Al-Hajj 22:1

22. Al-Hajjالحج

The Pilgrimage · Medinan · 78 ayahs · 10 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ— اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ۟يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ‌ۚ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَىۡءٌ عَظِيۡمٌ

لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو۔ کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہٴ عظیم ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

O mankind, fear your Lord. Indeed, the convulsion of the [final] Hour is a terrible thing.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:1

لوگو، اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو۔ کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہٴ عظیم ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی چیز ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے لوگو ! اپنے پروردگار (کے غضب) سے ڈرو۔ یقین جانو کہ قیامت کا بھونچال بڑی زبردست چیز ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے لوگو ! اپنے خدا ند سے ڈرو بیشک قیامت کی ہلچل بڑی ہی ہولناک چیز ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے لوگوں بچو تم اپنے رب کے عذاب اور اس کی خوف وپکڑ سے بیشک قیامت کی اس گھڑی کا زلزلہ ایک بری ہی ہولناک چیز ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو (کیونکہ) قیامت (کے دن) کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے لوگو ! تقویٰ اختیار کروا پنے رب کا یقیناً قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O mankind, fear the (wrath of) your Lord! Indeed, the earthquake of the Hour (of Judgement) will be an awesome thing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O mankind, fear your Lord. Indeed the quake of the (destined) Hour is something terrible.

— Muhammad Taqi Usmani

O mankind, fear your Lord. Indeed the quake of the (destined) Hour is something terrible.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily, the earthquake of the Hour is a terrible thing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O mankind! Fear your Lord. Lo! the earthquake of the Hour (of Doom) is a tremendous thing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O mankind, fear your Lord. Indeed, the convulsion of the [final] Hour is a terrible thing.

— Saheeh International

People, have fear of your Lord; the quake (of the physical realm) at the Hour of Doom will be terribly violent.

— Muhammad Sarwar

O people! guard against (the punishment from) your Lord; surely the violence of the hour is a grievous thing.

— Muhammad Habib Shakir

Mankind! fear your Lord; verily the quake of the Hour shall be a thing mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

O mankind! fear your Lord! for the convulsion of the Hour (of Judgment) will be a thing terrible!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–2

دعوت تقویٰ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ) 99۔ الزلزلة :1) ، زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔ اور فرمایا آیت (وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً 14 ۙ) 69۔ الحاقة :14) یعنی زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائیں گے۔ اور فرمان ہے آیت (اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا ۙ) 56۔ الواقعة :4) یعنی جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 1 یہ زلزلہ قیامت کی ابتدائی کیفیات میں سے ہے اور اغلب یہ ہے کہ اس کا وقت وہ ہوگا جبکہ زمین یکایک الٹی پھر نی شروع ہوجائے گی اور سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ یہ بات قدیم مفسرین میں سے عَلْقَمہ اور شعبی نے بیان کی ہے کہ یکون ذٰلک عند طلوع الشمس من مغربھا۔ اور یہی بات اس طویل حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو ابن جریر اور طبرانی اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے نقل کی ہے۔ اس میں نبی ﷺ نے بتایا ہے کہ نفخ صور کے تین مواقع ہیں۔ ایک نفخ فَزَع، دوسرا نفخ صَعْق اور تیسرا نفخ قیام لرب العالمین۔ یعنی پہلا نفخ عام سراسیمگی پیدا کرے گا، دوسرے نفخ پر سب مر کر گر جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر اے لوگو اپنے رب سے ڈرو (اور ایمان و اطاعت اختیار کرو کیونکہ) یقیناً قیامت کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہوگی (جس کا آنا ضروری ہے اس روز کے شدائد سے بچنے کی اب فکر کرو جس کا طریقہ تقویٰ ہے آگے اس زلزلہ کی شدت کا بیان ہے) جس روز تم لوگ اس (زلزلہ) کو دیکھو گے اس روز (یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والیاں (ہیبت و دہشت کی وجہ سے) اپنے دودھ پیتے (بچہ) کو بھول جاویں گی اور تمام حمل والیاں اپنا حمل (دن پورے ہونے سے پہلے) ڈال دیں گی اور تجھ کو (اے مخاطب) لوگ نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے (کیونکہ وہاں کسی نشہ کی چیز استعمال کرنے کا کوئی امکان و احتمال ہی نہیں) لیکن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یایھا الناس کا خطاب اگرچہ عام ہے لیکن مراد اس سے وہی متمر دین قریش ہیں جو قیامت کی تکذیب کر رہے تھے اور عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ اپنے رب سے ڈرو، اس نے اپنی عنایت سے جو مہلت دے رکھی ہے اس کو غنیمت جانو اور اس سے فائدہ اٹھائو۔ وہ اپنی رحمت ورافت کے سبب سے و یرگیر ضرورے لیکن بڑا ہی سخت گیر بھی ہے۔ قیامت کو سہن چی نہ سمجھو کہ اس ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطالبہ کر رہے ہو۔ اس کی ہلچل بڑی ہی ہولناک ہوگی۔ وہ پناہ مانگنے کی چیز ہے۔ مطالبہ کرین کی چیز نہیں ہے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 آیت مذکورہ میں جس زلزلے کا ذکر ہے، جس کے نتائج دوسری آیت میں بتلائے گئے ہیں جس کا مطلب لوگوں پر سخت خوف، دہشت اور گھبراہٹ کا طاری ہونا، یہ قیامت سے قبل ہوگا اور اس کے ساتھ دنیا فنا ہو جائیگی۔ یا یہ قیامت کے بعد اس وقت ہوگا جب قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ بہت سے مفسرین پہلی رائے کے قائل ہیں۔ جبکہ بعض مفسرین دوسری رائے کے اور اس کی تائید میں وہ احادیث پیش کرتے ہیں مثلا اللہ تعالیٰ آدم ؑ کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ذریت میں سے ہزار میں 999 جہنم کے لیے نکال دے۔ یہ بات سن کر حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگ مدہوش سے نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہونگے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن یا مشکل سمجھتے ہیں، ان سے کہا جارہا ہے کہ خود اپنی تخلیق پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے کس حیرت انگیز طریقے پر کتنے مرحلوں سے گزار کر تمہیں پیدا فرمایا تھا۔ تمہارا کوئی وجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں وجود بخشا، تم میں جان نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے تم میں جان ڈالی۔ جس ذات نے اس حیرت انگیز طریقے سے تمہیں ا سوقت پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے تو کیا وہ تمہیں مردہ لاش بننے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ؟ 2: یعنی بعض اوقات تو اس گوشت کے لوتھڑے سے ماں کے پیٹ میں بچے کے اعضاء پورے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات پورے نہیں بنتے۔ پھر بعض اوقات اسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

1 قیامت کے عظیم الشان زلزلے (بھونچال) دو ہیں۔ ایک عین قیام قیامت کے وقت یا نفخہ ثانیہ کے بعد دوسرا قیامت سے کچھ پیشتر جو علامات قیامت میں سے ہے۔ اگر یہاں دوسرا مراد ہو تو آیت اپنے ظاہر معنیٰ پر رہے گی اور پہلا مراد ہو تو دونوں احتمال ہیں، حقیقتہً زلزلہ آئے اور دودھ پلانے والی یا حاملہ عورتیں اپنی اسی ہیئت پر محشور ہوں۔ یا زلزلہ سے مراد وہاں کے احوال و شدائد ہوں اور (يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَاب اللّٰهِ شَدِيْدٌ) 22 ۔ الحج :2) کو تمثیل پر حمل کیا جائے یعنی اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ” سورۃ الانبیاء کا اختتام ”الفزع الاکبر“ قیامت کی عظیم پریشانی کے تذکرے پر ہوا تھا۔ اب سورة الحج کا آغاز بھی اسی کیفیت کے ذکر سے ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 علم ہئیت کے موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ اور زمین سورج کے گرد قصے عرصہ میں ایک چکر ختم کرتی ہے اسے ہم سال کا عرصہ کہتے ہیں۔ اس حساب سے ہماری زمین سورج کے گرد چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ پھر اس فضائے بسیط میں صرف ہماری زمین ہی محو گردش نہیں بلکہ تمام سیارے اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے مدار الگ الگ ہیں اور ان سیاروں میں کشش، جذب و انجذاب رکھ دی گئی ہے۔ جن کی وجہ سے ان میں ٹکراؤ پیدا ہیں ہوتا۔ اور یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے کنٹرول اور اس کی تدبیر کے تحت ہو رہے ہیں۔ ہر سیارہ اور ہر چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ وہ ایسی چیز نہیں جسے کوئی صحیح الحواس انسان بھولا ہوا رہے یا جسے معمولی بات سمجھتا رہے۔ رومر نے کا مقام ہے کہ جس چیز سے قرآن مجید نے انتہائی تخویف کا کام لیا ہے، اسی واقعہ کے ذکر کو آج غیروں نے نہیں خود ” مسلمانوں “ نے ایک موضوع تفریح وتفنن کا بنا لیا ہے۔ بدنصیب شاعروں کے ہاں تو روز ہجر وشب فراق، روز قیامت سے بڑھی ہوئی مدت دراز سے چلی آرہی تھی، اب نثر نویسوں نے قدم اس سے بھی آگے بڑھایا ہے اور قیامت کے دن پر تفریحی ڈرامے لکھنے شروع کردیئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یا یہ الناس اتقوا ربکم اے لوگو ! اپنے رب (کے عذاب) سے ڈرتے رہو ‘ یعنی اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کرو۔ ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی ہولناک چیز ہے۔ قیامت کا زلزلہ یعنی قیامت میں قیامت کے لئے ساری چیزوں کا ہل جانا ‘ جھنجھوڑا جانا۔ اوپر کی آیت میں عذاب سے ڈرنے کا حکم دیا گیا تھا اس آیت میں اس کی علت بیان کردی مطلب یہ کہ قیامت کے بھونچال کا تصور کرو۔ اس کی ہولناکیوں پر غور کرو اور سمجھ لو کہ اس سے محفوظ رکھنے والا سوائے تقویٰ اور اللہ کی فرمانبردای کے اور کوئی نہیں اس لئے تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کے احکام پر چلو۔ علقمہ اور شعبی کے نزدیک یہ زلزلہ قیامت سے پہلے آئے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1) یہ خطاب خاص وعام دونوں طریقوں پر ہوتا ہے باقی اس مقام پر عام ہے کہ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو کیوں کہ قیامت کا زلزلہ ایک بڑی خوفناک چیز ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ :”النَّاسُ“ کے ساتھ مسلم و کافر اور آیت کے نزول کے وقت موجود یا بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ مخاطب ہیں۔ بعض لوگ ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ سورت کے آغاز کو اس کے مکی ہونے کی دلیل بناتے ہیں مگر یہ قاعدہ کلی نہیں، کیونکہ مدنی سورتوں میں بھی ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب آیا ہے، مثلاً سورة بقرہ میں ہے : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ) [ البقرۃ : 21 ] مفسرین کے مطابق اس سورت میں مدنی آیات بھی ہیں، مثلاً آیت (39) : (اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ) اور مکی بھی،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ (اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو ! ) اس میں اولادِ آدم کو تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر قیامت کا تذکرہ کر کے اس کے لازم ہونے کا سبب بیان کیا۔ اور ہولناک انداز سے اس کا تعارف کرایا پھر فرمایا : اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْ ئٌ عَظِیْمٌ تاکہ وہ اس حالت کا معائنہ کریں اور اپنی عقلوں سے اس کو تصور میں لائیں تاکہ اپنی بقاء و دوام کے پیش نظر ان نفوس پر رحم کھائیں اور تقویٰ کا لباس پہن کر اس دن کی سختی سے بچ جائیں کیونکہ تقویٰ ہی ایسی چیز ہے جو اس دن کی سختی سے ان کو بچا سکتی ہے۔ الزلزلۃ زور سے ہلنا اور جھنجوڑنا۔ زلزلہ کو الساعۃؔ کی طرف مضاف کیا۔ یہ اضافۃ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ سعید بن منصور واحمد وبد بن حمید والترمذی وصححہ والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصحھہ وبن امردویہ من طریق عن الحسن وغیرہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت آیت ” یا ایہا الناس اتقوا ربکم، ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم “ الی قولہ ” ولکن عذاب اللہ شدید “ تک نازل ہوئی۔ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی تو آپ سفر میں تھے۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو وہ دن کون سا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے یہں۔ پھر آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے (اپنی اولاد میں سے) دوزخ کے لیے حصہ بھیجو۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّهَا النَاسُ : اے لوگو ] [ اتَّقُوْا : تم لوگ بچو ] [ رَبَّكُمْ : اپنے رب (کی نافرمانی) سے ] [ ان : یقینا ] [ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ : اس گھڑی کا زلزلہ ] [ شَيْءٌ عَظِيْمٌ: ایک عظیم چیز ہے ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ پہلی آیت میں جس زلزلہ کا ذکر ہے یہ قیامت کی ابتدائی کیفیات میں سے ہے۔ نبی ﷺ نے بتایا ہے کہ لفخ صور کے تین مواقع ہیں۔ پہلے نفخ فَزَع ہوگا جو عام سراسیمگی پیدا کرے گا۔ دوسرا نفخ صَعْق ہوگا جب سب مر کر گرجائیں گے اور تیسرے نفخ پر سب لوگ زندہ ہو کر خدا کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ پہلے نفخ کی تفصیلی کیفیت بیان کرتے ہوئے نبی ﷺ نے بتایا کہ اس وقت زمین کی حالت اس کشتی کی سی ہوگی جو موجوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

قیامت کا زلزلہ بڑی چیز ہے وہ بڑا ہولناک وقت ہوگا یہاں سے سورة الحج شروع ہو رہی ہے۔ اس کے چوتھے پانچویں رکوع میں حج اور اس سے متعلق چیزوں کا بیان ہے۔ اس لیے سورة الحج کے نام سے موسوم ہے۔ پہلے رکوع میں قیامت کا بیان ہے اور جو لوگ قیامت کے وقوع کو مستبعد یا ناممکن سمجھتے تھے یا اب سمجھنے والے ہیں ان کے جاہلانہ استبعاد کا جواب دیا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو، ڈرنے کے جو تقاضے ہیں وہ پورے کرو۔ ان تقاضوں میں سے اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لانا بھی ہے اور فرائض کی ادائیگی بھی ہے اور ممنوعات سے بچنا بھی ہے۔ اور قیامت کے آنے کا بھی یقین کرو۔ اس کا زلزلہ بڑی بھاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

زلزلہ قیامت کہ ذکر آں غفلت است قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس اتقوا ربکم .... الیٰ .... ولکن عذاب اللہ شدید۔ (ربط) پہلی سورت یعنی سورة الانبیاء کا آغاز بھی قیامت کے حساب و کتاب سے ہوا تھا۔ اس سورت کا آغاز بھی قیامت کے ہولناک زلزلہ سے فرمایا اور سب سے پہلے تقویٰ کا حکم دیا۔ اس لیے کہ تقویٰ بہترین توشہ و آخرت ہے کما قال تعالیٰ وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ نیز تقویٰ تمام انبیاء کرام کی متفقہ وصیت ہے کما قال تعالیٰ ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم ویاکم ان اتقوا اللہ۔ اور چونکہ تقویٰ اور خوف خداوندی پر سب سے زیادہ برانگیختہ کرنے والی چیز قیامت کے ہولناک احوال اور را ہوال ہیں۔ اس لیے سورت کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ پہلا حصہ۔ نفی شرک فی التصرف :۔ جیسا کہ خلاصہ میں ذکر کیا جا چکا ہے سورة حج کے پہلے حصے میں شرک اعتقادی یا شرک فی التصرف کی نفی کی گئی ہے اور اس پر دو عقلی دلیلیں مذکور ہیں۔ ” یَا اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ سورت کی ابتداء میں اصل مضمون سے پہلے قیامت کا لرزہ خیز اور ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے۔ تاکہ پڑھنے والوں کے دلوں میں خشیت الٰہی اور خوف خداوندی کی وجہ سے انابت و اطاعت کا جذبہ پیدا ہوجائے اور ان کے دل قبول حق کے لیے مستعد ہوجائیں۔ ” اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ الخ “ یہ مقابل کی علت ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہاں قیامت کے ہولناک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحج ہے۔ چونکہ اس میں حج اور قربانی کا ذکر ہے۔ اس لئے سورة کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی یا مدنی زندگی میں۔ مکی زندگی میں صبر کرنے ، جماعت کو مضبوط بنانے ، نماز قائم کرنے اور اخلاقی اور اعتقادی تعلیم پر زور دیا گیا تھا ، اور حج کی فرضیت اور جہاد کی مشروعیت مدنی دور میں ہوئی ، اسی لئے بعض مفسرین اس سورة کو مدنی سورة کہتے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سورة کی زیادہ ترآیات مکی زندگی میں نازل ہوئیں اور چھ آیات یا کم وبیش مدنی دور میں نازل ہوئیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کو مکی اور مدنی دور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ۝ 0ۚ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ۝ 1 نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : زلزلۃ مصدر ہے جائز ہے کہ فعل لازم سے ہو ای تزلزل الساعۃ اور ممکن ہے کہ متعدی سے ہو ای زلزال الساعۃ الناس دونوں صورت میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہوگا یوم ترونہا منصوب ہے تذھل سے جو حال ہے ضمیر مفعول سے والعائد محذوف سکاری حال ہے اور یہ بالضم اور بالفتح دونوں طرح سے آیا ہے اور سکری مثل مرضی اور واحد سکران یا سکر ہے مثل زمن و ضمنی۔ من یجادل میں من نکرہ موصوفہ ہے۔ تفسیر : اس سورة میں علماء کا اختلاف ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ و مجاہد کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے بجز چند آیات کے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں وما ارسلنا من قبلک من رسول سے لے کر عذاب یوم مقیم تک جمہور کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمْ ج اِنَّ زَلْزَلَـۃَ السَّاعَۃِ شَیْ ئٌ عَظِیْمٌ۔ (الحج : 1) (اے لوگو ! اپنے پروردگار کے غضب سے بچو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔ ) نسخہ اصلاح پروردگار نے انسان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کے لیے جو نسخہ تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں یہ خیال راسخ کردیا جائے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو تمہارا خالق ومالک اور حاکم حقیقی ہے۔ اس نے تمہیں دنیا میں ایک مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اس مقصد کے شعور کو تازہ رکھنے کے لیے ہر دور میں اس نے اپنے نبی اور رسول بھیجے ہیں اور اس مقصد کی وضاحت کے لیے کتابیں اتاری ہیں اور عملی زندگی پر انطباق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط کلام : سورة الانبیاء کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا اس سورة کی ابتداء قیامت کی ہولناکیوں کے ذکر سے کی جا رہی ہے۔ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ اور یقین کرو کہ قیامت کا زلزلہ بڑا عظیم تر زلزلہ ہوگا۔ قیامت کا زلزلہ انسان کے تصورات سے ماوراء ہے لیکن اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کے لیے غور فرمائیں کہ اگر فضا میں اڑنے والے دو طیارے آپس میں آمنے سامنے ٹکرا جائیں یا ریل گاڑیوں کا باہم ٹکراؤ ہوجائے تو یہ حادثہ کس قدر خوفناک اور دھماکہ خیز ہوگا۔ یہ حقیقت قریب قریب آشکارا ہوچکی ہے کہ زمین، سورج، چاند، تارے اور سیارے اپنے اپنے مدار اور فضا میں اپنی اپنی رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں۔ صرف زمین اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت کی ہولناکی : یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ (اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو ! ) اس میں اولاد آدم کو تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر قیامت کا تذکرہ کر کے اس کے لازم ہونے کا سبب بیان کیا۔ اور ہولناک انداز سے اس کا تعارف کرایا پھر فرمایا : اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْ ئٌ عَظِیْمٌ تاکہ وہ اس حالت کا معائنہ کریں اور اپنی عقلوں سے اس کو تصور میں لائیں تاکہ اپنی بقاء و دوام کے پیش نظر ان نفوس پر رحم کھائیں اور تقویٰ کا لباس پہن کر اس دن کی سختی سے بچ جائیں کیونکہ تقویٰ ہی ایسی چیز ہے جو اس دن کی سختی سے ان کو بچا سکتی ہے۔ الزلزلۃ زور سے ہلنا اور جھنجوڑنا۔ زلزلہ کو الساعۃؔ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 1۔ یا ایھا الناس اتقوا ربکم، اس کے عذاب سے ڈرتے رہو، اورا س کی اطاعت و فرمانبرداری میں لگے رہو، ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم، کسی چیز کا شدت سے حرکت کرنا۔ یہ زلزلہ کب آئے گا، اس بارے میں علقمہ اور شعبی کا قول ہے کہ یہ قیامت سے پہلے آئے گا، اور یہ قیامت کی خصوسی نشانی ہوگی۔ حسن اور سدی کا قول ہے کہ یہ زلزلہ قیامت کے دن آئے گا، ابن عباس کا قول ہے کہ قیامت کا زلزلہ اس کے ساتھ ساتھ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–2

1۔ 2:۔ علمائے مفسرین نے اس بات میں بڑا اختلاف 1 ؎ کیا ہے کہ پہلے صور کے وقت جو زمین ہلے گی اور آخر کو پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ آسمان سب ریزہ ریزہ ہوجاویں گے ‘ اس آیت میں سورة الحاقہ کی آیتوں کے موافق زمین کے اس بھونچال کا ذکر ہے یا حشر کے دن جب اللہ تعالیٰ ہر ہزار اولاد آدم کی صف میں سے نو سو ننانوے آدمیوں کو دوزخ میں بھیجنے کا حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کو دے گا اور اس حکم کی دہشت سے تمام مخلوقات کے دل جو بےقابو ہوجاویں 2 ؎ گے ‘ اس کا نام زلزلہ ہے ‘ اور وہی زلزلہ اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس اختلاف کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ جب آیت کے لفظ عام ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں جس نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے ان کی پرورش کی، اس لئے ان کے لائق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، شرک، فسق اور نافرمانی کو ترک کردیں اور جہاں تک استطاعت ہو، اس کے احکام پر عمل کریں، پھر ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اختیار کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو تقویٰ کو ترک کردیتے ہیں اور وہ ہے قیامت کی ہولناکیوں کی خبر دینا، چناچہ فرمایا : (ان زلزآ الس آپ شیء عظیم) ” بیشک قیامت کا بھونچال، بہت بڑی چیز ہے۔ “ کوئی اس کا اندازہ کرسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچ سکتا ہے۔ جب قیامت واقع…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

مضغۃ، علقہ کو انسان قرار نہیں دیا جاسکتا قول باری ہے (مخلقۃ وغیر مخلقۃ جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی ) قتادہ نے کہا۔” جو تام الخلقت بھی ہوتی ہے اور نا تمام بھی۔ “ مجاہد کا قول ہے ” شکل والی بھی اور بےشکل بھی) حضرت ابن مسعود کا قول ہے … کہ جب رحم میں نطفہ پہنچ جاتا ہے تو اسے ایک فرشتہ اپنی ہتھیلی پر اٹھا کر کہتا ہے ۔ اے رب ! یہ نطفہ تام الخلقت ہوگا یا نا تمام۔ “ اگر نا تمام ہوگا تو رحم اسے خون کی شکل میں خارج کر دے گا اور اگر تام الخلقت ہوگا تو اس کا رزق اور اس کی عمر، نیز مذکر یا مئونث، نیک بخت ہے یا بدبخت ، فرشتہ یہ تمام تفصیلات در جکر دے گا۔ ابو العالیہ کا قول ہے کہ غیر مخلقہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 تقویٰ و پرہیزگاری کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اے لوگو ! بچو تم اپنے رب۔ کے عذاب اور اس کی پکڑ۔ سے "۔ صدق دل سے اس پر ایمان لا کر۔ اس کے اوامر کو بجا لا کر اور اس کی نواہی سے اجتناب کر کے کہ کافر اپنے کفر سے باز آجائے اور فاسق و فاجر اپنے فسق و فجور سے۔ غرض کہ ہر اس چیز سے بچو جو تمہارے رب کے غضب اور اس کی ناراضگی کا باعث اور اس کا سبب ہو ۔ وباللّہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیَرضٰی ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے سورة کریمہ کے آغاز میں ہی اور سب سے پہلے تقویٰ کا حکم دیا گیا۔ اور تقویٰ پر آمادہ اور برانگیختہ کرنے والی سب سے بڑی چیز قیامت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–2

قیامت کا منظر تشریح : چھوٹے موٹے زلزلے اور قدرتی آفات تو اکثر و بیشتر لوگوں کو دیکھنے کو ملتے ہیں جو اللہ کے بیان کردہ حالات کا نقشہ انسان کو دکھا دیتے ہیں۔ ایک زلزلہ 79 سن عیسوی میں آیا تھا جس کا ریٹچر سکیل 8 تھا موجودہ اٹلی کے دو بڑے شہر Pompeii اور Hereilaman مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ اس اچانک آفت کے وقت انسانوں کا کیا حال ہوگا ؟ بالکل وہی حال ہوگا جو اوپر آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح کی چھوٹی موٹی قیامت یں تو انسان دیکھتا رہتا ہے یہاں اس بڑی قیامت کے زلزلے کا ذکر کیا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ سائنس دان اب بڑی تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ زمین و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ جمہور مفسرین (رح) کے نزدیک یہ زلزلہ قیامت سے پہلے آئیگا اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگا اور قرب قیامت کی وجہ سے اسے الساعۃ کا زلزلہ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اشراط الساعۃ کہا جاتا ہے اور اگلی آیت کے الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ قیامت کے روز تو نہ کوئی عورت دودھ پلارہی ہوگی اور نہ کسی کو حمل ہوگا اور ” نفخ صور “ والی طویل حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ہے کہ صور میں نفخ تین ہوں گے۔ نفح الفزع (سراسیمگی) نفخ المحق (موت کی چیخ) اور نفخ القیام رب العالمین (قبروں سے اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی) پھر پہلے نفخ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے بتایا کہ اس وقت زمین اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

قیامت کے زلزلہ کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرو اور اس کی اطاعت میں مشغول ہو، بیشک قیامت کا زلزلہ سخت خوفناک اور بڑی بھاری چیز ہے، جب تم اس کو دیکھو گے یعنی پہلے صور کے وقت جو زمین ہلے گی اور پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاویں گے اور آسمان سے آواز آئے گی کہ اے لوگو ! خدا کا حکم آپہنچا ، پس مخلوق میں ایک بڑا تہلکہ اور کہرام پڑجائے گا اور ایسی دہشت ہوگی کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچہ کو بھول جائیں گی اور ہر ایک حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی بلکہ عذاب الٰہی کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں نہیں بلکہ قیامت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارے میں جیسا کہ بعد کی آیات سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

قرآن کی حیرت انگیز بلاغت : (ف 1) قرآن حکیم میں یہ عجیب بلاغت ہے کہ وہ جس مضمون کو بیان کرتا ہے الفاظ میں اس کی تصویر کھینچ دیتا ہے ، یا یوں سمجھ لیجئے کہ الفاظ ایسے موزون اور مناسب استعمال کرتا ہے کہ الفاظ کی صورت ہیئت بڑھ بڑھ کر مضمون کی غمازی کرنے لگتی ہے ، اور بسا اوقات وہ لوگ بھی جو عربی نہیں جانتے ، الفاظ کی ترکیب وساخت سے مضمون کی نوعیت سمجھ جاتے ہیں ۔ غور فرمائیے ان آیات میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہے ، اور پیرائیہ بیان ایسا ہے یا الفاظ اس نوع کے ہیں کہ ان کو پڑھتے وقت خواہ مخواہ دل مارے خوف کے بےچین ہوجاتا ہے ، اور طبیعت میں بےکلی سی محسوس ہونے لگتی ہے گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) اے انسانو ! اپنے پروردگار سے ڈرو بلاشبہ قیامت کے دن کا بھونچال ایک بڑی سخت چیز ہے یا تو یہ زلزلہ اور بھونچال وہ ہے جس کو سورة حاقہ اور سورة واقعہ میں فرمایا یعنی زمین میں قیامت قائم ہوتے وقت ایک عام زلزلہ سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ اڑ جائیں گے اور ظاہر یہی ہے یا قیامت میں کوئی زلزلہ ہوگا۔ جیسا کہ بعض علماء نے کہا ہیح (واللہ اعلم) بہرحال ! وہ بھونچال اور امن چین ایسا ہولناک ہوگا کہ اس وقت کسی کو کسی کی خبر نہ ہوگی اس حالت کا ذکر آگے فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ جب زلزلہ جو کہ اس کے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے ایسا ہوگا تو مجموعہ واقعات کی کیا شدت ہوگی، تو ان شدائد کے بخیر گزرنے کے لئے سامان کرو، اور وہ تقوی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگو ! اللہ سے ڈرو کہ آنے والی گھڑی کا زلزلہ نہایت ہی سخت چیز ہے : 1۔ ” آنے والی گھڑی “ سے کیا مراد ہے ؟ وہی جس کو عربی زبان میں (ساعۃ) یا (قیامۃ) کہا گیا ہے وہ گھڑی جب اس دنیا کا پورا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیا جائے گا ۔ (زلزلۃ) بھونچال یعنی جلا ڈالنے کو کہتے ہیں ۔ امام راغب کہتے ہیں کہ اس میں تکرار حروف تکرار معنی کے لئے کیا گیا ہے اور اس کا مطلب ہے بار بار ہلانا یا بار بار لرزانا اور جھڑجھڑانا ۔ اور ظاہر ہے کہ ہر زلزلہ میں یہ صورت ہوتی ہے خواہ وہ کتنی ہی خفیف ہو اور کتنی ہی کم ۔ یہی وہ زلزلہ ہے جس سے ہرچیز کی ہلاکت ہوجائے گی ۔ جاننا چاہئے کہ فرد ‘ جماعت اور عالم کے احوال میں ایک خاص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Special features Commentators differ on whether this Surah is Makkan or Madani. Ibn ` Abbas ؓ has expressed two views on different occasions. However, a majority of commentators believe that the Surah is a combination of both the Makkan and Madani verses, and Qurtubi prefers this view. He has also mentioned the other peculiarities of this Surah, namely that some of its verses were revealed at night and some during the day; some were revealed during travels and some when the Holy Prophet ﷺ was not traveling; some were revealed in Makkah and others at Madinah; some were revealed in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1. According to the early commentators, this earthquake will be a prelude to Resurrection. This will probably take place when the earth will begin to rotate in the reverse order, and the sun will rise in the west. In a lengthy tradition reported by Ibn Jarir, Tabarani and Ibn Abi Hatim from Abu Hurairah, the Prophet (peace be upon him) has stated that when the first Trumpet will be blown, there will be a general confusion. At the second all people will die and at the third they will be brought back to life and presented before Allah. At the first blowing of the Trumpet, the earth will begin…

Read the full tafseer →