Explained with ayahs 34–35
قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی
فرمان ہے کہ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے۔ سب کے سب مکہ شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔حضور ﷺ کے پاس دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا۔ مسند احمد میں ہے کہ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 64
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ قربانی تمام شرائع الہٰیہ کے نظام عبادت کا ایک لازمی جز رہی ہے۔ توحید فی العبادت کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان نے جن جن صورتوں سے غیر اللہ کی بندگی کی ہے ان سب کو غیر اللہ کے لیے ممنوع کر کے صرف اللہ کے لیے مختص کردیا جائے۔ مثلاً انسان نے غیر اللہ کے آگے رکوع و سجود کیا ہے۔ شرائع الہٰیہ نے اسے اللہ کے لیے خاص کردیا۔ انسان نے غیر اللہ کے آگے مالی نذرانے پیش کیے ہیں۔ شرائع الٰہیہ نے انہیں ممنوع کر کے زکوٰۃ و صدقہ اللہ کے لیے واجب کردیا۔ انسان نے معبودان باطل کی تیرتھ یاترا کی ہے۔ شرائع الٰہیہ نے کسی نہ کسی مقام کو مقدس یا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اوپر جو قربانی کا حرم میں ذبح کرنے کا حکم ہے اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مقصود اصلی تعظیم حرم کی ہے بلکہ اصل مقصود اللہ ہی کی تعظیم اور اس کے ساتھ تقرب ہے اور نہ مذبوح اور مذبح اس کا ایک آلہ اور ذریعہ ہے اور تخصیص بعض حکمتوں کی وجہ سے ہے اور اگر یہ تخصیصات مقصود اصلی ہوتیں تو کسی شریعت میں نہ بدلتیں مگر ان کا بدلتا رہنا ظاہر ہے البتہ تقرب الی اللہ جو اصل مقصود تھا وہ سب شرائع میں محفوظ رہا چنانچہ) ہم نے (جتنے اہل شرائع گزرے ہیں ان میں سے) ہر امت کے لئے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمایا تھا (پس اصلی مقصود یہ…
Read the full tafseer →قربانی ایک قدیم ترین طریقہ عبادت
لفظمنسک کی تحقیق بقرہ آیت 200 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے مختلف معانی میں سے قربانی مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شرائع الٰہی میں قربانی ایک قدیم ترین عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بنی کی امت کے لئے اس طریقہ عبادت کو شروع فرمایا کہ اللہ کے بندے اس طرح اللہ کے بخشے ہوئے چوپایوں پر اس کی شکر گزاری کا حق ادا کریں۔ یہاں قربانی کے قدیم ترین طریقہ عبادت ہون کا جو ذکر ہے اس کی شہادت کے لئے یہ کافی ہے کہ تورات اور قرآن دونوں میں حضرت آدم کے بیٹے ہابیل کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔
لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام خدا کی شروع کی ہوئی اس عبادت کی یہ خصوصیت بیان ہوئی…
Read the full tafseer →34۔ 1 منسک۔ نسک ینسک کا مصدر ہے معنی ہیں اللہ کے تقرب کے لیے قربانی کرنا ذبیحۃ (ذبح شدہ جانور) کو بھی نسیکۃ کہا جاتا ہے جس کی جمع نسک ہے اس کے معنی اطاعت و عبادت کے بھی ہیں کیونکہ رضائے الٰہی کے لئے جانور کی قربانی کرنا عبادت ہے۔ اسی لئے غیر اللہ کے نام پر یا ان کی خوشنودی کے لئے جانور ذبح کرنا غیر اللہ کی عبادت ہے، جہاں حج کے اعمال و ارکان ادا کئے جاتے ہیں، جیسے عرفات، مزدلفہ، منٰی اور مکہ۔ مطلق ارکان و اعمال حج کو بھی مناسک کہہ لیا جاتا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم پہلے بھی ہر مذہب والوں کے لئے ذبح کا یا عبادت کا یہ طریقہ مقرر کرتے آئے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
21: یہاں قرآن کریم نے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک قانع، جس کا مطلب ہے وہ شخص جو حاجت مند تو ہے لیکن اپنی حاجت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا، بلکہ صبر کیے بیٹھا ہے اور دوسرا معتر، جس کا مطلب وہ شخص ہے جو اپنی حاجت اپنے کسی قول یا فعل سے ظاہر کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ولکل امۃ ……ینفقون (35)
اسلامی نظام زندگی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور اس کے رجحانتا کو اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ چناچہ اس کی اسکیم یہ ہے کہ شعور ، عمل ، سرگرمی ، عبادت ، ہر حرکت اور ہر عادت کو ایک نئی سمت دی جائے اور ہر چیز کو اسلام نظریہ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جائے ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام نے ان مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا ہے جن پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور یہ لازم کردیا کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا جائے بلکہ عین ذبح کے وقت اونچی آواز سے اللہ اکبر کہا جائے ، گویا جانور ذبح ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس طرح اللہ کا نام لیا جائے۔
ولکل امۃ جعلنا مسکا…
Read the full tafseer →7 یعنی اللہ کی نیاز کے طور پر مویشی قربان کرنا ہر دین سماوی میں عبادت قرار دی گئی ہے۔ اگر یہ عبادت غیر اللہ کی نیاز کے طور پر کرو گے تو شرک ہوجائے گا جس سے بہت پرہیز کرنا چاہیے۔ موحد کا کام یہ ہے کہ قربانی اکیلے اسی خدا کے لیے کرے جس کے نام پر قربان کرنے کا تمام شرائع میں حکم رہا ہے۔ اس کے حکم سے باہر نہ ہو۔
8 یعنی ان لوگوں کو رضائے الٰہی کی بشارت سنا دیجئے جو صرف اسی ایک خدا کا حکم مانتے ہیں اسی کے سامنے جھکتے ہیں اسی پر ان کا دل جمتا ہے اور اسی کے جلال و جبروت سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا ط ”
اس کے ہر حکم کو تسلیم کرو اور اس کی مکمل اطاعت قبول کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ایک طرف تو قربانی دی جا رہی ہو اور دوسری طرف حرام خوری بھی جا ری ہو۔ حرام کے مال سے ہی قربانی کے جانور خریدے جائیں اور پھر فوٹو بنوا کر اخباروں میں خبریں لگوائی جائیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کو معبود ماننا ہے تو پھر اس کی مکمل اطاعت قبول کرو اور اس کی حرام کردہ چیزوں میں منہ نہ مارو۔
وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ”
”اخبات“ کے معنی اپنے آپ کو پست کرنے اور تواضع و انکساری اختیار کرنے کے ہیں۔
Read the full tafseer →52 اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء کی شریعتوں میں اللہ کے حضور قربانی پیش کرنا ایک لازمی جزو رہا ہے۔ اگرچہ اس قربانی کی تفصیلات اور جزئیات میں اختلاف رہا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی دوسری چیز کے سامنے یا دوسری چیز کے لئے قربانی پیش کرے گا۔ یہ تو شرک فی العبادت ہے کیونکہ قربانی اور نذر و نیاز سب مالی عبادتیں ہیں۔ لہذا یہ عبادات کسی دوسرے کے لئے بجا لانا یا ان میں کسی دوسرے کو شریک کرنا عین شرک ہے۔ اسی لئے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تمہارا الٰہ تو صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ پھر دوسروں کو اس کی عبادت میں کیوں شریک بناتے ہو ؟53 یہاں لفظ مخبتین استعمال ہوا ہے۔ اور خبت النار بمعنی آگ کا شعلہ ختم…
Read the full tafseer →52۔ قربانی کا حکم کسی نہ کسی صورت میں ہر پچھلی شریعت میں موجود رہا ہے۔ یہ شریعت اسلامی کا کوئی نیا اور انوکھا حکم نہیں اور اہل کتاب کے مذہب (یعنی مذہب بنی اسرائیل) میں تو قربانی مذہب کا ایک اہم رکن ہے۔ حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، آج منکرین کا جو گروہ کہہ رہا ہے کہ قربانی کا حکم قرآن میں کہیں مذکور نہیں۔ کاش وہ آیت نمبر 29 کی طرح اس آیت پر بھی غور کرنا سیکھے ! (آیت) ” لیذکروا ...... الانعام “۔ یعنی مقصود اصلی تو بس اللہ کے نام کی تعظم اور اللہ کے نام سے حصول تقرب رہا ہے، مذبوح اور مذبح کی حیثیت صرف آلہ اور ظرف کی ہے۔ بعض اہل علم صوفیہ نے مفہوم آیت کے عموم واطلاق سے اہل باطن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
آیت نمبر 34 تا 38
ترجمہ : اور ہم نے ہر امت کے لئے یعنی مومن جماعت کے لئے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر بوقت ذبح اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے منسکاً سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے اور کسرہ سین کے ساتھ اسم مکان ہے، یعنی بطور قربانی ذبح کرنا، یا مقام ذبح، سو تمہارا معبود ایک ہی خدا ہے سو اسی کے تابع فرمان رہو، اور آپ اطاعت کرنے والوں یعنی تواضع اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں، اور جو نماز کی ان کے اوقات…
Read the full tafseer →ولکل امۃ جعلنا منسکا اور ہر امت کے لئے ہم نے ایک منسک بنایا ہے۔ منسک عبادت گاہ۔ (اسم ظرف ہے)
اور اگر منسک کو مصدر قرار دیا جائے تو اس سے مراد ہوگا ‘ خون بہانا اور قربانیاں ذبح کرنا یا وہ قربانی مراد ہوگی جس کو بارگاہ خداوندی میں پیش کر کے لوگ قرب الٰہی کے طلبگار ہوتے ہیں۔
لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقہم من بہیمۃ الانعام تاکہ وہ (صرف) اللہ کا نام ہمارے دیئے
ہوئے چوپایوں (کو ذبح کرنے) پر ذکر کریں ‘ یعنی اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام نہ لیں اور قربانی خاص اللہ کے لئے کریں۔ یہ تنبیہ ہے اس امر پر کہ قربانیاں کرنے کا مقصد محض اللہ کی یاد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ذبح کے وقت اللہ کا ذکر ضروری اور شرط…
Read the full tafseer →(34) اور ہم نے مسلمانوں میں ہر ایک کے لیے قربانی کرنا اور ان کے حج وعمرہ کے لیے قربانی کی جگہ اس لیے مقرر کی ہے تاکہ وہ ان حلال جانوروں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا کیے ہیں۔
سو تمہارا معبود ایک ہی اللہ وحدہ لاشریک ہے سو مؤحد خالص بن کر اسی کی عبادت کرو۔
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا : ”مَنْسَكًا“ کے تین معنی ہوسکتے ہیں، عبادت، عبادت کی جگہ اور قربانی۔ یہاں آخری معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ آگے جانوروں پر اللہ کا نام لینے کا ذکر آ رہا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جز رہا ہے۔ اسلام میں بھی یہ بطور عبادت مقرر کی گئی ہے، اس میں حاجی، غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے۔ چناچہ انس ؓ بیان کرتے ہیں : (ضَحَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ 8 بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ فَرَأَیْتُہُ وَاضِعًا قَدَمَہُ عَلٰی صِفَاحِھِمَا یُسَمِّيْ وَیُکَبِّرُ فَذَبَحَھُمَا بِیَدِہٖ) [ بخاري،…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولکل امۃ جعلنا منسکاً جب اللہ تعالیٰ نے ذبائح کا ذکر کیا تو بیان فرمایا کہ کوئی امت بھی اس حکم سے خالی نہ تھی۔ امت اس قوم کو کہتے ہیں جو ایک مذہب پر جمع ہو یعنی ہر مومن جماعت کے لیے ہم نے قربانی مقرر فرمائی۔ المنسک کا معنی ذبح کرنا اور خون بہانا ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ کہا جاتا ہے : نسک جب ذبح کرے ینسک نسکا، ذبیحہ کو نسیکۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع نسک ہے اسی سے ہے اوصدقۃ اوکسک (البقرہ :196) النسک کا معنی طاعت بھی ہے۔ ازہری نے اس ازہری نے اس قول ولکل امۃ جعلنا منسکاً کے تحت فرمایا کہ یہاں یہ نحر کی جگہ پر دلالت کرتا ہے۔ مراد قربانی کی جگہ ہے۔ کہا جاتا : منسک ومنسک یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے اونٹ (یعنی قربانی کے جانور )
2۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے کہ (قربانی کے جانوروں کا) موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کا احترام کرنا۔ آیت لکم فیہا منافع الی اجل مسمی یعنی ان کو بد نہ کہنے تک۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذالک ومن یعظم شعائر اللہ تعظیم سے مراد ہے قربانی کے جانوروں کا خوب موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور ان کو اچھے طریقے سے رکھنا…
Read the full tafseer →[ وَلِكُلِ اُمَّةٍ : اور ہر امت کے لئے ] [ جَعَلْنَا : ہم نے مقرر کیا ] [ مَنْسَكًا : قربانی کا ایک طریقہ ] [ لِيَذْكُرُوا : تاکہ وہ یاد کریں ] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کے نام کو ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ رَزَقَهُمْ : اس نے عطا کیا ان کو ] [ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْانعام : بےزبان مویشیوں میں سے ] [ فَاِلٰـهُكُمْ : پس تم لوگوں کا اِلٰہ ] [ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: واحد اِلٰہ ہے ] [ فَلَهٗٓ: تو اس کی ہی ] [ اَسْلِمُوْا : تم لوگ فرمانبرداری کرو ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیں ] [ الْمُخْبِتِيْنَ : عاجزی کرنے والوں کو ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 34 ۔ میں بتایا گیا ہے کہ شرائع الٰہی میں قربانی ایک قدیم ترین عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو جن کے قلوب اللہ کے ذکر کے وقت ڈر جاتے ہیں اور جو صبر کرتے ہیں نماز قائم کرتے اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں
لفظ نسک مفعل کے وزن پر ہے جس کی ماضی نسک ہے یہ مادہ مطلق عبادت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور جانور ذبح کرنے کے لیے بھی اور حج کے احکام ادا کرنے کے لیے بھی، جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے (وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا) فرمایا ہے یہاں پر تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر امت کے لیے عبادت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور قربانی کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور قربانی کی جگہ کے معنی میں بھی اور افعال حج کے معنی میں بھی، لیکن آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →46:۔ ” وَلِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا الخ “ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نذر و نیاز کا بیان ہے۔ منسک اسم ظرف مکان ہے یعنی قربان گاہ یا مصدر ہے یعنی اللہ کے تقرب کے لیے جانور کو ذبح کرنا۔ فسرہ مجاھد ھنا بالذبح واراقۃ الدماء علی وجہ التقرب الیہ تعالیٰ (روح ج 17 ص 53) ۔ یہاں یہ بات واضح کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے قربانی کرنے اور اللہ کی نذر و نیاز دینے کا دستور ہر امت میں مقرر تھا اور کسی امت کو اس سے مستثنی نہیں کیا گیا۔ اور ہر امت کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے دئیے ہوئے چوپایوں میں سے صرف اللہ تعالیٰ کے نام ہی کی نذریں اور منتیں دیا کریں۔ اور غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز سے اجتناب کریں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حرم شریف کا ادب واحترام ذکر کیا۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا حکم دیا اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ اللہ نے لوگوں کے وہاں تک پہنچنے کی پیشن گوئی بھی فرمائی اور شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر بھی کیا۔ پھر شرک کی قباحت کو مثال کے ذریعے سمجھایا۔ چونکہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں اس لئے اللہ نے آج کی آیات میں قربانی کے بعض احکامات بیان فرمائے ہیں اور اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ قربانی صرف آخری امت کے لوگوں کے لئے ہی مقرر نہیں کی گئی بلکہ اللہ نے سابقہ تمام امتوں کے لئے اس کا طریقہ مقرر کیا تھا۔
قربانی کا طریقہ :
ارشاد ہوتا ہے ولکل امۃ جعلنا منسکا ،…
Read the full tafseer →وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ 0ۭ فَاِلٰـہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا 0 ۭ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ 34ۙ
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38]
الامۃ
ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
قربانی کے جانوروں کو عرب اپنے ساتھ کعبہ میں لایا کرتے تھے یا پہلے بھی دیتے تھے اور ایسے جانوروں کو کہ جن میں بیشتر اونٹ ہوتے تھے ہدی کہتے تھے۔ اب ان جانوروں کی نسبت فرماتا ہے لکم فیہا منافع کہ تمہارے لیے ان میں فوائد رکھے ہیں ان پر بوقت ضرورت سوار ہو لینا یا بوقت حاجت ان کا دودھ پی لینا 1 ؎ درست ہے کب تک الٰی اجل مسمًی ایک وقت مقرر تک یعنی ذبح ہونے تک ثم محلہا الٰی البیت العتیق پھر وقت ذبح کا ان کے منتہی ہوتا ہے کعبہ تک۔ کعبہ سے مراد حرم ہے یعنی پھر اس کو حرم میں ذبح کرنا چاہیے کیونکہ حرم کی زمین بھی یہی حکم رکھتی ہے (مدارک) اس آیت کی تفسیر میں جبکہ فیہا کی ضمیر بہائم کی طرف رجوع کی جائے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِط فَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا ط وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ۔ لا الَّذِیْنَ اِذَاذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَآ اَصَابَھُمْ وَالْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ لا وَمِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (الحج : 34، 35)
(اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی ہے تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں ان پر وہ اللہ کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ تو اسی کے آگے سرجھکائو۔ اور اے پیغمبر ! بشارت دے دیجیے عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القرآن
ربط کلام : دل کے تقویٰ کا تقاضا ہے کہ شعاء اللہ کا احترام کیا جائے۔ شعائر اللہ کا وہی احترام کرے گا جو اپنے ” اللہ “ کے سامنے قلباً اور عملاً عاجزی کرنے والا ہوگا۔
اللہ کے حضور انسان جب کسی جانور کی قربانی پیش کرتا ہے تو اس میں نیت رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ دین اسلام کی خوبیوں میں ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر کام میں آخرت کے اجر کے ساتھ دنیا کا فائدہ پایا جاتا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ اصول تھا کہ قربانی پیش کرنے والا اس کا گوشت نہیں کھا سکتا تھا۔ لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اس نے نہ صرف ہمیں قربانی کا گوشت کھانے کی اجازت عنایت فرمائی ہے بلکہ ہم قربانی کے…
Read the full tafseer →ہم نے منسک بنایا :
34: وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ (اور ہر ایک امت کیلئے ایک جماعت مومنہ ہے جو تم سے پہلے ہوئے۔ جَعَلْنَا مَنْسَکًا (ہم نے ایک منسک بنایا)
قراءت : مَنِسکا جہاں بھی آئے وہاں سین کے کسرہ کے ساتھ آئے گا۔ معنی موضع ہوگا۔ علی و حمزہ نے اسی طرح پڑھا ہے۔ یعنی قربانی کی جگہ اور دیگر نے مصدر کیوجہ سے مفتوح پڑھا مَنْسَکًا خون بہانا۔ قربانی کو ذبح کرنا۔ لِّیَذْکُرُوْااسْمَ اللّٰہِ (تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا نام لیں) اور کسی کا نہ لیں۔ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ (جو چو پائے اللہ تعالیٰ نے ان کو عنایت فرمائے ہیں) ذبح اور نحر کرنے کے وقت فَاِلٰھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ (پس تم سب کا…
Read the full tafseer →34۔ ولکل امۃ ، ، ایک صالح قوم ماقبل اقوام میں گزرچکی ہے۔ جعلنا منسکا ، حمزہ اور کسائی نے سین کے کسرہ کے ساتھ اس جگہ اور اس سورت کے آخر میں یہ اسم کے معنی میں ہے جیسے مسجد اور مطلع ہے اور وہ قربان گاہ ہے جہاں پر جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے ۔ دوسرے قراء نے سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر پڑھا ہے جیسے مدخل اور مخرج ہے اس کا معنی ہے خون بہانا، اس کو قربت کے لیے ذبح کرنا۔ لیذکر اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام۔
اس کے نحر کے وقت اور اس کے ذبح کے وقت ا س کو بھیمہ، کے نام سے موسوم کیا کیونکہ یہ کلام نہیں کرتے تھے۔ بعضنے کہا کہ بہمیہ کے ساتھ ، نعم، کی قید لگائی ہے اور کچھ چوپائے انعام کے علاوہ بھی ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34۔ 35:۔ اوپر قربانی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ کے نام پر جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم کچھ اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اور دیندار امتوں میں بھی خدا کا یہی حکم تھا تاکہ لوگ اللہ کے دیئے ہوئے جانوروں میں سے اس کے نام پر قربانی کریں اور عقبیٰ کا اجر کمائیں ‘ مشرکین مکہ بتوں کے نام پر جانوروں کو ذبح کرتے اور طرح طرح کے شرک میں گرفتار تھے اس لیے فرمایا جس نے ان لوگوں کو ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو انسان پر ہر طرح سے اس کی فرما نبرداری واجب ہے ‘ اس کی فرما نبرداری میں کسی دوسرے کو شریک کرنا بڑے وبال کے بات ہے۔ پھر فرمایا اے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت 34
ہم نے گزشتہ تمام قوموں کیلئے قربانی کو مشروع کیا ہے۔ پس تم تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف بڑھوتا کہ ہم دیکھیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے طریقے کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم اور اس کے شکر کی طرف التفات ہو، اس لئے فرمایا : (لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقھم من بھیمٓ الانعام فالکھم الہ واحد) اگرچہ تمام شریعتیں مختلف ہیں مگر ایک اصول پر سب متفق ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اللہ تعالیٰ اکیلے کا عبودیت کا مستحق ہنا اور اس کے ساتھ شرک کا ترک کردینا، اس لئے فرمایا : (فلہ اسلموا) یعنی اسی کی اطاعت کرو اسی کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
قول باری ہے (والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے) ایک قول کے مطابق بدن ان اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو موٹے تازے ہونے کی بنا پر بھاری جسم کے ہوگئے ہوں۔ جب کسی اونٹنی کو کھلا پلا کر موٹا تازہ کردیا جائے تو کہا جاتا ہے (بدنت الفاقۃ “ میں نے اونٹنی کو موٹا تازہ کردیا) نیز کہا جاتا ہے ” بدن الرجل “ آدمی موٹا ہوگیا اس جہت سے ان اونٹں کو بد نہ کہا جاتا ہے پھر اونٹوں کو بدن کہا جانے لگا خواہ وہ اونٹ دبلے پتلے ہوں یا موٹے تازے بدنہ کا اسم اونٹوں کے لئے خاص ہے تاہم جب گائے بدنہ کے حکم میں ہوگئی تو…
Read the full tafseer →71 قربانی کی اصل روح اللہ کا ذکر : سو قربانی کی اصل روح کی تذکیر و یاددہانی کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں۔ تاکہ اس طرح اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا کسی قدر حق شکر ادا ہو سکے۔ سو کس قدر ظالم اور کتنے بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو اس کی بجائے غیر اللہ کی طرف منسوب کرتے، ان کے نام کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ وہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کچھ دیا کس نے اور نام کس کا لیا جا رہا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف عقل و نقل اور عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جب یہ جانور بخشے ہوئے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
اعلان حج
تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
نیز قربانی اور عبادات صرف اسی امت پر نہیں بلکہ ہر امت کو وقت حالات اور اس کے مزاج و ضرورت کے مطابق اللہ جل جلالہ کی طرف سے طریق عبادت دیا گیا اور قربانی بھی عبادات کا حصہ ہے لہذا یہ بھی ہر امت میں رہی کہ لوگ صرف دنیا اور مال ومنال پہ فدا نہ ہوجائیں بلکہ اپنے قیمتی اور پیارے جانوروں کو اللہ جل جلالہ کے نام پر ذبح کریں کہ یہ سب اسی نے دیے ہیں اور مقصد اس کی خوشنودی ہے ،۔
(بارگاہ الہی میں عجز پسندیدہ ہے)
جانوروں اور دولت کی محبت مقصد نہیں اور اطاعت ایثار وقربانی اس بات کا اظہار ہے کہ تمہارا معبودوہی اکیلا ہے لہذا اسی کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرو اور اس کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →3 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جزو رہا ہے اور اسلام میں بھی یہ بطورعبادت مقرر کی گئی ہے اور اس میں حاجی غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے چناچہ آپ ﷺ مدینہ میں دس سال رہے اور ہر سال قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی بروایت حضرت ابن عمر ؓ
Read the full tafseer →(22:34) منسکا۔ النسک کے معنی عبادت کے ہیں اور ناسک عابد کو کہا جاتا ہے مگر یہ لفظ ارکان حج کے ادا کرنے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے۔ منسکا بفتح سین مصدر میمی بمعنی قربانی کرنا۔ اور بکسر میم قربانی کی جگہ یا شریعت، عبادت کا طریقہ۔ آیت ہذا میں اس کا مطلب قربانی کرنا یا قربانی ہے۔ یعنی ہر امت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر کردی ہے۔
آیت (22:67) ولکل امۃ جعلنا منسکا ہم نا سکوہ۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت مقرر کردی ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔
لیذکروا۔ تاکہ وہ ذکر کریں۔ لام تعلیل کا ہے۔ یذکروا مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ اسلموا۔ سلام سے فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم حکم بردار ہو۔ تم تابعداری کرو۔ المخبتین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 38 :
منسکا (قربانی) ‘ بھیمۃ الانعام (بےزبان چوپائے) ‘ المخبتین (عاجزی سے گردن جھکانے والے) ‘ وجلت (ڈرگئی۔ ڈر گئے) ‘ البدن (بدنۃ) (بڑے بدن والا جانور۔ اونٹ) ‘ شعائر (شعیرۃ) (نشانیاں) ‘ صواف (سیدھا کھڑا کرنا۔ تین پاؤں پر کھڑا رہا) ‘ جنوب (جنب) پہلو ‘ القانع (قناعت کرنے والا۔ نہ مانگنے والا) ‘ سخر نا (ہم نے بس میں کردیا۔ مسخر کردیا) ‘ لن ینال ( ہرگز نہ پہنچے گا) ‘ لحوم (لحم) گوشت ‘ دمائ (دم) (خون) ‘ یدافع (وہ دور کرے گا) ‘ خوان (بےایمان۔ دغاباز) ‘ کفور (ناشکرا) ۔
تشریح آیت نمبر 34 تا 38 :
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ایسے نیکو کاروں کو (جنت کی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(ف 1) اوپر قربانی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا : اللہ کے نام پر جانوروں کے ذبح کرنے کا حکم کچھ اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر دین دار امتوں میں بھی اللہ کا یہی حکم تھا تاکہ لوگ اللہ کے دیے ہوئے جانوروں میں سے اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کریں یعنی ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں، اور عقبی کا اجر کمائیں، اور ساری مخلوق کا خدا ایک ہی خدا ہے پس سب کو اسی کا حکم ماننا چاہیے اور اس کے حکم پر اعتراض کسی کو نہیں چاہیے ، پھر فرمایا، اے محبوب ﷺ اگر یہ مشرک لوگ قرآن کی نصیحت کو نہ مانیں تو تم فقط ان لوگوں کو عقبی کی بہبودی کو خوش خبری سنادو، جو اللہ سے ڈرتے اور مشرک ان کو ستاتے ہیں تو اس پر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[32] اونٹ کے ذبح کا بہترین طریقہ نحر ہے۔ اس کو قبلہ رخ کھڑا کر کے اس کے سینے پر زخم لگایا جاتا ہے اور جب بہت سارے اونٹ ہوں تو ان کو ذبح کے لئے قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
(ف 1) شعائر شعیرہ کی جمع ہے ، جس کے معنی ان چیزوں کے ہیں جہیز نشان ہو ، عبادت اور قربانی بمعنی چونکہ خدا پرستی اور خدا دوستی کی نشانیاں ہیں ، اس لئے شعائر سے تعبیر کیا ہے ۔
بعض کوتاہ فہم لوگوں نے قربانی کو عہد وحشت وجاہلیت کی یادگار قرار دیا ہے ، اور کہا ہے کہ اس کی بنیادیں دیوتاؤں سے خوف دہر اس کے تخیل پر قائم ہیں ، یہ محض غلط ہے ۔
اصل میں مذہب ان رسوم کو باقی رکھنے کے حق میں ہوتا ہے جس سے روحانی اور ملی فوائد حاصل ہو سکتے ہوں ، قربانی قدیم قوموں میں بھی رائج تھی ، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور غرباء و مساکین کو پیٹ پھر کر کھلایا جائے اب اگر اس قربانی کو…
Read the full tafseer →(34) اور امم سابقہ میں سے ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان چوپایوں کی قسم کے مخصوص جانوروں اور چوپایوں کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کئے تھے سو لوگو ! تم سب کا معبودِ برحق تو ایک ہی معبود ہے تم سب اسی کے مطیع و فرماں بردار ہو۔ اور اے پیغمبر آپ ان عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی موحد خالص ہو، کسی مکان وغیرہ کو معظم بالذات سمجھنے سے ذرہ برابر شرک کا شائبہ عمل میں نہ ہونے دو ۔
Read the full tafseer →ہدایت کے لئے عبادت کا طریقہ مقرر ہے اور تم جانوروں کے ذبح کے وقت اللہ کا ذکر کرو :
34۔ (منسک) پر ہر عبادت کا طریقہ مراد ہے (منسکا) مخصوص دنوں میں قربانی کرنا اور (منسکا) قربانی کی جگہ اس جگہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے امت مسلمہ ہم نے فقط تم ہی کو یہ قربانی کا طریقہ نہیں بتایا اور سمجھایا بلکہ ساری امتوں کو اس کی تلقین کی گئی اور ہر امت میں یہ تصور موجود ہے ، سب امتیں قربانی کرتی رہی ہیں اور یہ قرب الہی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے ، ایک جانور کی قربانی عبادت کی غرض کیونکر ہو سکتی ہے اس طرح کہ اس میں ایک اللہ کی فرمانبرداری کا تصور پایا جاتا ہے اور یہ بات پہلے کتنی بار عرض کی جا چکی ہے کہ انسان…
Read the full tafseer →Commentary
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا (And for every Ummah We prescribed the act of sacrifice 22:34) The words مَنسَكً and نسَكً means several things in Arabic such as sacrifice of animals, the rites of pilgrimage, and also worship of Allah Ta’ ala. This word has been used in the Qur'an at several places and conveys one of the three meanings. In the present context, the word can carry all the three meanings. Mujahid and some other commentators think that here the word مَنسَكً refers to the sacrifice of the animals in which case the verse would mean that the obligation to offer…
Read the full tafseer →64. This verse implies two things.
(1) Sacrifice has been an essential part of the worship of One Allah in all the revealed religions. In order to inculcate Tauhid, Allah prohibited sacrifice for anyone other than Himself. This was in keeping with the other prohibitions which were made for others than Allah. For instance, prostration before anyone other than Allah, making vows for others than Allah, visiting holy places others than those prescribed by Allah, fasting in the name of others than of Allah, etc., were all prohibited.
(2) The other thing which has been common in all the revealed…
Read the full tafseer →