Explained with ayahs 47–48
ذرا صبر، عذاب کا شوق پورا ہوگا
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کررہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کردیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ چناچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج۔ کہتے تھے کہ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کردے۔ اللہ فرماتا ہے یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آکر ہی رہیں گے۔ اولیا اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
سورة الْحَجّ 92
یعنی بار بار چیلنج کر رہے ہیں کہ میاں اگر تم سچے نبی ہو تو کیوں نہیں آجاتا ہم پر وہ عذاب جو خدا کے بھیجے ہوئے نبی برحق کے جھٹلانے پر آنا چاہیے، اور جس کی دھمکیاں بھی تم بارہا ہم کو دے چکے ہو۔
سورة الْحَجّ 93
یعنی انسانی تاریخ میں خدا کے فیصلے تمہاری گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے کہ آج ایک صحیح یا غلط روش اختیار کی اور کل اس کے اچھے یا برے نتائج ظاہر ہوگئے۔ کسی قوم سے اگر یہ کہا جائے کہ فلاں طرز عمل اختیار کرنے کا انجام تمہاری تباہی کی صورت میں نکلے گا تو وہ بڑی ہی احمق ہوگی اگر جواب میں یہ استدلال کرے کہ جناب اس طرز عمل کو اختیار کیے ہمیں دس، بیس یا پچاس برس ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
آخرت کا دن ایک ہزار سال ہونے کا مطلب
آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ ، یعنی آپ کے رب کے پاس ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کی برابر ہوگا۔ اس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن لیا جائے اور اس کا ایک ہزار سال کی برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن کے ہولناک واقعات اور ہیبت ناک حالات کی وجہ سے یہ دن اتنا دراز محسوس ہوگا جیسے ایک ہزار سال خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اشتداد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے بہت سے حضرات مفسرین نے اس کے یہی معنے قرار دیئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ واقع میں عالم آخرت کا ایک دن ہمیشہ کے لئے دنیا کے ایک ہزار سال ہی کے برابر ہو…
Read the full tafseer →یہ عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کو جواب ہے کہ خدا کی ڈھیل سے مغرور نہ ہو۔ گنتی ہی قومیں گزر چکی ہیں جن کو ان کے کفران نعمت اور شرک کے باوجود ہم نے ڈھیل دی لیکن جب انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو بالآخر ان کو دبوچ لیا اور پھر کوئی ان کو ہم سے چھڑانے والا نہ بن سکا۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونے والا ہے۔ اگر تمہاری اس اکڑ میں خم نہ پیدا ہوا۔ والی المصیر اور یہ بھی یاد رکھو کہ بالآخر سب کی واپسی ہماری ہی طرف ہوتی ہے۔ آخرت میں سب کو سابقہ صرف ہم سے پیش آئے گا۔ نہ کسی کے اعوان و اصنار وہاں کسی کے کچھ کام آئیں گے نہ مزعومہ شرکاء و شفعاء
Read the full tafseer →48۔ 1 اسی لئے یہاں قانون مہلت کو پھر بیان کیا ہے کہ میری طرف سے عذاب میں کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہوجائے، تاہم میری گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا، نہ کہیں فرار ہوسکتا ہے۔ اسے لوٹ کر بالآخر میرے ہی پاس آنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
27: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے مخالفین کی طرف سے جن شکوک و شبہات کا اظہار ہورہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ؛ بلکہ پچھلے انبیاء کرام کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر سناتے تو شیطان کافروں کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کردیتا جس کی بنا پر وہ لوگ ایمان نہیں لاتے تھے، لیکن چونکہ یہ شکوک و شبہات اصل میں بےبنیاد ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کا کوئی اثر مخلص مسلمانوں پر باقی نہیں رہنے دیتا ؛ بلکہ انہیں نیست ونابود کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →وکاین من ……المصیر (84)
یہاں تک تو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا بیان تھا جو اس نے تکذیب کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں جاری کر رکھی ہے اور اسی کے مطابق امم سابقہ کو ہلاک کیا گیا۔ اب خطاب کا رخ رسول اللہ کی طرف جاتا ہے کہ آپ لوگوں کو بہرحال قیامت کے انجام بد سے ڈراتے ہی رہیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ میں تو نذیر مبیں ہوں۔
Read the full tafseer →1 یعنی کیا ڈھیل دینے سے وہ کہیں نکل کر بھاگ گئیں، آخر سب کو لوٹ کر ہماری ہی طرف آنا پڑا اور ہم نے ان کو پکڑ کر تباہ کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت 47 وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ط ”
عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سب وعدے ہر صورت میں پورے ہوں گے اور ان لوگوں پر عذاب آکر رہے گا۔ البتہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ کس شکل میں آئے گا ؟ اس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس نے ایسی تمام معلومات خفیہ رکھی ہیں۔ سورة الانبیاء میں اس موضوع سے متعلق حضور ﷺ سے یوں اعلان کرایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ”اور میں نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا کچھ عرصے بعد آئے گا۔“
وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ”
دنیا…
Read the full tafseer →76 یعنی اگر کسی ظالم قوم پر عذاب آنے میں تاخیر ہوئی یا سرے سے اس پر عذاب آیا ہی نہیں تو بھی وہ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے اور اخروی زندگی میں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا مل کے رہے گی۔
Read the full tafseer →85۔ اس مہلت سے انہوں نے فائدہ یہ اٹھایا تھا کہ بجائے اپنی حالت کی اصلاح کے الٹے اسی استہزاء واستعجال میں لگی رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
آیت نمبر 39 تا 48
ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…
Read the full tafseer →وکاین من قریۃ املیت لہا وہی ظالمۃ ثم اخذتہا والی المصیر۔ اور بہت سی بستیوں
والوں کو میں نے مہلت دی اور وہ (تمہاری طرح) بےجا حرکتیں کرنے والے (کافر) تھے پھر میں نے ان کو دھر پکڑا اور میرے ہی (حکم کی) طرف (ان کو) لوٹ کر آنا ہوا یا لوٹ کر (سب کو) آنا ہے۔
اس آیت میں شہادت پیش کی گئی ہے اس امر کی کہ اللہ اپنی وعید عذاب کے خلاف نہیں کرتا اور تاخیر عذاب سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ عذاب آئندہ نہیں آئے گا تاخیر عذاب اللہ کا دستور حکم ہی ہے دیکھو بہت سی ظالم بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جن کو فوری عذاب میں مبتلا نہیں کیا گیا مہلت اور ڈھیل دی گئی اور آخر ان کو پکڑ لیا گیا۔
Read the full tafseer →(48) اور بہت سی بسیتوں والے ہیں جن کو میں نے ایک معینہ مدت کے لیے مہلت دی ہے اور وہ ان ہی کی طرح کفر وشرک کی باتیں کرتے تھے، پھر میں نے ان کو دنیا میں بھی سزا دی اور سب کو آخرت میں میری طرف واپس آنا ہوگا۔
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا۔۔ : اس آیت میں قانون مہلت کو دہرایا ہے کہ میں نے کتنی ہی بستیوں کو ان کے ظلم کے باوجود تمہاری طرح مہلت دی، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔
وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ : یعنی اگر کسی ظالم قوم پر عذاب آنے میں دیر ہوئی، یا دنیا میں سرے سے اس پر عذاب آیا ہی نہیں تو بھی وہ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے، ہر حال میں انھیں ہماری ہی طرف آنا ہے، وہاں سب وعدے پورے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
بعض علماء نے کہا : یہ ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک (الانفال : 32) ولن یخلف اللہ وعدہ یعنی عذاب کے نازل کرنے کا وعدہ جو کیا ہے اس میں خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ زجاج نے کہا : انہوں نے عذاب کو جلدی طلب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ کوئی چیز اس سے فوت نہ ہوگی۔ دنیا میں بدر کے دن ان پر عذاب نازل ہو بھی چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : یعنی ان ایام میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا۔ عکرمہ نے کہا : یعنی آخرت کے دنوں میں سے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ویستعجلونک بالعذاب کے بارے میں روایت کیا کہ اس وقت کے جاہل لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے عذاب کا مطالبہ کیا اور کہا۔ آیت اللہم ان کان ہذا ہوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔ یعنی اے اللہ اگر یہ دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تدون۔ کے بارے میں روایت کیا یعنی ان چھ دنوں میں سے کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔
3۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے…
Read the full tafseer →[ وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ : اور بستیوں میں سے کتنی ہی ہیں ] [ اَمْلَيْتُ : میں لے ڈھیل دی ] [ لَهَا : جن کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هِىَ : وہ ] [ ظَالِمَةٌ: ظلم کرنے والی تھیں ] [ ثُمَّ اَخَذْتُهَا : پھر میں نے پکڑا ان کو ] [ وَاِلَيَّ : اور میری طرف ہی ] [ الْمَصِيْرُ : لوٹنا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
پھر فرمایا (وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) (اور بلاشبہ آپ کے رب کے نزدیک ایک ایسا دن ہے جو تم لوگوں کے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوگا) اس میں یہ بتایا کہ کفر کی سزا اگر کسی قوم کو دنیا میں نہ دی گئی تو قیامت تو سامنے ہے ہی وہ دن بہت سخت ہوگا اور دراز ہوگا دوزخ کا عذاب تو بعد میں ہوگا اس سے پہلے قیامت کے دن کے عذاب اور مصیبت میں جو مبتلا ہونگے اسی کو سوچ لیں اور غور کرلیں، قیامت کا دن ایک ہزار سال کا ہوگا اور اتنے لمبے دن میں جو تکلیف ہوگی اس کا اندازہ اسی سے کرلیں، حسب فرمان نبی اللہ ﷺ سورج ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اس کی گرمی سے اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تسلیۂ رسالت مآب وتہدید کفار بر استعجال عذاب ووعدہ
مغفرت و رزق کریم برائے اہل طاعت ووعید عذاب جحیم برائے اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ وان یکذبوک فقد کذبت قبلہم قوم نوح .... الیٰ .... اولئک اصحب الجحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے جدال و قتال اور ان کی ایزاء رسانی کی بناء پر مسلمانوں کو جہاد قتال کی اجازت دی گئی اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کفار کی مخالفت اور تکذیب اور عداوت سے ملول نہ ہوں ہمیشہ سے عام انبیاء کی تکذیب ہوتی چلی آئی ہے اور کافروں نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا اور یہ کافر ملک شام کو جاتے ہوئے راستہ میں ان مقامات سے گزرتے ہیں جہاں ان پر عذاب نازل ہوا تھا پھر بھی…
Read the full tafseer →63:۔ ” وَ کَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ الخ “ تخویف دنیوی ہے۔ تفسیر کے لیے حاشیہ 58، 95 دیکھئے۔ یہ اگلی آیت میں ترغیب الی الایمان کے لیے تمہید ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ منکرین کو پکڑنے پر قادر ہے جس طرح اس نے گذشتہ زمانوں میں معاندین کو پکڑا اس لیے اب تم دعوت توحید کو قبول کرلو ورنہ تم بھی پہلے معاندین کی طرح پکڑے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ مظلوم اہل ایمان کی مدد کا وعدہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ، اگر اللہ انہیں زمین میں اقتدار عنایت فرمائے گا تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے ، نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ یہ ان کا منشور ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مکذبین کو تنبیہ فرمائی اور حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر قوم نے اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ پھر اللہ نے مہلت دے کر انہیں مبتلائے عذاب کیا۔ بہت سی بستیوں کے باشندے ظالم تھے جنہیں اللہ نے ہلاک کیا اور تمام…
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَمْلَيْتُ لَہَا وَہِىَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذْتُہَا 0ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48ۧ
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…
Read the full tafseer →وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَمْلَیْتُ لَھَا وَھِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذْتُھَا ج وَاِلَیَّ الْمَصِیْرُ ۔ (الحج : 48)
( اور کتنی بستیاں تھیں جن کو ان کے ظلم کے باوجود میں نے ڈھیل دی۔ پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔ اور میری ہی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ )
قریش کو وارننگ
اس آیت کریمہ میں خبر تو بعض بستیوں کے بارے میں دی جارہی ہے لیکن روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ انھیں سنا کر یہ بات کہی جارہی ہے کہ تم پہلی قوم نہیں ہو اور نہ پہلی بستی ہو جس کی طرف اللہ کا رسول آیا ہے اور وہ ان کے انکار اور تمرد کے باعث انھیں عذاب سے ڈرا رہا ہے اور وہ محض اسے ڈراوا سمجھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کتنی بستیاں اس صورتحال سے دوچارہ ہوچکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا دل کا اندھا ہوجائے تو اچھائی کے مقابلے میں برائی اختیار کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس لیے تباہ ہونے والی اقوام اپنے پیغمبروں سے عذاب کا مطالبہ کرتی تھیں۔
سرورِ دو عالم ﷺ مشرکین کو بار بار عقیدہ توحید کی دعوت دیتے۔ لیکن وہ اس قدر دل کے اندھے ہوچکے تھے کہ دعوت حق قبول کرنے کی بجائے آپ سے یہ مطالبہ کرتے کہ جس قیامت یا عذاب کی آپ دھمکی دیتے ہیں وہ ہم پر کیوں نازل نہیں ہوتا ؟ اس کا جواب انھیں یہ دیا گیا کہ جس عذاب کا تم بار بار مطالبہ کرتے ہو اسے نازل کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے جس عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے اگر تمہارا یہی…
Read the full tafseer →48: وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَمْلَیْتُ لَھَا وَھِیَ ظَالِمَۃٌ (اور بہت سی بستیوں والوں کو میں نے مہلت دی اور وہ بےجا حرکات کرنے والے تھے) یعنی بہت سے بستیوں والے ایسے گزرے ہیں جو تمہاری طرح ظلم کرنے والے تھے میں نے ان کو ایک وقت تک مہلت دی۔ ثُمَّ اَخَذْتُھَا (پھر میں نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑا) وَاِلَیَّ الْمَصِیْرُ (اور میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے) یعنی لوٹنا
میری طرف ہی ہے مجھ سے کوئی چیز فوت نہ ہوگی۔
سوال : اس صورت میں وَکَاَیِّن وائو کے ساتھ ذکر کیا جبکہ پہلی صورت میں فَکَاَیِّن فاء کے ساتھ ذکر کیا ؟
جواب : کیونکہ پہلا کاینؔ فکیف کان نکیر ] الحج : 44 [ کا بدل تھا۔ اور یہ دوسرا پہلے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
تفسیر۔
48۔ وکاین من قریۃ ، ،، ہم نے ان کو مہلت دی ۔ وھی ظالمۃ ثم اخذ تھا والی المصیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
45۔ 48:۔ اوپر ذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی ‘ مہلت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ڈھیل کو بحال نہیں رکھا اور ان نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں میں پکڑلیا ‘ ان آیتوں میں اس کی یہ تفسیر فرمائی کہ ان نافرمان لوگوں کی بستیاں اس طرح ناگہانی عذابوں سے ہلاک کردی گئیں کہ مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانات چھتوں کے بل الٹ دیئے گئے ‘ قوم ثمود کے پکے پکے مکانات اور بڑے بڑے کار آمد کنویں نکمے پڑے رہ گئے ‘ آگے فرمایا ‘ یہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں ‘ اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں ‘ پھر فرمایا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت 47
عذاب کی تکذیب کرنے والے، اپنی جہالت، ظلم، عناد، اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہوئے آپ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عذاب کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا۔ رہا اس عذاب کا جلدی آنا، تو اے محمد) یہ آپ کے اختیار میں نہیں ان کے جلدی مچانے اور ہمیں عاجز گرداننے پر، آپ کو ہلکانہ سمجھیں، قیامت کا دن ان کے سامنے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی اور ان کو درد ناک عذاب میں ڈالا جائے گا، اس لئے فرمایا : (وان یوما عند ربک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی
قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
102 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کو بالآخر اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سب کو آخرکار ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے جہاں پر ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور بدلہ پانا ہے ‘ پس جلد بازی کی بجائے اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی ضرورت ہے ‘ اور دنیا کی اس عارضی اور محدود فرصت میں اگر کوئی عذاب سے بچ بھی گیا تو بھی کیا ہوا، کہ آخرکار تو ان سب کو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے، اور یہاں پہنچ کر ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ بہرحال پاکر رہنا ہے،۔ سو اس ارشاد ربانی سے عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب دیا گیا کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–51
لڑائی کی اجازت
تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔
(جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ)
اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…
Read the full tafseer →4 ۔ یعنی کیا ڈھیل دینے سے وہ کہیں بھاگے ؟ کسی کو جلدی پکڑا جائے یا دیر سے۔ آخر پلٹ کر تو سب کو ہماری طرف ہی آنا ہے۔
Read the full tafseer →(22:48) املیت۔ ماضی واحد متکلم۔ میں نے مہلت دی۔ میں نے ڈھیل دی۔ املاء (افعال) مصدر۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان صیر سے (باب ضرب) لوٹنے کی جگہ، قرار گاہ، ٹھکانا۔ المصیر۔ مصدر لوٹنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 48 :
کذبت (جھٹلایا گیا) ‘ املیت (میں نے مہلت۔ میں نے ڈھیل دی) ‘ نکیر (میرا ) انکار ‘ کأین (کتنی ہی) ‘ قریۃ (آبادی۔ بستی) خاویۃ (گرنے والی) ‘ عروش (عرش) (چھتیں) ‘ بئر (کنواں) ‘ معطلۃ (بےکار) ‘ قصر (محل) ‘ مشید (چونے سے بنائی گئی مضبوط عمارت) ‘ لم یسیروا (وہ نہ چلے) ‘ لاتعمی (اندھی نہیں ہوتی) ‘ الصدور (صدر) (سینہ) ‘ یستعجلون (وہ جلدی کررہے ہیں) ‘ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا) ‘ الف سنۃ (ایک ہزار سال) ‘ تعدون (تم گنتے ہو شمار کرتے ہو) ‘ الی (میری طرف) ‘ المصیر (ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ) ۔
تشریح آیات نمبر 42 تا 48 :
آپ نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ کفار و مشرکین نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(ف 1) نافرمانوں کے عذاب کا ذکر :
اوپرذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی مہلت کے بعداللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں گرفتار کیا اور پھر دیکھو ہماری پکڑ بھی کیسی ہے کیسے سخت عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کسی پر طوفان آیا کسی پر آندھی ، کوئی کڑک کی دہشت ناک آواز سے ہلاک ہوا کسی پر مچھروں کا لشکرمسلط کیا کسی کو زمین میں دھنسا دیا کسی پر پتھر برسائے آگے فرمایا کہ بہت سے ظالم لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانوں کو چھت کے بل الٹ دیا پھر فرمایا کہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے ہیں اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
[38] رسول اور نبی کے فرق کے بارے میں ملاحظہ ہو سورة مریم حاشیہ 20 صفحہ 715۔
[39] اصل میں الفظ تمنّیٰ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں، ایک معنی کسی چیز کی خواہش یا آرزو کے اور دوسرے معنی تلاوت کے ہیں یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔
[40] یعنی جب بھی پیغمبر نے کلام الٰہی لوگوں کو سنایا تو شیطان نے اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے۔ مثلاً نبی نے آیت حرم علیکم المیتۃ (تم پر مردار حرام کیا گیا) پڑھ کر سنائی تو شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کیسے ہوا۔
[41] یعنی شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
(ف 1) ان آیتوں میں بتایا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی آواز کو سن لیا ، اور اس کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل کیا ، ان کے لئے سراسر مغفرت ، اور عنایت ہے ، اور نہایت پاکیزہ روزی ہے وہ عزت وافتخار سے دنیا میں رہیں گے ، اور آخرت میں جنت کے وارث ہوں گے ، اور جن لوگوں نے معاندانہ کوششیں جاری رکھی ہیں اور پیغام کو نہیں مانا ، وہ خائب و خاسر رہیں گے اور جہنم کے سزاوار ۔
حل لغات :
تمنی : آرزو کی ، پڑھایا ۔
Read the full tafseer →(48) اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی تھی اور ان کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے ظلم اور نافرمانی کا شیوہ اختیار کررکھا تھا پھر میں نے ان بستیوں کو پکڑ لیا اور ہر ایک کی بازگشت میری ہی طرف ہے اور ہر ایک کو میری طرف واپس ہونا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہزار دن کا کام ایک دن میں کرسکتا ہے یہ مما تعدون پر شاہ صاحب (رح) نے لکھا ہے۔ 12
مطلب یہ ہے کہ جب میری طرف واپس ہونا ہے اس وقت کفر کی پوری طرح سزا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ف 2۔ یعنی وہ بھی استعجال اور استہزاء کرتے تھے۔
Read the full tafseer →کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے ڈھیل دے رکھی تھی جب ہمارا مقررہ وقت آیا تو وہ پکڑی گئیں :
48۔ فرمایا جہاں ہم نے عذاب دینے کے ضابطہ کا اعلان کیا ہے وہاں ہم نے ڈھیل دینے کا بھی اعلان کر رکھا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم کرتے ہی نہ پکڑ لیا جائے بلکہ اس کو اس وقت تک ڈھیل دی جائے جس وقت تک اس کو ڈھیل دیتے رہنا ہمارے قانون میں ہے اب کسی کے جلدی کرنے سے ہم اپنا قانون تو نہیں بدلیں گے کہ فلاں آدمی عذاب کے لئے جلدی مچا رہا ہے لہذا اس کو جلدی عذاب میں مبتلا کر دو اور فلاں آدمی عذاب طلب نہیں کرتا اس لئے اس کو عذاب میں مبتلا ہی نہ کرو بالکل چھوڑ دو ، غور کرو کہ قوم نوح (علیہ السلام) نے سوائے چند معدودے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
How the Day of Resurrection will be equal to one thousand years by our reckoning
In this verseإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ (22:47) means that one day with your Lord is like one thousand years of what you count. This verse can be interpreted in two ways. The first meaning is that the verse refers to the Day of Resurrection and the events which will take place on that day will be so horrifying and of such extreme severity that the day will appear never to end, as if it was equal to one thousand years according to our reckoning. Many commentators have interpreted this verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
92. This refers to the oft-repeated challenge by the disbelievers: Well, if you are a true prophet, why does not that chastisement come with which you have been threatening us, for we have been rejecting your claim of being a true Prophet of Allah.
93. That is, the decisions of Allah do not follow your time and calendar, nor do the consequences of your wrong attitudes appear immediately after the deeds. Therefore it will be very foolish for the part of a people to argue that the threat of punishment was empty just because a decade or a century had passed since they had adopted a wicked…
Read the full tafseer →