Explained with ayahs 5–7
پہلی پیدائش دوسری پیدائش کی دلیل
مخالفین اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل بیان کی جاتی ہے کہ اگر تمہیں دوسری بار کی زندگی سے انکار ہے تو ہم اس کی دلیل میں تمہاری پہلی دفعہ کی پیدائش تمہیں یاد دلاتے ہیں۔ تم اپنی اصلیت پر غور کرکے دیکھو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے یعنی تمہارے باپ حضرت آدم ؑ کو جن کی نسل تم سب ہو۔ پھر تم سب کو ذلیل پانی کے قطروں سے پیدا کیا ہے جس نے پہلے خون بستہ کی شکل اختیار کی پھر گوشت کا ایک لوتھڑا بنا۔ چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الٰہی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس میں کوئی صورت…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 8
اس سلسلہ کلام میں یہ فقرہ تین معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ ہی سچا ہے اور تنہا یہ گمان محض باطل ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ کا وجود محض ایک خیالی اور فرضی وجود نہیں ہے جسے بعض عقلی مشکلات رفع کرنے کی خاطر مان لیا گیا ہو۔ وہ نرا فلسفیوں کے خیال کا آفریدہ، واجب الوجود اور علت العلل (First Cause) ہی نہیں ہے بلکہ وہ حقیقی فاعل مختار ہے جو ہر آن اپنی قدرت، اپنے ارادے، اپنے علم اور اپنی حکمت سے پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تدبیر کر رہا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ کھلنڈرا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے کھلونے بنائے اور پھر یونہی توڑ پھوڑ کر خاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بطن مادر میں تخلیق انسانی کے درجات اور مختلف احوال
فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ، اس آیت میں بطن مادر کے اندر انسان کی تخلیق کے مختلف درجات کا بیان ہے۔ اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اور وہ سچ بولنے والے اور سچے سمجھے جانے والے ہیں کہ انسان کا مادہ چالیس روز تک رحم میں جمع رہتا ہے پھر چالیس دن کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بن جاتا ہے پھر چالیس ہی دن میں وہ مضغہ یعنی گوشت بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے اور اس کے متعلق چار باتیں اسی وقت فرشتہ کو لکھوا دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت (7-6)
خلاصہ بحث
شروع سورة سے لے کر یہاں تک جو کچھ بیان ہوا ان آیات میں اس کا خلاصہ سامنے رکھ دیا۔ یعنی خدا اور قیامت سے تمہیں ڈرتے رہنے کی یہ ہدایت جو کی جا رہی ہے اس لئے کی جا رہی ہے کہ معبود حقیقی صرف خدا ہی ہے، اس کے ماسوا جو تم نے اس کے شریک وسہیم بنا رکھے ہیں اور جن کے بل پر تم خدا اور آخرت سے نچنت ہوئے بیٹھے ہو، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ محض تمہارے وہم کی ایجاد ہیں وانہ یحییٰ الموتی یعنی اوپر جو دلائل مذکور ہوئے ان سے یہ بات ثابت ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اس لئے جب وہ چاہے گا تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو پانی کے ایک قطرے کو عاقل و بالغ انسان بنا دیتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
9۔ 1 ثانی اسم فاعل ہے موڑنے والا عطف کے معنی پہلو کے ہیں یہ یجادل سے حال ہے اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ (وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا) 31۔ لقمان :7) (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ) 63۔ المنافقون :5) (اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ) 17۔ الاسراء :83)
Read the full tafseer →5: مطلب یہ ہے کہ تمہاری اپنی تخلیق ہو یا زمین سے پودے اگانے کا معاملہ، ان ساری باتوں کی اصلی علت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کا وجود ایسا ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور باقی ساری چیزیں اسی کی قدرت سے وجود میں آتی ہیں۔ لہذا وہ مردوں کو زندہ کرنے کی بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
یایھا الناس ……زوج بھیج (5)
بعث بعد موت کی حقیقت کیا ہے۔ جسم کے اجزاء میں دوبارہ زندگی ڈالنا اور بس۔ تو انسانی سوچ کے مطابق بھی یہ چیز ابتدائی تخلیق سے آسان ہے ، لیکن اگر انسان اسے مشکل سمجھے تو اللہ کی نسبت سے تو یہ بہت ہی آسان ہے۔ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ دوبارہپیدا کرنے میں بھی اللہ کو ایسا ہی ارادہ کرنا ہوگا کہ (کن) یعنی ہوجا کے تو وہ چیز ہوجائے گی۔
انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون ” اس کا کام یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے “ ۔ قرآن کریم کا اندازہ کلام یہ ہے کہ وہ انسانوں کی سوچ اور قیاس کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔ لوگوں کے طرز استدلال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
2 انسان کی پیدائش اور کھیتی کی مثالوں سے جو اوپر مذکور ہوئیں چند باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ (1) یہ کہ یقینا اور بالتحقیق اللہ موجود ہے ورنہ ایسی منظم متّیقن اور حکیمانہ صنعتیں کہاں سے ظاہر ہوئیں۔ (2) یہ کہ خدا تعالیٰ مردہ اور بےجان چیزوں کو زندہ اور جان دار بنا دیتا ہے۔ چناچہ مشت خاک یا قطرہ آب سے انسان بنادینا اور افتادہ زمین میں روح نباتی پھونک دینا اس پر شاہد ہے، پھر دوبارہ پیدا کردینا اس کو کیا مشکل ہے (3) یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر ہر چیز اس کی قدرت کے نیچے نہ ہوتی تو ہرگز یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ (4) یہ کہ قیامت ضرور آنی چاہیے اور اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ضرور ملنی چاہیے کیونکہ…
Read the full tafseer →آیت 6 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ ”
اللہ تعالیٰ کے حق ہونے میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
وَاَنَّہٗ یُحْیِی الْمَوْتٰی وَاَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ”
بارش کے پانی سے مردہ زمین کے یکایک زندہ ہوجانے کا منظر تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہتے ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک دن تم لوگوں کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرے گا۔
Read the full tafseer →6 اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں اور تینوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں حق کا معنی سچا ہے۔ یعنی ان دونوں مثالوں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لیث بعدالموت کو حتمی اور یقینی قرار دے رہا ہے تو اس کی بات بالکل سچی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اس کا وجود کوئی فرضی وجود نہیں جسے عقلی اشکالات کی وجہ سے تسلیم کرلیا گیا ہو جیسا کہ فلاسفروں کا خیال ہے جو علت و معلول کی کڑیاں جوڑتے جوڑتے جب عاجز آجاتے ہیں تو ایک ہستی کو واجب الوجود یا علت العلل CauseFirst تسلیم کرنے لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ ایک زندہ جاوید ہستی ہے جو ہر چیز میں اپنی مرضی سے تصرف…
Read the full tafseer →11۔ (اور وہی یہ سب تغیرات ہر لمحہ وہر آن کرتی رہتی ہے) مشاہدات کا ئنات سے قرآن مجید کا مقصود ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔ یعنی اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات۔ چناچہ یہاں بھی مقصود ارشاد یہی ہے کہ یہ سارے واقعات دلیل ہیں اللہ کی قدرت، حکمت، صنعت، وحدانیت کے، اور انسان (فاعل بالارادہ مخلوق) کی مسؤلیت کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ ہو الحق وانہ یحییٰ الموتی وانہ علی کل شی قدیر۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ اللہ ہی ہستی میں کامل ہے اور وہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ذٰلِکَ سے اشارہ مذکورۂ بالا تفصیل کی طرف ہے یعنی انسان کی تخلیقی نیرنگیاں اور تضاد احوال اور مردہ ہونے کے بعد زمین کا زندہ ہونا اور سبز ہو کر لہلہا جانا اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے ‘ بذات خود متحقق ہے ‘ واجب الوجود ہے اسی کی وجہ سے دوسری تمام چیزوں کا وجود ہے اگر وہ نہ ہوتا تو کسی ممکن کا پردۂ عدم سے نکل کر سطح وجود پر آنا ممکن نہ ہوتا اور وہی بےجان نطفہ اور مردہ زمین کو زندگی عطا فرماتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قابو…
Read the full tafseer →(6) یہ جو کچھ تمہاری حالت بدلنے پر اور زمین کی حالت کی تبدیلی سے قدرت خداوندی کا ظہور فرمایا یہ سب اس لیے کہ تاکہ تم اب جان لو اور اس بات کا اقرار کرلو کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے اور اسی کی عبادت برحق ہے اور وہ ہی جانوں میں جان ڈالتا ہے اور وہ ہی موت وحیات ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ۔۔ : اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ ”باء“ سببیہ ہے جو ”کَاءِنٌ“ وغیرہ سے متعلق ہے، جو افعال عامہ سے مشتق ہیں۔ یعنی بنی آدم کو پیدا کرنے اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہمیشہ ثابت اور موجود ہے، سو وہی ان دونوں کا اور ہر چیز کا موجد ہے۔ ”وَاَنَّهٗ يُـحْيِ الْمَوْتٰى“ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا، اگر وہ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہ رکھتا تو بےجان مٹی اور نطفے کو اور مردہ زمین کو زندگی کیسے بخشتا ؟ ”وَاَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر“ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ : یہ مبتدا ہے اس کی خبر بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ ہے ( یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے) یہ تخلیق بنی آدم کا جو تذکرہ ہوا اور اسی طرح زمین کی آبادی اور اس سے حاصل ہونے والی قسما قسم کی حکمتیں ثابت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہیں یعنی انہی کا وجود حقیقی اور قائم رہنے والا ہے۔ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی (اور وہی مردوں کو زندہ کریں گے) جیسا کہ بنجر زمین کو آباد کردیا۔ وَانَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ (اور وہی ہر چیز پر قادر ہے) قدرت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
1۔ عبد بن حمید و عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا جو شخص یہ جانتا ہے کہ بلا شبہ اللہ عز وجل سچے ہیں۔ اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ اٹھائیں گے ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
2۔ خطیب وابن عساکر نے عائشہ ؓ سے اور انہوں نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب آپ صبح کی نماز پڑھتے تو نئے دن اور کاتب اور موجود آدمی کو خوش آمدید کہتے فرماتے تم دونوں لکھو بسم اللہ الرحمن، اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد الرسول اللہ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ دین ایسے ہی ہے جیسے اس کی تعریف کی گئی۔ اور…
Read the full tafseer →[ ذٰلِكَ : یہ ] [ بِان : اس سبب سے ہے کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ هُوَ الْحَقُّ : ہی حق ہے ] [ وَانهٗ : اور یہ کہ وہ ہی ] [ يُـحْيِ : زندگی دیتا ہے ] [ الْمَوْتٰى: مردوں کو ] [ وَانهٗ : اور یہ کہ وہ ] [ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
وقوع قیامت کے منکرین کو جواب اور تخلیق انسانی کے مختلف ادوار کا تذکرہ
جو لوگ بعث کا یعنی مرنے کے بعد قبروں سے اٹھائے جانے کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے وقوع میں انہیں شک تھا (اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں) ان کے شبہات میں سے ایک یہ شبہ تھا کہ جب مر کھپ گئے جسم ریزہ ریزہ ہوگیا تو اب زندہ ہونا، جسموں میں جان پڑنا، پورا آدمی بن کر کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اگر تمہیں موت کے بعد دو بارہ اٹھائے جانے میں شک ہے تو تمہارا شک اور استبعاد غلط ہے اور بیجا ہے۔ تم دو بارہ اٹھائے جانے کو پہلی خلقت پر قیاس کرلو۔ دیکھو پہلے تمہارا وجود ہی نہیں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت
قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
(ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
15:۔ ” ذَالِکَ بِاَنَّ الخ “ جار مجرور کا متعلق محذوف ہے ای لتستیقنوا۔ ذالک ای المذکور فی الدلیل مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہوگیا کہ کارساز اور متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ قیامت بپا کرنے پر قادر ہے اس سے حسب ذیل امور ثابت ہوئے کہ (1) معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (2) وہ مردوں کو ضرور زندہ کرے گا۔ (3) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (4) اور قیامت لامحالہ آئیگی۔ (5) اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھائیگا۔ یہ پانچوں ثمرات و نتائج دلائل مذکورہ پر مرتب ہیں۔ اور ” اِنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَاِنَّهٗ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ“ اور ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زلزلہ قیامت کا ذکر کرکے لوگوں کو انذار کیا ، اور فرمایا کہ قیامت کا زلزلہ اتنی عظیم چیز ہے کہ لوگ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھیں گے اور ایسا محسوس ہوگا کہ وہ نشے کی حالت میں ہیں۔ حقیقت میں یہ نشہ نہیں ہوگا۔ بلکہ قیامت کی ہولناکی اور اللہ کے شدید عذاب کے پیش نظر لوگوں کی یہ حالت ہوجائیگی۔ لوگوں پر اس قدر دہشت طاری ہوگی کہ ہر ماں اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائیگی اور حاملہ عورتیں اپنے حمل گرادیں گی۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے بارے میں دو دلیلیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک کا تعلق خود تخلیق انسانی کے ساتھ ہے اور دوسری کا زمین سے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ وَاَنَّہٗ يُـحْيِ الْمَوْتٰى وَاَنَّہٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 6ۙ
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : زلزلۃ مصدر ہے جائز ہے کہ فعل لازم سے ہو ای تزلزل الساعۃ اور ممکن ہے کہ متعدی سے ہو ای زلزال الساعۃ الناس دونوں صورت میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہوگا یوم ترونہا منصوب ہے تذھل سے جو حال ہے ضمیر مفعول سے والعائد محذوف سکاری حال ہے اور یہ بالضم اور بالفتح دونوں طرح سے آیا ہے اور سکری مثل مرضی اور واحد سکران یا سکر ہے مثل زمن و ضمنی۔ من یجادل میں من نکرہ موصوفہ ہے۔
تفسیر : اس سورة میں علماء کا اختلاف ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ و مجاہد کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے بجز چند آیات کے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں وما ارسلنا من قبلک من رسول سے لے کر عذاب یوم مقیم تک جمہور کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْحَقُّ وَاَنَّـہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَاَنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ اٰ تِیَـۃٌ لاَّرَیْبَ فِیْھَا لا وَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ ۔ (الحج : 6، 7)
( یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ ہی پروردگارِ حقیقی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور بیشک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ ان سب کو ایک دن زندہ کرکے اٹھائے گا، جو قبروں میں ہیں۔ )
خلاصہ بحث
گزشتہ آیات میں جو کچھ بیان ہوا ہے پیش نظر آیت کریمہ میں ان کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ بیان کردہ حقیقتوں کی تعداد پانچ ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔
1…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت قائم ہونے کا ثبوت آدمی کی تخلیق اور زمین سے اگنے والی نباتات میں موجود ہے۔
قیامت کا انکار کرنے والا حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی سزا اور جزا کا انکار کرتا ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والا فکری طور پر نادان ہوتا ہے جس بنا پر اسے احساس ہی نہیں رہتا کہ جس رب نے مجھے پہلی دفعہ پیدا کیا ہے اس کے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوگا ہے ؟ اسی بات کو یہاں ایک ٹھوس دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک ہے تو غور کرو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر تمہاری تخلیق کا ایک نطفے سے آغاز کیا، پھر وہ نطفہ جما ہوا خون بنتا ہے۔ اس کے بعد گوشت کے…
Read the full tafseer →6: ذٰلِکَ : یہ مبتدا ہے اس کی خبر بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ ہے ( یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے) یہ تخلیق بنی آدم کا جو تذکرہ ہوا اور اسی طرح زمین کی آبادی اور اس سے حاصل ہونے والی قسما قسم کی حکمتیں ثابت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہیں یعنی انہی کا وجود حقیقی اور قائم رہنے والا ہے۔ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی (اور وہی مردوں کو زندہ کریں گے) جیسا کہ بنجر زمین کو آباد کردیا۔ وَانَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ (اور وہی ہر چیز پر قادر ہے) قدرت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
تفسیر۔
6۔ ذالک بان اللہ ھوالحق، ، کہ جان لو کہ وہی حق ہے ۔ وانہ یحییٰ الموتی وانہ علی کل شئی قدیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
دلائل حشرو نشر :
5۔ 10:۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کا ذکر فرما کر یہاں اخیر رکوع تک دو دلیلیں حشر کی بیان فرمائی ہیں ‘ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اس نے پانی مٹی کا کام لے لیا ‘ اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ہے ‘ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بنایا جا کر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی۔
دوسری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جو زمین اللہ کہ حکم سے اس طرح کے جاندار صاحب عقل لوگوں سے بڑھ کر کام کرتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 5
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث) یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں جب کہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک کئے بغیر نہ رہ سکو تو تمہارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمہارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :
پہلی دلیل : انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، چناچہ فرمایا : (فانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…
Read the full tafseer →17 یہ سب کچھ اس بناء پر کہ اللہ ہی حق ہے : اور اس کے سوا جو بھی اور جتنے بھی معبود لوگوں نے طرح طرح کے ناموں سے ازخود گھڑ رکھے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ کارسازو کار فرما اور مختار و متصرف وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو انسان اگر اپنی پیدائش اور اپنی زندگی کے مختلف مراحل ہی میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو اس کو نظر آئے گا اور یہ حقیقت پوری طرح اس کے سامنے واضح اور آشکارا ہوجائیگی کہ یہ سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کرتا ہے۔ اور اس میں اس کے سوا اور کسی کا ارادہ شامل نہیں۔ وہی وحدہ لاشریک اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ سب کچھ کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا لوگوں نے جو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت
تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الحج :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔
کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی یہ مذکورہ وجوہ اس بات پر دلیل ہیں کہ وہی قائم و دائم ہے اور اسی کی قدرت سے یہ سب تعینات ہوتے ہیں۔ لہٰذا تمہارا یہ سمجھنا قطعی باطل ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی امکان نہیں بلکہ جسے جمیع ممکنات پر قدرت حاصل ہے۔ (شوکانی، کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(22:6) ذلک۔ یعنی انسان کی تخلیق اور اس کے مختلف مدارج اور بنجر زمین کو خوشنما اور لہلہاتا سبزہ زار بنادینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
منکرین حشر کے لیے دوناقابل تردید دلیلیں۔
(ف 1) اوپر منکرین حشر کا ذکر تھا یہاں آخر رکوع تک دودلیلیں حشر کی بیان فرمائی۔ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اسنے پانی سے مٹی کا کام لے لیا اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ یعنی رحم میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بناکرپتلے میں روح پھونک دی ہے ۔ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بناکر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی صحیح و بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث بھی گزرچکی ہے کہ عورت کے رحم میں نطفہ چالیس دن کے بعد جماہوا خون ہوجاتا ہے اور پھر چالیس دن کے بعد…
Read the full tafseer →[9] یعنی اللہ کی ہستی ایک حقیقت ہے اور تمہارا یہ گمان محض باطل ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی ممکن نہیں۔ یہ سارے واقعات جو بیان ہوئے ہیں اللہ کے کمال قدرت وحکمت و صنعت پر دلیل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
حشرونشر ایک طبعی حقیقت ہے :
(ف 1) قرآن حکیم نے حشر ونشر کے عقیدے کو بڑے زور سے بیان کیا ہے کیونکہ یہی ایک عقیدہ ایسا ہے جو دلوں میں ذمہ داری کے احساسات کو بیدار کرسکتا ہے ، اور ہر شخص میں روح عمل پھونک سکتا ہے کیونکہ اس عقیدہ کے معنے یہ ہیں کہ ہر شخص مکافات عمل کے اصول کو تسلیم کرے ، اور مانے کہ اعمال ضائع نہیں ہوتے ، اور حق و باطل کے ثمرات اور نتائج میں واضح اور بین فرق ہے ۔
جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ، اور حشر ونشر کے کوائف کو نہیں مانتا ، وہ ذمہ داری کے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ، اس کے نزدیک نیکی اور بھلائی دو مہمل لفظ ہیں ، جو بالکل شرمندہ معنی نہیں ، وہ ہر عمل کی بنیاد اپنی…
Read the full tafseer →(6) یہ سب کچھ اس سبب سے ہوا تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ثابت و برحق ہے اور وہی ہستی میں کامل ہے اور یہ کہ وہی بےجانوں میں جان ڈالتا اور مردوں کو زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہ ہر شئے پر قادر ہے یعنی جو باتیں اوپر مذکور ہوئیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتی ہیں اور جان کو جاندار کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یہ اس کا کمال ذاتی ہے۔
5۔ یہ اس کا کمال فعلی ہے۔
6۔ یہ اس کا کمال وصفی ہے، اور یہ تینوں کمالات مل کر امور مذکورہ کی علت ہیں کیونکہ اگر کمالات ثلثہ میں سے ایک بھی غیر متحقق ہوتا تو ایجاد نہ پایا جاتا۔
Read the full tafseer →بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کی وہ ذات ہے جو مردو وں کو زندہ کرنے والی ہے :
6۔ پیچھے جو کچھ بیان ہوا ہے یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ اللہ ہی حق ہے ، مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ گمان کہ موت کے بعد دوبارہ کوئی زندگی نہیں بالکل باطل ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہی سچ ہے اور یہ بھی کہ تمہارا یہ خیال محض باطل خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ محض ایک خیالی اور فرضی وجود ہے جسے بعض عقلی مشکلات رفع کرنے کے لئے مان لیا گیا ہے نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حقیقی فاعل ومختار ہے جو ہر آن اپنی قدرت ‘ اپنے ارادے ‘ اپنے علم اور اپنی حکمت سے پوری کائنات کی ایک ایک چیز کی تدبیر کر رہا ہے اور اس طرح یہ بھی کہ اس نے یہ نظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
Different stages in the development of foetus in mother's womb
فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ (We created you from dust - 22:5.) This verse deals with the different stages through which the foetus passes in its mother's womb before taking a human form. There is a detailed hadith on this subject, which is reproduced in Sahih of Bukhari on the authority of Sayyidna Ibn Masud ؓ to the effect that the Holy Prophet ﷺ said, "Human matter retains its original form in the woman's womb for forty days after which it becomes a clot of blood. After a further period of forty days it becomes a lump of…
Read the full tafseer →8. The Arabic text may mean three things: (1) Allah is telling the truth and you are wrong in presuming that there is no possibility of life-after-death. (2) Allah’s existence is not merely a supposition but it is a reality. He is not only the first cause but has supreme authority, and is conducting every affair in the universe according to His Will, Knowledge and Wisdom. (3) All His designs and works are based on truth and are, therefore, serious, meaningful and full of wisdom.
Read the full tafseer →