Explained with ayahs 108–112
جلد یا بدیر حق غالب ہوگا
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمادیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کرلو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے۔ جیسے آیت میں ہے کہ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں۔ اور آیت میں ہے (وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58) 8۔ الانفال :58) یعنی اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة الْاَنْبِیَآء 103
یعنی تم اس تاخیر کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو۔ تاخیر تو اس لیے کی جارہی ہے کہ تمہیں سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دی جائے اور جلد بازی کر کے فوراً ہی نہ پکڑ لیا جائے۔ مگر تم اس سے اس غلط فہمی میں پڑگئے ہو کہ نبی کی سب باتیں جھوٹی ہیں ورنہ اگر یہ سچا نبی ہوتا اور خدا ہی کی طرف سے آیا ہوتا تو اس کو جھٹلا دینے کے بعد ہم کبھی کے دھر لیے گئے ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
معارف و مسائل
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ، عالمین عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات انسان، جن، حیوانات، نباتات، جمادات سبھی داخل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت آجائے گی اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم…
Read the full tafseer →دعا اور وداع
یہ پیغمبر ﷺ کی دعا بھی ہے اور مخالفین کو داع بھی۔
اللہ تعالیٰ سے آپ نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب اب اس کشمکش کا تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور مخالفین کو آپ نے اس طرح وداع کیا کہ تم جو کچھ کہتے اور کرتے ہو میں اس کے مقابل میں اپنے رب رحمان ہی سے مدد کا طالب ہوں اس لئے مستعان حقیقی وہی ہے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک
Read the full tafseer →112۔ 1 یعنی اس وعدہ الٰہی میں تاخیر، میں نہیں جانتا کہ تمہاری آزمائش کے لئے ہے یا ایک خاص وقت تک فائدہ اٹھانے کے لئے مہلت دینا ہے۔
112۔ 2 یعنی میری بابت جو تم مختلف باتیں کرتے رہتے ہو، یا اللہ کے لئے اولاد ٹھہراتے ہو، ان سب باتوں کے مقابلے میں وہ رب ہی مہربانی کرنے والا اور وہی مدد کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
47: یعنی آخرت میں ساری زمین پر کسی کافر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ؛ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں ہی کو ملے گی۔
Read the full tafseer →قال رب احکم بالحق و ربنا الرحمٰن المستعان علی ماتصفون (21 : 112)
ترجمہ :۔
” آخر کار رسول نے کہا کہ اے رب حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور لوگو ! تم جو باتیں بناتے ہو ، ان کے مقابلے میں ہمارا رب رحمٰن ہی ہمارے لئے مدد کا سہارا ہے۔ “ آخر میں صفت رحمت کا ذکر خاص قابل توجہ ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا۔ لیکن لوگوں نے آپ کی تکذیب کی ، مذاق کیا ، اس لئے اللہ ہی رسول پر رحم کرسکتا ہے اور رحم و کرم کا ضامن ہے۔ اس طرح سورة کا آغاز اور انجام دونوں ایک ہی مضمون سے مملو ہوجاتے ہیں ، نہایت ہی موثر انداز میں۔
Read the full tafseer →9 یعنی جیسے ہر معاملہ کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا آپ کی شان ہے، اسی کے موافق میرے اور میری قوم کے درمیان جلدی فیصلہ فرما دیجئے۔
10 یعنی اسی سے ہم فیصلہ چاہتے ہیں اور کافروں کی خرافات کے مقابلہ میں اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ اسی طرح کی دعاء انبیاء (علیہم السلام) کیا کرتے تھے ( رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :89) کیونکہ انھیں اپنی حقانیت و صداقت اور حق تعالیٰ کے عدل و انصاف پر پورا وثوق و اعتماد ہوتا تھا۔ تم سورة الانبیاء واللہ الحمد والمنۃ۔
Read the full tafseer →آیت 112 قٰلَ رَبِّ احْکُمْ بالْحَقِّ ط ”
چونکہ کفار کے ساتھ کش مکش اور ردّوکدح کا سلسلہ بہت طوالت اختیار کر گیا تھا ‘ اس لیے خود حضور ﷺ بھی چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب آخری فیصلہ آجانا چاہیے۔
وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ”
اس فرمان کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ گویا حضور ﷺ مشرکین کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ اے گروہ منکرین ! تم لوگوں کی مخالفت ‘ ہٹ دھرمی اور سازشوں کے خلاف میں اپنے پروردگار سے مدد کا طلب گار ہوں جو مجھ پر بہت مہربان ہے۔ چناچہ پچھلے کئی برس سے جو رویہ تم لوگ میرے خلاف ‘ میری دعوت کے خلاف اور میرے پیروکاروں کے خلاف اپنائے بیٹھے ہو وہ اللہ سے…
Read the full tafseer →99 اکثر انبیاء جب اپنی زندگی بھر اللہ کی طرف دعوت دینے کے بعد کافروں کی طرف سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے ایسی ہی یا ان الفاظ سے ملے جلے الفاظ میں دعا کی کہ یا اللہ ! اب تو ہی ان کافروں کے اور ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔ چناچہ اس رسول (یعنی نبی ﷺ نے بھی کافروں کو مخاطب کرکے فرمایا : کہ جس طرح تم اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے رہے ہو اور مسلمانوں کو اپنی تضحیک اور ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے ہو تو اس کے ردعمل کے طور پر ہم اپنے پروردگار کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں جو نہایت مہربان ہے اور ایسے مشکل اوقات میں اسی سے مدد طلب کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →149۔ یہ اس وقت کہا، جب تبلیغ کے سارے مرتبے ختم ہوچکے اور اصلاح خاطرخواہ نہ ہوئی۔
150۔ فیصلہ سے مراد عملی فیصلہ جو اندھوں کو بھی نظر آجائے۔ یعنی کافروں کی شکست وتباہی باوجود ہر ساز و سامان کے۔
151۔ (مثلا یہی کہ ہم عنقریب مسلمانوں کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیں گے، یا اور کلمات کفر والحاد)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →قال رب احکم بالحق (رسول ﷺ نے) کہا اے رب (میرے اور کفار کے درمیان) تو انصاف کا فیصلہ کر دے
ظاہر ہے کہ انصاف کا فیصلہ یہی ہوگا کہ کفار کو عذاب میں مبتلا کیا جائے اور مؤمنوں کو عذاب سے محفوظ رکھا جائے۔
قال رب احکم بالحق اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے ان باتوں کے مقابلے میں مدد کی درخواست کی
جاتی ہے جو تم بنایا کرتے ہو۔
الرحمن مخلوق پر بہت رحم کرنے والا۔ (صیغۂ مبالغہ ہے) ۔
المستعان وہ ذات جس سے یا جس کی مدد طلب کی جائے) ۔
علی ما تصفون یعنی تمہارے چھوٹے غلط بیان کے خلاف کہ فتح کافروں کی ہوگی اور اسلام کا جھنڈا چند ہی روز سر
بلند رہے گا پھر گرا دیا جائے گا اور اگر کافروں پر عذاب نازل ہونے کی…
Read the full tafseer →(112) آپ فرما دیجیے کہ میرے اور مکہ والوں کے درمیان حق اور عدل کے موافق فیصلہ فرما دیجیے اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے ہم ان جھوٹی باتوں کے مقابلہ میں مدد چاہتے ہیں جو تم بنایا کرتے ہو۔
Read the full tafseer →قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ۔۔ : پہلے انبیاء کی امتوں نے جب حق کو جھٹلایا تو انھوں نے حق تعالیٰ سے اس دعا سے ملتی جلتی دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے، چناچہ شعیب ؑ نے دعا کی : (رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ) [ الأعراف : 89 ] ”اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔“ اور ان سب پیغمبروں کے متعلق فرمایا جنھیں ان کی قوم نے کفر اختیار نہ کرنے کی صورت میں اپنی بستی سے نکالنے کی دھمکی دی تھی : (وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ) [ إبراہیم : 15 ] ”اور انھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان تولوا یعنی اگر وہ اسلام سے اعراض کریں۔ فقل اذنتکم علی سوآء یعنی میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میری اور تمہاری جنگ ہے ہماری کوئی صلح نہیں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیہم علی سوآء (الانفال : 58) یعنی انہیں آگاہ کرو کہ تو نے عہد توڑ دیا ہے یعنی تم اور وہ برابر ہو کسی ایک فریق کا فانبذ الیہم علی سوآء (الانفال :58) یعنی انہیں آگاہ کرو کہ تو نے عہد توڑ دیا ہے یعنی تم اور وہ برابر ہو کسی ایک فریق کا دوسرے فریق کے لیے لازم عہد نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے میں نے تمہیں بتایا کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اس کے علم میں برابر ہیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
1:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ کو معراج نصیب ہوئی (یعنی آپ آسمانوں پر تشریف لے گئے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الی حین “ اتاری پھر فرماتے ہیں کہ اس سے مراد فرشتہ ہے۔
حضرت حسن و معاویہ ؓ میں صلح :
2:۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب حسن بن علی ؓ جب معاویہ ؓ کے حق میں دستبردار ہوگئے معاویہ ؓ نے ان سے فرمایا کھڑے ہوجائیے خطبہ ارشاد فرمائیے تو انہوں نے اللہ کی حمد اور ثناء بیان کی پھر فرمایا میں نے یہ حکومت چھوڑ دی ہے معاویہ ؓ کے حق میں مسلمانوں کی اصلاح کا ارادہ کرتے ہوئے اور ان کے خونوں…
Read the full tafseer →[ قٰلَ : (حضور ﷺ نے) کہا ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ احْكُمْ : تو فیصلہ کر دے ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَرَبُّنَا : اور ہمارا رب ] [ الرَّحْمٰنُ : وہ رحمن ہے ] [ الْمُسْتَعَان : جس سے مدد مانگی جاتی ہے ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ تَصِفُوْنَ : تم لوگ باتیں بناتے ہو ]
Read the full tafseer →(قٰلَ رَبِّ احْکُمْ بالْحَقِّ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ) (پیغمبر ﷺ نے کہا اے میرے رب حق کے ساتھ فیصلہ فرما دیجیے اور ہمارا رب رحمن ہے جس سے ان باتوں کے مقابلہ میں مدد چاہی جاتی ہے جو تم لوگ بیان کرتے ہو) یہ سب باتیں بیان کرنے کے بعد پیغمبر ﷺ نے دعا کی کہ اے میرے رب میرے اور میری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دیجیے۔ دشمنان اسلام کے سامنے کوئی ایسی صورت پیش آجائے جس سے اپنے بارے میں یہ سمجھ لیں کہ وہ باطل پر ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی۔ حق اور باطل فیما بین العباد فیصلہ سامنے لانے کے لیے غزوۂ بدر پیش آیا جس میں بڑے بڑے کفر کے سر غنے مارے گئے جو خود یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–112
خاتمہ سورت بر اتمام حجت
بہ تنزیل کتاب ہدایت و بعثت رسول رحمت ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین .... الیٰ .... وربنا الرحمن المستعان علی ما تصفون۔
(ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس میں یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لیے یہ قرآن نازل کیا اور ایسے نبی کو تمہارے لئے مبعوث کیا جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے جس کے اتباع کی برکت سے تم کو دینی اور دنیوی نعمت اور سعادت اور زمین کی وراثت اور بادشاہت میسر آئی۔ اللہ نے تم پر حجت پوری کردی۔ نبی کے ذمہ صرف تبلیغ ہے سو وہ آپ کرچکے اب رہ گیا کہ قیامت اور حساب و کتاب کا وقت کب آئے گا جس کے متعلق یہ اہل غفلت اور معترضین آپ ﷺ سے سوال…
Read the full tafseer →91:۔ ” قَالَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے کیو کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی دعا کی حکایت فرمائی ہے کہ اے پروردگار ہمارے اور ان مشرکین کے درمیان جلد فیصلہ فرما دے۔ ہمیں غلبہ عطا کر اور ان کو مغلوب و مقہور اور ذلیل و خوار کر تو گویا یہ ان کے لیے عذاب دنیا کی بد دعا ہے ای رب اقض بیننا وبین اھل مکۃ بالعدل المقتضی لتعجیل العذاب والتشدید علیہم فھو دعاء بالتعجیل والتشدید والانکل قضائہ تعالیٰ عدل و وحق (روح ج 17 ص 108) ۔
92:۔ ” وَ رَّبُّنَا الرَّحْمٰنُ الخ “ اور ہمارا رب اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے اور ہر آڑے وقت میں ہمارا کارساز اور مددگار ہے اے مشرکین جو کچھ تم کہہ رہے ہو۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
ربط آیات :
یہ مکی سورة ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کے تین اہم بنیادی مسائل بیان فرمائے ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کے حالات ، ان کی پاک سیرت ، ان کا طریقہ تبلیغ اور بارگاہ رب العزت میں ان کی مناجات کا تذکرہ کیا ہے ان پر بہت سی مصیبتیں بھی آئیں جنہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے کمال صبر و تحمل کا نمونہ پیش کیا۔ اس میں حضور ﷺ اور آپ کے رفقا کے لئے تسلی کا مضمون بھی ہے کہ سابقہ انبیاء کی طرح وہ بھی مصائب کو برداشت کرتے ہوئے تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں ، بالآخر اللہ تعالیٰ انہی کو کامیابی عطا فرمائے گا۔ آج کی آیات میں پہلے تسلی کا مضمون ہے اور…
Read the full tafseer →قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ 0ۭ وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ 112ۧ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
ولقد کتبنافی الزبور سعید بن جبیر و مجاہد و کلبی و مقاتل و ابن زید کہتے ہیں زبور سے مراد وہ کتابیں جو دنیا میں انبیاء پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ کہ جہاں سے نقل ہو کر یہ کتابیں آئیں یعنی دونوں جگہ ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے نیک بندے وارث ہوں گے۔ زمین سے مراد جنت کی زمین کہ وہاں بجز ان کے اور کوئی آدم (علیہ السلام) کے ورثہ میں مالک نہ ہوگا۔ سو یہ بات کل آسمانی کتابوں میں ہے۔ اس تقدیر پر یہ آیت بیان سابق کا تتمہ یا تاکید ہوگی۔ قتادہ و شعبی کہتے ہیں زبور سے مراد قرآن و ذکر سے مراد تورات ہے۔ سو ان دونوں میں بھی یہ بات مذکور ہے زبور سے مراد دائود کی کتاب بھی ہوسکتی ہے۔ ارض میں مفسرین کے…
Read the full tafseer →قٰـلَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّطوَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانَ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ۔ (الانبیاء : 112)
(آنحضرت ﷺ نے عرض کی، اے میرے رب ! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور ہمارا رب رحمن ہی ہے جس سے مدد کی درخواست ہے ان باتوں کے مقابلے میں جو تم بیان کرتے ہو۔ )
آنحضرت ﷺ کی دُعا
قَالَ … دَعَا کے معنی میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے پروردگار سے دعا فرمائی کہ میری طرف سے تبلیغ و دعوت میں کوئی کمی نہیں اور مخالفین کی ستم رانیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ اگر ان پر اتمامِ حجت ہوچکا ہے تو میری دعا ہے کہ آپ ان مخالفین اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیجیے۔ دنیا کی نگاہیں حق و باطل کی اس کشمکش کے نتیجے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–112
فہم القرآن
ربط کلام : رسول کریم ﷺ کی ذات کو رحمت عالم قرار دینے کے بعد آپ کی آمد کا بنیادی اور مرکزی مقصدبیان کیا گیا ہے۔
اسی سورة کی آیت ” 25“ میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ انھیں یہی حکم صادر فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں نبی اکرم ﷺ کو براہ راست یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کو بتلاؤں اور سمجھاؤں کہ لوگو ! تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے کیا تم اس کے تابعدار ہونے کے لیے تیار ہو ؟ اگر تم عقیدہ توحید ماننے اور…
Read the full tafseer →طلب ِفیصلہ :
112: قٰلَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّ (کہا رسول نے اے میرے رب تو حق کا فیصلہ فرما دے) ہمارے اور اہل مکہ کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ فرما دے۔ نمبر 2۔ جس کے وہ حقدار ہیں اس عذاب کو اتار کر فیصلہ فرمادے ان سے نرمی نہ فرما، ان پر سختی فرما۔ جیسا کہ آپ نے دعا میں فرمایا : اللھم اشد دو طأتک علی مضر۔ (رواہ البخاری، مسلم) اے اللہ قریش پر اپنے بندھن کو سخت کر دے۔
قراءت : حفص نے قال رب پڑھا۔ قول رسول ﷺ کی حکایت کے طور پر اور یزید نے رب احکم پڑھا ہے۔ اور زید نے یعقوب سے ربِّی اَحْکَمُ پڑھا ہے۔
وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ (اور ہمارا رب رحمان ہے۔ ) وہ اپنی مخلوق پر مہربانی فرمانے والا ہے۔…
Read the full tafseer →112۔ قال رب احکم بالحق، حفص اور عاصم نے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، قل رب احکم، پڑھا ہے یعنی ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کیجئے جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔
سوال : یہ کیسے فرمایا، احکم بالحق ؟۔
جواب : حق یہاں پر عذاب کے معنی میں ہے کیونکہ وہ لوگ عذاب آنے کی جلدی کرتے تھے پھر اللہ نے بدر کے دن ان کو عذاب دیا اس کی مثال اللہ کافرمان، ربناافتح بیننا وبین قومنا بالحق، اہل معانی نے کہا کہ اس کا معنی ہے ، رب احکم بحکمک الحق، حکم کو حذف کرکے حق کو اس کا قائم مقام بنادیا۔
اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان حق کا فیصلہ فرمائے گا خواہ وہ حق کا مطالبہ کریں یا حق کا مطالبہ نہ کریں طلب کا معنی ہے…
Read the full tafseer →112:۔ یہ اللہ کے رسول کی دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے مشرکین مکہ کی سرکشی سے تنگ آن کر اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں کی تھی ‘ حاصل اس بددعا کا یہ ہے کہ یا اللہ جو لوگ تیری عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور جو غریب لوگ راہ راست پر آئے ہیں ان کو طرح طرح سے ستاتے ہیں ‘ ان سرکش لوگوں کی سرکشی کے مٹ جانے میں تجھ سے ہی مدد چاہی جاتی ہے ‘ ان سرکشوں اور اپنے رسول کا اپنے انصاف کے موافق یا اللہ کوئی فیصلہ جلدی سے فرماوے اللہ تعالیٰ کے انتظام میں دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے ہر کام کا وقت مقرر ہوچکا ہے چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
آیت 107
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جاسکتا، چناچہ فرمایا (ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین) ” بیشک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لئے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء وصفات اور افعال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →149 پیغمبر کی دعا اور منکرین کو وداع : سو پیغمبر نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے حق کے ساتھ " اور ہمارا رب ہی اس لائق ہے کہ اس سے مدد مانگی جائے ہر مشکل و مصیبت کے پیس آتے وقت اور اس کے دفعیے کے لیے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اور سب اس کے اور صرف اسی کے محتاج ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو تمہارے کفر و شرک، ظلم و بغاوت اور عناد و ہٹ دھرمی وغیرہ سب باتوں کے جواب میں ہم اسی وحدہ لا شریک سے مدد مانگتے ہیں۔ سو مدد ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لا شریک سے مانگنی چاہیے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
قیامت کا منظر، نبی ﷺ کا پیغام
تشریح : سب سے پہلے کائنات کے اختتام کا ذکر ہے کیونکہ یہ بالکل سچا اور پکا وعدہ ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔ کائنات کے اختتام کا منظر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جا رہے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے۔ لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط و نقوش کے ساتھ لپیٹ دیے جائیں گے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے اور ایک خاص حد تک وسعت پا چکنے کے بعد یہ دوبارہ سکڑنا شروع ہوجائے گی (یعنی) طومار لپیٹ دیے جائیں گے۔ ( از…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 5 ۔ کہ آیا تم اس سے فائدہ اٹھا کر حق کی طرف پلٹتے ہو یا اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(21:112) رب۔ (اے) میرے رب۔ احکم۔ حکم (باب نصر) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ تو فیصلہ کر دے۔ تو حکم کر۔
المستعان۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ استعانۃ (استفعال) مصدر۔ وہ جس سے مدد مانگی جائے۔ استعانۃ مدد مانگنا۔
سورة الفاتحہ میں ہے ایاک نستعین۔ (1:4) بس ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ اعانت۔ مدد۔ مدد دینا۔ تعاون (تفاعل) باہم مدد کرنا۔ علی ما تصفون۔ ان باتوں پر جو تم کرتے ہو۔ (مراد کفار کی دھمکیاں ۔ یا کلمات کفرو الحاد) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 112
ارسلنا ہم نے بھیجا۔ ھل کیا۔ مسلمون فرمانبرداری کرنے والے۔ اذنت میں نے خبر دے دی۔ سواء برابر، پوری پوری۔ ان ادری میں نہیں جانتا۔ الجھر پکارنا، زور سے کہنا۔ متاع سامان راحت، فائدہ۔ حین زمانہ، وقت۔ المستعان مدد طلب کی جاتی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 107 تا 112
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے آپ اہل ایمان کے لئے تو اس لئے رحمت ہیں کہ آپ کے ذریعہ ان کو اللہ کا وہ پیغام ہدایت نصیب ہوا جو قیامت تک آنے والے اہل ایمان کے لئے رحمت ہی رحمت ہے اور کفار اور مشرکین کے لئے بھی رحمت ہے کیونکہ آپ کی وجہ سے وہ قومیں…
Read the full tafseer →(ف 1) اے رسول اللہ کے : تم اپنے پروردگار سے اس طرح عرض کرو کہ یا الٰہی ان کافروں اور مسلمانوں میں سچا فیصلہ کردے اور یہ جھگڑا چکا دے اور کہہ دو کہ ہمارا پروردگار جو بڑا مہربان ہے ان باتوں پر مدد چاہی جاتی ہے جو تم جھوٹ بناتے ہو۔
Read the full tafseer →[65] یہ اس وقت کہا جب تبلیغ کے سارے مراتب ختم ہوگئے اور اصلاح خاطر نہ ہوئی۔
[66] فیصلے سے مراد ہے عملی فیصلہ جو اندھوں کو بھی نظر آجائے یعنی کافروں کی شکست و تباہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
(ف 3) ان آیات پر سورة انبیاء کا اختتام ہے ، اور ان میں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے ، کہ اسلام کی تعلیم بالضرور توحید ہے یعنی باطل اور جھوٹ کے خلاف کھلی جنگ ، حق اور سرکشی کے درمیان ابدی منافرت اور ظلم و استبداد کے مقابلہ میں قوت و غلبہ کا دائمی مطالبہ فرماتے ہیں تم توحید کے مسلک کو قبول کرلو یا انکار کر دو ، ہم بہرحال ایک خدا کی پرستش کریں گے ، اور اسی خدا کی قوتوں سے ڈریں گے ، تمہاری مخالفت اور تمہارے عناد کی قطعا کچھ پروا نہیں کریں گے ۔
ہمارے دلوں میں صرف ایک ذات کی محبت ہے اور صرف اسی ذات کا ڈر ہے ، جو رب السموت والارض ہے ۔
یہ آیات اپنے مفہوم میں مکہ والوں کے لئے کھلے اعلان جنگ کی حیثیت…
Read the full tafseer →(112) پیغمبر (علیہ السلام) نے یوں دعا کی اے میرے پروردگار میرے اور میری قوم کے مابین انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور ہمارا پروردگار بےحد مہربان ہے اور ان باتوں کے مقابلے میں جو تم بناتے رہتے ہو اسی سے مدد چاہی اور طلب کی جاتی ہے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب ان کی قوم نے ان کو تنگ کیا اور لغو باتوں سے ان کو پریشان کیا تو جناب باری عزاسمہ کی بارگاہِ عالی میں دعا کرتے تھے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے یہ دعا فرمائی کہ پروردگار یہ لوگ تو کسی طرح میری دعوت و تبلیغ کو قبول نہیں کرتے۔ بلکہ ہر بات کا مذاق اڑاتے اور استہزا کرتے ہیں اب تو ہی میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمادے۔ اور…
Read the full tafseer →ف 3۔ مطلب یہ کہ عملی فیصلہ کردیجئے یعنی مسلمانوں کے جس غلبہ کی پیشنگوئی ہے اس کو واقع کردیجئے، تاکہ حجت اور زیادہ تام ہوجاوے۔
Read the full tafseer →آیت زیر نظر آپ کی دعا بھی ہے اور مخالفین کے لئے وداع بھی :
112۔ اب نبی اعظم وآخر ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ اس طرح کہیں کہ ” اے میرے رب ! تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے “ تاکہ یہ کشمکش ختم ہو اور آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ﷺ مخالفین کو مخاطب کرکے یہ ارشاد فرما دیں کہ ” اے لوگو ! تم جو باتیں بناتے ہو ان کے مقابلے میں ہمارا رب رحمن ہی ہمارے لئے مدد کا سہارا ہے ۔ “ اور یہ بلاشبہ مخالفین کو وداع کا طریقہ ہے جو آپ ﷺ کو بتایا گیا اور جس کی ذمہ داری اس کی طرف ان کو توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ مستعان حقیقی وہی ہے اور اس سے ان اندھوں یعنی نہ ماننے والوں کے لئے فیصلہ طلب کیا گیا ہے کیونکہ سب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
Commentary
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (And We have not. sent you but as mercy for all the worlds. - 21:107) عَالَمِينَ is plural of عَالَم which means 'world' and includes all creatures including humans, animals, plants, Jinns etc. In order to properly understand the meaning of the verse one should also understand that the true essence of the entire universe is the invocation of Allah Ta` ala and His worship. When this essence departs from this world and no one is left to worship Allah, everything in it will perish. In other words that is the day when Qiyamah would…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
103. This was a trial because the delay in the punishment was deluding them into believing: All the things put forward by the Prophet are false. Had he been a true Prophet of Allah, we would have been punished long before this for our disbelief. They did not realize that the reason for the delay was that Allah willed to give them respite for mending their ways.
Read the full tafseer →