Al-Hajj 22:52

Al-Hajj · from ayah 52

22:52

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ ۚ— فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟ۙوَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِىٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰٓى اَلۡقَى الشَّيۡطٰنُ فِىۡۤ اُمۡنِيَّتِهٖ ‌ۚ فَيَنۡسَخُ اللّٰهُ مَا يُلۡقِى الشَّيۡطٰنُ ثُمَّ يُحۡكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did not send before you any messenger or prophet except that when he spoke [or recited], Satan threw into it [some misunderstanding]. But Allah abolishes that which Satan throws in; then Allah makes precise His verses. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:52

اور اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نبی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ) جب اُس نے تمنّا کی، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہو گیا اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، اللہ علیم ہے اور حکیم

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وه اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا، پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دانا اور باحکمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے جب بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا تو اس کے ساتھ یہ واقعہ ضرور ہوا کہ جب اس نے (اللہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی (کفار کے دلوں میں) کوئی رکاوٹ ڈال دی، پھر جو رکاوٹ شیطان ڈالتا ہے، اللہ اسے دور کردیتا ہے، پھر اپنی آیتوں کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے، اور اللہ بڑے علم کا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر (سب کے ساتھ یہ واقعہ گزرا کہ) جب اس (رسول یا نبی) نے (لوگوں پر کلامِ الٰہی) پڑھا (تو) شیطان نے (لوگوں کے ذہنوں میں) اس (نبی کے) پڑھے ہوئے (یعنی تلاوت شدہ) کلام میں (اپنی طرف سے باطل شبہات اور فاسد خیالات کو) ملا دیا، سو شیطان جو (وسوسے سننے والوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے اﷲ انہیں زائل فرما دیتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کو (اہلِ ایمان کے دلوں میں) نہایت مضبوط کر دیتا ہے، اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تجھ سے پہلے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر جب اس نے کوئی تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں (خلل) ڈالا تو اللہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، مٹا دیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول یا نبی بھیجا تو جب بھی وہ کوئی آرزو کرتا تو شیطان اس کی آرزو میں وسوسہ کی آمیزش کردیتا۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطانی وسوسہ کی آمیزش کو تو دور کردیتا اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول اور بنی بھی بھیجا تو جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا تو شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے ڈالے۔ پس اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو، پھر اللہ اپنی باتوں کو قرار بخشتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے آپ سے پہلے اے پیغمبر ! جو بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا، اس کا حال یہی رہا کہ جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے خلل اندازی کی اس کی تمنا وآرزو میں پھر اللہ مٹا دیتا ہے اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا ہے اور پکا اور پختہ کردیتا ہے وہ اپنی آیتوں کو اور اللہ تو سب کچھ جاننے والا بڑا ہی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آپ سے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا مگر یہ کہ جب اس نے کچھ پڑھا ہو۔ تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے باب میں شبہ ڈالا۔ سو اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہ کو مٹا دیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیات کو (اور زیادہ) مضبوط کردیتا ہے۔ اور اللہ خوب علم والا ہے خوب حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر یہ کہ جب اس نے خود کوئی خیال باندھا تو شیطان نے اس کے خیال میں خلل اندازی کی تو اللہ منسوخ کردیتا ہے اسے جو کچھ شیطان نے ڈالا ہوتا ہے پھر اللہ اپنے فیصلوں کو پختہ کردیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان وسوسہ ڈال دیتا تھا تو شیطان کا ڈالا وسوسہ اللہ دور کردیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور اللہ علم و الا اور حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Never did We send a Messenger or a Prophet before you (O Muhammad), but that whenever he had a desire, Satan interfered with that desire. Allah eradicates the interference of Satan and strengthens His Signs. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not send any messenger before you nor a prophet, but (he faced a situation that) when he recited (the revelation), the Satan cast (doubts in the hearts of his opponents) about what he recited. So, Allah nullifies what the Satan casts, then Allah makes His verses firm, and Allah is All-Knowing, All-Wise

— Muhammad Taqi Usmani

We did not send any messenger before you nor a prophet, but (he faced a situation that) when he recited (the revelation), the Satan cast (doubts in the hearts of his opponents) about what he recited. So, Allah nullifies what the Satan casts, then Allah makes His verses firm, and Allah is All-Knowing, All-Wise

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Never did We send a Messenger or a Prophet before you but when he did recite (the revelation or narrated or spoke), Shaytan threw (some falsehood) in his recitation (of the revelation). But Yansakh Allah that which Shaytan throws in. Then Allah establishes His revelations. And Allah is All-Knower, All-Wise:

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Never sent We a messenger or a prophet before thee but when He recited (the message) Satan proposed (opposition) in respect of that which he recited thereof. But Allah abolisheth that which Satan proposeth. Then Allah establisheth His revelations. Allah is Knower, Wise;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did not send before you any messenger or prophet except that when he spoke [or recited], Satan threw into it [some misunderstanding]. But Allah abolishes that which Satan throws in; then Allah makes precise His verses. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Satan would try to tamper with the desires of every Prophet or Messenger whom We sent. Then God would remove Satan's temptations and strengthen His revelations. God is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

And We did not send before you any apostle or prophet, but when he desired, the Shaitan made a suggestion respecting his desire; but Allah annuls that which the Shaitan casts, then does Allah establish His communications, and Allah is Knowing, Wise,

— Muhammad Habib Shakir

And We have sent before thee no apostle or prophet but when he read the Satan cast forth suggestions in respect of his reading; then Allah abolisheth that which the Satan casteth forth; then Allah confirmeth His revelations; and Allah is Knowing. Wise;

— Abdul Majid Daryabadi

Never did We send a messenger or a prophet before thee, but, when he framed a desire, Satan threw some (vanity) into his desire: but Allah will cancel anything (vain) that Satan throws in, and Allah will confirm (and establish) His Signs: for Allah is full of Knowledge and Wisdom:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–54

شیطان کا تصرف غلط ہے یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکہ آگئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، واللہ اعلم۔ چناچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے مکہ شریف میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے آیت (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19؀ۙ) 53۔ النجم :19) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی) پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور ﷺ نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–53

سورة الْحَجّ 96 رسول اور نبی کے فرق کی تشریح سورة مریم حاشیہ 30 میں کی جا چکی ہے۔ سورة الْحَجّ 97 تمنّٰی کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی تو وہی ہیں جو اردو میں لفظ تمنا کے ہیں، یعنی کسی چیز کی خواہش اور آرزو۔ دوسرے معنی تلاوت کے ہیں، یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ سورة الْحَجّ 98 " تمنا " کا لفظ اگر پہلے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ شیطان نے اس کی آرزو پوری ہونے میں رخنے ڈالے اور رکاوٹیں پیدا کیں۔ دوسرے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ جب بھی اس نے کلام الہٰی لوگوں کو سنایا، شیطان نے اس کے بارے میں طرح طرح کے شبہ اور اعتراضات پیدا کیے، عجیب عجیب معنی اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–57

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ یہ لوگ جو شیطان کے اغواء سے آپ سے مجادلہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے (اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے) کچھ پڑھا (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ (اور اعتراض) ڈالا (اور کفار انہی شبہات اور اعتراضات کو پیش کر کے انبیاء سے مجادلہ کیا کرتے جیسا دوسری آیات میں ارشاد ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا، ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تمنی کا اصل لغوی مفہوم، صاحب اقرب الموارد کی تصریح کے مطابق یہ ہے۔ یطلق عند اھل العربیۃ علی طلب حصول الشی علی سبیل الجھۃ وعلی الکام الدال علی ھذا الطب (عربی زبان کے ماہرین کے نزدیک یہ لفظ کسی شے کے بطریق محبت حصول کی طلب کے لئے بولا جاتا ہے اور اسی طرح اس کلام پر بھی اس کا اطلا قہوات ہے جو اس طلب پر دال ہو) میں نے اس قول کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ میرے نزدیک کلام عرب کی روشنی میں، اس لفظ کا صحیح مفہوم یہی ہے۔ قرآن میں اس کے مختلف صیغے سات آٹھ مقامات میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اسی مادے سے امغیۃ کا لفظ بی، جمع اور واحد کی مختلف صورتوں میں، سات آٹھ جگہ آیا ہے۔ ہر جگہ، ہر شکل میں لفظ کی اصل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52۔ 1 تمنی کے ایک معنی ہیں آرزو کی یا دل میں خیال آیا۔ دوسرے معنی ہیں پڑھایا تلاوت کی۔ اسی اعتبار سے امنیۃ کا ترجمہ آرزو، خیال یا تلاوت ہوگا پہلے معنی کے اعتبار سے مفہوم ہوگا اس کی آرزو میں شیطان نے رکاوٹیں ڈالیں تاکہ وہ پوری نہ ہوں۔ اور رسول و نبی کی آرزو یہی ہوتی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ایمان لے آئیں، شیطان رکاوٹیں ڈال کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایمان سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مفہوم ہوگا کہ جب بھی اللہ کا رسول یا نبی وحی شدہ کلام پڑھتا اور اس کی تلاوت کرتا ہے۔ تو شیطان اس کی قرأت و تلاوت میں اپنی باتیں ملانے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بابت لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈالتا اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–52

27: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے مخالفین کی طرف سے جن شکوک و شبہات کا اظہار ہورہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ؛ بلکہ پچھلے انبیاء کرام کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر سناتے تو شیطان کافروں کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کردیتا جس کی بنا پر وہ لوگ ایمان نہیں لاتے تھے، لیکن چونکہ یہ شکوک و شبہات اصل میں بےبنیاد ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کا کوئی اثر مخلص مسلمانوں پر باقی نہیں رہنے دیتا ؛ بلکہ انہیں نیست ونابود کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 52–54

وما ارسلنا ……صراط مستقیم (45) اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم ! ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 51–52

4 آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ، نے اپنے پیشرو حضرت شاہ عبدالقادر (رح) کی روش اختیار فرمائی ہے جس کی طرف حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ ' نے بھی " حجۃ اللہ البالغہ " کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب " موضح القرآن " میں لکھتے ہیں " نبی کو ایک حکم (یا ایک خبر) اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اس میں ہرگز ذرہ بھر تفاوت نہیں ہوسکتا۔ اور ایک اپنے دل کا خیال (اور رائے کا اجتہاد) وہ کبھی ٹھیک پڑتا ہے کبھی نہیں۔ جیسے حضرت ﷺ نے خواب میں دیکھا (اور نبی کا خواب وحی ہوتا ہے) کہ آپ مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ کیا۔ خیال میں آیا کہ شاید امسال ایسا ہوگا (چنانچہ عمرہ کی نیت سے سفر شروع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 52–53

آیت 52 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج ” لفظ ”تمنا“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لغوی اعتبار سے اس مادہ میں آرزو اور خواہش کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح ایک عام آدمی سوچتا ہے ‘ خواہش کرتا ہے اور مختلف امور میں منصوبہ بندی کرتا ہے اسی طرح نبی علیہ السلام اور رسول علیہ السلام بھی سوچتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے۔ مثلاً ابو طالب کی وفات کے بعد جب ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بن گیا اور اس کی ذاتی دشمنی کے باعث آپ ﷺ کو اپنے قبیلے کی پشت پناہی حاصل نہ رہی تو آپ ﷺ نے سوچا کہ اب کیا کروں ؟ ع ”کس طرف جاؤں ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

80 اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور نبی دو الگ الگ شخصتیں ہوتی ہیں۔ نبی عام ہے اور رسول خاص بالفاظ دیگر ہر رسول نبی تو ہوتا ہے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ۡ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا 54؀ۚ ) 19 ۔ مریم :54) یعنی موسیٰ رسول بھی تھے اور نبی بھی لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ نبی اور رسول کا فرق پہلے سورة مائدہ کی آیت 67 کے تحت واضح کیا جاچکا ہے۔ 81 تمنی کے معنی تمنا یا آرزو کرنا بھی لغوی لحاظ سے درست ہیں اور تلاوت کرنا بھی۔ ترجمہ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

88۔ (احکام الہی سے) (آیت) ” اذا تمنی “۔ منی کے معنی جس طرح تمنا کرنے کے ہیں، پڑھنے کے بھی ہیں۔ وقال رواۃ اللغۃ الامنیۃ القرأۃ (کبیر) فی امنیتہ اے فی تلاوتہ (راغب) اے قرء وتلا (لسان) تمنی الکتاب قراہ وکتبہ (لسان) چناچہ شاعر اسلام حضرت حسان ؓ کا یہ شعر حضرت عثمان ؓ کے مریثہ کا اور ایک دوسرا شعر بھی بہ کثرت نقل ہوا ہے۔ لسان العرب کے الفاظ یہ ہیں :۔ تمنی کتاب اللہ اخر لیلہ واخرہ لاقی حمام المقادر۔ والتمنی التلاوۃ وتمنی اذاتلاالقران وقال اخر۔ تمنی کتاب اللہ اخر لیلہ تمنی داؤد الزبور علی رسل۔ ان تینوں موقعوں پر تمنی صاف تلاوت وقرأت کے معنی میں ہے۔ اور یہاں یہی مراد ہے۔ یعنی بالتمنی التلاوۃ والقرأۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 49–57

آیت نمبر 49 تا 57 ترجمہ : آپ اعلان کر دیجئے کہ اے لوگو یعنی مکہ والو میں تم کو واضح طور ڈرانے والا ہوں یعنی کھلے طور پر آگاہ کرنے والا ہوں اور میں مومنین کو خوشخبری دینے والا ہوں، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے (سابقہ) گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے وہ جنت ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں یعنی قرآنی آیات کے ابطال کے روپے رہتے ہیں عاجز کرنے کے لئے ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کی ہے نبی ﷺ کی یعنی ان کی طرف عاجز ہونے کی نسبت کرنے کے لئے، اور روکتے ہیں ان کو ایمان سے یا ہم کو عاجز گمان کرتے ہوئے ان کی گرفت سے، اور ایک قرأۃ میں معاجزین بمعنی مسابقین ہے یعنی ہمارے بارے میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ارسلنا من قبلک من رسولا ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنتیہ اور (اے محمد ﷺ ! ) آپ سے پہلے بھی ہم نے کوئی رسول اور نبی ایسا نہیں بھیجا مگر (اس کو یہ قصہ ضرور پیش آیا کہ) جب اس نے (اللہ کا کچھ کلام) پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں مداخلت ضرور کی۔ بغوی نے لکھا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس کے سامنے رودررو ہو کر جبرئیل ( علیہ السلام) آئے اور نبی وہ ہوتا ہے جس کی نبوت بصورت الہام یا بصورت خواب ہو۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ رسول وہ ہے جس کو نئی شریعت دے کر بھیجا گیا ہو اور نبی کا لفظ عام ہے۔ رسول بھی نبی ہوتا ہے اور وہ شخص نبی ہوتا ہے جس کو سابق شریعت کی دعوت دینے اور اس کی تائید کرنے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) بلکہ ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کو یہ واقعہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس رسول اکرم ﷺ نے احکام خداوندی میں سے کچھ پڑھا، یا اس نبی نے کچھ بیان کیا تو شیطان نے اس رسول کے پڑھنے اور اس نبی کے بیان کرنے میں کچھ شبہ ڈال دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان شیطانی شبہات کو اپنی نبی کی زبانی بیان کروا دیا تاکہ ان پر کوئی عمل نہ کرے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بیان کردیتا ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور شیطان جو شبہات ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا اور نیست ونابود کردینے میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ومآ ارسلنا من قبلک“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن جریر ؒ اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ۔۔ : لغت میں ”تَمَنّٰی یَتَمَنّٰی تَمَنِّیًا“ کا معنی تمنا، آرزو اور خواہش کرنا بھی ہے اور تلاوت کرنا اور پڑھنا بھی ہے، سورة بقرہ کی آیت (78) : (وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ) میں ”اَمَانِیَّ“ ”أُمْنِیَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی آرزو بھی ہے اور تلاوت کرنا بھی۔ پہلے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول یا نبی بھیجا شیطان اس کی ہر آرزو اور خواہش کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا۔ ظاہر ہے پیغمبر کی آرزو لوگوں کے ایمان قبول کرنے اور دین حق کے غلبے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–53

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل یایھا الناس، الناس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ انما انالکم نذیر، نذیر بمعنی منذر اور مخوف (ڈرانے والا) ہے۔ انذار کا معنی سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ مبین۔ یعنی دینی معاملات میں سے جس کی تمہیں ضرورت ہوتی ہے میں تمہارے لیے اسے بیان کرنے والا ہوں۔ رزق کریم۔ سے مراد جنت ہے۔ والذین سعوافی ایتنا وہ لوگ جو ہماری آیات کو باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاجزین غلبہ پانے کے لیے جنگ کرنے کے لیے۔ یہ حضرت اببن عباس ؓ کا قول ہے۔راء نے کہا : اس کا معنی ہے دشمنی کرتے ہوئے۔ حضرت عببداللہ بن زبیر نے کہا : اسلام سے باز رکھنے والے تھے۔ اخفش نے کہا : معاندین مسابقین۔ زجاج نے کہا : یہ گمان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–57

1۔ عبد بن حمدی وابن الانباری نے مصاحف میں عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث، 2۔ ابن ابی حاتم نے سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی سے پہلے ولا محدث اتارا گیا تھا پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔ اور محدثون یہ تھے۔ صاحب یسین، لقمان یہ آل فرعون میں سے تھے اور صاحب موسیٰ ۔ 3۔ ابن المنذور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر آیات نازل کی جاتی ہیں۔ لیکن اس کی طرف نئی شریعت نہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَآ اَرْسَلْنَا [ اور ہم نے نہیں بھیجا ] مِنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] مِنْ رَّسُوْلٍ [ کوئی بھی رسول ] وَّلَا نَبِيٍّ [ اور نہ ہی کوئی نبی ] اِلَّآ [ مگر یہ کہ ] اِذَا [ جب ] تَـمَنّىٰٓ [ وہ تمنا کرتے ] اَلْقَى [ تو ڈالتا ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] فِيْٓ اُمْنِيَّتِهٖ ۚ[ ان کی خواہش میں ] فَيَنْسَخُ [ پھر منسوخ کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَا [ اس کو جو ] يُلْقِي [ ڈالتا ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] ثُمَّ يُحْكِمُ [ پھر محکم کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اٰيٰتِهٖ ۭ [ اپنی نشانیوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] نوٹ ۔ 1: آیت نمبر ۔ 52 کے دو معانی کئے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–55

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت میں شیطان کی حرکتیں اہل علم کے یقین میں پختگی آنا اور کافروں کا شک میں پڑے رہنا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کے مخالفین جو کچھ حرکتیں کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات رسل عظام (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے ان حضرات نے جب اپنے مخاطبین کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے ان کی قرأت اور تلاوت کے بارے میں مخاطبین کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک اور شبہات ڈال دیئے جیسا کہ سوۂ انعام میں فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–57

ذکر فتنہ شیطان برائے امتحان مخلصان ومنافقان قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی .... الیٰ .... فاولئک لہم عذاب مھین۔ (ربط) گزشتہ آیات والذین سعوا فی ایاتنا معاجزین۔ میں اس بات کا بیان تھا کہ مجادلین اور معاندین ہمیشہ آیات خداوندی کے ابطال کی سعی میں اور دین حق کی تخریب کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں ابطال آیات کی سعی اور اس میں جدوجہد ان مجادلین اور معاندین کی قدیمی عادت ہے اور اس سلسلہ میں شیطان طرح طرح کے فتنے برپا کرتا رہتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شبے ڈالتا رہتا ہے جو کافروں اور ضعیف الایمان لوگوں کے لیے فتنہ بن جاتے ہیں۔ اے نبی آپ ﷺ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

66:۔ ” وَ مَا اَرْسَلْنَا الخ “ یہ مشرکین کے نہ ماننے کی وجہ ہے جب اللہ کا پیغبر کلام اللہ کی آیتیں پڑھتا ہے اس وقت شیطان سننے والوں کے دلوں میں کئی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے مثلا یہ کہ یہ پیگمبر جادوگر ہے، شاعر و مجنون ہے اور ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے وغیرہ۔ مشرکین ان شبہات کی وجہ سے راہ ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں لیکن ایمان والوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ ان ناپاک شبہات سے پاک فرما دیتا ہے۔ قریب قریب یہی مضمون قرآن مجید کی آیت ذیل میں بھی مذکور ہے ” وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ زُخْرُفِ الْقَوْلِ غُرُوْرًا “…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–54

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو اس کی آیتوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور فرمایا کہ یہ لوگ جہنمی ہیں۔ اب آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی کے طور پر فرمایا ہے کہ آپ مخالفین کی مخالفت سے گھرائیں نہیں کیونکہ کافروں اور مشرکوں کا ابتداء سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے اور اللہ کے نبیوں کو ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مگر نہ تو وہ سابقہ ادوار میں کامیاب ہوئے اور نہ اب ہوں گے بلکہ ذلیل وخوارہوں گے۔ ان کے مقابلے میں فتح و کامرانی اہل حق کو ہی نصیب ہوگی۔ نبی اور رسول میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّآ اِذَا تَـمَنّٰٓي اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِہٖ۝ 0ۚ فَيَنْسَخُ اللہُ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللہُ اٰيٰتِہٖ۝ 0ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝ 52ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

اس کے بعد فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ تم کس لیے جلدی کرتے ہو میں تمہیں مطلع کرنے آیا ہوں کہ جو ایمان لائے گا ‘ نیک کام کرے گا ‘ مغفرت اور دنیا و آخرت میں عزت پاوے گا اور جو مقابلہ کرے گا جہنم میں جائے گا میں نذیر ہوں بشیر ہوں نہ خدا ہوں نہ خدا کے گھر کا مالک و مختار کہ جو چاہوں تمہاری خواہشوں کے موافق اس کو کرد کھائوں۔ اس لیے اس بات کی تائید کے لیے یہ کلام بعد میں صادر فرمایا وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی لشیطان فی امنیۃ کہ اے محمد ﷺ ! تم پر کیا موقوف ہے تم سے پیشتر جس قدر رسول اور نبی بھیجے گئے ہیں گو وہ معصوم تھے مگر بشر تھے خواص بشریہ سے خالی نہ تھے جب کبھی کسی نے ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآاِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَایُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الحج : 52) (ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا (یا اللہ کا حکم پڑھ کرسنایا) تو شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے (شکوک) ڈالے۔ پس اللہ مٹا دیتا ہے جو شیطان دخل اندازی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور بہت دانا ہے۔ ) سعی فی المعاجزۃ کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی گذشتہ آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : رسول کریم ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ یہ بتلایا گیا ہے کہ شیطان اور اس کے چیلے ہمیشہ سے ہی شرارتیں کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ رسول کریم ﷺ کو مخصوص انداز میں تسلی دی گئی ہے کہ میرے رسول ! آپ کو دل نہیں ہارنا۔ اس لیے کہ آپ سے پہلے جتنے نبی اور رسول مبعوث کیے گئے ان کی ذات اور کام کے ساتھ شیطانی قوتوں نے یہی رویہ اختیار کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی شیطنت کو ہمیشہ سے مٹاتا رہا ہے اور اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کو محکم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو اچھی طرح جاننے والا ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ اس آیت میں تمنا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اہل تفسیر نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تمنی قراءت کے معنی میں ہے : 52: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ (اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول ایسا نہیں بھیجا) منؔ ابتدائے غایت کیلئے ہے۔ منؔ رسول میں مِنْ زائدہ ہے۔ جو تاکید نفی کیلئے بڑھا دیا گیا ہے۔ وَّلَا نَبِیٍّ (اور نہ کوئی نبی ) مسئلہ : یہ آیت رسول اور نبی کے معنی میں تغایر کی دلیل ہے۔ بخلاف ان حضرات کے جو ان کو ایک کہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ سے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق سوال کیا گیا۔ تو آپ نے فرمایا۔ مائۃ الف واربعۃ عشرون الفاً پھر سوال کیا گیا ان میں رسل کی تعداد کتنی ہے۔ آپ نے فرمایا : ثلاث مائۃ وثلاثۃ عشر ] رواہ ابن حبان : 361۔ ابونعیم فی الحلیہ 1/166] دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52۔ وماارسلناک من قبلک من رسول ولانبی۔۔۔۔ ، حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ سے آپ کی قوم والوں نے رخ پھیرلیا اور کلام اللہ سے ان کو دور دور رہناحضور کو شاق گزرا تو آپ کے دل میں تمنا پیداہوئی کہ کاش اللہ کی طرف سے کوئی ایساطریقہ پیدا ہوجائے جس سے قوم والے آپ کے قریب آجاتے۔ آپ کو قوم والوں کے مسلمان ہوجانے کی بڑی رغبت تھی۔ چناچہ ایک روز آپ قریش کے جلسہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة نجم نازل ہوئی۔ آپ نے لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی جب پڑھتے پڑھتے آیت، افرائیتم الات والعزی ومنوۃ الثالثت الاخری، پر پہنچے تو شیطان نے وہ خواہش جو آپ کے سینے میں تھی زبان سے نکلوا دی اور آپ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–53

52۔ 53:۔ مسند بزار تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن منذر ‘ تفسیر ابن مردویہ ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن جریر وغیرہ 2 ؎ میں مختلف سندوں سے اس آیت کی شان نزول میں جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت سورة والنجم مکہ میں نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ اس سورت کو مشرکین مکہ کے روبرو پڑھنے لگے اور سورة والنجم کی اس آیت پر پہنچے جس میں لات، عزی اور منات بتوں کا نام ہے تو شیطان نے آنحضرت ﷺ کی قرأت کے سکتہ کے وقت کچھ کلمے پڑھ دیئے ‘ جس کے معنوں سے ان بتوں کی تعریف کا ذکر اور ان کی شفاعت کا ذکر نکلتا ہے ‘ ان کلموں کو مشرکین مکہ نے قرآن کی آیت اور اس شیطان کی آواز کو آنحضرت ﷺ کی آواز خیال کیا اور کہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 52–57

آیت 52 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لئے جو کچھ اختیار کر رکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٓ سے پہلے (من رسول ولا نبی الا اذا تمنی) ” جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی “ یعنی قرٓت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا (القی الشیطن فی امنیتہ) ” تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کردیتا ہے۔ “ یعنی اس کی قرءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قرءت کے مناقض (مخالف) ہوتا۔۔۔. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–52

تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 51–52

104 حق کا مقابلہ کرنے والوں کی ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے والے یار ہیں دوزخ کے۔ اور جس طرح ایک یار اپنے یار سے الگ نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے ‘ اسی طرح دوزخ کی وہ ہولناک آگ نہ ان لوگوں کو چھوڑے گی اور نہ ہی یہ اس سے کبھی الگ ہوسکیں گے ‘ والعیاذ باللہ سو اس طرح ایسے لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے حق کے چراغ کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ‘ البتہ وہ خود دوزخ کا ایندھن بن جائیں گے ‘ والعیاذ باللہ سو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی آیتوں کو قبول کرنے کی بجائے ان کا مقابلہ کرنا، اور ان کو نیچا دکھانے کیلئے دوڑ دھوپ کرنا ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–57

شیطان کی چال اور اللہ کا انتظام تشریح : ان آیات میں بھی رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں شیطان اور شیطان خصلت لوگ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں کو تنگ کرتے رہے ہیں۔ مگر اللہ علم والا ہے اور حکمت والا ہے۔ پیدائش شیطان کا مقصد یہ ہے تاکہ کھرے کھوٹے لوگ دنیا کے سامنے اچھی طرح ظاہر ہوجائیں ورنہ اللہ کا علم تو ناقابل حد تک وسیع ہے۔ وہ اپنے علم اور اپنی حکمت سے سب لوگوں کے اعمال ‘ نیتیں اور ارادے جانتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون لوگ شیطان کا مقابلہ کر کے اس کو بھگا سکتے ہیں اور کون اس کے جال میں پھنس کر تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔ بہرحال سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے حضور حاضر ہوں گے نیک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 49–57

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آپ فرما دیجئے لوگو میرا منصب عالی یہ ہے کہ جس راہ پر تو چل رہے ہو یعنی کفر ونافرمانی اس کے انجام بد سے بروقت مطلع کردوں اور بس عذاب لانا نہ میرا کام ہے نہ میں نے اس کا دعوی کیا ہے ہاں جس راہ پر تم چل رہے ہو وہ عذاب ہی پہ پہنچتی ہے اور صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لے آئے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی انھیں اللہ جل جلالہ کی بخشش بھی نصیب ہوگی اور بہترین نعمتیں بھی مگر جو بدبخت اپنی اصلاح کے بجائے اللہ جل جلالہ کے نبی کی بات کو جھٹلانے اور اللہ جل جلالہ کے احکام کی تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ یقینا دوزخ میں رہیں گے (نبی اور رسول) اور یہ کوئی نئی بات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ لفظ ” امنیۃ “ اور ” تمنی “ کے یہ دونوں معنی آتے ہیں۔ اس لئے مفسرین (رح) نے دونوں معنی ہی بیان کئے ہیں۔ پہلے معنی ” خیال باندھا “ پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : نبی ﷺ کو ایک حکم اللہ سے آتا ہے اس میں ہرگز تفاوت نہیں اور ایک اپنے دل کا خیال اس میں جیسے اور آدمی، بھی خیال ٹھیک پڑا کبھی نہ پڑا۔ جیسے حضرت ﷺ نے خواب دیکھا کہ مدینے سے مکہ گئے، عمرہ کیا، خیال میں آیا کہ شاید اب کے برس ( ہوگا مگر) وہ ٹھیک پڑا اگلے برس… پھر اللہ جتا دیتا ہے کہ جتنا حکم تھا اس میں تفاوت نہیں۔ (موضح) اس صورت میں اس خیال کے غلط ہونے کی بنا پر اسے شیطان کی طرف منسوب کردیا ہے۔ دوسرے معنی یعنی ” کچھ پڑھنا شروع کیا “ کے تحت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:52) تمنی۔ المنی سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے (باب تفعل) المنجد میں اس کے معنی یہ دئیے ہیں۔ (1) تمنی الشیء ارادہ کرنا۔ (2) تمنی الکتاب۔ پڑھنا۔ (3) تمنی الرجل جھوٹ بولنا۔ (4) تمنی الحدیث۔ جھوٹی بات گھڑنا۔ امام راغب (رح) فرماتے ہیں :۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھنے اور اس کی تصویر کھینچ لینے کے ہیں۔ (التمنی تقدیر شیء فی النفس وتصویرہ فیھا) ۔ بہت سے مفسرین نے آیہ ہذا میں اس کے معنی قرات کے لئے ہیں (تمنی الکتاب) اور اس بابت انہوں نے انحصار کیا ہے اولاً آیت شریفہ ومنہم امیون لا یعلمون الکتب الا امانی (2:78) پر اور ثانیا اس شعر پر۔ تمنی کتب اللہ اخر لیلۃ تمنی داود الزبور علی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 49–57

لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 57 نذیر مبین (کھلا ہوا ڈرانے والا) رزق کریم (عزت کا رزق) سعوا (جودوڑے) ‘ معجزین (عاجزی کرنے والا۔ نیچا دکھانے والے) ‘ تمنی (اس نے آرزو کی۔ اس نے بات کہی) ‘ ینسخ (وہ منسوخ کرتا ہے۔ وہ ہٹا تا ہے) ‘ یحکم (وہ مضبوط کرتا ہے) ‘ القاسیۃ (سخت) ‘ شقاق (ضد۔ ہٹ دھرمی) ‘ مریۃ (شک و شبہ) ‘ بغتۃ (اچانک) عقیم (منحوس) ۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہیے اے لوگو ! میں نہایت واضح طریقہ پر صاف صاف ان اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر رہا ہوں جن کی صداقت کو تم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لاکر عمل صالح کی زندگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–53

(ف 2) شان نزول۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب سورة والنجم نازل ہوئی تو سید عالم نے مسجد حرام میں اس کی تلاوت فرمائی اور بہت آہستہ آہستہ آیتوں کے درمیان وقفہ فرماتے ہوئے جس سے سننے والے غور بھی کرسکیں اور یاد کرنیوالوں کو یاد کرنے میں بھی مدد ملے جب آپ نے آیت ومناۃ الثالۃ الاخری پڑھ کر حسب دستور وقفہ فرمایا تو شیطان نے مشرکین کے کان میں اس سے ملا کردو کلمے ایسے کہہ دیے جن سے بتوں کی تعریف نکلتی تھی تو جبرائیل امین نے سید عالم کی خدمت میں حاضر ہوکر فرمایا اس سے حضور کو رنج ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–52

[38] رسول اور نبی کے فرق کے بارے میں ملاحظہ ہو سورة مریم حاشیہ 20 صفحہ 715۔ [39] اصل میں الفظ تمنّیٰ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں، ایک معنی کسی چیز کی خواہش یا آرزو کے اور دوسرے معنی تلاوت کے ہیں یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔ [40] یعنی جب بھی پیغمبر نے کلام الٰہی لوگوں کو سنایا تو شیطان نے اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے۔ مثلاً نبی نے آیت حرم علیکم المیتۃ (تم پر مردار حرام کیا گیا) پڑھ کر سنائی تو شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کیسے ہوا۔ [41] یعنی شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

غرانیق کا قصہ جعلی ہے !: (ف 1) ان آیات کے شان نزول میں مفسرین نے یہ قصہ ذکر کیا ہے کہ حضور ﷺ نے جب دیکھا کہ قوم کی سرکشی اور عناد روز بروز بڑھتا جاتا ہے اور کسی طرح ان کے جوش تمرد میں کمی واقع نہیں ہوئی تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کسی طرح ان کی تالیف قلوب کی جائے ، چناچہ ایک دن آپ قریش کے مجمع میں پہنچے ، تاکہ انکے خیالات کو اسلام کی جانب پھیر سکیں اسی اثنا میں آپ پر سورة النجم کی آیات نازل ہوئیں ۔ آپ نے ان کو مجمع میں پڑھ کر سنایا ، اور جب اس آیت پر پہنچے ۔ (آیت) ” افرایتم اللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری “۔ تو شیطان کی تحریک سے آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے ، ” تلک الغرانیق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(52) اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے کچھ پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں اور اس کے پڑھے ہوئے الفاظ میں شکوک و شبہات ڈالے۔ یعنی نبی نے تلاوت فرمائی اور شیطان نے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شکوک و شبہات کو مٹا دیتا ہے اور زائل کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو اور زیادہ مستحکم اور مضبوط کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کے حال سے باخبر اور حکمت والا ہے۔ مفسرین نے آیت کی تفسیر کئی طرح بیان کی ہے بعض کو اہل تحقیق نے جو مرجوع قرار دیا ہے اور بعض کو راجح کہا ہے۔ ایک طریقہ وہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ گو وہ فی نفسہا بھی مستحکم تھیں، لیکن اعتراضات کے جواب سے اس استحکام کا ظہور ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انبیاء ورسل کی تمنا کیا تھی جس میں شیطان نے کوئی نہ کوئی فتنہ کی بات ڈال دی : 52۔ (تمنی) کی اصل م ن ی ہے اور اس کے معنی ہیں کسی انسان کے دل میں کسی خواہش و آرزو کا پیدا ہونا جو ایک فطری چیز ہے ، (تمنی) کے ایک اٹکل اور اندازہ سے پڑھنے کے بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ معنی مراد ہو ہی نہیں سکتے اس لئے کہ جو جبریل (علیہ السلام) وحی لائے تھے وہ جبریل یا خود نبی کریم ﷺ اٹکل اور اندازے سے نہیں پڑھتے تھے بلکہ بالکل وہی پڑھتے تھے جو کلام الہی آپ پر نازل ہوتا تھا جس کے نازل ہونے میں بھی کوئی شک نہیں تھا اور اس کے پڑھنے میں کوئی اٹکل اور اندازہ استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کی پوری ذمہ داری رب العزت کے ذمہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–57

Commentary مِن رَّ‌سُولٍ وَلَا نَبِيٍّ (any messenger and any prophet - 22:52) This shows that the words Rasul رَّ‌سُولٍ and Nabi carry different meanings, though there is no consensus as to the precise nature of the difference. For our purpose it is enough to understand that Nabi نَبِيٍّ is a person whom Allah Ta’ ala designates with a mission to reform his people and who receives revelations from Him. He may receive a Scripture and a code of laws or he may be commanded to convey the message of an earlier Book and code of laws. Sayyidna Musa (علیہ السلام) and ` Isa' (علیہ السلام) belong to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

96. For the distinction between Nabi and Rasul, refer to (E. N. 30 of Surah Maryam). 97. The Arabic word tamanna has two meanings:“desire”and“to recite”something. 98. If the first meaning is taken, it will imply: Satan tried to prevent the fulfillment of his desire. If the second meaning is taken, it will imply: When the Prophet recited the Revelations, Satan created different sorts of doubts about its truth and meanings in the minds of the people. 99. If the first meaning is adopted, it will imply: Allah fulfills the Prophet’s desire and makes his mission successful in spite of the obstacles…

Read the full tafseer →