Al-Hajj 22:2

Al-Hajj · from ayah 2

22:2

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُكٰرٰی وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰی وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ ۟يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَمَا هُمۡ بِسُكٰرٰى وَلٰـكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيۡدٌ‏

(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اُس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے۔ اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے۔ بےشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

On the Day you see it every nursing mother will be distracted from that [child] she was nursing, and every pregnant woman will abort her pregnancy, and you will see the people [appearing] intoxicated while they are not intoxicated; but the punishment of Allah is severe.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:2

جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہو گا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچّے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اُس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے۔ اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے۔ بےشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے، حاﻻنکہ درحقیقت وه متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن وہ تمہیں نظر آجائے گا اس دن ہر دودھ پلانے والی اس بچے (تک) کو بھول بیٹھے گی، جس کو اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا بیٹھے گی، اور لوگ تمہیں یوں نظر آئیں گے کہ وہ نشے میں بدحواس ہیں، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھ اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچی) کو بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلا رہی تھی اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل گرا دے گی اور (اے دیکھنے والے!) تو لوگوں کو نشہ (کی حالت) میں دیکھے گا حالانکہ وہ (فی الحقیقت) نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اﷲ کا عذاب (ہی اتنا) سخت ہوگا (کہ ہر شخص حواس باختہ ہو جائے گا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہرگز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن تم اسے دیکھو گے اس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی بڑی ہولناک چیز !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس روز تم لوگ اس کو دیکھو گے تو حال یہ ہوگا کہ مارے دہشت وخوف کے بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو اور گرا دے گی ہر حمل والی اپنے حمل کو اور لوگ تمہیں نشے کی حالت میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے مگر اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

جس روز تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے (بچہ) کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور لوگ تجھے نشہ میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی سخت (چیز)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن تم اس کو دیکھو گے اس دن (حال یہ ہوگا کہ) بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی جسے وہ دودھ پلاتی تھی اور (دہشت کا عالم یہ ہوگا کہ) ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور تم دیکھو گے لوگوں کو جیسے وہ نشے میں ہوں حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور آپ لوگوں کو نشے میں دیکھیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On the Day when you witness it, the suckling woman shall utterly neglect the infant she suckles, and every pregnant woman shall cast her burden, and you will see people as though they are drunk, when they are not drunk; but dreadful shall be Allah's chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The day you will see it, every suckling female will forget that which she suckles, and every female having pregnancy shall abort her fetus, and you will see people as if they are drunk, while they are not drunk, but Allah‘s torment is (so) severe.

— Muhammad Taqi Usmani

The day you will see it, every suckling female will forget that which she suckles, and every female having pregnancy shall abort her fetus, and you will see people as if they are drunk, while they are not drunk, but Allah‘s torment is (so) severe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Day you shall see it, every nursing mother will forget her nursling, and every pregnant one will drop her load, and you shall see mankind as in a drunken state, yet they will not be drunk, but Allah's torment is severe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when ye behold it, every nursing mother will forget her nursling and every pregnant one will be delivered of her burden, and thou (Muhammad) wilt see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but the Doom of Allah will be strong (upon them).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On the Day you see it every nursing mother will be distracted from that [child] she was nursing, and every pregnant woman will abort her pregnancy, and you will see the people [appearing] intoxicated while they are not intoxicated; but the punishment of Allah is severe.

— Saheeh International

When that hour comes, every breast-feeding mother will drop her baby out of fear and every pregnant female will cast off her burden. You will see the people behaving as though they were drunk, while, in fact, they are not drunk. They only will look such because of the severity of God's torment.

— Muhammad Sarwar

On the day when you shall see it, every woman giving suck shall quit in confusion what she suckled, and every pregnant woman shall lay down her burden, and you shall see men intoxicated, and they shall not be intoxicated but the chastisement of Allah will be severe.

— Muhammad Habib Shakir

The Day whereon ye behold it, every suckling woman shall forget that which she suckleth, and every burthened woman shall lay down her burthen; and thou shalt behold mankind as drunken, whereas drunken they will be not, but the torment of Allah shall be severe.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day ye shall see it, every mother giving suck shall forget her suckling-babe, and every pregnant female shall drop her load (unformed): thou shalt see mankind as in a drunken riot, yet not drunk: but dreadful will be the Wrath of Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–2

دعوت تقویٰ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) ، زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔ اور فرمایا آیت (وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً 14 ۙ) 69۔ الحاقة :14) یعنی زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائیں گے۔ اور فرمان ہے آیت (اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا ۙ) 56۔ الواقعة :4) یعنی جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 2 آیت میں مُرْضِع کے بجائے مُرْضِعَہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربیت کے لحاظ سے دونوں میں فرق یہ ہے کہ مرضع اس عورت کو کہتے ہیں جو دودھ پلانے والی ہو، اور مرضِعَہ اس حالت میں بولتے ہیں جبکہ وہ بالفعل دودھ پلا رہی ہو اور بچہ اس کی چھاتی منہ میں لیے ہوئے ہو۔ پس یہاں نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ جب وہ قیامت کا زلزلہ آئے گا تو مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے پلاتے چھوڑ کر بھاگ نکلیں گی اور کسی ماں کو یہ ہوش نہ رہے گا کہ اس کے لاڈلے پر کیا گزری۔ سورة الْحَجّ 3 واضح رہے کہ یہاں اصل مقصود کلام قیامت کا حال بیان کرنا نہیں ہے بلکہ خدا کے عذاب کا خوف دلا کر ان باتوں سے بچنے کی تلقین کرنا ہے جو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر اے لوگو اپنے رب سے ڈرو (اور ایمان و اطاعت اختیار کرو کیونکہ) یقیناً قیامت کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہوگی (جس کا آنا ضروری ہے اس روز کے شدائد سے بچنے کی اب فکر کرو جس کا طریقہ تقویٰ ہے آگے اس زلزلہ کی شدت کا بیان ہے) جس روز تم لوگ اس (زلزلہ) کو دیکھو گے اس روز (یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والیاں (ہیبت و دہشت کی وجہ سے) اپنے دودھ پیتے (بچہ) کو بھول جاویں گی اور تمام حمل والیاں اپنا حمل (دن پورے ہونے سے پہلے) ڈال دیں گی اور تجھ کو (اے مخاطب) لوگ نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے (کیونکہ وہاں کسی نشہ کی چیز استعمال کرنے کا کوئی امکان و احتمال ہی نہیں) لیکن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کی ہولناکی کی تصویر یہ اس دن کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ وہ دن ایسی نفسی نفسی کا ہوگا کہ کسی کے اعوان و انصارا اور اس کے اخوان و اقرباء اس کے ذرا کام نہ آئیں گے۔ اس دن مرضعہ جس کو اپنا بچہ جان سے زیادہ عیز ہوتا ہے، اپنے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ دہشت کے سبب سے اپنا حمل ڈال دے گی۔ لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ بالکل مدہوش اور متوالے ہو رہے ہوں گے۔ لیکن یہ مدہشوی شراب کے نشہ کی نہیں ہوگی بلکہ عذاب الٰہی کی ہولناکی سب کو پاگل بنا کے کھ دے گی ! آیت میں ایک ہی ساتھ مخاطب کے لئے جمع اور واحد دونوں کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ جمع کے لئے جب واحد کا صیغہ استعمال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 آیت مذکورہ میں جس زلزلے کا ذکر ہے، جس کے نتائج دوسری آیت میں بتلائے گئے ہیں جس کا مطلب لوگوں پر سخت خوف، دہشت اور گھبراہٹ کا طاری ہونا، یہ قیامت سے قبل ہوگا اور اس کے ساتھ دنیا فنا ہو جائیگی۔ یا یہ قیامت کے بعد اس وقت ہوگا جب قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ بہت سے مفسرین پہلی رائے کے قائل ہیں۔ جبکہ بعض مفسرین دوسری رائے کے اور اس کی تائید میں وہ احادیث پیش کرتے ہیں مثلا اللہ تعالیٰ آدم ؑ کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ذریت میں سے ہزار میں 999 جہنم کے لیے نکال دے۔ یہ بات سن کر حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگ مدہوش سے نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہونگے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن یا مشکل سمجھتے ہیں، ان سے کہا جارہا ہے کہ خود اپنی تخلیق پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے کس حیرت انگیز طریقے پر کتنے مرحلوں سے گزار کر تمہیں پیدا فرمایا تھا۔ تمہارا کوئی وجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں وجود بخشا، تم میں جان نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے تم میں جان ڈالی۔ جس ذات نے اس حیرت انگیز طریقے سے تمہیں ا سوقت پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے تو کیا وہ تمہیں مردہ لاش بننے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ؟ 2: یعنی بعض اوقات تو اس گوشت کے لوتھڑے سے ماں کے پیٹ میں بچے کے اعضاء پورے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات پورے نہیں بنتے۔ پھر بعض اوقات اسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

1 قیامت کے عظیم الشان زلزلے (بھونچال) دو ہیں۔ ایک عین قیام قیامت کے وقت یا نفخہ ثانیہ کے بعد دوسرا قیامت سے کچھ پیشتر جو علامات قیامت میں سے ہے۔ اگر یہاں دوسرا مراد ہو تو آیت اپنے ظاہر معنیٰ پر رہے گی اور پہلا مراد ہو تو دونوں احتمال ہیں، حقیقتہً زلزلہ آئے اور دودھ پلانے والی یا حاملہ عورتیں اپنی اسی ہیئت پر محشور ہوں۔ یا زلزلہ سے مراد وہاں کے احوال و شدائد ہوں اور (يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَاب اللّٰهِ شَدِيْدٌ) 22 ۔ الحج :2) کو تمثیل پر حمل کیا جائے یعنی اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ ” ماں کی مامتا کا جذبہ ضرب المثل ہے۔ ایک ماں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنے بچے کی حفاظت کرتی ہے اور اس پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دیتی۔ اپنے بچے سے محبت کا یہ جذبہ حیوانوں میں بھی اسی شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ البتہ قیامت کا دن ایسا سخت ہوگا کہ اس کے خوف و ہراس کے باعث دودھ پلانے والی مائیں ‘ چاہے وہ انسان ہوں یا حیوان ‘ اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی۔ وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَاب اللّٰہِ شَدِیْدٌ ” وہ گھڑی ایسی خوف ناک ہوگی کہ اس کی دہشت سے لوگ بےسدھ پڑے نظر آئیں گے۔ بہر حال حدیث…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 علم ہئیت کے موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ اور زمین سورج کے گرد قصے عرصہ میں ایک چکر ختم کرتی ہے اسے ہم سال کا عرصہ کہتے ہیں۔ اس حساب سے ہماری زمین سورج کے گرد چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ پھر اس فضائے بسیط میں صرف ہماری زمین ہی محو گردش نہیں بلکہ تمام سیارے اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے مدار الگ الگ ہیں اور ان سیاروں میں کشش، جذب و انجذاب رکھ دی گئی ہے۔ جن کی وجہ سے ان میں ٹکراؤ پیدا ہیں ہوتا۔ اور یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے کنٹرول اور اس کی تدبیر کے تحت ہو رہے ہیں۔ ہر سیارہ اور ہر چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ اور اسی گھبراہٹ وبوکھلاہٹ کی شدید حالت لوگوں کی متوالوں کی سی معلوم ہوگی۔ یہ نقشہ سب اس وقت کا کھینچا ہے جب صور پہلی بار پھنکے گا، اور قیامت شروع ہوگی، اور یہ سب چیزیں محض بہ طور مثال اندازہ کے لیے بتائی گئی ہیں۔” مقصود یہ نہیں کہ بس اس زلزلہ کی ہیبت اتنی ہی ہوگی۔ بلکہ مخاطبین کے اذہان میں چونکہ یہ ہیبت بھی عظیم ہے جس پر آثار مذکورہ مرتب ہوں، اس لیے اس کو ذکر کردیا بس زائد کی نفی نہیں ہے “۔ (تھانوی (رح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں جو غیر سکر کو تشبیہا سکر فرمادیا گیا، اس سے صوفیہ کی اس اصطلاح کی اصل نکل آئی کہ بعض حالات باطنی کو بھی اسی مشابہت ومماثلت کی بنا پر سکر کہہ دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم ترونہا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملہا جس روز تم اس کو دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی عورت (زلزلہ کی دہشت کی وجہ سے) اس بچے سے غافل ہوجائے گی جس کو دودھ پلا رہی ہوگی اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل ساقط کر دے گی۔ مرضعۃ وہ عورت جو دودھ پلا رہی ہو۔ مرضع وہ جو دودھ پلاتی ہو خواہ اس وقت نہ پلا رہی ہو۔ دودھ پلانے کی صفت اس کے اندر موجود ہو۔ جیسے حائض اور حامل ہر حیض والی اور حمل والی عورت خواہ اس وقت اس کو حیض نہ آ رہا ہو اور حمل نہ ہو۔ (اور حائضہ و حاملہ وہ عورت جس کو حیض آ رہا ہو اور حمل موجود ہو) یعنی زلزلہ کی دہشت کی وجہ سے ہر وہ عورت جو بچہ کو دودھ پلا رہی ہوگی اپنے بچے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(2) جس روز نفخہ اولی کے وقت تم لوگ اس زلزلہ کو دیکھو گے تو اس روز یہ حال ہوگا کہ تمام دودھ پلانے والیاں ہیبت کے مارے اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیاں اپنے پیٹ کے بچوں کو ایام پورا ہونے سے پہلے ہی ڈال دیں گی ، اور اے مخاطب تجھ کو لوگ نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ کسی نشہ آور چیز کی وجہ سے نشہ میں نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب ہے ہی سخت چیز جس کے خوف کی وجہ سے لوگوں کی حالت نشہ والوں کی سی ہوجائے گی ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ :”النَّاسُ“ کے ساتھ مسلم و کافر اور آیت کے نزول کے وقت موجود یا بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ مخاطب ہیں۔ بعض لوگ ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ سورت کے آغاز کو اس کے مکی ہونے کی دلیل بناتے ہیں مگر یہ قاعدہ کلی نہیں، کیونکہ مدنی سورتوں میں بھی ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب آیا ہے، مثلاً سورة بقرہ میں ہے : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ) [ البقرۃ : 21 ] مفسرین کے مطابق اس سورت میں مدنی آیات بھی ہیں، مثلاً آیت (39) : (اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ) اور مکی بھی،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تذھل کا معنی ہے مشغول ہوجانا، یہ قطرب کا قول ہے : ضرباً یزیل الھام عن مقیلہ ویذھل الخلیل عن خلیلہ بعض نے فرمایا : اس کا معنی بولنا ہے۔ بعض نے کہا : غافل ہوجانا ہے۔ بعض نے کہا : بھول جانا ہے۔ یہ تمام معانی قریب قریب ہے۔ عما ارضعت مبرد نے کہا : اس میں ما مصدر یہ ہے یعنی وہ دودھ پلانے سے بھول جائے گی۔ فرمایا : یہ دلیل ہے کہ یہ زلزلہ دنیا میں ہوگا کیونکہ دوبارہ اٹھنے کے بعد تو نہ حمل ہوگا اور نہ دودھ پلانا ہوگا۔ مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو حاملہ مر جائے گی وہ حاملہ ہی اٹھائی جائے گی پس وہ ہولناکی کی وجہ سے اپنا حمل گرا دے گی اور جو دودھ پلاتے ہوئے مر جائئے گی وہ حاملہ ہی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ سعید بن منصور واحمد وبد بن حمید والترمذی وصححہ والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصحھہ وبن امردویہ من طریق عن الحسن وغیرہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت آیت ” یا ایہا الناس اتقوا ربکم، ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم “ الی قولہ ” ولکن عذاب اللہ شدید “ تک نازل ہوئی۔ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی تو آپ سفر میں تھے۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو وہ دن کون سا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے یہں۔ پھر آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے (اپنی اولاد میں سے) دوزخ کے لیے حصہ بھیجو۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يَوْمَ : جس دن ] [ تَرَوْنَهَا : تم لوگ دیکھو گے اس کو (کہ)] [ تَذْهَلُ : غافل ہوجائے گی ] [ كُلُّ مُرْضِعَةٍ : ہر دودھ پلانے والی ] [ عَمَآ : اس سے جس کو ] [ اَرْضَعَتْ : اس نے دودھ پلایا ] [ وَتَضَعُ : اور ڈال دے گی ] [ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ : ہر حمل والی ] [ حَمْلَهَا : اپنے حمل کو ] [ وَتَرَى: اور تو دیکھے گا ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [ سُكٰرٰي : بہت نشہ میں ] [ وَ : حالانکہ ] [ مَا هُمْ : وہ نہیں ہوں گے ] [ بِسُكٰرٰي : نشہ میں ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن (بلکہ)] [ عَذَابَ اللّٰهِ : اللہ کا عذاب ] [ شَدِيْدٌ: شدید ہے ] ذ ھـ ل [ ذَھْلًا : (ف) بھول جانا۔ غافل ہوجانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

قیامت کا زلزلہ بڑی چیز ہے وہ بڑا ہولناک وقت ہوگا یہاں سے سورة الحج شروع ہو رہی ہے۔ اس کے چوتھے پانچویں رکوع میں حج اور اس سے متعلق چیزوں کا بیان ہے۔ اس لیے سورة الحج کے نام سے موسوم ہے۔ پہلے رکوع میں قیامت کا بیان ہے اور جو لوگ قیامت کے وقوع کو مستبعد یا ناممکن سمجھتے تھے یا اب سمجھنے والے ہیں ان کے جاہلانہ استبعاد کا جواب دیا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو، ڈرنے کے جو تقاضے ہیں وہ پورے کرو۔ ان تقاضوں میں سے اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لانا بھی ہے اور فرائض کی ادائیگی بھی ہے اور ممنوعات سے بچنا بھی ہے۔ اور قیامت کے آنے کا بھی یقین کرو۔ اس کا زلزلہ بڑی بھاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

زلزلہ قیامت کہ ذکر آں غفلت است قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس اتقوا ربکم .... الیٰ .... ولکن عذاب اللہ شدید۔ (ربط) پہلی سورت یعنی سورة الانبیاء کا آغاز بھی قیامت کے حساب و کتاب سے ہوا تھا۔ اس سورت کا آغاز بھی قیامت کے ہولناک زلزلہ سے فرمایا اور سب سے پہلے تقویٰ کا حکم دیا۔ اس لیے کہ تقویٰ بہترین توشہ و آخرت ہے کما قال تعالیٰ وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ نیز تقویٰ تمام انبیاء کرام کی متفقہ وصیت ہے کما قال تعالیٰ ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم ویاکم ان اتقوا اللہ۔ اور چونکہ تقویٰ اور خوف خداوندی پر سب سے زیادہ برانگیختہ کرنے والی چیز قیامت کے ہولناک احوال اور را ہوال ہیں۔ اس لیے سورت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ الخ “ یہ قیامت کے بھونچال کی ہولناکی کا بیان ہے یعی وہ زلزلہ اس قدر خوفناک ہوگا کہ مارے خوف کے دودھ پلانے والی عورت اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائیگی اور حاملہ عورت کا شدت خوف کی وجہ سے حمل ساقط ہوجائے گا اور متوالوں کی طرح گھبراہٹ اور سراسیمگی کے عالم میں دیوانہ وار ادھر ادھر دورنے لگیں گے حالانکہ وہ شراب وگیرہ کے نشہ میں نہیں بلکہ قیامت کی ہولناکی اور شدت خوف کی وجہ سے ان کی عقلوں میں فتور آجائیگا۔ فخوف عذاب اللہ ھو الذی اذھب عقولھم وطیر تمیر ھم وردھم فی نحو حال من یذھب السکر بعقلہ و تمییزہ (مدارک ج 3 ص 72) ۔ 5:۔ ” وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا الخ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحج ہے۔ چونکہ اس میں حج اور قربانی کا ذکر ہے۔ اس لئے سورة کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی یا مدنی زندگی میں۔ مکی زندگی میں صبر کرنے ، جماعت کو مضبوط بنانے ، نماز قائم کرنے اور اخلاقی اور اعتقادی تعلیم پر زور دیا گیا تھا ، اور حج کی فرضیت اور جہاد کی مشروعیت مدنی دور میں ہوئی ، اسی لئے بعض مفسرین اس سورة کو مدنی سورة کہتے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سورة کی زیادہ ترآیات مکی زندگی میں نازل ہوئیں اور چھ آیات یا کم وبیش مدنی دور میں نازل ہوئیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کو مکی اور مدنی دور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ كُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا ہُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللہِ شَدِيْدٌ۝ 2 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : زلزلۃ مصدر ہے جائز ہے کہ فعل لازم سے ہو ای تزلزل الساعۃ اور ممکن ہے کہ متعدی سے ہو ای زلزال الساعۃ الناس دونوں صورت میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہوگا یوم ترونہا منصوب ہے تذھل سے جو حال ہے ضمیر مفعول سے والعائد محذوف سکاری حال ہے اور یہ بالضم اور بالفتح دونوں طرح سے آیا ہے اور سکری مثل مرضی اور واحد سکران یا سکر ہے مثل زمن و ضمنی۔ من یجادل میں من نکرہ موصوفہ ہے۔ تفسیر : اس سورة میں علماء کا اختلاف ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ و مجاہد کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے بجز چند آیات کے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں وما ارسلنا من قبلک من رسول سے لے کر عذاب یوم مقیم تک جمہور کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمْ ج اِنَّ زَلْزَلَـۃَ السَّاعَۃِ شَیْ ئٌ عَظِیْمٌ۔ (الحج : 1) (اے لوگو ! اپنے پروردگار کے غضب سے بچو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔ ) نسخہ اصلاح پروردگار نے انسان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کے لیے جو نسخہ تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں یہ خیال راسخ کردیا جائے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو تمہارا خالق ومالک اور حاکم حقیقی ہے۔ اس نے تمہیں دنیا میں ایک مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اس مقصد کے شعور کو تازہ رکھنے کے لیے ہر دور میں اس نے اپنے نبی اور رسول بھیجے ہیں اور اس مقصد کی وضاحت کے لیے کتابیں اتاری ہیں اور عملی زندگی پر انطباق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط کلام : سورة الانبیاء کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا اس سورة کی ابتداء قیامت کی ہولناکیوں کے ذکر سے کی جا رہی ہے۔ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ اور یقین کرو کہ قیامت کا زلزلہ بڑا عظیم تر زلزلہ ہوگا۔ قیامت کا زلزلہ انسان کے تصورات سے ماوراء ہے لیکن اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کے لیے غور فرمائیں کہ اگر فضا میں اڑنے والے دو طیارے آپس میں آمنے سامنے ٹکرا جائیں یا ریل گاڑیوں کا باہم ٹکراؤ ہوجائے تو یہ حادثہ کس قدر خوفناک اور دھماکہ خیز ہوگا۔ یہ حقیقت قریب قریب آشکارا ہوچکی ہے کہ زمین، سورج، چاند، تارے اور سیارے اپنے اپنے مدار اور فضا میں اپنی اپنی رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں۔ صرف زمین اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: یَوْمَ تَرَوْنَھَا (جس روز تم اس کو دیکھو گے) ھاؔ کی ضمیر زلزلہ کی طرف راجح ہے۔ نمبر 2۔ قیامت کی طرف راجع ہے۔ یَوْمَ ترونھا یہ تذھل کی وجہ سے منصوب ہے۔ تذْھَلُ غافل ہونا۔ الذھول غفلت کو کہتے ہیں : کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ (اور ہر دودھ پلانے والی عورت اس بچے سے غافل ہوجائے گی جس کو دودھ پلا رہی ہوگی) اس کے دودھ پلانے سے نمبر 2۔ اس بچے سے جس کو وہ دودھ پلاتی ہے۔ ایک قول : یہ ہے یہاں مرضعہ اس لئے کہا تاکہ یہ دلالت ہو کہ جب یہ خوف طاری ہوگا اور اس وقت بچے نے پستان منہ میں بھی ڈالا ہوا ہو تب بھی وہ پستان اس کے منہ سے کھینچ لے گی۔ اس دہشت کی وجہ سے جو اس پر طاری ہوئی کیونکہ مرضعہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2۔ یوم ترونھا، اس سے مراد قیامت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد زلزلہ ہے۔ تذھل، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ، تشتغل، اپنے بچے میں مشغول ہوجائے گی، بعض نے کہا کہ وہ اس دن اپنے دودھ پینے والے بچے کو بھول جائے گی جیسا کہ کہاجاتا ہے ، ذھلت عن کذا، جب وہ کسی چیز کو چھوڑ دیتے ہیں اسو قت یہ بولتے ہیں اور وہ دوسرے کام میں مشغول ہوجائے۔ کل مرضعۃ عماارضعت ، ہر وہ عورت جس کے ساتھ دودھ پیتابچہ ہوگا جو کو وہ دودھ پلاتی ہو، جیسے کہاجاتا ہے ، امراۃ مرضع، بغیر ھا کے۔ جب کہ اس کی صفت مراد لی جائے۔ اگرچہ فی الوقت وہ دودھ نہ پلارہی ہو۔ پھر بھی اس کو دودھ پلانے والی عورت کہاجاتا ہے۔ جیسے حائضہ اور حاملہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–2

1۔ 2:۔ علمائے مفسرین نے اس بات میں بڑا اختلاف 1 ؎ کیا ہے کہ پہلے صور کے وقت جو زمین ہلے گی اور آخر کو پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ آسمان سب ریزہ ریزہ ہوجاویں گے ‘ اس آیت میں سورة الحاقہ کی آیتوں کے موافق زمین کے اس بھونچال کا ذکر ہے یا حشر کے دن جب اللہ تعالیٰ ہر ہزار اولاد آدم کی صف میں سے نو سو ننانوے آدمیوں کو دوزخ میں بھیجنے کا حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کو دے گا اور اس حکم کی دہشت سے تمام مخلوقات کے دل جو بےقابو ہوجاویں 2 ؎ گے ‘ اس کا نام زلزلہ ہے ‘ اور وہی زلزلہ اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس اختلاف کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ جب آیت کے لفظ عام ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں جس نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے ان کی پرورش کی، اس لئے ان کے لائق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، شرک، فسق اور نافرمانی کو ترک کردیں اور جہاں تک استطاعت ہو، اس کے احکام پر عمل کریں، پھر ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اختیار کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو تقویٰ کو ترک کردیتے ہیں اور وہ ہے قیامت کی ہولناکیوں کی خبر دینا، چناچہ فرمایا : (ان زلزآ الس آپ شیء عظیم) ” بیشک قیامت کا بھونچال، بہت بڑی چیز ہے۔ “ کوئی اس کا اندازہ کرسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچ سکتا ہے۔ جب قیامت واقع…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

مضغۃ، علقہ کو انسان قرار نہیں دیا جاسکتا قول باری ہے (مخلقۃ وغیر مخلقۃ جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی ) قتادہ نے کہا۔” جو تام الخلقت بھی ہوتی ہے اور نا تمام بھی۔ “ مجاہد کا قول ہے ” شکل والی بھی اور بےشکل بھی) حضرت ابن مسعود کا قول ہے … کہ جب رحم میں نطفہ پہنچ جاتا ہے تو اسے ایک فرشتہ اپنی ہتھیلی پر اٹھا کر کہتا ہے ۔ اے رب ! یہ نطفہ تام الخلقت ہوگا یا نا تمام۔ “ اگر نا تمام ہوگا تو رحم اسے خون کی شکل میں خارج کر دے گا اور اگر تام الخلقت ہوگا تو اس کا رزق اور اس کی عمر، نیز مذکر یا مئونث، نیک بخت ہے یا بدبخت ، فرشتہ یہ تمام تفصیلات در جکر دے گا۔ ابو العالیہ کا قول ہے کہ غیر مخلقہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 حادثہ قیامت کی شدت اور ہولناکی کا ایک منظر : کہ اس روز دودھ پلانے والی عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ عورت کا حمل اس کے خوف سے گرجائے گا۔ سو اس سے اس دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس زلزلہ کے بارے میں پہلے قول کی بناء پر تو یہ ارشاد اپنے ظاہر پر ہوگا مگر دوسرے قول کی بناء پر یہ علی سبیل الفرض ہوگا۔ یعنی اس موقعہ پر اگر کوئی حامل اور مرضعہ ہوتی تو یقیناً اس کا یہی حال ہوتا جو کہ یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ بڑا ہی ہولناک وقت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ دودھ پیتا بچہ اپنی ماں کو سب سے زیادہ عزیز اور سب سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ اور ماں کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–2

قیامت کا منظر تشریح : چھوٹے موٹے زلزلے اور قدرتی آفات تو اکثر و بیشتر لوگوں کو دیکھنے کو ملتے ہیں جو اللہ کے بیان کردہ حالات کا نقشہ انسان کو دکھا دیتے ہیں۔ ایک زلزلہ 79 سن عیسوی میں آیا تھا جس کا ریٹچر سکیل 8 تھا موجودہ اٹلی کے دو بڑے شہر Pompeii اور Hereilaman مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ اس اچانک آفت کے وقت انسانوں کا کیا حال ہوگا ؟ بالکل وہی حال ہوگا جو اوپر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح کی چھوٹی موٹی قیامت یں تو انسان دیکھتا رہتا ہے یہاں اس بڑی قیامت کے زلزلے کا ذکر کیا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ سائنس دان اب بڑی تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ زمین و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 8 ۔ یعنی مردوں کو زندہ کرنے پر اس کی قدرت سے انکار کرتا ہے۔ روایات میں ان کافروں کے نام بھی مذکور ہیں جن کے باب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (وحیدی) 9 ۔ معلوم ہوا کہ آخرت کا انکار شیطان کی پیروی ہے۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:2) ترونھا۔ ترون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ رؤیۃ مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ تم اس کو دیکھو گے۔ تم اس کو دیکھتے ہو۔ ھا ضمیر کا مرجع یا زلزلہ ہے یا الساعۃ ہے۔ اشارہ دونوں صورتوں میں اس دن کی ہولناکیوں کی طرف ہے۔ تذھل۔ ذھول مصدر (باب فتح) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ الذھول ایسی مشغولیت جو غم اور بھول پیدا کر دے۔ تذھل وہ بھول جائے گی۔ مرضعۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث ارضاع (افعال) مصدر۔ دودھ پلانے والی۔ مرضع دودھ پیتے بچے والی عورت اس میں تاء تانیث کی نہیں لگاتے کیونکہ یہ صفت اناث ہی کے لئے ہے۔ البتہ جب بچہ منہ میں پستان لیتا ہے اور دودھ پیتا ہے تو اس وقت اس عورت کو مرضعۃ کہتے ہیں۔ عما ارضعت۔ ای…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

قیامت کے زلزلہ کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرو اور اس کی اطاعت میں مشغول ہو، بیشک قیامت کا زلزلہ سخت خوفناک اور بڑی بھاری چیز ہے، جب تم اس کو دیکھو گے یعنی پہلے صور کے وقت جو زمین ہلے گی اور پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاویں گے اور آسمان سے آواز آئے گی کہ اے لوگو ! خدا کا حکم آپہنچا ، پس مخلوق میں ایک بڑا تہلکہ اور کہرام پڑجائے گا اور ایسی دہشت ہوگی کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچہ کو بھول جائیں گی اور ہر ایک حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی بلکہ عذاب الٰہی کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں نہیں بلکہ قیامت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارے میں جیسا کہ بعد کی آیات سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

قرآن کی حیرت انگیز بلاغت : (ف 1) قرآن حکیم میں یہ عجیب بلاغت ہے کہ وہ جس مضمون کو بیان کرتا ہے الفاظ میں اس کی تصویر کھینچ دیتا ہے ، یا یوں سمجھ لیجئے کہ الفاظ ایسے موزون اور مناسب استعمال کرتا ہے کہ الفاظ کی صورت ہیئت بڑھ بڑھ کر مضمون کی غمازی کرنے لگتی ہے ، اور بسا اوقات وہ لوگ بھی جو عربی نہیں جانتے ، الفاظ کی ترکیب وساخت سے مضمون کی نوعیت سمجھ جاتے ہیں ۔ غور فرمائیے ان آیات میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہے ، اور پیرائیہ بیان ایسا ہے یا الفاظ اس نوع کے ہیں کہ ان کو پڑھتے وقت خواہ مخواہ دل مارے خوف کے بےچین ہوجاتا ہے ، اور طبیعت میں بےکلی سی محسوس ہونے لگتی ہے گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) جس روز تم اس زلزلے کو دیکھو گے تو اس دن یہ حالت ہوگی کہ ہر ایک دودھ پلانے والی عورت اپنے دودھ پیتے شیر خوار بچے سے غافل ہوجائے گی اور شیر خوار بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنے حمل کو ڈال دے گی اور اے مخاطب تو لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھے گا حالانکہ حقیقتاً وہ نشے کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہے۔ یعنی اس زلزلے کی ہیبت کا یہ عالم ہوگا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے شیر خوار اور دودھ پینے والے بچوں کو بھول جائیں گی اور پیٹ والیوں کے پیٹ گرجائیں گے اور اے دیھکنے والے تو عام لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ مدہوش ہیں ان کی یہ مدہوشی کسی نشے کی چیز استعمال کرنے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–4

ف 6۔ روایات سے عین قیامت کے روز قیامت سے پہلے بھی زلزلہ کا وقوع ثابت ہے، لیکن جس زلزلہ کا آیت میں ذکر ہے حدیث سے اس کا وقوع قیامت کے روزم معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دن ہوگا کہ ہر مرضع بدحواس ہوجائے گی اور ہر حاملہ حمل گرا دے گی : 2۔ (تذھل) کی اصل ذ ہ ل ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک لفظ قرآن کریم میں اس جگہ بیان ہوا ہے اور (ذھل) ایک چیز کو چھوڑ دینا ہے خواہ اس کو ارادتا چھوڑا جائے یا کسی دوسری مصروفیت سے وہ چھوٹ جائے اور دراصل اس جگہ اس وقت جب وہ زلزلہ شروع ہوگا تو بدحواس ہو کر ہر جاندار کا فطری تقاضوں کو بھول جانے کا تصور پیش کیا گیا ہے کہ وہ زلزلہ اتنا شدید ہوگا کہ انسان تو انسان حیوانوں تک سب کے سب اپنے فطری تقاضوں کو بھی بھول جائیں گے یعنی ایسے مدحوش ہوں گے کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوگا کہ کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے ؟ چونکہ مرضع کا اپنے بچہ کو دودھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Special features Commentators differ on whether this Surah is Makkan or Madani. Ibn ` Abbas ؓ has expressed two views on different occasions. However, a majority of commentators believe that the Surah is a combination of both the Makkan and Madani verses, and Qurtubi prefers this view. He has also mentioned the other peculiarities of this Surah, namely that some of its verses were revealed at night and some during the day; some were revealed during travels and some when the Holy Prophet ﷺ was not traveling; some were revealed in Makkah and others at Madinah; some were revealed in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2. This is to show the intensity and horror of the earthquake. At that time there will be so much confusion and terror that mothers will forsake their dear children at the very time they will be suckling them. 3. It should be noted that it is not meant to depict here the condition of the Resurrection but to impress upon the people the dreadful torment of the Hour in order to admonish them to mend their ways. This is supported by the subsequent passage.

Read the full tafseer →