Al-Hajj 22:45

Al-Hajj · from ayah 45

22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰی عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ ۟فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ‏

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And how many a city did We destroy while it was committing wrong - so it is [now] fallen into ruin - and [how many] an abandoned well and [how many] a lofty palace.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 6 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:45

کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

غرض کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ ظلم کر رہی تھیں، چنانچہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں، اور کتنے ہی کنویں جو اب بیکار ہوئے پڑے ہیں، اور کتنے پکے بنے ہوئے محل (جو کھنڈر بن چکے ہیں)۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) کہ وہ ستمگار تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے اور کتنے محل گچ کیے ہوئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر کتنی ہی (ایسی) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (ان کی ہلاکت سے) کتنے کنویں بے کار (ہوگئے) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے (ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے اس حال میں ہلاک کیا کہ وہ ظالم تھیں، پس وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی ہیں اور کتنے ہی بےکار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں اور چونہ گچ محل۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کتنی ہی بستیاں ہیں جو خطار کار تھیں، انھیں ہم نے ہلاک کردیا تو اب وہ اپنے چھتوں پر گری پڑی ہیں، ان کے کنویں بےکار اور پلستر شدہ محلات ویران پڑے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کتنی ہی بستایں ہیں، جن کو ان کے ظلم کی حالت میں ہم نے لہاک کردیا تو وہ اپنی چھتوں پر ڈھئی پڑی ہیں اور کتین ناکارہ کنوئیں اور کتنے پختہ محل ہیں جو ویران پڑے ہوئے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو کتنی ہی بستیاں ایسی تھی جن کو ہم نے تباہ کر ڈالا جب کہ وہ اڑی رہیں اپنے ظل پر، سو دیکھو کہ اب وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر اور کتنے ہی کنوئیں ہیں بےکار پڑے ہوئے اور کتنے ہی بلند وبالا اور مضبوط محل ہیں جو کھنڈر بنے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کرڈالا جو نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی بےکار کنوئیں اور بہت سے قلعی چونے کے محل !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا اور وہ ظالم تھیں تو وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر اور کتنے ہی ناکارہ کنویں (بند پڑے ہیں) اور کتنے ہی مضبوط بنائے ہوئے محل (بھی ویران پڑے ہیں)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں ‘ بہت سے کنویں بےکار اور بہت سے محل ویران پڑے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

How many towns have We destroyed because their people were steeped in iniquity: so they lie fallen down upon their turrets! How many wells lie deserted; and how many towering palaces lie in ruins!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

How many towns have We destroyed, as they were wrongdoers! So, they are fallen down on their roofs, and (how many a) deserted well and (how many a) well-built castle!

— Muhammad Taqi Usmani

How many towns have We destroyed, as they were wrongdoers! So, they are fallen down on their roofs, and (how many a) deserted well and (how many a) well-built castle!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins, and a deserted well and castle Mashid!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How many a township have We destroyed while it was sinful, so that it lieth (to this day) in ruins, and (how many) a deserted well and lofty tower!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And how many a city did We destroy while it was committing wrong - so it is [now] fallen into ruin - and [how many] an abandoned well and [how many] a lofty palace.

— Saheeh International

How many were the unjust dwellers of the towns that We destroyed. From their trellises to their lofty mansions, all were toppled and their wells were abandoned.

— Muhammad Sarwar

So how many a town did We destroy while it was unjust, so it was fallen down upon its roofs, and (how many a) deserted well and palace raised high.

— Muhammad Habib Shakir

How many a city have We destroyed, while it was a wrong- doer--and it lieth overturned on its roofs, -and how many a well abandoned and how many a castle fortifred!

— Abdul Majid Daryabadi

How many populations have We destroyed, which were given to wrong-doing? They tumbled down on their roofs. And how many wells are lying idle and neglected, and castles lofty and well-built?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–46

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 90 عرب میں کنواں اور بستی قریب قریب ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں۔ کسی قبیلے کی بستی کا نام لینا ہو تو کہتے ہیں ماء بنی فلان یعنی فلاں قبیلے کا کنواں۔ ایک عرب کے سامنے جب یہ کہا جائے گا کہ کنوئیں بیکار پڑے ہیں تو اس کے ذہن میں اس کا یہ مطلب آئے گا کہ بستیاں اجڑی پڑی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–45

خلاصہ تفسیر اور یہ (مجادلہ کرنے والے لوگ) اگر آپ کی تکذیب کرتے ہوں (تو آپ مغموم نہ ہوں کیونکہ ان لوگوں سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط اور اہل مدین بھی (اپنے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی) تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ ؑ کو بھی کاذب قرار دیا گیا (مگر تکذیب کے بعد) میں نے ان کافروں کو (چند روز) مہلت دی جیسے آج کے منکروں کو مہلت دے رکھی ہے پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا۔ غرض کتنی بستیاں ہیں جن کو ہم نے (عذاب سے) ہلاک کیا جن کی یہ حالت تھی کہ وہ نافرمانی کرتی تھیں تو (اب ان کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں (یعنی ویران ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قصر مشیہ کا مفہوم قصر مشید پختہ اور بلند ایوان و محل کو کہتے ہیں اور عربیت کے قاعدے کے مطابق جس طرح بئر کے ساتھ معطلۃ کی صفت ہے اسی طرح اس کے ساتھ بھی متروک و مہجوریا اس کے ہم معنی کوئی صفت ماننی پڑے گی جو وضاحت قرینہ کی بنا پر، حذف کردی گی ہے۔ قوموں کے اخلاقی زوال کے نتائج اوپر والی آیت میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے یہ اسی کی شہادت ملک عرب کے ان آثار سے پیش کی گی ہے جن پر سے اہل عرب کے تجارتی قافلے برابر گزرتے تھے اور جن کی روایات، جیسا کہ ان کے شعراء اور خطباء کے کلام سے واضح ہے، ان کے ہاں مشہور تھیں۔ فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ کتنے ہی شہر اور بستیاں ہیں جن کو ان کے کفران نعمت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 45–46

46۔ 1 اور جب کوئی قوم ضلالت کے اس مقام پر پہنچ جائے کہ عبرت کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے، تو ہدایت کی بجائے، گذشتہ قوموں کی طرح تباہی اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ آیت میں عمل و عقل کا تعلق دل کی طرف کیا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عقل کا محل دل ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ محل عقل دماغ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں، اس لئے عقل و فہم کے حصول میں عقل اور دماغ دونوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–47

26: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن اس آیت کو سمجھنے کے لیے اتنی تشریح کافی ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

گزشتہ ہلاک شدہ اقوام پر ایک نہایت سرسری نظر ڈالنے کے بعد اب گزشتہ ہلاک شدہ اقوام پر جامع تبصرہ۔ فکاین من ……مشید (45) ایسی ہلاک شدہ بستیاں بیشمار ہیں۔ انداز کلام ان اقوام کی ہلاکتوں کے مناظر کو ایک منظر کی صورت میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ انسان کہتا ہے کہ وہ ہیں ہلاک شدہ بستیوں کے کھنڈرات۔ بڑے بڑے محل چھتوں کے اوپر پڑے ہیں۔ حالانکہ وہ دیواروں پر استوار تھے۔ جب کرے تو چھتیں نیچے اور تمام عمارتی ڈھانچہ ان کے اوپر۔ اس طر یہ منظر نہایت ہی و عشتاک ، دلدوز اور پرتاثیر بن جاتا ہے۔ یہ کہ یہ منظر اس کا مستحق ہے کہ اس کی سابق اور موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے۔ کھنڈرات میں جب انسان پھرتا ہے تو وہ بہت ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی بنیادیں ہلنے سے اول چھتیں گرپڑیں پھر دیواریں اور سارا مکان گر کر چھت کے ڈھیر پر آرہا۔ یہ ان کے تہ وبالا ہونے کا نقشہ کھینچا ہے۔ 7 یعنی کنویں جن پر پانی کھینچنے والوں کی بھیڑ رہتی تھی۔ آج ان میں کوئی ڈول پھانسنے والا نہ رہا۔ اور بڑے بڑے پختہ، بلند عالیشان، قلعی چونے کے محل ویران کھنڈر بن کر رہ گئے۔ جن میں کوئی بسنے والا نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ” اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جس جس بستی کو ہلاک کیا ان کے باسی مجرم اور گناہگار تھے۔ جب بھی کوئی بستی کفر و شرک اور دوسرے گناہوں کے سبب معصیت اور برائی کا مرکز بن جاتی تو اس کا وجود معاشرے کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا۔ چناچہ جس طرح انسانی جسم کا کوئی حصہ گل سڑ کرّ متعفن مواد سے بھر جائے تو باقی جسم کو محفوظ رکھنے کے لیے اس حصے یا عضو کو کاٹ پھینکنا نا گزیر ہوجاتا ہے ‘ بالکل اسی طرح اللہ کی مشیت سے ہر ایسی بستی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ وَبِءْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ ” ان تباہ ہونے والی بستیوں میں کتنے کنویں ہوں گے جو کسی وقت بڑی محنت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

73 یعنی رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام یہ ہوا کہ ان کی پررونق اور پربہار آبادیاں اور شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ اس عذاب نے صرف آدمیوں کا ستیاناس نہیں کیا بکہ ان کے تعمیر شدہ مکانات بھی زمین بوس ہوگئے۔ کنوئیں ویران ہوگئے۔ جن سے آسانی سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کبھی یہاں انسانوں کی کثیر تعداد آباد ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

81۔ یعنی ان کے ٹوٹے ہوئے قلعہ اور محل اور ان کے اجڑے ہوئے کنوئیں اب تک ان کے گزشتہ تمدن کی نشاندہی کررہے ہیں۔ (آیت) ” بئرمعطلۃ “۔ کنووں کو قدیم تمدن ومعاشرت میں مرکزی اہمیت حاصل تھی، اب بھی جہاں پانی کے نلوں اور پمپوں کا رواج نہیں، کنواں آبادی وبستی کے اندر بڑی اہم چیز ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–48

آیت نمبر 39 تا 48 ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فکاین من قریہ اہلکنہا وہی ظالمۃ فہی خاویۃ علی عروشہا اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کردیا کیونکہ وہ ظالم تھیں سو اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ بستیوں کو تباہ کردیا ‘ یعنی بستیوں والوں کو کیونکہ وہ لوگ ظالم تھے۔ (ظلم کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو بےجگہ رکھنا) انہوں نے بھی مشرکانہ پوجا کو اللہ کی عبادت کے قائم مقام بنا لیا تھا اللہ کا انکار کرتے تھے اور بتوں کو مانتے تھے۔ فہی پس وہ یعنی ان کے مکانوں کی دیواریں چھتوں پر ڈھئی پڑی ہیں یعنی پہلے چھتیں گریں پھر ان کے اوپر سے دیواریں آپڑیں۔ اس مطلب پر عَلٰی عُرُوْشِہَاکا تعلق خاویۃٌسے ہوگا۔ اور خاویۃٌ کا مطلب ڈھنے والی یا گرنے والی یا خاویۃ کا معنی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(45) غرض کہ کتنی بستیوں والے جن کو بذریعہ عذاب ہم نے ہلاک کیا ہے جن کی حالت یہ تھی کہ وہ شرک اور نافرمانی کرتی تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور اسی طرح ان بستیوں میں کتنے بےکار کنوئیں پڑے ہیں کہ کوئی ان کا مالک اور ان میں سے پانی کھینچنے والا نہیں اور بہت سے بڑے مضبوط قلعے پڑے ہیں کہ کوئی ان میں رہنے والا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ۔۔ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (259) کی تفسیر۔ ”َبِئْرٍ“ مؤنث سماعی ہے، اس لیے اس کی صفت ”مُّعَطَّلَةٍ“ آئی ہے۔ ”مَّشِيْدٍ“ ”شَادَ یَشِیْدُ شَیْدًا“ (ض) سے اسم مفعول ہے، چونے کے ساتھ مضبوط کیا ہوا۔ یہ مجرد ثلاثی سے ہے، جب کہ سورة نساء کی آیت (78) : (وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ) میں باب تفعیل یعنی ثلاثی مزیدفیہ استعمال ہوا ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، کیونکہ وہاں موت کا ذکر ہے کہ خواہ تم چونے کے ساتھ بنے ہوئے محکم سے محکم قلعوں میں ہو موت تمہیں وہاں بھی نہیں چھوڑے گی۔ موت کی دسترس کے اظہار کے لیے ”مُّشَـيَّدَةٍ“ (باب تفعیل)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–45

یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے یعنی آپ سے پہلے انبیاء بھی جھٹلائے گئے پس انہوں نے صبر کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا آپ ان کی اقتدار کریں اور صبر کریں۔ وکذب موسیٰ فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ علیہ اللسلام کو جھٹلایا رہے بنو اسرائیل تو انہوں نے آپ کو نہ جھٹلایا اسی وجہ سے اس کا ماقبل پر عطف نہیں کیا ورنہ ہوتا وقوم موسیٰ ، فاملیت للکفرین یعنی سزا کو ان سے مؤخر کیا گیا۔ ثم اخذتھم پھر میں نے انہیں سزا دی۔ فکیف کان نکیر۔ استفہام بمعنی تغیری ہے یعنی دیکھو کیسے میں نے ان نعمتوں کو عذاب اور ہلاک کے ساتھ بدلا تھا جن نعمتوں میں وہ تھے، اسی طرح میں قریش کے مکذبین کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فہی خاویۃ علی عروشہا سے مراد ہے کہ وہ ویران پڑی ہیں ان میں کوئی رہنے والا نہیں آیت وبئر معطلۃ یعنی ان کنوؤں کے مالکوں نے ان کو بیکار کردیا ہے اور ان کو چھوڑ دیا۔ آیت وقصر مشید یعنی انہوں نے مضبوط محل بنائے تھے پھر وہ ہلاک ہوگئے اور ان کو چھوڑ گئے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وبئر معطلۃ سے مراد ہے کہ ایسے کنویں جن کو ان کے مالکوں نے چھوڑ دیا کہ اب ان کا کوئی مالک نہیں۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقصر مشید سے مراد ہے ایسا محل جس کو چونے سے بنایا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ : تو بستیوں میں سے کتنی ہی ہیں ] [ اَهْلَكْنٰهَا : ہم نے ہلاک کیا جن کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هِىَ : وہ ] [ ظَالِمَةٌ: ظلم کرنے والی تھیں ] [ فَهِيَ : نتیجۃً وہ ] [ خَاوِيَةٌ: اوندھی پڑی ہیں ] [ عَلٰي عُرُوْشِهَا : اپنی چھتوں پر ] [ وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ : اور کتنے ہی بیکار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں ] [ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ : اور کتنے ہی مزیّن کئے ہوئے محل (خالی پڑے) ہیں ] ب ء ر [ بَأَرًا : (ف) ] گڑھا کھودنا۔ بِئْرٌ کنواں۔ (مؤنث سماعی ہے) زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔ ع ط ل [ عَطَالَۃً : (ن) ] مزدور کا بیکار ہونا۔ (تفعیل) تَعْطِیْلًا کسی چیز کا بیکار چھوڑ دینا۔ مویشیوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–46

ہلاک شدہ بستیوں کی حالت اور مقام عبرت ان آیات میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں نے جھٹلا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد (جو حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور قوم ثمود (جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے لوگ (جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے) ان سب نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان حضرات نے صبر کیا اور دعوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–51

تسلیۂ رسالت مآب وتہدید کفار بر استعجال عذاب ووعدہ مغفرت و رزق کریم برائے اہل طاعت ووعید عذاب جحیم برائے اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ وان یکذبوک فقد کذبت قبلہم قوم نوح .... الیٰ .... اولئک اصحب الجحیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے جدال و قتال اور ان کی ایزاء رسانی کی بناء پر مسلمانوں کو جہاد قتال کی اجازت دی گئی اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کفار کی مخالفت اور تکذیب اور عداوت سے ملول نہ ہوں ہمیشہ سے عام انبیاء کی تکذیب ہوتی چلی آئی ہے اور کافروں نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا اور یہ کافر ملک شام کو جاتے ہوئے راستہ میں ان مقامات سے گزرتے ہیں جہاں ان پر عذاب نازل ہوا تھا پھر بھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59:۔ ” فَکَاَیِّنْ مِّنْ الخ “ یہ اقوام سابقہ پر عذاب دنیوی کی قدرے تفصیل ہے یعنی بہت ایسی بستیاں ہیں جن کے باشندوں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغام توحید کو ٹھکرا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے ان کی بستیوں کو تہس نہس کدیا۔ کھیتیاں اور باغات تباہ کردیے یہاں تک کہ ان کے مکانات کی چھتیں زمین پر آرہیں۔ عالیشان اور مضبوط و مستحکم محلات زمین بوس ہوگئے اور آباد کنوئیں ویران و بیکار ہوگئے۔ ” ظَالِمَةٌ“ شرک کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے وہی ظالمۃ۔ ” اَھْلَکْنٰھَا “ کی ضمیر منصوب سے حال ہے حال ای واھلھا مشرکون (مدارک ج 3 ص 81) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربط آیات : گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں بیت اللہ شریف کی تعمیرنو کا ذکر ہوا ، اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یہ کہ بیت اللہ کو زائرین کے لئے پاک صاف رکھا جائے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اعلان حج کا حکم بھی دیا اور پھر حج کے بعض احکامات اور قربانی کے مسائل بیان فرمائے۔ پھر ایمان داروں کے دفاع کی ذمہ داری اٹھائی گئی۔ پھر مظلوم مسلمانوں کو جنت کی اجازت دی گئی اور اللہ نے ان سے نصرت کا وعدہ فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا فلسفہ بھی بیان کیا کہ اگر وہ بعض ظالموں کو بعض دوسروں کے ذریعے دفع نہ کرتا تو دنیا میں اس قدر فتنہ و فساد برپا ہوتا کہ کوئی عبادت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَا وَہِىَ ظَالِمَۃٌ فَہِيَ خَاوِيَۃٌ عَلٰي عُرُوْشِہَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ۝ 45 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–48

مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا وَھِیَ ظَالِمَۃٌ فَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِھَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ ۔ (الحج : 45) (اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کرڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اب اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے ناکارہ کنویں اور کتنے پختہ محل ہیں جو ویران پڑے ہیں۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ : یہ مبتدا اور مرفوع ہے۔ اور یا فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور ” اھلکنا “ اس فعل کا مفسر ہے۔ فَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِھَا ” ان کی دیواریں ان کی چھتوں پر گری پڑی ہیں “۔ یہ صورتحال کی تصویر ہے۔ بڑی عمارتوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور ” اللہ “ کے دیے ہوئے ضابطۂ حیات کو اختیار نہ کیا ان کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء اکرام کے ذریعے لوگوں کو ایک ضابطہ حیات عطا فرمایا جس کے بنیادی اصول یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے اپنا معبود اور حاکم تسلیم کریں اور اس کے دیے ہوئے نظام حیات کو خود اپناؤ اور اس کے بندوں پر اس کا نفاذ کریں۔ جس کے بنیادی اصولوں کا پچھلی آیت میں بیان ہوچکا ہے۔ کا مل اور جامع ہدایات کے باوجود دنیا کی بڑی بڑی اقوام نے اللہ کی توحید کا انکار کیا اور اس کے دئیے ہوئے ضابطہ حیات کو ٹھکرایا۔ جن میں سر فہرست قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

45: فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا (بہت سی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا) قراءت : بصری نے اھلکتُھا پڑھا ہے۔ وَھِیَ ظَالِمَۃٌ (کیونکہ وہ ظالم تھیں) نحو : یہ حال ہے یعنی ان بستیوں والے مشرک تھے۔ فَھِیَ خَاوِیَۃٌ (پس وہ گرنے والی ہیں) یہ خوی النجمؔ سے بنا ہے جبکہ ستارہ گرے۔ عَلٰی عُرُوْشِہَا (اپنے چھتوں پر) یہ خاویۃ کے متعلق ہے مطلب یہ ہے وہ اپنی چھتوں پر گرنے والی ہیں۔ یعنی ان کی چھتیں زمین بوس ہوئیں پھر دیواریں گریں اور وہ چھتوں پر جا پڑیں۔ نحو : فھی خاویۃ اس کا کوئی محل اعراب نہیں کیونکہ اس کا عطف اھلکنا ہا پر ہے اور یہ ایسا فعل ہے جس کا کوئی محل اعراب نہیں ہوتا۔ یہ ترکیب اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45۔ فکاین ، اور ان کے ساتھ ۔ من قریۃ اھلکناھا، قراء اہل بصرہ اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، اھلکناھا، نون اور الف کے ساتھ تعظیم کی بنا پر پڑھا ہے۔ ” وھی ظالمۃ “ اور اس کے اہل والے ظالم تھے۔ فھی خاویہ، ان کے اوپر گری پڑی ہیں۔ علی عروشھا، اس کی چھتیں ، وبئر معطلۃ، اور بہت سارے کنویں بےکار پڑے رہ گئے کوئی ان سے پانی نکالنے والا نہیں رہا۔ وقصر مشید۔ قتادہ ، ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد اونچے بلند۔ جیسا کہ عربی محاورہ ہے، شاد بناہ، اس کی عمارت کو اونچا کیا۔ سعید بن جبیر، عطاء و مجاہد کا قول ہے کہ شید کا معنی ہے چونا، گچ، مصالحۃ، اس لیے مشید کا ترجمہ یہ ہوا چونے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–48

45۔ 48:۔ اوپر ذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی ‘ مہلت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ڈھیل کو بحال نہیں رکھا اور ان نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں میں پکڑلیا ‘ ان آیتوں میں اس کی یہ تفسیر فرمائی کہ ان نافرمان لوگوں کی بستیاں اس طرح ناگہانی عذابوں سے ہلاک کردی گئیں کہ مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانات چھتوں کے بل الٹ دیئے گئے ‘ قوم ثمود کے پکے پکے مکانات اور بڑے بڑے کار آمد کنویں نکمے پڑے رہ گئے ‘ آگے فرمایا ‘ یہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں ‘ اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں ‘ پھر فرمایا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–46

آیت 42 اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٓ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے (فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود۔ وقوم ابراہیم و قوم لوط۔ واصحب مدین وکذب موسی) ” بلاشبہ ان سے پہلے قوم نوح نے، عاد وثمود نے، قوم ابراہیم و قوم لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی۔ “ (فاملیت للکفرین) یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–52

تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–45

87 فریضہ نماز کی عظمت و اہمیت : سو اس سے معلوم ہوا کہ فریضہ ٔ نماز سب سے اہم فریضہ اور اولین عبادت ہے، اسی لیے زمین میں اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلی ذمہ داری اسی کے بارے میں عائد ہوتی ہے، اور یہ اللہ پاک کا ارشاد فرمودہ اور عائد کردہ ایک ایسا عظیم الشان فریضہ ہے جو کہ ایمان لانے کے بعد ایک مومن پر سب سے پہلے عائد ہوتا ہے، اور اس کی محافظت مومن کی اولین ذمہ داری، اور اس کے عقیدہ و ایمان کا بنیادی تقاضا ہے، اسی لئے حضرت عمر ؓ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد اپنے ولاۃ امور کو اس کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا، اَلَا اِنَّ اَہَمَّ اُمُوْرِکُمْ عِنْدِیْ الصَّلٰوۃُ فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–51

لڑائی کی اجازت تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–48

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ (جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ) اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ یعنی ڈھے چکی ہیں اور اجاڑ پڑی ہیں۔ 10 ۔ کوئی ان سے پانی نکالنے والا اور پینے والا نہیں رہا۔ 11 ۔ کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں رہا۔ آیت میں ان کی کامل تباہی کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:45) فکاین۔ کاین اصل میں کای تھا۔ قرآنی املا میں تنوین کو بصورت نون لکھا گیا ہے۔ کاین قرآن میں ہر جگہ بصورت خبر آیا ہے ۔ گو یہ استفہام کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ مبہم کثیر تعداد پر دلالت کرتا ہے۔ ابہام کو دور کرنے کے لئے اس کے بعد عموما من بطور تمیز آتا ہے۔ فکاین من قریۃ اھلکنھا۔ پس کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا۔ وھی ظالمۃ۔ اھلکنا کے مفعول سے جملہ حالیہ ہے یعنی درآں حالیکہ وہ نافرمان تھیں۔ خاویۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث خوی یخوی (ضرب) سے خواء مصدر۔ خوی البیت۔ گھر کا گرنا۔ منہدم ہونا۔ ڈھے جانا۔ خالی ہونا۔ عروشھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی چھتیں۔ العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–48

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 48 : کذبت (جھٹلایا گیا) ‘ املیت (میں نے مہلت۔ میں نے ڈھیل دی) ‘ نکیر (میرا ) انکار ‘ کأین (کتنی ہی) ‘ قریۃ (آبادی۔ بستی) خاویۃ (گرنے والی) ‘ عروش (عرش) (چھتیں) ‘ بئر (کنواں) ‘ معطلۃ (بےکار) ‘ قصر (محل) ‘ مشید (چونے سے بنائی گئی مضبوط عمارت) ‘ لم یسیروا (وہ نہ چلے) ‘ لاتعمی (اندھی نہیں ہوتی) ‘ الصدور (صدر) (سینہ) ‘ یستعجلون (وہ جلدی کررہے ہیں) ‘ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا) ‘ الف سنۃ (ایک ہزار سال) ‘ تعدون (تم گنتے ہو شمار کرتے ہو) ‘ الی (میری طرف) ‘ المصیر (ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ تشریح آیات نمبر 42 تا 48 : آپ نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ کفار و مشرکین نبی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–48

(ف 1) نافرمانوں کے عذاب کا ذکر : اوپرذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی مہلت کے بعداللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں گرفتار کیا اور پھر دیکھو ہماری پکڑ بھی کیسی ہے کیسے سخت عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کسی پر طوفان آیا کسی پر آندھی ، کوئی کڑک کی دہشت ناک آواز سے ہلاک ہوا کسی پر مچھروں کا لشکرمسلط کیا کسی کو زمین میں دھنسا دیا کسی پر پتھر برسائے آگے فرمایا کہ بہت سے ظالم لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانوں کو چھت کے بل الٹ دیا پھر فرمایا کہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے ہیں اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–46

[36] ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال دماغ، سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں حتیٰ کہ کسی چیز کے '' یاد ہونے '' کو بھی یوں کہتے ہیں کہ وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–45

(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قانون کی وضاحت فرمائی ہے کہ باطل کو زیادہ دیر تک قیام نہیں ہوتا ، ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑ کے اور معاندین کو باوجود ان کی قوت و شوکت کے صفحہ ہستی سے ہٹا دیا جائے ۔ ارشاد ہے کہ مکذبین اور حق کو جھٹلانے والے تاریخ کے صفحات کو الٹ کر دیکھیں ، ٹوٹے ہوئے مقامات ملاحظہ کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ تکذیب رسل کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) غرض ! کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک و برباد کرڈالا اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ بستیاں یعنی ان کے رہنے والے ظالم اور نافرمانی کے خوگر ہوچکے تھے اور اب ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور بہت سے کنویں بیکار اور بہت سے چونے اور گچ گیری کے پختہ محل ویران پڑے ہوئے ہیں یعنی نافرمان بستیوں کا تباہ کردینا مجھے مشکل نہیں ہم نے بہت سی ایسی بستیوں کو ویران کردیا۔ جن کے رہنے والے نافرمانی کرتے تھے آج ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی چھتیں گری پڑی ہیں یعنی مکانات مع چھتوں کے بیٹھ گئے اور جب آبادی برباد ہوگئی تو کنویں سب بیکار ہوگئے اور بڑے بڑے چونے کے پختہ محل سب ویران ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ مراد یہ کہ ویران ہیں، کیونکہ عادة اول چھت گرجاتی ہے، پھر اس پر دیواریں آپڑتی ہیں۔ 8۔ پس اس طرح ذلت موعود پر یہ لوگ معذب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قریش مکہ کی پہلی بستیوں کو نگاہ میں رکھیں جنہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تھا : 45۔ فرمایا کہ غور کرو پہلی دعوتوں کو جھٹلانے والوں کے ساتھ کیا ہوا ؟ یہ بھی کہ وہ قومیں کتنی کتنی طاقتور تھی لیکن ان کو ڈھیر کرتے کتنا وقت لگا ؟ ان کے بڑے بڑے پختہ محلات اور آباد کنوؤں کا کیا حال ہوا ؟ اور یہ ساری شہادتیں ملک عرب سے گویا ان کے گھر ہی سے پیش کی جارہی ہیں جہاں سے عربوں کے قافلوں کا دن رات گزر ہوتا تھا اور جن کی روایات وہ ہر روز اپنے شعرا کے شعروں اور ادیبوں کی نثروں اور خطیبوں کے خطبوں میں پڑھتے اور سنتے رہتے تھے ۔ آخر ان سب کو ہم نے کیوں تباہ وبرباد کیا ؟ کیا ان سے ہماری کوئی خاص دشمنی تھی ؟ نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–45

Qur’ anic prophecy about the Rightly Guided Caliphs ( خُلفأے راشدین ) and its fulfillment الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ (Those who, when We give them power in the land - 22:41) In this verse the word (those) refers to those people who have been mentioned in the preceding verse: الَّذِينَ أُخْرِ‌جُوا مِن دِيَارِ‌هِم بِغَيْرِ‌ حَقٍّ (Those are the ones who were expelled from their homes without any just reason - 22:40). Referring to such people the verse says that if they are placed in authority in this world, they will use it to promote good deeds, will set up prayers, pay the…

Read the full tafseer →