Explained with ayahs 55–57
کافروں کے دل سے شک وشبہ نہیں جائے گا
یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آجائیں گے۔ اس وقت یہ محض بےشعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہوگئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہوگئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بیخبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لئے منحوس ثابت ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
سورة الْحَجّ 102
اصل میں لفظ " عَقِیْم " استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ " بانجھ " ہے۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، ہر کوشش الٹی پڑے، اور ہر امید مایوسی میں تبدیل ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔ مثلاً جس روز قوم نوح پر طوفان آیا، وہ اس کے لیے " بانجھ " دن تھا۔ اسی طرح عاد، ثمود، قوم، لوط، اہل مَدْیَن، اور دوسری سب تباہ شدہ قوموں کے حق میں عذاب الہٰی کے نزول کا دن بانجھ ہی ثابت ہو۔ کیونکہ اس " امروز " کا کوئی چارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ یہ لوگ جو شیطان کے اغواء سے آپ سے مجادلہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے (اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے) کچھ پڑھا (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ (اور اعتراض) ڈالا (اور کفار انہی شبہات اور اعتراضات کو پیش کر کے انبیاء سے مجادلہ کیا کرتے جیسا دوسری آیات میں ارشاد ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا، ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
آیت 57-55
مخالفین کو وعید
اوپر اہل علم و ایمان کی تعریف میں فرمایا کہ مخالفین ان کے اندر اس بات کو راسخ کرتی ہیں کہ پیغمبر جو وعدو وعید سنا رہے ہیں وہ بالکل حق ہے۔ اب فرمایا کہ رہے یہ مکذبین تو وہ اس وعدو وعید کی طرف سے اسی طرح شک میں مبتلا رہیں گے جس طرح آج ہیں۔ یہ تو اسی وقت مانیں گے جب ان پر یا تو قیامت اچانک آدھمکے یا کسی ہولناک منحوس دن کا عذاب ان پر آجائے۔ عقیم بانجھ کو کہتے ہیں۔ قالت عجوز عقیم (ذاریات 29) (وہ بولی کہ میں تو ایک بانجھ ہوں) یہیں سے اس کے اندر بےفیض اور منحوس کا مفہوم پیدا ہوا اور اس کا اطلاق اس طوفانی ہوا پر بھی ہوا جو تباہی تو قیامت کی مچا دے لیکن اس کے اندر نفع کا کوئی…
Read the full tafseer →55۔ 1 یَوْمِ عَقِیْمِ (بانجھ دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اسے عقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اس کو کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو۔ یا اس لئے کہ کافروں کے لئے اس دن کوئی رحمت نہیں ہوگی، گویا ان کے لئے خیر سے خالی ہوگا۔ جس طرح باد تند کو، جو بطور عذاب کے آتی رہی ہے الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ کہا گیا ہے۔ (اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ) 51۔ الذاریات :41) جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی۔ یعنی ایسی ہوا جس میں کوئی خیر تھی نہ بارش کی نوید
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
28: اوپر آیت 39 میں مسلمانوں کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے تھے ؛ حالانکہ اس سے پہلے ان کے ظلم کے جواب میں صبر اور درگزر کے احکام دئیے جاتے رہے تھے، اب یہاں صرف جنگ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر قسم کے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے، بشرطیکہ وہ اتنا ہو جتنا ظلم ہوا، اور بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ درگزر کا معاملہ زیادہ افضل ہے ؛ لیکن برابر کا بدلہ لینا بھی جائز ہے، اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ؛ بلکہ یہاں اور آگے بڑھ کر یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر برابر کا بدلہ لینے کے بعد ظالم دوبارہ زیادتی کرے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ولا یزال ……مھین (65)
یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔
اس دن میں تمام اختیارات اللہ…
Read the full tafseer →2 یعنی نفس قیامت کا ہولناک حادثہ اچانک آپہنچے یا اسی قیامت کے دن کا عذاب مراد ہو۔ یعنی دنیا ہی میں سزا مل جائے جس سے کوئی رستگاری کی شکل نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 55 وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ”
ان کے شکوک و شبہات تو کبھی ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْ یَاْتِیَہُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ ”
”بانجھ دن“ سے مراد ایسا دن ہے جو ہر خیر سے خالی ہو۔ یعنی وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →84 یعنی ان ہٹ دھرم کافروں کا یہ حال ہے کہ یہ جوتے کھا کر ہی سیدھے رہ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ ماننے والے نہیں یا تو ان کا یہ شک قیامت کا دن دیکھ کر دور ہوگا۔ جب سب حقائق اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یا عذاب الٰہی کا منحوس دن دیکھ کر، جس سے ان کے بچنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور نہ ہی اس دن کے بعد انھیں اگلا دن دیکھنا نصیب ہوگا۔
Read the full tafseer →97۔” شک “ یعنی وہی شکوک و شبہات جو شیطان نے احکام الہی سے متعلق ان کے دلوں میں ڈال دیئے تھے جس طرح ایمان کی برکت سے قلب کی نورانیت روز بروز کامل ترہوتی جاتی ہے، اسی طرح کفر کی نحوست وشامت سے ظلمانیت بھی برابر بڑھتی اور ترقی ہی کرتی جاتی ہے۔ منہ میں ضمیر ’‘’ اس “ سے مراد وہ پڑھا ہوا حکم بھی ہوسکتا ہے جس سے متعلق شیطان نے وسوسہ اندازی کی ہے اور خود قرآن یارسول اللہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ منہ اے من القران اوالرسول اور مما القی الشیطان فی امنیتہ (بیضاوی)
98۔ یعنی قیامت کا محض آپہنچنا ہی اپنی ہولناکیوں کے لحاظ سے کیا کم تھا، چہ جائیکہ اس کا عذاب بھی ان پر واقع ہوجائے۔ قیامت کا بالکل دفعۃ برپا ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
آیت نمبر 49 تا 57
ترجمہ : آپ اعلان کر دیجئے کہ اے لوگو یعنی مکہ والو میں تم کو واضح طور ڈرانے والا ہوں یعنی کھلے طور پر آگاہ کرنے والا ہوں اور میں مومنین کو خوشخبری دینے والا ہوں، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے (سابقہ) گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے وہ جنت ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں یعنی قرآنی آیات کے ابطال کے روپے رہتے ہیں عاجز کرنے کے لئے ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کی ہے نبی ﷺ کی یعنی ان کی طرف عاجز ہونے کی نسبت کرنے کے لئے، اور روکتے ہیں ان کو ایمان سے یا ہم کو عاجز گمان کرتے ہوئے ان کی گرفت سے، اور ایک قرأۃ میں معاجزین بمعنی مسابقین ہے یعنی ہمارے بارے میں یہ…
Read the full tafseer →ولا یزال الذین کفروا فی مربۃ منہ حتی تاتیہم الساعۃ بغتۃ او یاتیہم عذاب یوم عقیم
اور کافر لوگ اس (پڑھے ہوئے حکم) کی طرف سے برابر شک میں ہی پڑے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ ان پر اچانک مقررہ ساعت آجائے یا بےبرکت دن (یعنی روز قیامت) کا عذاب (اللہ کی طرف سے) ان پر آجائے۔
مِرْیَۃٍ شک مِنْہُ قرآن یا رسول یا اہل ایمان کی طرف سے ان کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے یا رسول اللہ ﷺ کے خیال میں القاء شیطانی سے جو کچھ وسوسہ پیدا ہوتا ہے اس سے کافروں کے دل شک میں پڑجاتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے پہلے تو بتوں کا تذکرہ اچھے الفاظ میں کیا پھر لوٹ گئے۔
السَّاعۃُموت کا وقت اور یوم عقیم سے مراد ہے قیامت کا دن۔ عکرمہ…
Read the full tafseer →(55) اور رہ گئے یہ کافر ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھ تو یہ ہمیشہ قرآن کریم کے بارے میں شک ہی میں رہیں گے لیکن محمد ﷺ آپ ان کو اس وقت دیکھنا جب اچانک ان پر قیامت آجائے گی یا ان پر کسی ایسے دن کا عذاب آپہنچے جس سے چھٹکارا نہیں۔
Read the full tafseer →وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ۔۔ : یعنی کفار اس قرآن کے متعلق ہمیشہ کسی نہ کسی شک میں مبتلا رہیں گے، خواہ وہ شیطان کا پیدا کردہ ہو یا خود ان کے نفس کا اور اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ان کے پاس قیامت کی گھڑی نہ آجائے، یا یوم عقیم (بانجھ دن) کا عذاب نہ آجائے۔ بانجھ دن سے مراد قیامت کا دن ہے، اسے عقیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اسے کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو، یا اس لیے کہ کفار کے لیے اس دن میں کوئی خیر نہیں ہوگی، جس طرح آندھی کو جو عذاب کے طور پر آئی ”الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ“ (ہر خیر سے خالی ہوا) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یزال الذین کفروا فی مریۃ منہ یعنی قرآن کے بارے میں کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہ ابن جریج کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دین کے بارے میں شک میں رہیں گے اور وہ صراط مستقیم ہے۔ بعض نے کہا : اس کے بارے میں جو شیطان نے حضرت محمد ﷺ کی زبان پر ڈالا اور وہ کہتے ہیں : کیا ہوا ہے اسے کہ پہلے تو ببتوں 0 کا ذکر خیر سے کیا ہے اور پھر اس سے پھر گیا ہے۔ اببو عبدالرحمن سلمی نے مریۃ کو میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور میم کے کسرہ کے ساتھ زیادہ مشہور ہے ؛ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ حتیٰ تاتیھم الساعۃ، الساعۃ سے مراد قیامت ہے۔ بغتۃ کا معنی ہے اچانک۔ اویاتیھم عذاب یوم عقیم۔ ضحاک نے کہا : اس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
1۔ عبد بن حمدی وابن الانباری نے مصاحف میں عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث،
2۔ ابن ابی حاتم نے سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی سے پہلے ولا محدث اتارا گیا تھا پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔ اور محدثون یہ تھے۔ صاحب یسین، لقمان یہ آل فرعون میں سے تھے اور صاحب موسیٰ ۔
3۔ ابن المنذور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر آیات نازل کی جاتی ہیں۔ لیکن اس کی طرف نئی شریعت نہیں…
Read the full tafseer →وَلَا يَزَالُ [ اور ہمیشہ رہیں گے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] فِيْ مِرْيَةٍ [ کسی (نہ کسی ) شک میں ] مِّنْهُ [ اس سے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] تَاْتِيَهُمُ [ پہنچے ان کے پاس ] السَّاعَةُ [ وہ گھڑی (یعنی قیامت ) ] بَغْتَةً [ اچانک ] اَوْ يَاْتِيَهُمْ [ یا پہنچے ان کے پاس ] عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ [ ایک بےبرکت دن کا عذاب ]
ع ق م : (س) عقما۔ کسی چیز کا ایسا خشک ہونا کہ اس میں کوئی چیز جذب نہ ہوسکے ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے ۔ بےبرکت ہونا ۔ بانجھ ہونا۔ سخت ہونا ۔ خشک ہونا ۔ عقیم ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ بےبرکت ۔ بانجھ ، سخت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 55 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت میں شیطان کی حرکتیں اہل علم کے یقین میں پختگی آنا اور کافروں کا شک میں پڑے رہنا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کے مخالفین جو کچھ حرکتیں کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات رسل عظام (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے ان حضرات نے جب اپنے مخاطبین کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے ان کی قرأت اور تلاوت کے بارے میں مخاطبین کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک اور شبہات ڈال دیئے جیسا کہ سوۂ انعام میں فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
ذکر فتنہ شیطان برائے امتحان مخلصان ومنافقان
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی .... الیٰ .... فاولئک لہم عذاب مھین۔
(ربط) گزشتہ آیات والذین سعوا فی ایاتنا معاجزین۔ میں اس بات کا بیان تھا کہ مجادلین اور معاندین ہمیشہ آیات خداوندی کے ابطال کی سعی میں اور دین حق کی تخریب کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں ابطال آیات کی سعی اور اس میں جدوجہد ان مجادلین اور معاندین کی قدیمی عادت ہے اور اس سلسلہ میں شیطان طرح طرح کے فتنے برپا کرتا رہتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شبے ڈالتا رہتا ہے جو کافروں اور ضعیف الایمان لوگوں کے لیے فتنہ بن جاتے ہیں۔ اے نبی آپ ﷺ اس…
Read the full tafseer →68:۔ ” وَلَا یَزَالُ الخ “۔ ” یَومٌ عَقِیْم “ سے مراد قیامت کا دن ہے یا جنگ بدر کا دن جیسا کہ کہ ابن عباس، مجاہد اور قتادہ ؓ سے منقول ہے۔ (قرطبی) پہلی صورت میں یہ فقط تخویف اخروی ہوگی اور دوسری صورت میں تخویف دنیوی بھی ہوگی۔ عقیم ای لامثل لہ فی عظم امرہ (مدارک) یعنی عقیم سے کہتے ہیں جس کا شدت میں مثل نہ ہو۔ حاصل یہ ہے کہ جو لوگ وساوس و شبہات کے تابع ہوتے ہیں وہ کبھی ہدایت نہیں پاسکتے وہ ہمیشہ قرآن کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا وہ قیامت کے یا بدر کے المناک اور شدید ترین عذاب میں متبلا ہوجائیں اس وقت ان کے تمام شکوک و شبہات رفع ہوجائیں گے اور انہیں یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–64
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
کفار کا شک وتردد :
اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰى تَاْتِيَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْ يَاْتِيَہُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ 55
زال ( لایزال)
مَا زَالَ ولا يزال خصّا بالعبارة، وأجریا مجری کان في رفع الاسم ونصب الخبر، وأصله من الیاء، لقولهم : زَيَّلْتُ ، ومعناه معنی ما برحت، وعلی ذلك : وَلا يَزالُونَ مُخْتَلِفِينَ [هود/ 118] ، وقوله : لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ [ التوبة/ 110] ، وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الرعد/ 31] ، فَما زِلْتُمْ فِي شَكٍّ [ غافر/ 34] ، ولا يصحّ أن يقال : ما زال زيد إلّا منطلقا، كما يقال : ما کان زيد إلّا منطلقا، وذلک أنّ زَالَ يقتضي معنی النّفي، إذ هو ضدّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
1 ؎ یعنی قرآن ووحی سے۔ 12 منہ
بعض مفسرین کی عادت ہے کہ وہ قرآن مجید کے صاف اور سیدھے مطلب کو الجھاوے میں ڈال دیتے ہیں اور جب کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا تو اس کے لیے کوئی قصہ گھڑ لیتے ہیں پھر اس کو شان نزول قرار دے لیتے ہیں اور پھر لفظ حدثنا یا اخبرنادیکھ کر خوش اعتقاد لوگ اس مہمل بات کو حدیث سمجھ لیتے ہیں چناچہ انہیں آیات کی تفسیر میں ایک قصہ نقل کیا کرتے ہیں کہ مکہ میں آنحضرت ﷺ نے سورة النجم کی اس آیت کے بعد ومناۃ الثالثہ الاخری القائِ شیطانی سے جو آپ کے دل میں خیال تھا بت پرستوں کے خوش کرنے کو یہ جملہ بھی پڑھا دیا تلک الغرانیق العلٰی وان شفاعتھن لترتجیٰ جس سے مشرکین خوش ہوگئے مگر جبرئیل (…
Read the full tafseer →وَلَایَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰی تَاْ تِیَھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْیَاْ تِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ ۔ (الحج : 55)
(اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایک منحوس دن کا عذاب آجائے۔ )
آنحضرت ﷺ کے لیے مزید تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو مزید تسلی دی گئی ہے کہ آپ اشرافِ قریش یعنی ان بڑے بڑے کافروں کے بارے میں جو شب وروز آپ کی مخالفت اور معاندت میں مشغول رہتے ہیں اور آپ کی کوئی نصیحت ان پر اثر انداز نہیں ہوتی، پریشان اور دل گرفتہ نہ ہوں۔ نصیحت حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی نصیحت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حق کے سامنے جھکنے والوں کے مقابلے میں انکار کرنے والوں کا رویہّ ۔
اس سے پہلی آیت کی تشریح میں یہ اشارہ کیا ہے کہ ” اَلْعِلْم “ سے مراد قرآن و سنت کا علم ہے اور جو لوگ قرآن و سنت کا انکار کرتے ہیں وہ حق بات کے بارے میں ہمیشہ شک کا شکار رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ قیامت برپا ہوجائے یا ان پر منحوس دن وارد ہوجائے۔ یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات کا ذکر فرما کر مومن اور کافر کے دل کی کیفیت کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ مومن کے سامنے حق بات آئے تو اس کا دل اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔ کافر کے سامنے حق پیش کیا جائے تو اس کا دل مزید شک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے بارش کی مثال…
Read the full tafseer →کفار کی ضدبازی :
55: وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ (اور کافر ہمیشہ شک میں پڑے رہیں گے) مِّنْہُ (اس کے متعلق) قرآن مجید کے متعلق یا صراط مستقیم کے متعلق حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً ( یہاں تک کہ قیامت ان کے پاس اچانک آن پہنچے۔ ) اور اَوْیَاتِیھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ یا ان پر کسی بےبرکت دن کا عذاب اتر پڑے) یعنی بدر کے دن، وہ عقیم اس لحاظ سے کہ کافروں کو اس میں کوئی
کشادگی میسر نہیں ہوئی یا راحت نہیں پہنچی جیسا کہ الریح العقیمؔ سے کوئی خیر فصلوں اور انسان کو نہیں ملتی۔ نمبر 3۔ عقیم کا معنی سخت دن تھا۔ اس میں رحمت نہ تھی۔ نمبر 4۔ معاملے کی شدت کی وجہ سے وہ دن…
Read the full tafseer →55۔ ولایزال الذین کفروا فی مریۃ منہ، وہ لوگ اس بات میں شک کے اندر پڑے ہوئے ہیں کہ یہ شیطان نے آپ کی زبان سے القا کیا اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے انہوں نے ہمارے بتوں کے متعلق ذکر خیر کیا، پھرا س سے رجوع کرلیا، ابن جریج کا قول ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں شک کرتے ہیں بعض نے کہا کہ وہ دین صراط مستقیم کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ حتی تاتیھم الساعۃ بغتہ، اس سے مراد قیامت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد موت ہے۔ او یاتیھم عذاب یوم عقیم۔ ضحاک اور عکرمہ کا اس بارے میں یہ قول ہے کہ ایسا دن جس کی رات نہیں ہوگی۔
یوم عقیم، کی تفسیر۔
اکثر مفسرین کے نزدیک یوم عقیم سے مراد بدر کا دن ہے اور ساعہ سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
54۔ 57:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کے حق میں شیطان کی شرارت کا کیا نتیجہ ہوا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ اسی شیطانی شرارت سے سمجھ دار لوگوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انہیں یقین اور زیادہ ہوگیا کیونکہ وہ لوگ سمجھ گئے کہ شیطان کا دخل مٹانے اور قرآن کی آیتوں کو پکا کرنے کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لئے فرمایا گیا کہ قرآن اس کا کلام ہے اس کو اپنے کلام میں شیطان کا دخل اچھا معلوم نہیں ہوا ‘ پھر فرمایا ‘ اس یقین کی زیادتی کے سبب سے قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرنے کے لئے ان لوگوں کے دل پہلے سے زیادہ نرم ہوگئے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم غیب میں جو لوگ ایماندار ٹھہر چکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لئے جو کچھ اختیار کر رکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٓ سے پہلے (من رسول ولا نبی الا اذا تمنی) ” جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی “ یعنی قرٓت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا (القی الشیطن فی امنیتہ) ” تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کردیتا ہے۔ “ یعنی اس کی قرءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قرءت کے مناقض (مخالف) ہوتا۔۔۔. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–67
منسک کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
114 منحوس دن سے مراد ؟ : یعنی جو کہ منحوس ہوگا ان منحوسوں کے حق میں ‘ جنہوں نے راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر باغیانہ زندگی گزاری تھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس سے مراد ہے قیامت کا دن۔ یا ان لوگوں پر آنے والے فیصلے کن عذاب کا دن اور اس کو عقیم اس لئے بھی فرمایا گیا کہ اس کے بعد کوئی اور دن نہیں آئے گا کہ اس کی رات ہی نہ ہوگی جس کے بعد دن آئے ‘ اس طرح اس عذاب سے مراد بھی ان لوگوں کے لیے فیصلہ کن عذاب یا قیامت ہی کا عذاب ہے جو کہ سب سے بڑا اور ہولناک عذاب ہوگا ‘ والعیاذ باللّٰہ الْعَظِیْمِ و فِیْہِ اَقْوَالٌ اُخْرٰی (ابن کثیر ‘ صفوۃ ‘ جامع ‘ خازن وغیرہ) اور یہ دن اس لیے بھی عظیم ہوگا کہ اس کے بعد عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
شیطان کی چال اور اللہ کا انتظام
تشریح : ان آیات میں بھی رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں شیطان اور شیطان خصلت لوگ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں کو تنگ کرتے رہے ہیں۔ مگر اللہ علم والا ہے اور حکمت والا ہے۔ پیدائش شیطان کا مقصد یہ ہے تاکہ کھرے کھوٹے لوگ دنیا کے سامنے اچھی طرح ظاہر ہوجائیں ورنہ اللہ کا علم تو ناقابل حد تک وسیع ہے۔ وہ اپنے علم اور اپنی حکمت سے سب لوگوں کے اعمال ‘ نیتیں اور ارادے جانتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون لوگ شیطان کا مقابلہ کر کے اس کو بھگا سکتے ہیں اور کون اس کے جال میں پھنس کر تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔ بہرحال سب لوگ قیامت کے روز اللہ کے حضور حاضر ہوں گے نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آپ فرما دیجئے لوگو میرا منصب عالی یہ ہے کہ جس راہ پر تو چل رہے ہو یعنی کفر ونافرمانی اس کے انجام بد سے بروقت مطلع کردوں اور بس عذاب لانا نہ میرا کام ہے نہ میں نے اس کا دعوی کیا ہے ہاں جس راہ پر تم چل رہے ہو وہ عذاب ہی پہ پہنچتی ہے اور صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لے آئے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی انھیں اللہ جل جلالہ کی بخشش بھی نصیب ہوگی اور بہترین نعمتیں بھی مگر جو بدبخت اپنی اصلاح کے بجائے اللہ جل جلالہ کے نبی کی بات کو جھٹلانے اور اللہ جل جلالہ کے احکام کی تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ یقینا دوزخ میں رہیں گے
(نبی اور رسول)
اور یہ کوئی نئی بات…
Read the full tafseer →3 ۔ مراد ہے قیامت ہی کے دن کا عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(22:55) لایزال۔ افعال ناقص سے ہے مضارع منفی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ زوال مصدر۔ وہ ہمیشہ رہے گا۔ مریۃ اسم مصدر مری مادہ۔ المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد کرنے کے ہیں اور یہ شک سے خاص ہوتا ہے ۔ گویا جس شک سے تردد پیدا ہوجائے اس کو مریۃ کہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فلا تک فی مریۃ مما یعبد ھولاء (11:109) تو یہ لوگ جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔
بغتۃ۔ اچانک۔ یک دم۔ یکایک۔ یوم عقیم۔ سخت دن۔ منحوس دن۔ بےبرکت دن۔ العقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اثر قبول کرنے سے مانع ہو۔ بانجھ عورت کو عقیم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ مرد کا نفطہ قبول کرنے سے انکار کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 57
نذیر مبین (کھلا ہوا ڈرانے والا) رزق کریم (عزت کا رزق) سعوا (جودوڑے) ‘ معجزین (عاجزی کرنے والا۔ نیچا دکھانے والے) ‘ تمنی (اس نے آرزو کی۔ اس نے بات کہی) ‘ ینسخ (وہ منسوخ کرتا ہے۔ وہ ہٹا تا ہے) ‘ یحکم (وہ مضبوط کرتا ہے) ‘ القاسیۃ (سخت) ‘ شقاق (ضد۔ ہٹ دھرمی) ‘ مریۃ (شک و شبہ) ‘ بغتۃ (اچانک) عقیم (منحوس) ۔
ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہیے اے لوگو ! میں نہایت واضح طریقہ پر صاف صاف ان اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر رہا ہوں جن کی صداقت کو تم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لاکر عمل صالح کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسی شیطانی شرارت سے سمجھ دار لوگوں نے یہ تو فائدہ اٹھایا کہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا نہیں یقین اور زیادہ ہوگیا، کیونکہ وہ لوگ سمجھ گئے کہ شیطان کا دخل مٹانے اور قرآن کی آیتوں کا پکا کرنے کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پھر فرمایا اس یقین کی زیادتی کے سبب سے قرآن کی نصیحت موافق عمل کرنے کے لیے ان لوگوں کے دل پہلے سے نرم ہوگئے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم میں جو لوگ ایماندار ٹھہرچکے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سیدھے رستے پر آجانے کے لیے اسی طرح کے سامان پیدا کردیتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم میں کافرقرار پاچکے ہیں وہ ہمیشہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
[42] اصل میں لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جس کے معنی بانجھ کے ہیں۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو اور ہر کوشش الٹی پڑے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
مسلمان کیوں ہجرت کرتا ہے :
(ف 1) اسلامی نقطہ نگاہ سے دین کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے اور مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے کلچر اپنی تہذیب اور اپنی روایات کو برقرار رکھے ، اس کے نزدیک ملک قوم اور وطنی کشش وجاذبیت کا مفہوم کچھ حیثیت نہیں رکھتا مسلمان کی جان اس کا مال اور اس کا سب کچھ مذہب ہے ، وہ افلاس کو برداشت کرسکتا ہے وہ بھوکا رہ سکتا ہے اور دنیا کی ہر مصیبت کیلئے تیار وآمادہ ہو سکتا ہے مگر دین اور روح کے ادنی وداعی سے ایک لمحہ کے لئے بھی وہ جدا نہیں ہو سکتا ، جو لوگ مسلمان کی نفسیات دینی سے واقف نہیں ، وہ ان کے جذبات وحسیات کو نہیں سمجھ سکتے ان کے نزدیک مذہب کیلئے وطن چھوڑ دینا ، مال…
Read the full tafseer →(55) اور یہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے ہیمشہ اس آیت کے حکم اور مضمون میں شبہ ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایک ایسے دن کا عذاب آجائے جو خیرو برکت سے خالی ہو یعنی اس وقت تک شک میں مبتلا رہیں گے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہیں گے جب تک ان پر قیامت یا قیامت کا عذاب نہ آجائے۔
عقیم جس کے ہاں اولاد نہ ہو اس سے عذاب کے دن کو تشبیہہ دی۔ بانجھ عورتوں سے تشبیہہ دینے کا سبب یہ ہے کہ اس دن کے بعد کوئی دن ایسا نہ ہوگا جس کو عظیم کہاجاسکے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، ابی ابن کعب ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور عمرمہ ؓ نے کہا اس دن سے مراد یوم بدر ہے۔ حضرت مجاہد نے کہا قیامت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 1۔ مطلب یہ کہ یہ بدون مشاہدہ عذاب کفر سے باز نہ آویں گے، مگر اس وقت نافع نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →شک و گمان کے روگی انجام کار ایسے منحوس دن تک پہنچ جاتے ہیں :
55۔ شک و گمان کی دنیا میں بسنے والے اس حالت سے کبھی نہیں نکل سکتے کیوں ؟ اس لئے کہ اس بیماری کے روگی نہ ادھر کے ہوتے ہیں نہ ادھر کے اور ان کی ساری زندگی اس کشمکش میں گزر جاتی ہے ‘ ان کی چال ہی دراصل یہ ہوتی ہے کہ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “ لیکن ہوا کبھی ایک رخ پر بھی چلتی ہے ؟ اس لئے گویا ان کی کوئی منزل نہیں ہوتی جہاں ان کو پہنچنا مقصود ہوتا ہے اگر ان کی کوئی منزل متعین ہوتی تو وہ اس طرف کو رخ کر کے چلتے اور کم از کم جو قدم اٹھاتے خواہ وہ کتنا ہی سست ہوتا لیکن اتنے قدم تو وہ منزل کے قریب جاتے اور جس کی منزل ہی متعین نہ ہو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
Commentary
مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ (any messenger and any prophet - 22:52) This shows that the words Rasul رَّسُولٍ and Nabi carry different meanings, though there is no consensus as to the precise nature of the difference. For our purpose it is enough to understand that Nabi نَبِيٍّ is a person whom Allah Ta’ ala designates with a mission to reform his people and who receives revelations from Him. He may receive a Scripture and a code of laws or he may be commanded to convey the message of an earlier Book and code of laws. Sayyidna Musa (علیہ السلام) and ` Isa' (علیہ السلام) belong to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
102. The epithet“barren”has been applied to the day in its metaphorical and not literal sense. :A day is barren if all the plans, hopes and devices remain unproductive in it, or it does not bring forth its night. For instance, the days on which the people of Prophet Noah, the tribes of Aad and Thamud, the people of Lot and of Midian met with their destruction by scourge from Allah, were barren days in this sense, because those days did not bring forth any tomorrow for them, and no device of theirs could avert their doom.
Read the full tafseer →