Al-Hajj 22:49

Al-Hajj · from ayah 49

22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ۟ۚقُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَـكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‌ۚ‏

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "O people, I am only to you a clear warner."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:49

اے محمدؐ، کہہ دو کہ "لوگو، میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو (برا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے واﻻ ہی ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اے لوگو ! میں تو تمہیں وضاحت کے ساتھ خبردار کرنے والا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: اے لوگو! میں تو محض تمہارے لئے (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنانے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اے لوگو ! میں تو بس تمہارے لیے کھلم کھلاڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : لوگو ! میں تو تمہارے لئے (برے انجام سے) صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، اے لوگو ! میں تو تمہارے لئے بس ایک کھلا ہوا آگاہی پہنچانے والا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے صاف کہہ دو کہ اے لوگوں سوائے اس کے نہیں کہ میں تو صرف خبردار کردینے والا ہوں تم سب کے لئے کھول کر حق اور حقیقت کو

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو میں تو تمہارے لئے صرف ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ اعلان کردیجیے کہ میں تو تمہارے لیے بس ایک واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ فرمادیں کہ ”اے لوگو میں تو واضح ڈرانے والا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say (O Muhammad): "O people! I have been sent to you only as a plain warner (before the Doom strikes you)."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :O people, I am no more than a plain warner for you.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :O people, I am no more than a plain warner for you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "O mankind! I am (sent) to you only as a plain warner."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: O mankind! I am only a plain warner unto you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "O people, I am only to you a clear warner."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "People, I am giving you a clear warning.

— Muhammad Sarwar

Say: O people! I am only a plain warner to you.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: mankind! I am unto you only a warner manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "O men! I am (sent) to you only to give a Clear Warning:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–51

اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو ! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔ جن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 94 یعنی میں تمہاری قسمتوں کے فیصلے کرنے والا نہیں ہوں، بلکہ صرف خبردار کرنے والا ہوں۔ میرا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ شامت آنے سے پہلے تم کو متنبہ کر دوں۔ آگے فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ وہی طے کرے گا کہ کس کو کب تک مہلت دینی ہے اور کب کس صورت میں اس پر عذاب لانا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–51

آخرت کا دن ایک ہزار سال ہونے کا مطلب آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ ، یعنی آپ کے رب کے پاس ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کی برابر ہوگا۔ اس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن لیا جائے اور اس کا ایک ہزار سال کی برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن کے ہولناک واقعات اور ہیبت ناک حالات کی وجہ سے یہ دن اتنا دراز محسوس ہوگا جیسے ایک ہزار سال خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اشتداد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے بہت سے حضرات مفسرین نے اس کے یہی معنے قرار دیئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ واقع میں عالم آخرت کا ایک دن ہمیشہ کے لئے دنیا کے ایک ہزار سال ہی کے برابر ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 49–51

رسول کی اصل ذمہ داری نذیر یرمبین پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں۔ عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ قبیلہ یا قافلہ جہاں ڈیرا ڈالتا وہاں کسی اونچی جگہ پر ایک نگران پہرہ دیتا اور اگر وہ کسی طرح سے کوئی خطرہ محسوس کرتا تو اپنے کپڑے اتار کر ننگا ہوجاتا اور خطرے کا اعلان کرتا جس کے بعد قبیلہ یا قافلہ کے سارے مرد تلواریں سونت کو مدافعت کے لئے تیار ہوجاتے۔ اس کو نذیر عریاں کہتے تھے۔ یہ تعبیر چونکہ ناشائستہ تھی، نبی کے لئے اس کا استعمال موزوں نہ تھا، اس وجہ سے قرآن نے اس کو نذیر مبین کی شکل میں شائستہ بنا لیا ہے لیکن اس میں تلمیح نذیر عریاں ہی کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک نذیر عریاں قوم کو خطرے سے اگٓاہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یہ کفار و مشرکین کے مطالبہ پر کہا جا رہا ہے کہ میرا کام تو عذاب بھیجنا، یہ اللہ کا کام ہے، وہ جلدی گرفت فرما لے یا اس میں تاخیر کرے، وہ اپنی حسب و مشیت و مصلحت یہ کام کرتا ہے۔ جس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس خطاب کے اصل مخاطب اگرچہ اہل مکہ ہیں۔ لیکن چونکہ آپ پوری نوح انسانی کے لئے رہبر اور رسول بن کر آئے تھے، اس لئے خطاب یَا اَیُّھَا لنَّاسُ ! کے الفاظ سے کیا گیا، اس میں قیامت تک ہونے والے وہ کفار و مشرکین آگئے جو اہل مکہ کا سا رویہ اختیار کریں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–52

27: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے مخالفین کی طرف سے جن شکوک و شبہات کا اظہار ہورہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ؛ بلکہ پچھلے انبیاء کرام کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر سناتے تو شیطان کافروں کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کردیتا جس کی بنا پر وہ لوگ ایمان نہیں لاتے تھے، لیکن چونکہ یہ شکوک و شبہات اصل میں بےبنیاد ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کا کوئی اثر مخلص مسلمانوں پر باقی نہیں رہنے دیتا ؛ بلکہ انہیں نیست ونابود کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–51

قل یایھا ……الجحیم (15) یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔ انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی میرا کام آگاہ و ہوشیار کردینا ہے۔ عذاب کا لے آنا میرے قبضہ میں نہیں خدا ہی کے قبضہ میں ہے کہ سب مطیع و عاصی کا فیصلہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے مناسب حال جگہ پر پہنچائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 49–50

آیت 49 قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَا لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ” کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ میں تم لوگوں کو آنے والی زندگی کے مراحل کی تمام تفصیلات سے واضح طور پر خبردار کر دوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 یعنی یہ بات میرے اختیار میں نہیں کہ اگر تم عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرو تو میں فوراً وہ عذاب لے آؤں۔ میرا کام صرف تمہیں تمہارے انجام سے ڈرانا ہے اور یہ کام میں پوری ذمہ داری سے سرانجام دے رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86۔ (اور اس سے زیادہ میرا کوئی اختیار نہیں۔ سوا گر تمہاری حسب فرمائش میں عذاب نہ لاسکوں تو اس سے نفس وقوع عذاب کی تکذیب کیسے ہوگی ؟ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 49–57

آیت نمبر 49 تا 57 ترجمہ : آپ اعلان کر دیجئے کہ اے لوگو یعنی مکہ والو میں تم کو واضح طور ڈرانے والا ہوں یعنی کھلے طور پر آگاہ کرنے والا ہوں اور میں مومنین کو خوشخبری دینے والا ہوں، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے (سابقہ) گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے وہ جنت ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیات میں یعنی قرآنی آیات کے ابطال کے روپے رہتے ہیں عاجز کرنے کے لئے ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کی ہے نبی ﷺ کی یعنی ان کی طرف عاجز ہونے کی نسبت کرنے کے لئے، اور روکتے ہیں ان کو ایمان سے یا ہم کو عاجز گمان کرتے ہوئے ان کی گرفت سے، اور ایک قرأۃ میں معاجزین بمعنی مسابقین ہے یعنی ہمارے بارے میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل یایہا الناس انما انا لکم نذیر مبین۔ (اے محمد ﷺ ! کفار مکہ سے آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف تم کو کھول کر (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا ہوں۔ یعنی عذاب لے آنے پر قادر نہیں ہوں واضح الفاظ میں وعید عذاب سنانا میرا کام ہے۔ ( رسول اللہ ﷺ بشیر بھی تھے اور نذیر بھی پھر صرف نذیر ہونے کا کیوں حکم دیا گیا) مشرکین ہی عذاب آنے کی جلدی مچاتے تھے اور خطاب کا رخ بھی انہی کی طرف تھا اہل ایمان کے ثواب کا ذکر تو کافروں کے غصہ اور بھڑکانے والا تھا اس لئے صرف نذیر کا ذکر کیا نذیر کے ساتھ بشیر نہیں فرمایا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بشارت سے تخویف مقدم ہوتی ہے بشارت تو صرف فرماں برداروں کے لئے ہوتی ہے اور تخویف دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) آپ فرما دیجیے مکہ والو میں تمہارے لیے اللہ کی طرف سے ایک ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو ڈرانے والا رسول ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَا لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک جواب تو اپنا قانون مہلت ذکر فرمایا، یہ آیت دوسرا جواب ہے۔ فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ میں تو صرف تمہیں ڈرانے والا ہوں، میرا کام کفر کے برے انجام سے خبردار اور آگاہ کرنا ہے، عذاب جلدی لانا یا دیر سے لانا میرا کام نہیں، یہ مجھے بھیجنے والے کا کام ہے۔ میں صرف پیغام پہنچانے والا ہوں، خود اللہ نہیں ہوں۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ : یعنی تمام دنیا کے لوگوں کو پیغام پہنچا دو خواہ کسی قوم یا ملک سے تعلق…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–53

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل یایھا الناس، الناس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ انما انالکم نذیر، نذیر بمعنی منذر اور مخوف (ڈرانے والا) ہے۔ انذار کا معنی سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ مبین۔ یعنی دینی معاملات میں سے جس کی تمہیں ضرورت ہوتی ہے میں تمہارے لیے اسے بیان کرنے والا ہوں۔ رزق کریم۔ سے مراد جنت ہے۔ والذین سعوافی ایتنا وہ لوگ جو ہماری آیات کو باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاجزین غلبہ پانے کے لیے جنگ کرنے کے لیے۔ یہ حضرت اببن عباس ؓ کا قول ہے۔راء نے کہا : اس کا معنی ہے دشمنی کرتے ہوئے۔ حضرت عببداللہ بن زبیر نے کہا : اسلام سے باز رکھنے والے تھے۔ اخفش نے کہا : معاندین مسابقین۔ زجاج نے کہا : یہ گمان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–51

1۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کو ” رزق کریم “ فرماتے ہوئے سنے تو اس سے مراد ہے جنت۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ انہوں نے پڑھا معاجزین، اور فرمایا کہ سارے قرآن میں الف کے ساتھ ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے مشقت اٹھانے والے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ معجزین سے مراد، یعنی دشمنی کرنے والے۔ 4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن الزبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت والذین سعو فی ایتنا معزجین (یعنی بغیر الف کے) سے مراد ہے مثبطین، یعنی روکنے والے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہیے ] يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [ اے لوگو ] اِنَّمَآ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا [ میں ] لَكُمْ [ تم لوگوں کے لئے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–51

ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے اور معاندین کے لیے عذاب جہنم ہے ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ میں ایک ڈرانے والا ہیں ہوں، ڈرانا اور واضح طور پر سب کچھ بیان کردینا یہ میرا کام ہے منوانا اور ہاتھ پکڑ کر عمل کروانا میرا کام نہیں اور عذاب لانا بھی میرا کام نہیں مجھ سے عذاب لانے کی جلدی کرنا تمہاری حماقت اور جہالت ہے، میری دعوت و تبلیغ پر جو بھی ایمان لے آئے اور اعمال صالحہ میں مشغول رہے اس کے لیے مغفرت اور عزت کے رزق کی خوشخبری دیتا ہوں، میں نذیر بھی ہوں اور بشیر بھی ہوں تم اگر ایمان نہیں لاتے تو اپنا انجام سوچ لو۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ عاجز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–51

تسلیۂ رسالت مآب وتہدید کفار بر استعجال عذاب ووعدہ مغفرت و رزق کریم برائے اہل طاعت ووعید عذاب جحیم برائے اہل معصیت قال اللہ تعالیٰ وان یکذبوک فقد کذبت قبلہم قوم نوح .... الیٰ .... اولئک اصحب الجحیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے جدال و قتال اور ان کی ایزاء رسانی کی بناء پر مسلمانوں کو جہاد قتال کی اجازت دی گئی اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کفار کی مخالفت اور تکذیب اور عداوت سے ملول نہ ہوں ہمیشہ سے عام انبیاء کی تکذیب ہوتی چلی آئی ہے اور کافروں نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا اور یہ کافر ملک شام کو جاتے ہوئے راستہ میں ان مقامات سے گزرتے ہیں جہاں ان پر عذاب نازل ہوا تھا پھر بھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

64:۔ ” قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ الخ “ دعوت توحید کو مان لینے کی ترغیب اور ” وَ یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ “ کا جواب ہے تم لوگ مجھ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہو حالانکہ عذاب لانا میرے قبضہ و اختیار میں نہیں بلکہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں عذاب کب آئیگا۔ کیونکہ میں تو عذاب سے ڈرنے والا اور عذاب آنے کی خبر دینے والا ہوں اس لیے یہ ضرور کہوں گا کہ مجھ پر ایمان لے آؤ اور پیغام توحید کو مان لو ورنہ سن لو اگر نہیں مانوگے تو اللہ تعالیٰ کے رسوا کن عذاب سے ہلاک کردئیے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–51

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ مظلوم اہل ایمان کی مدد کا وعدہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ، اگر اللہ انہیں زمین میں اقتدار عنایت فرمائے گا تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے ، نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ یہ ان کا منشور ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مکذبین کو تنبیہ فرمائی اور حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر قوم نے اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ پھر اللہ نے مہلت دے کر انہیں مبتلائے عذاب کیا۔ بہت سی بستیوں کے باشندے ظالم تھے جنہیں اللہ نے ہلاک کیا اور تمام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَا لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 49ۚ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

اس کے بعد فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ تم کس لیے جلدی کرتے ہو میں تمہیں مطلع کرنے آیا ہوں کہ جو ایمان لائے گا ‘ نیک کام کرے گا ‘ مغفرت اور دنیا و آخرت میں عزت پاوے گا اور جو مقابلہ کرے گا جہنم میں جائے گا میں نذیر ہوں بشیر ہوں نہ خدا ہوں نہ خدا کے گھر کا مالک و مختار کہ جو چاہوں تمہاری خواہشوں کے موافق اس کو کرد کھائوں۔ اس لیے اس بات کی تائید کے لیے یہ کلام بعد میں صادر فرمایا وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی لشیطان فی امنیۃ کہ اے محمد ﷺ ! تم پر کیا موقوف ہے تم سے پیشتر جس قدر رسول اور نبی بھیجے گئے ہیں گو وہ معصوم تھے مگر بشر تھے خواص بشریہ سے خالی نہ تھے جب کبھی کسی نے ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَالَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الحج : 49) (کہہ دیجیے ( اے پیغمبر) ! اے لوگو ! میں تو تمہارے لیے بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کی حیثیت مشرکینِ مکہ کے سابقہ انکار اور تغافل کے باعث قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کی اصل حیثیت کو واضح فرمایا ہے۔ قریش مکہ اور دیگر مشرکین چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے انھیں آنحضرت ﷺ کی حیثیت کو سمجھنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ آپ چونکہ اللہ کے دیئے ہوئے نور نبوت سے دیکھ رہے تھے کہ قریش کا کفر اور شرک پر اصرار انھیں بہت برے انجام کی طرف لے جارہا ہے۔ جس کا نتیجہ اللہ کے عذاب کا نزول بھی ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–51

فہم القرآن ربط کلام : عذاب کا بار بار مطالبہ کرنے پر کفار کو دوسرا جواب۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے بارے میں دی گئی ڈھیل پر اہل مکہ اس قدر دلیر ہوئے کہ وہ سرورگرامی ﷺ کو الزام دیتے کہ تم جھوٹے ہو اس لیے ہم پر عذاب نازل نہیں ہوا ؟ اس پر ایک طرف سرور گرامی ﷺ کو آپ کے منصب کے حوالے سے سمجھایا گیا کہ عذاب نازل کرنا آپ کے اختیار میں نہیں آپ کا کام فقط یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ان کے برے کردار کے نتیجہ میں بھیانک مستقبل کے بارے میں کھلے الفاظ میں ڈرائیں۔ یہ کام آپ پوری تندہی سے کر رہے ہیں جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں نا وہ ہماری آیات کو دلائل کی بنیاد پر غلط ثابت کرسکتے ہیں اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: قُلْ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَالَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (کہہ دیں ! اے لوگو ! بیشک میں تمہارے لیے کھلا ڈرانے والا ہوں ) یہاں بشیر و نذیر نہیں فرمایا کیونکہ فریقین کا تذکرہ بعد میں آرہا ہے کیونکہ سیاق کلام مشرکین کی طرف ہے اور یایھا الناس کہہ کر انہی سے تخاطب ہے اور انہی کے متعلق کہا گیا افلم یسیروا اور استعجال کے ساتھ ان کے حالات بیان کیے۔ اور ایمان والوں کے تذکرے اور ان کے ثواب کو درمیان میں گھسا دیا تاکہ وہ برانگیختہ ہوں۔ نمبر 2۔ تقدیر عبارت اس طرح مان لیں۔ نذیر مبین و بشیر۔ پھر خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 48–49

تفسیر۔ 48۔ وکاین من قریۃ ، ،، ہم نے ان کو مہلت دی ۔ وھی ظالمۃ ثم اخذ تھا والی المصیر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–51

49۔ 51:۔ مشرکین مکہ مسخراپن سے عذاب کی جلدی جو کیا کرتے تھے اوپر کی آیتوں میں اس کا ذکر تھا اس لئے ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تو فقط عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہوں ‘ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ عذاب کب آوے گا اور جس طرح میں عذاب سے ڈراتا ہوں اسی طرح یہ خوشخبری بھی سناتا ہوں کہ جو کوئی شرک سے باز آن کر خالص اللہ کو اپنا معبود جانے گا اور مرضی الٰہی کے موافق نیک کاموں میں لگا رہے گا تو شرک کے نیچے کے کچھ گناہ کر کے اگر ایسا شخص بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ایسے شخص کے گناہوں کو معاف کر کے اسے جنت میں داخل کر دے گا ہاں جو لوگ بلاسند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 49–51

آیت 49 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰ ٓ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں (مبین) یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں۔ ” انذار “ سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپ نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم کئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس انداز اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی (فالذین امنوا و عملوا الصلحت لھم مغفآ) ” اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لئے مغفرت ہے۔ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–52

تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–50

102 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کو بالآخر اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سب کو آخرکار ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے جہاں پر ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور بدلہ پانا ہے ‘ پس جلد بازی کی بجائے اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی ضرورت ہے ‘ اور دنیا کی اس عارضی اور محدود فرصت میں اگر کوئی عذاب سے بچ بھی گیا تو بھی کیا ہوا، کہ آخرکار تو ان سب کو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے، اور یہاں پہنچ کر ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ بہرحال پاکر رہنا ہے،۔ سو اس ارشاد ربانی سے عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب دیا گیا کہ ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–51

لڑائی کی اجازت تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 49–57

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آپ فرما دیجئے لوگو میرا منصب عالی یہ ہے کہ جس راہ پر تو چل رہے ہو یعنی کفر ونافرمانی اس کے انجام بد سے بروقت مطلع کردوں اور بس عذاب لانا نہ میرا کام ہے نہ میں نے اس کا دعوی کیا ہے ہاں جس راہ پر تم چل رہے ہو وہ عذاب ہی پہ پہنچتی ہے اور صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لے آئے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرلی انھیں اللہ جل جلالہ کی بخشش بھی نصیب ہوگی اور بہترین نعمتیں بھی مگر جو بدبخت اپنی اصلاح کے بجائے اللہ جل جلالہ کے نبی کی بات کو جھٹلانے اور اللہ جل جلالہ کے احکام کی تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ یقینا دوزخ میں رہیں گے (نبی اور رسول) اور یہ کوئی نئی بات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یعنی خواہ وہ مذاق اڑائیں مگر پیغمبر کا فرض ہے کہ وہ ” انذار “ کو ترک نہ کرے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 49–50

(22:49) انما۔ بےشک، تحقیق۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 49–57

لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 57 نذیر مبین (کھلا ہوا ڈرانے والا) رزق کریم (عزت کا رزق) سعوا (جودوڑے) ‘ معجزین (عاجزی کرنے والا۔ نیچا دکھانے والے) ‘ تمنی (اس نے آرزو کی۔ اس نے بات کہی) ‘ ینسخ (وہ منسوخ کرتا ہے۔ وہ ہٹا تا ہے) ‘ یحکم (وہ مضبوط کرتا ہے) ‘ القاسیۃ (سخت) ‘ شقاق (ضد۔ ہٹ دھرمی) ‘ مریۃ (شک و شبہ) ‘ بغتۃ (اچانک) عقیم (منحوس) ۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہیے اے لوگو ! میں نہایت واضح طریقہ پر صاف صاف ان اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کر رہا ہوں جن کی صداقت کو تم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لاکر عمل صالح کی زندگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–51

شیطان کے بہکانے کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ : اے محبوب تم ان مشرکین مکہ سے فرمادو کہ میں تو کھلم کھلا ڈارنے والا ہوں کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اس کاٹھکانہ یقینا دوزخ ہے پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کیے تو ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو باطل مشہور کرنے میں کوشش کی ہے وہ ہی لوگ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–52

[38] رسول اور نبی کے فرق کے بارے میں ملاحظہ ہو سورة مریم حاشیہ 20 صفحہ 715۔ [39] اصل میں الفظ تمنّیٰ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں، ایک معنی کسی چیز کی خواہش یا آرزو کے اور دوسرے معنی تلاوت کے ہیں یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔ [40] یعنی جب بھی پیغمبر نے کلام الٰہی لوگوں کو سنایا تو شیطان نے اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے۔ مثلاً نبی نے آیت حرم علیکم المیتۃ (تم پر مردار حرام کیا گیا) پڑھ کر سنائی تو شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کیسے ہوا۔ [41] یعنی شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–51

(ف 1) ان آیتوں میں بتایا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی آواز کو سن لیا ، اور اس کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل کیا ، ان کے لئے سراسر مغفرت ، اور عنایت ہے ، اور نہایت پاکیزہ روزی ہے وہ عزت وافتخار سے دنیا میں رہیں گے ، اور آخرت میں جنت کے وارث ہوں گے ، اور جن لوگوں نے معاندانہ کوششیں جاری رکھی ہیں اور پیغام کو نہیں مانا ، وہ خائب و خاسر رہیں گے اور جہنم کے سزاوار ۔ حل لغات : تمنی : آرزو کی ، پڑھایا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے اے لوگو ! سوائے اس کے نہیں کہ میں تو تم کو صاف صاف ڈرانے والا ہوں یعنی عذاب کی تعمیل اور تاخیر سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ اعلان کردیں اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہ میں نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں : 49۔ (یایھا الناس) کے اصل مخاطب وہی لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو اس عذاب کو لے کیوں نہیں آتے جس عذاب کے آنے کی تم ہم کو دھمکی دیتے رہے ہو ۔ زیر نظر آیت میں فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ لوگو ! میں تو تم کو صرف خبردار کرنے کے لئے آیا ہوں اور وہ میں نے تم کو کردیا ہے میں نے کب کہا کہ میں تمہاری قسمتوں کا فیصلہ کرنے والا ہوں ؟ میں نے تو یہ کہا ہے ‘ کہتا ہوں اور جب تک ہوں کہوں گا کہ بچ جاؤ اس شامت آنے سے پہلے پہلے جو یقینا آئے گی اگر تم نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

How the Day of Resurrection will be equal to one thousand years by our reckoning In this verseإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَ‌بِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ (22:47) means that one day with your Lord is like one thousand years of what you count. This verse can be interpreted in two ways. The first meaning is that the verse refers to the Day of Resurrection and the events which will take place on that day will be so horrifying and of such extreme severity that the day will appear never to end, as if it was equal to one thousand years according to our reckoning. Many commentators have interpreted this verse…

Read the full tafseer →