Explained with ayahs 34–35
قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی
فرمان ہے کہ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے۔ سب کے سب مکہ شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔حضور ﷺ کے پاس دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا۔ مسند احمد میں ہے کہ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 65
اصل میں لفظ " مُخْبِتِین " استعمال کیا گیا ہے جس کا مفہوم کسی ایک لفظ سے پوری طرح ادا نہیں ہوتا۔ اس میں تین مفہومات شامل ہیں استکبار اور غرور نفس چھوڑ کر اللہ کے مقابلے میں عجز اختیار کرنا۔ اس کی بندگی و غلامی پر مطمئن ہوجانا اس کے فیصلوں پر راضی ہوجانا۔
سورة الْحَجّ 66
اس سے پہلے ہم اس امر کی تصریح کرچکے ہیں کہ اللہ نے کبھی حرام و ناپاک مال کو اپنا رزق نہیں فرمایا ہے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو پاک رزق ہم نے انہیں بخشا ہے اور جو حلال کمائیاں ان کو عطا کی ہیں ان میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ پھر خرچ سے مراد بھی ہر طرح کا خرچ نہیں ہے بلکہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جائز ضروریات…
Read the full tafseer →وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ، وجل کے اصلی معنے اس خوف وہیبت کے ہیں جو کسی کی عظمت کی بناء پر دل میں پیدا ہو۔ اللہ کے نیک بندوں اور صلحاء کا یہی حال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور نام سن کر ان کے دلوں پر اس کی عظمت اور بڑائی کے سبب ایک خاص ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →یہ مخبتین کی صفت ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اس کی آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ متکبرین کی طرح، جن کا ذکر اسی سورة میں آگے آیت 72 میں آئے گا، ناک بھوں نہیں چڑھاتے بلکہ ان کے دل خشیت الٰہی سے دہل جاتے ہیں۔ والصبرین علی مآ اصابھم اور جن کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کی راہ میں ہر مصیبت کو پوری ہمت کے ساتھ برداشت کر رہے ہیں، ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جن کا حال آیت ومن الناس من بعبد اللہ علی حرف کے تحت بیان ہوا کہ وہ ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے ہیں لیکن اس راہ میں کوئی چوٹ کھانے اور کوئی جو کھم برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ والمقیمی الصلوۃ یہ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہے۔ صبر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
36۔ 1 بدن بدنۃ کی جمع ہے یہ جانور عام طور پر موٹا تازہ ہوتا ہے اس لیے بدنۃ کہا جاتا ہے۔ فربہ جانور۔ اہل لغت نے اسے صرف اونٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے لیکن حدیث کی رو سے گائے پر بھی بدنۃ کا اطلاق صحیح ہے مطلب یہ ہے کہ اونٹ اور گائے جو قربانی کے لیے لیے جائیں یہ بھی شعائر اللہ یعنی اللہ کے ان احکام میں سے ہیں جو مسلمانوں کے لیے خاص اور ان کی علامت ہیں۔
3: صواف مصفوفۃ (صف بستہ یعنی کھڑے ہوئے) معنی میں ہے اونٹ کو اسی طرح کھڑے کھڑے نحر کیا جاتا ہے کہ بایاں ہاتھ پاؤں اس کا بندھا ہوا اور تین پاؤں پر وہ کھڑا ہوتا ہے۔
36۔ 2 یعنی سارا خون نکل جائے اور وہ بےروح ہو کر زمین پر گرے تب اسے کاٹنا شروع کرو۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
21: یہاں قرآن کریم نے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک قانع، جس کا مطلب ہے وہ شخص جو حاجت مند تو ہے لیکن اپنی حاجت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا، بلکہ صبر کیے بیٹھا ہے اور دوسرا معتر، جس کا مطلب وہ شخص ہے جو اپنی حاجت اپنے کسی قول یا فعل سے ظاہر کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ولکل امۃ ……ینفقون (35)
اسلامی نظام زندگی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور اس کے رجحانتا کو اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ چناچہ اس کی اسکیم یہ ہے کہ شعور ، عمل ، سرگرمی ، عبادت ، ہر حرکت اور ہر عادت کو ایک نئی سمت دی جائے اور ہر چیز کو اسلام نظریہ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جائے ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام نے ان مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا ہے جن پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور یہ لازم کردیا کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا جائے بلکہ عین ذبح کے وقت اونچی آواز سے اللہ اکبر کہا جائے ، گویا جانور ذبح ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس طرح اللہ کا نام لیا جائے۔
ولکل امۃ جعلنا مسکا…
Read the full tafseer →9 یعنی مصائب و شدائد کو صبر و استقلال سے برداشت کریں، کوئی سختی اٹھا کر راہ حق سے قدم نہ ڈگمگائے۔
10 بیت اللہ تک پہنچنے میں بہت مصائب و شدائد پیش آتے ہیں، سفر میں اکثر نمازوں کے فوت ہونے یا قضا ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے، مال بھی خرچ کرنا پڑتا ہے، شاید اسی مناسبت سے ان اوصاف و خصال کا یہاں ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →آیت 35 الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ ”
یعنی تواضع اختیار کرنے والے لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل خوف سے کانپ اٹھتے ہیں۔ یہ مضمون سورة الانفال کی دوسری آیت میں بھی آیا ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ ”مؤمن تو بس وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرز اٹھتے ہیں۔“
Read the full tafseer →54 ان کے دل اس بات سے سہم جاتے ہیں کہ مبادا ان سے کوئی کام اللہ کی مرضی اور منشاء کے خلاف سرزد ہوجائے۔ عمداً شرکیہ افعال بجا لانا تو بڑی دور کی بات ہے اور اس آیت میں مصیبت پر صبر کرنا، نماز کے قیام اور خرچ کرنے کا ذکر اس لحاظ سے ہے کہ سفر حج میں عموماً تکلیفیں بھی پیش آتی رہتی ہیں۔ نمازوں کے قضا ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے اور خرچ بھی خاصا اٹھتا ہے۔ لہذا یہ فرما دیا کہ اللہ کے حضور متواضع رہنے والوں میں یہ سب خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہ مطلب تو ربط معنوں کے لحاظ سے ہے تاہم ان کا حکم ہر حالت میں عام ہے۔
55 یہاں رزق سے مراد حلال اور پاکیزہ کمائی ہے کیونکہ رزق حرام کی نسبت اللہ تعالیٰ نے کبھی اپنی…
Read the full tafseer →57۔ گویا توحید خالص چیز ہی ایسی بابرکت ہے کہ اس سے یہ تمام کمالات اخلاقی وروحانی پیدا ہوجاتے ہیں۔
58۔ (اور اس کی عظمت توحید کو اور زیادہ ظاہر کرنے والے۔ چناچہ یہی حکم کہ اللہ کی جانب منسوب ونامزد ہوجانے کے بعد پھر اس جانور پر حکم اس کے مالک کا نہیں چل پاتا۔ مالک مجازی کی عبدیت اور مالک حقیقی کی معبودیت ظاہر کرنے کو بالکل کافی ہے۔ سو کہیں تم ان قربانی کے جانوروں ہی کو معظم بالذات نہ سمجھ بیٹھنا) (آیت) ” البدن “۔ بدن جمع ہے بدنہ کی۔ اصل معنی ہیں موٹے تازہ تیار اونٹ کے۔ الابل العظام الاجسام الضخام (ابن جریر) لیکن اہل عربیت نے اس سے گائے اور اونٹ دونوں مراد لیے ہیں اور یہی مذہب فقہاء حنفیہ کا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
آیت نمبر 34 تا 38
ترجمہ : اور ہم نے ہر امت کے لئے یعنی مومن جماعت کے لئے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے منسکاً سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے اور کسرہ سین کے ساتھ اسم مکان ہے، یعنی بطور قربانی ذبح کرنا، یا مقام ذبح، سو تمہارا معبود ایک ہی خدا ہے سو اسی کے تابع فرمان رہو، اور آپ اطاعت کرنے والوں یعنی تواضع اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں، اور جو نماز کی ان کے اوقات…
Read the full tafseer →الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم مخبتین وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل
خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ یعنی جلال خداوندی کی شعاعیں ان کے دلوں پر پڑتی ہیں اور عظمت الٰہیہ کے انوار پر تو انداز ہوتے ہیں اس لئے ان کے دل ہیبت زدہ ہوجاتے ہیں۔
والصبرین علی ما اصابہم والمقیمی الصلوۃ ومما رزقنہم ینفقون۔ اور مصیبتوں پر
(خاص طور پر) صبر کرنے والوں کو اور پابندئ اوقات اور شرائط کے ساتھ نماز ادا کرنے والوں کو اور (ان کو جو) ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے (کچھ راہ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(35) اور آپ ایسے لوگوں کو جو خلوص کے ساتھ عبادت میں کوشش کرتے ہیں جنت کی خوشخبری سنا دیجیے کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم دیا جاتا ہے تو ان سے ڈر جاتے ہیں۔
اور مشقتوں اور مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو بھی جنت کی خوشخبری سنا دیجیے اور ایسے پانچوں نمازوں کے تمام ارکان وآداب وضو، سجود، رکوع، قیام اور اوقات کی پوری رعایت رکھنے والوں کو بھی جنت کی خوشخبری سنا دیجیے اور جو کچھ ہم نے ان لوگوں کو مال دیا ہے، اس میں سے صدقہ و خیرات کرتے اور اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ :”وَجِلَ یَوْجَلَ وَجْلاً“ (ع) شدید خوف۔ اس آیت میں ”الْمُخْبِتِيْنَ“ (تواضع اور عاجزی کرنے والوں) کے اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اس کے کسی حکم کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل سخت ڈر جاتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد و ثنا اور اس سے استغفار کرتے ہیں اور دل و جان سے اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ کفار کی طرح نہیں کہ جن کے دل اکیلے اللہ کا ذکر ہونے پر تنگ پڑجاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِذَا هُمْ…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجلت قلوبھم یعنی ان کے دل اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے ڈرتے ہیں اس کے ذکر کے وقت خوف اور ڈر سے متصف ہوتے ہیں یہ ان کی قوت یقین اور اپنے رب کی طرف توجہ کے سبب ہوتا ہے گویا وہ اس کے سامنے ہیں اور ان کا وصف بیان فرمایا کہ وہ صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اس پر دوام اختیار کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ یہ آیت وبشر المخبتین حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جمہور نے الصلاۃ کو اضافت کی وجہ سے مجرور پڑھا ہے (1) اور ابو عمرو نے الصلاۃ کو نون کے تو ہم کی بنا پر منصوب پڑھا ہے (2) ۔ اسم کی طوالت کی وجہ سے نون کا حذف تخفیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم، وہ اللہ کے ذکر کے وقت ان کے دل اللہ کی عظمت کی وجہ سے کانپتے ہیں اور آیت ” والصبرین علی ما آصابہم) (صبر کرنے والے) بلاؤں پر اور مصیبتوں پر آیت ” والمقیمی الصلوۃ “ یعنی وہ نمازوں کو اللہ کے حکم کے مطابق صحیح صحیح ادا کرتے ہیں۔
2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” والبدن “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد اونٹ اور گائیں ہیں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” والبدن “ سے مراد کھر والے جانور ہیں۔
5۔ ابن ابی شیبہ…
Read the full tafseer →[ الَّذِينَ : وہ لوگ (کہ)] [ اِذَا : جب بھی ] [ ذُكِرَ : ذکر کیا جاتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ کا ] [ وَجِلَتْ : تو کانپ اٹھتے ہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ وَالصّٰبِرِيْنَ : اور صبر کرنے والوں کو ] [ عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [ اَصَابَهُمْ : آپڑے ان پر ] [ وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ : اور نماز کے قائم رکھنے والوں کو ] [ وَمِمَا : اور اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ يُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ]
ترکیب : آیت۔ 35 ۔ میں اَلْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ آیا ہے۔ اس میں اَلْمُقِیْمِیْنَ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے اور اَلصَّلٰوۃِ حالت جر میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرکب اضافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو جن کے قلوب اللہ کے ذکر کے وقت ڈر جاتے ہیں اور جو صبر کرتے ہیں نماز قائم کرتے اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں
لفظ نسک مفعل کے وزن پر ہے جس کی ماضی نسک ہے یہ مادہ مطلق عبادت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور جانور ذبح کرنے کے لیے بھی اور حج کے احکام ادا کرنے کے لیے بھی، جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے (وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا) فرمایا ہے یہاں پر تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور قربانی کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور قربانی کی جگہ کے معنی میں بھی اور افعال حج کے معنی میں بھی، لیکن آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →48:۔ ” وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ الخ “ یہ بشارت اخروی ہے اللہ کے ان بندوں کے لیے جو عاجزی کرتے اور اللہ سے ڈرتے ہیں، مصائب پر صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم ہیں وہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے لیے مال خرچ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حرم شریف کا ادب واحترام ذکر کیا۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا حکم دیا اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ اللہ نے لوگوں کے وہاں تک پہنچنے کی پیشن گوئی بھی فرمائی اور شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر بھی کیا۔ پھر شرک کی قباحت کو مثال کے ذریعے سمجھایا۔ چونکہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں اس لئے اللہ نے آج کی آیات میں قربانی کے بعض احکامات بیان فرمائے ہیں اور اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ قربانی صرف آخری امت کے لوگوں کے لئے ہی مقرر نہیں کی گئی بلکہ اللہ نے سابقہ تمام امتوں کے لئے اس کا طریقہ مقرر کیا تھا۔
قربانی کا طریقہ :
ارشاد ہوتا ہے ولکل امۃ جعلنا منسکا ،…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ عَلٰي مَآ اَصَابَہُمْ وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوۃِ 0ۙ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ 35
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
قربانی کے جانوروں کو عرب اپنے ساتھ کعبہ میں لایا کرتے تھے یا پہلے بھی دیتے تھے اور ایسے جانوروں کو کہ جن میں بیشتر اونٹ ہوتے تھے ہدی کہتے تھے۔ اب ان جانوروں کی نسبت فرماتا ہے لکم فیہا منافع کہ تمہارے لیے ان میں فوائد رکھے ہیں ان پر بوقت ضرورت سوار ہو لینا یا بوقت حاجت ان کا دودھ پی لینا 1 ؎ درست ہے کب تک الٰی اجل مسمًی ایک وقت مقرر تک یعنی ذبح ہونے تک ثم محلہا الٰی البیت العتیق پھر وقت ذبح کا ان کے منتہی ہوتا ہے کعبہ تک۔ کعبہ سے مراد حرم ہے یعنی پھر اس کو حرم میں ذبح کرنا چاہیے کیونکہ حرم کی زمین بھی یہی حکم رکھتی ہے (مدارک) اس آیت کی تفسیر میں جبکہ فیہا کی ضمیر بہائم کی طرف رجوع کی جائے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِط فَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا ط وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ۔ لا الَّذِیْنَ اِذَاذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَآ اَصَابَھُمْ وَالْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ لا وَمِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (الحج : 34، 35)
(اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی ہے تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں ان پر وہ اللہ کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ تو اسی کے آگے سرجھکائو۔ اور اے پیغمبر ! بشارت دے دیجیے عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے بندے صرف جانور ذبح کرتے وقت ہی اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ جب بھی ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا یعنی اس کی توحید اور فرمان کا تذکرہ ہو تو ان کے دل لرز جاتے ہیں۔
اللہ سے ڈرنے کے تقاضے ہیں کہ جب جانور ذبح کیا جائے تو اس پر دوسروں کا نام لینے کی بجائے صرف ” اللہ “ ہی کا نام یعنی بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا جائے۔ اس کا دوسرا تقاضا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے ” اللہ “ ہی کا مال ہے اسی کے حکم اور اس کی خوشنودی کے لیے ذبح کر رہا ہوں اس میں کسی بت یا بزرگ کا کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ذکر کا یہ بھی تقاضا ہے کہ صاحب ایمان کے سامنے جب اللہ کی ذات اور صفات کا بیان ہو تو…
Read the full tafseer →35: الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ (وہ لوگ کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کے دل نرم پڑجاتے ہیں) ہیبت کی وجہ سے دل خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ وَالصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَآ اَصَابَھُمْ (اور وہ صبر کرنے والے ہیں ان تکالیف پر جو ان کو پہنچتی ہیں) مصائب و مشقتیں وَالْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ (اور وہ نمازوں کو قائم کرنے والے ہیں) ان کے اوقات پر وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (اور جو رزق ہم نے دیا اس میں وہ خرچ کرتے ہیں) صدقہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
35۔ الذین اذاذکراللہ وجلت قلوبھم۔۔ اصابھم سے مراد بلائیں اور مصائب ہیں۔ المقیمی الصلات اوقات نماز میں نماز کو قائم کریں وممارزقناھم ینفقون، جو وہ صدقہ کرتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34۔ 35:۔ اوپر قربانی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ کے نام پر جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم کچھ اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اور دیندار امتوں میں بھی خدا کا یہی حکم تھا تاکہ لوگ اللہ کے دیئے ہوئے جانوروں میں سے اس کے نام پر قربانی کریں اور عقبیٰ کا اجر کمائیں ‘ مشرکین مکہ بتوں کے نام پر جانوروں کو ذبح کرتے اور طرح طرح کے شرک میں گرفتار تھے اس لیے فرمایا جس نے ان لوگوں کو ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو انسان پر ہر طرح سے اس کی فرما نبرداری واجب ہے ‘ اس کی فرما نبرداری میں کسی دوسرے کو شریک کرنا بڑے وبال کے بات ہے۔ پھر فرمایا اے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت 34
ہم نے گزشتہ تمام قوموں کیلئے قربانی کو مشروع کیا ہے۔ پس تم تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف بڑھوتا کہ ہم دیکھیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے طریقے کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم اور اس کے شکر کی طرف التفات ہو، اس لئے فرمایا : (لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقھم من بھیمٓ الانعام فالکھم الہ واحد) اگرچہ تمام شریعتیں مختلف ہیں مگر ایک اصول پر سب متفق ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اللہ تعالیٰ اکیلے کا عبودیت کا مستحق ہنا اور اس کے ساتھ شرک کا ترک کردینا، اس لئے فرمایا : (فلہ اسلموا) یعنی اسی کی اطاعت کرو اسی کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
قول باری ہے (والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے) ایک قول کے مطابق بدن ان اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو موٹے تازے ہونے کی بنا پر بھاری جسم کے ہوگئے ہوں۔ جب کسی اونٹنی کو کھلا پلا کر موٹا تازہ کردیا جائے تو کہا جاتا ہے (بدنت الفاقۃ “ میں نے اونٹنی کو موٹا تازہ کردیا) نیز کہا جاتا ہے ” بدن الرجل “ آدمی موٹا ہوگیا اس جہت سے ان اونٹں کو بد نہ کہا جاتا ہے پھر اونٹوں کو بدن کہا جانے لگا خواہ وہ اونٹ دبلے پتلے ہوں یا موٹے تازے بدنہ کا اسم اونٹوں کے لئے خاص ہے تاہم جب گائے بدنہ کے حکم میں ہوگئی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
73 { مخبتین } کی پہلی اور اہم صفت خوف و خشیت خداوندی : سو " مخبتین " کی تعریف و توصیف کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اس کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو خوف و خشیت خداوندی سے ان کے دل دہل جاتے ہیں۔ اپنے خالق ومالک کی عظمت بےپایاں اور اس کے حقوق واجبہ کے تصور سے۔ اور اس احساس و تصور سے کہ میں نے اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب دینا اور صلہ و بدلہ پانا ہے۔ بہرکیف یہ { مخبتین } کی پہلی صفت ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کی خشیت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ اور یہ دل و جان سے اس کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
اعلان حج
تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
نیز قربانی اور عبادات صرف اسی امت پر نہیں بلکہ ہر امت کو وقت حالات اور اس کے مزاج و ضرورت کے مطابق اللہ جل جلالہ کی طرف سے طریق عبادت دیا گیا اور قربانی بھی عبادات کا حصہ ہے لہذا یہ بھی ہر امت میں رہی کہ لوگ صرف دنیا اور مال ومنال پہ فدا نہ ہوجائیں بلکہ اپنے قیمتی اور پیارے جانوروں کو اللہ جل جلالہ کے نام پر ذبح کریں کہ یہ سب اسی نے دیے ہیں اور مقصد اس کی خوشنودی ہے ،۔
(بارگاہ الہی میں عجز پسندیدہ ہے)
جانوروں اور دولت کی محبت مقصد نہیں اور اطاعت ایثار وقربانی اس بات کا اظہار ہے کہ تمہارا معبودوہی اکیلا ہے لہذا اسی کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرو اور اس کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →4 ۔ گو لفظ ” بدن “ عموماً قربانی کے اونٹ پر بولا جاتا ہے مگر اس میں قربانی کی گایوں کو شامل قرار دیا جاسکتا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر) ایک اونٹ کی قربانی میں دس اور ایک گائے کی قربانی میں سات شریک ہو ستے ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے اور صحیح مسلم میں جو حضرت جابر ؓ والی روایت میں ” الجزو رعن سبعۃ “ آیا ہے وہ اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ عشرۃ والی روایت جواز پر محمول ہے۔
Read the full tafseer →(22:35) وجلت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وجل مصدر (باب سمع) (ان کے دل) ڈر جاتے ہیں۔ الوجل کے معنی دل ہی دل میں خوف محسوس کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے قالوا لا تو جل (15:53) (مہمانوں نے کہا) ڈرئیے نہیں۔
(1) اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم۔
(2) والصبرین علی ما اصابہم۔
(3) والمقیمی الصلوۃ۔
(4) ومما رزقنہم ینفقون۔ یہ المخبتین کی صفات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 38 :
منسکا (قربانی) ‘ بھیمۃ الانعام (بےزبان چوپائے) ‘ المخبتین (عاجزی سے گردن جھکانے والے) ‘ وجلت (ڈرگئی۔ ڈر گئے) ‘ البدن (بدنۃ) (بڑے بدن والا جانور۔ اونٹ) ‘ شعائر (شعیرۃ) (نشانیاں) ‘ صواف (سیدھا کھڑا کرنا۔ تین پاؤں پر کھڑا رہا) ‘ جنوب (جنب) پہلو ‘ القانع (قناعت کرنے والا۔ نہ مانگنے والا) ‘ سخر نا (ہم نے بس میں کردیا۔ مسخر کردیا) ‘ لن ینال ( ہرگز نہ پہنچے گا) ‘ لحوم (لحم) گوشت ‘ دمائ (دم) (خون) ‘ یدافع (وہ دور کرے گا) ‘ خوان (بےایمان۔ دغاباز) ‘ کفور (ناشکرا) ۔
تشریح آیت نمبر 34 تا 38 :
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ایسے نیکو کاروں کو (جنت کی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(ف 1) اوپر قربانی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا : اللہ کے نام پر جانوروں کے ذبح کرنے کا حکم کچھ اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر دین دار امتوں میں بھی اللہ کا یہی حکم تھا تاکہ لوگ اللہ کے دیے ہوئے جانوروں میں سے اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کریں یعنی ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں، اور عقبی کا اجر کمائیں، اور ساری مخلوق کا خدا ایک ہی خدا ہے پس سب کو اسی کا حکم ماننا چاہیے اور اس کے حکم پر اعتراض کسی کو نہیں چاہیے ، پھر فرمایا، اے محبوب ﷺ اگر یہ مشرک لوگ قرآن کی نصیحت کو نہ مانیں تو تم فقط ان لوگوں کو عقبی کی بہبودی کو خوش خبری سنادو، جو اللہ سے ڈرتے اور مشرک ان کو ستاتے ہیں تو اس پر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[32] اونٹ کے ذبح کا بہترین طریقہ نحر ہے۔ اس کو قبلہ رخ کھڑا کر کے اس کے سینے پر زخم لگایا جاتا ہے اور جب بہت سارے اونٹ ہوں تو ان کو ذبح کے لئے قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
(ف 1) شعائر شعیرہ کی جمع ہے ، جس کے معنی ان چیزوں کے ہیں جہیز نشان ہو ، عبادت اور قربانی بمعنی چونکہ خدا پرستی اور خدا دوستی کی نشانیاں ہیں ، اس لئے شعائر سے تعبیر کیا ہے ۔
بعض کوتاہ فہم لوگوں نے قربانی کو عہد وحشت وجاہلیت کی یادگار قرار دیا ہے ، اور کہا ہے کہ اس کی بنیادیں دیوتاؤں سے خوف دہر اس کے تخیل پر قائم ہیں ، یہ محض غلط ہے ۔
اصل میں مذہب ان رسوم کو باقی رکھنے کے حق میں ہوتا ہے جس سے روحانی اور ملی فوائد حاصل ہو سکتے ہوں ، قربانی قدیم قوموں میں بھی رائج تھی ، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور غرباء و مساکین کو پیٹ پھر کر کھلایا جائے اب اگر اس قربانی کو…
Read the full tafseer →(35) جو ایسے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جو مصائب ان پر پڑتے ہیں ان کو سہارتے اور برداشت کرتے ہیں اور جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو ایسے ہیں کہ جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات بھی کیا کرتے ہیں یعنی صرف امت محمدیہ کو قربانی کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ تمام شرائع ماسبق میں جہاں اور عبادات کا حکم ہے وہاں قربانی کا بھی ان کو حکم تھا اور اس عبدت میں بھی یہی حکم تھا کہ قربانی پر اللہ کا نام لیا جائے اگر غیر اللہ کے نام پ قربانی کی گئی تو یہ شرک ہوگا۔
قربانی کے لئے چوپایوں میں سے وہی مخصوص چوپائے جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اور چونکہ معبود برحق ایک…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی توحید خالص ایسی بابرکت چیز ہے کہ اس کی بدولت کمالات نفسانیہ و بدنیہ و مالیہ پیدا ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور مصیبتوں میں صبر کرنے والے کون ہیں :
35۔ گذشتہ آیت میں کچھ لوگوں کا وصف (مخبتین) یعنی وہ لوگ جو متواضع اور منکر المزاج ہوں اور غرور وتکبر ان کے قریب بھی نہ پھٹکا ہو ان لوگوں کا مزید تعارف کرایا گیا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف صحیح معنوں میں سما گیا ہے اور جلال خداوندی کی شعاعیں ان کے دلوں پر پڑتی ہیں اور عظمت الہی کی تجلیات ان کے قلوب پر پڑتی ہیں اور وہ آخرت کی فکر رکھتے ہیں اور اس عارضی زندگی پر وہ کبھی نازاں نہیں ہوتے جو انعامات ان کو دنیا میں ملتے ہیں ان کا بارگاہ ایزدی میں شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس راہ میں جو کچھ بھی ان کو…
Read the full tafseer →وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (Whose hearts are filled with awe - 22:35) The word وَجِلَ means a feeling of awe inspired by something majestic and sublime. These words describe the state of pious people who are overwhelmed by deep awe whenever the name of Allah is mentioned in their presence.
Read the full tafseer →66. It means that righteous people spend their lawful provisions in the way of Allah to meet their own and their dependents’lawful needs, to help their relatives, neighbors and other needy people, on public works and propagation of the word of Allah. It does not include expenditure in unlawful ways for unlawful purposes. The Quranic term lnfaq implies neither over spending nor being miserly and stingy, but spending one’s wealth on himself and others according to his means and status in society.
Read the full tafseer →