Explained with ayahs 39–40
حکم جہاد صادرہوا
ابن عباس ؓ کہتے ہیں جب حضور ﷺ اور آپ کے اصحاب مدینے سے بھی نکالے جانے لگے اور کفار مکہ سے چڑھ دوڑے تب جہاد کی اجازت کی یہ آیت اتری۔ بہت سے سلف سے منقول ہے کہ جہاد کی یہ پہلی آیت ہے جو قرآن میں اتری۔ اسی سے بعض بزرگوں نے استدلال کیا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ شریف سے ہجرت کی ابوبکر ؓ کی زبان سے نکلا کہ افسوس ان کفار نے اللہ کے رسول ﷺ کو وطن سے نکالا یقینا یہ تباہ ہوں گے۔ پھر یہ آیت اتری تو صدیق ؓ نے جان لیا کہ جنگ ہو کر رہے گی۔ اللہ اپنے مومن بندوں کی مدد پر قادر ہے۔ اگر چاہے تو بےلڑے بھڑے انہیں غالب کردے لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے اسی لئے حکم دیا کہ ان کفار کی…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 78
جیسا کہ دیباچے میں بیان کیا جا چکا ہے، یہ قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں اولین آیت ہے جو نازل ہوئی۔ اس آیت میں صرف اجازت دی گئی تھی۔ بعد میں سورة بقرہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں جنگ کا حکم دے دیا گیا، یعنی وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ ، (آیت 190) اور واقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھَمْ مِّن حَیْثَ اَخْرَجُوْکُمْ (آیت 191) اور وَقَاتِلُوْھُمْ حتیٰ لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ للہِ (آیت 193) اور کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ (آیت 216) اور وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَعْلَمُوْآ اَنَّ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(گو اب تک بمصالح کفار سے لڑنے کی ممانعت تھی لیکن اب) لڑنے کی ان لوگوں کو اجازت دے دیگئی جن سے (کافروں کی طرف سے) لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ ان پر (بہت) ظلم کیا گیا ہے (یہ علت ہے مشروعیت جہاد کی) اور (اس حالت اذن میں مسلمانوں کی قلت اور کفار کی کثرت پر نظر نہ کرنا چاہئے کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے غالب کردینے پر پوری قدرت رکھتا ہے (آگے ان کی مظلومیت کا بیان ہے کہ) جو (بیچارے) اپنے گھروں سے بےوجہ نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے (یعنی عقیدہ توحید پر کفار کا یہ تمام تر غیظ و غضب تھا کہ ان کو اس قدر پریشان کیا کہ وطن چھوڑنا پڑا آگے جہاد کی حکمت ہے)…
Read the full tafseer →مسلمانوں کو اپنی مدافعت میں جہاد کی اجازت
اذن کا متعلق یہاں بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ یعنی اب ان مسلمانوں کو جن سے جنگ کی جائے جنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس وقت تک چونکہ مسلمانوں کی کوئی باقاعدہ تنظیمی ہئیت نہیں تھی اس وجہ سے ہر قسم کے مظالم کے ہدف رہنے کے باوجود ان کو جنگ کی اجازت نہیں د گئی بلکہ صبر کی ہدایت فرمائی گئی۔ اس لئے کہ منتشر افراد کی جنگ فساد کو مٹا کر حق و عدل قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اور اسلام میں جنگ صرف حق و عدل کے قیام ہی کے لئے جائز ہے لیکن مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد حالات تبدیل ہوگئے اس وجہ سے ان کو اپنی مدافعت میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت دے دی گئی۔ علاوہ ازیں یہ اجازت…
Read the full tafseer →39۔ 1 اکثر سلف کا قول ہے کہ اس آیت میں سب سے پہلے جہاد کا حکم دیا گیا، جس کے دو مقصد یہاں بیان کئے گئے ہیں۔ مظلومیت کا خاتمہ اور اعلائے کلمۃ اللہ۔ اس لئے کہ مظلومین کی مدد اور ان کی داد رسی نہ کی جائے تو پھر دنیا میں زور آور کمزوروں کو اور بےوسیلہ لوگوں کو جینے ہی نہ دیں جس سے زمین فساد سے بھر جائے۔ اور اگر باطل تو باطل کے غلبے سے دنیا کا امن و سکون اور اللہ کا نام لینے والوں کے لئے کوئی عبادت خانہ باقی نہ رہے (مذید تشریح کے لئے دیکھئے سورة بقرہ، آیت 251 کا حاشیہ)۔
Read the full tafseer →23: مکہ مکرمہ میں تیرا سال تک صبر وضبط کی تلقین کے بعد یہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کافروں کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی، اس سے پہلے مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم کا کوئی جواب دینے کی اجازت نہیں تھی ؛ بلکہ ہر زیادتی پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41)
اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔
شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی…
Read the full tafseer →8 جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے۔ حکم تھا کہ کفار کی سختیوں پر مسلمان صبر کریں اور ہاتھ روکے رکھیں۔ چناچہ انہوں نے کامل تیرہ سال تک سخت زہرہ گداز مظالم کے مقابلہ میں بےمثال صبرو استقامت کا مظاہرہ کیا۔ جب مدینہ " دارالاسلام " بن گیا اور مسلمانوں کی قلیل سی جمعیت ایک مستقل مرکز پر جمع ہوگئی تو مظلوم مسلمانوں کو جن سے کفار برابر لڑتے رہتے تھے اجازت ہوئی بلکہ حکم ہوا کہ ظالموں کے مقابلہ پر تلوار اٹھائیں۔ اور اپنی جماعت اور مذہب کی حفاظت کریں۔ اسی قسم کی کئی آیتیں اسی زمانہ میں نازل ہوئی ہیں۔
9 یعنی اپنی قلت اور بےسروسامانی سے نہ گھبرائیں۔ اللہ تعالیٰ مٹھی بھر فاقہ مستوں کو دنیا کی فوجوں اور سلطنتوں…
Read the full tafseer →آیت 39 اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا ط ”
سالہا سال سے انہیں تشدد و تعذیب کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ نت نئے طریقوں سے انہیں ستایا جا رہا تھا۔ انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ اب تک اللہ تعالیٰ نے ایک حکم کے ذریعے ان کے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔ یہ حکم اگرچہ وحی جلی کی صورت میں قرآن میں نہیں آیا مگر سورة النساء کی آیت 77 میں کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ کے الفاظ میں تصدیق کی گئی ہے کہ انہیں اپنے ہاتھ روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وحی خفی کے ذریعے حضور ﷺ کو یہ حکم دیا گیا تھا اور آپ ﷺ نے تمام اہل ایمان کو اس سے مطلع فرما دیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے ‘…
Read the full tafseer →65 مکہ میں جب مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے تو اس وقت بعض جرأت مند صحابہ نے ان کافروں سے جنگ کرنے کی اجازت طلب کی تھی مگر اس وقت اللہ نے انھیں ایسی اجازت نہیں دی۔ بکہ صبر و استقامت سے ظلم کو برداشت کرنے کی ہی تلقین کی جاتی رہی۔ پھر جب مسلمان مدینہ میں منتقل ہوگئے اور ایک چھوٹی سی اسلام مملکت کی داغ بیل پڑگئی، جو صرف مدینہ کے ایک چھوٹے سے قصبے تک محدود تھی۔ مسجد نبوی تعمیر ہوگئی جو مسلمانوں کے ہر طرح کے معاملات میں ہیڈ کو ارٹر کا کام دیتی تھی۔ مہاجرین کے مسولہ معاش کو مواخات کے ذریعہ کسی حد تک حل کرلیا گیا۔ یہودی قبائل اور مشرک قبائل سے امن و آشتی کے ساتھ آپس میں رہنے کے ماہدات…
Read the full tafseer →70۔ (خواہ مخواہ اور چھیڑ چھیڑ کر کافروں کی طرف سے) یعنی مسلمانوں کو اب تک مقابلہ اور لڑائی کی اجازت نہ تھی، ان پر ہر طرح کے ظلم وستم ہوتے رہے۔ اور وہ یعنی خدائی فوج والے، خدائی ڈسپلن کے ماتحت ان مظالم اور چیرہ دستیوں کو صبر و سکون کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ اب پہلی بار انہیں بھی جواب دینے کی اجازت مل رہی ہے۔ یہ آیت احکام قتال و جہاد میں اولین آیت ہے۔ اور مکی اسلام کے آخری زمانہ میں ہجرت نبوی سے کچھ ہی قبل نازل ہوئی۔
71۔ (اور یہی مظلومیت چاہے بالفعل ہو یا بالقوی، حالی ہو یا امکانی، علت ہے مشروعیت جہاد کی) (آیت) ” بانھم ظلموا “۔ کی علت ہونے سے کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ جو کفار ظالم نہ ہوں مگر اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
آیت نمبر 39 تا 48
ترجمہ : اجازت دیدی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے یعنی مومنین کو، یہ کہ وہ قتال کریں اور یہ پہلی آیت ہے جو (اجازت قتال) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سبب سے کہ وہ مظلوم ہوئے کافروں کے ان پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے یعنی ان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں تھی محض اتنی بات پر نکالے گئے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا رب اللہ وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ قول حق ہے اور اس کی وجہ سے نکالنا ناحق نکالنا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا، بعضھم الناس سے بدل البعض ہے تو…
Read the full tafseer →اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا اب (لڑنے کی) ان لوگوں کو اجازت دے دی گئی جن سے (کافروں کی
طرف سے) لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ ان پر (بہت) ظلم کیا گیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو جہاد کرنے اور کافروں سے لڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے اہل تفسیر کا بیان ہے کہ مکہ کے مشرک ‘ صحابہ کو بہت زیادہ ایذائیں دیتے تھے ‘ صحابہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کسی کا سر پھٹا ہوتا کوئی زخمی ہوتا کوئی پٹ کر آتا سب لوگ حضور ﷺ سے شکایت کرتے کہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے ‘ حضور ان کو تسلی دیتے اور فرماتے صبر رکھو ابھی مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے اس کے بعد یہ آیت (ہجرت کے بعد) مدینہ میں نازل…
Read the full tafseer →(39) اب مسلمانوں کو کفار مکہ کے ساتھ لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ کفار مکہ نے ان پر بہت ظلم کیا ہے بیشک اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے دشمنوں پر غالب کردینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”اذن للذین یقتلون“۔ (الخ)
امام احمد ؒ نے اور ترمذی ؒ نے تحسین ؒ اور امام حاکم ؒ نے تصحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے چلے تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تاکہ وہ ہلاک ہوں اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی اب لڑنے کی ان لوگوں کو اجازت دی گئی۔
Read the full tafseer →اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ۔۔ :”أَيْ فِی الْقِتَالِ“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے دفاع کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام مسلمانوں سے لے گا، وہ اگر چاہے تو قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحاب مدین کی طرح آسمانی عذاب کے ذریعے سے کفار کو تباہ و برباد کرسکتا ہے، مگر فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کرنے کے بعد موسیٰ ؑ کے زمانے سے اللہ تعالیٰ نے کفار کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا دلوانے کا طریقہ اختیار فرمایا، کیونکہ اس میں بیشمار حکمتیں ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذن للذین یقتلون بعض علماء نے فرمایا : ان اللہ یدفع عن الذین امنوا کا بیان ہے یعنی اللہ تعالیٰ کفار کے گروہوں کو مومنین سے اس طرح دور کرے گا کہ انہیں کفار سے جہاد کرنے کی اجازت دے گا اور ان کی مدد کرے گا۔ اس میں اضمار ہے یعنی اجازت دے دی گئی ہے جنگ کی انہیں جو جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پس کلام کو حذف کیا گیا کیونکہ موجودہ کللام محذوف کلام پر دلالت کر رہی ہے۔ ضحاک نے کہا نبی پاک ﷺ کے صحابہ کرام نے کفار سے جنگ کرنے کی اجازت طلب کی کیونکہ کفار نے مکہ میں انہیں اذیتیں دی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان اللہ لا یحب کل…
Read the full tafseer →1۔ اعبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ والنسائی وابن ماجہ والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان واطلبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے تو ابوبکر ؓ نے فرمایا ان لوگوں نے اپنے نبی کو اپنے شہر سے نکالا ہے۔ آیت انا للہ وان الیہ راجعون۔ ضرور ضرور یہ قوم ہلاک ہوگی اس وقت یہ آیت آیت اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا۔ نازل ہوئی اور ابن عباس ؓ اس کو پڑھتے تھے۔ ” اذن “ ابوبکر ؓ نے فرمایا میں جانتا ہوں عنقریب جنگ ہوگی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ پہلی آیت ہے جو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن…
Read the full tafseer →[ اُذِنَ : اجازت دی گئی ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جن سے ] [ يُقٰتَلُوْنَ : جنگ کی جاتی ہے ] [ بِانهُمْ : اس وجہ سے کہ ان پر ] [ ظُلِمُوْا : ظلم کیا گیا ] [ وَان اللّٰهَ : اور بیشک اللہ ] [ عَلٰي نَصْرِهِمْ : انکی مدد کرنے پر ] [ لَقَدِيْرُۨ: یقینا قدرت رکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 39 ۔ پہلی آیت ہے جو قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس میں صرف اجازت دی گئی ہے۔ بعد میں سورة بقرہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں جنگ کا حکم دیا گیا ہے۔ اجازت اور حکم میں صرف چند مہینوں کا فصل ہے۔ اجازت کی یہ آیت ذی الحجہ 1 ھ میں نازل ہوئی اور حکم جنگ بدر سے کچھ پہلے رجب یا شعبان 2 ھ میں نازل ہوا۔ (تفہیم…
Read the full tafseer →جہاد کی اجازت اور اس کے فوائد، اصحاب اقتدار کی ذمہ داریاں
مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ نے دعوت کا کام شروع کیا آپ کی دعوت پر شروع میں ان لوگوں نے لبیک کہی جو دنیاوی اعتبار سے ضعیف تھے۔ ان حضرات کے پاس مال بھی نہ تھا اور ان میں وہ لوگ بھی تھے جو مشرکین کے غلام تھے اور بعض پر دیسی تھے مشرکین مکہ ان حضرات کو بہت بہت تکلیف دیتے اور بری طرح مارتے پیٹتے تھے حتیٰ کہ ان میں بہت سے حضرات حبشہ کو ہجرت کر گئے اور رسول اللہ ﷺ اور دیگر صحابہ کرام ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے پھر حبشہ کے مہاجرین بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے جب تک یہ حضرات مکہ مکرمہ میں تھے ان کو صبر کرنے کا حکم تھا جنگ کرنے کی اجازت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
اجازت جہادو وعدہ نصرت وتمکین براعدائے دین
قال اللہ تعالیٰ اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا .... الیٰ .... وللہ عاقبۃ الامو ر
(ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ کفار مسلمانوں کو ایک اللہ کی عبادت پر مارتے تھے اور طرح طرح کی ایذائیں دیتے تھے یہاں تک کہ کفار نے مکہ سے مسلمانوں کو نکال دیا۔ مسلمان کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر کافروں سے لڑنے کی اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی انکا مقابلہ کریں اور ان سے لڑیں اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی۔ اور صبر اور توکل کا حکم دیتے تھے، یہاں تک کہ باطنی جہاد کی منزلیں طے ہوگئیں اور نفوس ایسے پاک اور مقدس ہوگئے کہ ہمرنگ ملائکہ ہوگئے اور ادھر کفار ناہنجار کی ستم رانی…
Read the full tafseer →53:۔ ” اُذِنَ لِلَّذِیْنَ الخ “ اس آیت میں اجازت جہاد کے اسباب و وجوہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ آیت اگر مدنی ہے جیسا کہ ساری سورة حج مدنی ہے اس پر کوئی اشکال نہیں کیونکہ جہاد کی فرضیت مدینہ میں نازل ہوئی تھی اور اگر یہ آیت مکی ہو جیسا کہ بعض کا قول ہے تو جہاد کا حکم ان لوگوں کو ہوگا جو مکہ مکرمہ سے باہر رہتے تھے یعنی ان مظلوم مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے جنہوں نے پہل نہیں کی بلکہ ان کو لڑائی میں الجھایا گیا وہ ساسر مظلوم ہیں انہیں بلا وجہ گھروں سے نکالا گیا ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مالک و مختار اور کارساز سمجھتے تھے اور اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے تھے۔ ” اُذِنَ “ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں بیت اللہ شریف کی تعمیر نو ، حج ، قربانی ، شرک کی تردید اور دیگر مسائل کا ذکر ہوا۔ کفار کی طرف سے اللہ کے راستے اور مسجد حرام سے روکنے کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ مکہ کے مشرکی کسی مسلمان کو خانہ کعبہ میں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتی کہ 6 ھ میں تقریباً ڈیڑھ ہزار اہل ایمان کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا ، حالانکہ حرم پاک میں مقامی اور بیرونی تمام لوگوں کو عبادت کرنے کا یکساں حق حاصل ہے ۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ پہلی آیت بطور تمہید ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی ہے۔ اس کے بعد دوسری آیت میں جہاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور مسلمانوں کی مظلومیت…
Read the full tafseer →اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا 0ۭ وَاِنَّ اللہَ عَلٰي نَصْرِہِمْ لَقَدِيْرُۨ 39ۙ
وأَذِنَ :
استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] .
( اذ ن) الاذن
اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہے اس میں خاص ان لوگوں کو جہاد کی اجازت ہے جو ان کے ظلم و ستم سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے تھے اور کفار ان کو زبردستی سے روکتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے اور سبب اجازت بھی بیان کردیا۔ بانہم ظلموا کہ مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اس لیے ان کو اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ اہل مدینہ و ابن عامر و حفص یقاتلون کو بفتحِ تا پڑھتے ہیں یعنی ان مومنوں کو اجازت ہے کہ جن سے کفار مقاتلہ کرتے ہیں ‘ لڑتے مارتے ہیں قتل کرتے ہیں پھر ان کو وعدہ دیتا ہے کہ ان اللہ علی نصرھم لقدیر ان کی مدد پر قادر ہے یعنی ان کو غالب کرے گا چناچہ جب مظلوم مسلمانوں نے جہاد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
اُذِنَ لِلَّـذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا ط وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُنِ ۔ لا الَّذِ یْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِحَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ط وَلَوْ لَادَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُفِیْھَااسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًاط وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (الحج : 39، 40)
(اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے۔ اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ جو لوگ اپنے گھروں سے ناحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : قربانی کے جذبہ کا منطقی نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنا تن، من، دھن ” اللہ “ کی راہ میں نچھاور کر دے اس لیے قربانی کے مسائل بیان کرتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
مکہ معظمہ میں تیرہ سال تک مسلمان ہر قسم کے مظالم برداشت کرتے رہے۔ مقابلے میں جب کبھی لڑنے کی اجازت طلب کی گئی تو مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنے سے روک دیا گیا۔ ہجرت کے بعد یہ پہلا فرمان ہے جس میں مظلوم مسلمانوں کو نہ صرف لڑنے کی اجازت دی گئی بلکہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ مسلمانوں اب تمہیں ظلم کے خلاف لڑنے کی اجازت ہے۔ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرنے پر قادر ہے۔ باالفاظ دیگر تمہاری…
Read the full tafseer →39: اُذِنَ (ان لوگوں کو اجازت دے دی گئی)
قراءت : مدنی، بصری، عاصم کی قراءت میں اسی طرح پڑھا گیا ہے۔
لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ (ان لوگوں کو جس سے لڑائی کی جاتی ہے) ۔
اجازتِ قتال اور اس کے اسباب :
قراءت : تائؔ کے فتحہ کے ساتھ مدنی، شامی، حفص نے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے ان کو لڑائی کی اجازت دے دی گئی۔ جس کی اجازت دی اس کو حذف کردیا کیونکہ یقاتلون اس پر دلالت کررہا ہے۔
بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا (اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا) ان کے مظلوم ہونے کی وجہ سے اور اس سے مراد اصحاب رسول ﷺ ہیں۔ مشرکین ان کو بڑئی ایذائیں دیتے تھے۔ وہ رسول ﷺ کی خدمت میں مضروب، زخمی سر، مظلومیت کی فریاد کرتے ہوئے آتے۔ آپ ﷺ ان کو تسلی…
Read the full tafseer →39۔ اذن، اہل مدینہ بصرہ نے اور عاصم نے ، اذن الف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے ۔ للذین یقاتلون ، اہل مدینہ ، ابن عامر وحفص نے یقاتلون ، تاء کے فتحہ کے ساتھ وہ مومنین جو مشرکین کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔
بعض ایک تفاسیر میں ہے کہ مکہ کے مشرک صحابہ کرم کو بہت زیادہ ایذائیں دیتے تھے صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کسی کا سرپھٹا ہوتا کوئی زخمی ہوتا، کوئی پیٹ کرآتا، سب لوگ حضور سے شکایت کرتے کہ ہمارے ساتھ ایک سلوک کیا جارہا ہے۔ حضور ان کو تسلی فرماتے اور فرماتے صبر کرو ابھی مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا، اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
39۔ 44:۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو مشرکین مکہ صحابہ ؓ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اور صحابہ ؓ جب آنحضرت ﷺ سے ان تکالیف کا ذکر کرتے تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ صبر کرو مجھے ابھی لڑائی کا حکم خدا کی طرف سے نہیں ہے ‘ جس وقت مکہ سے ہجرت کا حکم آنحضرت کو ہوگیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قرینہ سے معلوم ہوگیا کہ مشرکین مکہ پر اب کوئی وبال ضرور آئے گا اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے انا للہ پڑھی اور فرمایا ‘ قریش نے نبی وقت کو مکہ سے نکال دیا…
Read the full tafseer →آیت 39
اسلام کی ابتداء میں مسلمانوں کو کفار کے خلاف جنگ کرنے کی ممانعت تھی اور ان کو صبر کرنے کا حکم تھا، اس میں حکمت الہیہ پوشیدہ تھی۔ جب انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ستایا گیا اور مدینہ منورہ پہنچ کر انہیں طاقت اور قوت حاصل ہوگئی تو انہیں کفار کے خلاف جہاد کی اجازت دیدی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اذن للذین یقتلون) ” ان لوگوں کو اجازت دی جاتی ہے جن سے کافر لڑائی کرتے ہیں۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے قبل مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہ تھی پس اللہ نے انہیں ان لوگوں کے خلاف جہاد اور جنگ کی اجازت مرحمت فرما دی جو ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
حالت امن میں تمام مذاہب کے معابد قابل احترام ہیں
قول باری ہے (ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھد مت صوامع وبیع وصلوت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب مسمار کر ڈالی جائیں) مجاہد کا قول ہے کہ راہبوں کی خانقاہوں کو صوامع کہا جاتا ہے اور یہودیوں کے گرجائوں کو بیع کہتے ہیں۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہودیوں کے گرجائوں کو صلوت کہا جاتا ہے۔ وہ انہیں صلوت بھی کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق صلوات ان مقامات کو کہتے ہیں جو مسلمان اپنے گھروں میں نماز کے لئے مخصوص کردیتے ہیں۔ بعض…
Read the full tafseer →81 مظلوموں کو جہاد کی اجازت : یعنی چونکہ ان پر ظلم ہوتا رہا اس لیے ان کو اس ظلم کیخلاف جہاد کی اجازت دی جاتی ہے، (مدارک، کبیر، اور صفوۃ وغیرہ) ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ پہلی آیت کریمہ ہے جس میں جہاد کی اجازت دی گئی، اور ان مظلوموں سے مراد آنحضرت ﷺ اور آپ کے وہ صحابہ کرام ہیں جو کہ اپنے دین و ایمان کے باعث کفار کے طرح طرح کے مظالم کا شکار ہو رہے تھے، جن کو ان کے گھروں سے بےگھر کیا گیا اور وہ حضور سے جب اپنی مظلومیت پیش کرکے جہاد کی اجازت مانگتے، تو آپ ﷺ ان کو صبر و ضبط ہی سے کام لینے کی ہدایت فرماتے، یہاں تک کہ ہجرت مدینہ کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، اور اس میں ان کو جہاد کی اجازت مرحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–51
لڑائی کی اجازت
تشریح : مکہ میں آخری دور تک مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تھی۔ کفار ان پر انتہا سے زیادہ ظلم و ستم کرتے مثلاً تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے قمیض اتار کر اور سینے پر گرم بھاری پتھر رکھ دیتے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی تو مسلمان آپ ﷺ سے اجازت مانگتے تھے کہ ہم بھی ان سے لڑنا چاہتے ہیں مگر جنگی مصلحت یا وقتی تقاضا یہ تھا اور پھر سب سے بڑی بات کہ اس وقت تک مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔ ظلم و ستم اتنے بڑھے کہ صرف اللہ کا نام لینے کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے 13 سال ظلم و ستم برداشت کیے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد اس آیت میں کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–48
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
چناچہ ظہور اسلام کے مکی دور کے تیرہ برس مسلمانوں کو برداشت کرنے اور دین سیکھنے سکھانے پر محنت کرنے کا حکم تھا مگر جب کفار کا ظلم حد سے بڑھا اور مسلمان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے حتی کہ نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جہاد کی اجازت اور جہاد کرنے کا حکم ملا اور جہاد کی فرضیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی ارشاد فرمائی گئی کہ مسلمانوں کو جو کافروں کے جوروستم کی زد پر ہیں اور جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اب مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔
(جہاد کی فرضیت اور اس کی وجہ)
اللہ کریم نے ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ظلم کی تعریف وہ ظلم کہلائے گی ،…
Read the full tafseer →1 ۔ یعنی گو ان کی تعداد کم ہے اور بےسروسامان ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کو تمام دشمنوں پر غالب کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →(22:39) اذن۔ اذن سے (باب سمع) ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ حکم دیا گیا۔ اجازت ۔ یقاتلون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب قتال مصدر (باب مفاعلہ) جن سے قتال کیا جائے (جن کے خلاف جاحانہ جنگ کی جا رہی ہے) ۔
بانہم ظلموا۔ میں ب سببیہ ہے یعنی بوجہ اس کے کہ اس پر ظلم ہو رہا ہے۔ اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا۔ جن (مؤمنین) کے خلاف جارحانہ قتال کیا جا رہا ہے ان کو اب مدافعت میں جہاد کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ (یہ آیت احکام جہاد میں اولین آیت ہے اس سے قبل مسلمان کافروں کے ظلم وتشدد اور ان کی چیرہ دستیوں کو صبر و سکون کے ساتھ برداشت کرتے رہے تھے کیونکہ منشا ایزدی یہی تھا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
لغات القرآن 39 تا 41 :
اذن (اجازت دے دی گئی) ‘ یقتلون (وہ لڑتے ہیں) دیار (دار) (گھرے مکانات) ‘ دفع (دور کرتا ہے) ‘ ھدمت (ڈھادیئے گئے) ‘ صوامع (صومعۃ) ترک دنیا کرنے والوں کی عبادت گاہ ‘ بیع (بیعۃ) (نصاری کے گرجا گھر) ‘ صلوات (یہودیوں کے عبادت خانے) ‘ یذکر (یاد کیا گیا۔ یا کیا جاتا ہے) ‘ مکنا (ہم نے غلبہ دیا۔ ہم نے جمائو عطا کردیا) ‘ عاقبۃ (انجام)
تشریح : آیت نمبر 39 تا 41 :
سورۃ الحج کی ان آیات میں چند بنیادی اور اہم مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کی تشریح سے پہلے اگر اس پس منظر کو سامنے رکھا جائے جن حالات میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی منشا کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔ پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
جہاد کا حکم۔ مہاجرین کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : کفار مکہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کو روز مرہ ہاتھ اور زبان سے شدید تکلفیں دیتے اور آزار پہنچاتے رہتے تھے اور صحابہ نبی ﷺ کے پاس اسحال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سرپھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے کسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے روزمرہ اس قسم کی شکایتیں حضور کی خدمت میں پہنچتی تھی اور اصحاب کرام کفار کے مظالم کی نبی ﷺ کے دربار میں فریاد کرتے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے کہ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے جب نبی ﷺ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ ان پر بہت ظلم کیا گیا ہے اللہ ان کی مدد فرمائے گا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[34] جب تک نبی ﷺ مکہ میں تھے تو حکم تھا کہ کفار کی سختیوں پر مسلمان صبر کریں اور ہاتھ روکے رکھیں چناچہ کامل تیرہ سال تک کفار کا ظلم و تشدد برداشت کرتے رہے۔ جب رسول اکرم ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی تب یہ آیت نازل ہوئی اور بالاتفاق یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
قربانی اور جہاد :
(ف 1) یعنی قربانی کے عملی معنے یہ ہیں کہ دلوں میں جذبہ جہاد موجزن ہو ، اگر ہم ہر سال لاکھوں اور کروڑوں حیوانات کا خون بہائیں اور قلوب میں کوئی حرارت اور کوئی جذبہ جہاد پیدا نہ ہو تو پھر یہ عبادت سراسر بےروح اور بےکیف ہوگی ،
آیت میں اذن جہاد ہے ، کیونکہ مسلمانوں کی مظلومیت حد سے بڑھ گئی ، اب یہ ناممکن ہے کہ ان مظالم کو زیادہ دیر تک برداشت کیا جائے ۔
ارشاد ہے کہ اللہ نے طے کرلیا ہے کہ مسلمانوں کی اعانت کی جائے اور مشرکین کے غلبہ واستیلا کو دور کیا جائے ، کیونکہ مسلمان مظلوم ہیں اور اسلام کو مظلومیت پسند نہیں ، جس طرح ظلم بڑی چیز ہے اور اسلام اس کو جائز قرار نہیں دیتا ہے اسی…
Read the full tafseer →(39) جن لوگوں سے بلاوجہ لڑائی کی جاتی ہے ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب وہ بھی لڑیں اس اجازت اور حکم کی وجہ یہ ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کی مدد کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی مکہ کے منکر مسلمانوں پر برابر ظلم کرتے رہے اور ان کو ہر قسم کی اذیت پہنچاتے رہے اور ان کو مکہ چھوڑنے پر کفار مکہ نے مجبور کردیا اور ان کی مظلومیت اور بےچارگی کی انتہا ہوگئی اور وہ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینے میں جاب سے۔ تب حکم دیا مظلوموں کو کہ اب تم سے جو لڑے تم بھی اس کا مقابلہ کرو۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یہ علت ہے مشروعیہ جہاد کی۔
Read the full tafseer →حج کی اجازت دو کہ جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے ظلم کی رات مٹانے کے لئے حکم :
39۔ (یقتلون) جمع مذکر غائب مضارع مجہول جن سے قتال کیا جائے ، یہ قتال کن سے کیا جا رہا تھا ؟ مسلمانوں سے ‘ کون کر رہا تھا ؟ کفار مکہ جو اس قتال کے اصل الاصول تھے کہ انہوں نے مسلمانوں پر جنگ مسلط کی تھی اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ ان کے ظلم کی انتہا یہ ہوئی کہ مسلمانوں کو حج جیسے فریضہ کے ادا کرنے سے بھی انہوں نے روک دیا تھا اور پھر وہ اجازت دینے کے لئے تیار بھی نہیں تھے ، اب مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ کفار مکہ سے قتال تو پہلے ہی جاری ہے اب تم حج وعمرہ کی غرض سے بھی ان سے جنگ کرسکتے ہو ۔ ہمارے مفسرین نے یہ قتال کا حکم پہلا…
Read the full tafseer →Commentary
First command to fight the infidels
The infidels of Makkah intensified their aggression against the Muslims and every day people arrived in Madinah bearing marks of ill-treatment which they had suffered at the hands of unbelievers. In the days before Hijrah the number of the faithful had increased considerably and they sought permission to defend themselves against the oppression to which they were being constantly subjected, but the Holy Prophet ﷺ advised them patience because he had not received Allah's permission so far to resist the infidels with force of arms. This situation…
Read the full tafseer →78. This (verse 39) is the first verse of the Quran in which permission to tight was given in the month of Zil-Hajj in the first year after Hijrah according to our research. Then the command to fight was given in (verse 190, 191, 193, 216 and 244 of Surah Al-Baqarah) in Rajab or Shaban of A.H. 2.
79.“Allah surely has Power over giving them victory”: this assurance was urgently needed by the persecuted Muslims whose fighting strength at that time was very meager, not even a thousand including all the migrants and the Muslims of Al-Madinah. On the other hand, the fighting strength of the…
Read the full tafseer →