قربانی پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو
ارشاد ہوتا ہے کہ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے۔ اسی لئے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت وخون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بےنیاز ہے۔ جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ ؓ نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تو تقوی کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 73
جاہلیت کے زمانے میں اہل عرب جس طرح بتوں کی قربانی کا گوشت بتوں پر لے جا کر چڑھاتے تھے، اسی طرح اللہ کے نام کی قربانی کا گوشت کعبہ کے سامنے لا کر رکھتے اور خون اس کی دیواروں پر لتھیڑتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ قربانی گویا اس لیے کی جاتی تھی کہ اللہ کے حضور اس کا خون اور گوشت پیش کیا جائے۔ اس جہالت کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ اصل چیز جو اللہ کے حضور پیش ہوتی ہے وہ جانور کا خون اور گوشت نہیں، بلکہ تمہارا تقویٰ ہے۔ اگر تم شکر نعمت کے جذبے کی بنا پر خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ کے لیے قربانی کرو گے تو اس جذبے اور نیت اور خلوص کا نذرانہ اس کے حضور پہنچ جائے گا، ورنہ خون اور گوشت یہیں…
Read the full tafseer →عبادات کی خاص صورتیں اصل مقصود نہیں بلکہ دل کا اخلاص و اطاعت مقصود ہے
لَنْ يَّنَال اللّٰهَ لُحُوْمُهَا میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ قربانی جو ایک عظیم عبادت ہے اللہ کے پاس اس کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا نہ وہ مقصود قربانی ہے بلکہ مقصود اصلی اس پر اللہ کا نام لینا اور حکم ربی کی بجا آوری دلی اخلاص کے ساتھ ہے۔ یہی حکم دوسری تمام عبادات کا ہے کہ نماز کی نشست و برخاست کرنا اور بھوکا پیاسا رہنا اصل مقصود نہیں بلکہ مقصود ا صلی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل دلی اخلاص و محبت کے ساتھ ہے اگر یہ عبادات اس اخلاص و محبت سے خالی ہیں تو صرف صورت اور ڈھانچہ ہے روح غائب ہے مگر عبادات کی شرعی صورت اور ڈھانچہ بھی اس…
Read the full tafseer →اصل حقیقت کی یاد دہانی مطلب یہ ہے کہ خدا قربانیوں کے گوشت یا خون سے محظوظ نہیں ہوتا، جیسا کہ مشرکین نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ اس تقویٰ اور اس اسلام و اخبات سے خوشنود ہوتا ہے جو ان قربانیوں سے ان کے پیش کرنے والوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ تو یہ قربانیاں پیش کرتے ہوئے اپنے اندر تقویٰ کی یہ روح پیدا کرو۔ اگر یہ چیز نہ پیدا ہوئی تو یہ محض ایک جانور کا خون بہا دینا ہوا، اس کا حاصل کچھ نہیں۔
کذلک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھدلکم یہ اسی مضمون کا دور سے لفظوں میں اعادہ ہے جو اوپر کذلک سخرنھا الایہ میں گزرا۔ البتہ اس میں اس شکر کا طریقہ بتا دیا کہ یہ خدا کی تکبیر وتہلیل کی صورت میں ہو یعنی اس نذرانہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
38۔ 1 جس طرح 6 ہجری میں کافروں نے اپنے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو مکہ جا کر عمرہ نہیں کرنے دیا، اللہ تعالیٰ نے دو سال بعد ہی کافروں کے اس غلبہ کو ختم فرما کر مسلمانوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹا دیا اور مسلمانوں کو ان پر غالب کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
22: مکہ مکرمہ میں کافروں کی طرف سے مسلمانوں پر جو ظلم توڑے جارہے تھے، شروع میں قرآن کریم ہی نے انہیں بار بار صبر سے کام لینے کا حکم دیا تھا، اب اس آیت میں یہ تسلی دی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ صبر آزما مرحلہ اب ختم ہونے والا ہے اور وقت آگیا ہے کہ ان ظالموں کے ظلم کا جواب دیا جائے ؛ چنانچہ اگلی آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے ؛ لیکن اس سے پہلے یہ خوشخبری دے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود مسلمانوں کا دفاع کرے گا اس لئے وہ اب بےخوف ہو کر لڑیں اور وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے لڑائی ہونی ہے وہ دغا باز اور ناشکرے لوگ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، اس لئے وہ ان کے خلاف مسلمانوں ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
والبدن جعلنھا ……وبشر المحسنین (37)
یہاں قربانی کے جانوروں میں سے صرف اونٹ کا ذکر کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ یہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کا قربانی میں ذبح کیا جانا تمہارے لئے مفید ہے۔ جب زندہ ہو تب بھی مفید ہے کہ تم اس پر سوار ہوتے ہو اور اس کا دودھ دوہتے ہو اور جب ذبح کردیا جائے تو بھی تم گوشت کھاتے ہو ، لہٰذا اس ” خیر “ کو ذبح کرتے وقت تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس پر اللہ کا نام لو۔ جب اسے ذبح کے لئے تیار کیا جا رہا ہو تو بھی اس پر اللہ کا نام لو ، جب وہ صف کی شکل میں کھڑے ہوں۔
فاذکروا اسم اللہ علیھما صواف (22 : 36) ” پس ان پر اللہ کا نام لو جب وہ صف میں ہوں۔ “ اونٹوں کو اس طرح ذبح کیا جاتا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →4 اس میں قربانی کا اصل فلسفہ بیان فرمایا۔ یعنی جانور کو ذبح کر کے محض گوشت کھانے کھلانے یا اس کا خون گرانے سے تم اللہ کی رضاء کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ نہ گوشت اور خون اٹھ کر اس کی بارگاہ تک پہنچتا ہے اس کے یہاں تو تمہارے دل کا تقویٰ اور ادب پہنچتا ہے کہ کیسی خوش دلی اور جوش محبت کے ساتھ ایک قیمتی اور نفیس چیز اس کی اجازت سے اس کے نام پر اس کے بیت کے پاس لے جا کر قربان کی۔ گویا اس قربانی کے ذریعہ سے ظاہر کردیا کہ ہم خود بھی تیری راہ میں اسی طرح قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔ بس یہ ہی وہ تقویٰ ہے جس کا ذکر (وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ ) 22 ۔ الحج :32)…
Read the full tafseer →آیت 37 لَنْ یَّنَال اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط ”
قربانی کا اصل فلسفہ یہی ہے ‘ بلکہ ہر عبادت کا فلسفہ یہی ہے۔ کسی بھی عبادت کا ایک ظاہری پہلو یا ڈھانچہ ہے اور ایک اس کی روح ہے۔ ظاہری ڈھانچہ اپنی جگہ اہم ہے اور وہ اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر اس عبادت کا بجا لانا ممکن نہیں ‘ لیکن یہ ظاہری پیکر اصل دین اور اصل مقصود نہیں ہے۔ کسی بھی عبادت سے اصل مقصود اس کی روح ہے۔ اسی نکتہ کو علامہ اقبال ؔ نے ان اشعار میں واضح کیا ہے :
رہ گئی رسم اذاں ‘ روح بلالی رض نہ رہی
فلسفہ رہ گیا ‘ تلقین غزالی رح نہ رہی
اور
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں ‘…
Read the full tafseer →61 مشرکین کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کسی بت کے نام پر کوئی قربانی کا جانور ذبح کرتے تو اس کا گوشت اس کے سامنے رکھ دیتے اور اس کا خون بت کے جسم پر مل دیتے تھے۔ بتوں کے سامنے رکھا ہوا گوشت تو بتوں کے مجاوروں کے کام آتا تھا اور وہی ان بتوں کو بعد میں صاف بھی کر ڈالتے تھے۔ اور جب وہ اللہ کے نام کی قربانی کرتے تو بھی گوشت کعبہ کے سامنے لا رکھتے اور خون کعبہ کی دیواروں سے لتھیڑا دیتے یا اس پر اس خون کے چھینٹے ڈالتے۔ گویا ان کے خیال کے مطابق قربانی کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس کا گوشت اور خون پیش کردیا جائے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس جاہلی نظریہ کی تردید کرتے ہو وے فرمایا کہ اللہ کو نہ تمہارے قربانی کے…
Read the full tafseer →64۔ (جیسا کہ مشرک قوموں کا عقیدہ بھینٹ چڑھا کر اپنے دیوتاؤں خداؤں سے متعلق ہے) اہل کتاب تک قربانی یعنی جانوروں کے خون بہانے کو ایک ذریعہ کفارہ کا سمجھتے تھے۔ عہد عتیق میں ہے :۔” بدن کی حیات لہو میں ہے۔ سو میں نے مذبح پر وہ تم کو دیا ہے کہ اس سے تمہاری جانوں کے لیے کفارہ ہو، کیونکہ وہ جس سے کسی جان کا کفارہ ہوتا ہے سولہو ہے “۔ (احبار۔ 17: 11) اور عہد جدید میں ہے :۔” تقریبا ساری چیزیں شریعت کے مطابق خون سے پاک کی جاتی ہیں اور بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی “۔ (عبرانیوں 9: 22) اور مشرک قوموں کا تو ذکر ہی کیا۔ اہل بابل کا عقیدہ تھا کہ دیوتاؤں کی دعوت آسمان پر ہوتی ہے۔ ان کے نام پر جو بھینٹ چڑھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
آیت نمبر 34 تا 38
ترجمہ : اور ہم نے ہر امت کے لئے یعنی مومن جماعت کے لئے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے منسکاً سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے اور کسرہ سین کے ساتھ اسم مکان ہے، یعنی بطور قربانی ذبح کرنا، یا مقام ذبح، سو تمہارا معبود ایک ہی خدا ہے سو اسی کے تابع فرمان رہو، اور آپ اطاعت کرنے والوں یعنی تواضع اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں، اور جو نماز کی ان کے اوقات…
Read the full tafseer →لن ینال اللہ لحومہا ولا دمآ وہا ولکن ینالہ التقوی منکم اللہ کو قربانی کا گوشت اور خون
نہیں پہنچتا تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ مقاتل نے نہ پہنچنے کا مطلب یہ بیان کیا کہ اللہ قربانیوں کے گوشت اور خون کو اٹھا کر اپنے پاس نہیں لے جاتا بلکہ تمہارے اعمال صالحہ اللہ کے پاس پہنچتے ہیں۔ تقویٰ سے مراد ہیں نیک اعمال۔ جن کی بناء اخلاص وتقویٰ پر ہو اور محض خوشنودی خدا حاصل کرنے کے لئے بغیر شرک کی آمیزش کے ان کو کیا گیا ہو۔
کذلک سخرہا لکم لتکبروا اللہ علی ما ہدکم اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے
زیر حکم کردیا تاکہ تم اللہ کی راہ میں (انکی قربانی کر کے) اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو…
Read the full tafseer →(37) اللہ تعالیٰ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون زمانہ جاہلیت میں لوگ قربانی کے گوشت کو بیت اللہ کی دیواروں پر رکھ دیا کرتے تھے اور ان کے خون سے بیت اللہ کی دیواروں کو ملوث کردیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس چیز سے ان کو روک دیا کہ اللہ تعالیٰ خون اور گوشت کو قبول نہیں کرتا بلکہ وہ تمہارے پاکیزہ اور صاف اعمال کو قبول کرتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کردیا ہے تاکہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں اپنے دین اور سنت کی توفیق عطا فرمائی۔
شان نزول : (آیت) ”لن ینال اللہ لحومہا“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے ابن جریج ؒ سے روایت نقل کی ہے کہ…
Read the full tafseer →لَنْ يَّنَال اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس نہ قربانیوں کے گوشت پہنچیں گے، جو کھا لیے گئے اور نہ ان کے خون، جو بہا دیے گئے۔ یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے غنی ہے، اس کے پاس تو تقویٰ یعنی تمہارے دل کا وہ خوف پہنچے گا جو اللہ کی ناراضگی سے بچاتا ہے، جو دل پر غالب ہوجاتا ہے تو آدمی اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتا اور ہر منع کردہ کام سے باز آجاتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِکُمْ وَ أَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَ أَعْمَالِکُمْ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لن ینال اللہ لحومھا حضرت ابن عباس ؓ نھے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں لوگ اونٹوں کا خون بیت اللہ پر مل دیتے تھے پھر مسلمانوں نے بھی ایسا کرنے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، النیل باری تعالیٰ کے متعلق نہیں ہوتا لیکن قبولیت کی مجازی تعبیر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کی بارگاہ میں نہیں پہنچے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کی طرف بلند نہیں ہوگا۔ ابن عیسیٰ نے کہا : ان کے گوشت اور خون قبول نہیں کرے گا لیکن اس کی بارگاہ میں تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے یعنی جو اس کی ذات کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور وہ اس کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم، وہ اللہ کے ذکر کے وقت ان کے دل اللہ کی عظمت کی وجہ سے کانپتے ہیں اور آیت ” والصبرین علی ما آصابہم) (صبر کرنے والے) بلاؤں پر اور مصیبتوں پر آیت ” والمقیمی الصلوۃ “ یعنی وہ نمازوں کو اللہ کے حکم کے مطابق صحیح صحیح ادا کرتے ہیں۔
2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” والبدن “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد اونٹ اور گائیں ہیں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد کھر والے جانور ہیں۔
5۔ ابن ابی شیبہ…
Read the full tafseer →[ لَنْ يَّنَالَ : ہرگز نہیں پہنچے گا ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] [ لُحُوْمُهَا : ان کا گوشت ] [ وَلَا دِمَاۗؤُهَا : اور نہ ہی ان کا خون ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ يَّنَالُهُ : پہنچتا ہے اس کو ] [ التَّقْوٰي : تقوٰی ] [ مِنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ سَخَّرَهَا : اس نے مسخر کیا ان کو ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ لِتُكَبِرُوا : تاکہ تم بڑائی بیان کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ عَلٰي مَا : اس پر جس کی ] [ هَدٰىكُمْ : اس نے ہدایت کی تم کو ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیجیے ] [ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →(لَنْ یَّنَال اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَ لَا دِمَآؤُھَا وَ لٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ) (اللہ کو ہرگز ان کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے لیکن تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) یعنی جو جانور ضحایا اور ہدایا میں ذبح کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو ان کی کچھ حاجت نہیں اس کے پاس نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون ان کو تو تم ہی کھا پی کر برابر کردیتے ہو (کچھ گوشت خود کھایا کچھ اپنے گھر والوں کو کھلایا کچھ اصحاب و احباب کو دیا کچھ فقراء اور مساکین کو دیا یہ سب تمہارے اور تمہارے ابناء جنس ہی کے کام آگیا) اللہ تعالیٰ کو تو تمہارے دلوں کا تقویٰ پہنچتا ہے اخلاص کے ساتھ بہ نیت تقرب الی اللہ جانور ذبح کیے یا ریا کاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →50:۔ ” لَنْ یَّنَالَ الخ “ یہاں قربانی کا اصل فلسلفہ بیان کیا گیا ہے یعنی صرف جانور کو ذبح کرنے اور اس کا خون گرادینے اور محض اس کا گوشت کھانے کھلانے سے تم اللہ کی خوشنودی حاصل نہیں کرسکتے جب تک تمہارا دل تقوی اخلاص اور خوشدلی کے جذبہ سے لبریز نہ ہو۔ جانور کا گوشت اور اس کا خون اٹھ خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں نہیں پہنچیں گے وہاں تو تمہارے دل کا تقوی اور اخلاص قبول ہوتا ہے۔ ” کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا الخ “ اسی طرح اللہ نے یہ چوپائے تمہارے بس اور تصرف میں دے دئیے ہیں تاکہ تم اللہ کے سامنے اپنی بندگی اور عبودیت اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کا اظہار کرو اور ان چوپایوں کو اللہ کے حکم کے مطابق اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حرم شریف کا ادب واحترام ذکر کیا۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا حکم دیا اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ اللہ نے لوگوں کے وہاں تک پہنچنے کی پیشن گوئی بھی فرمائی اور شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر بھی کیا۔ پھر شرک کی قباحت کو مثال کے ذریعے سمجھایا۔ چونکہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں اس لئے اللہ نے آج کی آیات میں قربانی کے بعض احکامات بیان فرمائے ہیں اور اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ قربانی صرف آخری امت کے لوگوں کے لئے ہی مقرر نہیں کی گئی بلکہ اللہ نے سابقہ تمام امتوں کے لئے اس کا طریقہ مقرر کیا تھا۔
قربانی کا طریقہ :
ارشاد ہوتا ہے ولکل امۃ جعلنا منسکا ،…
Read the full tafseer →لَنْ يَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاۗؤُہَا وَلٰكِنْ يَّنَالُہُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ كَذٰلِكَ سَخَّرَہَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللہَ عَلٰي مَا ہَدٰىكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِـنِيْنَ 37
نيل
النَّيْلُ : ما يناله الإنسان بيده، نِلْتُهُ أَنَالُهُ نَيْلًا . قال تعالی: لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ [ آل عمران/ 92] ، وَلا يَنالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا [ التوبة/ 120] ، لَمْ يَنالُوا خَيْراً [ الأحزاب/ 25] والنَّوْلُ : التّناول . يقال : نِلْتُ كذا أَنُولُ نَوْلًا، وأَنَلْتُهُ : أولیته، وذلک مثل : عطوت کذا :
تناولت، وأعطیته : أنلته . ونِلْتُ : أصله نَوِلْتُ علی فعلت، ثم نقل إلى فلت . ويقال : ما کان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
صواف جمع صافہ وھی قرارۃ الجمہور ای انھا قائمات قدصفت توائمھالان المسنون نحرھاقائمۃ۔ 12 منہ
یعنی ہر وقت اہل ایمان کے لیے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ جلالین
1 ؎ یعنی نحر کرو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَلَادِمَآ ؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْط کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَاھَدٰکُمْ ط وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الحج : 37)
(ہرگز نہیں پہنچتے اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون، البتہ ! اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے ان کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم بڑائی بیان کرو اللہ تعالیٰ کی، اس کی ہدایت بخشی پر۔ اور خوب کاروں کو خوشخبری سنادیجیے۔ )
ایک غلط فہمی کا ازالہ
اس آیت کریمہ میں کفار کے ایک غلط عمل کی تردید کی گئی ہے جو سراسر ایک غلط فہمی پر مبنی تھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ ہم جب قربانیاں دیتے ہیں تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قربانی کے مسائل کا بیان جاری ہے۔
عربوں میں یہ بھی جہالت پائی تھی کہ جب وہ قربانی ذبح کرتے تو اس کا خون اپنے جسم اور کپڑوں پر مل لیتے تھے۔ جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا کہ ہماری قربانی قبول ہوچکی ہے۔ قرآن مجید نے اس رسم کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا نہ خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت۔ اسے دلوں کا اخلاص اور تمہاری پرہیزگاری درکار ہے کہ تم کس جذبے اور نیت کے ساتھ قربانی کرتے ہو۔ جس میں پہلا جذبہ یہ درکار ہے کہ قربانی کرنے والا یہ احساس دل میں لائے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے وسائل اور طاقت سے یہ جانور میرے تابع ہوا ہے۔ دوسرا یہ جذبہ پیدا کرے کہ…
Read the full tafseer →فلسفہ قربانی :
37: لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَاوَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ( ہرگز اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا لیکن تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ گوشت و خون کو قبول نہیں کرتے بلکہ تقویٰ قبول کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ صدقہ کے گوشت اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کو نہیں پہنچتے۔ اور نہ ہی ذبح کے ذریعہ بہائے ہوئے خون۔ مراد یہ ہے کہ گوشت و خون والے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو گوشت و خون سے راضی نہیں کرسکتے جب تک وہ نیت کی نگہبانی اور اخلاص اور تقویٰ کی دیگر شروط کا لحاظ نہ کریں۔
ایک قول یہ ہے جب اہل جاہلیت اونٹوں کو ذبح کرتے تو خون بیت اللہ کے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
37۔ لن ینال اللہ لحومھا، ولادمھاء ھا۔ زمانہ جاہلیت میں یہ رسم بد تھی کہ مشرک جب کسی جانور کی قربانی کرتے تو اس جانور کا خون کعبہ کے سامنے لے جاتے اور اس خون کے ذریعے سے کعبہ پر چھینٹے مارتے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
یعقوب نے ، تنال وتنالہ، دونوں کے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ عام قراء نے اس کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ مقاتل نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ قربانیوں کے گوشت اور خون کو اٹھاکر اپنے پاس نہیں لے جاتا، بلکہ تمہارے اعمال صالحہ اللہ کے پاس جاتے ہیں۔ ولکن ینالہ التقوی منکم کذالک سخرھا لکم، اس سے مراد بدنہ ہے۔ لتکبرواللہ علی ماھداکم، اس بات پر اللہ کی کبریائی کا اعتراف کرو کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 38:۔ تفسیر ابن منذر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 3 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے وقت مشرک لوگ جو قربانی کرتے تھے تو ذرا سا خون اللہ کے نام کا کعبہ کو لگا دیتے تھے ‘ اسلام کے بعد مسلمانوں نے بھی اس رسم کو جاری کرنا چاہا ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو اس رسم سے منع فرمایا اور فرما دیا کہ جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو ‘ اس چیز کی اللہ کو پرواہ نہیں ہے ‘ خود تم اور جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو ‘ سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے صدقہ خیرات کا حکم شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اس واسطے دیا ہے کہ صدقہ دینے والے کا دل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 36-37
یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ ” شعائر “ دین کی تمام ظاہری علامات میں عام ہے۔ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جملہ شعائر میں (البدن) بھی داخل ہیں۔ ایک قول کے مطابق ” بدن “ وہ اونٹ اور گائے وغیرہ ہیں جن کو قربانی کے لئے بڑا اور موٹا کیا جائے اور ان کو اچھا جانا جائے۔ (لکم فیھا خیر) یعنی قربانی دینے والے کے لئے اس میں بھلائی ہے یعنی اس میں سے کھانا، صدقہ کرنا، اس سے متمتع ہونا اور اجر وثواب، سب بھلائی ہے (فاذکرو اسم اللہ علیھا) یعنی ذبح کرتے…
Read the full tafseer →قربانی کی روح تقویٰ ہے
قول باری ہے (لن ینال اللہ لحومھا ولا دمائوھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اسے تمہارا تقوی پہنچتا ہے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو گوشت قبول کرتا ہے اور نہ خون، اللہ تعالیٰ تو بس ان قربانیوں کے سلسلے میں پائے جانے والے تقویٰ کو قبول کرتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اللہ کی رضا کو نہ ان کے گوشت پہنچ سکتے ہیں اور نہ ان کے خون مگر تمہارا تقویٰ اسے پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے فرمایا تاکہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ قربانیاں کرنے والے صرف اپنے اعمال کی بنا پر ثواب کے مستحق ہیں کیونکہ گوشت اور خون اللہ کے پیدا کردہ ہیں اس…
Read the full tafseer →78 اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف تقویٰ مطلوب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ کو نہ ان جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون "۔ بلکہ یہ سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے اور خود تم ہی لوگوں کے کام آتا ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہر حاجت اور ضرورت سے پاک اور بالا و برتر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ تم لوگوں کو یہ احکام اس لئے دیتا ہے تاکہ خود تمہارا ہی بھلا ہو کہ ان ہدایات وتعلیمات کی پابندی سے ایک طرف تو تمہیں دنیا میں پاکیزہ و پرسکون اور باوقار زندگی ملے اور دوسری طرف اس سے تمہیں آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی میں دائمی کامیابی نصیب ہو۔ اور یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ۔ سبحاَنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ہر عبادت میں خلوص ضروری ہے
تشریح : پچھلی آیات میں حج کے ارکان اور خاص طور سے قربانی کا ذکر بڑی وضاحت سے کیا گیا ہے تو یہاں اس قربانی کی اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جس خلوص ‘ محبت ‘ ایثار اور اللہ کی محبت میں گم ہو کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پیارے بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی تھی وہ تھی اصل قربانی ‘ اللہ کی فرمانبرداری ‘ رضا اور محبت میں بیٹے کی محبت بھول گئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر اللہ اکبر ہی بولے تھے کہ اللہ نے قربانی قبول کرلی اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی بجائے دنبہ کی گردن پر چھری پھروا دی۔ جانوروں کی قربانی بھی اسی جذبے ‘ خلوص ‘ محبت اور فرمانبرداری کے جذبے کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
نیز قربانی اور عبادات صرف اسی امت پر نہیں بلکہ ہر امت کو وقت حالات اور اس کے مزاج و ضرورت کے مطابق اللہ جل جلالہ کی طرف سے طریق عبادت دیا گیا اور قربانی بھی عبادات کا حصہ ہے لہذا یہ بھی ہر امت میں رہی کہ لوگ صرف دنیا اور مال ومنال پہ فدا نہ ہوجائیں بلکہ اپنے قیمتی اور پیارے جانوروں کو اللہ جل جلالہ کے نام پر ذبح کریں کہ یہ سب اسی نے دیے ہیں اور مقصد اس کی خوشنودی ہے ،۔
(بارگاہ الہی میں عجز پسندیدہ ہے)
جانوروں اور دولت کی محبت مقصد نہیں اور اطاعت ایثار وقربانی اس بات کا اظہار ہے کہ تمہارا معبودوہی اکیلا ہے لہذا اسی کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرو اور اس کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →9 ۔ یعنی قربانی میں اصل چیز جانور کا گوشت اور خون نہیں بلکہ تمہارے دلوں کا خلوص اور تقویٰ ہے۔ اگر خلوص نیت سے قربانی کرو گے تو تمہارا نذرانہ خدا کے حضور قبولیت حاصل کرلے گا ورنہ خون اور گوشت کی خدا کو کچھ ضرورت نہیں ہے۔ اسی بات کو آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے (ان اللہ لا ینظر الی اجسامکم ولا الی صورکم و لکن ینظر الی قلوبکم۔ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے بلکہ وہ تو تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم عن ابی ہریرۃ) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکین قربانی کر کے اس کا خون کعبہ پر چھڑکتے تھے۔ مسلمانوں نے بھی ایسا کرنا…
Read the full tafseer →(22:37) لن ینال۔ مضارع منفی تاکید بلن۔ ہرگز نہیں پہنچتا۔
دماؤھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ دماء مصدر دم کی جمع ہے ان کے خون ۔ کذلک۔ اس طرح۔ (جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے خاص کر کہ اونٹ کو کس طرح کھڑا کر کے نحر کیا جائے۔ لتکبروا اللہ۔ لام تعلیل کا ہے۔ تکبروا مضارع جمع مذکر حاضر۔ تکبیر (تفعیل) مصدر۔ تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔ یعنی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور حمد بیان کرتے ہوئے اس کو بزرگی سے یاد کرو۔
علی ما ھدکم۔ اس بارے میں جس میں اس نے تمہاری راہنمائی کی ہے۔ یعنی اس کو تسخیر کرنے کے متعلق اور اس سے فوائد دنیوی اور دینی حاصل کرنے کے متعلق جو طریقے اس نے بتائے ہیں۔ ارشدکم الی طریق تسخیرھا وکیفیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 38 :
منسکا (قربانی) ‘ بھیمۃ الانعام (بےزبان چوپائے) ‘ المخبتین (عاجزی سے گردن جھکانے والے) ‘ وجلت (ڈرگئی۔ ڈر گئے) ‘ البدن (بدنۃ) (بڑے بدن والا جانور۔ اونٹ) ‘ شعائر (شعیرۃ) (نشانیاں) ‘ صواف (سیدھا کھڑا کرنا۔ تین پاؤں پر کھڑا رہا) ‘ جنوب (جنب) پہلو ‘ القانع (قناعت کرنے والا۔ نہ مانگنے والا) ‘ سخر نا (ہم نے بس میں کردیا۔ مسخر کردیا) ‘ لن ینال ( ہرگز نہ پہنچے گا) ‘ لحوم (لحم) گوشت ‘ دمائ (دم) (خون) ‘ یدافع (وہ دور کرے گا) ‘ خوان (بےایمان۔ دغاباز) ‘ کفور (ناشکرا) ۔
تشریح آیت نمبر 34 تا 38 :
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ایسے نیکو کاروں کو (جنت کی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(ف 1) شان نزول :
حج کے وقت مشرک لوگ جو قربانی کرتے تھے تو ذرا ساخون اللہ کے نام کا کعبہ کی دیواروں پر لگادیتے تھے اسلام کے بعد مسلمانوں نے بھی اس رسم کو جاری کرنا چاہا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور مسلمانوں کو اس رسم سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو اس چیز کی اللہ کو پروا نہیں ہے خود تم اور جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے صدقہ خیرات کا حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت میں اس واسطے دیا ہے کہ صدقہ دینے والے کا دل اللہ آزمائے کہ کہاں تک اس کے دل میں پرہیزگاری کا اثر ہے غور کرنا چاہیے چوپایوں کو انسان کے بس میں کردینا یہ اللہ کی…
Read the full tafseer →[33] اس آیت میں قربانی کا اصل فلسفہ بیان فرمایا۔ یعنی جانور کو ذبح کر کے گوشت کھلانے سے تم اللہ کی رضا کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ نہ یہ گوشت اور خون اس کی بارگاہ تک پہنچتا ہے۔ اس کے ہاں تو تمہارے دل کا تقویٰ اور ادب پہنچتا ہے کہ کیسی خوشدلی اور جوش محبت کے ساتھ ایک قیمتی اور نفیس چیز اس کی اجازت سے اس کے نام پر اس کے گھر کے پاس لے جا کر قربان کی۔ گویا اس قربانی کے ذریعے ظاہر کردیا کہ ہم خود بھی تیری راہ میں اسی طرح قربان ہونے کو تیار ہیں۔ یہی وہ تقویٰ ہے جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →فلسفہ قربانی :
(ف 1)
اس آیت میں قربانی کا فلسفہ بیان کیا ہے کہ دلوں میں اللہ کی راہ میں کٹ مرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
قانون قدرت ہے کہ ہر ادنی چیز اعلی کے لئے اپنی انفرادیت کو قربان کردیتی ہے ، نباتات کے لئے ضروری ہے کہ وہ حیوانات کا لقمہ بنے ، اور حیوانات انسان کے کام ودہن کی تواضع کریں ، اسی طرح انسان جب حیوانات کو اللہ کے جلال و عظمت کے بھینٹ چڑھاتا ہے ، تو وہ اصول کو اپنے سامنے رکھتا ہے کہ اللہ کے لئے ہمیں بھی اپنی جان ، مال اور آسائشوں کی قربانی دینا چاہئے ، یہی جذبہ ذر دیت وایثار تقوی اور پرہیز گاری ہے ، ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو گوشت اور لہو کی کیا ضرورت ہے ۔
حل لغات :
صواف : صف…
Read the full tafseer →(37) اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا بلکہ اس کے پاس تو تمہارا تقویٰ اور تمہارے دلوں کی پرہیزگاری پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو اسی طرح تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور ان کو تمہارے بس میں دے دیا ہے تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی اور تم کو توفیق دی اور تمہاری صحیح رہنمائی فرمائی۔
اور اے پیغمبر مخلصین اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔ یعنی قربانی کا مقصد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو گوشت اور خون پہنچایا جائے بلکہ جو چیز ان کو مطلوب ہے وہ تو تقویٰ اور اخلاص ہے اور یہی چیز ان کی بارگاہ میں مقبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 8۔ یہ حکمت مطلق ذبح میں ہے، قطع نظر اس کی قربانی ہونے کے، اور آگے ذبح کی تخصیصات مقصود بالذات نہ ہونے کو ایک عقلی قاعدے سے بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ رب العزت کو تمہارے ان جانوروں کے خون اور گوشت نہیں پہنچتے :
37۔ گزشتہ حقیقت کو ایک دوسرے رنگ میں رنگ کر تمہارے سامنے رکھ گیا تاکہ تم ذرا غور کرو تو سمجھ جاؤ فرمایا یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ان قربانیوں کے گوشت ‘ خون ‘ کھال ‘ اون اور دوسری چیزوں سے کوئی استفادہ نہیں کرتا کہ اس کو ان چیزوں میں سے کسی کی ضرورت ہو اس لئے اس نے تم کو قربانی کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ مشرکین نے سمجھا تھا اور کبھی وہ ان جانوروں کا خون لے کر بیت اللہ کی دیواروں پر لگاتے تھے اور کبھی ان کے گوشت کو لے کر اپنے ان معبودوں کے بتوں کے سامنے جا رکھتے تھے جن کے انہوں نے بت بنا رکھے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہمارا اس…
Read the full tafseer →The real object is not the specific rites of pilgrimage but true devotion to Allah and submission to His will which are inherent in those rites
لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا (It is neither their flesh nor their blood that reaches Allah - 22:37) It means that the sacrifice of animals is a very high form of worship, but their meat and blood do not reach Allah Ta’ ala nor are these two things the real object of sacrifice. Its real aim is to recite the name of Allah and to comply with His commands with true devotion. This rule applies to all forms of worship. For instance, the object of prayers…
Read the full tafseer →73. This prescribes a very important condition for the sacrifice made in the worship of Allah. A sacrifice is acceptable to Allah only if it is accompanied by piety and sincerity. Though sacrifice is a symbol of Allah, yet it has been made plain that it is accepted only if it is accompanied by piety, saying:“Neither their meat that reaches Allah nor their blood, but what reaches Him is the piety from you”. This was also meant to condemn the ritual of the days of ignorance, when the Arabs took the flesh to the Kabah and smeared its walls with the blood of the sacrificed animal.
74.“That you…
Read the full tafseer →