شعائر اللہ کیا ہیں ؟
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پیدا کئے اور انہیں اپنے نام پر قربان کرنے اور اپنے گھر بطور قربانی کے پہنچانے کا حکم فرمایا اور انہیں شعائر اللہ قرار دیا اور حکم فرمایا آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕد وَلَآ اٰۗمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا) 5۔ المآئدہ :2) نہ تو اللہ کے ان عظمت والے نشانات کی بےادبی کرو نہ حرمت والے مہینوں کی گستاخی کرو لہذا ہر اونٹ گائے جو قربانی کے لئے مقرر کردیا جائے۔ وہ بدن میں داخل ہے۔…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 67
اصل میں لفظ " بدن " استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں اونٹوں کے لیے مخصوص ہے۔ مگر نبی ﷺ نے قربانی کے حکم میں گائے کو بھی اونٹوں کے ساتھ شامل فرما دیا ہے۔ جس طرح ایک اونٹ کی قربانی سات آدمیوں کے لیے کافی ہوتی ہے، اسی طرح ایک گائے کی قربانی بھی سات آدمی ملکر کرسکتے ہیں۔ مسلم میں جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ امرنا رسول اللہ ﷺ ان نشترک فی الاضاحی البدنۃ عن سبعۃ والبقرۃ عن سبعۃ، رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ہم قربانیوں میں شریک ہوجایا کریں، اونٹ سات آدمیوں کے لیے اور گائے سات آدمیوں کے لیے "۔
سورة الْحَجّ 68
یعنی تم ان سے بکثرت فائدے اٹھاتے ہو۔ یہ اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تمہیں…
Read the full tafseer →وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ ، پہلے گزر چکا ہے کہ شعائر ان خاص احکام و عبادات کا نام ہے جو دین اسلام کی علامات سمجھی جاتی ہیں۔ قربانی بھی انہیں میں سے ہے ایسے احکام کی پابندی زیادہ اہم ہے۔
فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا صَوَاۗفَّ ، صواف بمعنے مصفوفہ ہے یعنی صف بستہ، حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کی تفسیر یہ بیان فرمائی ہے کہ جانور تین پاؤں پر کھڑا ہو ایک ہاتھ بندھا ہوا ہو۔ یہ صورت قربانی کی اونٹ کے ساتھ مخصوص ہے اس کی قربانی کھڑے ہونے کی حالت میں سنت اور بہتر ہے، باقی جانوروں کو لٹا کر ذبح کرنا سنت ہے۔
فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا، یہاں وجبت بمعنے سقطت آیا ہے جیسے…
Read the full tafseer →بدن کا مفہوم
بدن بدنتہ کی جمع ہے۔ یہ لفظ اونٹوں کے لئے آتا ہے لیکن یہاں یہ خاص طور پر ان اونٹوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو قربانی کے لئے نامزد کردیئے گئے ہوں اور جن کی حیثیت ہدی اور قلائد کی ہوچکی ہو۔ اس تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تعریف میں فرمایا گیا ہے جعلنھا لکم من شعآئر اللہ (ان کو ہم نے تمہارے لئے شعائر میں سے تھہرایا ہے) ظاہر ہے کہ شعیرہ ہونے کا درجہ ہر اونٹ اور اونٹنی کو حاصل نہیں ہوتا بلکہ صرف نیاز کے اونٹوں کو حاصل ہوتا ہے۔
اونٹوں کے ذکر کی ایک خاص وجہ
اوپر آیت 28 میں ان عام چوپایوں کا ذکر ہوچکا ہے جن کی قربانی مشروع ہے۔ اس کے بعد اونٹوں کے ذکر کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی۔ اس لئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
36۔ 1 بدن بدنۃ کی جمع ہے یہ جانور عام طور پر موٹا تازہ ہوتا ہے اس لیے بدنۃ کہا جاتا ہے۔ فربہ جانور۔ اہل لغت نے اسے صرف اونٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے لیکن حدیث کی رو سے گائے پر بھی بدنۃ کا اطلاق صحیح ہے مطلب یہ ہے کہ اونٹ اور گائے جو قربانی کے لیے لیے جائیں یہ بھی شعائر اللہ یعنی اللہ کے ان احکام میں سے ہیں جو مسلمانوں کے لیے خاص اور ان کی علامت ہیں۔
3: صواف مصفوفۃ (صف بستہ یعنی کھڑے ہوئے) معنی میں ہے اونٹ کو اسی طرح کھڑے کھڑے نحر کیا جاتا ہے کہ بایاں ہاتھ پاؤں اس کا بندھا ہوا اور تین پاؤں پر وہ کھڑا ہوتا ہے۔
36۔ 2 یعنی سارا خون نکل جائے اور وہ بےروح ہو کر زمین پر گرے تب اسے کاٹنا شروع کرو۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
21: یہاں قرآن کریم نے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک قانع، جس کا مطلب ہے وہ شخص جو حاجت مند تو ہے لیکن اپنی حاجت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا، بلکہ صبر کیے بیٹھا ہے اور دوسرا معتر، جس کا مطلب وہ شخص ہے جو اپنی حاجت اپنے کسی قول یا فعل سے ظاہر کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
والبدن جعلنھا ……وبشر المحسنین (37)
یہاں قربانی کے جانوروں میں سے صرف اونٹ کا ذکر کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ یہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کا قربانی میں ذبح کیا جانا تمہارے لئے مفید ہے۔ جب زندہ ہو تب بھی مفید ہے کہ تم اس پر سوار ہوتے ہو اور اس کا دودھ دوہتے ہو اور جب ذبح کردیا جائے تو بھی تم گوشت کھاتے ہو ، لہٰذا اس ” خیر “ کو ذبح کرتے وقت تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس پر اللہ کا نام لو۔ جب اسے ذبح کے لئے تیار کیا جا رہا ہو تو بھی اس پر اللہ کا نام لو ، جب وہ صف کی شکل میں کھڑے ہوں۔
فاذکروا اسم اللہ علیھما صواف (22 : 36) ” پس ان پر اللہ کا نام لو جب وہ صف میں ہوں۔ “ اونٹوں کو اس طرح ذبح کیا جاتا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →1 پہلے مطلق شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم تھا۔ اب تصریحاً بتلا دیا کہ اونٹ وغیرہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ جن کی ذوات میں اور جن کو ادب کے ساتھ قربانی کرنے میں تمہارے لیے بہت سی دنیاوی و اخروی بھلائیاں ہیں تو عام ضابطہ کے موافق چاہیے کہ اللہ کا نام پاک لے کر ان کو ذبح کرو۔ بالخصوص اونٹ کے ذبح کا بہترین طریقہ نحر ہے کہ اس کو قبلہ رخ کھڑا کر کے اور ایک ہاتھ داہنا یا بایاں باندھ کر سینہ پر زخم لگائیں جب سارا خون نکل چکا وہ گرپڑا تب ٹکڑے کر کے استعمال کریں اور بہت اونٹ ہوں تو قطار باندھ کر کھڑا کرلیں۔
2 یہ محتاج کی دو قسمیں بتلائیں۔ ایک جو صبر سے بیٹھا ہے، سوال نہیں کرتا۔ تھوڑا مل…
Read the full tafseer →آیت 36 وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ”
قربانی کے جانور خاص طور پر اونٹ بھی اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔
لَکُمْ فِیْہَا خَیْرٌق ”
کہ ان کا گوشت تم خود بھی کھاتے ہو اور غرباء کو بھی کھلاتے ہو۔
فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا صَوَآفَّ ج ”
صَوَافّ ‘ صافَّۃکی جمع ہے ‘ یعنی صف میں کھڑے ہوئے۔ یہ اونٹوں کی قربانی کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ انہیں قبلہ رو صف بستہ کھڑے کر کے نحر کرو۔ چونکہ اونٹ کو گرا کر ذبح کرنا بہت مشکل ہے ‘ اس لیے کھڑے کھڑے ہی اس کی گردن میں برچھا مارا جاتا ہے۔ اس سے اس کی گردن کی بڑی رگ سے خون کا فوارہ چھوٹتا ہے اور جب زیادہ خون نکل جاتا ہے تو وہ خود بخود…
Read the full tafseer →56 بدن کے لفظ کا اطلاق لغوی طور پر ہر عظیم الجثہ جانور پر ہوسکتا ہے۔ تاہم عرب میں یہ لفظ اونٹنوں کے لئے ہی مختص ہوگیا ہے۔ پہلے شعائر اللہ کا عمومی ذکر ہو رہا تھا۔ اب یہ ذکر کیا گیا کہ قربانی کے اونٹ بھی اللہ کے شعائر سے ہیں اور ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے اور بھلائیاں ہیں۔ تم ان پر سواری کرتے ہو۔ بار برداری کا کام لیتے ہو۔ دودھ اور اون اور بچے حاصل کرتے ہو۔ حتیٰ کہ ان کی کھالوں اور ہڈیوں سے بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کرتے ہو اور چونکہ قربانی کے اونٹ قابل تعظیم ہیں لہذا ذبح کے وقت انھیں ہر ممکن سہولت پہنچاؤ۔
57 لفظ صواف اور معنوں میں استعمال ہو رہا ہے ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اگر…
Read the full tafseer →59۔ اصل بھلائی تو یہی ہے کہ ان کے ذریعہ سے حصول اجرورضاء الہی کا موقع ملتا ہے۔ اور ضمنا دنیوی فوائد بھی ہیں۔ مثلا ان کا گوشت کھانا کھلانا۔ اے نفع فی الدنیا واجر فی الاخرۃ (روح۔ عن ابن عباس ؓ ؓ والسدی) اے اجر ومنافع (ابن جریر۔ عن مجاہد)
60۔ یہ خاص ذکر اونٹ کی قربانی کا ہے۔ اسی کو اس طریقہ پر ذبح کیا جاتا ہے۔ بدنۃ کا اصل اطلاق بھی اسی پر ہوتا ہے اور اسی کی قربانی افضل بھی ہے۔ لفظ (آیت) ” صوآف “۔ سے بعض صوفیہ نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ حق تعالیٰ عبادات میں صف بندی کو پسند کرتا ہے۔ مثلا نماز میں، جہاد میں، قربانی میں۔ اس لیے صوفیہ مشائخ کے حلقہ ذکر بھی جو درحقیقت غیر اللہ کے مقابلہ کے لیے میدان جہاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
آیت نمبر 34 تا 38
ترجمہ : اور ہم نے ہر امت کے لئے یعنی مومن جماعت کے لئے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے منسکاً سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے اور کسرہ سین کے ساتھ اسم مکان ہے، یعنی بطور قربانی ذبح کرنا، یا مقام ذبح، سو تمہارا معبود ایک ہی خدا ہے سو اسی کے تابع فرمان رہو، اور آپ اطاعت کرنے والوں یعنی تواضع اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں، اور جو نماز کی ان کے اوقات…
Read the full tafseer →والبدن جعلنہا لکم من شعآئر اللہ اور قربانی کے جانوروں کو (خصوصیت کے ساتھ) ہم نے
تمہارے لئے اللہ کے دین کے خاص نشانات میں سے قرار دیا۔
اَلْبُدْن۔ بَدَنَۃٌکی جمع ہے جیسے خَشُب خشبۃ کی۔ جزری نے نہایہ میں لکھا ہے بدنہ کا اطلاق اونٹ ‘ اونٹنی اور گائے بیل ‘ بھینس پر ہوتا ہے اور اس کا زیادہ استعمال اونٹوں ‘ اونٹنیوں کے لئے کیا جاتا ہے۔ بدن کی جسامت بڑی ہونے کی وجہ سے ان کو بدنہ کہا جاتا ہے۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے بدنۃ (بحرکت ثلاثہ) اونٹ اونٹنی ‘ اور گائے بھینس۔ امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے۔ عطاء اور سدی نے کہا اونٹ گائے بُدن ہیں بکریوں کو بدنہ نہیں کہا جاتا۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک بدن کا لفظ…
Read the full tafseer →(36) اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے مسخر کیا ہے اور یہ حج کے ارکان میں سے ہیں تاکہ تم ان کو ایام حج میں ذبح کرو، یہ قربانیاں تمہارے لیے باعث ثواب ہیں، سو تم ان کو تمام عیبوں سے درست کرکے ان کے ذبح کرنے کے وقت ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو یا یہ کہ (اونٹ کا) بایاں پیر باندھ کر اور تین پیروں پر اس کو کھڑا کرکے اس کے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو، اور پھر جب وہ ذبح ہونے کے بعد کسی کروٹ کے بل گر پڑیں تو تم ان قربانیوں میں سے خود بھی کھاؤ اور اس سے سوال کرنے والے کو بھی دو جو معمولی سی چیز پر قناعت کرجاتا ہے اور اس کو بھی دو جو تمہارے سامنے آجاتا ہے پر مانگتا نہیں، ہم…
Read the full tafseer →وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ : ”وَالْبُدْنَ“ ”بَدَنَۃٌ“ کی جمع ہے، بڑے بدن والا جانور۔ یہ لفظ بڑے جسم کی وجہ سے اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پہلے قربانی کے لیے سورة انعام (143، 144) میں ”بَھِیْمَۃُ الْأَنْعَامِ“ یعنی پالتو چوپاؤں کا ذکر فرمایا تھا جو بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے ہیں۔ اس آیت میں بڑے جانوروں کا ذکر خصوصاً فرمایا، کیونکہ چوپاؤں میں بطور ”شعائر اللہ“ وہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، خاص طور پر اونٹ اپنے بلند قد کی وجہ سے اور اشعار کی وجہ سے زیادہ ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اشعار کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ میں قربانی کے اونٹ روانہ کیے جاتے ہیں تو ان کے کوہان کے دائیں…
Read the full tafseer →اس میں دس مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والبدن ابن اسحاق نے والبدن پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں اس کا واحد بدنۃ ہے جیسے کہا جاتا ہے : ثمرۃ وثمرو ثمر، خشیۃ کی جمع خشب و خشب۔ قرآن حکیم میں ہے وکان لہ ثمر (الکہف : 34) ثمر بھی پڑھا گیا ہے یہ دو لغات ہیں۔ اس کو بدنۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ موٹا ہوتا ہے۔ البدانۃ کا معنی موٹاپا ہے۔ بعض علماء نے کہا یہ اونٹ کے ساتھ خاص ہے۔ بعض نے کہا : البدن، بدن کی جمع ہے باء اور دال کے فتحہ کے ساتھ کہا جاتا ہے : بدن الرجل وال کے ضمہ کے ساتھ جب آدمی موٹا ہوجائے۔ بدن جب آدمی بڑی عمر کا ہوجائے۔ حدیث میں ہے : انی بدنت (1) یعنی میں بوڑھا ہوچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم، وہ اللہ کے ذکر کے وقت ان کے دل اللہ کی عظمت کی وجہ سے کانپتے ہیں اور آیت ” والصبرین علی ما آصابہم) (صبر کرنے والے) بلاؤں پر اور مصیبتوں پر آیت ” والمقیمی الصلوۃ “ یعنی وہ نمازوں کو اللہ کے حکم کے مطابق صحیح صحیح ادا کرتے ہیں۔
2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” والبدن “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد اونٹ اور گائیں ہیں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد کھر والے جانور ہیں۔
5۔ ابن ابی شیبہ…
Read the full tafseer →[ وَالْبُدْنَ : اور مکہ میں قربانی کے جانوروں کو !] [ جَعَلْنٰهَا : ہم نے بنایا ان کو ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ : اللہ کا شعور حاصل کرنے کی علامتوں میں سے ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ خَيْرٌ: بھلائی ہے ] [ فَاذْكُرُوا : پس تم لوگ یاد کرو ] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کا نام ] [ عَلَيْهَا : ان پر ] [ صَوَاۗفَّ : (ان کی) قطار بنانے والے ہوتے ہوئے ] [ فَاِذَا : پھر جب ] وَجبتْ : گرجائیں ] [ جُنُوْبُهَا : ان کے پہلو ] [ فَكُلُوْا : تو تم لوگ کھائو ] [ مِنْهَا : ان میں سے ] [ وَاَطْعِمُوا : اور کھلائو ] [ الْقَانعَ : قناعت کرنے والے کو ] […
Read the full tafseer →قربانی کے جانور اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں ان میں سے قناعت کرنے والے کو اور سوال کرنے والے کو کھلاؤ
البدن جمع ہے بدنہ کی بڑے جانوروں کو بدنہ کہا جاتا ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک لفظ بدنہ اونٹ اور گائے دونوں کو شامل ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ان کو اللہ کے شعائر یعنی دینی یاد گاروں اور بڑی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے، ان میں تمہارے لیے خیر ہے دنیاوی فوائد بھی ہیں اور اخروی بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذبح اور نحر پر ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔
اور امام شافعی کے نزدیک بدنہ کا مصداق صرف اونٹ ہے ضحایا (عام قربانیاں جو پورے عالم میں ہوتی ہیں) اور ھدایا (وہ جانور جو حرم میں حج کے موقعہ پر ذبح کیے جاتے ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →49:۔ ” وَالْبُدْنَ الخ “ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نذر اور اس کے چڑھاوے کا بیان ہے۔ ” صواف “ قطار اندر قطار۔ ” وجبت “ گر پڑیں۔ ” اَلْقَانِعْ “ صبر و قناعت کرنے والا محتاج۔ ” اَلْمُعْتَرّ “ بےقرار سائل۔ یہ قربانیاں اللہ کی عبادت و اطاعت کے نشانات ہیں ان میں تمہارا دین و دنیا کا فائدہ ہے۔ انہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے اور اللہ کا نام لے کر ذبح کرو اور پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ہر مسکین و فقیر کو اور سائل و محتاج کو بھی اس میں سے دو ۔ ” کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا الخ “ یہ چوپائے یوں ہم نے تمہارے تابع کیے ہیں تاکہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ اور ان میں سے صرف اللہ ہی کے نام کی نذر و نیاز دو ای تشکرو انعامنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حرم شریف کا ادب واحترام ذکر کیا۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا حکم دیا اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ اللہ نے لوگوں کے وہاں تک پہنچنے کی پیشن گوئی بھی فرمائی اور شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر بھی کیا۔ پھر شرک کی قباحت کو مثال کے ذریعے سمجھایا۔ چونکہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں اس لئے اللہ نے آج کی آیات میں قربانی کے بعض احکامات بیان فرمائے ہیں اور اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ قربانی صرف آخری امت کے لوگوں کے لئے ہی مقرر نہیں کی گئی بلکہ اللہ نے سابقہ تمام امتوں کے لئے اس کا طریقہ مقرر کیا تھا۔
قربانی کا طریقہ :
ارشاد ہوتا ہے ولکل امۃ جعلنا منسکا ،…
Read the full tafseer →وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ لَكُمْ فِيْہَا خَيْرٌ 0 ۤۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا صَوَاۗفَّ 0ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُہَا فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ 0ۭ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰہَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 36
بدن
وقوله تعالی: وَالْبُدْنَ جَعَلْناها لَكُمْ مِنْ شَعائِرِ اللَّهِ [ الحج/ 36] هو جمع البدنة التي تهدى.
اور آیت کریمہ ۔ وَالْبُدْنَ جَعَلْناها لَكُمْ مِنْ شَعائِرِ اللَّهِ [ الحج/ 36] اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے (22 ۔ 32) میں بدن بدنۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہدی یعنی قربانی کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
صواف جمع صافہ وھی قرارۃ الجمہور ای انھا قائمات قدصفت توائمھالان المسنون نحرھاقائمۃ۔ 12 منہ
یعنی ہر وقت اہل ایمان کے لیے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ جلالین
1 ؎ یعنی نحر کرو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَائِرِاللّٰہِ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌاصلیق فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّج فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط کَذٰلِکَ سَخَّرْنَاھَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الحج : 36)
(اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ٹھہرایا ہے۔ تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے۔ پس ان پر اللہ کا نام لو ان کو صف بستہ کرکے۔ پس جب وہ اپنے پہلوئوں پر گرپڑیں تو ان میں سے خود بھی کھائو اور کھلائو قناعت کرنے والے فقیر کو اور سوال کرنے والے کو۔ اسی طرح ہم نے فرمانبردار بنادیا ہے ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سلسلہ کلام کے درمیان چند نصائح فرما کر اب پھر قربانی کے مسائل اور فضائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔
یہودیوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ذمہ یہ بات لگا رکھی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ پر اونٹ کا گوشت حرام کر رکھا تھا اس لیے ہم اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے اور نہ اس کی قربانی کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ یہودیوں کے نظریہ کی تردید کے لیے سورة آل عمران، آیت : 93 میں وضاحت فرمائی کہ یعقوب (علیہ السلام) کے لیے سب چیزیں حلال تھیں۔ البتہ انہوں نے جو چیز بیماری کی وجہ سے پرہیز کے طور پر چھوڑ دی وہ الگ مسئلہ ہے۔ چناچہ وہ اونٹ بھی تمہارے لیے شعائر اللہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ جنہیں نذر یا قربانی کے لیے…
Read the full tafseer →36: وَالْبُدْنَ (اور قربانی کے جانور) یہ جمع بدنۃ کی ہے اس کو بڑی جسامت کی وجہ سے بدنہؔ کہتے ہیں شرع میں اونٹ اور گائے ہر دو کو شامل ہے۔
قراءت : رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اور وہ اس ارشاد کی طرح ہے والقمر قدّرنٰہ ] یسنؔ: 39 [
جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے دین کے خاص نشانات میں سے بنایا ہے) اللہ تعالیٰ کی شریعت کے نشانات میں سے۔
نحو : اسم اللہ کی طرف اضافت اس کی تعظیم و تکریم کیلئے ہے اور یہ جعلنا کا مفعول ثانی ہے۔ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌ (تمہارے لئے اس میں خیر ہے) دنیا میں فائدہ اور آخرت میں اجر فَاذْکُرُ وا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا (پس تم ان پر…
Read the full tafseer →36۔ والبدن ، جمع ہے بدنہ کی۔ اس کو بدنہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ بدن کی جسامت بڑی ہونے کی وجہ سے اس کو بدن کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، بدن الرجل بدناوبدانہ۔ جب وہ خوب موٹاتازہ ہوجائے یاجوزیادہ عمر رسید ہوجائے اور اس کا گوشت ڈھیلاپڑ جائے۔
عطاء اور سدی نے کہا کہ اونٹ گائے بدن ہیں بکریوں کو بدنہ نہیں کہاجاتا۔ جعلناھا لکم من شعائر اللہ۔ اللہ کے دین کے خاص نشانات ہیں ، ان کو شعائر سے مسمی کیا کیونکہ ان جانوروں کا شعار کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ لوہے کے ساتھ ہدی کے جانور کو نشان لگاناتا کہ معلوم ہوجائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے۔ لکم فیھا خیر، دنیا میں نفع اور آخرت میں اجر، فاذکرواسم اللہ علیھا، ان کے…
Read the full tafseer →36:۔ والبدن بدنہ کی جمع ہے ‘ بدنہ موٹی چیز کو کہتے ہی ‘ زیادہ ثواب کی نیت سے نیاز کے اونٹوں اور گایوں کو لوگ یا تو پال کر خوب موٹا کرتے تھے ‘ یا نیاز کی نیت سے جو اونٹ یا گائے خرید کرتے تو موٹا دیکھ کر خرید کرتے ‘ انہیں فربہ جانوروں کو والبدن فرمایا ‘ صحیح بخاری ومسلم میں جابربن ؓ عبداللہ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں بدن اونٹ اور گائے دونوں کو ٹھہرایا ہے ‘ ہاں صحیح بخاری ومسلم میں بکری کو نیاز کا جانور ٹھہرانے کا ذکر حضرت عائشہ کی روایت 2 ؎ سے جو آیا ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نیاز کے فربہ جانوروں کو حج یا عمرہ کے سفر میں ساتھ رکھنا اور نیاز کعبہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 36-37
یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ ” شعائر “ دین کی تمام ظاہری علامات میں عام ہے۔ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جملہ شعائر میں (البدن) بھی داخل ہیں۔ ایک قول کے مطابق ” بدن “ وہ اونٹ اور گائے وغیرہ ہیں جن کو قربانی کے لئے بڑا اور موٹا کیا جائے اور ان کو اچھا جانا جائے۔ (لکم فیھا خیر) یعنی قربانی دینے والے کے لئے اس میں بھلائی ہے یعنی اس میں سے کھانا، صدقہ کرنا، اس سے متمتع ہونا اور اجر وثواب، سب بھلائی ہے (فاذکرو اسم اللہ علیھا) یعنی ذبح کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
قول باری ہے (والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے) ایک قول کے مطابق بدن ان اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو موٹے تازے ہونے کی بنا پر بھاری جسم کے ہوگئے ہوں۔ جب کسی اونٹنی کو کھلا پلا کر موٹا تازہ کردیا جائے تو کہا جاتا ہے (بدنت الفاقۃ “ میں نے اونٹنی کو موٹا تازہ کردیا) نیز کہا جاتا ہے ” بدن الرجل “ آدمی موٹا ہوگیا اس جہت سے ان اونٹں کو بد نہ کہا جاتا ہے پھر اونٹوں کو بدن کہا جانے لگا خواہ وہ اونٹ دبلے پتلے ہوں یا موٹے تازے بدنہ کا اسم اونٹوں کے لئے خاص ہے تاہم جب گائے بدنہ کے حکم میں ہوگئی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
73 { مخبتین } کی پہلی اور اہم صفت خوف و خشیت خداوندی : سو " مخبتین " کی تعریف و توصیف کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اس کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو خوف و خشیت خداوندی سے ان کے دل دہل جاتے ہیں۔ اپنے خالق ومالک کی عظمت بےپایاں اور اس کے حقوق واجبہ کے تصور سے۔ اور اس احساس و تصور سے کہ میں نے اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب دینا اور صلہ و بدلہ پانا ہے۔ بہرکیف یہ { مخبتین } کی پہلی صفت ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کی خشیت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ اور یہ دل و جان سے اس کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
اعلان حج
تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
نیز قربانی اور عبادات صرف اسی امت پر نہیں بلکہ ہر امت کو وقت حالات اور اس کے مزاج و ضرورت کے مطابق اللہ جل جلالہ کی طرف سے طریق عبادت دیا گیا اور قربانی بھی عبادات کا حصہ ہے لہذا یہ بھی ہر امت میں رہی کہ لوگ صرف دنیا اور مال ومنال پہ فدا نہ ہوجائیں بلکہ اپنے قیمتی اور پیارے جانوروں کو اللہ جل جلالہ کے نام پر ذبح کریں کہ یہ سب اسی نے دیے ہیں اور مقصد اس کی خوشنودی ہے ،۔
(بارگاہ الہی میں عجز پسندیدہ ہے)
جانوروں اور دولت کی محبت مقصد نہیں اور اطاعت ایثار وقربانی اس بات کا اظہار ہے کہ تمہارا معبودوہی اکیلا ہے لہذا اسی کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرو اور اس کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →5 ۔ اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کرنا سنت ہے۔ صحیحین میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا ہے تو فرمایا : ابعثھا قیاما مقیدۃ سنۃ ابی القاسم ﷺ کہ اسے پائوں باندھ کر کھڑا کر کے نحر کرو۔ ابو القاسم کی سنت یہی ہے۔ (ابن کثیر) 6 ۔ ٹھنڈا ہونے سے پہلے کسی قربانی کے جانور کا کاٹنا شروع کردینا صحیح نہیں۔ حدیث میں ہے جب تم ذبح کرو بہتر طریقہ سے ذبح کرو۔ اپنی چھری خوب تیز کرلو اور جانور کو آرام دو (یعنی اسے ٹھنڈا ہونے دو )…ابن کثیر) 7 ۔ یہ حکم بھی پہلے حکم کی طرح استحباب کیلئے ہے۔ امام شافعی (رح) خود کھانے کو تو مستحب ہی قرار دیتے ہیں مگر کھلانے کو واجب کہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →(22:36) البدن۔ البدن جمع ہے جس کا واحد بدنہ ہے جس طرح ثمر اور ثمر ثمرۃ کی جمع ہے یہ بدانۃ سے ماخوذ ہے جس کا معنی موٹا تازہ ہونا ہے اس کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے یا گائے پر بھی۔ اس میں علما کا اختلاف ہے لیکن یہاں جو ذبح کا طریقہ بیان ہو رہا ہے وہ اونٹ کے ساتھ مخصوص ہے اس لئے یہاں بدن سے مراد اونٹ ہی ہے۔
صواف۔ صف سے ماخوذ ہے اسم فاعل جمع مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا واحد صافۃ ہے یہاں صواف بمعنی مصفوفۃ (اسم مفعول) ہے۔ یعنی ایک قطار میں کی ہوئیں۔ بعض نے بمعنی مصفۃ (اسم فاعل) یعنی قطار باندھنے والیاں بیاں کیا ہے۔ قاموس میں ہے۔ صافۃ وہ اونٹ جس کا بایاں ہاتھ باندھ دیا جائے۔ اور وہ اپنے دونوں پائوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 38 :
منسکا (قربانی) ‘ بھیمۃ الانعام (بےزبان چوپائے) ‘ المخبتین (عاجزی سے گردن جھکانے والے) ‘ وجلت (ڈرگئی۔ ڈر گئے) ‘ البدن (بدنۃ) (بڑے بدن والا جانور۔ اونٹ) ‘ شعائر (شعیرۃ) (نشانیاں) ‘ صواف (سیدھا کھڑا کرنا۔ تین پاؤں پر کھڑا رہا) ‘ جنوب (جنب) پہلو ‘ القانع (قناعت کرنے والا۔ نہ مانگنے والا) ‘ سخر نا (ہم نے بس میں کردیا۔ مسخر کردیا) ‘ لن ینال ( ہرگز نہ پہنچے گا) ‘ لحوم (لحم) گوشت ‘ دمائ (دم) (خون) ‘ یدافع (وہ دور کرے گا) ‘ خوان (بےایمان۔ دغاباز) ‘ کفور (ناشکرا) ۔
تشریح آیت نمبر 34 تا 38 :
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ایسے نیکو کاروں کو (جنت کی)…
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ والبدن ، موٹے جانور کو کہتے ہیں جس میں اونٹ اور گائے دونوں کو ٹھہرایا گیا ہے کہ نیاز کے فربہ جانوروں کو حج یا عمرہ کے سفر میں ساتھ رکھنا، اور نیاز کعبہ کی پہچان کے لیے ان کے گلوں میں پٹہ کا ڈالنا اللہ کی تعظیم کی نشانی ہے اور قربانی سے پہلے ضرورت ہے کہ وقت سواری اور دودھ کا قربانی کے بعد عقبی کے اجر کا تمہیں ان جانوروں سے نفع ہے۔ پس تم ہر ایک اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کرتین پاؤں کھڑا کرکے انہیں قبلہ رو کھڑا کردیاجائے، اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ان کی چھاتی میں زخم لگایاجائے اور اس زخم کے سبب سے جب وہ زمین پر کسی پہلوگرپڑیں اور ٹھنڈے ہوجائیں تو آگے کے حکم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[32] اونٹ کے ذبح کا بہترین طریقہ نحر ہے۔ اس کو قبلہ رخ کھڑا کر کے اس کے سینے پر زخم لگایا جاتا ہے اور جب بہت سارے اونٹ ہوں تو ان کو ذبح کے لئے قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
(ف 1) شعائر شعیرہ کی جمع ہے ، جس کے معنی ان چیزوں کے ہیں جہیز نشان ہو ، عبادت اور قربانی بمعنی چونکہ خدا پرستی اور خدا دوستی کی نشانیاں ہیں ، اس لئے شعائر سے تعبیر کیا ہے ۔
بعض کوتاہ فہم لوگوں نے قربانی کو عہد وحشت وجاہلیت کی یادگار قرار دیا ہے ، اور کہا ہے کہ اس کی بنیادیں دیوتاؤں سے خوف دہر اس کے تخیل پر قائم ہیں ، یہ محض غلط ہے ۔
اصل میں مذہب ان رسوم کو باقی رکھنے کے حق میں ہوتا ہے جس سے روحانی اور ملی فوائد حاصل ہو سکتے ہوں ، قربانی قدیم قوموں میں بھی رائج تھی ، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور غرباء و مساکین کو پیٹ پھر کر کھلایا جائے اب اگر اس قربانی کو…
Read the full tafseer →(36) اور ہم نے تمہارے لئے قربانی کے اونٹوں کو عبادت الٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے ان جانوروں میں تمہارے لئے اور بھی فائدے ہیں پس تم ان کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو۔ یعنی تکبیر کہا کرو پھر جب وہ نحر کے بعد اپنے کسی پہلو پر گرپڑیں یعنی بالکل ٹھنڈے والا ہو یا سوالی ہو۔
جس طرح ہم نے ان جانوروں کی قربانی کا ذکر کیا اسی طرح ہم نے ان کو تمہارا فرمانبردار بنایا اور تمہارے بس میں ان کو دے دیا تاکہ تم شکر بجالائو۔
بدن جمع بدنۃ کی یہ اونٹ اور گائے دونوں پر بولا جاتا ہے لیکن نحر صرف اونٹ کو کیا جاتا ہے اس لئے ہم نے اونٹ ترجمہ کیا ہے۔ قربانی کے جانوروں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 8۔ یہ حکمت مطلق ذبح میں ہے، قطع نظر اس کی قربانی ہونے کے، اور آگے ذبح کی تخصیصات مقصود بالذات نہ ہونے کو ایک عقلی قاعدے سے بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →قربانی کے جانوروں میں اونٹ خصوصا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے :
36۔ قربانی کے لئے جانوروں کو مختص کرنے سے انکی دیکھ بھال کا زیادہ خیال رکھنے کے باعث وہ فربہ اور عمدہ ہوجاتے ہیں اور ظاہر ہے جتنا بڑا جانور ہوگا اگر وہ اپنے لحاظ سے فربہ اور عمدہ بھی ہوگا تو وہ بہت ہی اچھا اور بھلا لگے گا ۔ زیر نظر آیت میں لفظ (بدن) کا استعمال ہوا ہے جو بدنہ کی جمع ہے یہ لفظ زیادہ تر اونٹوں ہی کے لئے مخصوص سمجھا جاتا ہے اور خصاصا وہ جو قربانی کے لئے نامزد کئے جا چکے ہیں اور جن کا ذکر پیچھے ہدی اور قلائد کے ذکر میں سورة المائدہ کی آیت 2 میں گزر چکا ہے اور اس آیت سے پہلے شعائر اللہ کے تحت بھی ان کا…
Read the full tafseer →وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ (And the big animals of sacrifice [ like camels ] are made by Us among the symbols of Allah for you - 22:36.) It has been explained earlier that شَعَائِرِ (symbols) mean those special forms of rites and worship, which are the symbols of Islam. Sacrifice of animals is one of them, which must be observed with due importance.
فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ (So recite the name of Allah over them as they are lined up (for sacrifice) - 22:36) The word صَوَافَّ (translated above as 'lined up' ) is used for مَصفوُفہ ، which…
Read the full tafseer →67. Seven persons can become partners in the sacrifice of one camel and likewise in the sacrifice of one cow and the like, as enjoined by the Prophet (peace be upon him) in a tradition reported by Jabir bin Abdullah in the collection of Hadith by Muslim.
68. That is, you should sacrifice animals because you get many benefits from them to show your gratitude to Allah, the Giver, and also to acknowledge His Supremacy and Sovereignty.
69.“Mention the name of Allah over them”implies that animals should be slaughtered by pronouncing the name of Allah over them, because without that their flesh…
Read the full tafseer →