Al-Hajj 22:3

Al-Hajj · from ayah 3

22:3

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ ۟ۙوَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّجَادِلُ فِى اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ وَّيَـتَّبِعُ كُلَّ شَيۡطٰنٍ مَّرِيۡدٍ

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (ودانش) کے بغیر جھگڑتے اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of the people is he who disputes about Allah without knowledge and follows every rebellious devil.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:3

بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (ودانش) کے بغیر جھگڑتے اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وه بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بےجانے بوجھے جھگڑے کرتے ہیں، اور اس سرکش شیطان کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بے جانے بوجھے، اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کچھ لوگ (ایسے) ہیں جو اﷲ کے بارے میں بغیر علم و دانش کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں کچھ جانے بغیر جھگڑتا ہے اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بحث کرتے اور ہر سرکش شیطان کی اتباع کرنے لگتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے خدا کی توحید کے باب میں کٹی حجتی کرتے اور ہر سرکش شیطان خبیث کی پیروی کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ پاک کی ذات وصفات کے بارے میں اور وہ پیچھے ہو لیتے ہیں ہر ایسے سرکش شیطان کے (جو پکارے ان کو اپنے باطل کی طرف اور)

— مولانا اسحاق مدنی

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے باب میں بغیر علم (و دلیل) کے جھگڑا کیا کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے پیچھے ہولیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی علم کے اور وہ پیروی کر رہے ہوتے ہیں ہر سر کش شیطان کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو بغیر کچھ جانے بوجھے اللہ کی شان میں جھگڑتے اور سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Among people there are some who wrangle about Allah without knowledge and follow every rebellious devil,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Among the people there is one who debates about Allah without knowledge, and follows every rebellious Satan,

— Muhammad Taqi Usmani

Among the people there is one who debates about Allah without knowledge, and follows every rebellious Satan,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among mankind is he who disputes about Allah, without knowledge, and follows every rebellious Shaytan.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Among mankind is he who disputeth concerning Allah without knowledge, and followeth each froward devil;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of the people is he who disputes about Allah without knowledge and follows every rebellious devil.

— Saheeh International

Some people argue about God without knowledge and follow every rebellious devil.

— Muhammad Sarwar

And among men there is he who disputes about Allah without knowledge and follows every rebellious Shaitan;

— Muhammad Habib Shakir

And of mankind is he who disputeth respecting Allah without knowledge, and followeth any Satan froward.

— Abdul Majid Daryabadi

And yet among men there are such as dispute about Allah, without knowledge, and follow every evil one obstinate in rebellion!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 3–4

ازلی مردہ لوگ جو لوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الٰہی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں۔ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–4

سورة الْحَجّ 4 آگے کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے بارے میں ان کے جس جھگڑے پر گفتگو کی جا رہی ہے وہ اللہ کی ہستی اور اس کے وجود کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے حقوق اور اختیارات اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیمات کے بارے میں تھا۔ نبی ﷺ ان سے توحید اور آخرت منوانا چاہتے تھے، اور اسی پر وہ آپ سے جھگڑتے تھے۔ ان دونوں عقیدوں پر جھگڑا آخرکار جس چیز پر جا کر ٹھہرتا وہ یہی تھی کہ خدا کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرسکتا، اور یہ کہ کائنات میں آیا خدائی صرف ایک خدا ہی کی ہے یا کچھ دوسری ہستیوں کی بھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–4

خلاصہ تفسیر اور بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی ذات یا صفات یا افعال کے متعلق) بےجانے بوجھے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے پیچھے ہو لیتے ہیں (یعنی گمراہی کی ایسی قابلیت ہے کہ جو شیطان جس طرح بہکاوے اس کے بہکانے میں آجاتا ہے پس اس شخص میں انتہائی درجہ کی ضلالت ہوئی کہ اس پر ہر شیطان کی دسترس ہوجاتی ہے) جس کی نسبت (خدا کے یہاں سے) یہ بات لکھی جا چکی ہے (اور طے ہوچکی ہے) کہ جو شخص اس سے تعلق رکھے گا (یعنی اس کا اتباع کرے گا) تو اس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اس کو (راہ حق سے) بےراہ کر دے گا اور اس کو عذاب دوزخ کا راستہ دکھلا دے گا (آگے ان مجادلین کو خطاب ہے کہ) اے لوگو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک خاص اسلوب بیان ومن الناس من کے اسلوب بیان میں جب کوئی بات کہی جاتی ہے تو اس سے مقصود عام میں سے خاص کا ذکر ہوتا ہے۔ اگر موقع و محل تحسین کا ہو تو یہ اسلوب تحسین کے لئے بھی آتا ہے اور اگر موقع و محل تفبیح کا ہو، جیسا کہ یہاں ہے تو اس سے تقبیح کی شدت نمایاں ہوگی۔ اگر اس اسلوب کو اپنی زبان میں ادا کرنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ لوگوں میں ایسے جاہل، احمق اور بدھو بھی ہیں جو یوں کہتے یا یوں کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اس گروہ کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت، خاص طور پر توحید کی مخالفت میں، ہر وقت مناظرہ و مجادلہ کے لئے آستینیں چڑھائے رہتا تھا۔ اس طرح کے لوگ کسی معاشرہ میں بھی تعداد میں بہت زیادہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 مثلًا یہ کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے، یا اس کی اولاد ہے وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن یا مشکل سمجھتے ہیں، ان سے کہا جارہا ہے کہ خود اپنی تخلیق پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے کس حیرت انگیز طریقے پر کتنے مرحلوں سے گزار کر تمہیں پیدا فرمایا تھا۔ تمہارا کوئی وجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں وجود بخشا، تم میں جان نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے تم میں جان ڈالی۔ جس ذات نے اس حیرت انگیز طریقے سے تمہیں ا سوقت پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے تو کیا وہ تمہیں مردہ لاش بننے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ؟ 2: یعنی بعض اوقات تو اس گوشت کے لوتھڑے سے ماں کے پیٹ میں بچے کے اعضاء پورے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات پورے نہیں بنتے۔ پھر بعض اوقات اسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–4

ومن الناس ……السعیر (4) اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اللہ تعالیٰ جن باتوں کی خبر دیتا ہے ان میں یہ لوگ جھگڑتے اور کج بحثیاں کرتے ہیں اور جہل و بیخبر ی سے عجیب احمقانہ شبہات پھیلاتے ہیں۔ چناچہ قیامت، بعث بعد الموت اور جزاء و سزا وغیرہ پر ان کا بڑا اعتراض یہ ہے کہ جب آدمی مر کر گل سڑ گیا اور ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہوگئیں تو یہ کیسے سمجھ میں آئے کہ وہ پھر زندہ ہو کر اپنی اصلی حالت پر لوٹ آئے گا۔ 3 یعنی جن یا آدمیوں میں کا جو شیطان اس کو اپنی طرف بلائے یہ فوراً اسی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ گویا گمراہ ہونے کی ایسی کامل استعداد رکھتا ہے کہ کوئی شیطان کسی طرف پکارے یہ اس پر لبیک کہنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

آیت 3 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ ” آج کے نام نہاد مذہبی سکالرز اور دانشور بھی اس آیت کا مصداق ہیں ‘ جو عملی طور پر غیر مسلم مغربی تہذیب کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ ذہنی طور پر مغربی افکار و نظریات سے مرعوب ہیں اور ان نظریات کا ہر طریقے سے پرچار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حدیث کی ضرورت و اہمیت کے سرے سے منکر ہیں۔ ان کی روشن خیالی انہیں باور کراتی ہے کہ قرآنی احکام صرف ایک زمانے تک قابل قبول تھے اور انسان کے لیے ہمیشہ ان کا پابند رہنا ممکن نہیں۔ لہٰذا نئے زمانے کی ضروریات کے مطابق قرآنی آیات…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اس صورت کے آغاز میں جو قیامت کے بپا ہونے کے وقت کی دہشت کا ذکر کیا گیا ہے یہ بطور تمہید ہے اور اس سے اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا کر ان باتوں سے پرہیز کی تلقین کی جائے جو اللہ کے غضب کا موجب بنتی ہیں۔ جیسا کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے جملہ اختیارات و تصرفات کو اپنے بتوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اس آیت میں فی اللہ سے مراد اللہ کی ہستی نہیں ہے۔ کیونکہ مشرکین اللہ کی ہستی کے قائل تھے۔ جھگڑا صرف اس بات میں تھا کہ مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہمارے معبودوں کو بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے کچھ نہ کچھ اختیارات حاصل ہیں جب کہ وحی الٰہی ان کے اس عقیدے کی مکمل تردید کردیتی تھی۔ 3 یعنی جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ آیت نضر بن حارث ایک مشہور معاصر کافر کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ یا پھر ابو جہل یا ابی بن خلف کے حق میں۔ لیکن آج تو اس آیت کے مصداق ایک دو نہیں صدہا، ہزار ہا ” پڑھے لکھے “۔ نظرآئیں گے۔ کہیں نثر میں مضامین، ڈرامے اور افسانے لکھے جارہے ہیں کہ خدا مزدوروں مفلسوں کو مصیبت میں دیکھتا ہے اور اسے ذرا رحم نہیں آتا۔ کہیں نظم میں طبع آزمائی ہورہی ہے کہ خدا سرمایہ داروں کے ظلم کو روکتا نہیں۔ اور ان کی اعانت کررہا ہے وقس علی ہذا گویا ان بےمغز بیہودہ نگاروں کے حسب مشورہ اگر کسی دنیا کی تخلیق ہوتی تو اس میں نہ کوئی چھوٹا ہوتا نہ بڑا، نہ کوئی امیر نہ کوئی مطاع، نہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ (کی ذات صفات اور احکام) میں بغیر علم کے جھگڑا کرتے ہیں۔ یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی نضر بڑا جھگڑالو تھا کہتا تھا ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں قرآن گزشتہ لوگوں کی لکھی ہوئی (داستان) ہے یہ شخص حشر جسمانی کا منکر تھا اور کہتا تھا جو چیز خاک ہوگئی اس کو زندہ کرنا ناممکن ہے۔ رواہ ابن ابی حاتم عن ابی مالک۔ ویتبع کل شیطن مرید۔ اور (جھگڑا کرنے میں یا عام احوال زندگی میں) ہر شیطان شریر کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان کا لفظ انسان اور جن دونوں کو شامل ہے۔ مَرید خیر سے خالی شر میں ڈوبا ہوا۔ مَزْدٌ کا معنی ہے خالی ہونا۔ امرد بےداڑھی مونچھ کا لڑکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(3) اور بعض آدمی ایسے ہیں یعنی نضر بن حارث جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر جانے بوجھے اور بغیر کسی حجت و دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر ملعون شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ومن الناس من یجادل“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابومالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ۔۔ : واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے جو آیات کے مطابق یہ ہے کہ لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور قیامت پر اور دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے پر یقین رکھتا ہے۔ 3 اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو قیامت کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ جانے بغیر خواہ مخواہ جھگڑتا ہے اور کہتا ہے کہ جو لوگ ہڈیاں اور مٹی ہوچکے اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کیسے کرے گا ؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے مقابلے میں اپنے قیاس اور عقل کے ڈھکوسلے پیش کرتا ہے اور اپنے اس جھگڑے میں پوری کوشش سے ہر سرکش شیطان یعنی ابلیس اور اس کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ ( اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑتے ہیں) فی اللہؔ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑنا ہے۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) ۔ یہ نضر بن حارث کے متعلق اتری۔ وہ بڑا جھگڑالو تھا۔ وہ کہتا ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور قرآن مجیدپہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بوسیدہ ہڈیاں زندہ کرنے کی قدرت نہیں۔ نمبر 2۔ یہ آیت عام ہے ہر خواہش پرست جو دین کا مخالف ہو وہ مراد ہے۔ وَّ یَتَّبِعُ (اور وہ پیروی کرتا ہے) کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ (ہر سرکش شیطان کی) عادؔ ہر ایسا سرکش جو شر میں دوام و استمرار اختیار کرنے والا ہو۔ مَرِیْد پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–4

1۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) وسلم روایت کیا کہ یہ آیت آیت ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم، نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریج وابن المنذر نے ابن جریج ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتبع کل شیطن مرید سے مراد ہے کہ اللہ کی نافرمانی پر سرکشی کرنا۔ 4۔ قتادہ (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت کتب علیہ سے مراد ہے کہ شیطان پر لکھ دیا گیا۔ 5۔ مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت کتب علیہ سے مراد ہے کہ شیطان پر لکھ دیا گیا۔ آیت انہ من تولا یعنی جس نے اس کی اتباع کی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمِنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی ہے) جو ] [ يُّجَادِلُ : بحث کرتا ہے ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کے بارے) میں ] [ بِغَيْرِ عِلْمٍ : کسی علم کے بغیر ] [ وَّيَتَّبِـعُ : اور وہ پیروی کرتا ہے ] [ كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍ : ہر ایک سرکش شیطان کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–4

اس کے بعد فرمایا (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ ) ۔ (الایتین) مفسر ابن کثیر نے سبب نزول بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمیں بتائیے کہ آپ کا رب سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا۔ اس پر آسمان میں ایک گرج پیدا ہوئی اور اس شخص کی کھوپڑی گر کر سامنے آگئی۔ اور حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے اس طرح کا سوال کیا جس پر بجلی آئی اور اسے ہلاک کردیا۔ اس قسم کے سوال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو بےعلمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور سر کش شیطان کا اتباع کرتے ہیں۔ شیطان جو کچھ انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–10

اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ (ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ الخ “ یہ زجر ہے۔ تخویف کے بعد فرمایا مسئلہ توحید میں جو ایک واضح حقیقت ہے خواہ مخواہ جھگڑا اور نزاع کرتے ہیں اور توحید کے انکار پر عذاب قیامت سے بھی نہیں ڈرتے اور پھر اس انکار کے لیے ان کے پاس نقلی دلیل تو درکنار کوئی عقلی ثبوت بھی نہیں۔ ” بِغِیْرِ عِلْمٍ “ میں علم سے دلیل عقلی مراد ہے۔ 7:۔ ” وَ یَّتَّبِعْ کُلَّ شَیْطٰنٍ الخ “ شیطان سے مراد ابلیس ہے جو مشرکین کے دلوں میں مختلف قسم کے وسوسے اور شبہات پیدا کر کے ان کو توحید اور ایمان بالآخرہ سے منحرف کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یا کفار و مشرکین کے رؤسا اور سردار مراد ہیں جو اپنے ماتحتوں کو کفر و شرک کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحج ہے۔ چونکہ اس میں حج اور قربانی کا ذکر ہے۔ اس لئے سورة کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی یا مدنی زندگی میں۔ مکی زندگی میں صبر کرنے ، جماعت کو مضبوط بنانے ، نماز قائم کرنے اور اخلاقی اور اعتقادی تعلیم پر زور دیا گیا تھا ، اور حج کی فرضیت اور جہاد کی مشروعیت مدنی دور میں ہوئی ، اسی لئے بعض مفسرین اس سورة کو مدنی سورة کہتے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سورة کی زیادہ ترآیات مکی زندگی میں نازل ہوئیں اور چھ آیات یا کم وبیش مدنی دور میں نازل ہوئیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کو مکی اور مدنی دور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍ۝ 3ۙ جدل الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] ( ج د ل ) الجدال ( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : زلزلۃ مصدر ہے جائز ہے کہ فعل لازم سے ہو ای تزلزل الساعۃ اور ممکن ہے کہ متعدی سے ہو ای زلزال الساعۃ الناس دونوں صورت میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہوگا یوم ترونہا منصوب ہے تذھل سے جو حال ہے ضمیر مفعول سے والعائد محذوف سکاری حال ہے اور یہ بالضم اور بالفتح دونوں طرح سے آیا ہے اور سکری مثل مرضی اور واحد سکران یا سکر ہے مثل زمن و ضمنی۔ من یجادل میں من نکرہ موصوفہ ہے۔ تفسیر : اس سورة میں علماء کا اختلاف ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ و مجاہد کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے بجز چند آیات کے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں وما ارسلنا من قبلک من رسول سے لے کر عذاب یوم مقیم تک جمہور کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ ۔ کُتِبَ عَلَیْہِ اَنَّـہٗ مَنْ تَوَلاَّہُ فَاَنَّـہٗ یُضِلُّـہٗ وَیَھْدِیْہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ (الحج : 3، 4) (اور لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ جس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کے دوست بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کرکے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا۔ ) آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں بغیر علم کے حجت بازی نبی کریم ﷺ جب اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاتے اور انکار کرنے والوں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کا قیامت کے انکار اور اس کے احتساب سے نہ ڈرنے کی بڑی وجہ۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات کا انکار کرتا ہے۔ تو ایسے شخص کو جس قدر سمجھایا جائے وہ اپنے کفر و شرک پر ڈٹا رہتا ہے۔ جس کی وجہ جہالت اور ہٹ دھرمی ہوا کرتی ہے۔ ایسے آدمی سے کوئی ایک گناہ سرزد نہیں ہوتا بلکہ اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی اتباع کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ وہ جدھر منہ پھیرتا ہے شیطان اسے اسی طرف ہی لیے پھرتا ہے۔ شیطان کے بارے میں یہ بات لکھی جا چکی ہے کہ جس نے اس کے ساتھ ناطہ جوڑا شطیان اسے گمراہ کر دے گا اور اسے جہنم کی طرف دھکیل دے گا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنو مصطلق : 3: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ ( اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑتے ہیں) فی اللہؔ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑنا ہے۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) ۔ نحو : یہ حال ہے۔ یہ نضر بن حارث کے متعلق اتری۔ وہ بڑا جھگڑالو تھا۔ وہ کہتا ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور قرآن مجیدپہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بوسیدہ ہڈیاں زندہ کرنے کی قدرت نہیں۔ نمبر 2۔ یہ آیت عام ہے ہر خواہش پرست جو دین کا مخالف ہو وہ مراد ہے۔ وَّ یَتَّبِعُ (اور وہ پیروی کرتا ہے) کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ (ہر سرکش شیطان کی) عادؔ ہر ایسا سرکش جو شر میں دوام و استمرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 3۔ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیرعلم، ، اس آیت کا نزول نضر بن حارث کے حق میں ہوا۔ نضر بڑا جھگڑالو شخص تھا وہ کہتا تھا کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں قرآن گزشتہ لوگوں کی لکھی ہوئی (داستان ہے) یہ شخص حشر جسمانی کا منکر تھا اور یہ کہتا تھا جو چیز خاک ہوگئی اس کو زندہ کرنا ناممکن ہے۔ ویتبع ، اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں بغیر دلیل کے وہ لڑتا تھا، کل شیطان مرید جو خیر سے خالی ہو اور شر میں ڈوبا ہوا ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–4

3۔ 4:۔ تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریج وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نضربن حارث ایک شخص بڑا جھگڑالو مشرکین مکہ میں تھا جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانی کہا کرتا تھا اور حشر کا بڑا سخت منکر تھا ‘ بدر کی لڑائی والے دن حالت کفر میں وہ مارا گیا اور اس کے ساتھ ایک دو اور تھے ‘ جو بجلی گر کر ہلاک ہوئے ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ عقلی وجوہ سے شریعت کی باتوں کو مسترد نہ کیا جائے : حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ نضربن حارث اور اس کے ساتھیوں کی طرح آدمی کو دین کی بات میں عقل سے جھگڑنا نہیں چاہئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–4

آیت 3 یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسولٓ کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہوجاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔ (کتب علیہ) ” لکھ دیا گیا ہے اس پر۔ “ یعنی اس سرکش شیطان کے لئے مقرر کردیا گیا ہے (انہ من تولاہ)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

مضغۃ، علقہ کو انسان قرار نہیں دیا جاسکتا قول باری ہے (مخلقۃ وغیر مخلقۃ جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی ) قتادہ نے کہا۔” جو تام الخلقت بھی ہوتی ہے اور نا تمام بھی۔ “ مجاہد کا قول ہے ” شکل والی بھی اور بےشکل بھی) حضرت ابن مسعود کا قول ہے … کہ جب رحم میں نطفہ پہنچ جاتا ہے تو اسے ایک فرشتہ اپنی ہتھیلی پر اٹھا کر کہتا ہے ۔ اے رب ! یہ نطفہ تام الخلقت ہوگا یا نا تمام۔ “ اگر نا تمام ہوگا تو رحم اسے خون کی شکل میں خارج کر دے گا اور اگر تام الخلقت ہوگا تو اس کا رزق اور اس کی عمر، نیز مذکر یا مئونث، نیک بخت ہے یا بدبخت ، فرشتہ یہ تمام تفصیلات در جکر دے گا۔ ابو العالیہ کا قول ہے کہ غیر مخلقہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے والوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں "۔ چناچہ کچھ تو اس کے پاکیزہ بندوں کو اس کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ کچھ فرشتوں کو اس کی بیٹیاں مانتے ہیں۔ کچھ اس کے کلام معجز نظام کا انکار کرتے اور اسے اساطیر اور افسانے قرار دیتے ہیں۔ اور کچھ اس کی قدرت میں شک اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اور کچھ کا کہنا ہے کہ وہ مرجانے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا وغیرہ وغیرہ۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اور ایسے لوگوں کا جدال اور جھگڑا اور بحث مباحثہ کسی علم اور دلیل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض عقلی ڈھکوسلوں، خودساختہ مفروضوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–4

شیطان کے دوست اور ان کا عذاب تشریح : خوب اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ شیطان کی دوستی جہنم کا راستہ دکھاتی ہے۔ کیونکہ اس پر تو اللہ کی لعنت ہوچکی ہے وہ تو ڈوب ہی چکا ہے تو اس کا مشن یہی ہے۔ ” ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے “

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 8 ۔ یعنی مردوں کو زندہ کرنے پر اس کی قدرت سے انکار کرتا ہے۔ روایات میں ان کافروں کے نام بھی مذکور ہیں جن کے باب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (وحیدی) 9 ۔ معلوم ہوا کہ آخرت کا انکار شیطان کی پیروی ہے۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:3) من یجادل فی اللہ۔ ای فی امر اللہ۔ جو اللہ کے بارے میں بغیر علم و دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کلام اللہ (القرآن) کو اساطیر الاولین کہنا۔ موت کے بعد حشر کے دن مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا۔ اس کی وحدانیت وبعثت رسل وغیرہ کے بارہ میں جھگڑا کرنا۔ مرید۔ سرکش۔ باغی۔ ہر خیر سے خالی۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ مرد مادہ۔ المارد والمرید۔ جنوں اور انسانوں سے اس شیطان کو کہا جاتا ہے جو ہر قسم کی خیر سے عاری ہوچکا ہو۔ یہ شجر امرد سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی ہیں وہ درخت جس کے پتے نہ ہوں۔ رملۃ مرداء ریت کا وہ ٹیلہ جس پر کوئی چیز نہ اگتی ہو۔ قرآن مجید میں ہے ومن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–4

گستاخانہ اسلام کا انجام۔ (ف 2) یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو بڑا ہی جھگڑالو تھا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور قرآن کو پہلوں کے قصہ بتاتا تھ اور حشر کا بڑاسخت منکر تھا تو بدر کی لڑائی میں وہ حالت کفر میں مارا گیا اور اس کے ساتھی دو ایک اور شریر تھے جو بجلی گرکرہلاک ہوئے ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کی طرح آدمی کو دین کی بات میں عقل سے جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیونکہ جن باتوں کا شریعت میں حکم دیا گیا ہے ان میں سے اکثر باتوں کی مصلحت کو عقل نہیں پہنچ سکتی ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ جو دین کی باتیں بتلادی ہیں ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں نہیں بلکہ قیامت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارے میں جیسا کہ بعد کی آیات سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یعنی بعض لوگ ایسے بدبخت اور محروم سعادت ہیں ، کہ وہ خدا کی وسعتوں اور قدرتوں سے پوری طرح آگاہ نہ ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں ، اور یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قیامت آئے گی ، اور دنیا کو فنا کرکے دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ حل لغات : علقۃ : عام لوگوں نے اس کا ترجمہ پارہ خون بستہ یعنی جمے ہوئے خون کا ٹکڑا کیا ہے ، مگر حقیقتا اس سے مراد جرثومہ حیات ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اور انسانوں میں سے بعض وہ بھی ہیں جو بےجان بوجھے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ہر ایسے سرکش شیطان کے پیچھے ہولیتے ہیں اور اس کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–4

ف 6۔ روایات سے عین قیامت کے روز قیامت سے پہلے بھی زلزلہ کا وقوع ثابت ہے، لیکن جس زلزلہ کا آیت میں ذکر ہے حدیث سے اس کا وقوع قیامت کے روزم معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگوں میں کتنے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑنا شروع کردیتے ہیں : 3۔ ” لوگوں میں ایسے بھی ہیں “ یہ مخصوص لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ” لوگوں میں سے ایسے “ جو نہایت عقل مند صاحب عقل وفکر ‘ صاحب طاقت وقوت ‘ صاحب عزت وجاہ ‘ ایسے جو تقوی وورع میں منتخب قسم کے ہیں اور اسی طرح ” لوگوں میں سے ایسے بھی “ جو بیوقوف ونادان ‘ بےعقل وناسمجھ ‘ کوتاہ عقل ‘ کو دن وونافہم ‘ جاہل ‘ احمق اور بدھو ہیں گویا عام لوگوں میں سے خاص خواہ وہ تحسین میں خاص ہوں یا تقبیح میں اور اس جگہ یہ دوسری قسم ہی مراد ہے یعنی لوگوں میں سے کچھ ایسے ناسمجھ ‘ نافہم ‘ جاہل اور احمق بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنا شروع کردیتے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

Commentary وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ (And among men there is one who debates about Allah with no knowledge - 22:8.) This verse was revealed with particular reference to Nadr Ibn al-Harith, who was a very quarrelsome person. He claimed that the angels were Allah's daughters, and that the Qur'an was a storybook, which contained fables about people of bygone ages. He denied the Day of Judgment and the Resurrection of the dead. Although this verse relates to a particular person, its message applies to all who are in a similar situation, and practice such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

4. They do not indulge in discussions or disputes about the being or existence of Allah but about His rights and powers and His Revelations, as is evident from the succeeding passage. When the Prophet (peace be upon him) tried to convince them of Tauhid and Resurrection, inevitably the dispute arose whether there is One Allah, the sole Sovereign or there were other partners as well in His Godhead and whether He has the power to bring about Resurrection, etc.

Read the full tafseer →