Al-Hajj 22:5

Al-Hajj · from ayah 5

22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ ؕ— وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ۚ— وَمِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْـًٔا ؕ— وَتَرَی الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِیْجٍ ۟يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡـتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَـعۡثِ فَاِنَّـا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ لِّـنُبَيِّنَ لَـكُمۡ‌ ؕ وَنُقِرُّ فِى الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّكُمۡ ‌ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡـئًـا‌ ؕ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَاَنۡۢبَـتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۢ بَهِيۡجٍ

لوگو اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مرجاتے ہیں اور بعض شیخ فالی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O People, if you should be in doubt about the Resurrection, then [consider that] indeed, We created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot, and then from a lump of flesh, formed and unformed - that We may show you. And We settle in the wombs whom We will for a specified term, then We bring you out as a child, and then [We develop you] that you may reach your [time of] maturity. And among you is he who is taken in [early] death, and among you is he who is returned to the most decrepit [old] age so that he knows, after [once having] knowledge, nothing. And you see the earth barren, but when We send down upon it rain, it quivers and swells and grows [something] of every beautiful kind.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:5

لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لیے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کر دیں ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لوگو اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مرجاتے ہیں اور بعض شیخ فالی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (ذرا سوچو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو (کبھی) پورا بن جاتا ہے، اور (کبھی) پورا نہیں بنتا تاکہ ہم تمہارے لیے (تمہاری) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم (تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر (تمہیں پالتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو (پہلے ہی) دنیا سے اٹھالیے جاتے ہیں اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بدترین عمر (یعنی انتہائی بڑھاپے) تک لوٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اُگا لائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہے تو (اپنی تخلیق و ارتقاء پر غور کرو) کہ ہم نے تمہاری تخلیق (کی کیمیائی ابتداء) مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک تولیدی قطرہ سے پھر (رِحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلق وجود سے پھر ایک (ایسے) لوتھڑے سے جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، جس میں بعض اعضاء کی ابتدائی تخلیق نمایاں ہو چکی ہے اور بعض (اعضاء) کی تخلیق ابھی عمل میں نہیں آئی تاکہ ہم تمہارے لئے (اپنی قدرت اور اپنے کلام کی حقانیت) ظاہر کر دیں، اور ہم جسے چاہتے ہیں رحموں میں مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے وہ بھی ہیں جو (جلد) وفات پا جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نہایت ناکارہ عمر تک لوٹائے جاتے ہیں تاکہ وہ (شخص یہ منظر بھی دیکھ لے کہ) سب کچھ جان لینے کے بعد (اب پھر) کچھ (بھی) نہیں جانتا، اور تو زمین کو بالکل خشک (مُردہ) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو اس میں تازگی و شادابی کی جنبش آجاتی ہے اور وہ پھولنے بڑھنے لگتی ہے اور خوش نما نباتات میں سے ہر نوع کے جوڑے اگاتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو ! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بیشک ہم نے تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمہارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کرلیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگو ! اگر تمہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے میں کوئی شک ہے تو (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو منفش بھی ہوتی ہے اور نقش کے بغیر بھی، تاکہ ہم تم پر (اپنی قدرت کو) واضح کردیں۔ پھر ہم جس نطفہ کے متعلق چاہتے ہیں اسے رحموں میں ایک خاص مدت تک جمائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں بچہ بناکر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھرپور جوانی کو پہنچو۔ پھر تم میں سے کسی کی تو روح قبض کرلی جاتی ہے اور کسی کو بدترین عمر (انتہائی بڑھاپے) تک زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ وہ سب کچھ جانے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہوتی ہے۔ پھر جب ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ حرکت میں آئی اور بھول گئی اور ہر قسم کی پُر بہار چیزیں اگانا شروع کردیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے لوگو ! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر منی کے ایک قطرے سے، پھر ایک جینن سے، پھر ایک لوتھڑے سے، کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص۔ ایسا ہم نے اس لئے کیا تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لئے۔ پھر ہم تم کو ایک بچہ کی شکل میں برآمد کرتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے بعض پہلے ہی مر جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخر حد کو پہنچتے ہیں تاآنکہ وہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہریں لینے لگتی اور اپجتی ہے اور طرح سرح کی خوش نما چیزیں اگاتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے لوگوں اگر تمہیں کسی طرح کا کوئی شک ہو اپنے دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں تو تم خود اپنی پیدائش و پرورش سے متعلق ہی ہماری قدرت کاملہ کے مظاہر میں غور کرلو کہ ہم نے تمہیں کس عجیب و غریب اور پُر حکمت طریقے سے پیدا کیا مٹی کے اس بےحس اور بےجان مادے سے پھر نطفے سے پھر ایک جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بیشکل بھی اور ہم نے تمہاری پیدائش سے متعلق یہ اہم تغیرات تمہیں بتا بھی دئیے تاکہ ہم کھول کر بیان کردیں تمہارے لئے تمہاری حقیقت اور اس سے متعلق اپنی قدرت کے مظاہر کو اور ہم جس کو چاہتے ہیں ٹھہرا دیتے ہیں رحموں کے اندر ایک خاص مدت تک پھر ہم نکال لاتے ہیں تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے ایک بچے کی شکل میں پھر نہایت مناسب و عمدہ طریقے سے ہم تمہاری پرورش کرتے ہیں تاکہ تم پہنچ جاؤ اپنی جوانی کی بھرپور قوتوں کو اور تم میں سے کسی کو پہلے ہی واپس اٹھالیا جاتا ہے اور کسی کو لوٹا دیا جاتا ہے اس کی گھٹیا اور بدترین عمر کی طرف جس کا اثر و نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جان رہا ہوتا اور تم اپنے پیش یا افتادہ اس زمین ہی میں غور کرلو کہ ایک وقت تم اس کو بالکل ویران اور خشک پڑی ہوئی دیکھتے ہو پھر جب ہم اس پر مینہ برسا دیتے ہیں تو یکایک اس میں زندگی کی حرکت پیدا ہوتی ہے اور یہ ایک خاص انداز سے ابھرتی ہے اور یہ اگانا شروع کردیتی ہے ہر قسم کی خوش منظر نباتات

— مولانا اسحاق مدنی

اے لوگو اگر تم (دوبارہ) جی اٹھنے کی طرف سے شک میں ہو تو (اس میں غور کرلو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفہ سے پھر خون سے لوتھڑے سے پھر بوٹی سے (کہ بعض) پوری (ہوتی ہیں) اور (بعض) ادھوری تاکہ ہم تمہارے سامنے (اپنی قدرت) ظاہر کردیں۔ اور ہم رحم میں جس کو چاہتے ہیں ٹھہرائے رکھتے ہیں ایک مدت مقرر تک۔ پھر ہم تمہیں بچہ (بنا کر پیٹ سے) باہر لاتے ہیں تاکہ تم اپنی بھری جوانی تک پہنچ جاؤ اور تم میں وہ بھی ہیں جو مرجاتے ہیں۔ اور تم میں وہ بھی ہیں جنہیں نکمی عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے جس سے وہ ایک چیز سے بیخبر ہوجاتے ہیں۔ اور تو زمین کو دیکھتا ہے۔ کہ خشک ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی خوش نما نباتات اگاتی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں شک ہے تو (ذراغور کرو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر علقہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے واضح شکل والا اور غیرواضح شکل والا تاکہ ہم کھول کھول کر بیان کردیں تمہارے لیے اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں رحموں کے اندر جو ہم چاہتے ہیں ایک وقت معین تک پھر ہم نکالتے ہیں تمہیں چھوٹے سے بچے کی صورت میں پھر تم پہنچتے ہو اپنی جوانی کو اور تم میں وہ بھی ہیں جو پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو نکمی عمر تک لوٹائے جاتے ہیں کہ اسے کچھ بھی علم نہ رہے سب کچھ جاننے کے بعد اور تم دیکھتے ہو زمین کو خشک (اور ویران) پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلاتی ہے اور ابھرتی ہے اور قسم قسم کی ترو تازہ چیزیں اگادیتی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگو ! اگر تمہیں مرنے کے بعد زندہ ہونے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اس سے نطفہ بنا کر ‘ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر ‘ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کا نقشہ کامل بھی ہوتا ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر واضح کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک مقرر میعاد تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو اور بعض مرجاتے ہیں اور بعض نکمی عمر تک پہنچا دیے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ (یعنی) بھول جاتے ہیں بڑھاپے کی وجہ سے اور اے دیکھنے والے ! تو دیکھتا ہے کہ ایک وقت میں زمین خشک پڑی ہوتی ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ سرسبز ہوجاتی ہے ‘ ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اگاتی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O mankind! If you have any doubt concerning Resurrection, then know that it is surely We Who created you from dust, then from a drop of sperm, then from a clot of blood, then from a little lump of flesh, some of it shapely and other shapeless. (We are rehearsing this) that We may make the reality clear to you. We cause (the drop of sperm) that We please to remain in the wombs till an appointed time. We bring you forth as infants (and nurture you) that you may come of age. Among you is he that dies (at a young age) and he who is kept back to the most abject age so that after once having known, he reaches a stage when he knows nothing. You see the earth dry and barren and then no sooner than We send down water upon it, it begins to quiver and swell and brings forth every kind of beauteous vegetation.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O mankind, if you are in doubt about Resurrection, then (recall that) We created you from dust, then from a drop of semen, then from a clot, then from a piece of flesh, either shaped or unshaped, so that We manifest (Our power) to you. We retain in the wombs whatever We will to a specified term. Then We bring you out as babies, then (We nourish you) so that you reach your maturity. And among you there is one who dies, and among you there is one who is carried to the worst part of the age, so that he knows nothing even after having knowledge. And you see the land dry. Then once We send down water on it, it stirs and swells and puts forth every pleasant pair (of vegetation).

— Muhammad Taqi Usmani

O mankind, if you are in doubt about Resurrection, then (recall that) We created you from dust, then from a drop of semen, then from a clot, then from a piece of flesh, either shaped or unshaped, so that We manifest (Our power) to you. We retain in the wombs whatever We will to a specified term. Then We bring you out as babies, then (We nourish you) so that you reach your maturity. And among you there is one who dies, and among you there is one who is carried to the worst part of the age, so that he knows nothing even after having knowledge. And you see the land dry. Then once We send down water on it, it stirs and swells and puts forth every pleasant pair (of vegetation).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O mankind! If you are in doubt about the Resurrection, then verily, We have created you from dust, then from a Nutfah, then from a clot then from a little lump of flesh -- some formed and some unformed -- that We may make (it) clear to you. And We cause whom We will to remain in the wombs for an appointed term, then We bring you out as infants, then (give you growth) that you may reach your age of full strength. And among you there is he who dies (young), and among you there is he who is brought back to the miserable old age, so that he knows nothing after having known. And you see the earth Hamidatan, but when We send down water on it, it is stirred (to life), and it swells and puts forth every lovely kind (of growth).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O mankind! if ye are in doubt concerning the Resurrection, then lo! We have created you from dust, then from a drop of seed, then from a clot, then from a little lump of flesh shapely and shapeless, that We may make (it) clear for you. And We cause what We will to remain in the wombs for an appointed time, and afterward We bring you forth as infants, then (give you growth) that ye attain your full strength. And among you there is he who dieth (young), and among you there is he who is brought back to the most abject time of life, so that, after knowledge, he knoweth naught. And thou (Muhammad) seest the earth barren, but when We send down water thereon, it doth thrill and swell and put forth every lovely kind (of growth).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O People, if you should be in doubt about the Resurrection, then [consider that] indeed, We created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot, and then from a lump of flesh, formed and unformed - that We may show you. And We settle in the wombs whom We will for a specified term, then We bring you out as a child, and then [We develop you] that you may reach your [time of] maturity. And among you is he who is taken in [early] death, and among you is he who is returned to the most decrepit [old] age so that he knows, after [once having] knowledge, nothing. And you see the earth barren, but when We send down upon it rain, it quivers and swells and grows [something] of every beautiful kind.

— Saheeh International

People, if you have doubts about the Resurrection, you must know that We created you from clay that was turned into a living germ. This was developed into a clot of blood, which was made into a well formed and partly shapeless lump of flesh. This is how We show you that resurrection is not more difficult for Us than your creation. We cause whatever We want to stay in the womb for an appointed time, We then take you out of the womb as a baby, so that you may grow up and receive strength. Some of you may then die and others may grow to a very old age and lose your memory. You may see the earth as a barren land, but when we send rain, it starts to stir and swell and produce various pairs of attractive herbs.

— Muhammad Sarwar

O people! if you are in doubt about the raising, then surely We created you from dust, then from a small seed, then from a clot, then from a lump of flesh, complete in make and incomplete, that We may make clear to you; and We cause what We please to stay in the wombs till an appointed time, then We bring you forth as babies, then that you may attain your maturity; and of you is he who is caused to die, and of you is he who is brought back to the worst part of life, so that after having knowledge he does not know anything; and you see the earth sterile land, but when We send down on it the water, it stirs and swells and brings forth of every kind a beautiful herbage.

— Muhammad Habib Shakir

O Mankind! if ye be in doubt respecting the Resurrection, then We have created you of the dust, then of a drop, then of clot, then of a piece of flesh, formed and unformed, that We might manifest unto you Our power. And We settle in the wombs that which We will until a term determined. Then We bring you forth as babes, then We let you reach your maturity. And of you is he who dieth, and of you is he who is brought back to the most abject age, so that after knowing he knoweth not aught. Andthou beholdest the earth withered up, and when We send down thereon water, it stirreth and swelleth, and it groweth every luxuriant kind of growth.

— Abdul Majid Daryabadi

O mankind! if ye have a doubt about the Resurrection, (consider) that We created you out of dust, then out of sperm, then out of a leech-like clot, then out of a morsel of flesh, partly formed and partly unformed, in order that We may manifest (our power) to you; and We cause whom We will to rest in the wombs for an appointed term, then do We bring you out as babes, then (foster you) that ye may reach your age of full strength; and some of you are called to die, and some are sent back to the feeblest old age, so that they know nothing after having known (much), and (further), thou seest the earth barren and lifeless, but when We pour down rain on it, it is stirred (to life), it swells, and it puts forth every kind of beautiful growth (in pairs).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–7

پہلی پیدائش دوسری پیدائش کی دلیل مخالفین اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل بیان کی جاتی ہے کہ اگر تمہیں دوسری بار کی زندگی سے انکار ہے تو ہم اس کی دلیل میں تمہاری پہلی دفعہ کی پیدائش تمہیں یاد دلاتے ہیں۔ تم اپنی اصلیت پر غور کرکے دیکھو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے یعنی تمہارے باپ حضرت آدم ؑ کو جن کی نسل تم سب ہو۔ پھر تم سب کو ذلیل پانی کے قطروں سے پیدا کیا ہے جس نے پہلے خون بستہ کی شکل اختیار کی پھر گوشت کا ایک لوتھڑا بنا۔ چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الٰہی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس میں کوئی صورت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 5 اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ہر انسان ان مادوں سے پیدا کیا جاتا ہے جو سب کے سب زمین سے حاصل ہوتے ہیں اور اس تخلیق کی ابتدا نطفے سے ہوتی ہے۔ یا یہ کہ نوع انسانی کا آغاز آدم ؑ سے کیا گیا جو براہ راست مٹی سے بنائے گئے تھے، اور پھر آگے نسل انسانی کا سلسلہ نطفے سے چلا، جیسا کہ سورة سجدہ میں فرمایا وَبَدَءَ خَلْقَ الْاِنْسَا نِ مِنْ طِیْنٍ ہ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ۔ (آیات 7۔ 8) " انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک سَت سے چلائی جو حقیر پانی کی شکل میں نکلتا ہے "۔ سورة الْحَجّ 6 یہ اشارہ ہے ان مختلف اطوار کی طرف جن سے ماں کے پیٹ میں بچہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–8

بطن مادر میں تخلیق انسانی کے درجات اور مختلف احوال فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ، اس آیت میں بطن مادر کے اندر انسان کی تخلیق کے مختلف درجات کا بیان ہے۔ اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اور وہ سچ بولنے والے اور سچے سمجھے جانے والے ہیں کہ انسان کا مادہ چالیس روز تک رحم میں جمع رہتا ہے پھر چالیس دن کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بن جاتا ہے پھر چالیس ہی دن میں وہ مضغہ یعنی گوشت بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے اور اس کے متعلق چار باتیں اسی وقت فرشتہ کو لکھوا دی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون …… آیات 24-5 آگے قیامت اور توحید کے اسی مضمون کو جو تمہیں کی آیات میں بیان ہوا، ایک نئے رنگ سے لیا اور انسان کی خلقت کی نوعیت، اس کائنات کے مشاہدات اور ان مشاہدات سے اس کائنات کے خالق کو جو صفات ہر عاقل کے سامنے آتی ہیں، ان سے قیامت اور توحید پر دلیل قائم کی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ اگر انسان غور کرے تو قیامت اور توحید کے دلائل خود اس کے اپنے وجود اور اس کے اپنے ہی گرد و پیش میں موجود ہیں۔ اس کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ احمق ہیں وہ جو ایسے بدیہی حقائق کا انکار اور ان کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں ان لوگوں کو بھی لیا، جو خدا کی بندگی اپنے شرائط پر کرنا چاہتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی نطفے (قطرہ منی) سے چالیس روز بعد عَلَقَۃٍ گاڑھا خون اور عَلَقَۃٍ سے مُضْغَۃٍ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے مُخَلَّقَۃٍ سے، وہ بچہ مراد ہے جس کی پیدائش واضح اور شکل و صورت نمایاں ہوجائے، اس کے برعکس، جس کی شکل و صورت واضح نہ ہو، نہ اس میں روح پھونکی جائے اور قبل از وقت ہی وہ ساقط ہوجائے۔ صحیح حدیث میں بھی رحم مادر کی ان کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نطفہ چالیس دن کے بعد علقۃ (گاڑھا خون) بن جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد یہ مضغۃ (لوتھرڑا یا گوشت کی بوٹی) کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے یعنی چار مہینے کے بعد نفخ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن یا مشکل سمجھتے ہیں، ان سے کہا جارہا ہے کہ خود اپنی تخلیق پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے کس حیرت انگیز طریقے پر کتنے مرحلوں سے گزار کر تمہیں پیدا فرمایا تھا۔ تمہارا کوئی وجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں وجود بخشا، تم میں جان نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے تم میں جان ڈالی۔ جس ذات نے اس حیرت انگیز طریقے سے تمہیں ا سوقت پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے تو کیا وہ تمہیں مردہ لاش بننے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ؟ 2: یعنی بعض اوقات تو اس گوشت کے لوتھڑے سے ماں کے پیٹ میں بچے کے اعضاء پورے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات پورے نہیں بنتے۔ پھر بعض اوقات اسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

یایھا الناس ……زوج بھیج (5) بعث بعد موت کی حقیقت کیا ہے۔ جسم کے اجزاء میں دوبارہ زندگی ڈالنا اور بس۔ تو انسانی سوچ کے مطابق بھی یہ چیز ابتدائی تخلیق سے آسان ہے ، لیکن اگر انسان اسے مشکل سمجھے تو اللہ کی نسبت سے تو یہ بہت ہی آسان ہے۔ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ دوبارہپیدا کرنے میں بھی اللہ کو ایسا ہی ارادہ کرنا ہوگا کہ (کن) یعنی ہوجا کے تو وہ چیز ہوجائے گی۔ انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون ” اس کا کام یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے “ ۔ قرآن کریم کا اندازہ کلام یہ ہے کہ وہ انسانوں کی سوچ اور قیاس کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔ لوگوں کے طرز استدلال اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اگر یہ دھوکا لگ رہا ہے کہ ریزہ ریزہ ہو کر دوبارہ کیسے جی اٹھیں گے تو خود اپنی پیدائش میں غور کرو کس طرح ہوئی ہے۔ 6 یعنی اول تمہارے باپ آدم کو مٹی سے، پھر تم کو قطرہ منی سے بنایا، یا یہ مطلب ہے کہ مٹی سے غذا نکالی جس سے کئی منزلیں طے ہو کر نطفہ بنا، پھر نطفہ سے کئی درجے طے کر کے تمہاری تشکیل و تخلیق ہوئی۔ 7 یعنی نطفہ سے جما ہوا خون اور خون سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے۔ جس پر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کا پورا نقشہ (ہاتھ، پاؤں، آنکھ، ناک وغیرہ) بنادیا جاتا ہے۔ اور ایک وقت ہوتا ہے کہ ابھی تک نہیں بنایا گیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعض کی پیدائش مکمل کردی جاتی ہے اور بعض یونہی ناقص صورت میں گر جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ” انسانی جسم کی اصل مٹی ہے۔ اس کی غذا بھی نباتات اور معدنیات کی شکل میں مٹی ہی سے آتی ہے۔ اگر وہ کسی جانور کا گوشت کھاتا ہے تو اس کی پرورش بھی مٹی سے حاصل ہونے والی غذا سے ہی ہوتی ہے۔ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ” اور یہ مادہ بھی اسی جسم کی پیدوار ہے جو مٹی سے بنا اور مٹی سے فراہم ہونے والی غذا پر پلا بڑھا۔ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ” عام طور پر ”علقہ“ کا ترجمہ ”جما ہوا خون“ کیا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔ اس لفظ کی وضاحت سورة المؤمنون کی آیت 14 کے ضمن میں آئے گی۔ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4 مشرکین مکہ سے اولین جھگڑا تو ان کے بتوں کے خدائی اختیارات سے تعلق رکھتا تھا اور دوسرا جھگڑا یہ تھا کہ دین ابراہیمی کے پیرکار ہونے کا دعوی رکھنے کے باوجود لیث بعدالموت کا یقین نہیں رکھتے تھے لہذا اب ایسے دلائل دیئے جارہے ہیں جو لیث بعدالموت پر پوری رہنمائی کرتے ہیں۔ سب سے پہلی دلیل تو انسان کا اپنا وجود ہے۔ آدم کے پتلے کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے بنایا۔ مٹی بےجان چیز ہے۔ جب اس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی تو وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ پھر آگے توالد و تناسل سے آدم کی اولاد پھیلی۔ اب جو چیزیں یا غذائیں انسان کھاتا ہے۔ وہ سب زمین سے حاصل ہوتی ہیں۔ انھیں غذاؤں سے کہیں انسان کا گوشت بنتا ہے، کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ یعنی نوع انسانی کی ترکیب میں عنصر غالب مٹی کا ہے۔ (آیت) ” فانا خلقنکم “۔ تقدیر کلام یوں ہے کہ میں تمہیں تمہاری خلقت سے متعلق یہ خبر دیتا ہوں یا یہ کہ تم اپنے آغاز خلقت کو سوچو۔ اے فانظروا فی بدء خلقکم (بیضاوی) قیل التقدیر فاخبرکم واعلمکم انا خلقنکم (روح) 6۔ وجود انسانی کی اس ساخت، ترکیب وترتیب کی ایک طرف یکسانی وہمرنگی، دوسری طرف باہمی تفاوت واختلاف دونوں چیزیں جس طرح قدرت، حکمت وصنعت پر شاہد ہیں اسی طرح اس پر بھی کہ جو پہلے اس طرح عدم مطلق سے وجود میں لاچکا ہے، اسے اب اجزائے منتشرہ کو جوڑ بٹور کر درست کردینا کیا مشکل ہے۔ (آیت) ” ثم من نطفۃ “۔ نوعی ترکیب کے بعد، تخلیق انفرادی کا یہ پہلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایہا الناس ان کنتم فی ریب من البعث اے لوگو ! اگر تم کو (حشر جسمانی اور دوبارہ) جی اٹھنے (کے امکان) میں کوئی شک ہے۔ فانا خلقنکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ وغیر مخلقۃ تو (غور کرو کہ) ہم نے تم کو خاک سے بنایا پھر ایک بوند سے پھر خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے پھر مکمل اور نامکمل بوٹی سے یعنی اگر دوبارہ جی اٹھنے کے امکان میں تم کو شک ہے تو اپنی ابتدائی تخلیق پر غور کرو ‘ تمہارا شک دور ہوجائے گا۔ خَلَقْنَکُمْ ہم نے تمہاری جنس کو یعنی آدمی کو پیدا کیا۔ لفظ کم اس بچے کو بھی شامل ہے جو گر جاتا ہے ‘ ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ آدمی بننے کی اس میں بھی صلاحیت ہوتی ہے۔ مِّنْ تُرَابٍ یعنی تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) اے مکہ والو ! اگر تم قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے متعلق میں شک وشبہ میں ہو تو ذرا اپنی ابتداء آفرینش کے بارے میں غور کرلو، کیوں کہ ابتدا پیدا کرنے سے پھر تمہارا دوبارہ زندہ کرنا زیادہ مشکل نہیں کیوں کہ ہم نے پہلی بار تمہیں بواسطہ حضرت آدم ؑ مٹی سے بنایا، پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں نطفہ سے بنایا اور پھر نطفہ کے بعد خون کے لوتھڑے سے پھر تازہ بوٹی سے جو کہ لوتھڑے میں سختی آنے کے بعد حاصل ہوتا ہے کہ اس بوٹی میں بعض کے پورے اعضا بنا دیتے ہیں اور بعض کو ناتمام ہی گرا دیتے ہیں تاکہ ہم قرآن کریم تمہاری ابتدائی پیدایش اور اس کی حقیقت کو ظاہر کردیں اور ہم رحم مادر میں جس نطفہ کو چاہتے ہیں گرنے سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ۔۔ : یعنی اگر تمہیں آخرت کو دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے تو اسے دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی پیدائش کی ابتدا پر غور کرو، اس سے تم جان لو گے کہ جس نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوسری دفعہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد نباتات پیدا کرتا ہے وہ تمہیں تمہاری قبروں سے نکالنے پر بھی قادر ہے۔ مِّنْ تُرَابٍ : اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ حقیر مٹی کیا گیا ہے۔ آدم ؑ کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے اور سب لوگوں کے مٹی سے پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب آدم ؑ کی اولاد ہیں، جو اس بےجان اور قدموں میں پامال…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

پھر منکرین بعث پر حجت لازم کرتے ہوئے فرمایا : یٰآ یُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ (اے لوگو ! اگر تم کو دوبارہ اٹھائے جانے کا شک ہے) یعنی اگر بعث بعدالموت کے متعلق تمہیں شک ہے تو تمہارے شک کا ازالہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ تم اپنی ابتدائی خلقت پر نگاہ ڈالو۔ کہ ابتداء میں تم مٹی اور پانی تھے اور تمہارے بعث کے انکار کا سبب بھی یہی انسانی وجود کا مٹی اور پانی بن جانا ہے۔ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ (پس بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا) یعنی تمہارے آباء و اجداد کو مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ (مٹی سے پھر) پیدا کیے گئے۔ مِںْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ (ایک بوند سے پھر خون کے جمے ہوئے لو تھڑے سے)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ احمد والبکاری ومسل موابوداوئد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے بیان فرمایا۔ اور آپ ﷺ سچے ہیں اور آپ ﷺ سے سچ کہا گیا کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس طرح سے ہے کہ پہلے ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے اتنی مدت جمے ہوئے خون کی صورت میں رکھا جاتا ہے پھر اتنی مدت گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رکھا جاتا ہے پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے۔ اور اس کو چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ وہ فرتہ اس کا رزق اس کی عمر اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّهَا النَاسُ : اے لوگو ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [ فِيْ رَيْبٍ : کسی شک میں ] [ مِّنَ الْبَعْثِ : (دوبارہ) اٹھائے جانے سے ] [ فَانا : تو بیشک ہم نے ] [ خَلَقْنٰكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ مِّنْ تُرَابٍ : ایک مٹی سے ] [ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ : پھر ایک نطفہ سے ] [ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ : پھر ایک جمے ہوئے خون سے ] [ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ : پھر ایک چکنی کی ہوئی گوشت کی بوٹی سے ] [ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ : اور بغیر چکنی کی ہوئی (بوٹی) سے ] [ لِنُبَيِّنَ : تاکہ ہم واضح کریں ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے (حقائق کو)] [ وَنُقِرُّ : اور ہم ٹھہراتے ہیں ] [ فِي الْاَرْحَامِ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

وقوع قیامت کے منکرین کو جواب اور تخلیق انسانی کے مختلف ادوار کا تذکرہ جو لوگ بعث کا یعنی مرنے کے بعد قبروں سے اٹھائے جانے کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے وقوع میں انہیں شک تھا (اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں) ان کے شبہات میں سے ایک یہ شبہ تھا کہ جب مر کھپ گئے جسم ریزہ ریزہ ہوگیا تو اب زندہ ہونا، جسموں میں جان پڑنا، پورا آدمی بن کر کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اگر تمہیں موت کے بعد دو بارہ اٹھائے جانے میں شک ہے تو تمہارا شک اور استبعاد غلط ہے اور بیجا ہے۔ تم دو بارہ اٹھائے جانے کو پہلی خلقت پر قیاس کرلو۔ دیکھو پہلے تمہارا وجود ہی نہیں تھا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–10

اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ (ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” یَا اَیُّھَا النَّاسُ الخ “ یہ توحید اور قیامت پر پہلی عقلی دلیل ہے اس دلیل کے دو حصے ہیں ایک حصے میں خود انسان کی پیدائش کے مختلف مدارج سے اور دوسرے حصے میں زمین کے مختلف مدارج سے اور دوسرے حصے میں زمین کے مختلف احوال سے استدلال کیا گیا ہے۔ ذکر دلیلین واضحین علی ذالک احدھما فی نفس الانسان وابتداء خلقہ و تطورہ فی مراتب سبع۔ والثانی فی الارض التی تشاھدون تنقلھا من حال الی حال الخ (بحر ج 6 ص 351، 352) ۔ ” فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ “ سے دلیل کا ہپلا حصہ شروع ہوتا ہے یعنی یہ بات تو بالکل ظاہر اور شک و ریب سے بالاتر تھی لیکن نادان لوگ اس میں بھی شک کر رہے ہیں اگر مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–7

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زلزلہ قیامت کا ذکر کرکے لوگوں کو انذار کیا ، اور فرمایا کہ قیامت کا زلزلہ اتنی عظیم چیز ہے کہ لوگ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھیں گے اور ایسا محسوس ہوگا کہ وہ نشے کی حالت میں ہیں۔ حقیقت میں یہ نشہ نہیں ہوگا۔ بلکہ قیامت کی ہولناکی اور اللہ کے شدید عذاب کے پیش نظر لوگوں کی یہ حالت ہوجائیگی۔ لوگوں پر اس قدر دہشت طاری ہوگی کہ ہر ماں اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائیگی اور حاملہ عورتیں اپنے حمل گرادیں گی۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے بارے میں دو دلیلیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک کا تعلق خود تخلیق انسانی کے ساتھ ہے اور دوسری کا زمین سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ۝ 0ۭ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ۝ 0ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَـيْــــًٔا۝ 0ۭ وَتَرَى الْاَرْضَ ہَامِدَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْہَا الْمَاۗءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : زلزلۃ مصدر ہے جائز ہے کہ فعل لازم سے ہو ای تزلزل الساعۃ اور ممکن ہے کہ متعدی سے ہو ای زلزال الساعۃ الناس دونوں صورت میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہوگا یوم ترونہا منصوب ہے تذھل سے جو حال ہے ضمیر مفعول سے والعائد محذوف سکاری حال ہے اور یہ بالضم اور بالفتح دونوں طرح سے آیا ہے اور سکری مثل مرضی اور واحد سکران یا سکر ہے مثل زمن و ضمنی۔ من یجادل میں من نکرہ موصوفہ ہے۔ تفسیر : اس سورة میں علماء کا اختلاف ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ و مجاہد کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے بجز چند آیات کے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں وما ارسلنا من قبلک من رسول سے لے کر عذاب یوم مقیم تک جمہور کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنْ کُنْـتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّـقَۃٍ وَّغَیْرِ مُخَلَّـقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَـکُمْ ط وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَانَشَآئُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ ج وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلاَ یَعْلَمَ مِنْ م بَعْدِ عِلْمٍ شَیْــًٔا ط وَتَرَی الْاَرْضَ ھَامِدَۃً فَاِذَٓا اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَآئَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : قیامت قائم ہونے کا ثبوت آدمی کی تخلیق اور زمین سے اگنے والی نباتات میں موجود ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والا حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی سزا اور جزا کا انکار کرتا ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والا فکری طور پر نادان ہوتا ہے جس بنا پر اسے احساس ہی نہیں رہتا کہ جس رب نے مجھے پہلی دفعہ پیدا کیا ہے اس کے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوگا ہے ؟ اسی بات کو یہاں ایک ٹھوس دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک ہے تو غور کرو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر تمہاری تخلیق کا ایک نطفے سے آغاز کیا، پھر وہ نطفہ جما ہوا خون بنتا ہے۔ اس کے بعد گوشت کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منکرین بعث کے خلاف دلیل : 5: پھر منکرین بعث پر حجت لازم کرتے ہوئے فرمایا : یٰآ یُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ (اے لوگو ! اگر تم کو دوبارہ اٹھائے جانے کا شک ہے) یعنی اگر بعث بعدالموت کے متعلق تمہیں شک ہے تو تمہارے شک کا ازالہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ تم اپنی ابتدائی خلقت پر نگاہ ڈالو۔ کہ ابتداء میں تم مٹی اور پانی تھے اور تمہارے بعث کے انکار کا سبب بھی یہی انسانی وجود کا مٹی اور پانی بن جانا ہے۔ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ (پس بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا) یعنی تمہارے آباء و اجداد کو مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ (مٹی سے پھر) پیدا کیے گئے۔ مِں ْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ (ایک بوند سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5۔ یا ایھا الناس ان کنتم فی ریب، اس میں کوئی شک نہیں ، من البعث فاناخلقناکم، ہم نے تمہاری اصل کو یعنی آڈم کو پیدا کیا جس سے تمہاری نسل جاری ہوئی ہے۔ من تراب ثم من نطفۃ، آدم کی اولاد کو نطفہ سے پیدا کیا اور وہ نطفہ منی کا تھا، اصل میں یہ ماء قلیل پر بولاجاتا ہے اس کی جمع نطاف آتی ہے۔ ثم من علقۃ ، اور وہ جماہوا خون جو ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی جمع علق ہے اور یہ اس وجہ سے کہ نطفہ پہلے خون بنتا ہے پھر گوشت کالوتھڑا۔ ثم من مضغہ، یہ گوشت کا چھوٹا ساٹکرا۔ مخلقہ وغیر مخلقۃ، ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے کہ ، مخلقہ کا معنی ہے مکمل ملاوٹ والا اور ناتمام ساخت والا مجاہدکاقول ہے کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–10

دلائل حشرو نشر : 5۔ 10:۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کا ذکر فرما کر یہاں اخیر رکوع تک دو دلیلیں حشر کی بیان فرمائی ہیں ‘ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اس نے پانی مٹی کا کام لے لیا ‘ اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ہے ‘ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بنایا جا کر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی۔ دوسری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جو زمین اللہ کہ حکم سے اس طرح کے جاندار صاحب عقل لوگوں سے بڑھ کر کام کرتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–7

آیت 5 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث) یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں جب کہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک کئے بغیر نہ رہ سکو تو تمہارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمہارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں : پہلی دلیل : انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، چناچہ فرمایا : (فانا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

مضغۃ، علقہ کو انسان قرار نہیں دیا جاسکتا قول باری ہے (مخلقۃ وغیر مخلقۃ جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی ) قتادہ نے کہا۔” جو تام الخلقت بھی ہوتی ہے اور نا تمام بھی۔ “ مجاہد کا قول ہے ” شکل والی بھی اور بےشکل بھی) حضرت ابن مسعود کا قول ہے … کہ جب رحم میں نطفہ پہنچ جاتا ہے تو اسے ایک فرشتہ اپنی ہتھیلی پر اٹھا کر کہتا ہے ۔ اے رب ! یہ نطفہ تام الخلقت ہوگا یا نا تمام۔ “ اگر نا تمام ہوگا تو رحم اسے خون کی شکل میں خارج کر دے گا اور اگر تام الخلقت ہوگا تو اس کا رزق اور اس کی عمر، نیز مذکر یا مئونث، نیک بخت ہے یا بدبخت ، فرشتہ یہ تمام تفصیلات در جکر دے گا۔ ابو العالیہ کا قول ہے کہ غیر مخلقہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 اِمکان بعث کی دلیل خود تمہاری اپنی جانوں سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں کوئی شک ہو تو خود اپنی جانوں میں ہی غور کرلو۔ اس سے تم کو خود حق اور حقیقت سے آگہی ہوجائے گی اور تمہیں یقین ہوجائے گا کہ جو کچھ تمہارا رب فرماتا ہے وہی حق اور صدق ہے۔ سو خود اپنے وجود میں غور کرنے سے تمہارا یہ شک زائل ہوجائے گا اور تمہیں خود یقین ہوجائے گا کہ جو قادر مطلق تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کرسکتا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے اور پیدا کرنا چاہیئے۔ تاکہ حکمت تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ یہاں منکرین کو خطاب کرکے فرمایا گیا کہ اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–13

مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 10 ۔ یہ ان مراحل کا مجمل اور عام فہم ذکر ہے جن سے ایک بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں گزرتا ہے اور پھر جوان ہو کر آخری عمر کو پہنچتا ہے اور یہ کل سات مراحل بیان کئے ہیں۔ پیٹ میں حمل کے مراحل کا ذکر صحیحین کی ایک حدیث میں بھی آیا ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں میں وہ خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں میں گوشت کی بوٹی۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے۔ (کبیر، ابن کثیر) 1 ۔ اور تم سمجھو کہ جو خدا اس طرح انسان کو عدم سے وجود میں لاسکتا ہے اس کے لئے اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:5) فانا خلقنکم۔ تقدیر کلام یوں ہے فاخبرکم واعلمکم انا خلقنکم یعنی (اگر بعث بعد الموت کے متعلق تمہیں شک ہے تو میں تمہیں مطلع کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ) ہم نے تمہیں پیدا کیا (مٹی سے) الخ۔ تراب۔ مٹی۔ نطفۃ۔ اصل میں تو آب صافی کو کہتے ہیں۔ لیکن اس سے مراد مرد کی منی لی جاتی ہے۔ علقۃ۔ جمے ہوئے خون کی ایک پھٹکی۔ خون کی وہ پھٹکی جو منی سے پیدا ہوتی ہے اس کی جمع علق ہے علقہ کو علقہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اس رطوبت کے ساتھ جو اس میں لگی رہتی ہے معلق ہوتا ہے۔ خون کا لوتھڑا۔ مضغۃ۔ گوشت کا ٹکڑا۔ بوٹی، گوشت کا چھوٹا ٹکڑا جو چبانے کے لئے منہ میں ڈالا جائے۔ جنین کی وہ حالت جو علقہ کی حالت کے بعد ہونی ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–7

منکرین حشر کے لیے دوناقابل تردید دلیلیں۔ (ف 1) اوپر منکرین حشر کا ذکر تھا یہاں آخر رکوع تک دودلیلیں حشر کی بیان فرمائی۔ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اسنے پانی سے مٹی کا کام لے لیا اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ یعنی رحم میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بناکرپتلے میں روح پھونک دی ہے ۔ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بناکر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی صحیح و بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث بھی گزرچکی ہے کہ عورت کے رحم میں نطفہ چالیس دن کے بعد جماہوا خون ہوجاتا ہے اور پھر چالیس دن کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی نسل انسانی کی ابتدا آدم (علیہ السلام) سے ہوئی جو مٹی سے بنائے گئے تھے۔ [4] یعنی منی کی بوند سے۔ [5] یعنی نطفے سے جما ہوا خون اور خون سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے جس پر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کا پورا نقشہ بنادیا جاتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ بنانے سے پہلے ناقص صورت میں گر جاتا ہے یعنی اسقاط حمل کی صورت میں۔ [6] چناچہ اس سے ظاہر ہے کہ ہم دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ [7] یعنی زیادہ بڑھاپا۔ [8] یعنی اتنا بڑھاپا آجاتا ہے کہ عقل و حواس بجا نہیں رہتے، یاد کی ہوئی چیزیں بھول جاتا ہے اور جانی ہوئی چیزوں کو نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–6

حشرونشر ایک طبعی حقیقت ہے : (ف 1) قرآن حکیم نے حشر ونشر کے عقیدے کو بڑے زور سے بیان کیا ہے کیونکہ یہی ایک عقیدہ ایسا ہے جو دلوں میں ذمہ داری کے احساسات کو بیدار کرسکتا ہے ، اور ہر شخص میں روح عمل پھونک سکتا ہے کیونکہ اس عقیدہ کے معنے یہ ہیں کہ ہر شخص مکافات عمل کے اصول کو تسلیم کرے ، اور مانے کہ اعمال ضائع نہیں ہوتے ، اور حق و باطل کے ثمرات اور نتائج میں واضح اور بین فرق ہے ۔ جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ، اور حشر ونشر کے کوائف کو نہیں مانتا ، وہ ذمہ داری کے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ، اس کے نزدیک نیکی اور بھلائی دو مہمل لفظ ہیں ، جو بالکل شرمندہ معنی نہیں ، وہ ہر عمل کی بنیاد اپنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اے لوگو ! اگر تم قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے متعلق شک میں مبتلا ہو تو دیکھو اور غورکرو کہ ہم نے تم کو ابتداء مٹی سے بنایا پھر تم کو نطفہ سے پھر تم کو بستہ اور جمے ہوئے خون سے پھر تم کو گوشت کے لوتھڑے اور بوٹی سے جو پوری بھی ہوتی ہے اور بعضی ادھوری ہوتی ہے بنایا اور پیدا کیا اور تدریجاً تم کو اس لئے پیدا کیا تاکہ ہم تم پر اپنی قدرت کا کمال ظاہرکریں اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک مدت مقررہ تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تم کو طفولیت اور بچہ ہونے کی حالت میں نکالتے ہیں پھر تمہاری پرورش کرتے ہیں اور تم کو مہلت دیتے ہیں تاکہ تم اپنی جوانی کے کمال اور پوری جوانی کو پہنچ جائو اور تم میں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اور اسی سے ظاہر ہے کہ ہم دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں۔ 2۔ یہ سب احوال بھی دال علی القدرت ہیں۔ 3۔ سو یہ بھی دلیل ہی قدرت کاملہ کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوبارہ زندگی ملنے سے انکار کرنے والوں سے استفسار کیا جا رہا ہے : 5۔ لوگ ! تم کو دوبارہ اٹھائے جانے پر شک ہے ‘ آخر کیوں ؟ دوبارہ زندگی پر تعجب اور استبعاد اس لئے ہے کہ اللہ رب العزت کے دائرہ قدرت کی پوری وسعت تمہاری سمجھ میں نہیں آئی جس رب ذوالجلال والاکرام نے آسمان بنائے ‘ زمین بنائی ‘ آسمان سے پانی برسایا ‘ مردہ زمین کو زندہ کردیا اور اس میں کھیتیاں ‘ سبزہ اور درخت اگائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پانی کے ایک قطرہ سے انسان بنایا کیا وہ ان کے فنا کے بعد دوبارہ انکی ایجاد پر قادر نہیں ؟ حیات کا یہ سارا کارخانہ پہلے نیست ومعدوم تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہست وموجود کیا پھر رفتہ رفتہ اس کو معدوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–8

Different stages in the development of foetus in mother's womb فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَ‌ابٍ (We created you from dust - 22:5.) This verse deals with the different stages through which the foetus passes in its mother's womb before taking a human form. There is a detailed hadith on this subject, which is reproduced in Sahih of Bukhari on the authority of Sayyidna Ibn Masud ؓ to the effect that the Holy Prophet ﷺ said, "Human matter retains its original form in the woman's womb for forty days after which it becomes a clot of blood. After a further period of forty days it becomes a lump of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5.“We have created you from dust, then from a drop of sperm”: The first man Adam was created directly from clay and after him the process of procreation started by means of sperm-drop. This has been stated in Surah AsSajda, Ayats 7-8 as well. It may also mean that man is created from sperm-drop but his body is made of those elements which are all available in the earth. 6. This refers to the different stages of development of the child in the womb of its mother. This description is based on observation and not on scientific research, and there was no need for it for the purpose for which…

Read the full tafseer →