Explained with ayahs 47–48
ذرا صبر، عذاب کا شوق پورا ہوگا
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کررہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کردیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ چناچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج۔ کہتے تھے کہ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کردے۔ اللہ فرماتا ہے یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آکر ہی رہیں گے۔ اولیا اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
سورة الْحَجّ 92
یعنی بار بار چیلنج کر رہے ہیں کہ میاں اگر تم سچے نبی ہو تو کیوں نہیں آجاتا ہم پر وہ عذاب جو خدا کے بھیجے ہوئے نبی برحق کے جھٹلانے پر آنا چاہیے، اور جس کی دھمکیاں بھی تم بارہا ہم کو دے چکے ہو۔
سورة الْحَجّ 93
یعنی انسانی تاریخ میں خدا کے فیصلے تمہاری گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے کہ آج ایک صحیح یا غلط روش اختیار کی اور کل اس کے اچھے یا برے نتائج ظاہر ہوگئے۔ کسی قوم سے اگر یہ کہا جائے کہ فلاں طرز عمل اختیار کرنے کا انجام تمہاری تباہی کی صورت میں نکلے گا تو وہ بڑی ہی احمق ہوگی اگر جواب میں یہ استدلال کرے کہ جناب اس طرز عمل کو اختیار کیے ہمیں دس، بیس یا پچاس برس ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
آخرت کا دن ایک ہزار سال ہونے کا مطلب
آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ ، یعنی آپ کے رب کے پاس ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کی برابر ہوگا۔ اس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن لیا جائے اور اس کا ایک ہزار سال کی برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن کے ہولناک واقعات اور ہیبت ناک حالات کی وجہ سے یہ دن اتنا دراز محسوس ہوگا جیسے ایک ہزار سال خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اشتداد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے بہت سے حضرات مفسرین نے اس کے یہی معنے قرار دیئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ واقع میں عالم آخرت کا ایک دن ہمیشہ کے لئے دنیا کے ایک ہزار سال ہی کے برابر ہو…
Read the full tafseer →انسان کا ایک مغالطہ
یعنی تم کو جھٹلانے والے جلدی مچائے ہوئے ہیں کہ جس عذاب کی تم ان کو وعید سنا رہے ہو یہ آکیوں نہیں جاتا ؟ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ آئے گا تو ضرور، خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گ۔ لیکن انسان ہر چیز کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپتا ہے اس وجہ سے اس کو چند سالوں کی مدت یا مہلت بہت طویل معلوم ہوتی ہے۔ وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ جو کچھ اس سے کہا جا رہا ہے یہ سب ہوائی باتیں ہیں حالانکہ یہ ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ حقائق ہیں لیکن خدا کے ہاں کے دجن اس دنیا کے دنوں سے بالکل مختلف ہیں۔ خدا کے ہاں کا ایک دن اس دناں کے دنوں کے حساب سے ایک ہزار سال کے مانند ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے…
Read the full tafseer →47۔ 1 اس لئے یہ لوگ تو اپنے حساب سے جلدی کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حساب میں ایک دن بھی ہزار سال کا ہے اس اعتبار سے وہ اگر کسی کو ایک دن (24 گھنٹے) کی مہلت دے تو ہزار سال، نصف یوم کی مہلت تو پانچ سو سال، 6 گھنٹے (جو 24 گھنٹے کا چوتھائی ہے) مہلت دے تو ڈھائی سو سال کا عرصہ عذاب کے لئے درکار ہے، اس طرح اللہ کی طرف سے کسی کو ایک گھنٹے کی مہلت مل جانے کا مطلب کم و بیش چالیس سال کی مہلت ہے (ایسر التفاسیر)
ایک دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت میں ایک دن اور ہزار سال برابر ہیں اس لیے تقدیم و تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ جلدی مانگتے ہیں وہ دیر کرتا ہے تاہم یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ اپنا وعدہ ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
26: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن اس آیت کو سمجھنے کے لیے اتنی تشریح کافی ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو…
Read the full tafseer →ویستعجلونک …مما تعدون (47)
ہر زمانے میں ظالموں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ وہ زمانہ ماضی کے ظالموں کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کی تاریخ پڑھتے ہیں اور ان کے انجام ان کے سامنے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں ، جس کا انجام وہ دیکھتے ہیں۔ جب ان کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ دیکھو تمہارے آبائو اجداد اس انجام سے دوچار ہوئے تھے ، یہی تمہارا بھی ہو سکتا ہے تو یہ لوگ اسے مسجد سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے جو انہیں مہلت کی ایک گھڑی دے رکھی ہے تو یہ کبرو غرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ جاتے ہیں۔ جس بات سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور مذاق میں…
Read the full tafseer →10 یعنی عذاب اپنے وقت پر یقینا آکر رہے گا۔ استہزاء و تکذیب کی راہ سے جلدی مچانا فضول ہے۔
11 یعنی تمہارے ہزار برس اس کے یہاں ایک دن کے برابر ہیں۔ جیسے مجرم آج اس کے قبضہ میں ہے ہزار برس گزرنے کے بعد بھی اسی طرح اس کے قبضہ و اقتدار کے نیچے ہے۔ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتا۔ یا یہ مطلب کہ ہزار برس کا کام وہ ایک دن میں کرسکتا ہے۔ مگر کرتا وہی ہے جو اس کی حکمت و مصلحت کے موافق ہو۔ کسی کے جلدی مچانے سے وہاں کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یا یوں کہا جائے کہ اخروی عذاب کا وعدہ ضرور آکر رہے گا۔ یعنی قیامت آئے گی اور تم کو پوری سزا ملے گی۔ آگے قیامت کے دن کا بیان ہوا کہ وہ ایک دن اپنی شدت و ہول کے لحاظ سے ہزار سال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت 47 وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ط ”
عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سب وعدے ہر صورت میں پورے ہوں گے اور ان لوگوں پر عذاب آکر رہے گا۔ البتہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ کس شکل میں آئے گا ؟ اس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس نے ایسی تمام معلومات خفیہ رکھی ہیں۔ سورة الانبیاء میں اس موضوع سے متعلق حضور ﷺ سے یوں اعلان کرایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ”اور میں نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا کچھ عرصے بعد آئے گا۔“
وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ”
دنیا…
Read the full tafseer →75 اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ابھرنے والی قوم یا تہذیب کی طبعی عمر ہزار سال ہوتی ہے یا ہونی چاہئے۔ بلکہ یہ الفاظ انسان کے عذاب کو جلد طلب کرنے اور اس کے قانون تدریج و امہال کے مطابق تاخیر میں تقابل کے طور پر ذکر کئے گئے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی قوم کے ظلم و جور میں اس قدر زیادتی واقع ہوجائے تو تین چار صدیاں گزرنے پر بھی اسے تباہ کردیا جائے۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے۔ کہ کوئی قوم یا تہذیب ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ یہ سب باتیں کسی قوم کے گناہوں کی رفتار پر منحصر ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →84۔ (بہ لحاظ امتداد وبہ لحاظ اشتداد) مرادیہاں روز قیامت ہے۔ مقدار الحساب یوم القیمۃ الف سنۃ (ابن جریر، عن ابن عباس) اے من الایام الاخرۃ (ابن جریر، عن مجاہد) ھذہ ایام الاخرۃ (ابن جریر۔ عن مجاہد) عالم ناسوت کے ہزار سال کا عند اللہ ایک دن کے برابر ہونے کا محاورہ قدیم صحیفوں میں بھی آیا ہے :۔ ” ہزار برس تیرے آگے ایسے ہیں جیسے کل کا دن جو گزر گیا “۔ (زبور۔ 190: 4) اور انجیل میں ہے :۔ اے عزیزو، یہ خاص بات تم پر پوشیدہ نہ رہے کہ خداوند کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر ہے، اور ہزار برس ایک دن کے برابر “۔ (2 پطرس۔ 3: 8) (آیت) ” مما تعدون “۔ یعنی تم اہل ناسوت کے حساب کے مطابق۔ مطلب یہ ہوا کہ کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
آیت نمبر 39 تا 48
ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…
Read the full tafseer →ویستعجلونک بالعذاب اور (جس عذاب کی ان کو وعید سنائی جا رہی ہے اس) عذاب کا نزول یہ لوگ
آپ سے جلد چاہتے ہیں۔ اس جملہ میں کافروں کے دلوں کے نابینا ہونے کا ایک طرح کا ثبوت پیش کیا گیا ہے جو شخص عذاب میں مبتلا ہوجانے کا فوری خواستگار ہو وہ دل کا اندھا ہی ہوگا۔
بغوی نے لکھا ہے یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازل ہوئی جس نے دعا کی تھی اے اللہ اگر یہ (جو محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں) تیری طرف سے حق ہے (اور یہ سچے ہیں اور ہم کو اس سے انکار ہے) تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔
ولن یخلف اللہ وعدہ اور ہر اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ اللہ کی دی ہوئی خبر کے
خلاف ہونے ممکن نہیں۔ اللہ نے جس عذاب کی…
Read the full tafseer →(47) اور اے محمد ﷺ نضر بن حارث نزول عذاب کے وقت سے پہلے آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں، عذاب کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے وہ کبھی اس کے خلاف نہیں کرے گا اور آپ کے رب کے پاس کا ایک دن جس میں ان سے نزول عذاب کا وعدہ فرمایا ہے وہ دنیا کے سالوں میں سے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔
Read the full tafseer →وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ : مشرکین رسول اللہ ﷺ سے جلد از جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اس مطالبے سے ان کا مقصد عذاب آنے کا انکار اور نبی ﷺ کو جھٹلانا، آپ کا مذاق اڑانا اور آپ کو لاجواب کرنا تھا۔ قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : (وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ الأنبیاء : 38 ] ”اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا : (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ ۭ وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاۗءَهُمُ الْعَذَابُ) [ العنکبوت : 53 ] ”اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
بعض علماء نے کہا : یہ ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک (الانفال : 32) ولن یخلف اللہ وعدہ یعنی عذاب کے نازل کرنے کا وعدہ جو کیا ہے اس میں خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ زجاج نے کہا : انہوں نے عذاب کو جلدی طلب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ کوئی چیز اس سے فوت نہ ہوگی۔ دنیا میں بدر کے دن ان پر عذاب نازل ہو بھی چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : یعنی ان ایام میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا۔ عکرمہ نے کہا : یعنی آخرت کے دنوں میں سے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ویستعجلونک بالعذاب کے بارے میں روایت کیا کہ اس وقت کے جاہل لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے عذاب کا مطالبہ کیا اور کہا۔ آیت اللہم ان کان ہذا ہوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔ یعنی اے اللہ اگر یہ دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تدون۔ کے بارے میں روایت کیا یعنی ان چھ دنوں میں سے کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔
3۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے…
Read the full tafseer →وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ : اور یہ لوگ جلدی طلب کرتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ بِالْعَذَابِ : عذاب کو ] [ وَلَنْ يُّخْلِفَ : اور ہرگز خلاف نہیں کرے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ وَعْدَهٗ : اپنے وعدے کے ] [ وَان : اور بیشک ] [ يَوْمًا : ایک دن ] [ عِنْدَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے پاس ] [ كَاَلْفِ سَنَةٍ : ہزار سال کی مانند ہے ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ تَعُدُّوْنَ : تم لوگ گنتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
پھر فرمایا (وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) (اور بلاشبہ آپ کے رب کے نزدیک ایک ایسا دن ہے جو تم لوگوں کے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوگا) اس میں یہ بتایا کہ کفر کی سزا اگر کسی قوم کو دنیا میں نہ دی گئی تو قیامت تو سامنے ہے ہی وہ دن بہت سخت ہوگا اور دراز ہوگا دوزخ کا عذاب تو بعد میں ہوگا اس سے پہلے قیامت کے دن کے عذاب اور مصیبت میں جو مبتلا ہونگے اسی کو سوچ لیں اور غور کرلیں، قیامت کا دن ایک ہزار سال کا ہوگا اور اتنے لمبے دن میں جو تکلیف ہوگی اس کا اندازہ اسی سے کرلیں، حسب فرمان نبی اللہ ﷺ سورج ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اس کی گرمی سے اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تسلیۂ رسالت مآب وتہدید کفار بر استعجال عذاب ووعدہ
مغفرت و رزق کریم برائے اہل طاعت ووعید عذاب جحیم برائے اہل معصیت
قال اللہ تعالیٰ وان یکذبوک فقد کذبت قبلہم قوم نوح .... الیٰ .... اولئک اصحب الجحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے جدال و قتال اور ان کی ایزاء رسانی کی بناء پر مسلمانوں کو جہاد قتال کی اجازت دی گئی اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کفار کی مخالفت اور تکذیب اور عداوت سے ملول نہ ہوں ہمیشہ سے عام انبیاء کی تکذیب ہوتی چلی آئی ہے اور کافروں نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا اور یہ کافر ملک شام کو جاتے ہوئے راستہ میں ان مقامات سے گزرتے ہیں جہاں ان پر عذاب نازل ہوا تھا پھر بھی…
Read the full tafseer →61:۔ ” وَیَسْتَعْجِلُوْنَک الخ “ زجر مع تخویف دنیوی، مشرکین مکہ استہزاء و تمسخر کے طور پرحضور ﷺ سے کہتے کہ جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے اسے جلدی کیوں نہیں لاتا۔ اس کا جواب دیا گیا۔ ” وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ “ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اگر مشرکین ایمان نہ لائیں تو انہیں دنیا میں رسوا کن عذاب سے ہلاک کیا جائے گا اور اس کا وقت بھی مقر کردیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے (فیصلہ عذاب) کی خلاف ورزی ہرگز نہیں کرے گا اگر ان معاندین نے نہ مانا تو عذاب اپنے وقت پر ضرور آئے گا چناچہ یہ وعدہ جنگ بدر میں پورا ہوا۔ ای انہ انجز ذلک یوم بدر (خازن ج 5 ص 21) ۔
62:۔ ” وَ اِنْ یُّوْحَا الخ “ ی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ مظلوم اہل ایمان کی مدد کا وعدہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ، اگر اللہ انہیں زمین میں اقتدار عنایت فرمائے گا تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے ، نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ یہ ان کا منشور ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مکذبین کو تنبیہ فرمائی اور حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر قوم نے اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ پھر اللہ نے مہلت دے کر انہیں مبتلائے عذاب کیا۔ بہت سی بستیوں کے باشندے ظالم تھے جنہیں اللہ نے ہلاک کیا اور تمام…
Read the full tafseer →وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ 0ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَـنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47
عجل
العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ،
( ع ج ل ) العجلۃ
کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…
Read the full tafseer →وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ط وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ (الحج : 47)
(اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور بیشک ایک دن آپ کے رب کے نزدیک ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہے جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو۔ )
ایک مغالطے کا ازالہ
مخالفت کرنے والے آنحضرت ﷺ سے بار بار مطالبہ کرتے کہ آپ ہمیں جس عذاب سے ڈراتے ہیں اسے لے کیوں نہیں آتے ؟ اگر ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم پر عذاب کا کوڑا برسنا چاہیے تو پھر دیر کس بات کی ہے ؟ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا دل کا اندھا ہوجائے تو اچھائی کے مقابلے میں برائی اختیار کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس لیے تباہ ہونے والی اقوام اپنے پیغمبروں سے عذاب کا مطالبہ کرتی تھیں۔
سرورِ دو عالم ﷺ مشرکین کو بار بار عقیدہ توحید کی دعوت دیتے۔ لیکن وہ اس قدر دل کے اندھے ہوچکے تھے کہ دعوت حق قبول کرنے کی بجائے آپ سے یہ مطالبہ کرتے کہ جس قیامت یا عذاب کی آپ دھمکی دیتے ہیں وہ ہم پر کیوں نازل نہیں ہوتا ؟ اس کا جواب انھیں یہ دیا گیا کہ جس عذاب کا تم بار بار مطالبہ کرتے ہو اسے نازل کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے جس عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے اگر تمہارا یہی…
Read the full tafseer →47: وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ (وہ آپ سے اس عذاب کا نزول جلد مانگتے ہیں) استہزاء کے طور پر مؤخر عذاب کو جلدی طلب کرتے ہیں۔ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہ فرمائیں گے) گویا اس طرح فرمایا : لِمَ یستعجلونک بہٖ ؟ وہ آپ سے کیونکر جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ گویا وہ اس عذاب کے فوت ہونے کے قائل نہیں اور یہ بات تو اس کے متعلق جائز ہوسکتی تھی جو میعاد کی خلاف ورزی کرنے والا ہو حالانکہ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی ہرگز خلاف ورزی نہ فرمائیں گے) اور وہ عذاب جس کا اس نے ان سے وعدہ فرما لیا وہ ضرور ان کو پہنچے…
Read the full tafseer →47۔ ویستعجلونک بالعذاب، ، یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی جس نے یہ دعا کی تھی اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے توہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ ولن یخلف اللہ وعدہ، اس وعید کو بدر کے دن پورا کیا گیا۔
” وان یوما عندربک کالف سنۃ مماتعدون۔ ابن کثیر ، حمزہ، وکسائی نے ” یعدون ، یاء کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ پہلے ، یستعجلونک ، میں ہے دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ ، تعدون ، پڑھا ہے کیونکہ خطاب مستعجلین مومنین کو ہے اور سو رہ تنزیل سجدہ والی آیت میں ان کے ساتھ تاء سے موافقت کی ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ چھے دنوں میں ایک دن مراد ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
45۔ 48:۔ اوپر ذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی ‘ مہلت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ڈھیل کو بحال نہیں رکھا اور ان نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں میں پکڑلیا ‘ ان آیتوں میں اس کی یہ تفسیر فرمائی کہ ان نافرمان لوگوں کی بستیاں اس طرح ناگہانی عذابوں سے ہلاک کردی گئیں کہ مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانات چھتوں کے بل الٹ دیئے گئے ‘ قوم ثمود کے پکے پکے مکانات اور بڑے بڑے کار آمد کنویں نکمے پڑے رہ گئے ‘ آگے فرمایا ‘ یہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں ‘ اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں ‘ پھر فرمایا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت 47
عذاب کی تکذیب کرنے والے، اپنی جہالت، ظلم، عناد، اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہوئے آپ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عذاب کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا۔ رہا اس عذاب کا جلدی آنا، تو اے محمد) یہ آپ کے اختیار میں نہیں ان کے جلدی مچانے اور ہمیں عاجز گرداننے پر، آپ کو ہلکانہ سمجھیں، قیامت کا دن ان کے سامنے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی اور ان کو درد ناک عذاب میں ڈالا جائے گا، اس لئے فرمایا : (وان یوما عند ربک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی
قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…
Read the full tafseer →99 منکرین کے استعجال کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کی طرف سے استعجال، یعنی عذاب کے لیے جلدی مچانے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں "۔ استہزاء و تکذیب کے طور پر ‘ کہ کب آئے گا وہ عذاب جس کی دھمکیاں آپ ہمیں دے رہے ہیں ؟ وہ ہم پر آتا کیوں نہیں ؟ اس کو کس نے روک رکھا ہے ؟ اس کو لا کر دکھاؤ ‘ وغیر ذالک آخر وہ کب لنگرانداز ہوگا، سو کفر و انکار کی نحوست سے انسان کی مت ایسے ہی مار دی جاتی ہے، اور وہ اسی طرح لاپرواہ اور غیر ذمہ دار ہوجاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وہ عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کی بجائے اس کے لیے جلدی مچانے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–51
لڑائی کی اجازت
تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔
(جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ)
اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب نہیں آسکتا۔ اس لئے اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور بار بار اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 3 ۔ اس لحاظ سے قیامت جس میں تمہیں عذاب ملنے والا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قریب ہے اگرچہ وہ تمہیں دور معلوم ہوتی ہے۔ (وحیدی) یا مطلب یہ ہے کہ ہزار برس کا کام ایک دن میں کرسکتا ہے۔ (موضح) ہوسکتا ہے کہ شدت ہول کے اعتبار سے قیامت کے دن کو ہزار برس کے برابر قرار دیا ہو۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(22:47) یستعجلونک۔ یستعجلون۔ مضارع جمع مذکر غائب استعجال (استفعال) مصدر۔ وہ جدہ مانگتے ہیں۔ وہ عجلت چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلدی آجائے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر ۔ تجھ سے۔
تعدون۔ عد سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم شمار کرتے ہو۔ تم گنتے ہو۔ مما تعدون۔ جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو۔ یعنی تمہارے شمار کے مطابق۔ عدد مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 48 :
کذبت (جھٹلایا گیا) ‘ املیت (میں نے مہلت۔ میں نے ڈھیل دی) ‘ نکیر (میرا ) انکار ‘ کأین (کتنی ہی) ‘ قریۃ (آبادی۔ بستی) خاویۃ (گرنے والی) ‘ عروش (عرش) (چھتیں) ‘ بئر (کنواں) ‘ معطلۃ (بےکار) ‘ قصر (محل) ‘ مشید (چونے سے بنائی گئی مضبوط عمارت) ‘ لم یسیروا (وہ نہ چلے) ‘ لاتعمی (اندھی نہیں ہوتی) ‘ الصدور (صدر) (سینہ) ‘ یستعجلون (وہ جلدی کررہے ہیں) ‘ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا) ‘ الف سنۃ (ایک ہزار سال) ‘ تعدون (تم گنتے ہو شمار کرتے ہو) ‘ الی (میری طرف) ‘ المصیر (ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ) ۔
تشریح آیات نمبر 42 تا 48 :
آپ نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ کفار و مشرکین نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(ف 1) نافرمانوں کے عذاب کا ذکر :
اوپرذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی مہلت کے بعداللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں گرفتار کیا اور پھر دیکھو ہماری پکڑ بھی کیسی ہے کیسے سخت عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کسی پر طوفان آیا کسی پر آندھی ، کوئی کڑک کی دہشت ناک آواز سے ہلاک ہوا کسی پر مچھروں کا لشکرمسلط کیا کسی کو زمین میں دھنسا دیا کسی پر پتھر برسائے آگے فرمایا کہ بہت سے ظالم لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانوں کو چھت کے بل الٹ دیا پھر فرمایا کہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے ہیں اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی…
Read the full tafseer →[37] کافر عذاب کے لئے جلدی مچاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچ مچ کوئی عذاب آنے والا ہے تو وہ کیوں نہ آ چکتا ؟ اس پر فرمایا کہ فطرت کائنات کی اوقات شماری کا وہ حساب نہیں جو دنیا میں لوگوں نے بنا رکھا ہے۔ فطرت کا دائرہ عمل تو اتنا وسیع ہے کہ تمہارے معیار حساب سے ایک ہزار برس اس کے لئے ایک دن کی مدت سے زیادہ نہیں۔ پس انسانی تاریخ میں خدائی فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے کہ آج کسی نے صحیح یا غلط روش اختیار کی اور کل اس کے اچھے یا برے نتائج ظاہر ہوگئے۔ تاریخی نتائج کے لئے مہینے اور سال تو درکنار صدیاں بھی کوئی بڑی چیز نہیں۔
Read the full tafseer →عذاب کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہے :
(ف 3) مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ عذاب طلب کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ کا غضب جلد بھڑکے ، تاکہ زندگی کی مسرتوں سے یک قلم محروم ہوجائیں ، مگر یہ نہیں جانتے کہ اس کی گرفت کس قدر جان گسل ہوگی اور وہ عذاب اپنی ہولناک کیفیت کے ساتھ کس درجہ دراز ہوگا ۔
اللہ کا عذاب جس کے یہ لوگ طالب ہیں ، اتنا سخت اتنا خوفناک اور اس قدر شدید ہے کہ اس کا ایک ایک دن ہزار سال کی کلفتوں اور اذیتوں کے برابر ہے ۔
اس آیت میں تصریح فرما دی ہے کہ اللہ کا وعدہ عذاب اٹل ہوتا ہے اس میں قطعا تخلف نہیں ہو سکتا کیونکہ تخلف ہونے کے معنی یہ ہیں کہ معاذ اللہ وعید کی پیشگوئی کرنے والا نبی لوگوں کی…
Read the full tafseer →(47) اور اے پیغمبر آپ سے یہ لوگ عذاب جلدی طلب کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدے کی خلاف ورزی اور اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا اور بلاشبہ آپ کے پروردگار کے پاس کا ایک دن تمہارے شمار اور تمہاری گنتی کے موافق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے یعنی یہ ناسمجھ اور دل کے اندھے آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور عذاب نہیں آتا تو آپ کی تکذیب کرتے ہیں آپ کے دعوے نبوت کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ عذاب اپنے وقت مقررہ پر آکر رہے گا اس میں جلدی کرنا فضول ہے پھر ان کے ہاں کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے برابر ہے اگر اس حساب سے کسی عذاب کا وقت دو گھنٹے یا چار گھنٹے بھی ہو تب بھی کئی صدی سمجھنا چاہئے یا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ف 1۔ سو ان کے بھی وہی دل اندھے ہور ہے ہیں، ورنہ امم مذکورہ کی حالت سے سمجھ لیتے کہ فی الواقع کفر ناپسندیدہ حق ہے جب تو اس پر عذاب آیا۔
Read the full tafseer →یہ لوگ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں ہرچیز کا ایک وقت مقرر ہے :
47۔ ” یہ لوگ آپ ﷺ سے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “ بلاشبہ آپ ﷺ نے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہمارے حکم سے ان کو کہا کہ اگر تم نے میرے لائے ہوئے دین کو قبول نہ کیا اور اپنے باپ دادا کی باتوں پر جمے رہے تو اللہ کا عذاب تم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ ان لوگوں نے آپ کی یہ بات سنی تو آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا لیکن ایسے انکار کے باوجود وہ زندہ ہیں اور اپنی من مانیاں کر رہے ہیں اور آپ کو نہایت دریدہ دہنی سے یہ بات کہتے ہیں کہ تم نے تو ہم کو عذاب الہی آجانے کی دھمکی دی ہے اور ہم تیری مخالفت کر رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
How the Day of Resurrection will be equal to one thousand years by our reckoning
In this verseإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ (22:47) means that one day with your Lord is like one thousand years of what you count. This verse can be interpreted in two ways. The first meaning is that the verse refers to the Day of Resurrection and the events which will take place on that day will be so horrifying and of such extreme severity that the day will appear never to end, as if it was equal to one thousand years according to our reckoning. Many commentators have interpreted this verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
92. This refers to the oft-repeated challenge by the disbelievers: Well, if you are a true prophet, why does not that chastisement come with which you have been threatening us, for we have been rejecting your claim of being a true Prophet of Allah.
93. That is, the decisions of Allah do not follow your time and calendar, nor do the consequences of your wrong attitudes appear immediately after the deeds. Therefore it will be very foolish for the part of a people to argue that the threat of punishment was empty just because a decade or a century had passed since they had adopted a wicked…
Read the full tafseer →