنے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ دل میں نفاق کی بیماری ، دل قرآن کریم کا استہزا کرنے سے سخت ہوچکے ہیں۔ ایسے دلوں میں حق بات کہاں اترتی ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے امتحان میں کہاں پاس ہوتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 5۔ کہ وہ شک سے بڑھ کر باطل کا جزم کئے ہوئے ہیں، سو ان کی آزمائش ہوتی ہے کہ دیکھیں بعد جواب کے اب بھی شبہات کا اتباع کرتے ہیں یا جواب کو سمجھ کر حق کو قبول کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی روگی دلوں کے لئے آزمائش بنا دی جاتی ہے :
53۔ کسی قوم کا اپنے نبی اور رسول کی تکذیب کرنا انسانی تاریخ میں کوئی نیا واقع نہیں بلکہ ہر وہ تحریک جو دین کے نام پر کام شروع کرے شیطان کوشش کرتا ہے کہ اس کو کسی نہ کسی ایسی آزمائش میں مبتلا کردیا جائے کہ یہ فیل ہو کر رہ جائے لیکن اس شیطان نے کبھی کھل کر بھی مخالفت کی ؟ ہرگز نہیں اس کی سرشت میں یہ داخل ہے کہ جس کو اس نے دھوکا و فریب میں مبتلا کرنا ہوتا ہے اس کے ساتھ لگ جاتا ہے اور اس کا پیچھا بالکل نہیں چھوڑتا اور اس کا ایسا خیر خواہ بنتا ہے کہ وہ باور کرجاتا ہے کہ اس سے زیادہ میرا کوئی اور خیر خواہ نہیں ہو سکتا اس طرح جب اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
Commentary
مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ (any messenger and any prophet - 22:52) This shows that the words Rasul رَّسُولٍ and Nabi carry different meanings, though there is no consensus as to the precise nature of the difference. For our purpose it is enough to understand that Nabi نَبِيٍّ is a person whom Allah Ta’ ala designates with a mission to reform his people and who receives revelations from Him. He may receive a Scripture and a code of laws or he may be commanded to convey the message of an earlier Book and code of laws. Sayyidna Musa (علیہ السلام) and ` Isa' (علیہ السلام) belong to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
96. For the distinction between Nabi and Rasul, refer to (E. N. 30 of Surah Maryam).
97. The Arabic word tamanna has two meanings:“desire”and“to recite”something.
98. If the first meaning is taken, it will imply: Satan tried to prevent the fulfillment of his desire. If the second meaning is taken, it will imply: When the Prophet recited the Revelations, Satan created different sorts of doubts about its truth and meanings in the minds of the people.
99. If the first meaning is adopted, it will imply: Allah fulfills the Prophet’s desire and makes his mission successful in spite of the obstacles…
Read the full tafseer →