پابندی احکامات کی تاکید
حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی، ہم نے نماز وروزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔ ابو العالیہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس سے اصحاب رسول ہیں۔ خلیفہ رسول حضرت عمربن عبد العزیز ؒ نے اپنے خطبے میں اس آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 85
یعنی اللہ کے مددگار اور اس کی تائید و نصرت کے مستحق لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ اگر دنیا میں انہیں حکومت و فرمانروائی بخشی جائے تو ان کا ذاتی کردار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت صلوٰۃ ہو، ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہو، ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے اور ان کی طاقت بدیوں کو پھیلانے کے بجائے ان کے دبانے میں استعمال ہو۔ اس ایک فقرے میں اسلامی حکومت کے نصب العین اور اس کے کارکنوں اور کار فرماؤں کی خصوصیات کا جوہر نکال کر رکھ دیا گیا ہے۔ کوئی سمجھنا چاہے تو اسی ایک فقرے سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت…
Read the full tafseer →خلفائے راشدین کے حق میں قرآن کی پیشین گوئی اور اس کا ظہور
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ ، اس آیت میں الذین صفت ہے ان لوگوں کی جن کا ذکر اس سے پہلے آیت میں ان الفاظ سے آیا ہے الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ، یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں سے ظلماً بغیر کسی حق کے نکال دیا گیا۔ ان لوگوں کے بارے میں اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کو زمین میں حکومت و اقتدار دے دیا جائے تو یہ لوگ اپنے اقتدار کو ان کاموں میں صرف کریں گے کہ نمازیں قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کاموں کی طرف لوگوں کو دعوت دیں برے کاموں سے روکیں۔ اور یہ اوپر معلوم…
Read the full tafseer →الارض سے مراد سر زمین حرم
الارض سے مراد جس طرح رعد 41 اور انبیاء 44 میں ارض مکہ ہے اسی طرح قرینہ دلیل ہے کہ یہاں بھی اس سے مراد ارض مکہ ہے اس لئے کہ یہاں جس جہاد کی اجازت دی گئی ہے اصلاً اس کا تعلق ارض حرم ہی کی آزادی و تطہیر سے ہے۔ فرمایا کہ اس کے موجودہ غاصب اجارہ داروں نے تو اس حرم کے وہ تمام مقاصد برباد کردیئے ہیں جس کے لئے حضرت ابراہیم ؑ نے یہاں اپنی ذریت کو بسایا تھا البتہ اگر ہم اپنے ان بندوں کو اس سر زمین میں، اپنی تائید و نصرت سے، اقتدار بخشیں گے تو یہ اس کے تمام مقاصد کو از سر نو بروئے کار لائیں گے۔ یہ نماز کا اہتمام کریں گے۔ زکواۃ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں…
Read the full tafseer →41۔ 1 اس آیت میں اسلامی حکومت کی بنیادی اہداف اور اغراض و مقاصد بیان کئے گئے ہیں، جنہیں خلافت راشدہ کی دیگر اسلامی حکومتوں میں بروئے کار لایا گیا اور انہوں نے اپنی ترجیحات میں ان کو سر فہرست رکھا تو ان کی بدولت ان کی حکومتوں میں امن اور سکون بھی رہا، رفاہیت و خوش حالی بھی رہی اور مسلمان سربلند اور سرفراز بھی رہے۔ آج بھی سعودی عرب کی حکومت میں بحمد اللہ ان چیزوں کا اہتمام ہے، تو اس کی برکت سے وہ اب بھی امن و خوش حالی کے اعتبار سے دنیا کی بہترین اور مثالی مملکت ہے۔ آجکل اسلامی ملکوں میں فلاحی مملکت کے قیام کا بڑا غلغلہ اور شور ہے اور ہر آنے جانے والاحکمران اس کے دعوے کرتا ہے لیکن ہر اسلامی ملک…
Read the full tafseer →25: مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں حکومت قائم کرنے اور کافروں کے خلاف لڑائی میں ان کی مدد کرنے کا مقصد اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ زمین میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی عبادت خود بھی کریں گے، اور دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فریضہ انجام دیں گے۔ اس طرح یہ آیت ایک اسلامی ریاست کے بنیادی اغراض و مقاصد بیان فرما رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41)
اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔
شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی…
Read the full tafseer →1 یہ ان ہی مسلمانوں کا بیان ہے جن پر ظلم ہوئے اور جن کو گھروں سے نکالا گیا۔ یعنی خدا ان کی مدد کیوں نہ کرے گا جب کہ وہ ایسی قوم ہے کہ اگر ہم اسے زمین کی سلطنت دے دیں تب بھی خدا سے غافل نہ ہوں۔ بذات خود بدنی و مالی نیکیوں میں لگے رہیں۔ اور دوسروں کو بھی اسی راہ پر ڈالنے کی کوشش کریں۔ چناچہ حق تعالیٰ نے ان کو زمین کی حکومت عطاء کی اور جو پیشین گوئی کی تھی حرف بحرف سچی ہوئی۔ فللّٰہ الحمد علیٰ ذالک۔ اس آیت سے صحابہ ؓ خصوصاً مہاجرین اور ان میں اخص خصوص کے طور پر حضرات خلفائے راشدین ؓ کی حقانیت اور مقبولیت و منقبت ثابت ہوئی۔
2 یعنی گو آج مسلمان کمزور اور کافر غالب و قوی نظر آتے ہیں۔ لیکن اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت 41 اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ ”
”تمکن“ کا ذکر اس سے پہلے حضرت یوسف علیہ السلام کے حوالے سے سورة یوسف علیہ السلام کی آیت 21 اور 56 میں بھی آچکا ہے : وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِز ”اور اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کو زمین میں تمکن عطا کیا“۔ تو اپنے ان مؤمن بندوں کو اگر ہم کسی خطۂ زمین کا اختیار و اقتدار عطا کریں گے تو ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا ؟
اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ”
مؤمنین کو اگر کسی ملک پر حکومت کرنے کا اختیار ملے گا تو وہ اپنی پہلی ترجیح کے طور پر نماز کا نظام قائم کریں گے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی جمعہ کے قیام کا اہتمام فرمایا اور اقامت…
Read the full tafseer →69 اس آیت اسلامی طرز حکومت کے خدوخال اور حکومت چلانے والوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ اسلام میں ریاست کا قیام اصل مقصود نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہذا ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں بھی غیر اسلامی ریاستوں سے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً ایک غیر اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں محض یہ ہیں کہ پولیس کے ذریعہ امن بحال رکھا جائے۔ انتظامیہ کے ذریعہ حکومت کاروبار چلایا جائے اور فوج کے ذریعہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ جبکہ ایک اسلامی ریاست یہ ذمہ داریاں بھی پورا کرتی ہے اور یہ اس کا ثانوی فریضہ ہوتا ہے اس کے قیام کے اولین مقاصد یہ ہیں۔
1۔ پوری ریاست میں نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کیا…
Read the full tafseer →77۔ یہ ہے اصلی اور سچی تصویر اسلامی طرز حکومت کی۔ گورنمنٹ اگر مسلمانوں، سچے مسلمانوں کی قائم ہوجائے تو مسجدیں آباد پر رونق ہوجائیں۔ ہر طرف سے صدائیں تکبیر وتہلیل کی گونجا کریں۔ بیت المال کے بعد کوئی ننگا بھوکا نہ رہ جانے پائے۔ عدالتوں میں انصاف بکنے کے بجائے ملنے لگے۔ رشوت، جعلسازی، دروغ حلفی کا بازار سرد پڑجائے۔ امیر کو کوئی حق، کوئی موقع، غریب کی تحقیر کا، ایذا کا نہ باقی رہ جائے۔ غیبتیں، بدکاریاں، چوریاں، ڈاکے، خواب و خیال ہوجائیں۔ آبکاری کے محکمہ کو کوئی پانی دینے والا بھی نہ رہے۔ مہاجنی کو ٹھیوں، سود خوار ساہوکاروں، بینکوں کے ٹاٹ الٹ جائیں۔ گویے نچنئے اگر تائب نہ ہوں، شہربدر کردیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
آیت نمبر 39 تا 48
ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…
Read the full tafseer →الذین ان مکنہم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف ونہوا عن المنکر وہ کہ جب ہم ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں گے تو نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کا حکم
کریں گے اور برائی سے باز داشت کریں گے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جماؤ ‘ قوت اور اقتدار عطا کرنے کا وعدہ ہے بظاہر یہ جملہ شرطیہ ہے لیکن واقع میں شرط بمعنی خبر ہے اور جملہ خبریہ ہے۔
آیت میں مؤمنوں کے جن اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے وہ صرف خلفاء راشدین ہی میں موجود تھے۔ گویا یہ دلیل ہے خلفاء راشدین کی خلافت راشدہ کی۔ دوسرے مہاجرین کو کامل اقتدار عطا نہیں کیا گیا اس لئے یہ سب مہاجرین مفہوم آیت کے مصداق نہ تھے اور…
Read the full tafseer →(41) یہ حضرات (صحابہ کرام ؓ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو سرزمین مکہ میں حکومت دے دیں تو خود بھی پانچوں نمازوں کی پابندی کریں، اور زکوٰۃ دیں اور دوسروں کو بھی توحید اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کا حکم دیں اور کفر وشرک اور رسول اکرم ﷺ کی مخالفت سے روکیں اور آخرت میں تمام کاموں کے انجام اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ۔۔ : اس سے پہلے جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے کہ انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور وہ گھروں سے صرف توحید الٰہی کے جرم میں نکالے گئے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرور مدد کرے گا، انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ پیشگی بیان فرما رہے ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں اقتدار بخشا تو وہ چار کام سرانجام دیں گے۔ پہلا اور دوسرا یہ کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کریں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد میں اقامت صلاۃ کا ایسا مضبوط نظام قائم تھا کہ حدیث و سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں دوسرے گناہوں کے ارتکاب کا اور ان کی سزا کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین اخرجوا من دیارھم یہ ان کے مظالم میں سے ایک ظلم ہے کہ انہیں اس بات پر اپنے گھروں سے نکالا گیا کہ انہوں نے کہا : ہمارا پروردگار اللہ وحدہ ہے۔ الا ان یقولوا رببنا اللہ استثناء استثنا منقطع ہے یعنی لیکن ان کے رببنا اللہ کہنے کی وجہ سے ؛ یہ سیبویہ کا قول ہے۔ فراء نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ محلل جر میں ہو اس سے پہلے با مقدر ہو ؛ یہ ابو اسحاق زجاج کا قول ہے۔ اس کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ انہیں بغیر حق کے ان کے گھروں سے نکالا گیا مگر یہ کہ انہوں نے کہا : ہمارا پروردگار اللہ ہے یعنی وہ توحید کی وجہ سے نکالے گئے بت پرستوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین اخرجوا من دیارہم سے مراد ہے مکہ سے مدینہ کی طرف آیت بغیر حق، یعنی محمد ﷺ ا اور آپ کے اصحاب کو ہجرت پر مجبور کرنا۔
2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت آیت الذین اخرجو من دیرہم بغیر حق، ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بعد ہم کو نکالا گیا ہمارے گھروں سے ناحق۔ پھر ہم کو اللہ تعالیٰ نے حکومت دی زمین میں (یعنی مدینہ منور میں) تو ہم نے نماز کو قائم کیا اور ہم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ اور ہم نے نیکی کا حکم کیا اور برائی سے روکا تو یہ آیت میرے اور میرے اصحاب کے بارے میں ہے۔
3۔ ابن جریر…
Read the full tafseer →[ الَّذِينَ : وہ لوگ (کہ)] [ ان : اگر ] [ مَّكَّنّٰهُمْ : ہم اختیار دیں ان کو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ اَقَامُوا : تو وہ قائم کریں گے ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَاٰتَوُا : اور پہنچائیں گے ] [ الزَّكٰوةَ : زکٰوۃ کو ] [ وَاَمَرُوْا : اور حکم دیں گے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلائی کا ] [ وَنَهَوْا : اور منع کریں گے ] [ عَنِ الْمُنْكَرِ : بُرائی سے ] [ وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ہے ] [ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ : تمام معاملات کا انجام ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا کہ (وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرْ ) (اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے) مسلمانوں کا ابتدائی زمانہ دکھ تکلیف کا تھا مکہ مکر مہ چھوڑنا پڑا پھر اسی مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے زمین میں اقتدار نصیب فرمایا زمین کے بہت بڑے حصہ پر ان کی حکومت قائم رہی اور اب بھی دنیا کے بہت حصہ پر ان کا اقتدار ہے گو اقتدار کے مقتضا پر عمل نہیں کرتے۔
سب کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اس نے مسلمانوں کو خوب بڑھایا اقتدار سے نوازا، کافروں کے مقابلہ میں ان کا انجام اچھا ہوا اور آخرت میں ہر مومن کا انجام تو اچھا ہے ہی۔ فللہ الحمد والمنۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
اجازت جہادو وعدہ نصرت وتمکین براعدائے دین
قال اللہ تعالیٰ اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا .... الیٰ .... وللہ عاقبۃ الامو ر
(ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ کفار مسلمانوں کو ایک اللہ کی عبادت پر مارتے تھے اور طرح طرح کی ایذائیں دیتے تھے یہاں تک کہ کفار نے مکہ سے مسلمانوں کو نکال دیا۔ مسلمان کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر کافروں سے لڑنے کی اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی انکا مقابلہ کریں اور ان سے لڑیں اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی۔ اور صبر اور توکل کا حکم دیتے تھے، یہاں تک کہ باطنی جہاد کی منزلیں طے ہوگئیں اور نفوس ایسے پاک اور مقدس ہوگئے کہ ہمرنگ ملائکہ ہوگئے اور ادھر کفار ناہنجار کی ستم رانی…
Read the full tafseer →56:۔ ” اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ الخ “ یہ ” مَنْ یَّنْصرُ ہٗ “ سے بدل ہے یعنی اللہ تعالیٰ جن لوگوں کی مدد کرتا ہے ان کی صفات یہ ہیں کہ اگر ان کو زمین کی حکومت سونپ دی جائے تو بھی وہ راہ حق سے سر مو انحراف نہ کریں اور زمین پر اللہ کے دین کو نافذ کریں اور زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ کے قانون کو رائج کردیں۔ دنیا میں نیکی اور صلاح وتقوی کو فروغ دیں۔ برائی اور جرم و گناہ سے اللہ تعالیٰ کی زمین کو پاک کریں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت خلفائے راشدین ؓ کی حقانیت خلافت کی دلیل ہے اور اس آیت میں مہاجرین کی پاکیزہ سیرت کی پیش گوئی ہے۔ ویکون (الذین ان مکنھم فی الارض) اربعۃ من اصحاب رسول اللہ ﷺ لم یکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربط آیات : گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں بیت اللہ شریف کی تعمیرنو کا ذکر ہوا ، اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یہ کہ بیت اللہ کو زائرین کے لئے پاک صاف رکھا جائے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اعلان حج کا حکم بھی دیا اور پھر حج کے بعض احکامات اور قربانی کے مسائل بیان فرمائے۔ پھر ایمان داروں کے دفاع کی ذمہ داری اٹھائی گئی۔ پھر مظلوم مسلمانوں کو جنت کی اجازت دی گئی اور اللہ نے ان سے نصرت کا وعدہ فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا فلسفہ بھی بیان کیا کہ اگر وہ بعض ظالموں کو بعض دوسروں کے ذریعے دفع نہ کرتا تو دنیا میں اس قدر فتنہ و فساد برپا ہوتا کہ کوئی عبادت…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ 0ۭ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ 41
مكن
المَكَان عند أهل اللّغة : الموضع الحاوي للشیء، قال : وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10]
( م ک ن ) المکان
اہل لغت کے نزدیک مکان اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جسم پر حاوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] اور ہم نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا ۔
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…
Read the full tafseer →اَلَّـذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تَوُاالزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ۔ (الحج : 41)
(یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے ہے سارے کاموں کا انجام۔ )
مسلمانوں کے لیے اقتدار کی پیش گوئی
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جن کی مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اور جنھیں جہاد و قتال کی اجازت دی گئی ہے اور جو لوگ سالہاسال تک محض اللہ کے دین کی خاطر بےپناہ مصائب برداشت کرتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کا قتال اور اقتدار کشور کشائی یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ان کے قتال اور اقتدار کا مقصد ” اللہ “ کے دین کی سر بلندی اور مظلوموں کی مدد کرنا ہے اور دنیا میں امن وامان قائم رکھنا ہے۔
برسر اقتدار لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ہر قسم کے ظلم و زیادتی سے بچتے ہوئے اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کریں۔ جس میں اوّل نماز قائم کرنا اور لوگوں کو پابند نماز بنانا، زکوٰۃ ادا کرنا اور نظام زکوٰۃ نافذ کرنا۔ حکمران خود نیکی کے کام کریں اور لوگوں کو نیکی کا حکم دیں اور خود برائی سے بچیں لوگوں کو برائی سے منع کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس فرمان کے…
Read the full tafseer →مہاجرین کو اقتصادی خوشخبری :
41: اَلَّذِیْنَ ۔ نحو : یہ من یَنْصُرُہٗ سے بدل ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ نمبر 2۔ للذین اُخْرِجُوْا کا تابع ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوْاالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ (وہ کہ جب ہم ان کو زمین میں اقتدار عطاء کریں گے تو نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے) اس آیت میں سیرت مہاجرین کے متعلق خبر دی کہ عنقریب ہم ان کو اقتدار دیں گے تو ان سے یہ اموروقوع پذیر ہونگے۔ اور ان کے لئے دنیا کے خزانے کھول دیئے جائیں گے اور وہ دین کے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
41۔ الذین ان مکنھم فی الارض۔۔۔۔ زجاج کا قول ہے کہ یہ ماقبل نصرت کی صفت ہے۔ مکناھم، کا معنی ہے کہ ہم نے دشمن پر آپ کی مددد کی یہاں تک کہ آپ شہر میں ٹھہرے رہے۔ اس سے مراد صحابہ کرام ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہی امت محمدیہ ہے ۔ وللہ عاقبہ الامور۔ تمام مخلوق کا آخری امر اور ان کالوٹنا ان کی طرف ہوگا اور تمام بادشاہوں کی بادشاہت اس دن ختم ہوجائے گی۔ سوائی اللہ کی بادشاہت کے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
39۔ 44:۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو مشرکین مکہ صحابہ ؓ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اور صحابہ ؓ جب آنحضرت ﷺ سے ان تکالیف کا ذکر کرتے تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ صبر کرو مجھے ابھی لڑائی کا حکم خدا کی طرف سے نہیں ہے ‘ جس وقت مکہ سے ہجرت کا حکم آنحضرت کو ہوگیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قرینہ سے معلوم ہوگیا کہ مشرکین مکہ پر اب کوئی وبال ضرور آئے گا اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے انا للہ پڑھی اور فرمایا ‘ قریش نے نبی وقت کو مکہ سے نکال دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
آیت 42
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٓ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے (فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود۔ وقوم ابراہیم و قوم لوط۔ واصحب مدین وکذب موسی) ” بلاشبہ ان سے پہلے قوم نوح نے، عاد وثمود نے، قوم ابراہیم و قوم لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی۔ “ (فاملیت للکفرین) یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے…
Read the full tafseer →اسلامی اقتدار، اقامت صلوۃ اور ادائے زکوۃ کے نظام کا پابند ہوگا
قول باری ہے (الذین ان مکنا ھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اگر زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی صفت ہے جنہیں قتال کی اجازت دے دی گئی تھی۔ چناچہ ارشاد باری ہے (اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا۔ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں ) تاقول باری (الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے) تا قول باری (الذین ان مکنا ھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و امروا بالمعروف ونھوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
87 فریضہ نماز کی عظمت و اہمیت : سو اس سے معلوم ہوا کہ فریضہ ٔ نماز سب سے اہم فریضہ اور اولین عبادت ہے، اسی لیے زمین میں اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلی ذمہ داری اسی کے بارے میں عائد ہوتی ہے، اور یہ اللہ پاک کا ارشاد فرمودہ اور عائد کردہ ایک ایسا عظیم الشان فریضہ ہے جو کہ ایمان لانے کے بعد ایک مومن پر سب سے پہلے عائد ہوتا ہے، اور اس کی محافظت مومن کی اولین ذمہ داری، اور اس کے عقیدہ و ایمان کا بنیادی تقاضا ہے، اسی لئے حضرت عمر ؓ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد اپنے ولاۃ امور کو اس کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا، اَلَا اِنَّ اَہَمَّ اُمُوْرِکُمْ عِنْدِیْ الصَّلٰوۃُ فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–51
لڑائی کی اجازت
تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔
(جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ)
اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی ان کے کرنے کے کام یہ ہیں کہ اپنے ہاں نماز، زکوٰۃ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کریں تاکہ لوگوں میں دینداری عام ہو اور استباری حق گئی، عدل و انصاف اور دوسری تمام نیکیاں پروان چڑھیں۔ اس آیت میں خلفاء اربعہ ؓ کی امامت کے برحق ہونے کی بھی دلیل پائی جاتی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے حکومت و خودمختاری بخشی تو انہوں نے اپنی ساری توجہ انہی کاموں پر مرکوز کردی اس لئے پوری امت انہیں خلفاء راشدین ؓ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(22:41) الذین۔ یا تو من ینصرہ سے بدل ہے یا اخرجوا کی صفت ہے یعنی جو اللہ کی مدد کرتے ہیں (یعنی اس کے دین کی یا اس کے رسولون کی ، اولیائوں کی ) اگر ہم انہیں اقتدار بخشیں تو۔۔ یا وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے ایسے ہیں کہ اگر ہم انہیں اقتدار بخشیں تو ۔۔
ان مکناہم۔ مکنا ماضی جمع متکلم تمکین (تفعیل) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اگر ہم ان کو اقتدار دیں۔ اگر ہم ان کو جمائو عطا کریں۔ اگر ہم ان کو حکومت دیں۔ عاقبۃ۔ عاقبت۔ انجام۔ آخر۔ عاقبۃ الامور سب کاموں کا انجام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
لغات القرآن 39 تا 41 :
اذن (اجازت دے دی گئی) ‘ یقتلون (وہ لڑتے ہیں) دیار (دار) (گھرے مکانات) ‘ دفع (دور کرتا ہے) ‘ ھدمت (ڈھادیئے گئے) ‘ صوامع (صومعۃ) ترک دنیا کرنے والوں کی عبادت گاہ ‘ بیع (بیعۃ) (نصاری کے گرجا گھر) ‘ صلوات (یہودیوں کے عبادت خانے) ‘ یذکر (یاد کیا گیا۔ یا کیا جاتا ہے) ‘ مکنا (ہم نے غلبہ دیا۔ ہم نے جمائو عطا کردیا) ‘ عاقبۃ (انجام)
تشریح : آیت نمبر 39 تا 41 :
سورۃ الحج کی ان آیات میں چند بنیادی اور اہم مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کی تشریح سے پہلے اگر اس پس منظر کو سامنے رکھا جائے جن حالات میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی منشا کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔ پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
جہاد کا حکم۔ مہاجرین کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : کفار مکہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کو روز مرہ ہاتھ اور زبان سے شدید تکلفیں دیتے اور آزار پہنچاتے رہتے تھے اور صحابہ نبی ﷺ کے پاس اسحال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سرپھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے کسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے روزمرہ اس قسم کی شکایتیں حضور کی خدمت میں پہنچتی تھی اور اصحاب کرام کفار کے مظالم کی نبی ﷺ کے دربار میں فریاد کرتے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے کہ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے جب نبی ﷺ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ ان پر بہت ظلم کیا گیا ہے اللہ ان کی مدد فرمائے گا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
[35] یعنی ایسے لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ اگر دنیا میں انھیں حکومت و فرمانروائی بخشی جائے تو ان کا ذاتی کردار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت صلوٰۃ ہو۔ (اقامت صلوٰۃ کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 4) ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہو۔ ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے اور ان کی طاقت بدیوں کو پھیلانے کے بجائے ان کے دبانے میں استعمال ہو۔ اس ایک فقرے میں اسلامی حکومت کے نصب العین اور اس کے کارکنوں اور کارفرماؤں کی خصوصیت کا جوہر نکال کر رکھ دیا گیا ہے کوئی سمجھنا چاہے تو اسی ایک فقرے سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت…
Read the full tafseer →(ف 1)
جو لوگ اسلامی حکومت کے تخیل سے خائف ہیں ان کو اس آیت پر غور کرنا چاہئے ، ارشاد ہے ، کہ ہم مسلمانوں کو جب تمکن نے الارض کی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ دنیا میں عیاشیاں نہیں پھیلاتے ، اور حرص وآز میں گرفتار ہو کر لوگوں کے مال و دولت پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ، وہ نہایت پاکباز اور خدا پرست ثابت ہوتے ہیں ، ان کی زندگی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عبادت الہی کے جذبہ کو عام کریں ، اللہ کے سامنے جھکیں ، نماز پڑھیں ، اور زکوۃ دین تاکہ تمام غرباء اور مساکین کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے ، وہ ہر نیکی کو پھیلاتے ہیں ، اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرتے ہیں ان کا طرز حکومت نہایت عادلانہ اور دیندارانہ ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →(41) یہ وہ مظلوم لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں ذی اقتدار اور بااختیار کردیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور لوگوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیں اور بری باتوں سے منع کریں اور تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے یعنی اگر مسلمان اور اہل حق کو غلبہ حاصل ہوجائے تو وہ خود بھی نمازوں کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دیں اور بدی سے بچائیں۔
چنانچہ یہ بات پوری ہوئی۔ آیت سے صحابہ ؓ اور مہاجرین و انصار اور حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صداقت و حقانیت ثابت ہے۔
آیت کے آخری حصہ کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں یا تو یہ مطلب ہے کہ اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ف 6۔ پس مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر یہ کیونکر کوئی کہہ سکتا ہے کہ انجام بھی ان کا یہی رہے گا، بلکہ ممکن ہے کہ اس کا عکس ہوجاوے چناچہ ہوا۔
Read the full tafseer →ان کو اقتدار حاصل ہوجائے تو وہ نظام صلوۃ اور نظام زکوۃ قائم کرتے ہیں :
41۔ کھانا کھایا جاتا اور پانی پیا جاتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ بھوک وپیاس ختم ہو اور انسان اطمینان حاصل کرکے اور اپنا ایندھن حاصل کرکے یکسوئی کے ساتھ اپنی شبانہ روز محنت میں مصروف ہو سکے لیکن اگر کھانے سے بھوک نہ اترے اور پینے سے پیاس مزید بھڑک جائے پھر ؟ ظاہر ہے کہ پھر وہ انسان بیمار ہے اور اس کو اپنا علاج کرنے کی فکر کرنی چاہئے ورنہ وہی چیزیں جو اس کی زندگی کا باعث تھیں اس کی جان لیوا ہوجائیں گی ، یہی بات ان لوگوں کی ہے جن کا ذکر گزشتہ آیت میں بیان ہوا اور زیر نظر آیت میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کوا قتدار میسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
Qur’ anic prophecy about the Rightly Guided Caliphs ( خُلفأے راشدین ) and its fulfillment
الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ (Those who, when We give them power in the land - 22:41) In this verse the word (those) refers to those people who have been mentioned in the preceding verse: الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ (Those are the ones who were expelled from their homes without any just reason - 22:40). Referring to such people the verse says that if they are placed in authority in this world, they will use it to promote good deeds, will set up prayers, pay the…
Read the full tafseer →84. Those who help Allah are the people who invite mankind to Tauhid and exert their utmost to establish the true faith and righteousness. For further explanation see (E.N. 50 of Surah Aal-Imran).
85“If We give them authority”: In this one sentence, the real aim of the Islamic State and the characteristics of those who conduct its affairs have been stated concisely but comprehensively. Those who help Allah and deserve His succor behave righteously, establish Salat, make arrangements for the collection of Zakat and use their power and authority to propagate good and eradicate evil.
86. That…
Read the full tafseer →