Al-Hajj 22:33

Al-Hajj · from ayah 33

22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۟۠لَـكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) تک پہنچانا (اور ذبح ہونا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For you the animals marked for sacrifice are benefits for a specified term; then their place of sacrifice is at the ancient House.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 4 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:33

تمہیں ایک وقت مقرر تک اُن (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے پھر اُن (کے قربان کرنے) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) تک پہنچانا (اور ذبح ہونا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان میں تمہارے لئے ایک مقرر وقت تک فائده ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہیں ایک معین وقت تک ان (جانوروں سے) فوائد حاصل کرنے کا حق ہے۔ پھر ان کے حلال ہونے کی منزل اسی قدیم گھر (یعنی خانہ کعبہ) کے آس پاس ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے لیے چوپایوں میں فائدے ہیں ایک مقررہ میعاد تک پھر ان کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمہارے لئے ان (قربانی کے جانوروں) میں مقررہ مدت تک فوائد ہیں پھر انہیں قدیم گھر (خانہ کعبہ) کی طرف (ذبح کے لئے) پہنچنا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہارے لیے ان میں ایک مقرر وقت تک کئی فائدے ہیں، پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ اس قدیم گھر کی طرف ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہیں ان (قربانی کے جانوروں) سے ایک مقررہ وقت تک فائدہ اٹھانے کا حق ہے پھر ان (کے ذبح کرنے) کی جگہ اسی قدیمی گھر (بیت اللہ) کے پاس ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے لئے ان ہدی کے جانوروں میں ایک خاص وقت تک مختلف قسم کی منفعتیں ہیں پھر ان کو قربانی کے لئے قدیم گھر کی طرف لے جاتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تمہارے لئے قربانی کے ان جانوروں میں طرح طرح کے فائدے ہیں ایک مقرر وقت تک پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اس قدیم گھر کے پاس ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارے لئے ان سے فوائد حاصل کرنا (جائز ہیں) ایک مدت معین تک۔ پھر اس (کے ذبح) کا موقع بیت عتیق کے قریب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہارے لیے ان (قربانی کے جانوروں) میں نفع ہے ایک وقت معینّ تک پھر ان کی اصل منزل یہ قدیم گھر ہی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لیے فائدے ہیں پھر ان کو قدیمی گھر تک پہنچنا اور ذبح ہونا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You may derive benefit (from sacrificial animals) until an appointed time. Thereafter their place (of sacrifice) is near the Ancient House.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And for you there are benefits in them (the cattle) up to a specified time. Then their place of sacrifice is by the Ancient House.

— Muhammad Taqi Usmani

And for you there are benefits in them (the cattle) up to a specified time. Then their place of sacrifice is by the Ancient House.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In them are benefits for you for an appointed term, and afterwards they are brought for sacrifice to the `Atiq House.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therein are benefits for you for an appointed term; and afterward they are brought for sacrifice unto the ancient House.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For you the animals marked for sacrifice are benefits for a specified term; then their place of sacrifice is at the ancient House.

— Saheeh International

There are benefits for you in the (sacrificial offerings) of God until the appointed time when you slaughter them as your offering near the Ancient House.

— Muhammad Sarwar

You have advantages in them till a fixed time, then their place of sacrifice is the Ancient House.

— Muhammad Habib Shakir

For you in them are benefits for a term appointed, and thereafter the destination is toward the ancient House.

— Abdul Majid Daryabadi

In them ye have benefits for a term appointed: in the end their place of sacrifice is near the Ancient House.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–33

قربانی کے جانور اور حجاج اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا (بخاری شریف) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ نے دو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 62 پہلی آیت میں شعائر اللہ کے احترام کا عام حکم دینے اور اسے دل کے تقویٰ کی علامت ٹھہرانے کے بعد یہ فقرہ ایک غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ شعائر اللہ میں ہدی کے جانور بھی داخل ہیں، جیسا کہ اہل عرب مانتے تھے اور قرآن خود بھی آگے چل کر کہتا ہے کہ والْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللہِ ، " اور ان بدی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے " اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کا جو حکم اوپر دیا گیا ہے کیا اس کا تقاضا یہ ہے کہ بدی کے جانوروں کو بیت اللہ کی طرف جب لے جانے لگیں تو ان کو کسی طرح بھی استعمال نہ کیا جائے ؟ ان پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، یعنی چوپائے جانوروں سے دودھ، سواری، باربرداری ہر قسم کے منافع حاصل کرنا تمہارے لئے اس وقت تک تو حلال ہے جب تک ان کو حرم مکہ میں ذبح کرنے کے لئے نامزد کر کے ہدی نہ بنا لیا ہو۔ ہدی اسی جانور کو کہتے ہیں جو حج یا عمرہ کرنے والا اپنے ساتھ کوئی جانور لے جائے کہ اس کو حرم شریف میں ذبح کیا جائے گا۔ جب اس کو ہدی حرم کے لئے نامزد اور مقرر کردیا تو پھر اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا بغیر کسی خاص مجبوری کے جائز نہیں جیسے اونٹ کو ہدی بنا کر ساتھ لیا اور خود پیدل چل رہا ہے سواری کے لئے کوئی دوسرا جانور موجود نہیں اور پیدل چلنا اس کے لئے مشکل ہوجائے تو مجبوری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ محل پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ص 439 پر بحث گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے بعد حرف الی اس بات کا قرینہ ہے کہ کوئی لفظ ایسا محذوف مانا جائے جس سے یہ مفہوم پیدا ہو کہ پھر ان کو بیت عتیق کے پاس لے جا کر قربان کرنا ہے مشرکین کی بعض بدعات کی اصلاح مشرکین جب کسی چوپایہ کو ہدیو نیاز کے لئے نامزد کردیتے تو پھر اس سے کسی قسم کا انتفاع ناجائز سمجھتے۔ قرآن نے ان کی اصلاح فرما دی کہ ان شعائر کی تعظیم کے لئے یہ چیز ضروری نہیں ہے۔ اپنیقربانی کے جانوروں کو پالو اور ان سے اس وقت تک فائدہ اٹھائو جب تک ان کی قربانی کا وقت نہ آجائے۔ اس انتقاع سے ان کی حرمت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا البتہ یہ ضروری ہے کہ جب ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 وہ فائدہ، سواری، دودھ، مذید نسل اور اون وغیرہ کا حصول ہے۔ وقت مقرر مراد (ذبح کرنا) ہے یعنی ذبح نہ ہونے تک تمہیں ان سے مذکورہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور سے، جب تک وہ ذبح نہ ہوجائے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ صحیح حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ایک آدمی ایک قربانی کا جانور اپنے ساتھ ہانکے لے جا رہا تھا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اس پر سوار ہوجا، اس نے کہا یہ حج کی قربانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا، اس پر سوار ہوجا۔ (صحیح بخاری) 33۔ 2 حلال ہونے سے مراد جہاں ان کا ذبح کرنا حلال ہوتا ہے۔ یعنی یہ جانور، مناسک حج کی ادائیگی کے بعد، بیت اللہ اور حرم مکی میں پہنچتے ہیں اور وہاں اللہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

20: یعنی جب تک تم نے ان جانوروں کو حج کی قربانی کے لیے خاص نہ کرلیا ہو، اس وقت تک تم ان سے ہر طرح کے فوائد حاصل کرسکتے ہو، ان پر سواری کرنا بھی جائز ہے، ان کا دودھ پینا بھی ان کے جسم سے اون حاصل کرنا بھی، لیکن جب انہیں حج کے لیے خاص کرلیا گیا تو پھر ان میں سے کوئی کام جائز نہیں رہتا۔ اس کے بعد تو انہیں بیت اللہ کے آس پاس یعنی حدود حرم میں ذبح کر کے حلال کرنا ہی واجب ہے۔ اور حج کے لیے خاص کرنے کی مختلف علامتیں ہیں جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–33

ذلک ومن یعظم ……البیت العتیق (33) یہاں حاجیوں کی قربانیوں اور دلوں کے تقویٰ کے درمیان تعلق بتایا گیا ہے کہ حج کے تمام شعائر ، تمام مناسک اور تمام حرکات سے بڑا مقصد دلوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرنا ہے۔ بذات خود یہ مناسک اور شعائر کوئی چیز نہیں۔ اصل چیز وہ غرض وغایت ہے جو ان سے حاصل کرنا مطلوب ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کیا جائے۔ ان شعائر اور مناسک کے اندر وہ یادیں ہیں جن کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد کے زمانے سے ہے اور ان کا اصل مقصد اطاعت الٰہی ہے ، توجہ الی اللہ ہے اور جب سے یہ امت پیدا کی گئی اس میں اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے دو ہی راستے ہیں :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 قدیم گھر بیت اللہ شریف ہے اور یہاں شاید توسعًا سارا حرم مراد ہو، یعنی اونٹ، گائے، بکری وغیرہ سے تم بہت فوائد حاصل کرسکتے ہو۔ مثلاً سواری کرو، دودھ پیو، نسل چلاؤ، اُون وغیرہ کو کام میں لاؤ، مگر یہ اس وقت کہ ان کو ہدی نہ بناؤ۔ " ہدی " بننے کے بعد اس قسم کا انتفاع (بدون شدید ترین ضرورت کے) نہیں کرسکتے۔ اب تو اس کا عظیم الشان اخروی فائدہ یہ ہی ہے کہ کعبہ کے پاس لیجا کر خدا تعالیٰ کے نام پر قربان کردو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 لَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی ” یعنی قربانی کے جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ مثلاً ان پر سواری کی جاسکتی ہے ‘ ان کی اون وغیرہ کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے ‘ دودھ پیا جاسکتا ہے اور اس طرح کے دوسرے فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ثُمَّ مَحِلُّہَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ” یعنی پھر قربانی کے دن ان جانوروں کو لے جا کر بیت اللہ میں پیش کرنا ہے۔ اصل ”مَنْحَر“ قربان گاہ تو بیت اللہ ہی ہے ‘ مگر اسے منیٰ تک وسعت دے دی گئی ہے۔ پرانے زمانے میں قربان گاہ مروہ کی پہاڑی کے پاس ہوا کرتی تھی اور منیٰ کے جس علاقے میں آج کل قربانی کی جاتی ہے وہ بھی دراصل اسی وادی میں شامل ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 یہ مقررہ وقت وہ وقت ہے جب قربانی کا جانور حرم کی حدود میں یا مذبح میں پہنچ جائے۔ اس سے ان قربانی کے جانوروں سے یہی کئی طرح کے فائدے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً بوقت ضرورت ان پر سوار ہونا، ان کا دودھ دوہنا، ان کی اون حاصل کرنا ان سے نسل چلانا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اسی سورة کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 17 سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کا جانور ہانکنے والے ایک شخص کو اس پر سوار ہوجانے کا تاکید سے حکم دیا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانوروں سے فائدہ حاصل کرنا تعظیم کے منافی نہیں بلکہ تعظیم کا تعلق دل سے ہے۔ دل میں ان اشیاء کی محبت اور قدر ضرور ہونی چاہئے۔ نیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50۔ یعنی جب تک وہ جانور، بہ قاعدہ شرعی ،” ہدی “ نہ بنا دیا جائے، اس جانور سے اور کام لینا، مثلا اس پر سواری، باربرداری، دودھ وغیرہ سب جائز ہیں۔ 51۔ یہاں بیت العتیق سے مراد کل حرم ہے۔ یعنی ذبح کی جگہ حدود حرم کے اندر ہے، اس سے باہر نہیں۔ (آیت) ” البیت العتیق “ کے لفظی معنی کے لیے ملاحطہ ہو حاشیہ 44۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–33

آیت نمبر 26 تا 33 ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لکم فیہا منافع الی اجل مسمی تمہارے لئے ایک مقررہ وقت تک ان میں منافع (حاصل کرنے جائز) ہیں۔ یعنی قربانی کے نام زد اونٹوں پر بغیر ایذا پہنچائے سوار ہونا ‘ بوجھ لادنا اور ان کا دودھ پینا تمہارے لئے جائز ہے اور ذبح ہونے کے وقت تک یہ عمل جائز ہے۔ عطاء بن رباح امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) امام احمد (رح) اور اسحاق (رح) نے آیت کا یہی مطلب بیان کیا ان حضرات کا مسلک ہے کہ قربانی کے نامزد اونٹوں اونٹنیوں پر سوار ہونا ‘ بوجھ لادنا اور ان کا دودھ پینا بشرطیکہ اس عمل سے ان کو ایذا نہ پہنچے جائز ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ (خود پیدل چل رہا تھا اور) قربانی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) تمہیں ان جانوروں سے ان پر سواری کر کے اور ان کے دودھ سے فوائد حاصل کرنا جائز ہے جب تک کہ شرعی قاعدے سے تم ان کو قربانی کے لئے وقف نہ کردو اور پھر اس کے حلال ہونے کا موقع بیت عتیق کے قریب ہیں یعنی کل حرم کہ حج کی قربانی منی میں ذبح کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى : فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا، ان سے نسل اور اون حاصل کرنا ہے، اسی طرح ان کے گوبر وغیرہ کو ایندھن یا کھاد کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ مشرکین جس طرح قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اسی طرح قربانی کے جانوروں سے اون، دودھ یا سواری وغیرہ کا فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں سے اس وقت تک فائدہ اٹھانا جائز ہے جب تک انھیں قربانی کے لیے نامزد نہ کیا جائے، اس کے بعد سواری یا دودھ یا اون کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ”شعائر اللہ“ سے فائدہ اٹھانا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–33

اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک، اس میں تین وجوہ ہیں۔ بعض نے کہا : مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے تقدیریوں ہوگی۔ ذالک امر اللہ۔ یہ بھی جائئز ہے کہ مببتدا مخذوف کی خببر کی حیثیت سے مرفوع ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ محل نصب میں ہو یعنی اتبعوا ذالک۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یعظم شعآئر اللہ، الشعائر جمع ہے۔ شعیرہ کی۔ ہر دو چیز جس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی امر ہو جس سے وہ جانا پہنچانا جائئے اسی سے جنگ میں قوم کا شمار ہوتا ہے، یعنی ان کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں اسی سے اشعار البدن ہے اونٹ کی دائیں طرف میں نیزہ مارا جاتا ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–34

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے اونٹ (یعنی قربانی کے جانور ) 2۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے کہ (قربانی کے جانوروں کا) موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کا احترام کرنا۔ آیت لکم فیہا منافع الی اجل مسمی یعنی ان کو بد نہ کہنے تک۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذالک ومن یعظم شعائر اللہ تعظیم سے مراد ہے قربانی کے جانوروں کا خوب موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور ان کو اچھے طریقے سے رکھنا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [ فِيْهَا : ان (چوپایوں) میں ] [ مَنَافِعُ : کچھ فائدہ اٹھانے کی چیزیں ہیں ] [ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ مدت تک ] [ ثُمَّ مَحِلُّهَآ : پھر ان (چوپایوں) کی منزل ] [ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : اس قدیم گھر کی طرف ہے ] نوٹ۔ 1: اہل عرب ہدی کے جانوروں کو بیت اللہ کی طرف جب لے جاتے تھے تو ان سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا، جیسے سواری کرنا، سامان لادنا، دودھ پینا وغیرہ، ان کے نزدیک گناہ تھا۔ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے آیت۔ 33 ۔ میں فرمایا کہ ایک مقررہ مدت تک تم ان جانوروں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ ایسا کرنا تعظیم شعائر اللہ کے خلاف نہیں ہے۔ مقررہ مدت کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی) (ان جانوروں میں تمہارے لیے ایک وقت مقرر تک منافع ہیں) یعنی جن جانوروں کو حج یا عمرہ میں ذبح کرنے کے لیے متعین فرما دیا تو اب ان سے نفع حاصل نہ کیا جائے اس سے پہلے ان کا دودھ پینے اور اس پر سواری کرنا اور ان کا اون کاٹ کر کام میں لانا جائز تھا جب اس کے لیے جہت تقرب معین کردی کہ وہ حج یا عمرہ میں ذبح کیے جائیں گے تو اب اس سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔ زمانہ قدیم میں ھدی کے جانور ساتھ لے جایا کرتے تھے اور انہیں مکہ مکرمہ میں یا منیٰ میں ذبح کیا کرتے تھے حج تمتع والا شخص جو جانور ساتھ لے جاتا تھا کتب فقہ میں اسے متمتع سائق الھدی کے عنوان سے ذکر کیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–38

مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45:۔ ” ثُمَّ مَحَلُّھَا الخ “ محل مصدر میمی ہے بمعنی وجوب یا ظرف زمان یعنی وقت ذبح۔ البیت العتیق سے بیت اللہ شریف مراد ہے یعنی بیت اللہ کے ہدایا کو بیت اللہ کے پاس منی وغیرہ میں لے جا کر اللہ کے نام پر ذبح کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–33

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی تعمیر وتجدید کا ذکر فرمایا تھا۔ بیت اللہ شریف کی عمارت طوفان میں مٹ چکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے اس کی دوبارہ تعمیرکروائی اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) سے اعلان حج کروایا اور اس بات کی ذمہ داری خود اٹھائی کہ اس اعلان کو قیامت تک آنے والی نسلوں تک پہنچائے گا۔ اللہ نے یہ پیشن گوئی بھی فرمائی کہ اس اعلان کے جواب میں لو گ دور دراز علاقوں سے پیادہ اور سوار حج کے لئے آئیں گے اور اس سفر سے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کریں گے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مویشیوں کو اللہ کا نام لے کر اس کی راہ میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَكُمْ فِيْہَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّہَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ۝ 33ۧ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( نع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–33

1 ؎۔ شعائر جمع شعیرۃ اوشاعرۃ بالکسر ومنہ شعار القوم اے علامتھم فی الحرب فشعائر اللہ اعلام دینیہ۔ 12 منہ۔ شعائر علامات اور نشان جو امتیاز کے لیے ہر قوم اور ہر شخص کے لیے مخصوص ہوتے ہیں خدا کے شعائر اس کے وہ عبادت کے خاص دستورات جو اس نے فرمانبردار قوم کے امتیاز کے لیے مقرر کردیے ہیں ان کی پابندی دلی پرہیز گاری ہے۔ قومی اور ملکی نشانوں کو ہلکا جان کر ترک کرنا ایک طرح کا فسق اور بدکاری ہے کس لیے کہ ان کے ترک کرنے سے قوم قوم نہیں رہتی شیرازہ قائم نہیں رہتا بعض بےباک طبائع ان کو فضول جانتی ہیں اور کہتی ہیں کہ دل میں خدا پرستی ہونی چاہیے اس کو جواب میں فرمایا کہ یہ بھی دلی پرہیزگاری سے متعلق ہے اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۔ (الحج : 33) (تمھارے لیے مویشیوں میں طرح طرح کے فوائد ہیں ایک معین مدت تک، پھر ان کے قربان کرنے کا مقام بیت عتیق کے پاس ہے۔ ) ھدی سے متعلق ضروری ہدایات گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کا بطور نعمت ذکر فرمایا ہے جن کا عطا فرمانے والا صرف اللہ ہے۔ انسان اپنی ضروریات کے مطابق ان کا گوشت بھی کھاتا ہے، دودھ بھی پیتا ہے اور ان کی اون اور کھال سے نفع بھی اٹھاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں، وہ اس لیے عطا فرمائی ہیں تاکہ انسان ان سے نفع اٹھائے اور پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–34

فہم القرآن ربط کلام : دل کے تقویٰ کا تقاضا ہے کہ شعاء اللہ کا احترام کیا جائے۔ شعائر اللہ کا وہی احترام کرے گا جو اپنے ” اللہ “ کے سامنے قلباً اور عملاً عاجزی کرنے والا ہوگا۔ اللہ کے حضور انسان جب کسی جانور کی قربانی پیش کرتا ہے تو اس میں نیت رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ دین اسلام کی خوبیوں میں ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر کام میں آخرت کے اجر کے ساتھ دنیا کا فائدہ پایا جاتا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ اصول تھا کہ قربانی پیش کرنے والا اس کا گوشت نہیں کھا سکتا تھا۔ لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اس نے نہ صرف ہمیں قربانی کا گوشت کھانے کی اجازت عنایت فرمائی ہے بلکہ ہم قربانی کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33: لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ (اور تمہارے لیے ان میں منافع ہیں) مثلاً ضرورت کے وقت سواری، ضرورت کے وقت دودھ کا استعمال اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مقررہ وقت تک) ذبح ہونے تک ثُمَّ مَحِلُّھَآ (پھر انکا مقام ذبح) پھر ان کی قربانی کے واجب ہونے کا وقت ختم ہونے والا ہے۔ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ (قدیم گھر کی طرف) اس سے مراد اس کا ذبح کرنا حدود حرم میں ہے جس کا حکم بیت اللہ والا ہے کیونکہ حرم تو بیت اللہ کے حریم ہی کو کہا جاتا ہے جیسا کہ محاورہ میں کہتے ہیں بلغت البلد حالانکہ تم تو اس کی حدود میں پہنچے۔ دوسر اقول الشعائر سے تمام مناسک حج مراد ہیں۔ اور ان کی تعظیم سے مراد ان کی تکمیل ہے۔ مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33۔ لکم فیھا ، اس قربانی میں ہدی سے پہلے نام کرنے سے ، منافع ، بہت سارے منافع ہیں، یعنی ان پر سوار ہونا ان کی نسل بڑھانا اور ان کے اون اور ان پر بوجھ لادنا، وغیرہ کے کاموں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ الی اجل مسمی، ان کو نام رکھنے ، قربانی کا جانور مقرر کرنے سے پہلے) اور ان کو ہدیہ کے لیے واجب کرنے سے، جب تم اس جانور کو اس کام کیلیے متعین کردو تو پھر اس سے یہ منافع حاصل نہیں ہوسکتے۔ یہ مجاہد کا قول ہے اور یہی قتادہ ک اورضحاک کا قول ہے اور یہی روایت مقسم نیابن عباس ؓ سے نقل کی ہے۔ عطاء بن ابی رباح، امام مالک اور مام شافعی ، امام احمد اور اسحاق نے آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ ان حضرات کا مسلک ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–33

32۔ 33:۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ رمضان کے مہینے میں عمرہ حج کے ثواب کے برابر ہے ‘ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت میں 3 ؎ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے رجب میں عمرہ ادا کیا۔ بیہقی میں حضرت علی ؓ کی صحیح روایت 4 ؎ میں ہے کہ عمرہ کا احرام ہر ایک مہینے میں جائز ہے۔ بخاری میں بغیر سند کے معلق طور پر اور صحیح ابن خزیمہ ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مع سند کے روایت ہے ‘ جس میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں 1 ؎‘ اللہ کے رسول کی سنت یہی ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں میں باندھا جائے ‘ بخاری میں معلق طور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–33

آیت 32 یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائر کی تعظیم جس کا ہم نے تمہارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں۔ انہی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان الصفا و المروٓ من شعآئر اللہ) (البقآ : 2 /851) ” صفا اور مردہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ “ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قربانی کے اونٹ کی سواری کا بیان قول باری ہے (لکم فیھا منافع الی اجل مسمی تمہیں ایک وقت مقرر تک ان (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے) حضرت ابن عباس، ابن عمر مجاہد اور قتادہ کا قول ہے ۔ تمہیں ان جانوروں کے دودھ ا ن کی اون اور ان کی سواری سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے یہاں تک کہ انہیں قربانی کے لئے مقرر کردیا جائے۔ پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔ “ محمد بن کعب القرظی سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ۔ عطاء کا قول ہے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ ان کی قربانی کردی جائے۔ عروہ بن الزبیر کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اور آپ کے ہم مسلک حضرات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

69 قربانی کی جانوروں سے منافع حاصل کرنے کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے لیے قربانی کے ان جانوروں میں کئی فائدے ہیں ایک مقررہ وقت تک "۔ یعنی ان کے نحر و ذبح تک۔ (محاسن التاویل وغیرہ) اور ان مختلف منافعوں اور طرح طرح کے فائدؤں میں ان کے دودھ ان کی روؤں اور بالوں اور حسب ضرورت ان کی سواری وغیرہ کے سب منافع اور فائدے شامل ہیں۔ جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں حضرت انس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ کو لے جا رہا ہے تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا " ارکبہ " ۔ " اس پر سوار ہوجاؤ " ۔ تو اس نے کہا " اِنَّہَا بُدْنَۃٌ " ۔ " یہ تو قربانی کا جانور ہے " ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا " اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–36

اعلان حج تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–33

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا اور ان کی نسل اور اون وغیرہ کو استعمال میں لانا ہے۔ معین میعاد سے مراد ان کی قربانی کا وقت ہے۔ (فتح القدیر) 2 ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ھدیا بالغ الکعبۃ۔ یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ (مائدہ : ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حدود حرم ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ” محلھا “ میں ” ھا “ ضمیر سے مرادسارے شعائر ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ یعنی زیادہ انسب ہیں ورنہ خصوصیت کے ساتھ ” بیت عتیق “ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:33) فیھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کیا ہے اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اس کا مرجع بھیمۃ الانعام (آیہ 28) ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان جانوروں سے تم فائدہ اٹھا سکتے ہو ان کا دودھ پی سکتے ہو، ان پر سواری کرسکتے ہو، ان سے بچے لے سکتے ہو، ان کا گوشت کھا سکتے ہو۔ ان کی اون اور کھال سے نفع اٹھا سکتے ہو لیکن الی اجل مسمی ایک مقررہ وقت تک ۔ یعنی جب تم ان کو حرم شریف میں قربانی دینے کے لئے مقرر کردو تو پھر تم ان سے یہ منافع حاصل نہیں کرسکتے۔ لا یجوز رکوبھا ولا الحمل علیھا ولا شرط لبنھا الابضرورۃ (امام ابوحنیفہ) یعنی قربانی کے جانوروں پر سوار ہونا۔ بوجھ لادنا۔ اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–33

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 : بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–33

قربانی اور اس کے ثواب وآداب کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جو شخص خدا کی نشانیوں کی تعظیم سمجھتا ہے یہ اس کی پرہیزگاری کی علامت ہے آگے مطلب یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کو عرب اپنے ساتھ کعبہ شریف میں لایا کرتے تھے یا پہلے بھیج دیتے تھے اور ایسے جانوروں کو اکثر ان میں اونٹ ہوا کرتے تھے ان جانوروں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے ان میں ہر طرح کے فائدے ہیں ان پر بوقت ضرورت سوار ہولیا کروبوقت حاجت ان کا دودھ پی لیا کرو، ضرورت کے وقت بوجھ لاد دیاکرو، ان کے اون اور بال کام میں لے آیاکرو، یہ فوائد تم کو ذبح کے وقت تک حاصل رہیں گے پھر اس کے ذبح کی جگہ بیت العتیق یعنی حرم شریف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] یعنی ذبح کے وقت تک۔ [31] یعنی وقت ضرورت ان پر سوار ہونے اور وقت حاجت ان کا دودھ پینے کی اجازت ہے۔ اہل عرب سمجھتے تھے کہ قربانی کے جانوروں کو سواری کے لئے استعمال نہ کرنا اور ان کا دودھ نہ پینا چاہئے۔ یہاں اسی غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–36

(ف 1) شعائر شعیرہ کی جمع ہے ، جس کے معنی ان چیزوں کے ہیں جہیز نشان ہو ، عبادت اور قربانی بمعنی چونکہ خدا پرستی اور خدا دوستی کی نشانیاں ہیں ، اس لئے شعائر سے تعبیر کیا ہے ۔ بعض کوتاہ فہم لوگوں نے قربانی کو عہد وحشت وجاہلیت کی یادگار قرار دیا ہے ، اور کہا ہے کہ اس کی بنیادیں دیوتاؤں سے خوف دہر اس کے تخیل پر قائم ہیں ، یہ محض غلط ہے ۔ اصل میں مذہب ان رسوم کو باقی رکھنے کے حق میں ہوتا ہے جس سے روحانی اور ملی فوائد حاصل ہو سکتے ہوں ، قربانی قدیم قوموں میں بھی رائج تھی ، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور غرباء و مساکین کو پیٹ پھر کر کھلایا جائے اب اگر اس قربانی کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) تمہارے لئے ان چوپایوں سے ایک مقررہ وقت تک فائدہ حاصل کرنے کی اجازت ہے پھر جب تم نے ان کو قربانی کے لئے نام زد کردیا تو ان کو قدیم گھر کے پاس پہنچ کر حلال ہونا ہے۔ یعنی ان چوپایوں سے تمہارے مختلف منافع ہیں۔ دودھ پینا، بار برداری کا کام لینا وغیرہ۔ لیکن جب ان کو ہدی بنالو ہدی ہونے کے بعد پھر ان کو حرم لے جاکر اللہ کے نام پر ذبح کردینا ہے۔ بیت عتیق خانہ کعبہ کو کہتے ہیں یہ نام یا تو قدامت کی وجہ سے ہے یا ظالم اور جابر حکمرانوں سے اس کو بچانے اور آزاد رکھنے کی وجہ سے ہے یہاں مراد پورا حرم ہے ہدی بنانے سے پہلے ہر قسم کے فوائد حاصل کرنے جانور سے جائز ہیں لیکن ہدی مقرر کرنے کے بعد سوائے کسی اشد…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان جانوروں میں مقررہ وقت تک تمہارے لئے فائدہ ہے اور انجام کار قربان کرنا بھی : 33۔ شعائر اللہ کی تعظیم و تکریم بیان کرنے کے بعد لوگوں کو اس طرح کی وہم پرستی سے بچانے کے لئے جس طرح کی وہم پرستی میں شرک پسند مبتلا ہوجاتے ہیں قرآن کریم نے حقیقی اور اصلی تعظیم کی وضاحت فرما دی تاکہ اس وہم پرستی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے فرمایا ” ان جانوروں میں “ جن کو تم نے بیت اللہ میں لے جا کر قربان کرنے کے لئے مختص کردیا ہے اور ان کی خدمت کرکے ان کو خوب فربہ اور عمدہ بنانے کی کوشش کی ہے ” ایک مقررہ وقت تک تمہارے لئے فائدے ہیں “ اور ظاہر ہے کہ وہ مقررہ وقت وہی ہے جو ذوالحجہ کی دس تاریخ منی میں قربانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى (And for you there are benefits in them upto a specified time - 22:33). It means that it is lawful for the Muslims to use the quadruped animals for their benefit (such as using their milk, riding them or using them for transport of goods) unless the animals have been made ھَدِی (Hady) by reserving them for sacrifice to be offered within the precincts of haram. When a person takes along with him an animal for the specific purpose of sacrificing it within haram, the animal is described as hady, and no benefit may be derived from it, except in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

62. This is to remove the misunderstanding about getting any benefit from the animals dedicated for sacrifice as they were also included in the symbols of Allah. This was necessitated because the Arabs believed that it was unlawful to get any benefit from them. One could neither ride on them nor carry any load on them nor consume their milk, after they had been dedicated for sacrifice during Hajj. In this verse that misunderstanding has been removed. Abu Hurairah and Anas have reported that the Prophet (peace be upon him) saw a man walking in a miserable condition on foot leading his camel by…

Read the full tafseer →