Al-Hajj 22:4

Al-Hajj · from ayah 4

22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَیَهْدِیْهِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ ۟كُتِبَ عَلَيۡهِ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

It has been decreed for every devil that whoever turns to him - he will misguide him and will lead him to the punishment of the Blaze.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:4

حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنّم کا راستہ دکھائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس پر (قضائے الٰہی) لکھ دی گئی ہے کہ جو کوئی اس کی رفاقت کرے گا وه اسے گمراه کر دے گا اور اسے آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس کے مقدر میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اسے دوست بنائے گا تو وہ اس کو گمراہ کرے گا، اور اسے بھڑکتی دوزخ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے عذاب دوزخ کی راہ بتائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس (شیطان) کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسے دوست رکھے گا سو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس پر لکھ دیا گیا ہے کہ بیشک واقعہ یہ ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا تو یقینا وہ اسے گمراہ کرے گا اور اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا راستہ دکھائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسے لوگوں کی قسمت میں یہ لکھ دیا گیا ہے جو شخص شیطان کو اپنا دوست بنائے گا، وہ اسے گمراہ کرکے چھوڑے گا اور جہنم کے عذاب کی راہ دکھلائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس کی یہ ڈیوٹی ہی مقرر ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اس کو گمراہ کر کے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس کے بارے میں یہ لکھ اور طے کردیا گیا ہے کہ جس نے اس کو دوست بنایا تو وہ تباہ ہوگیا کہ یقینا وہ اس کو گمراہ کر کے چھوڑے گا اور وہ اس کو ڈال دے گا دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کے عذاب کی راہ پر

— مولانا اسحاق مدنی

اس (مردود) کی نسبت تو یہ لکھا جاچکا ہے کہ جو کوئی بھی اسے دوست رکھے گا تو اسے وہ گمراہ ہی کرکے رہے گا اور اس کو (خدا اپنی مشیت تکوینی سے) عذاب دوزخ کی راہ دکھادے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس (شیطان) کے بارے میں تو لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی اس کی دوستی اختیار کرے گا وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور اس کو پہنچا کر رہے گا دوزخ کے عذاب تک

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا وہ اسے گمراہ کر دے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

although it is decreed about him that he shall lead into error whosoever takes him for a friend, and will direct him to the torment of the Fire.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

about whom it is destined that if someone takes him for friend, he will misguide him and lead him to the torment of the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani

about whom it is destined that if someone takes him for friend, he will misguide him and lead him to the torment of the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For him (the devil) it is decreed that whosoever follows him, he will mislead him, and will drive him to the torment of the Fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For him it is decreed that whoso taketh him for friend, he verily will mislead him and will guide him to the punishment of the Flame.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It has been decreed for every devil that whoever turns to him - he will misguide him and will lead him to the punishment of the Blaze.

— Saheeh International

It has been decided that satan will mislead and submit anyone who establishes friendship with him to the torment of the burning fire.

— Muhammad Sarwar

Against him it is written down that whoever takes him for a friend, he shall lead him astray and conduct him to the chastisement of the burning fire.

— Muhammad Habib Shakir

Against whom it is prescribed, that: whosoever befriendeth him, him he shall lead astray and shall guide him on to the torment of the Flame.

— Abdul Majid Daryabadi

About the (Evil One) it is decreed that whoever turns to him for friendship, him will he lead astray, and he will guide him to the Penalty of the Fire.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 3–4

ازلی مردہ لوگ جو لوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الٰہی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں۔ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–4

سورة الْحَجّ 4 آگے کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے بارے میں ان کے جس جھگڑے پر گفتگو کی جا رہی ہے وہ اللہ کی ہستی اور اس کے وجود کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے حقوق اور اختیارات اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیمات کے بارے میں تھا۔ نبی ﷺ ان سے توحید اور آخرت منوانا چاہتے تھے، اور اسی پر وہ آپ سے جھگڑتے تھے۔ ان دونوں عقیدوں پر جھگڑا آخرکار جس چیز پر جا کر ٹھہرتا وہ یہی تھی کہ خدا کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرسکتا، اور یہ کہ کائنات میں آیا خدائی صرف ایک خدا ہی کی ہے یا کچھ دوسری ہستیوں کی بھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–4

خلاصہ تفسیر اور بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی ذات یا صفات یا افعال کے متعلق) بےجانے بوجھے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے پیچھے ہو لیتے ہیں (یعنی گمراہی کی ایسی قابلیت ہے کہ جو شیطان جس طرح بہکاوے اس کے بہکانے میں آجاتا ہے پس اس شخص میں انتہائی درجہ کی ضلالت ہوئی کہ اس پر ہر شیطان کی دسترس ہوجاتی ہے) جس کی نسبت (خدا کے یہاں سے) یہ بات لکھی جا چکی ہے (اور طے ہوچکی ہے) کہ جو شخص اس سے تعلق رکھے گا (یعنی اس کا اتباع کرے گا) تو اس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اس کو (راہ حق سے) بےراہ کر دے گا اور اس کو عذاب دوزخ کا راستہ دکھلا دے گا (آگے ان مجادلین کو خطاب ہے کہ) اے لوگو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شیطان کی ڈیوٹی قرآن میں جگہ جگہ یہ بات تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ شیطان نے قیامت تک کے لئے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مہلت لی ہے اور اللہ نے اس کو یہ مہلت دی ہے کہ جاء جو تجھے اپنا دوست، مددگار اور رہنما بنائیں ان کو گمراہ کرے، میں ان کو اور تجھ کو سب کو جہنم میں جھونک دوں گا۔ اسی حقیقت کو یہاں کتب علیہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ شیطان کی خدا کی طرف سے ایک مقررہ ڈیوٹی ہے کہ جو اس کو درست بنائیں ان کو دو مگر اہ اور جہنم کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ فانہ کا عطف انہ پر ہے اور من تولاہ بطور بیان شرط کے ہے یعنی شیطان کا یہ فریضہ کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے اور ان کو جہنم کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن یا مشکل سمجھتے ہیں، ان سے کہا جارہا ہے کہ خود اپنی تخلیق پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے کس حیرت انگیز طریقے پر کتنے مرحلوں سے گزار کر تمہیں پیدا فرمایا تھا۔ تمہارا کوئی وجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں وجود بخشا، تم میں جان نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے تم میں جان ڈالی۔ جس ذات نے اس حیرت انگیز طریقے سے تمہیں ا سوقت پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے تو کیا وہ تمہیں مردہ لاش بننے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ؟ 2: یعنی بعض اوقات تو اس گوشت کے لوتھڑے سے ماں کے پیٹ میں بچے کے اعضاء پورے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات پورے نہیں بنتے۔ پھر بعض اوقات اسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–4

ومن الناس ……السعیر (4) اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی شیطان مرید کے متعلق یہ طے شدہ امر ہے کہ جو اس کی رفاقت اور پیروی کرے وہ اپنے ساتھ اسے بھی لے ڈوبتا ہے اور گمراہ کر کے دوزخ سے ورے نہیں چھوڑتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

آیت 3 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ ” آج کے نام نہاد مذہبی سکالرز اور دانشور بھی اس آیت کا مصداق ہیں ‘ جو عملی طور پر غیر مسلم مغربی تہذیب کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ ذہنی طور پر مغربی افکار و نظریات سے مرعوب ہیں اور ان نظریات کا ہر طریقے سے پرچار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حدیث کی ضرورت و اہمیت کے سرے سے منکر ہیں۔ ان کی روشن خیالی انہیں باور کراتی ہے کہ قرآنی احکام صرف ایک زمانے تک قابل قبول تھے اور انسان کے لیے ہمیشہ ان کا پابند رہنا ممکن نہیں۔ لہٰذا نئے زمانے کی ضروریات کے مطابق قرآنی آیات…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4 مشرکین مکہ سے اولین جھگڑا تو ان کے بتوں کے خدائی اختیارات سے تعلق رکھتا تھا اور دوسرا جھگڑا یہ تھا کہ دین ابراہیمی کے پیرکار ہونے کا دعوی رکھنے کے باوجود لیث بعدالموت کا یقین نہیں رکھتے تھے لہذا اب ایسے دلائل دیئے جارہے ہیں جو لیث بعدالموت پر پوری رہنمائی کرتے ہیں۔ سب سے پہلی دلیل تو انسان کا اپنا وجود ہے۔ آدم کے پتلے کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے بنایا۔ مٹی بےجان چیز ہے۔ جب اس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی تو وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ پھر آگے توالد و تناسل سے آدم کی اولاد پھیلی۔ اب جو چیزیں یا غذائیں انسان کھاتا ہے۔ وہ سب زمین سے حاصل ہوتی ہیں۔ انھیں غذاؤں سے کہیں انسان کا گوشت بنتا ہے، کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ شیطان اسے گمراہ کرکے عذاب دوزخ تک پہنچا دے گا۔ (آیت) ” کتب علیہ “۔ یعنی اس کی بابت یہ مقدر ہوچکا ہے۔ طے ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویہدیہ الی عذاب السعیر۔ اللہ نے شیطان کے متعلق یہ لکھ دیا ہے یعنی فیصلہ کردیا ہے کہ جو شخص اسکے پیچھے چلے گا شیطان ضرور اس کو راہ سے بھٹکا دے گا اور عذاب دوزخ کی راہ اس کو دکھا دے گا (یا عذاب دوزخ تک اس کو پہنچا دے گا) یعنی شیطان کی سرشت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے چلنے والے کو سیدھے راستے سے بہکا دیتا ہے اور ایسی راہ چلنے پر آمادہ کرتا ہے جو عذاب دوزخ تک لے جاتی ہے۔ زجاج نے کہا اَنَّہٗکی ضمیر شیطان کی طرف راجع ہے اور تولی کا معنی دوستی کی ‘ محبت کی یا تسلط اور غلبہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے متعلق اللہ کا فیصلہ ہے اور شیطان کی یہ فطرت ہے کہ جس شخص سے وہ محبت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(4) جس شیطان کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ جو اس کا اتباع کرے گا تو اس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اس کو راہ حق سے بےراہ کر دے گا اور اس کو راہ حق سے بےراہ کر دے گا اور اس کا عذاب دوزخ کا راستہ بتلا دے گا یعنی ایسی باتیں اس سے کروائے گا، جس سے دوزخ واجب ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كُتِبَ عَلَيْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ۔۔ : ”تَوَلّٰی یَتَوَلّٰی“ دوست بنانا۔ ”اَنَّهُ“ میں ضمیر ”ہِ“ شیطان کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پہلے ”عَلَیْهِ“ میں ضمیر شان کی ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ واقعہ یہ ہے۔ اس سے مراد بات میں پختگی پیدا کرنا ہوتا ہے، یعنی شیطان کے متعلق لکھا جا چکا ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا شیطان اسے گمراہ کرے گا۔ مطلب یہ کہ قضائے الٰہی میں اس کے متعلق یہ طے کیا جا چکا ہے۔ ”لکھنے“ کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بات لکھے جانے کے بعد پکی ہوجاتی ہے، یا یہ کہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کُتِبَ عَلَیْہِ (اللہ تعالیٰ نے شیطان کے متعلق لکھ دیا ہے) یعنی شیطان کے متعلق فیصلہ ہوچکا۔ اَنَّہٗ (معاملہ و شان یہ ہے۔ ) یہ کُتِبَ کا نائب فاعل ہے۔ مَنْ تَوَلَّاہُ (کہ جس نے اس سے دوستی اختیار کی) شیطان کی پیروی کی فَاَنَّہٗ (پس وہ اس کو) بیشک شیطان یُضِلُّہٗ (ضرور بھٹکا دے گا) سیدھے راستہ سے۔ وَیَھْدِیْہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ (اور اس کی راہنمائی دوزخ کے عذاب کی طرف کرے گا) عذاب سعیر یعنی آگ۔ قول زجاج فَاَنَّہ کی فاء عاطفہ ہے اور اَنَّ کو تاکید کیلئے دوبارہ لایا گیا ہے۔ مگر ابوعلی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا اگر مَنْ ؔ شرط کیلئے ہے تو فاؔء اس کی جزاء کیلئے آئی ہے اور اگر مَنْ کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–4

1۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) وسلم روایت کیا کہ یہ آیت آیت ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم، نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریج وابن المنذر نے ابن جریج ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتبع کل شیطن مرید سے مراد ہے کہ اللہ کی نافرمانی پر سرکشی کرنا۔ 4۔ قتادہ (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت کتب علیہ سے مراد ہے کہ شیطان پر لکھ دیا گیا۔ 5۔ مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت کتب علیہ سے مراد ہے کہ شیطان پر لکھ دیا گیا۔ آیت انہ من تولا یعنی جس نے اس کی اتباع کی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ كُتِبَ : لکھا گیا ] [ عَلَيْهِ : اس (شخص) پر ] [ انهٗ : (کہ) حقیقت یہ ہے کہ ] [ مَنْ : جو ] [ تَوَلَّاهُ : دوست بناتا ہے اس (شیطان) کو ] [ فَانهٗ : تو پھر تو وہ ] [ يُضِلُّهٗ : گمراہ کرے گا اس کو ] [ وَيَهْدِيْهِ : اور وہ راہنمائی کرے گا اس کی ] [ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ : شعلوں والی آگ کے عذاب کی طرف ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–4

اس کے بعد فرمایا (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ ) ۔ (الایتین) مفسر ابن کثیر نے سبب نزول بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمیں بتائیے کہ آپ کا رب سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا۔ اس پر آسمان میں ایک گرج پیدا ہوئی اور اس شخص کی کھوپڑی گر کر سامنے آگئی۔ اور حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے اس طرح کا سوال کیا جس پر بجلی آئی اور اسے ہلاک کردیا۔ اس قسم کے سوال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو بےعلمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور سر کش شیطان کا اتباع کرتے ہیں۔ شیطان جو کچھ انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–10

اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ (ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ ” مَنْ تَوَلَّاهُ “ اي اتخذہ ولیا وتبعہ (روح ج 17 ص 114) ۔ یعنی جو شخص بھی ان شیاطین سے دوستی رکھے گا اور ان کی پیروی کرے گا وہ اسے صراط مستقیم سے گمراہ کر کے جہنم ہی کا راستہ دکھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحج ہے۔ چونکہ اس میں حج اور قربانی کا ذکر ہے۔ اس لئے سورة کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی یا مدنی زندگی میں۔ مکی زندگی میں صبر کرنے ، جماعت کو مضبوط بنانے ، نماز قائم کرنے اور اخلاقی اور اعتقادی تعلیم پر زور دیا گیا تھا ، اور حج کی فرضیت اور جہاد کی مشروعیت مدنی دور میں ہوئی ، اسی لئے بعض مفسرین اس سورة کو مدنی سورة کہتے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سورة کی زیادہ ترآیات مکی زندگی میں نازل ہوئیں اور چھ آیات یا کم وبیش مدنی دور میں نازل ہوئیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کو مکی اور مدنی دور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كُتِبَ عَلَيْہِ اَنَّہٗ مَنْ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ يُضِلُّہٗ وَيَہْدِيْہِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ۝ 4 كتب ( لکھنا) الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، وقوله : قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] . ( ک ت ب ) الکتب ۔ کے اصل معنی کھال کے دو ٹکڑوں کو ملاکر سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : زلزلۃ مصدر ہے جائز ہے کہ فعل لازم سے ہو ای تزلزل الساعۃ اور ممکن ہے کہ متعدی سے ہو ای زلزال الساعۃ الناس دونوں صورت میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہوگا یوم ترونہا منصوب ہے تذھل سے جو حال ہے ضمیر مفعول سے والعائد محذوف سکاری حال ہے اور یہ بالضم اور بالفتح دونوں طرح سے آیا ہے اور سکری مثل مرضی اور واحد سکران یا سکر ہے مثل زمن و ضمنی۔ من یجادل میں من نکرہ موصوفہ ہے۔ تفسیر : اس سورة میں علماء کا اختلاف ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ و مجاہد کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے بجز چند آیات کے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں وما ارسلنا من قبلک من رسول سے لے کر عذاب یوم مقیم تک جمہور کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ ۔ کُتِبَ عَلَیْہِ اَنَّـہٗ مَنْ تَوَلاَّہُ فَاَنَّـہٗ یُضِلُّـہٗ وَیَھْدِیْہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ (الحج : 3، 4) (اور لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ جس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کے دوست بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کرکے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا۔ ) آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں بغیر علم کے حجت بازی نبی کریم ﷺ جب اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاتے اور انکار کرنے والوں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کا قیامت کے انکار اور اس کے احتساب سے نہ ڈرنے کی بڑی وجہ۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات کا انکار کرتا ہے۔ تو ایسے شخص کو جس قدر سمجھایا جائے وہ اپنے کفر و شرک پر ڈٹا رہتا ہے۔ جس کی وجہ جہالت اور ہٹ دھرمی ہوا کرتی ہے۔ ایسے آدمی سے کوئی ایک گناہ سرزد نہیں ہوتا بلکہ اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی اتباع کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ وہ جدھر منہ پھیرتا ہے شیطان اسے اسی طرف ہی لیے پھرتا ہے۔ شیطان کے بارے میں یہ بات لکھی جا چکی ہے کہ جس نے اس کے ساتھ ناطہ جوڑا شطیان اسے گمراہ کر دے گا اور اسے جہنم کی طرف دھکیل دے گا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شیطان کے متعلق فیصلہ : 4: کُتِبَ عَلَیْہِ (اللہ تعالیٰ نے شیطان کے متعلق لکھ دیا ہے) یعنی شیطان کے متعلق فیصلہ ہوچکا۔ اَنَّہٗ (معاملہ و شان یہ ہے۔ ) یہ کُتِبَ کا نائب فاعل ہے۔ مَنْ تَوَلَّاہُ (کہ جس نے اس سے دوستی اختیار کی) شیطان کی پیروی کی فَاَنَّہٗ (پس وہ اس کو) بیشک شیطان یُضِلُّہٗ (ضرور بھٹکا دے گا) سیدھے راستہ سے۔ وَیَھْدِیْہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ (اور اس کی راہنمائی دوزخ کے عذاب کی طرف کرے گا) عذاب سعیر یعنی آگ۔ قول زجاج (رح) فَاَنَّہ کی فاء عاطفہ ہے اور اَنَّ کو تاکید کیلئے دوبارہ لایا گیا ہے۔ مگر ابوعلی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا اگر مَنْ ؔ شرط کیلئے ہے تو فاء اس کی جزاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 4۔ کتب علیہ ، اللہ تعالیٰ نے شیطان کے متعلق یہ لکھ دیا ہے یعنی فیصلہ کردیا ہے جو شخص اس کے پیچھے چلے گا، انہ من تولاہ ، اور جو اس شیطان کی پیروی کرے گا، فانہ وہ اسی میں سے ہوگا، یضلہ ، جو اس کی پیروی کرے گا شیطان ضرور اس کو بھٹکادے گا، ویھدیہ الی عذاب السعیر۔ اپنی حجت تام کرلیتا ہے اور بعثت کامنکر بنادیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–4

3۔ 4:۔ تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریج وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نضربن حارث ایک شخص بڑا جھگڑالو مشرکین مکہ میں تھا جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانی کہا کرتا تھا اور حشر کا بڑا سخت منکر تھا ‘ بدر کی لڑائی والے دن حالت کفر میں وہ مارا گیا اور اس کے ساتھ ایک دو اور تھے ‘ جو بجلی گر کر ہلاک ہوئے ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ عقلی وجوہ سے شریعت کی باتوں کو مسترد نہ کیا جائے : حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ نضربن حارث اور اس کے ساتھیوں کی طرح آدمی کو دین کی بات میں عقل سے جھگڑنا نہیں چاہئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–4

آیت 3 یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسولٓ کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہوجاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔ (کتب علیہ) ” لکھ دیا گیا ہے اس پر۔ “ یعنی اس سرکش شیطان کے لئے مقرر کردیا گیا ہے (انہ من تولاہ)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

مضغۃ، علقہ کو انسان قرار نہیں دیا جاسکتا قول باری ہے (مخلقۃ وغیر مخلقۃ جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی ) قتادہ نے کہا۔” جو تام الخلقت بھی ہوتی ہے اور نا تمام بھی۔ “ مجاہد کا قول ہے ” شکل والی بھی اور بےشکل بھی) حضرت ابن مسعود کا قول ہے … کہ جب رحم میں نطفہ پہنچ جاتا ہے تو اسے ایک فرشتہ اپنی ہتھیلی پر اٹھا کر کہتا ہے ۔ اے رب ! یہ نطفہ تام الخلقت ہوگا یا نا تمام۔ “ اگر نا تمام ہوگا تو رحم اسے خون کی شکل میں خارج کر دے گا اور اگر تام الخلقت ہوگا تو اس کا رزق اور اس کی عمر، نیز مذکر یا مئونث، نیک بخت ہے یا بدبخت ، فرشتہ یہ تمام تفصیلات در جکر دے گا۔ ابو العالیہ کا قول ہے کہ غیر مخلقہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 شیاطین کی ڈیوٹی اضلال و افساد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسا شخص پیروی کرتا ہے اس شیطان سرکش کی " جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو بھی اس سے دوستی رکھے گا وہ اس کو گمراہ کر دے گا اور اس کو دوزخ کی راہ پر ڈال دے گا۔ یعنی قضائے الہٰی میں کہ جو بھی کوئی اس شیطٰنِ سرکش کے پیچھے چلے گا وہ اس کو راہ حق و ہدایت سے بہکا اور بھٹکا کر دوزخ کی راہ پر ڈال دے گا۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ پھر بھی اس کے پیچھے چلے جارہے ہیں۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو ایسے سرکش شیطانوں کی پیروی کرنا اور ان کے پیچھے چلنا ابدی ہلاکت اور دوزخ کی راہ پر چلنا ہے۔ کیونکہ شیطان نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–4

شیطان کے دوست اور ان کا عذاب تشریح : خوب اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ شیطان کی دوستی جہنم کا راستہ دکھاتی ہے۔ کیونکہ اس پر تو اللہ کی لعنت ہوچکی ہے وہ تو ڈوب ہی چکا ہے تو اس کا مشن یہی ہے۔ ” ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے “

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 10 ۔ یہ ان مراحل کا مجمل اور عام فہم ذکر ہے جن سے ایک بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں گزرتا ہے اور پھر جوان ہو کر آخری عمر کو پہنچتا ہے اور یہ کل سات مراحل بیان کئے ہیں۔ پیٹ میں حمل کے مراحل کا ذکر صحیحین کی ایک حدیث میں بھی آیا ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں میں وہ خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں میں گوشت کی بوٹی۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے۔ (کبیر، ابن کثیر) 1 ۔ اور تم سمجھو کہ جو خدا اس طرح انسان کو عدم سے وجود میں لاسکتا ہے اس کے لئے اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:4) کتب علیہ۔ اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ اس کے متعلق یہ طے ہوچکا ہے (کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف رہنمائی کرے گا) ۔ السعیر۔ دھکتی ہوئی آگ، دوزخ۔ سعر مصدر سے بروزن (فعیل) بمعنی مفعول ہے۔ سعیر بمعنی مسعور۔ سعرت النار کے معنی آگ بھڑکانا۔ مجازا لڑائی وغیرہ کے بھڑکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ السعار آگ کی تپش۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–4

گستاخانہ اسلام کا انجام۔ (ف 2) یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو بڑا ہی جھگڑالو تھا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور قرآن کو پہلوں کے قصہ بتاتا تھ اور حشر کا بڑاسخت منکر تھا تو بدر کی لڑائی میں وہ حالت کفر میں مارا گیا اور اس کے ساتھی دو ایک اور شریر تھے جو بجلی گرکرہلاک ہوئے ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کی طرح آدمی کو دین کی بات میں عقل سے جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیونکہ جن باتوں کا شریعت میں حکم دیا گیا ہے ان میں سے اکثر باتوں کی مصلحت کو عقل نہیں پہنچ سکتی ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ جو دین کی باتیں بتلادی ہیں ان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–6

حشرونشر ایک طبعی حقیقت ہے : (ف 1) قرآن حکیم نے حشر ونشر کے عقیدے کو بڑے زور سے بیان کیا ہے کیونکہ یہی ایک عقیدہ ایسا ہے جو دلوں میں ذمہ داری کے احساسات کو بیدار کرسکتا ہے ، اور ہر شخص میں روح عمل پھونک سکتا ہے کیونکہ اس عقیدہ کے معنے یہ ہیں کہ ہر شخص مکافات عمل کے اصول کو تسلیم کرے ، اور مانے کہ اعمال ضائع نہیں ہوتے ، اور حق و باطل کے ثمرات اور نتائج میں واضح اور بین فرق ہے ۔ جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ، اور حشر ونشر کے کوائف کو نہیں مانتا ، وہ ذمہ داری کے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ، اس کے نزدیک نیکی اور بھلائی دو مہمل لفظ ہیں ، جو بالکل شرمندہ معنی نہیں ، وہ ہر عمل کی بنیاد اپنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) جس کے متعلق یہ لکھا جاچکا ہے اور طے ہوچکا ہے کہ جو کوئی شخص اس سے دوستانہ تعلقات رکھے گا اور اس کا اتباع کرے گا تو وہ سرکش شیطان اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو باوجود جاہل ہونے کے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت جھگڑالو تھا ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتا اور قرآن کریم کو اساطیر الاولین اور کہانیاں کہتا اور یہ کہتا کہ جب ہم مرگئے اور گل گئے تو پھر خدا ہم کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا اس کو فرمایا کہ وہ ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے حالانکہ شیطان سرکش کے متعلق یہ امر طے شدہ ہے کہ جو کوئی اس سے دوستی کرتا اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–4

ف 6۔ روایات سے عین قیامت کے روز قیامت سے پہلے بھی زلزلہ کا وقوع ثابت ہے، لیکن جس زلزلہ کا آیت میں ذکر ہے حدیث سے اس کا وقوع قیامت کے روزم معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ بات طے ہے کہ جو اس کو دوست رکھتا ہے اس کو وہ عذاب سعیر تک پہنچا دیتا ہے : 4۔ یہ انہیں شیطان کے ارادت مندوں کا بیان ہے جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے قرآن کریم نے اس کی بڑی وضاحت کی ہے کہ شیطان نے قیامت تک کے لئے انسانوں کو گمراہ کرنے کی مہلت طلب کی تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو دی گئی اور دراصل یہ انسان کے مکلف ہونے کا بیان ہے جس کی تفہیم کے لئے یہ پیرایہ اختیار کیا گیا ہے اور حقیقت اس کی قبل ازیں بیان کی جا چکی ہے کہ انسان متضاد قوتوں کے مجموعہ کا نام ہے اور اس کے اندر دونوں متضاد قوتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کرتی رہتی ہیں اور اکثریت پر شیطانی قوتیں غالب رہتی ہیں اور اس جگہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

Commentary وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ (And among men there is one who debates about Allah with no knowledge - 22:8.) This verse was revealed with particular reference to Nadr Ibn al-Harith, who was a very quarrelsome person. He claimed that the angels were Allah's daughters, and that the Qur'an was a storybook, which contained fables about people of bygone ages. He denied the Day of Judgment and the Resurrection of the dead. Although this verse relates to a particular person, its message applies to all who are in a similar situation, and practice such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

4. They do not indulge in discussions or disputes about the being or existence of Allah but about His rights and powers and His Revelations, as is evident from the succeeding passage. When the Prophet (peace be upon him) tried to convince them of Tauhid and Resurrection, inevitably the dispute arose whether there is One Allah, the sole Sovereign or there were other partners as well in His Godhead and whether He has the power to bring about Resurrection, etc.

Read the full tafseer →