Explained with ayahs 49–51
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر
چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو ! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔ جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
سورة الْحَجّ 95
" مغفرت " سے مراد ہے خطاؤں اور کمزوریوں اور لغزشوں سے چشم پوشی و درگزر۔ اور " رزق کریم " کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ عمدہ رزق دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ عزت کے ساتھ بیٹھا کردیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
آخرت کا دن ایک ہزار سال ہونے کا مطلب
آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ ، یعنی آپ کے رب کے پاس ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کی برابر ہوگا۔ اس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن لیا جائے اور اس کا ایک ہزار سال کی برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن کے ہولناک واقعات اور ہیبت ناک حالات کی وجہ سے یہ دن اتنا دراز محسوس ہوگا جیسے ایک ہزار سال خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اشتداد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے بہت سے حضرات مفسرین نے اس کے یہی معنے قرار دیئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ واقع میں عالم آخرت کا ایک دن ہمیشہ کے لئے دنیا کے ایک ہزار سال ہی کے برابر ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
رسول کی اصل ذمہ داری
نذیر یرمبین پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں۔ عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ قبیلہ یا قافلہ جہاں ڈیرا ڈالتا وہاں کسی اونچی جگہ پر ایک نگران پہرہ دیتا اور اگر وہ کسی طرح سے کوئی خطرہ محسوس کرتا تو اپنے کپڑے اتار کر ننگا ہوجاتا اور خطرے کا اعلان کرتا جس کے بعد قبیلہ یا قافلہ کے سارے مرد تلواریں سونت کو مدافعت کے لئے تیار ہوجاتے۔ اس کو نذیر عریاں کہتے تھے۔ یہ تعبیر چونکہ ناشائستہ تھی، نبی کے لئے اس کا استعمال موزوں نہ تھا، اس وجہ سے قرآن نے اس کو نذیر مبین کی شکل میں شائستہ بنا لیا ہے لیکن اس میں تلمیح نذیر عریاں ہی کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک نذیر عریاں قوم کو خطرے سے اگٓاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
51۔ 1 مُعٰجِزِیْنَ کا مطلب ہے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ہمیں عاجز کردیں گے، تھکا دیں گے اور ہم ان کی گرفت کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے۔ اس لئے کہ وہ بعث بعد الموت اور حساب کتاب کے منکر تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
27: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے مخالفین کی طرف سے جن شکوک و شبہات کا اظہار ہورہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ؛ بلکہ پچھلے انبیاء کرام کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر سناتے تو شیطان کافروں کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کردیتا جس کی بنا پر وہ لوگ ایمان نہیں لاتے تھے، لیکن چونکہ یہ شکوک و شبہات اصل میں بےبنیاد ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کا کوئی اثر مخلص مسلمانوں پر باقی نہیں رہنے دیتا ؛ بلکہ انہیں نیست ونابود کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
قل یایھا ……الجحیم (15)
یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔
انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
4 آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ، نے اپنے پیشرو حضرت شاہ عبدالقادر (رح) کی روش اختیار فرمائی ہے جس کی طرف حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ ' نے بھی " حجۃ اللہ البالغہ " کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب " موضح القرآن " میں لکھتے ہیں " نبی کو ایک حکم (یا ایک خبر) اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اس میں ہرگز ذرہ بھر تفاوت نہیں ہوسکتا۔ اور ایک اپنے دل کا خیال (اور رائے کا اجتہاد) وہ کبھی ٹھیک پڑتا ہے کبھی نہیں۔ جیسے حضرت ﷺ نے خواب میں دیکھا (اور نبی کا خواب وحی ہوتا ہے) کہ آپ مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ کیا۔ خیال میں آیا کہ شاید امسال ایسا ہوگا (چنانچہ عمرہ کی نیت سے سفر شروع…
Read the full tafseer →آیت 51 وَالَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ”
یعنی وہ لوگ جن کی ساری بھاگ دوڑ اور تگ و دو اللہ تعالیٰ کی آیات کو ناکام اور غیر مؤثر بنانے ‘ گویا اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور اس کی منصوبہ بندی کی راہ میں روڑے اٹکانے میں ہے وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →79 یعنی ہماری آیات کا انکار کرکے اور پھر اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کو دبا لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے البتہ ان کی ان کرتوتوں کے عوض انھیں جہنم کا عذاب ضرور ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
87۔ یعنی نبی کو اور اہل ایمان کو ہرانے کے لیے۔ اہل باطل کی کوششیں حق واہل حق کی مخالفت میں خواہ وہ فلسفہ یا سائنس کے نام سے ہوں یا ادب و شاعری کے یا حکومت وسیاست کے پردہ میں۔ غرض جس نام سے بھی ہوں سب اسی آیت کے تحت میں آجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
آیت نمبر 49 تا 57
ترجمہ : آپ اعلان کر دیجئے کہ اے لوگو یعنی مکہ والو میں تم کو واضح طور ڈرانے والا ہوں یعنی کھلے طور پر آگاہ کرنے والا ہوں اور میں مومنین کو خوشخبری دینے والا ہوں، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے (سابقہ) گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے وہ جنت ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں یعنی قرآنی آیات کے ابطال کے روپے رہتے ہیں عاجز کرنے کے لئے ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کی ہے نبی ﷺ کی یعنی ان کی طرف عاجز ہونے کی نسبت کرنے کے لئے، اور روکتے ہیں ان کو ایمان سے یا ہم کو عاجز گمان کرتے ہوئے ان کی گرفت سے، اور ایک قرأۃ میں معاجزین بمعنی مسابقین ہے یعنی ہمارے بارے میں یہ…
Read the full tafseer →والذین سعوا فی ایتنا معجزین اولئک اصحب الجحیم۔ اور جو لوگ (رد کرنے کیلئے)
ہماری آیات کے متعلق کوشش کرتے رہتے ہیں (پیغمبر اور اہل ایمان کو) ہرانے کے لئے ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں۔
مُعٰجِزِیْنَیعنی عناد اور سخت مخالفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ قتادہ نے یہ مطلب بیان کیا کہ وہ اپنے خیال میں ہمیں ہرانا چاہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ نہ قیامت ہوگی نہ جنت و دوزخ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ہمارے قبضہ سے نکل جائیں گے ہم ان پر قادر نہ ہو سکیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ہم سے مقابلہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم پر غالب آجائیں اور ہماری گرفت سے باہر ہوجائیں۔
میں کہتا ہوں معاجزین کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارے رسول…
Read the full tafseer →(51) اور جو لوگ ہماری آیات یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھٹلاتے رہتے ہیں، وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے، ایسے لوگ جہنمی ہیں۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْٓ اٰيٰتِنَا۔۔ : ”مُعٰجِزِيْنَ“ باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے، مقابلے میں عاجز کردینے والے، نیچا دکھانے والے۔ یہ نذارت یعنی ڈرانے کی آیت ہے، یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں نیچا دکھا دیں یا عاجز کردیں، کبھی انھیں جھوٹا کہتے ہیں، کبھی جادو کہتے ہیں، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، تو یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، حتیٰ کہ ان کا لقب ہی ”اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ“ (بھڑکتی ہوئی آگ والے لوگ) ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل یایھا الناس، الناس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ انما انالکم نذیر، نذیر بمعنی منذر اور مخوف (ڈرانے والا) ہے۔ انذار کا معنی سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ مبین۔ یعنی دینی معاملات میں سے جس کی تمہیں ضرورت ہوتی ہے میں تمہارے لیے اسے بیان کرنے والا ہوں۔ رزق کریم۔ سے مراد جنت ہے۔ والذین سعوافی ایتنا وہ لوگ جو ہماری آیات کو باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاجزین غلبہ پانے کے لیے جنگ کرنے کے لیے۔ یہ حضرت اببن عباس ؓ کا قول ہے۔راء نے کہا : اس کا معنی ہے دشمنی کرتے ہوئے۔ حضرت عببداللہ بن زبیر نے کہا : اسلام سے باز رکھنے والے تھے۔ اخفش نے کہا : معاندین مسابقین۔ زجاج نے کہا : یہ گمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
1۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کو ” رزق کریم “ فرماتے ہوئے سنے تو اس سے مراد ہے جنت۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ انہوں نے پڑھا معاجزین، اور فرمایا کہ سارے قرآن میں الف کے ساتھ ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے مشقت اٹھانے والے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ معجزین سے مراد، یعنی دشمنی کرنے والے۔
4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن الزبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت والذین سعو فی ایتنا معزجین (یعنی بغیر الف کے) سے مراد ہے مثبطین، یعنی روکنے والے۔
5۔ ابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور جن لوگوں نے ] سَعَوْا [ بھاگ دوڑ کی ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں میں ] مُعٰجِزِيْنَ [ (ان کو ) عاجز کرنے والے ہوتے ہوئے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ [ دوزخ والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے اور معاندین کے لیے عذاب جہنم ہے
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ میں ایک ڈرانے والا ہیں ہوں، ڈرانا اور واضح طور پر سب کچھ بیان کردینا یہ میرا کام ہے منوانا اور ہاتھ پکڑ کر عمل کروانا میرا کام نہیں اور عذاب لانا بھی میرا کام نہیں مجھ سے عذاب لانے کی جلدی کرنا تمہاری حماقت اور جہالت ہے، میری دعوت و تبلیغ پر جو بھی ایمان لے آئے اور اعمال صالحہ میں مشغول رہے اس کے لیے مغفرت اور عزت کے رزق کی خوشخبری دیتا ہوں، میں نذیر بھی ہوں اور بشیر بھی ہوں تم اگر ایمان نہیں لاتے تو اپنا انجام سوچ لو۔
پھر فرمایا کہ جو لوگ عاجز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تسلیۂ رسالت مآب وتہدید کفار بر استعجال عذاب ووعدہ
مغفرت و رزق کریم برائے اہل طاعت ووعید عذاب جحیم برائے اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ وان یکذبوک فقد کذبت قبلہم قوم نوح .... الیٰ .... اولئک اصحب الجحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے جدال و قتال اور ان کی ایزاء رسانی کی بناء پر مسلمانوں کو جہاد قتال کی اجازت دی گئی اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کفار کی مخالفت اور تکذیب اور عداوت سے ملول نہ ہوں ہمیشہ سے عام انبیاء کی تکذیب ہوتی چلی آئی ہے اور کافروں نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا اور یہ کافر ملک شام کو جاتے ہوئے راستہ میں ان مقامات سے گزرتے ہیں جہاں ان پر عذاب نازل ہوا تھا پھر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
65:۔ ” فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ بشارت اخروی جو لوگ توحید و رسالت اور دیگر ضروریات دین پر ایمان لے آئے اور نیک کام کیے ان کے لیے آخرت میں بخشش اور عزت کی روزی ہوگی۔ ” وَالَّذِیْنَ سَعَوْا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ ہماری آیتوں کو باطل اور بےاثر کرنے کے لیے کوشش کریں گے اور مختلف طریقوں سے ان کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی سعی کریں گے کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا ای بذلوا الجھد فی ابطلاھا فسموھا تارۃ سحر او تارۃ شعر او تارۃ اساطیر الاولین (روح ج 17 ص 171) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ مظلوم اہل ایمان کی مدد کا وعدہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ، اگر اللہ انہیں زمین میں اقتدار عنایت فرمائے گا تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے ، نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ یہ ان کا منشور ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مکذبین کو تنبیہ فرمائی اور حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر قوم نے اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ پھر اللہ نے مہلت دے کر انہیں مبتلائے عذاب کیا۔ بہت سی بستیوں کے باشندے ظالم تھے جنہیں اللہ نے ہلاک کیا اور تمام…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ 51
سعی
السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
اس کے بعد فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ تم کس لیے جلدی کرتے ہو میں تمہیں مطلع کرنے آیا ہوں کہ جو ایمان لائے گا ‘ نیک کام کرے گا ‘ مغفرت اور دنیا و آخرت میں عزت پاوے گا اور جو مقابلہ کرے گا جہنم میں جائے گا میں نذیر ہوں بشیر ہوں نہ خدا ہوں نہ خدا کے گھر کا مالک و مختار کہ جو چاہوں تمہاری خواہشوں کے موافق اس کو کرد کھائوں۔ اس لیے اس بات کی تائید کے لیے یہ کلام بعد میں صادر فرمایا وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی لشیطان فی امنیۃ کہ اے محمد ﷺ ! تم پر کیا موقوف ہے تم سے پیشتر جس قدر رسول اور نبی بھیجے گئے ہیں گو وہ معصوم تھے مگر بشر تھے خواص بشریہ سے خالی نہ تھے جب کبھی کسی نے ان…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ سَعَوْافِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ۔ (الحج : 51)
(اور جو لوگ کوشش کرتے رہے ہماری آیتوں (کی تردید) میں اس خیال سے کہ وہ ہمیں ہرا دیں گے وہی دوزخ والے ہیں۔ )
معاندین کو مکمل انذار
قریش اور اہل مکہ کو مکمل طور پر انذار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ بھی شب وروز اس کام میں مصروف ہیں کہ وہ اللہ کے دین کی دعوت کو آگے بڑھنے سے روک دیں اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں انھیں اس حد تک ہراساں کردیں کہ وہ اسلام چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں اور آنحضرت ﷺ جب لوگوں کے سامنے اللہ کا دین پیش کرنے کے لیے نکلیں تو قدم قدم پر ان کا تعاقب کریں اور ہر شخص کے ذہن میں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
فہم القرآن
ربط کلام : عذاب کا بار بار مطالبہ کرنے پر کفار کو دوسرا جواب۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے بارے میں دی گئی ڈھیل پر اہل مکہ اس قدر دلیر ہوئے کہ وہ سرورگرامی ﷺ کو الزام دیتے کہ تم جھوٹے ہو اس لیے ہم پر عذاب نازل نہیں ہوا ؟ اس پر ایک طرف سرور گرامی ﷺ کو آپ کے منصب کے حوالے سے سمجھایا گیا کہ عذاب نازل کرنا آپ کے اختیار میں نہیں آپ کا کام فقط یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ان کے برے کردار کے نتیجہ میں بھیانک مستقبل کے بارے میں کھلے الفاظ میں ڈرائیں۔ یہ کام آپ پوری تندہی سے کر رہے ہیں جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں نا وہ ہماری آیات کو دلائل کی بنیاد پر غلط ثابت کرسکتے ہیں اور نہ ہی…
Read the full tafseer →طعن کے لئے دوڑ دھوپ :
51: وَالَّذِیْنَ سَعَوْا (اور وہ لوگ جو کوشش کرتے رہتے ہیں) سعی فی امرفلان : کسی معاملے میں دوڑ دھوپ کرنا تاکہ وہ اس معاملے کو بگاڑ دے جب کہ وہ اس کی کوشش سے بگڑتا ہو۔ فِیْ ٰایٰتِنَا (ہماری آیات کے متعلق) یعنی قرآن مجید کے متعلق مُعٰجِزِیْنَ (تاکہ وہ عاجز کردیں ہرا دیں) ۔
نحو : یہ حال ہے
قراءت : مکی، ابوعمرو نے معجزین پڑھا ہے۔ اور عاجزہؔ سے سبقت کرنا مراد ہے۔ گویا کہ ان میں سے ہر اک دوسرے کو ساتھ ملنے سے عاجز کرنے کا طلبگار ہے۔ جب ایک ان میں سے آگے بڑھ جاتا ہے تو کہتے ہیں اعجزہ، عجزہ، مطلب یہ ہے کہ وہ اسے معانی میں طعن وتشنیع کی خاطر بگھاڑنے کیلئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →51۔ والذین سعوا فی آیاتنا۔ اور جو لوگ رد کرنے کے لیے ہماری آیات کے متعلق کوشش کرتے رہتے ہیں ، معاجزین ، ابن کثیر اور ابوعمرو نے معجزین تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور سو رہ سبا میں بھی تاکہ وہ لوگوں کو ان کے ایمان سے ورغلائیں اور دوسرے قراء نے معاجزین الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد معاندین ہیں۔ قتادہ نے یہ مطلب بیان کیا کہ وہ اپنے خیال میں ہمیں ہراناچاہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ نہ قیامت ہوگی اور نہ دوزخ اور نہ ہی جنت اور، یعجزوننا ، کا معنی یہ ہے کہ ہم ان کو فوت کردیں گے اور وہ ہم پر قادر نہیں ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا۔
” اولئک اصحاب الجحیم۔ کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
49۔ 51:۔ مشرکین مکہ مسخراپن سے عذاب کی جلدی جو کیا کرتے تھے اوپر کی آیتوں میں اس کا ذکر تھا اس لئے ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تو فقط عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہوں ‘ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ عذاب کب آوے گا اور جس طرح میں عذاب سے ڈراتا ہوں اسی طرح یہ خوشخبری بھی سناتا ہوں کہ جو کوئی شرک سے باز آن کر خالص اللہ کو اپنا معبود جانے گا اور مرضی الٰہی کے موافق نیک کاموں میں لگا رہے گا تو شرک کے نیچے کے کچھ گناہ کر کے اگر ایسا شخص بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ایسے شخص کے گناہوں کو معاف کر کے اسے جنت میں داخل کر دے گا ہاں جو لوگ بلاسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
آیت 49
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰ ٓ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں (مبین) یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں۔ ” انذار “ سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپ نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم کئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس انداز اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی (فالذین امنوا و عملوا الصلحت لھم مغفآ) ” اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لئے مغفرت ہے۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی
قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
104 حق کا مقابلہ کرنے والوں کی ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے والے یار ہیں دوزخ کے۔ اور جس طرح ایک یار اپنے یار سے الگ نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے ‘ اسی طرح دوزخ کی وہ ہولناک آگ نہ ان لوگوں کو چھوڑے گی اور نہ ہی یہ اس سے کبھی الگ ہوسکیں گے ‘ والعیاذ باللہ سو اس طرح ایسے لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے حق کے چراغ کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ‘ البتہ وہ خود دوزخ کا ایندھن بن جائیں گے ‘ والعیاذ باللہ سو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی آیتوں کو قبول کرنے کی بجائے ان کا مقابلہ کرنا، اور ان کو نیچا دکھانے کیلئے دوڑ دھوپ کرنا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–51
لڑائی کی اجازت
تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آپ فرما دیجئے لوگو میرا منصب عالی یہ ہے کہ جس راہ پر تو چل رہے ہو یعنی کفر ونافرمانی اس کے انجام بد سے بروقت مطلع کردوں اور بس عذاب لانا نہ میرا کام ہے نہ میں نے اس کا دعوی کیا ہے ہاں جس راہ پر تم چل رہے ہو وہ عذاب ہی پہ پہنچتی ہے اور صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لے آئے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی انھیں اللہ جل جلالہ کی بخشش بھی نصیب ہوگی اور بہترین نعمتیں بھی مگر جو بدبخت اپنی اصلاح کے بجائے اللہ جل جلالہ کے نبی کی بات کو جھٹلانے اور اللہ جل جلالہ کے احکام کی تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ یقینا دوزخ میں رہیں گے
(نبی اور رسول)
اور یہ کوئی نئی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
6 ۔ یعنی ہمیں ہرانے یا ہمارے قابو سے باہر ہوجانے کے لئے۔
Read the full tafseer →(22:51) معجزین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر معاجز واحد معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر اس کے معنی ہیں مقابلہ کر کے اپنے حریف کو ہرا دینا۔ یا عاجز کردینا۔ منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی نہ حشر ہوگا نہ نشر، نہ عذاب نہ ثواب، لیکن حق یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوگا اور ان چیزوں کو لانے سے وہ اللہ کو روک نہیں سکتے ۔ اس کی قدرت کو سلب نہیں کرسکتے۔ اس کو عاجز نہیں بنا سکتے۔
الجحیم۔ دوزخ۔ دہکتی ہوئی آگ جحم کے معنی آگ کے سخت بھڑکنے کے ہیں جحیم اسی سے مشتق ہے اور فعیل بمعنی فاعل ہے۔ سعوا۔ ماجی جمع مذکر غائب سعی مصدر (باب فتح) انہوں نے کوشش کی۔ سعوا فی ایتنا۔ ای عجلوا فی ابطال ایتنا۔ (جنہوں نے ہماری آیات (یعنی قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 57
نذیر مبین (کھلا ہوا ڈرانے والا) رزق کریم (عزت کا رزق) سعوا (جودوڑے) ‘ معجزین (عاجزی کرنے والا۔ نیچا دکھانے والے) ‘ تمنی (اس نے آرزو کی۔ اس نے بات کہی) ‘ ینسخ (وہ منسوخ کرتا ہے۔ وہ ہٹا تا ہے) ‘ یحکم (وہ مضبوط کرتا ہے) ‘ القاسیۃ (سخت) ‘ شقاق (ضد۔ ہٹ دھرمی) ‘ مریۃ (شک و شبہ) ‘ بغتۃ (اچانک) عقیم (منحوس) ۔
ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہیے اے لوگو ! میں نہایت واضح طریقہ پر صاف صاف ان اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر رہا ہوں جن کی صداقت کو تم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لاکر عمل صالح کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
شیطان کے بہکانے کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ : اے محبوب تم ان مشرکین مکہ سے فرمادو کہ میں تو کھلم کھلا ڈارنے والا ہوں کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اس کاٹھکانہ یقینا دوزخ ہے پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کیے تو ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو باطل مشہور کرنے میں کوشش کی ہے وہ ہی لوگ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
[38] رسول اور نبی کے فرق کے بارے میں ملاحظہ ہو سورة مریم حاشیہ 20 صفحہ 715۔
[39] اصل میں الفظ تمنّیٰ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں، ایک معنی کسی چیز کی خواہش یا آرزو کے اور دوسرے معنی تلاوت کے ہیں یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔
[40] یعنی جب بھی پیغمبر نے کلام الٰہی لوگوں کو سنایا تو شیطان نے اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے۔ مثلاً نبی نے آیت حرم علیکم المیتۃ (تم پر مردار حرام کیا گیا) پڑھ کر سنائی تو شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کیسے ہوا۔
[41] یعنی شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
(ف 1) ان آیتوں میں بتایا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی آواز کو سن لیا ، اور اس کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل کیا ، ان کے لئے سراسر مغفرت ، اور عنایت ہے ، اور نہایت پاکیزہ روزی ہے وہ عزت وافتخار سے دنیا میں رہیں گے ، اور آخرت میں جنت کے وارث ہوں گے ، اور جن لوگوں نے معاندانہ کوششیں جاری رکھی ہیں اور پیغام کو نہیں مانا ، وہ خائب و خاسر رہیں گے اور جہنم کے سزاوار ۔
حل لغات :
تمنی : آرزو کی ، پڑھایا ۔
Read the full tafseer →(51) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے ہرانے اور نیچا دکھانے کی سعی اور کوشش کرتے رہتے ہیں تو ایسے ہی لوگ اہل جہنم ہیں۔ ڈرانے والے کا کام یہی ہے کہ وہ ایمان کی دعوت دے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے خطرات سے آگاہ کردے جو شخص اس کی دعوت کو قبول کرتا ہے وہ دوسرے عالم میں آرا کی بلکہ من مانی زندگی گزارتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے احکام کو ہرانے کی کوشش کرتا ہے وہ جہنم اور دائمی عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ پس یہ میرا دعوی ہے اور اس پر دلیلیں رکھتا ہوں اور عذاب سے ڈرانا میرا فرض منصبی ہے جس کا وقوع بھی وقت پر باختیار خداوندی ہوگا۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں کے خلاف کرکے کامیاب ہونا چاہا وہ دوزخ کا ایندھن ہیں
51۔ (معاجزین) اسم فاعل جمع مذکر (معاجز) واحد اور (معاجزہ) مصدر بامفاعلہ ہرانے والے اور اس سے مراد ہے کسی چیز کے حصول سے قاصر ہوجانا ‘ بےبس ہوجانا (اعجاز) دوسرے کو عاجز بنا دینا ‘ عاجز کردینا (معاجزہ) مقابلہ کرکے اپنے حریف کو ہرا دینا ‘ عاجز کردینا ‘ منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی نہ حشر ہوگا ‘ نہ نشر ‘ نہ عذاب وثواب اس میں بتایا گیا ہے کہ کیوں نہیں ہوگا ؟ بلکہ یہ سب کچھ یقینی ہوگی ‘ ان چیزوں کو لانے سے وہ اللہ تعالیٰ کو روک نہیں سکتے ‘ اس کی قدرت کو سلب نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس کو عاجز بنا سکتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
How the Day of Resurrection will be equal to one thousand years by our reckoning
In this verseإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ (22:47) means that one day with your Lord is like one thousand years of what you count. This verse can be interpreted in two ways. The first meaning is that the verse refers to the Day of Resurrection and the events which will take place on that day will be so horrifying and of such extreme severity that the day will appear never to end, as if it was equal to one thousand years according to our reckoning. Many commentators have interpreted this verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
95. The believers shall have forgiveness’means that Allah will overlook their faults, weaknesses, and acts of omission and commission. They will have honorable provisions means that they will have excellent supplies which will be given to them in an honorable way.
Read the full tafseer →