Explained with ayahs 39–40
حکم جہاد صادرہوا
ابن عباس ؓ کہتے ہیں جب حضور ﷺ اور آپ کے اصحاب مدینے سے بھی نکالے جانے لگے اور کفار مکہ سے چڑھ دوڑے تب جہاد کی اجازت کی یہ آیت اتری۔ بہت سے سلف سے منقول ہے کہ جہاد کی یہ پہلی آیت ہے جو قرآن میں اتری۔ اسی سے بعض بزرگوں نے استدلال کیا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ شریف سے ہجرت کی ابوبکر ؓ کی زبان سے نکلا کہ افسوس ان کفار نے اللہ کے رسول ﷺ کو وطن سے نکالا یقینا یہ تباہ ہوں گے۔ پھر یہ آیت اتری تو صدیق ؓ نے جان لیا کہ جنگ ہو کر رہے گی۔ اللہ اپنے مومن بندوں کی مدد پر قادر ہے۔ اگر چاہے تو بےلڑے بھڑے انہیں غالب کردے لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے اسی لئے حکم دیا کہ ان کفار کی…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 80
یہ آیت تصریح کرتی ہے کہ سورة حج کا یہ حصہ لازماً ہجرت کے بعد نازل ہوا ہے۔
سورة الْحَجّ 81
جس ظلم کے ساتھ یہ لوگ نکالے گئے اس کا اندازہ کرنے کے لیے ذیل کے چند واقعات ملاحظہ ہوں
حضرت صہیب رومی جب ہجرت کرنے لگے تو کفار قریش نے ان سے کہا کہ تم یہاں خالی ہاتھ آئے تھے اور اب خوب مال دار ہوگئے ہو۔ تم جانا چاہو تو خالی ہاتھ ہی جاسکتے ہو۔ اپنا مال نہیں لے جاسکتے۔ حالانکہ انہوں نے جو کچھ کمایا تھا اپنے ہاتھ کی محنت سے کمایا تھا، کسی کا دیا نہیں کھاتے تھے۔ آخر وہ غریب دامن جھاڑ کر کھڑے ہوگئے اور سب کچھ ظالموں کے حوالے کر کے اس حال میں مدینے پہنچے کہ تن کے کپڑوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہ…
Read the full tafseer →جہاد و قتال کی ایک حکمت
وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ ، اس میں جہاد و قتال کی حکمت کا اور اس کا بیان ہے کہ یہ کوئی نیا حکم نہیں۔ پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں کو بھی قتال کفار کے احکام دیئے گئے ہیں اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کسی مذہب اور دین کی خیر نہ تھی سارے ہی دین و مذہب اور ان کی عبادت گاہیں ڈھا دی جاتیں۔
لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ جتنے دین و مذہب دنیا میں ایسے ہوئے ہیں کہ کسی زمانے میں ان کی اصل بنیاد اللہ کی طرف سے اور وحی کے ذریعہ سے قائم ہوئی تھی پھر وہ منسوخ ہوگئے اور ان میں تحریف ہو کر کفر و شرک میں تبدیل ہوگئے مگر اپنے اپنے وقت میں وہی حق تھے ان سب…
Read the full tafseer →مسلمانوں کی مظلومیت کی وضاحت
الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق یہ مسلمانوں کی اس مظلومیت کی وضاحت ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ یعنی ان لوگوں کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے نکالا گیا ہے۔ اس اسلوب بیان میں وہ تمام مظالم و شدائد آپ سے آپ آگئے جن میں مسلمان مبتلا کئے گئے۔ اس لئے کہ کوئی اپنے وطن اور اپنے گھر در کو اس وقت تک چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا جب تک اس پر اس کے وطن کی سر زمین تنگ نہ کردی جائے۔
الا ان یقولوا ربنا اللہ یہ نہیات بلیغ فقرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مظلوموں کا اگر کوئی جرم بنتا ہے تو یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب بس اللہ ہے ! یعنی ان کی سب سے بڑی نیکی اور سب…
Read the full tafseer →صوامع صومعۃ کی جمع) سے چھوٹے گرجے اور بیع (بیعۃ کی جمع) سے بڑے گرجے صلوات سے یہودیوں کے عبادت خانے اور مساجد سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں
Read the full tafseer →24: اس آیت میں جہاد کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے اور وہ یہ کہ جتنے انبیاء کرام (علیہم السلام) دنیا میں آئے ہیں، اپنے اپنے وقت میں انہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تعلیم دی، اور اس کے لئے عبادت گا ہیں بنائیں، حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت میں اس کام کے لئے خانقاہیں اور کلیسا بنائے گئے جنہیں عربی میں صومعہ اور بیعہ کہا جاتا ہے، حضرت موسیٰ ؑ کے پیرؤوں نے جو عبادت گا ہیں بنائیں ان کو صلوات کہا گیا ہے اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو مسجد کہا جاتا ہے، جو لوگ ان آسمانی مذاہب کے مخالف تھے وہ ان عبادت گاہوں کو مٹانے کے درپے رہے، اگر ان کے خلاف جہاد کی اجازت نہ ہوتی تو وہ ان عبادت گاہوں کو مسمار کر ڈالتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41)
اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔
شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی…
Read the full tafseer →10 یعنی مسلمان مہاجرین جو اپنے گھروں سے نکالے گئے ان کا کوئی جرم نہ تھا نہ ان پر کسی کا کوئی دعویٰ تھا، بجز اس کے کہ وہ اکیلے ایک خدا کو اپنا رب کیوں کہتے ہیں۔ اینٹ پتھروں کو کیوں نہیں پوجتے۔ گویا ان پر سب سے بڑا اور سنگین الزام اگر لگایا جاسکتا ہے تو یہ ہی کہ ہر طرف سے ٹوٹ کر ایک خدا کے کیوں ہو رہے۔
11 یعنی اگر کسی وقت اور کسی حالت میں بھی ایک جماعت کو دوسری سے لڑنے بھڑنے کی اجازت نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانون فطرت کی سخت خلاف ورزی ہوگی۔ اس نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز یا ہر شخص یا ہر جماعت دوسری چیز یا شخص یا ہر جماعت کے مقابلہ میں اپنی ہستی برقرار رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے…
Read the full tafseer →آیت 40 الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ ”
یعنی مہاجرین جنہیں اپنے اہل و عیال اور گھر بار چھوڑ کر مکہّ سے نکل جانے پر مجبور کردیا گیا تھا۔
اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ط ”
ان کا جرم بس یہ تھا کہ وہ اہل مکہ کے باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اپنا رب اور معبود مانتے تھے ‘ جس کی پاداش میں انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔
وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ”
یہ مضمون اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیت 251 میں بھی آچکا ہے۔ وہاں پر مشرک بادشاہ جالوت کے ساتھ حضرت طالوت کی جنگ کا ذکر کرنے کے بعد یہ اصول بیان فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →67 مسلمانوں کو یہ سب مصائب اس لئے جھیلنا پڑے اور انھیں صرف اس جرم بےگناہی کی سزا دی جاتی رہی کہ وہ صرف ایک اللہ کے پرستار تھے۔ مکہ میں جس قدر مظالم ڈھائے گئے یہ داستان اتنی طویل اور خونچکاں ہے جس کا بیان یہاں ممکن نہیں اور اس کے لئے ایک الگ کتاب درکار ہے اس بات کا کچھ تھوڑا بہت اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مکی دور میں خود رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدس پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے اور سازشیں تیار کی گئیں ان کا مختصر ذکر سورة مائدہ کی آیت نمبر 67 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے۔
68 اس آیت میں الناس سے مراد مشرکین اور اللہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے لوگ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب…
Read the full tafseer →73۔ ذکر مسلماناں مکہ کا ہے ان سے مشرکوں کو کوئی یہ شکایت تھوڑے ہی تھی کہ یہ لوگ شورش پسند ہیں یا چوریاں کرتے ہیں یا ڈاکے ڈالتے ہیں۔ الزام تھا تو صرف یہی کہ یہ ہمارے آبائی دھرم اور باپ دادا کے وقت کے دیویوں دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کے ہو رہے ہیں ! بس اسی قصور پر بیچاروں کو وطن چھوڑنا پڑا۔ اور ہجرت پہلے حبشہ کی جانب اور پھر مدینہ کو کرنی پڑی۔
74۔ یعنی اگر یہ سنت اللہ ہمیشہ سے نہ چلی آئی ہوتی کہ ظالموں، سرکشوں، زبردستوں کا زور انسانوں ہی کے بعض گروہوں کے ہاتھ سے تڑوایا جاتا رہتا تو اب تک جو جو عمارتیں توحید کی مرکز رہی ہیں۔ مثلا مسجدیں جواب بھی اسی غرض کے لیے ہیں، اور اہل کتاب کی مذہبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
آیت نمبر 39 تا 48
ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…
Read the full tafseer →الذین اخرجوا من دیارہم (ان لوگوں کے لئے اجازت جہاد دی گئی) جن کو ان کے گھروں سے نکال
باہر کردیا گیا۔ یعنی مکہ والے گھروں سے نکال دیا گیا۔
بغیر حق ناحق۔ (محض ظلم سے جلا وطن کیا گیا) ۔
الا ان یقولوا ربنا اللہ (جلاوطن کرنے کا ان کو کوئی حق نہ تھا) سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے
اور ظاہر ہے کہ اللہ کو رب کہنا کوئی جرم نہیں کہ جس کی پاداش میں ان کو جلا وطن کیا جاتا مگر کافروں کے خیال میں تو یہ بہت بڑا جرم تھا۔ آیت (رَبُّنَا اللّٰہک) ہنے کو کافروں کے خیال کے بموجب جرم قرار دیا ہے۔ آیت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ کافروں کو کوئی حق نہ تھا کہ مسلمانوں کو جلاوطن کرتے اگر ان کے خیال میں کوئی…
Read the full tafseer →(40) جن کو کفار مکہ نے ان کے گھروں سے بےوجہ بغیر کسی جرم کے نکالا، محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ ”لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ“۔
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا ایک دوسرے سے زور نہ توڑتا رہتا تو نصاری کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور مجوسیوں کے آتش کدے اور مسلمانوں کی وہ مسجدیں جس میں تکبیر وتہلیل کثرت سے کی جاتی ہے، سب منہدم ہوجاتیں کہ انبیاء کرام کی بدولت مسلمانوں سے اور مسلمانوں کی بدولت کافروں سے اور مجاہدین کی بدولت جہاد نہ کرنے والوں سے تکالیف کو دور کرایا، اللہ تعالیٰ دشمن کے مقابلہ میں اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبی کی مدد کرتا…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ۔۔ : یہ آیت دلیل ہے کہ اس سورت کا یہ حصہ مدینہ میں نازل ہوا ہے۔
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دو ظلم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جب کہ یہ تمام دنیا کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو شخص جہاں رہتا ہے وہاں رہنے میں اور اس کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں وہاں کے تمام لوگوں کے ساتھ برابر حق رکھتا ہے اور کسی کو حق نہیں کہ اسے اس کے گھر سے نکال باہر کرے۔ دوسرا ظلم یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو صرف اس جرم کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکالا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جرم ہے ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین اخرجوا من دیارھم یہ ان کے مظالم میں سے ایک ظلم ہے کہ انہیں اس بات پر اپنے گھروں سے نکالا گیا کہ انہوں نے کہا : ہمارا پروردگار اللہ وحدہ ہے۔ الا ان یقولوا رببنا اللہ استثناء استثنا منقطع ہے یعنی لیکن ان کے رببنا اللہ کہنے کی وجہ سے ؛ یہ سیبویہ کا قول ہے۔ فراء نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ محلل جر میں ہو اس سے پہلے با مقدر ہو ؛ یہ ابو اسحاق زجاج کا قول ہے۔ اس کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ انہیں بغیر حق کے ان کے گھروں سے نکالا گیا مگر یہ کہ انہوں نے کہا : ہمارا پروردگار اللہ ہے یعنی وہ توحید کی وجہ سے نکالے گئے بت پرستوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین اخرجوا من دیارہم سے مراد ہے مکہ سے مدینہ کی طرف آیت بغیر حق، یعنی محمد ﷺ ا اور آپ کے اصحاب کو ہجرت پر مجبور کرنا۔
2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت آیت الذین اخرجو من دیرہم بغیر حق، ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بعد ہم کو نکالا گیا ہمارے گھروں سے ناحق۔ پھر ہم کو اللہ تعالیٰ نے حکومت دی زمین میں (یعنی مدینہ منور میں) تو ہم نے نماز کو قائم کیا اور ہم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ اور ہم نے نیکی کا حکم کیا اور برائی سے روکا تو یہ آیت میرے اور میرے اصحاب کے بارے میں ہے۔
3۔ ابن جریر…
Read the full tafseer →[ الَّذِينَ : وہ لوگ جن کو ] [ اُخْرِجوا : نکالا گیا ] [ مِنْ دِيَارِهِمْ : ان کے گھر سے ] [ بِغَيْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [ اِلَّآ ان : مگر (اس لئے) کہ ] [ يَّقُوْلُوْا : وہ لوگ کہتے ہیں (کہ)] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ] [ اللّٰهُ : اللہ ہے ] [ وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا ] [ دَفْعُ اللّٰهِ : اللہ کا دفع کرنا ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [ بَعْضَهُمْ : ان کے بعض کو ] [ بِبَعْضٍ : بعض سے ] [ لَّهُدِّمَتْ : تو ضرور ڈھائی جاتیں ] [ صَوَامِعُ : خانقاہیں ] [ وَبِيَعٌ: اور (نصارٰی کی) عبادت گاہیں ] [ وَّصَلَوٰتٌ: اور (یہودیوں کے) عبادت خانے ] [ وَّمَسٰجِدُ : اور مسجدیں ] [ يُذْكَرُ : یاد کیا جاتا ہے ]…
Read the full tafseer →اسی کو فرمایا (الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ) (الآیۃ) اس میں جہاد اور قتال کی حکمت بیان فرمائی اور یہ بتایا کہ قتال اور جہاد صرف اسی امت کے لیے مشروع اور مامور نہیں ہے اس امت سے پہلے جو مسلمان تھے ان کے لیے بھی قتال مشروع تھا۔ بات یہ ہے کہ کفر اور اسلام کی ہمیشہ دشمنی رہی ہے اسی وجہ سے کافروں اور مومنوں میں لڑائیاں ہوتی رہی ہیں اپنے اپنے زمانہ میں حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں نے کافروں سے جنگ کی ہے اور اس کے ذریعہ کافروں کا زور توڑا ہے، اللہ جل شانہٗ کی یہ عادت رہی ہے کہ ایک جماعت کے ذریعہ دوسری جماعت کو دفع فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
اجازت جہادو وعدہ نصرت وتمکین براعدائے دین
قال اللہ تعالیٰ اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا .... الیٰ .... وللہ عاقبۃ الامو ر
(ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ کفار مسلمانوں کو ایک اللہ کی عبادت پر مارتے تھے اور طرح طرح کی ایذائیں دیتے تھے یہاں تک کہ کفار نے مکہ سے مسلمانوں کو نکال دیا۔ مسلمان کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر کافروں سے لڑنے کی اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی انکا مقابلہ کریں اور ان سے لڑیں اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی۔ اور صبر اور توکل کا حکم دیتے تھے، یہاں تک کہ باطنی جہاد کی منزلیں طے ہوگئیں اور نفوس ایسے پاک اور مقدس ہوگئے کہ ہمرنگ ملائکہ ہوگئے اور ادھر کفار ناہنجار کی ستم رانی…
Read the full tafseer →54:۔ ” وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ الخ “ یہ مشروعیت جہاد کی حکمت اور جہاد کی ترغیب ہے۔ ” صَوَامِعُ “ صومعۃ کی جمع ہے۔ صومعہ عیسائی راہب کے مخصوص عبادت خانے کو کہتے ہیں۔ ” بِیَع “ بیعۃ کی جمع ہے یعنی عیسائیوں کا عبادت خانہ (چرچ) ۔ ” صَلَوٰتٌ“ صلوۃ کی جمع ہے اور صلوۃ یہودیوں کے عبادت خانے کو کہتے ہیں کذا فی الروح والمدارک۔ اگر اللہ تعالیٰ جہاد سے مسلمانوں کا کافروں پر مسلط کر کے ان کے شر کو دفع نہ کرتا تو مشرکین ہر زمانہ میں مسلمانوں پر اور اہل کتاب پر غالب آجاتے اور اس قدر دنگا اور فساد بپا کرتے کہ ان کے عبادت خانوں تک کو مسمار کردیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اہل توحید کو مشرکین پر گا لب کر کے ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں بیت اللہ شریف کی تعمیر نو ، حج ، قربانی ، شرک کی تردید اور دیگر مسائل کا ذکر ہوا۔ کفار کی طرف سے اللہ کے راستے اور مسجد حرام سے روکنے کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ مکہ کے مشرکی کسی مسلمان کو خانہ کعبہ میں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتی کہ 6 ھ میں تقریباً ڈیڑھ ہزار اہل ایمان کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا ، حالانکہ حرم پاک میں مقامی اور بیرونی تمام لوگوں کو عبادت کرنے کا یکساں حق حاصل ہے ۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ پہلی آیت بطور تمہید ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی ہے۔ اس کے بعد دوسری آیت میں جہاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور مسلمانوں کی مظلومیت…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللہُ 0ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْہَا اسْمُ اللہِ كَثِيْرًا 0ۭ وَلَيَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ 40
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
اُذِنَ لِلَّـذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا ط وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُنِ ۔ لا الَّذِ یْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِحَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ط وَلَوْ لَادَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُفِیْھَااسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًاط وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (الحج : 39، 40)
(اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے۔ اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ جو لوگ اپنے گھروں سے ناحق…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مکہ کے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے اس لیے نکلنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔
حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جس دور میں بھی۔ اللہ والوں نے اپنے رب پر ایمان لانے کا اظہار کیا اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کی تو کفار اور مشرکین نے ان کا جینا حرام کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو کفار اور مشرکین کے مقابلے میں لڑنے کی اجازت دی تو کفار اور مشرکین نے یہ پراپیگنڈہ شروع کیا کہ کلمہ گو لوگ جنگجو اور ظالم ہیں۔ بالخصوص اسلام کے بارے میں مخالفین کا پرا پیگنڈہ ہے کہ مسلمان جہاد کے نام پر جارحیت کرتے ہیں۔ اس بات کا…
Read the full tafseer →40: اَلَّذِیْنَ (وہ لوگ ): یہ محل جر میں للذینؔ سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ اعنی کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 3۔ ھم مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے۔
اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ (جن کو ان کے گھروں سے نکالا گیا) مکہ سے بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہَ (ناحق سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے) یعنی اور کوئی وجہ نہیں سوائے توحید کے جو کہ اس لائق ہے کہ ان کو پکا ٹھکانہ دیا جائے نہ کہ ان کو نکال باہر کیا جائے۔ اور دوسری آیت اسی کی مثل ہے۔ ھل تنقمون منا الا ان اٰمناباللہ ] المائدہ : 59[
نحو : ان یقولوا محلاً مجرور ہے کیونکہ حقؔ سے بدل ہے مطلب یہ ہے ان کو ان کی بات کی وجہ سے گھروں سے…
Read the full tafseer →40۔ الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق، یہ پہلے الذین سے بدل ہے۔ الاان یقولوا ربنا اللہ ، وہ اپنی بستی سے صرف اس وجہ سے نکالے گئے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔
” ولولادفع اللہ الناس بعضھم ببعض۔ اس سے مراد جہاد اور اقامت حدود ہیں۔ لھدمت، قراء اہل مدینہ نے دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ تشدید کے ساتھ پڑھنے والے کثیر ہیں اور تخفیف کے ساتھ قلیل ہیں۔ صوامع ، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ صوامع سے مراد ہیں تارک الدنیا اور درویشوں کے عبادت خانے اروخانقاہیں۔ قتادہ نے کہا کہ صابیوں کے عبادت گھر مراد ہیں۔ وبیع، عیسائیوں کے گرجاگھر۔ وصلوات، یہودیوں کی عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
39۔ 44:۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو مشرکین مکہ صحابہ ؓ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اور صحابہ ؓ جب آنحضرت ﷺ سے ان تکالیف کا ذکر کرتے تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ صبر کرو مجھے ابھی لڑائی کا حکم خدا کی طرف سے نہیں ہے ‘ جس وقت مکہ سے ہجرت کا حکم آنحضرت کو ہوگیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قرینہ سے معلوم ہوگیا کہ مشرکین مکہ پر اب کوئی وبال ضرور آئے گا اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے انا للہ پڑھی اور فرمایا ‘ قریش نے نبی وقت کو مکہ سے نکال دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
آیت 42
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٓ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے (فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود۔ وقوم ابراہیم و قوم لوط۔ واصحب مدین وکذب موسی) ” بلاشبہ ان سے پہلے قوم نوح نے، عاد وثمود نے، قوم ابراہیم و قوم لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی۔ “ (فاملیت للکفرین) یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
حالت امن میں تمام مذاہب کے معابد قابل احترام ہیں
قول باری ہے (ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھد مت صوامع وبیع وصلوت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب مسمار کر ڈالی جائیں) مجاہد کا قول ہے کہ راہبوں کی خانقاہوں کو صوامع کہا جاتا ہے اور یہودیوں کے گرجائوں کو بیع کہتے ہیں۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہودیوں کے گرجائوں کو صلوت کہا جاتا ہے۔ وہ انہیں صلوت بھی کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق صلوات ان مقامات کو کہتے ہیں جو مسلمان اپنے گھروں میں نماز کے لئے مخصوص کردیتے ہیں۔ بعض…
Read the full tafseer →83 جرم بےگناہی کی سزا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا کوئی جرم و قصور نہیں تھا سوائے اس کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی جرم اور گناہ نہیں بلکہ یہ تو سب سے بڑی نیکی اور تمام نیکیوں اور خوبیوں کی اساس و بنیاد ہے، سو کتنے ظالم اور کس قدر بدبخت اور منحوس ہیں یہ لوگ جو محض اس بناء پر اہل حق کو ستاتے اور تنگ کرتے ہیں، پس ایسے بدبختوں کو اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، جو اہل حق کو جرم بیگناہی کی بناء پر تنگ کرتے اور ستاتے ہیں، کہ ان کے ظلم کی شدت اور زیادہ ہوجاتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے کفار و مشرکین کی مت ماری کا اندازہ کیا جاسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–51
لڑائی کی اجازت
تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔
(جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ)
اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی تارک الدنیا عیسائی راہبوں کی خانقاہیں۔ 3 ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے ہر زمانے میں مشرکوں کے غلبہ کو روکا اور انبیا ( علیہ السلام) اور مومنوں کو قتال کی اجازت اور حکم دے کر ان کی مدافعت کی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو یہ مشرک حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں یہودیوں کے عبادت خانوں کو، حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں گرجوں اور خانقاہوں کو اور اب محمد ﷺ کے زمانہ میں مسجدوں کو مسمار کر ڈالتے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے اور ان کو مسمار نہ کیا جائے۔ (قرطبی۔ شوکانی) 4 ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے…
Read the full tafseer →(22:40) اخرجوا۔ اخراج (افعال) سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نکالے گئے۔ الذین۔ یہ للذین (آیہ ماقبل) کی صفت ہے یا اس کا بدل ہے (وہ مظلوم لوگ) ۔ دفع اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی (طرف سے) مدافعت ۔ ولا لا دفع اللہ الناس۔ اور اگر خدا دفاع نہ کرتا لوگوں کا (بعض لوگوں کا بعض کے ذریعہ سے) بعضہم ببعض۔ یعنی اگر خدا تعالیٰ بعض کو بعض سے ٹکرا کر یا بعض کو بعض کا توڑ بنا کر لوگوں کا بچائو نہ کرتا۔
لھدمت۔ لام لولا کے جواب میں ہے اور یہ لام بےعمل کی اقسام میں سے ہے۔ ھدمت واحد مؤنث غائب ماضی مجہول تھدیم (تفعیل) مصدر۔ منہدم کر دئیے جاتے ۔ ڈھا دئیے جاتے۔ صوامع۔ صومعۃ کی جمع۔ عیسائی راہبوں کے تکیے ۔ صومعہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
لغات القرآن 39 تا 41 :
اذن (اجازت دے دی گئی) ‘ یقتلون (وہ لڑتے ہیں) دیار (دار) (گھرے مکانات) ‘ دفع (دور کرتا ہے) ‘ ھدمت (ڈھادیئے گئے) ‘ صوامع (صومعۃ) ترک دنیا کرنے والوں کی عبادت گاہ ‘ بیع (بیعۃ) (نصاری کے گرجا گھر) ‘ صلوات (یہودیوں کے عبادت خانے) ‘ یذکر (یاد کیا گیا۔ یا کیا جاتا ہے) ‘ مکنا (ہم نے غلبہ دیا۔ ہم نے جمائو عطا کردیا) ‘ عاقبۃ (انجام)
تشریح : آیت نمبر 39 تا 41 :
سورۃ الحج کی ان آیات میں چند بنیادی اور اہم مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کی تشریح سے پہلے اگر اس پس منظر کو سامنے رکھا جائے جن حالات میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی منشا کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔ پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
جہاد کا حکم۔ مہاجرین کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : کفار مکہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کو روز مرہ ہاتھ اور زبان سے شدید تکلفیں دیتے اور آزار پہنچاتے رہتے تھے اور صحابہ نبی ﷺ کے پاس اسحال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سرپھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے کسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے روزمرہ اس قسم کی شکایتیں حضور کی خدمت میں پہنچتی تھی اور اصحاب کرام کفار کے مظالم کی نبی ﷺ کے دربار میں فریاد کرتے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے کہ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے جب نبی ﷺ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ ان پر بہت ظلم کیا گیا ہے اللہ ان کی مدد فرمائے گا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
[35] یعنی ایسے لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ اگر دنیا میں انھیں حکومت و فرمانروائی بخشی جائے تو ان کا ذاتی کردار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت صلوٰۃ ہو۔ (اقامت صلوٰۃ کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 4) ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہو۔ ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے اور ان کی طاقت بدیوں کو پھیلانے کے بجائے ان کے دبانے میں استعمال ہو۔ اس ایک فقرے میں اسلامی حکومت کے نصب العین اور اس کے کارکنوں اور کارفرماؤں کی خصوصیت کا جوہر نکال کر رکھ دیا گیا ہے کوئی سمجھنا چاہے تو اسی ایک فقرے سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت…
Read the full tafseer →اسلامی جہاد کی غرض قیام عبادت ہے :
(ف 2) اس آیت میں بڑے واضح الفاظ میں قرآن حکیم نے بتا دیا ہے کہ اسلامی جہاد سے غرض معاہد الہیہ کی حفاظت ہے مسلمان بس لئے میدان جہاد میں قوت آزما ہوتا ہے کہ خدا پرستی کے تمام مرکزوں کو مشرکین کے قبضہ واستیلاء سے پاک کر دے ، وہ جہاد و قتال سے مادی نفع کا طالب نہیں ہوتا ، بلکہ اس کے سامنے اعلاء کلمۃ اللہ کا بلند مقصد ہوتا ہے ، وہ اللہ کے لئے لڑتا ہے اور اللہ کے لئے صلح کرتا ہے اگر مسلمان حق وصداقت کی تائید میں تلوار نہ اٹھائے تو پھر ساری دنیا میں باطل کی حکومت ہوجائے ۔
اور تمام مرکزوں میں جہاں اللہ کا نام لیا جاتا ہے ، دیوتاؤں اور معبودان باطل کی عبادت ہونے…
Read the full tafseer →(40) یہ مظلوم وہ ہیں جو ناحق محض اتنا کہنے پر کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں بعض کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا اور بعض کا زور بعض سے نہ گھٹواتا اور نہ دور کرتا رہتا تو راہبوں کے صومعے اور نصاریٰ کی گرجائیں اور یہود کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کیا جاتا ہے تمام کے تمام برباد و ویران کردیئے گئے ہوتے۔ اور اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس کی یعنی اس کے دین کی مدد کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور بڑے غلبے والا ہے۔ مسلمانوں مظلومیت کا اظہار فرمای کہ یہ لوگ صرف اتنا کہنے…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی توحید پر کفار کا یہ تمام تر غیظ و غضب تھا کہ ان کو اس قدر پریشان کیا کہ وطن چھوڑنا پڑا۔
5۔ یعنی اس کے لڑنے میں خالص نیت اعلاء کلمة اللہ کی ہو۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو حج وعمرہ کی خاطر جہاد کی اجازت دینے کی حقیقت کا بیان :
40۔ ” یہ وہ مظلوم جن کو ظالموں نے گھروں سے نکال دیا تھا “ اس فقرہ میں مسلمانون کی مظلومیت کی وضاحت کی گئی ہے کہ ان لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا گیا حالانکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس کی پاداش میں ان کو یہ سزا دی گئی لیکن آخر ان کا قصور کیا تھا ؟ فرمایا ان کا قصور یہ تھا کہ ملک میں بلکہ شہر میں 360 حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے اس ملک وشہر میں کھڑا ہو کر یہ اعلان کردیا کہ ” ہمارا حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف اور صرف اللہ ہے “ یہ نعرہ اس ملک اور شہر کے لوگوں کے عقیدہ کے خلاف تھا اور ان کے باپ دادا سے ان کے…
Read the full tafseer →The philosophy behind Jihad and war against the infidels
وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ (And had Allah not repelled some people by means of some others... - 22:40) Had Allah not repelled some people by means of some others, the monasteries, the churches, the synagogues and the mosques where the name of Allah is recited abundantly would have been demolished. The command to take up arms against the unbelievers is nothing new, because the earlier prophets and their followers had received similar orders from Allah Ta’ ala and the philosophy behind this command was that without armed…
Read the full tafseer →80. The mention of their expulsion from their homes in (verse 40) is a clear proof that this portion of Surah Al-Hajj was revealed at Al-Madinah.
81. In order to have an idea of the severe persecution of the Muslims, a few instances of this are cited.
(1) Suhaib Rumi was deprived of everything, when he was about to migrate to Al-Madinah. When he reached there, he had nothing with him except the clothes he was wearing. Though he had earned all that through his own labors, he was deprived of everything by the disbelievers of Makkah.
(2) When Abu Salmah was about to leave Makkah with his wife…
Read the full tafseer →