Al-Hajj 22:46

Al-Hajj · from ayah 46

22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۚ— فَاِنَّهَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ۟اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا‌ ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰـكِنۡ تَعۡمَى الۡـقُلُوۡبُ الَّتِىۡ فِى الصُّدُوۡرِ

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے۔ اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So have they not traveled through the earth and have hearts by which to reason and ears by which to hear? For indeed, it is not eyes that are blinded, but blinded are the hearts which are within the breasts.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 6 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:46

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے۔ اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا انہوں نے زمین میں سیر وسیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وه دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں جس سے انہیں وہ دل حاصل ہوتے جو انہیں سمجھ دے سکتے، یا ایسے کان حاصل ہوتے جن سے وہ سن سکتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں یا کان ہوں جن سے سنیں تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ (شاید ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ سمجھ سکتے یا کان (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ (حق کی بات) سن سکتے، تو حقیقت یہ ہے کہ (ایسوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے لیے ایسے دل ہوں جن کے ساتھ وہ سمجھیں، یا کان ہوں جن کے ساتھ وہ سنیں۔ پس بیشک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے جو کچھ سمجھتے سوچتے اور کان ایسے جن سے وہ کچھ سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، اندھے تو وہ دل ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سمجھتے یا انکے کان ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سنتے کیونکہ آنیں لک اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا غفلت میں ڈوبے یہ لوگ چلتے پھرتے نہیں عبرتوں بھری اس زمین میں ؟ کہ ان کے ایسے عبرت پذیر دل ہوتے جن سے یہ سوچتے سمھتے حق اور حقیقت کو یا ان کے ایسے کان ہوتے جن سے یہ سنتے پیغام حق و صداقت کو بات یہ ہے کہ سر کی یہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

سو کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے جن سے یہ سمجھنے لگتے یا کان ایسے ہوجاتے ہیں جن سییہ سننے لگتے۔ اصل یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجایا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ ہوتے ان کے دل جن سے یہ سمجھتے یا (ہوتے ان کے) کان جن سے یہ سنتے تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل ایسے ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان ایسے ہوتے کہ ان سے سن سکتے اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have they not journeyed in the land that their hearts might understand and their ears might listen? For indeed it is not the eyes that are blinded; it is rather the hearts in the breasts that are rendered blind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have they not, then, traveled on earth so that they should have had hearts to understand with, or ears to listen with? The fact is that it is not the eyes that turn blind, but what turns blind is the hearts contained in the chests.

— Muhammad Taqi Usmani

Have they not, then, traveled on earth so that they should have had hearts to understand with, or ears to listen with? The fact is that it is not the eyes that turn blind, but what turns blind is the hearts contained in the chests.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have they not traveled through the land, and have they hearts wherewith to understand and ears wherewith to hear Verily, it is not the eyes that grow blind, but it is the hearts which are in the breasts that grow blind.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have they not travelled in the land, and have they hearts wherewith to feel and ears wherewith to hear? For indeed it is not the eyes that grow blind, but it is the hearts, which are within the bosoms, that grow blind.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So have they not traveled through the earth and have hearts by which to reason and ears by which to hear? For indeed, it is not eyes that are blinded, but blinded are the hearts which are within the breasts.

— Saheeh International

Have they not travelled (sufficiently) in the land to have understanding hearts and listening ears? It is their hearts which are blind, not their ears.

— Muhammad Sarwar

Have they not travelled in the land so that they should have hearts with which to understand, or ears with which to hear? For surely it is not the eyes that are blind, but blind are the hearts which are in the breasts.

— Muhammad Habib Shakir

Have they not marched forth in the land, so that there might become unto them hearts to understand with or ears re hear with? Verily it is not the sights that are blinded but blinded are the hearts that are in the breasts.

— Abdul Majid Daryabadi

Do they not travel through the land, so that their hearts (and minds) may thus learn wisdom and their ears may thus learn to hear? Truly it is not their eyes that are blind, but their hearts which are in their breasts.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–46

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 91 خیال رہے کہ قرآن سائنس کی زبان میں نہیں بلکہ ادب کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ یہاں خواہ مخواہ ذہن اس سوال میں الجھ جائے کہ سینے والا دل کب سوچا کرتا ہے۔ ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال دماغ سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ حتی کہ کسی چیز کے " یاد ہونے " کو بھی یوں کہتے ہیں " وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے "۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل زمین کی سیر و سیاحت اگر عبرت و بصیرت حاصل کرنے کے لئے ہو تو مطلوب دینی ہے اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ، اس آیت میں زمین کی سیر و سیاحت جبکہ بچشم عبرت ہو اس کی طرف ترغیب ہے اور فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ سے اس طرف اشارہ ہے کہ زمانہ ماضی اور گزشتہ اقوام عالم کے حالات و کیفیات کا مشاہدہ انسان کو عقل و بصیرت عطا کرنے والا ہے بشرطیکہ ان حالات کو بعض تاریخی سوانح کی حیثیت سے نہیں بلکہ عبرت کی نظر سے دیکھے تو ہر واقعہ ایک بصیرت کا سبق دے گا۔ ابن ابی حاتم نے کتاب التفکر میں حضرت مالک بن دینار سے نقل کیا ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ لوہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دل کے اندھے یعنی یہ عبرت بخش آثار تو ہم نے زمین میں چھوڑے ہی اس لئے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھیں اور ان سے عبرت حاصل کریں تاکہ ان کے دلوں کے اندر سونچنے کی اور ان کے کانوں کے اندر سننے کی صلاحیت بیدار ہو اس لئے کہ اس دنیا کی اصلی آفت یہ نہیں ہے کہ سروں پر جو آنکھیں لگی ہوئی ہیں وہ اندھی ہوجاتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ سینوں میں جو دل ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں ! مطلب یہ ہے کہ اگر سروں کی آنکھوں کی بصارت جاتی رہے اور سینے میں بسنے والا دل بیدار ہو تو آدمی نابینا ہو کر بھی تمام حقائق کا مشاہدہ کرتا ہے لیکن دل کی آنکھیں جپاٹ ہوچکی ہوں تو وہ دیکھتا تو سب کچھ ہے لیکن اسے سوجھتا کچھ بھی نہیں ! یہاں قلوب کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 45–46

46۔ 1 اور جب کوئی قوم ضلالت کے اس مقام پر پہنچ جائے کہ عبرت کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے، تو ہدایت کی بجائے، گذشتہ قوموں کی طرح تباہی اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ آیت میں عمل و عقل کا تعلق دل کی طرف کیا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عقل کا محل دل ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ محل عقل دماغ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں، اس لئے عقل و فہم کے حصول میں عقل اور دماغ دونوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–47

26: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن اس آیت کو سمجھنے کے لیے اتنی تشریح کافی ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

افلم یسیروا فی ……فی الصدور (46) گزشتہ زمانے کی ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈرات کا تصور ہی مفید اور عبرت آموز ہوتا ہے۔ انسان ان کو پھٹی پھٹی نظروں سے حیرانی کے ساتھ دیکھتا ہے اور یہ کھنڈرات انسان کو خاموشی کی زبان سے بہت کچھ بتاتے ہیں۔ افلم یسیروافی الارض (22 : 36) ” کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ “ کہ دیکھیں اور انہیں معلوم ہو کہ کیا کیا لوگ یہاں رہ گئے ہیں۔ یہ کھنڈر ان کو خاموشی کی زبان میں بہت کچھ بتا دیں گے اور کہہ دیں گے کہ دیکھو کہ ہم دیکھنے والوں کے لئے عبرت ہیں فتکون لھم قلوب یعقلون بھا (22 : 36) ” کہ ان کے دل و دماغ سمجھنے والے ہوتے۔ “ تاکہ وہ سمجھیں کہ ان مٹے ہوئے کھنڈرات کی پشت پر تاریخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ان تباہ شدہ مقامات کے کھنڈر دیکھ کر کبھی غور و فکر نہ کیا، ورنہ ان کو سچی بات کی سمجھ آجاتی اور کان کھل جاتے۔ 9 یعنی آنکھوں سے دیکھ کر اگر دل سے غور نہ کیا تو وہ نہ دیکھنے کے برابر ہے۔ گو اس کی ظاہری آنکھیں کھلی ہوں پر دل کی آنکھیں اندھی ہیں۔ اور حقیقت میں زیادہ خطرناک اندھا پن وہی ہے جس میں دل اندھے ہوجائیں۔ (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ ” اگر یہ لوگ عقل اور سمجھ سے کام لیتے تو پیغمبروں کو جھٹلانے والی قوموں کی بستیوں کے کھنڈرات کو دیکھ کر عبرت پکڑتے اور اصل بات کی تہہ تک پہنچتے۔ اس آیت میں ایک بہت اہم نکتہ بیان ہوا ہے کہ یہاں لفظ ”قلب“ کے ساتھ عقل اور سمجھنے کے تعلق کی بات ہوئی ہے۔ یہ بات کئی دفعہ اس سے پہلے بھی میں دہرا چکا ہوں کہ انسان ایک مرکب وجود کا حامل ہے۔ اس مرکب کی ایک اکائی تو اس کا جسم ہے جو خالص ایک حیوانی وجود ہے۔ اس وجود میں حیوانوں کی تمام تر خصوصیات faculties موجود ہیں۔ اس لحاظ سے انسان گویا اعلیٰ ترین حیوان ہے ‘ یعنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

74 یعنی ان تباہ شدہ بستیوں سے جو ان کے راستہ میں پڑتی ہیں یہ لوگ کبھی بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ ان بستیوں کا ایسا انجام کیوں ہوا ؟ مگر یہ باتیں سوچنے کے لئے تو دیدہ بینا چاہئے اور وہ ان میں ہے نہیں۔ عبرت حاصل کرنے کے لئے آنکھ کی بینائی کی ضرورت نہیں دل کی بینائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے : دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر مقام پر عقل، فہم، فکر، سوچ کو دل سے متعلق کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام قسم کے جذبات مثلاً محبت، ہمدردی، رحم، اخوت اور اس کے برعکس جذبات مثلاً نفرت، کینہ، بغض حسد سب کا منبع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82۔ جغرافیہ، تاریخ، اثریات (آرکیالوجی) کا علم اگر محض علم وفن کی حیثیت سے نہیں بلکہ عبرت پذیری کی غرض سے پڑھا جائے تو داخل عبادت ہے۔ 83۔ سبق عبرت وموعظت حاصل کرنے کی جگہ دل ہے۔ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ ان نہ سمجھنے والوں کے دل ہی اندھے ہوگئے ہیں، ظاہری آنکھوں سے دیکھتے سب کچھ ہیں۔ گزشتہ برباد قوموں کے حالات، اور ان کی تہذیب و تمدن بھی، لیکن سبق ان سے کچھ نہیں حاصل کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–48

آیت نمبر 39 تا 48 ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افلم یسیروا فی الارض فکتون لہم قلوب یعقلون بہا او اذان یسمعون بہا۔ سو کیا یہ (منکر) لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے کہ ان سے سمجھنے لگتے اور ایسے کان ہوجاتے جن سے وہ سننے لگتے۔ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْاکا عطف ایک محذوف فعل پر ہے پورا کلام اس طرح ہوگا کیا یہ لوگ گھروں سے نہیں نکلے اور ملک میں گھومے پھرے نہیں۔ یَعْقِلُوْنَ بِہَا یعنی ایسے دل ہوتے جن سے وہ ان امور کو سمجھتے جن کو سمجھنا لازم ہے ‘ یعنی ان کو بصیرت حاصل ہوتی جن سے اللہ کی توحید کامل کو سمجھتے۔ اَوْ اٰذَانٌ۔۔ یا ان کے کان ہوتے جن سے حق کی آواز سنتے۔ گویا ملک میں چلنے پھرنے کا نتیجہ یہ نکلتا کہ توحید کو سمجھنے والی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(46) تو کیا یہ کفار مکہ اپنی تجارتوں کے سلسلہ میں ملک میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے علاوہ اور قوموں کا کیا حشر ہوا، اس کو دیکھ کر ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوجائے اور یہ غور وفکر کرنے لگیں یا ان کے کان ایسے ہوجائیں کہ حق اور خوف کی بات کو سننے لگیں مگر بات یہ ہے کہ بغیر عبرت کے دیکھنے یا یہ کہ کلمہ شرک سے آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ حق اور ہدایت کی طرف سے دل اندھے ہوجایا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : عرب کے لوگ تجارت کے لیے دور دراز سفر کرتے تھے، چناچہ وہ گرمیوں میں شام کی طرف اور سردیوں میں یمن کی طرف جاتے تھے۔ سورة قریش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس انعام کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ یمن قوم عاد کا مسکن تھا اور شام کے سفر میں مدائن صالح اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر سے ان کا گزر ہوتا تھا، قوم لوط کے متعلق فرمایا : (وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ 137؀ۙوَبِالَّيْلِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ الصافات : 137، 138 ] ”اور بلاشبہ تم یقیناً صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟“ اور قوم لوط اور قوم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یسیروا فی الارض یعنی کفار مکہ ان اجڑی بستیوں کو نہیں دیکھتے تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ڈریں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کہ کہیں ان پر بھی وہ نازل نہ ہوجائے جو ان سے پہلے لوگوں پر نازلل ہوا تھا۔ فتکون لھم قلوب یعقلون بھا سمجھنے کی نسببت قلب کی طرف کی کیونکہ سمجھ کا محل وہی ہے جس طرح سننے کا محل کان ہے۔ بعض علماء نے کہا : سمجھنے کا محل دماغ ہے اور امام ابوحنیفہ سے مروی ہے اور جو ان سے مروی ہے صحیح ہے فانھا لا تعمی الابصار فراء نے کہا : ھاء عماد ہے یہ بھی جائئز ہے کہ فانہ کہا جائے ؛ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ معنی ایک ہی ہے مذکر خبر کی بنا پر ہے اور تانیث ابصار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب التفکر میں ابن دینار (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ لوہے کے جوتے اور ایک لاٹھی بناؤ پھر زمین میں چلو پھرو۔ اور زمین میں نشانات اور عبرتوں کو ڈھونڈو۔ یہاں تک کہ جوتے گھس جائیں اور لاٹھی ٹوٹ جائے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فانہا لاتعمی الابصار سے مراد ہے یہ سروں کی آنکھیں کیا ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منافع کا باعث بنایا لیکن نفع دینے والی آنکھیں وہ ہیں جو دل میں ہیں۔ ہم کو ذکر کیا گیا کہ یہ آیت عبداللہ بن زائدہ یعنی ابن ام مکتوم ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3۔ حکیم ترمذی نے بوادر الاصول میں اور ابو نصر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا : تو کیا انھوں نے سیر نہیں کی ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَتَكُوْنَ : تاکہ ہوتے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ قُلُوْبٌ: کچھ ایسے دل ] [ يَّعقلوْنَ : وہ لوگ عقل کرتے ] [ بِهَآ : جن سے ] [ اَوْ اٰذَان : یا کچھ ایسے کان ] [ يَّسْمَعُوْنَ : وہ لوگ سنتے ] [ بِهَا : جن سے ] [ فَانهَا : تو حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا تَعْمَى: اندھی نہیں ہوتیں ] [ الْاَبْصَارُ : آنکھیں ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ تَعْمَى: اندھے ہوتے ہیں ] [ الْقُلُوْبُ : دل ] [ الَّتِيْ : وہ جو ] [ فِي الصُّدُوْرِ : سینوں میں ہیں ] (آیت۔ 46) ۔ فَاِنَّھَا میں اِنَّھَا ضمیر الشان ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 46 ۔ کا مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–46

ہلاک شدہ بستیوں کی حالت اور مقام عبرت ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں نے جھٹلا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد (جو حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور قوم ثمود (جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے لوگ (جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے) ان سب نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان حضرات نے صبر کیا اور دعوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–51

تسلیۂ رسالت مآب وتہدید کفار بر استعجال عذاب ووعدہ مغفرت و رزق کریم برائے اہل طاعت ووعید عذاب جحیم برائے اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ وان یکذبوک فقد کذبت قبلہم قوم نوح .... الیٰ .... اولئک اصحب الجحیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے جدال و قتال اور ان کی ایزاء رسانی کی بناء پر مسلمانوں کو جہاد قتال کی اجازت دی گئی اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کفار کی مخالفت اور تکذیب اور عداوت سے ملول نہ ہوں ہمیشہ سے عام انبیاء کی تکذیب ہوتی چلی آئی ہے اور کافروں نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا اور یہ کافر ملک شام کو جاتے ہوئے راستہ میں ان مقامات سے گزرتے ہیں جہاں ان پر عذاب نازل ہوا تھا پھر بھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

60:۔ ” اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا الخ “ اس میں سیر و سیاحت کر کے اقوام سابقہ کے آثار باقیہ دیکھ کر ان سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ان معاندین کے دل اندھے اور بہرے ہیں جو نہ حق کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ حق بات تک ان کی رسائی ہوسکتی ہے اگر یہ لوگ گذشتہ مفکر و معاند اقوام کی تباہی و بربادی کے نشانات اپنی آنکھوں سے جا کر دیکھیں منکر تو شاید ان کے دلوں کی آنکھیں کھل جائیں اور ان کے دل اللہ کی توحید کو سمجھنے اور قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ فتکون لھم قلوب یعقلون بھا ای یعلمون ما یجب ان یعلم من التوحید (روح ج 17 ص 0167) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–51

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ مظلوم اہل ایمان کی مدد کا وعدہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ، اگر اللہ انہیں زمین میں اقتدار عنایت فرمائے گا تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے ، نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ یہ ان کا منشور ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مکذبین کو تنبیہ فرمائی اور حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر قوم نے اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ پھر اللہ نے مہلت دے کر انہیں مبتلائے عذاب کیا۔ بہت سی بستیوں کے باشندے ظالم تھے جنہیں اللہ نے ہلاک کیا اور تمام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِہَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِہَا۝ 0ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ۝ 46 سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–48

مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْافِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْاٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَاج فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ۔ (الحج : 66) (کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ( ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل ایسے ہوجاتے جن سے وہ (حق کو) سمجھتے۔ یا ان کے کان ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سنتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔ ) عبرت پذیری سے گریز کا انجام اللہ تعالیٰ نے جن بستیوں اور جن قوموں کو تکذیبِ رسل کے نتیجے میں ہلاک کیا وہ تو یقینا اپنے برے انجام کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی کی بنیادی وجہ۔ بڑی بڑی اقوام کی تباہی کا تذکرہ کرنے کے بعد اہل دنیا کو دعوت فکر دی ہے کہ کیا انھوں نے دنیا کا جغرافیہ نہیں دیکھا اور تاریخ عالم کو نہیں پڑھا کہ تباہ و برباد ہونے والے لوگ زمین پر اس طرح دندناتے پھرتے تھے کہ ان کے دبدبہ کی وجہ سے مخلوق کانپتی تھی۔ ان کی زبان جنبش کرتی تو لشکر و سپاہ حرکت میں آجاتے۔ یہ لوگ اپنے محلات سے باہر نکلتے تو ہٹو بچو کی صدائیں بلند ہوتی تھیں جس راستہ سے گزرتے لوگ ان کا جاہ و جلال دیکھ کر ساکت وجامد رہ جاتے تھے۔ ان کو دیکھ کر کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ کبھی زوال پذیر اور تباہ ہوں گے۔ لیکن جب رب ذوالجلال کے عذاب کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46: اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ (کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں) اس میں سفر پر آمادہ کیا گیا تاکہ ان لوگوں کے بچھڑنے کے مقامات ملاحظہ ہوں جن کو کفر باللہ کی پاداش میں ہلاک کردیا گیا اور یہ لوگ ان آثار کا مشاہدہ کر کے عبرت حاصل کریں۔ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْاٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا (پس ان کے دل ایسے ہوتے جن سے وہ ان امور کو سمجھتے یا ان کے کان ہوتے جن سے وہ سنتے) یعنی ان باتوں کو سمجھتے جن کو توحید وغیرہ میں سے سمجھنا ضروری ہے اور ان باتوں کو سنتے جن کا وحی میں سے سننا لازم ہے۔ فَاِنَّھَا لَاتَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِیْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 46۔ افلم یسیروا فی الارض۔ اس سے مراد کفار مکہ ہیں کہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ماقبل امتوں کا کیا حشر کیا جنہوں نے انبیاء کرام کو جھٹلایا۔ ” فتکون لھم قلوب یعقلون بھا اور آذان یسمعون بھا، جو ہم نے ماقبل اقوام کا تذکرہ کیا ان سے عبرت حاصل کرو۔ فانھالاتعمی ۔۔ التی فی الصدور کو بطور تاکید کے ذکر کیا۔ جیسا کہ اللہ کا قول ہے ، یطیر بجناحیہ، اس کا معنی ہوگا کہ اعمی ضار سے مراد دل کا اندھا، اور اعمی البصر یہ دین کے امور میں ضرر نہیں دیتا۔ قتادہ کا قول ہے کہ آنکھ کی بینائی پہنچنے اور فائدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ ہے اور دل کی بینائی حقیقت میں فائدہ بخش بینائی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–48

45۔ 48:۔ اوپر ذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی ‘ مہلت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ڈھیل کو بحال نہیں رکھا اور ان نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں میں پکڑلیا ‘ ان آیتوں میں اس کی یہ تفسیر فرمائی کہ ان نافرمان لوگوں کی بستیاں اس طرح ناگہانی عذابوں سے ہلاک کردی گئیں کہ مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانات چھتوں کے بل الٹ دیئے گئے ‘ قوم ثمود کے پکے پکے مکانات اور بڑے بڑے کار آمد کنویں نکمے پڑے رہ گئے ‘ آگے فرمایا ‘ یہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں ‘ اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں ‘ پھر فرمایا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–46

آیت 42 اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٓ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے (فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود۔ وقوم ابراہیم و قوم لوط۔ واصحب مدین وکذب موسی) ” بلاشبہ ان سے پہلے قوم نوح نے، عاد وثمود نے، قوم ابراہیم و قوم لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی۔ “ (فاملیت للکفرین) یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–52

تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

97 عبرت پذیری کی دعوت و ترغیب : سو عبرت پذیری کی دعوت و ترغیب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں (عبرتوں بھری) اس زمین میں۔ یہ استفہام تحفیض و تقریع کے لئے ہے، یعنی ان لوگوں کو چل پھر کر ایسے کھنڈرات دیکھنے چاہئیں تاکہ یہ سبق لے سکیں اور عبرت پکڑسکیں، مگر افسوس کہ انسان کی حالت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اس نے ایسے مقامات پر عبرت کی آنکھیں بالعموم بند کر رکھی ہوتی ہیں، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے، چناچہ آج بھی جو لوگ موہنجو ڈارو، ہڑپہ اور ٹیکسلا وغیرہ کے آثار قدیمہ دیکھنے جاتے ہیں، وہ محض تفریح، کھیل تماشا، اور فوٹو گرافی وغیرہ کے لئے جاتے ہیں، عبرت پزیری کی کوئی بات ان کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–51

لڑائی کی اجازت تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–48

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ (جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ) اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی ان کے ظاہری حواس (کان، آنکھ) تو صحیح سلامت ہیں مگر دل اندھے ہوگئے ہیں ان میں فکر و تدبر کی صلاحیت نہیں رہی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–47

(22:47) یستعجلونک۔ یستعجلون۔ مضارع جمع مذکر غائب استعجال (استفعال) مصدر۔ وہ جدہ مانگتے ہیں۔ وہ عجلت چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلدی آجائے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر ۔ تجھ سے۔ تعدون۔ عد سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم شمار کرتے ہو۔ تم گنتے ہو۔ مما تعدون۔ جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو۔ یعنی تمہارے شمار کے مطابق۔ عدد مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–48

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 48 : کذبت (جھٹلایا گیا) ‘ املیت (میں نے مہلت۔ میں نے ڈھیل دی) ‘ نکیر (میرا ) انکار ‘ کأین (کتنی ہی) ‘ قریۃ (آبادی۔ بستی) خاویۃ (گرنے والی) ‘ عروش (عرش) (چھتیں) ‘ بئر (کنواں) ‘ معطلۃ (بےکار) ‘ قصر (محل) ‘ مشید (چونے سے بنائی گئی مضبوط عمارت) ‘ لم یسیروا (وہ نہ چلے) ‘ لاتعمی (اندھی نہیں ہوتی) ‘ الصدور (صدر) (سینہ) ‘ یستعجلون (وہ جلدی کررہے ہیں) ‘ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا) ‘ الف سنۃ (ایک ہزار سال) ‘ تعدون (تم گنتے ہو شمار کرتے ہو) ‘ الی (میری طرف) ‘ المصیر (ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ تشریح آیات نمبر 42 تا 48 : آپ نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ کفار و مشرکین نبی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–48

(ف 1) نافرمانوں کے عذاب کا ذکر : اوپرذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی مہلت کے بعداللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں گرفتار کیا اور پھر دیکھو ہماری پکڑ بھی کیسی ہے کیسے سخت عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کسی پر طوفان آیا کسی پر آندھی ، کوئی کڑک کی دہشت ناک آواز سے ہلاک ہوا کسی پر مچھروں کا لشکرمسلط کیا کسی کو زمین میں دھنسا دیا کسی پر پتھر برسائے آگے فرمایا کہ بہت سے ظالم لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانوں کو چھت کے بل الٹ دیا پھر فرمایا کہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے ہیں اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–46

[36] ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال دماغ، سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں حتیٰ کہ کسی چیز کے '' یاد ہونے '' کو بھی یوں کہتے ہیں کہ وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یعنی وسوسہ کا تعلق جب دل میں رشد وہدایت کی صلاحیت نہ ہو تو پھر مشاہدات کا انکار بھی ممکن ہے اور اگر یہ مضغہ گوشت ہو تو پھر ادنی اشارات بھی ہدایت کی جانب راہ نمائی کرسکتے ہیں ، بات یہ تھی کہ منکرین حضور ﷺ کو شب وروز دیکھتے تھے ، اور ان کے احوال و عادات سے واقف تھے ، ان کو معلوم تھا کہ ہر وقت اللہ کی تائید آپکے شامل حال ہے اور آپ خدا کے سچے پیغمبر ہیں ۔ وہ ہر آن ملاحظہ کرتے تھے کہ آپ انوار و تجلیات کے حامل ہیں ، اور کائنات کا ذرہ ذرہ آپ کی تائید میں ہے ، مگر پھر بھی انکار کرتے گویا آفتاب کو دیکھتے اور آنکھیں بند کرلیتے ، اس کی تمازت کو محسوس کرتے ، اور منہ لپیٹے ہوئے غفلت و انکار کے لحاف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) سو کیا یہ منکر لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس سے ان کے دل ایسے ہوجاتے ہیں کہ ان سے سمجھنے لگتے اور کان ایسے ہوجاتے کہ ان سے سننے لگتے۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ وہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ یعنی سفر کرتے اور ان تباہ شدہ بستیوں کو دیکھتے تو ان کی کچھ عبرت ہوتی تب تو شاید ان کے دلوں سے گمراہی اور کانوں سے شقادت کا ثقل دور ہوجاتا ہے واقعہ یہ ہے کہ کچھ آنکھوں کا اندھا ہوجانا نقصان رساں نہیں ہے بلکہ دل کے اندھے ہوجاتے ہیں تو پھر ہدایت مستبعد ہوجاتی ہے ورنہ امم سابقہ کے حالات ہی سے اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ نافرمانی حضرت حق تعالیٰ کو پسندیدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–47

ف 1۔ سو ان کے بھی وہی دل اندھے ہور ہے ہیں، ورنہ امم مذکورہ کی حالت سے سمجھ لیتے کہ فی الواقع کفر ناپسندیدہ حق ہے جب تو اس پر عذاب آیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان پر ان کو غور کرنے کا موقع ملا ہو : 46۔ فرمایا کیا ان لوگوں نے ان آثار قدیمہ کی طرف کبھی توجہ نہیں کی اور ان کی سیر کرنے کے لئے گھر سے کبھی نہیں نکلے کہ ان کو دیکھ کر یہ لوگ عبرت حاصل کرتے اور ان کو سننے ‘ سوچنے ‘ سمجھنے اور دیکھنے کی قوتیں بیدار ہوتیں ۔ اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ انسان کو چلتے پھرتے اور آتے جاتے جن چیزوں پر اس کی نظر پڑے اس کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھے تو بھی بغور دیکھے اور اپنی بصیرت کی آنکھیں بھی وا کرے اور پیچھے تک دیکھتا چلا جائے اور اس طرح پھر نظر بصیرت کو واپس لوٹائے تو اپنے پیچھے کی طرف دیکھے تو دور تک دیکھتا جائے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Travels undertaken to acquire insight into things and to learn lessons from the past is one of the religious objectives أَفَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ (Have they not, then, travelled on earth so that they should have hearts - 22:46) This verse encourages travel, provided the person travelling keeps his eyes wide open and imbibes in his mind the lessons of history. The phrase فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ (so that they should have hearts - 22:46) suggests that a person can gain wisdom and intelligence by a careful study of the history of bygone times and an…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

91. The words“blinded are the hearts”have been used in the metaphorical and not in the literal sense. Since the heart is regarded as the center of emotions, feelings and of mental and moral qualities, these words have been used to imply that their obduracy has inhibited them from feeling and acting rationally.

Read the full tafseer →