لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لیے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کر دیں ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی
— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن
لوگو اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مرجاتے ہیں اور بعض شیخ فالی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے
— مولانا فتح محمد جالندہری
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے
— مولانا محمد جوناگڑہی
اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (ذرا سوچو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو (کبھی) پورا بن جاتا ہے، اور (کبھی) پورا نہیں بنتا تاکہ ہم تمہارے لیے (تمہاری) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم (تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر (تمہیں پالتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو (پہلے ہی) دنیا سے اٹھالیے جاتے ہیں اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بدترین عمر (یعنی انتہائی بڑھاپے) تک لوٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے۔
— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن
اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اُگا لائی
— امام احمد رضا خان · کنز الایمان
اے لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہے تو (اپنی تخلیق و ارتقاء پر غور کرو) کہ ہم نے تمہاری تخلیق (کی کیمیائی ابتداء) مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک تولیدی قطرہ سے پھر (رِحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلق وجود سے پھر ایک (ایسے) لوتھڑے سے جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، جس میں بعض اعضاء کی ابتدائی تخلیق نمایاں ہو چکی ہے اور بعض (اعضاء) کی تخلیق ابھی عمل میں نہیں آئی تاکہ ہم تمہارے لئے (اپنی قدرت اور اپنے کلام کی حقانیت) ظاہر کر دیں، اور ہم جسے چاہتے ہیں رحموں میں مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے وہ بھی ہیں جو (جلد) وفات پا جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نہایت ناکارہ عمر تک لوٹائے جاتے ہیں تاکہ وہ (شخص یہ منظر بھی دیکھ لے کہ) سب کچھ جان لینے کے بعد (اب پھر) کچھ (بھی) نہیں جانتا، اور تو زمین کو بالکل خشک (مُردہ) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو اس میں تازگی و شادابی کی جنبش آجاتی ہے اور وہ پھولنے بڑھنے لگتی ہے اور خوش نما نباتات میں سے ہر نوع کے جوڑے اگاتی ہے،
— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن
اے لوگو ! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بیشک ہم نے تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمہارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کرلیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔
— مولانا عبد السلام بھٹوی
لوگو ! اگر تمہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے میں کوئی شک ہے تو (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو منفش بھی ہوتی ہے اور نقش کے بغیر بھی، تاکہ ہم تم پر (اپنی قدرت کو) واضح کردیں۔
پھر ہم جس نطفہ کے متعلق چاہتے ہیں اسے رحموں میں ایک خاص مدت تک جمائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں بچہ بناکر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھرپور جوانی کو پہنچو۔ پھر تم میں سے کسی کی تو روح قبض کرلی جاتی ہے اور کسی کو بدترین عمر (انتہائی بڑھاپے) تک زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ وہ سب کچھ جانے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہوتی ہے۔ پھر جب ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ حرکت میں آئی اور بھول گئی اور ہر قسم کی پُر بہار چیزیں اگانا شروع کردیں۔
— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن
اے لوگو ! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر منی کے ایک قطرے سے، پھر ایک جینن سے، پھر ایک لوتھڑے سے، کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص۔ ایسا ہم نے اس لئے کیا تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لئے۔ پھر ہم تم کو ایک بچہ کی شکل میں برآمد کرتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے بعض پہلے ہی مر جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخر حد کو پہنچتے ہیں تاآنکہ وہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے۔
اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہریں لینے لگتی اور اپجتی ہے اور طرح سرح کی خوش نما چیزیں اگاتی ہے
— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن
اے لوگوں اگر تمہیں کسی طرح کا کوئی شک ہو اپنے دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں تو تم خود اپنی پیدائش و پرورش سے متعلق ہی ہماری قدرت کاملہ کے مظاہر میں غور کرلو کہ ہم نے تمہیں کس عجیب و غریب اور پُر حکمت طریقے سے پیدا کیا مٹی کے اس بےحس اور بےجان مادے سے پھر نطفے سے پھر ایک جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بیشکل بھی اور ہم نے تمہاری پیدائش سے متعلق یہ اہم تغیرات تمہیں بتا بھی دئیے تاکہ ہم کھول کر بیان کردیں تمہارے لئے تمہاری حقیقت اور اس سے متعلق اپنی قدرت کے مظاہر کو اور ہم جس کو چاہتے ہیں ٹھہرا دیتے ہیں رحموں کے اندر ایک خاص مدت تک پھر ہم نکال لاتے ہیں تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے ایک بچے کی شکل میں پھر نہایت مناسب و عمدہ طریقے سے ہم تمہاری پرورش کرتے ہیں تاکہ تم پہنچ جاؤ اپنی جوانی کی بھرپور قوتوں کو اور تم میں سے کسی کو پہلے ہی واپس اٹھالیا جاتا ہے اور کسی کو لوٹا دیا جاتا ہے اس کی گھٹیا اور بدترین عمر کی طرف جس کا اثر و نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جان رہا ہوتا اور تم اپنے پیش یا افتادہ اس زمین ہی میں غور کرلو کہ ایک وقت تم اس کو بالکل ویران اور خشک پڑی ہوئی دیکھتے ہو پھر جب ہم اس پر مینہ برسا دیتے ہیں تو یکایک اس میں زندگی کی حرکت پیدا ہوتی ہے اور یہ ایک خاص انداز سے ابھرتی ہے اور یہ اگانا شروع کردیتی ہے ہر قسم کی خوش منظر نباتات
— مولانا اسحاق مدنی
اے لوگو اگر تم (دوبارہ) جی اٹھنے کی طرف سے شک میں ہو تو (اس میں غور کرلو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفہ سے پھر خون سے لوتھڑے سے پھر بوٹی سے (کہ بعض) پوری (ہوتی ہیں) اور (بعض) ادھوری تاکہ ہم تمہارے سامنے (اپنی قدرت) ظاہر کردیں۔ اور ہم رحم میں جس کو چاہتے ہیں ٹھہرائے رکھتے ہیں ایک مدت مقرر تک۔ پھر ہم تمہیں بچہ (بنا کر پیٹ سے) باہر لاتے ہیں تاکہ تم اپنی بھری جوانی تک پہنچ جاؤ اور تم میں وہ بھی ہیں جو مرجاتے ہیں۔ اور تم میں وہ بھی ہیں جنہیں نکمی عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے جس سے وہ ایک چیز سے بیخبر ہوجاتے ہیں۔ اور تو زمین کو دیکھتا ہے۔ کہ خشک ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی خوش نما نباتات اگاتی ہے
— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی
اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں شک ہے تو (ذراغور کرو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر علقہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے واضح شکل والا اور غیرواضح شکل والا تاکہ ہم کھول کھول کر بیان کردیں تمہارے لیے اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں رحموں کے اندر جو ہم چاہتے ہیں ایک وقت معین تک پھر ہم نکالتے ہیں تمہیں چھوٹے سے بچے کی صورت میں پھر تم پہنچتے ہو اپنی جوانی کو اور تم میں وہ بھی ہیں جو پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو نکمی عمر تک لوٹائے جاتے ہیں کہ اسے کچھ بھی علم نہ رہے سب کچھ جاننے کے بعد اور تم دیکھتے ہو زمین کو خشک (اور ویران) پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلاتی ہے اور ابھرتی ہے اور قسم قسم کی ترو تازہ چیزیں اگادیتی ہے
— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن
لوگو ! اگر تمہیں مرنے کے بعد زندہ ہونے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اس سے نطفہ بنا کر ‘ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر ‘ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کا نقشہ کامل بھی ہوتا ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر واضح کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک مقرر میعاد تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو اور بعض مرجاتے ہیں اور بعض نکمی عمر تک پہنچا دیے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ (یعنی) بھول جاتے ہیں بڑھاپے کی وجہ سے اور اے دیکھنے والے ! تو دیکھتا ہے کہ ایک وقت میں زمین خشک پڑی ہوتی ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ سرسبز ہوجاتی ہے ‘ ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اگاتی ہے۔
— محترمہ رفعت اعجاز
O mankind! If you have any doubt concerning Resurrection, then know that it is surely We Who created you from dust, then from a drop of sperm, then from a clot of blood, then from a little lump of flesh, some of it shapely and other shapeless. (We are rehearsing this) that We may make the reality clear to you. We cause (the drop of sperm) that We please to remain in the wombs till an appointed time. We bring you forth as infants (and nurture you) that you may come of age. Among you is he that dies (at a young age) and he who is kept back to the most abject age so that after once having known, he reaches a stage when he knows nothing. You see the earth dry and barren and then no sooner than We send down water upon it, it begins to quiver and swell and brings forth every kind of beauteous vegetation.
— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran
O mankind, if you are in doubt about Resurrection, then (recall that) We created you from dust, then from a drop of semen, then from a clot, then from a piece of flesh, either shaped or unshaped, so that We manifest (Our power) to you. We retain in the wombs whatever We will to a specified term. Then We bring you out as babies, then (We nourish you) so that you reach your maturity. And among you there is one who dies, and among you there is one who is carried to the worst part of the age, so that he knows nothing even after having knowledge. And you see the land dry. Then once We send down water on it, it stirs and swells and puts forth every pleasant pair (of vegetation).
— Muhammad Taqi Usmani
O mankind, if you are in doubt about Resurrection, then (recall that) We created you from dust, then from a drop of semen, then from a clot, then from a piece of flesh, either shaped or unshaped, so that We manifest (Our power) to you. We retain in the wombs whatever We will to a specified term. Then We bring you out as babies, then (We nourish you) so that you reach your maturity. And among you there is one who dies, and among you there is one who is carried to the worst part of the age, so that he knows nothing even after having knowledge. And you see the land dry. Then once We send down water on it, it stirs and swells and puts forth every pleasant pair (of vegetation).
— Muhammad Taqi Usmani (variant)
O mankind! If you are in doubt about the Resurrection, then verily, We have created you from dust, then from a Nutfah, then from a clot then from a little lump of flesh -- some formed and some unformed -- that We may make (it) clear to you. And We cause whom We will to remain in the wombs for an appointed term, then We bring you out as infants, then (give you growth) that you may reach your age of full strength. And among you there is he who dies (young), and among you there is he who is brought back to the miserable old age, so that he knows nothing after having known. And you see the earth Hamidatan, but when We send down water on it, it is stirred (to life), and it swells and puts forth every lovely kind (of growth).
— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri
O mankind! if ye are in doubt concerning the Resurrection, then lo! We have created you from dust, then from a drop of seed, then from a clot, then from a little lump of flesh shapely and shapeless, that We may make (it) clear for you. And We cause what We will to remain in the wombs for an appointed time, and afterward We bring you forth as infants, then (give you growth) that ye attain your full strength. And among you there is he who dieth (young), and among you there is he who is brought back to the most abject time of life, so that, after knowledge, he knoweth naught. And thou (Muhammad) seest the earth barren, but when We send down water thereon, it doth thrill and swell and put forth every lovely kind (of growth).
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
O People, if you should be in doubt about the Resurrection, then [consider that] indeed, We created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot, and then from a lump of flesh, formed and unformed - that We may show you. And We settle in the wombs whom We will for a specified term, then We bring you out as a child, and then [We develop you] that you may reach your [time of] maturity. And among you is he who is taken in [early] death, and among you is he who is returned to the most decrepit [old] age so that he knows, after [once having] knowledge, nothing. And you see the earth barren, but when We send down upon it rain, it quivers and swells and grows [something] of every beautiful kind.
— Saheeh International
People, if you have doubts about the Resurrection, you must know that We created you from clay that was turned into a living germ. This was developed into a clot of blood, which was made into a well formed and partly shapeless lump of flesh. This is how We show you that resurrection is not more difficult for Us than your creation. We cause whatever We want to stay in the womb for an appointed time, We then take you out of the womb as a baby, so that you may grow up and receive strength. Some of you may then die and others may grow to a very old age and lose your memory. You may see the earth as a barren land, but when we send rain, it starts to stir and swell and produce various pairs of attractive herbs.
— Muhammad Sarwar
O people! if you are in doubt about the raising, then surely We created you from dust, then from a small seed, then from a clot, then from a lump of flesh, complete in make and incomplete, that We may make clear to you; and We cause what We please to stay in the wombs till an appointed time, then We bring you forth as babies, then that you may attain your maturity; and of you is he who is caused to die, and of you is he who is brought back to the worst part of life, so that after having knowledge he does not know anything; and you see the earth sterile land, but when We send down on it the water, it stirs and swells and brings forth of every kind a beautiful herbage.
— Muhammad Habib Shakir
O Mankind! if ye be in doubt respecting the Resurrection, then We have created you of the dust, then of a drop, then of clot, then of a piece of flesh, formed and unformed, that We might manifest unto you Our power. And We settle in the wombs that which We will until a term determined. Then We bring you forth as babes, then We let you reach your maturity. And of you is he who dieth, and of you is he who is brought back to the most abject age, so that after knowing he knoweth not aught. Andthou beholdest the earth withered up, and when We send down thereon water, it stirreth and swelleth, and it groweth every luxuriant kind of growth.
— Abdul Majid Daryabadi
O mankind! if ye have a doubt about the Resurrection, (consider) that We created you out of dust, then out of sperm, then out of a leech-like clot, then out of a morsel of flesh, partly formed and partly unformed, in order that We may manifest (our power) to you; and We cause whom We will to rest in the wombs for an appointed term, then do We bring you out as babes, then (foster you) that ye may reach your age of full strength; and some of you are called to die, and some are sent back to the feeblest old age, so that they know nothing after having known (much), and (further), thou seest the earth barren and lifeless, but when We pour down rain on it, it is stirred (to life), it swells, and it puts forth every kind of beautiful growth (in pairs).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary