Al-Hajj 22:38

Al-Hajj · from ayah 38

22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ ۟۠اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوۡرٍ

خدا تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بےشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah defends those who have believed. Indeed, Allah does not like everyone treacherous and ungrateful.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:38

یقیناً اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں یقیناً اللہ کسی خائن کافر نعمت کو پسند نہیں کرتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بےشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

— مولانا فتح محمد جالندہری

سن رکھو! یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے۔ کوئی خیانت کرنے واﻻ ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک اللہ ان لوگوں کا دفاع کرے گا جو ایمان لے آئے ہیں، یقین جانو کہ اللہ کسی دغا باز ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ بلائیں ٹالتا ہے، مسلمانوں کی بیشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اﷲ صاحبِ ایمان لوگوں سے (دشمنوں کا فتنہ و شر) دور کرتا رہتا ہے۔ بیشک اﷲ کسی خائن (اور) ناشکرے کو پسند نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے، بیشک اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بڑا خائن، بہت ناشکرا ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ایمان لائے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے (دشمنوں کی) موافعت کرتا ہے۔ یقینا اللہ کسی خائن اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اللہ مدافعت کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے۔ اللہ ہرگز بدعہدوں اور ناشکروں کو پسند نہیں کرتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ تعالیٰ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا کسی بھی دغا باز ناشکرے کو

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ ایمان والوں سے دور کردیگا (مشرکوں کے غلبہ واقتدار کو)۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا کسی دغا باز کفر والے کو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اللہ مدافعت کرے گا اہل ایمان کی طرف سے اللہ بالکل پسند نہیں کرتا ہر بڑے خیانت کرنے والے نا شکرے کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بیشک اللہ کسی خیانت کرنے والے اور کفر ان نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah defends those who believe. Certainly Allah has no love for the perfidious, the thankless.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, Allah defends those who believe. Allah does not love any treacherous, ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, Allah defends those who believe. Allah does not love any treacherous, ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, Allah defends those who believe. Verily, Allah likes not any treacherous ingrate.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah defendeth those who are true. Lo! Allah loveth not each treacherous ingrate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah defends those who have believed. Indeed, Allah does not like everyone treacherous and ungrateful.

— Saheeh International

God defends the believers but He does not love any of the treacherous, ungrateful ones.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah will defend those who believe; surely Allah does not love any one who is unfaithful, ungrateful.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah will repel from those who believe: verily Allah loveth not any treacherous, ingrate.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily Allah will defend (from ill) those who believe: verily, Allah loveth not any that is a traitor to faith, or show ingratitude.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خبر دے رہا ہے کہ جو اس کے بندے اس پر بھروسہ رکھیں اس کی طرف جھکتے رہیں انہیں وہ اپنی امان نصیب فرماتا ہے، شریروں کی برائیاں دشمنوں کی بدیاں خود ہی ان سے دور کردیتا ہے، اپنی مدد ان پر نازل فرماتا ہے، اپنی حفاظت میں انہیں رکھتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36؀ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور آیت میں (وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 76 مدافعت دفع سے ہے جس کے اصل معنی کسی چیز کو ہٹانے اور دور کرنے کے ہیں۔ مگر جب دفع کرنے کے بجائے مدافعت کرنا بولیں گے تو اس میں دو مفہوم اور شامل ہوجائیں گے۔ ایک یہ کہ کوئی دشمن طاقت ہے جو حملہ آور ہو رہی ہے اور مدافعت کرنے والا اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ مقابلہ بس ایک دفعہ ہی ہو کر نہیں رہ گیا بلکہ جب بھی وہ حملہ کرتا ہے یہ اس کو دفع کرتا ہے۔ ان دو مفہومات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اہل ایمان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے مدافعت کرنے کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کفر اور ایمان کی کشمکش میں اہل ایمان یکہ و تنہا نہیں ہوتے بلکہ اللہ خود ان کے ساتھ ایک فریق ہوتا ہے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بلاشبہ اللہ تعالیٰ (ان مشرکین کے غلبہ اور ایذا رسانی کی قدرت کو) ایمان والوں سے (عنقریب) ہٹا دے گا (کہ پھر حج وغیرہ سے روک ہی نہ سکیں گے) بیشک اللہ تعالیٰ کسی دغا باز کفر کرنے والے کو نہیں چاہتا (بلکہ ایسے لوگوں سے ناراض ہے اس لئے انجام کار ان لوگوں کو مغلوب اور مومنین مخلصین کو غالب کرے گا) معارف و مسائل سابقہ آیات میں اس کا ذکر تھا کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو جو عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ کے قریب مقام حدیبیہ پر پہنچ چکے تھے حرم شریف اور مسجد حرام میں جانے اور عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا اس آیت میں مسلمانوں کو اس وعدہ کے ساتھ تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون ……آیات 41-38 یہ آیات مدینہ میں نازل ہوئیں اور چونکہ یہ جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کرچکے ہیں، انہی باتوں پر متفرع اور انہی کی توضیح کی حیثیت رکھتی ہیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ اس وجہ سے ان کو مصحف کی ترتیب میں یہاں جگہ ملی۔ اوپر آیت 25 پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں، قریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ اور مسجد حرام سے مسلمانوں کو روک رہے ہیں، درآنحالیکہ مسجد حرام پر کسی کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی وہ بڑے ہی ظالم ہیں اور اللہ ایسے ظالموں کو ایک درد ناک عذاب چکھائے گا۔ اس کے بعد بیت اللہ کی تاریخ اور اس کے مناسک و شعائر کی روشنی میں یہ دکھایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 37–38

38۔ 1 جس طرح 6 ہجری میں کافروں نے اپنے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو مکہ جا کر عمرہ نہیں کرنے دیا، اللہ تعالیٰ نے دو سال بعد ہی کافروں کے اس غلبہ کو ختم فرما کر مسلمانوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹا دیا اور مسلمانوں کو ان پر غالب کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–38

22: مکہ مکرمہ میں کافروں کی طرف سے مسلمانوں پر جو ظلم توڑے جارہے تھے، شروع میں قرآن کریم ہی نے انہیں بار بار صبر سے کام لینے کا حکم دیا تھا، اب اس آیت میں یہ تسلی دی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ صبر آزما مرحلہ اب ختم ہونے والا ہے اور وقت آگیا ہے کہ ان ظالموں کے ظلم کا جواب دیا جائے ؛ چنانچہ اگلی آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے ؛ لیکن اس سے پہلے یہ خوشخبری دے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود مسلمانوں کا دفاع کرے گا اس لئے وہ اب بےخوف ہو کر لڑیں اور وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے لڑائی ہونی ہے وہ دغا باز اور ناشکرے لوگ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، اس لئے وہ ان کے خلاف مسلمانوں ہی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–41

ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41) اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔ شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ للنَّاسِ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ ۭ وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۢ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 22 ۔ الحج :25) میں ان کفار کا ذکر تھا جو مسلمانوں کو حرم شریف کی زیارت اور حج وعمرہ وغیرہ سے روکتے تھے درمیان میں مسجد حرام اور اس کے متعلقات کی تعظیم و ادب کے احکام بیان فرمائے۔ اب پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی مسلمان مطمئن رہیں اللہ تعالیٰ عنقریب دشمنوں سے ان کا راستہ صاف کر دے گا۔ مسجد حرام تک پہنچنے اور اس کے متعلق احکام کی تعمیل کرنے میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب ہمیں جن آیات کا مطالعہ کرنا ہے ان میں وارد احکام حضور ﷺ کی دعوت و تحریک کی جدوجہد میں ایک نئے موڑ turning point کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ وہی آیات ہیں جو ہجرت کے سفر کے دوران میں نازل ہوئی تھیں۔ قبل ازیں آیت 11 کے ضمن میں حضرت عبداللہ بن عباس رض کی روایت کا حوالہ گزر چکا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سورت کی کچھ آیات اثنائے سفر ہجرت میں نازل ہوئی تھیں۔۔ ان آیات کا مضمون اور مقام و محل اس پہلو سے بھی قابل غور ہے کہ سورة البقرۃ کے 23 ویں رکوع میں یعنی تقریباً سورت کے وسط میں رمضان المبارک اور روزے کے احکام و فضائل کا ذکر ہے اور اس کے بعد دو رکوع 24 واں اور 25 واں رکوع قتال فی سبیل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 اللہ تعالیٰ اہل حق کا فریق اس لئے بنتا ہے کہ فریق ثانی خائن اور بددیانت بھی ہے اور ناشکرا بھی۔ بددیانت اور خائن اس لحاظ سے کہ اللہ نے انھیں کعبہ کی تولیت کی امانت سپرد کی تو انہوں نے اہل حق کو کعبہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی اور ناشکرے اس لحاظ سے ہیں کہ ان کو سب نعمتیں تو اللہ نے دی ہیں مگر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اپنی ساری نیاز مندیاں اور عبادتیں بتوں کے لئے وقف کردیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ (مستقبل قریب میں چناچہ مشرکین مکہ کو اس پر قدرت نہ باقی رہے گی کہ وہ مسلمانوں کو ادائے حج وعمرہ وغیرہ سے روک سکیں) آیت کا زمانہ نزول وہ ہے جب مکہ کی مشرک ریاست ہر طرح غالب وچیرہ دست تھی، اور مسلمان اس کے مقابلہ میں ہر طرح کمزور وبے بس۔ 69۔ (سو وہ نصرت ان کی نہیں اہل ایمان کی کرے گا) کافروں، منکروں، بےدینوں کو جو مہلت مل جاتی ہے وہ اول تو عارضی ہوتی ہے، دوسرے کسی مصلحت تکوینی کے ماتحت۔ ورنہ نصرت الہی کے اصل اور مستقل مستحق تو اہل ایمان ہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–38

آیت نمبر 34 تا 38 ترجمہ : اور ہم نے ہر امت کے لئے یعنی مومن جماعت کے لئے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے منسکاً سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے اور کسرہ سین کے ساتھ اسم مکان ہے، یعنی بطور قربانی ذبح کرنا، یا مقام ذبح، سو تمہارا معبود ایک ہی خدا ہے سو اسی کے تابع فرمان رہو، اور آپ اطاعت کرنے والوں یعنی تواضع اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں، اور جو نماز کی ان کے اوقات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ یدفع عن الذین امنوا ان اللہ لا یحب کل خوان کفور۔ بلاشبہ اللہ ان مشرکوں کے غلبہ (اور ایذا) کو ایمان والوں سے (عنقریب) ہٹا دے گا ‘ بیشک اللہ کسی دغا باز کفر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ پسند نہ کرنے سے مراد ہے نفرت کرنا۔ خوان یعنی امانت الٰہیہ میں بڑی خیانت کرنے والا کفور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا۔ زجاج نے کہا جو شخص ذبح کے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام لیتا ہے اور دوسرے کے نام پر قربانی کرتا ہے اور بھینٹ چڑھا کر بتوں کا تقرب حاصل کرتا ہے وہ خوان کفور ہے۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ سدی اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے بیان کیا کہ جب ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ : مکہ سے نکلے تو حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(38) اور قول و فعل سے نیکی کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری سنا دیجیے یا یہ کہ خلوص کے ساتھ قربانی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ یقینا اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ پر اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والوں سے ان کفار مکہ کے مظالم کو ہٹا دے گا بیشک اللہ تعالیٰ کسی دھوکے باز کفر کرنے والے کو نہیں چاہتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : پچھلی آیات کے ساتھ اس مضمون کا تعلق یہ ہے کہ اس سورت میں اس سے پہلے کفار کا اور ان کے لیے عذاب الیم کا ذکر ہوا ہے، جو اسلام اور مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ جس میں اللہ کی عبادت کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ پھر آیت (19) ”ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ“ میں مشرکین اور موحدین کی کشمکش کا ذکر فرمایا ہے، اس کے بعد بیت اللہ کی تعمیر، حج کی ابتدا اور قربانی اور حج کے دوسرے اعمال کی فضیلت کا بیان ہوا ہے جس سے مہاجر مسلمانوں کے دل میں اپنے وطن کو دیکھنے، بیت اللہ کی زیارت اور اس کے عمرہ و حج کا شوق پیدا ہونا قدرتی تھا اور یہ خیال بھی کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 37–38

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لن ینال اللہ لحومھا حضرت ابن عباس ؓ نھے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں لوگ اونٹوں کا خون بیت اللہ پر مل دیتے تھے پھر مسلمانوں نے بھی ایسا کرنے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، النیل باری تعالیٰ کے متعلق نہیں ہوتا لیکن قبولیت کی مجازی تعبیر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کی بارگاہ میں نہیں پہنچے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کی طرف بلند نہیں ہوگا۔ ابن عیسیٰ نے کہا : ان کے گوشت اور خون قبول نہیں کرے گا لیکن اس کی بارگاہ میں تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے یعنی جو اس کی ذات کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور وہ اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ان اللہ یدفع۔ الف اور یاء کے رفع کے ساتھ پڑھا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ان اللہ یدفع عن الذین اٰمنوا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ قسم ! اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کبھی ضائع نہیں فرماتے جو اس کے لیے اس کے دین کی حفاظت کرے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اللہ لایحب، سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنا قرب نصیب نہیں فرماتے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں کفور آیا ہے اس سے مراد کفار ہیں

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يُدٰفِعُ : ہٹاتا ہے (برائی کو)] [ عَنِ الَّذِينَ : ان لوگوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَا يُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ كُلَّ خَوَّان : کسی بھی بار بار وعدہ خلافی کرنے والے کو ] [ كَفُوْرٍ : انتہائی ناشکری کرنے والے کو ] آیت نمبر۔ 34 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کی عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا تھا۔ پھر یہ کہ تم لوگوں کا اِلٰہ بھی وہی اِلٰہ ہے جو ان امتوں کا ہے۔ اس کے آگے اس کا منطقی نتیجہ محذوف (understood) چھوڑ دیا ہے یعنی اس لئے تم لوگوں کا بھی قربانی کا ایک طریقۂ عبادت ہے۔ پھر فرمایا فَلَہٗ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ دشمنوں کو ہٹا دیگا، اسے خائن اور کفور پسند نہیں ہیں چند صفحات پہلے اس بات کا ذکر تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے عمرہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے تو مشرکین مکہ نے مقام حدیبیہ میں آپ کو روک دیا تھا ان لوگوں نے بڑی ضد کی اور گو صلح بھی کرلی لیکن اس بات پر آمادہ نہ ہوئے کہ آپ اسی سال عمرہ کریں آپ نے احصار ہوجانے کی وجہ سے وہیں جانور ذبح کردیئے اور احرام سے نکل کر واپس مدینہ منورہ تشریف لے آئے پھر آئندہ سال 7 ھ میں آپ نے اس عمرہ کی قضا کی، آیت بالا میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرکین جو مومنین کو تکلیف دیتے ہیں اور انہیں حرم شریف کے داخلہ سے روکتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–38

مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ یُدَافِعُ الخ “ شرک فی التصرف اور شرک فعلی کے دلائل کے ساتھ نفی کرنے کے بعد یہ اعلان جہاد کی تمہید ہے اور مسلمانوں کو جہاد کی بشارت ہے یعنی اللہ تعالیٰ مشرکین کے مقابلے میں ایمان والوں کی مدافعت کرے گا اور ان کی مدد فرمائے گا۔ جہاد سے ممانعت کے بعد سے سے پہلے یہی آیت نازل ہوئی جس میں جہاد کی دوبارہ اجازت دی گئی۔ وھی اول ایۃ نزلت فی القتال بعد ما نھی عنہ فی نیف و سبعین ایۃ علی ما روی الحاکم فی المستدرک عن ابن عباس ؓ (روح ج 17 ص 162) ۔ 52:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ لَایُحِبُّ الخ “ یہ ماقبل کی علت ہے یہ مشرکین چونکہ خوان (بڑے خائن) اور کفور (بڑے ناشکر گذار) ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–40

ربط آیات : گزشتہ آیات میں بیت اللہ شریف کی تعمیر نو ، حج ، قربانی ، شرک کی تردید اور دیگر مسائل کا ذکر ہوا۔ کفار کی طرف سے اللہ کے راستے اور مسجد حرام سے روکنے کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ مکہ کے مشرکی کسی مسلمان کو خانہ کعبہ میں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتی کہ 6 ھ میں تقریباً ڈیڑھ ہزار اہل ایمان کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا ، حالانکہ حرم پاک میں مقامی اور بیرونی تمام لوگوں کو عبادت کرنے کا یکساں حق حاصل ہے ۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ پہلی آیت بطور تمہید ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی ہے۔ اس کے بعد دوسری آیت میں جہاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور مسلمانوں کی مظلومیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۝ 38ۧ دفع الدَّفْعُ إذا عدّي بإلى اقتضی معنی الإنالة، نحو قوله تعالی: فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 6] ، وإذا عدّي بعن اقتضی معنی الحماية، نحو : إِنَّ اللَّهَ يُدافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا [ الحج/ 38] ، وقال : وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ [ الحج/ 40] ، وقوله : لَيْسَ لَهُ دافِعٌ مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 2- 3] ، أي : حام، والمُدَفَّع : الذي يدفعه كلّ أحد «3» ، والدُّفْعَة من المطر، والدُّفَّاع من السّيل . ( دع ) الدفع ( دفع کرنا ، ہٹا دینا )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–38

صواف جمع صافہ وھی قرارۃ الجمہور ای انھا قائمات قدصفت توائمھالان المسنون نحرھاقائمۃ۔ 12 منہ یعنی ہر وقت اہل ایمان کے لیے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ جلالین 1 ؎ یعنی نحر کرو۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ ۔ (الحج : 38) (بےشک اللہ مدافعت کرے گا ان لوگوں کی جو ایمان لائے۔ اللہ ہرگز بدعہدوں اور ناشکروں کو پسند نہیں کرتا۔ ) یُدٰ فِعُ کا مفہوم اما مِ راغب اصفہانی ” یدافع “ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر ” دفع “ کا صلہ ” الی “ ہو تو اس کا معنی ” کسی کو کوئی چیز دینا ہوتا “ ہے اور اگر اس کا صلہ ” عن “ ہو تو اس میں ” حمایت اور نصرت “ کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ منجد میں بھی اسی کے قریب مفہوم واضح کیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں صلہ چونکہ ” عن “ آیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا ” کفار کے مقابلے میں جب اہل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–39

فہم القرآن ربط کلام : قربانی کے جذبہ کا منطقی نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنا تن، من، دھن ” اللہ “ کی راہ میں نچھاور کر دے اس لیے قربانی کے مسائل بیان کرتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مکہ معظمہ میں تیرہ سال تک مسلمان ہر قسم کے مظالم برداشت کرتے رہے۔ مقابلے میں جب کبھی لڑنے کی اجازت طلب کی گئی تو مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنے سے روک دیا گیا۔ ہجرت کے بعد یہ پہلا فرمان ہے جس میں مظلوم مسلمانوں کو نہ صرف لڑنے کی اجازت دی گئی بلکہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ مسلمانوں اب تمہیں ظلم کے خلاف لڑنے کی اجازت ہے۔ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرنے پر قادر ہے۔ باالفاظ دیگر تمہاری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مدافعت کا وعدہ : 38: اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہٹائے گا۔ ) قراءت : مکی و بصری نے یَدْفَعُ پڑھا اور دیگر نے یدافع پڑھا۔ جس کا معنی مدافعت میں مبالغہ کرے گا۔ عَنِ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (ایمان والوں سے) یعنی مسلمانوں سے کفار کی دغا بازی کو اور اس کی مثل دوسری آیت ہے : انا لننصر رسلنا والذین امنوا ] غافر : 51 [ پھر اس ارشاد میں اس کی تعلیل بیان فرمائی۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ (بیشک اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتے ہر خائن سے) جو اللہ تعالیٰ کی امانت میں خیانت کرنے والا ہو۔ کُفُوْرٍ (ناشکر گزار) اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کیونکہ وہ ان کے مخالف کو پسند نہیں کرتا اور وہ خائن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38۔ ان یدافع عن الذین آمنوا۔ ابن کثیر اور اہل بصرہ نے یدفع، پڑھا ہے۔ اور دوسرے قراء نے ، یدافع، الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد بڑے بڑے مشرکین کو مومنین سے دور ہٹا دیں گے۔ ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔ اللہ کی نعمت کی ناشکر کرنے والے کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ یاخوان کہا جاتا ہے امانت الٰہیہ میں بڑی خیانت کرنے والا۔ کفور اللہ کی نعمتوں کا ناشکری کرنے والا۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ ، خانو اللہ، سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور اس کی نعمت کوٹھکرانا۔ زجاج کا قول یہ ہے کہ جو شخص ذبح کے وقت اللہ کے سوادوسرے کا نام لیتا ہے اور دوسرے کے نام پر قربانی کرتا ہے اور بھینٹ چڑھاکربتوں کا تقرب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–38

37۔ 38:۔ تفسیر ابن منذر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 3 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے وقت مشرک لوگ جو قربانی کرتے تھے تو ذرا سا خون اللہ کے نام کا کعبہ کو لگا دیتے تھے ‘ اسلام کے بعد مسلمانوں نے بھی اس رسم کو جاری کرنا چاہا ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو اس رسم سے منع فرمایا اور فرما دیا کہ جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو ‘ اس چیز کی اللہ کو پرواہ نہیں ہے ‘ خود تم اور جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو ‘ سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے صدقہ خیرات کا حکم شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اس واسطے دیا ہے کہ صدقہ دینے والے کا دل اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–38

آیت 36-37 یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ ” شعائر “ دین کی تمام ظاہری علامات میں عام ہے۔ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جملہ شعائر میں (البدن) بھی داخل ہیں۔ ایک قول کے مطابق ” بدن “ وہ اونٹ اور گائے وغیرہ ہیں جن کو قربانی کے لئے بڑا اور موٹا کیا جائے اور ان کو اچھا جانا جائے۔ (لکم فیھا خیر) یعنی قربانی دینے والے کے لئے اس میں بھلائی ہے یعنی اس میں سے کھانا، صدقہ کرنا، اس سے متمتع ہونا اور اجر وثواب، سب بھلائی ہے (فاذکرو اسم اللہ علیھا) یعنی ذبح کرتے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 38–40

حالت امن میں تمام مذاہب کے معابد قابل احترام ہیں قول باری ہے (ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھد مت صوامع وبیع وصلوت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب مسمار کر ڈالی جائیں) مجاہد کا قول ہے کہ راہبوں کی خانقاہوں کو صوامع کہا جاتا ہے اور یہودیوں کے گرجائوں کو بیع کہتے ہیں۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہودیوں کے گرجائوں کو صلوت کہا جاتا ہے۔ وہ انہیں صلوت بھی کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق صلوات ان مقامات کو کہتے ہیں جو مسلمان اپنے گھروں میں نماز کے لئے مخصوص کردیتے ہیں۔ بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80 " اللہ پسند نہیں فرماتا کسی بھی دغاباز ناشکرے کو " : بلکہ ایسے لوگ اپنے کفر و خیانت کی بناء پر اس کے یہاں مبغوض وممقوت ہیں۔ اس لئے وہ اہل حق کے مقابلے میں کبھی غلبہ اور سچی عزت نہیں پاسکتے کہ انہوں نے اللہ سے خیانت کی اور اس کے اوامرو نواہی کی خلاف ورزی کرکے۔ اور انہوں نے کفر اور کفران نعمت کا ارتکاب کیا اس کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کے جواب میں جن میں یہ سر تا پا ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے ان بےحقیقت چیزوں کی پوجا پاٹ کی جن کی پوجا پاٹ کا سرے سے کوئی حق بنتا ہی نہیں۔ اور ان کے ہاتھ میں نفع یا نقصان کا کوئی اختیار نہیں مگر انہوں نے ان کو خدائے واحد کا شریک قرار دیا۔ (المراغی، المحاسن، المعارف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–38

ہر عبادت میں خلوص ضروری ہے تشریح : پچھلی آیات میں حج کے ارکان اور خاص طور سے قربانی کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے تو یہاں اس قربانی کی اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جس خلوص ‘ محبت ‘ ایثار اور اللہ کی محبت میں گم ہو کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پیارے بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی تھی وہ تھی اصل قربانی ‘ اللہ کی فرمانبرداری ‘ رضا اور محبت میں بیٹے کی محبت بھول گئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر اللہ اکبر ہی بولے تھے کہ اللہ نے قربانی قبول کرلی اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی بجائے دنبہ کی گردن پر چھری پھروا دی۔ جانوروں کی قربانی بھی اسی جذبے ‘ خلوص ‘ محبت اور فرمانبرداری کے جذبے کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–38

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف نیز قربانی اور عبادات صرف اسی امت پر نہیں بلکہ ہر امت کو وقت حالات اور اس کے مزاج و ضرورت کے مطابق اللہ جل جلالہ کی طرف سے طریق عبادت دیا گیا اور قربانی بھی عبادات کا حصہ ہے لہذا یہ بھی ہر امت میں رہی کہ لوگ صرف دنیا اور مال ومنال پہ فدا نہ ہوجائیں بلکہ اپنے قیمتی اور پیارے جانوروں کو اللہ جل جلالہ کے نام پر ذبح کریں کہ یہ سب اسی نے دیے ہیں اور مقصد اس کی خوشنودی ہے ،۔ (بارگاہ الہی میں عجز پسندیدہ ہے) جانوروں اور دولت کی محبت مقصد نہیں اور اطاعت ایثار وقربانی اس بات کا اظہار ہے کہ تمہارا معبودوہی اکیلا ہے لہذا اسی کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرو اور اس کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ یعنی حق و باطل کی کشمکش میں اہل ایمان کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں حمایت فرمائے گا۔ چناچہ اس وعدہ کے مطابق مسلمان اپنے دشمنوں کی شرارتوں سے محفوظ رہے اور آخر کار اسلام کو غلبہ نصیب ہوا۔ 12 ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین کے بقول یہ پہلی آیت ہے جس میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں لڑنے کی اجازت دی گئی اور یہ بھی فی مجملہ مدافعت کی ایک صورت ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) اس آیت میں قتال یعنی لڑنے کی صرف اجازت دی گئی ہے بعد میں سورة بقرہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں لڑنے کا حکم دیا گیا ہے دیکھئے آیت۔ 19، 191، 391 ۔ 241 اور 223 (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:37) یدافع۔ دافع یدافع مدافعۃ (باب مفاعلۃ) الدفع دفع کرنا ہٹا دینا۔ جب اس کا تعدیہ الی کے ساتھ ہو تو اس کے معنی دے دینے اور حوالہ کردینے کے ہیں مثلاً فادفعوا الیہم اموالہم (4:6) تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو ۔ اور جب اس کا تعدیہ عن کے ساتھ آئے تو اس کے معنی مدافعت کرنا۔ حمایت کرنا کے ہیں۔ مثلاً آیت ہذا۔ یہاں باب مفاعلہ سے آیا ہے۔ جس میں باہم مقابلہ کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی کافر مسلمانوں کو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مقابل پر ان کی مدافعت کرتا ہے۔ ان اللہ یدافع عن الذین امنوا۔ خدا مؤمنوں سے (ان کے دشمنوں کو) ہٹاتا رہتا ہے یا دشمنوں کے مقابلہ میں مومنوں کی حمایت کرتا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–38

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 38 : منسکا (قربانی) ‘ بھیمۃ الانعام (بےزبان چوپائے) ‘ المخبتین (عاجزی سے گردن جھکانے والے) ‘ وجلت (ڈرگئی۔ ڈر گئے) ‘ البدن (بدنۃ) (بڑے بدن والا جانور۔ اونٹ) ‘ شعائر (شعیرۃ) (نشانیاں) ‘ صواف (سیدھا کھڑا کرنا۔ تین پاؤں پر کھڑا رہا) ‘ جنوب (جنب) پہلو ‘ القانع (قناعت کرنے والا۔ نہ مانگنے والا) ‘ سخر نا (ہم نے بس میں کردیا۔ مسخر کردیا) ‘ لن ینال ( ہرگز نہ پہنچے گا) ‘ لحوم (لحم) گوشت ‘ دمائ (دم) (خون) ‘ یدافع (وہ دور کرے گا) ‘ خوان (بےایمان۔ دغاباز) ‘ کفور (ناشکرا) ۔ تشریح آیت نمبر 34 تا 38 : نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ایسے نیکو کاروں کو (جنت کی)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–38

(ف 1) شان نزول : حج کے وقت مشرک لوگ جو قربانی کرتے تھے تو ذرا ساخون اللہ کے نام کا کعبہ کی دیواروں پر لگادیتے تھے اسلام کے بعد مسلمانوں نے بھی اس رسم کو جاری کرنا چاہا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور مسلمانوں کو اس رسم سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو اس چیز کی اللہ کو پروا نہیں ہے خود تم اور جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے صدقہ خیرات کا حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت میں اس واسطے دیا ہے کہ صدقہ دینے والے کا دل اللہ آزمائے کہ کہاں تک اس کے دل میں پرہیزگاری کا اثر ہے غور کرنا چاہیے چوپایوں کو انسان کے بس میں کردینا یہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–39

[34] جب تک نبی ﷺ مکہ میں تھے تو حکم تھا کہ کفار کی سختیوں پر مسلمان صبر کریں اور ہاتھ روکے رکھیں چناچہ کامل تیرہ سال تک کفار کا ظلم و تشدد برداشت کرتے رہے۔ جب رسول اکرم ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی تب یہ آیت نازل ہوئی اور بالاتفاق یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–39

قربانی اور جہاد : (ف 1) یعنی قربانی کے عملی معنے یہ ہیں کہ دلوں میں جذبہ جہاد موجزن ہو ، اگر ہم ہر سال لاکھوں اور کروڑوں حیوانات کا خون بہائیں اور قلوب میں کوئی حرارت اور کوئی جذبہ جہاد پیدا نہ ہو تو پھر یہ عبادت سراسر بےروح اور بےکیف ہوگی ، آیت میں اذن جہاد ہے ، کیونکہ مسلمانوں کی مظلومیت حد سے بڑھ گئی ، اب یہ ناممکن ہے کہ ان مظالم کو زیادہ دیر تک برداشت کیا جائے ۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے طے کرلیا ہے کہ مسلمانوں کی اعانت کی جائے اور مشرکین کے غلبہ واستیلا کو دور کیا جائے ، کیونکہ مسلمان مظلوم ہیں اور اسلام کو مظلومیت پسند نہیں ، جس طرح ظلم بڑی چیز ہے اور اسلام اس کو جائز قرار نہیں دیتا ہے اسی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) بلاشبہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے مشرکین کے ضرر کو ہٹادے گا اور دورکردے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی خیانت کرنے والے ناسپاس اور کفر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ چونکہ یہ بحث اس قصے سے شروع ہوئی تھی جو کفار مکہ نے مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روکا تھا اسی پر یہ احکام نازل ہوئے تھے اس لئے اس تمام واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ ہم کفار کی اس ایذا رسانی کو تم سے دفع کردیں گے اور ان کو آئندہ یہ ہمت نہیں ہوگی کہ وہ تم کو حج اور عمرہ کرنے سے روک سکیں اور تمہارے اعمال مذہبی میں مداخلت کرسکیں۔ اس کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کسی خیانت کرنے والے دغا باز کو اور کسی ناسپاس کفر کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ کہ پھر حج وغیرہ سے روک ہی نہ سکیں گے۔ 2۔ اس لئے انجام کار ان کو مغلوب اور مومنین مخلصین کو غالب کردے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم ہے کفران نعمت کو وہ پسند نہیں کرتا : 38۔ (یدفع) دفع سے ہے جس کے معنی دور کرنے کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ جب اس کا تعدیہ بذریعہ الی ہوتا ہے تو اس کے معنی دینے اور حوالہ کرنے کے آتے ہیں جیسے (فادفعوا الیھم اموالھم) ” پس ان کے مال ان کے حوالے کر دو “ اور جب عین کے ذریعہ سے ہوتا ہے تو اس کے معنی دفع کرنے ‘ ہٹانے اور حمایت کرنے کے آتے ہیں جیسے اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ (آیت) ” ان اللہ یدافع عن الذین امنوا “۔ ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ حفاظت کرتا ہے اہل ایمان کی “ اور مطلب واضح ہے کہ اب جب کہ مسلمان کفار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہیں تو اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The previous verses contain an account of how the infidels of Makkah prevented the Holy Prophet ﷺ and his companions from entering the Haram and the Holy Mosque to perform ` Umrah when, having put on ihram, they had reached as far as Hudaibiyah, a place not far from Makkah. In this verse Allah Ta’ ala consoled the Muslims with the promise that He would deprive the infidels of their power to harm them anymore. This incident took place in the year 6 A.H. and thereafter the power and the morale of the infidels suffered continuous decline until in the year 8 A.H. the Muslims conquered…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

75. From here the address for the first time prepares the Muslims for Jihad. In order to understand this, we should keep in view the preceding portion (verses 19-24) in which the ideological conflict between the two parties (believers and disbelievers) and the result thereof have been described. This naturally serves as a prelude to the armed conflict between the two parties. That is why in (verses 26- 37) the immediate causes which necessitated war have been stated to serve as an introduction and justification for war with the disbelievers of Makkah. After the migration to Al-Madinah, when…

Read the full tafseer →