Explained with ayahs 32–33
قربانی کے جانور اور حجاج
اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا (بخاری شریف) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ نے دو…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 60
یعنی خدا پرستی کی علامات، خواہ وہ اعمال ہوں جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ، یا اشیاء ہوں جیسے مسجد اور ہدی اونٹ وغیرہ۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، المائدہ، حاشیہ 5۔
سورة الْحَجّ 61
یعنی یہ احترام دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کے دل میں کچھ نہ کچھ خدا کا خوف ہے جبھی تو وہ اس کے شعائر کا احترام کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر کوئی شخص جان بوجھ کر شعائر اللہ کی ہتک کرے تو یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اس کا دل خدا کے خوف سے خالی ہوچکا ہے، یا تو وہ خدا کا قائل ہی نہیں ہے، یا ہے تو اس کے مقابلے میں باغیانہ روش اختیار کرنے پر اتر آیا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ ، شعائر شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنے علامت کے ہیں جو چیزیں کسی خاص مذہب یا جماعت کی علامات خاص سمجھی جاتی ہوں وہ اس کے شعائر کہلاتے ہیں شعائر اسلام ان خاص احکام کا نام ہے جو عرف میں مسلمان ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ حج کے اکثر احکام ایسے ہی ہیں۔
مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ ، یعنی شعائر اللہ کی تعظیم دل کے تقویٰ کی علامت ہے ان کی تعظیم وہی کرتا ہے جس کے دل میں تقویٰ اور خوف خدا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ کا تعلق اصل میں انسان کے دل سے ہے جب اس میں خوف خدا ہوتا ہے تو اس کا اثر سب اعمال افعال میں دیکھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →شعائر کی تعظیم کے لئے اصل شرط
یہ ذلک بھی اسی طرح کا ہے جیسا کہ اوپر آیت 30 میں گزرا یعنی اوپر جو باتیں بتائی گئیں ان کو اچھی طرح سن لو اور ان کو گرہ کرو اور مزید برآں یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ اللہ نے جو شعائر مقرر فرمائے ہیں ان کی تعظیم کا حق محض ظاہر داری سے ادا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لئے دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ شعائر، جیسا کہ ہم بقرہ 158 ان الضفا والمردۃ من شعآئر اللہ کے تحت واضح کرچکے ہیں کسی عظیم حقیقت کے نشان اور مظہر کے طور پر مقرر ہوئے ہیں۔ ان سے اصل مقصود انہی حقائق کی تذکیر و تذکر ہے جو ان کے اندر مضمر ہیں اگر ان حقائق کا اہتمام باقی نہ رہ جائے تو محض ظاہری رسم داری سے شعائر کی تعظیم کا…
Read the full tafseer →32۔ 1 شعائر شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں علامت اور نشانی کے ہیں جیسے جنگ میں ایک شعار (مخصوص لفظ بطور علامت) اختیار کرلیا جاتا ہے جس سے وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچانتے ہیں اس اعتبار سے شعائر اللہ وہ ہیں، جو جو اسلام کے نمایاں امتیازی احکام ہیں، جن سے ایک مسلمان کا امتیاز اور تشخص قائم ہوتا ہے اور دوسرے اہل مذاہب سے الگ پہچان لیا جاتا ہے، صفا، مروہ پہاڑیوں کو بھی اس لئے شعائر اللہ کہا گیا ہے کہ مسلمان حج و عمرے میں ان کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ یہاں حج کے دیگر مناسک خصوصاً قربانی کے جانوروں کو شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ اس تعظیم کو دل کا تقوٰی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی دل کے ان افعال سے جن کی بنیاد…
Read the full tafseer →19: شعائر کے معنی ہیں وہ علامتیں جن کو دیکھ کر کوئی دوسری چیز یاد آئے۔ اللہ تعالیٰ نے جو عبادتیں واجب قرار دی ہیں، اور خاص طور پر جن مقامات پر حج کی عبادت مقرر فرمائی ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کے شعائر میں داخل ہیں، اور ان کی تعظیم ایمان کا تقاضا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ذلک ومن یعظم ……البیت العتیق (33)
یہاں حاجیوں کی قربانیوں اور دلوں کے تقویٰ کے درمیان تعلق بتایا گیا ہے کہ حج کے تمام شعائر ، تمام مناسک اور تمام حرکات سے بڑا مقصد دلوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرنا ہے۔ بذات خود یہ مناسک اور شعائر کوئی چیز نہیں۔ اصل چیز وہ غرض وغایت ہے جو ان سے حاصل کرنا مطلوب ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کیا جائے۔ ان شعائر اور مناسک کے اندر وہ یادیں ہیں جن کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد کے زمانے سے ہے اور ان کا اصل مقصد اطاعت الٰہی ہے ، توجہ الی اللہ ہے اور جب سے یہ امت پیدا کی گئی اس میں اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے دو ہی راستے ہیں :…
Read the full tafseer →5 یعنی شعائر اللہ کی تعظیم شرک میں داخل نہیں۔ جس کے دل میں پرہیزگاری کا مضمون اور خدائے واحد کا ڈر ہوگا وہ اس کے نام لگی چیزوں کا ادب ضرور کرے گا۔ یہ ادب کرنا شرک نہیں بلکہ عین توحید کے آثار میں سے ہے کہ خدا کا عاشق ہر اس چیز کی قدر کرتا ہے جو بالخصوص اس کی طرف منسوب ہوجائے۔
Read the full tafseer →آیت 32 ذٰلِکَق وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ”
شعائر کی واحد ”شعیرہ“ ہے۔ لغوی اعتبار سے اس لفظ کا تعلق ”شعور“ سے ہے۔ اس مفہوم میں ہر وہ چیز ”شعائر اللہ“ میں سے ہے جس کے حوالے سے اللہ کی ذات ‘ اس کی صفات اور اس کی بندگی کا شعور انسان کے دل میں پیدا ہو۔ اسی حوالے سے سورة البقرۃ میں صفا اور مروہ کو بھی شعائر اللہ کہا گیا ہے : اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ج آیت 158۔ چناچہ خود بیت اللہ ‘ مقام ابراہیم ‘ صفا اور مروہ سب شعائر اللہ میں شامل ہیں۔
Read the full tafseer →50 یعنی جس شخص کے دل میں اللہ کا تقویٰ اور اللہ کی محبت جاگزیں ہو وہ ان چیزوں کا ضرور ادب کرے گا جو اس کے نام سے منسوب ہیں یا جنہیں شعائر اللہ کہا جاتا ہے۔ ان چیزوں کی توہین یا بےحرمتی، بےادبی وہی شخص کرسکتا ہے۔ جس کے دل میں نہ اللہ کا خوف ہو اور نہ اس کی محبت ہو۔ واضح رہے کہ اللہ کے نام منسوب کردہ اشیاء کی تعظیم باادب کرنا شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے۔ شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کے نام منسوب کردہ چیزوں کا ایسے ہی ادب و احترام کیا جائے جیسا کہ اللہ کی طرف منسوب اشیاء کا کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →49۔ (آیت) ” شعآئر اللہ “۔ سے یہاں خاص طور پر قربانیاں مراد ہیں۔ مطلب یہ کہ احکام الہی کی عام تعظیم واحترام کا کلیہ تو بیان ہوچکا۔ اب تاکیدی حکم قربانیوں کے باب میں دیا جارہا ہے۔ اوپر شرک کی مذمت بار بار ہوچکی تھی۔ اس آیت نے اسے کھول دیا کہ شرک بری چیز ہے لیکن غیر اللہ کی تعظیم بری نہیں۔ بلکہ جو چیزیں اللہ کی جانب منسوب ومنتسب ہیں ان کی تعظیم و تکریم تو عین جزء دین ہیں۔ فقہاء نے کہا کہ تعظیم غیر اللہ مستقلا ممنوع وناجائز ہے۔ لیکن بہ لحاظ نسبت و تقرب ذات الوہیت جائز ومشروع ہے بعض عارفوں نے یہاں سے دو مسئلہ نکالے ہیں، ایک یہ کہ تقوی کا اصل محل قلب ہے۔ دوسرے یہ کہ شعائر دین کی (جن کے اندر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
آیت نمبر 26 تا 33
ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…
Read the full tafseer →ذلک (حقیقت) یہی ہے۔
ومن یعظم شعآئر اللہ فانہا من تقوی القلوب۔ اور جو شخص دین خداوندی کی ان (مذکورہ)
یادگاروں کا پورا لحاظ رکھتا ہے تو اس کا یہ لحاظ رکھنا دلوں کے اندر (بیٹھے ہوئے) خوف خدا کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا شَعَآءِرَ اللّٰہِسے مراد وہ اونٹ اور قربانی کے جانور ہیں جو قربانی کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ یہ لفظ اشعار سے ماخوذ ہے ‘ اشعار کا معنی نشانی بنا دینا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور تعظیم شعائر سے مراد ہے قربانی کے جانوروں کو موٹا کرنا۔ صحیح روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سو اونٹوں کی قربانی کی تھی۔
ابو داؤد کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے ایک بختی…
Read the full tafseer →(32) یہ بات بھی ہوچکی یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے اس کے لیے تباہی اور دوری ہے اب یہ سنو کہ جو شخص مناسک حج کا پورا لحاظ کرے گا اور سب سے اچھی اور عمدہ قربانی کرے گا تو یہ عمدہ قربانی قلوب کی اور آدمی کے خلوص سے حاصل ہوگی۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ۔۔ :”ذٰلِكَ“ کی تفسیر آیت (30) میں ملاحظہ فرمائیں۔”شَعَاۗىِٕرَ“ ”شَعِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے، اسم فاعل بمعنی ”مُشْعِرَۃٌ“ ہے، جس سے کسی چیز کا شعور ہو (نشانیاں) ، یعنی وہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا شعور دلانے کے لیے مقرر کر رکھی ہیں، جو شخص ان کی تعظیم کرے گا تو اس کا باعث دلوں کا تقویٰ ہے، یعنی جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہوگا وہ ان کی تعظیم ضرور کرے گا۔ ہر وہ چیز جس کی زیارت کا اللہ نے حکم دیا ہے یا اس میں حج کا کوئی عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ ”شعائر اللہ“ میں داخل ہے۔ قربانی کے جانور بھی ”شعائر اللہ“ میں داخل ہیں، چناچہ فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک، اس میں تین وجوہ ہیں۔ بعض نے کہا : مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے تقدیریوں ہوگی۔ ذالک امر اللہ۔ یہ بھی جائئز ہے کہ مببتدا مخذوف کی خببر کی حیثیت سے مرفوع ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ محل نصب میں ہو یعنی اتبعوا ذالک۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یعظم شعآئر اللہ، الشعائر جمع ہے۔ شعیرہ کی۔ ہر دو چیز جس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی امر ہو جس سے وہ جانا پہنچانا جائئے اسی سے جنگ میں قوم کا شمار ہوتا ہے، یعنی ان کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں اسی سے اشعار البدن ہے اونٹ کی دائیں طرف میں نیزہ مارا جاتا ہے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے اونٹ (یعنی قربانی کے جانور )
2۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم شعائر اللہ سے مراد ہے کہ (قربانی کے جانوروں کا) موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کا احترام کرنا۔ آیت لکم فیہا منافع الی اجل مسمی یعنی ان کو بد نہ کہنے تک۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذالک ومن یعظم شعائر اللہ تعظیم سے مراد ہے قربانی کے جانوروں کا خوب موٹا کرنا ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور ان کو اچھے طریقے سے رکھنا…
Read the full tafseer →[ ذٰلِكَ : یہ ہے ]ۤ [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّعَظِّمْ : تعظیم کرتا ہے ] [ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ : اللہ کا شعور حاصل کرنے کی علامتوں کی ] [ فَانهَا : تو یقینا یہ ] [ مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ : دلوں کے تقوٰی میں سے ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا ذلک (یہ بات اسی طرح سے ہے) (وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ) (اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو بلاشبہ یہ قلوب کے تقوی کی بات ہے) اس سے پہلے اللہ کی حرمات کی تعظیم کی فضیلت بیان فرمائی۔ اس کے بعد اللہ کے شعائر کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص ان کی تعظیم کرے گا اس کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ تعظیم کرنا قلوب کے تقوی کی وجہ سے ہے یعنی جن لوگوں میں تقوی ہے وہی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہیں حرمات میں شعائر بھی داخل ہے ان کی مزید اہمیت فرمانے کے لیے مستقل طور پر علیحدہ حکم دیا ہے۔
سورة بقرہ میں فرمایا ہے (اِنَّ الصَّفَا وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →44:۔ ” ذَالِکَ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ الخ “ ذَالِکَ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے یا مفعول ہے اور اس کا ناصب محذوف ای ذالک امر اللہ او اتبعوا ذالک (قرطبی) بطور تاکید اللہ تعالیٰ کی نذر و منت کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے اور شعائر سے اللہ تعالیی کی نذر و منت کی قربانیاں اور ہدایا مراد ہیں۔ ای البدن الھدایا کما روی عن ابن عباس و مجاھد و جماعۃ واطلقت علی البدن الھدایا لانھا من معالم الحج او علامات طاعتہ تعالیٰ وھدایتہ (روح ج 17 ص 150) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی تعمیر وتجدید کا ذکر فرمایا تھا۔ بیت اللہ شریف کی عمارت طوفان میں مٹ چکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے اس کی دوبارہ تعمیرکروائی اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) سے اعلان حج کروایا اور اس بات کی ذمہ داری خود اٹھائی کہ اس اعلان کو قیامت تک آنے والی نسلوں تک پہنچائے گا۔ اللہ نے یہ پیشن گوئی بھی فرمائی کہ اس اعلان کے جواب میں لو گ دور دراز علاقوں سے پیادہ اور سوار حج کے لئے آئیں گے اور اس سفر سے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کریں گے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مویشیوں کو اللہ کا نام لے کر اس کی راہ میں…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ 0ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ 32
شَعَاۗىِٕرَ
ومَشَاعِرُ الحَجِّ : معالمه الظاهرة للحواسّ ، والواحد مشعر، ويقال : شَعَائِرُ الحجّ ، الواحد :
شَعِيرَةٌ ، قال تعالی: ذلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللَّهِ [ الحج/ 32] ، وقال : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ [ البقرة/ 198] ، لا تُحِلُّوا شَعائِرَ اللَّهِ [ المائدة/ 2] ، أي : ما يهدى إلى بيت الله، وسمّي بذلک لأنها تُشْعَرُ ، أي : تُعَلَّمُ بأن تُدمی بِشَعِيرَةٍ ، أي : حدیدة يُشعر بها .
اور مشاعر الحج کے معنی رسوم حج ادا کرنے کی جگہ کے ہیں اس کا واحد مشعر ہے اور انہیں شعائر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
1 ؎۔ شعائر جمع شعیرۃ اوشاعرۃ بالکسر ومنہ شعار القوم اے علامتھم فی الحرب فشعائر اللہ اعلام دینیہ۔ 12 منہ۔
شعائر علامات اور نشان جو امتیاز کے لیے ہر قوم اور ہر شخص کے لیے مخصوص ہوتے ہیں خدا کے شعائر اس کے وہ عبادت کے خاص دستورات جو اس نے فرمانبردار قوم کے امتیاز کے لیے مقرر کردیے ہیں ان کی پابندی دلی پرہیز گاری ہے۔ قومی اور ملکی نشانوں کو ہلکا جان کر ترک کرنا ایک طرح کا فسق اور بدکاری ہے کس لیے کہ ان کے ترک کرنے سے قوم قوم نہیں رہتی شیرازہ قائم نہیں رہتا بعض بےباک طبائع ان کو فضول جانتی ہیں اور کہتی ہیں کہ دل میں خدا پرستی ہونی چاہیے اس کو جواب میں فرمایا کہ یہ بھی دلی پرہیزگاری سے متعلق ہے اس…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ ق وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ۔ (الحج : 32)
(حقیقت یہ ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا احترام کرتا ہے تو وہ یا درکھے کہ یہ چیز دل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہے۔ )
شعائر کا مفہوم اور ان کے احترام کی شرط
شعائر ...... شعیرۃ بروزنِ فعیلۃ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے وہ علامت جس سے کسی چیز کی پہچان ہوسکے۔ امام ابن جریر لفظ شعائر کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” وشعائر التی جعلھا امارات بین الحق والباطل “” یعنی جن چیزوں سے حق اور باطل کی شناخت ہوسکے ان کو شعائر اللہ کہتے ہیں “۔ قرآن کریم نے صفا ومروہ کو شعائر اللہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی توحید کے لیے یکسو ہونے اور شرک سے بچنے کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمات کا اعتقاداً اور عملاً احترام کیا جائے۔
” شَعَاءِرْ “ شِعَارُ کی جمع ہے جس کا معنٰی ہے ایسی جگہ یا نشانی۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی توجہ مبذول ہوتی ہو اور اس کا ” شعاءِرَ اللّٰہ “ ہونا قرآن اور حدیث رسول سے ثابت ہو۔ اس لیے شعائر اللہ کی تعظیم کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا احترام کرنا اور اس کا تقو ٰی اختیار کرنا ہے۔ یا در ہے کہ جو شخص بھی دل کی گہرائی کے ساتھ نیکی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی نیکی کو جانتا اور اس کی قدر افزائی فرمانے والا ہے۔
شعائر اللہ کا احترام…
Read the full tafseer →32: ذٰلِکَ ای الامرذٰلک (معاملہ یہی ہے) وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ (کہ جو آدمی دین خداوندی کی ان یادگاروں کا پورا لحاظ کرتا ہے) تعظیم شعائر سے حج کے نشانات جیسے ہدایا وغیرہ مراد ہیں۔ ان کے متعلق کو خوب موٹا تازہ، بیش قیمت، خوبصورت خریدنے کا حکم دیا۔ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَ ی الْقُلُوْبِ (پس یہ دلوں کے تقویٰ سے) یعنی شعائر کی تعظیم ان آدمیوں کے افعال میں سے ہے جو دلوں میں تقویٰ رکھتے ہیں تقدیرعبارت یہ ہے : فان تعظیمھا من افعال ذوی تقویٰ القلوب یہ تمام مضاف حذف کر کے فقط دلوں کا ذکر کردیا کیونکہ وہ تقویٰ کے مراکز ہیں۔
Read the full tafseer →32۔ ذالک، جو ہم نے ذکر کیا کہ گندگی اور جھوٹ سے بچنا۔ ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد وہ اونٹ اور قربانی کے جانور ہیں جو قربانی کے لیے بھیجے جاتے ہیں اور بعض نے کہا کہ اللہ کے دین کی نشانیاں ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے دلوں کا تقوی حاصل ہوتا ہے اور ان دونوں کی تعطیم دل کا تقوی ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
32۔ 33:۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ رمضان کے مہینے میں عمرہ حج کے ثواب کے برابر ہے ‘ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت میں 3 ؎ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے رجب میں عمرہ ادا کیا۔ بیہقی میں حضرت علی ؓ کی صحیح روایت 4 ؎ میں ہے کہ عمرہ کا احرام ہر ایک مہینے میں جائز ہے۔ بخاری میں بغیر سند کے معلق طور پر اور صحیح ابن خزیمہ ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مع سند کے روایت ہے ‘ جس میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں 1 ؎‘ اللہ کے رسول کی سنت یہی ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں میں باندھا جائے ‘ بخاری میں معلق طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت 32
یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائر کی تعظیم جس کا ہم نے تمہارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں۔ انہی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان الصفا و المروٓ من شعآئر اللہ) (البقآ : 2 /851) ” صفا اور مردہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ “ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
شعائر اللہ کا احترام
قول باری ہے (ذلک ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو) جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے) اہل لغت کا قول ہے کہ شعائر شعیرہ کی جمع ہے، یہ اس علامت کا نام ہے جو اس چیز کا احساس دلاتی ہے جس کیلئے اسے مقرر کیا گیا ہے۔ قربانی کے اونٹوں پر علامت قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ تم ان پر ایسی علامتیں قائم کر دو جن سے یہ احساس ہو کہ یہ ھدی یعنی قربانی کے جانور ہیں۔ اس بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ شعائر حج کے تمام مناسک کی علامتوں کا نام ہے۔ ان میں سے رمی جمار اور صفا و مروہ کے درمیان سعی بھی ہیں۔
حبیب المعلم نے عطا بن ابی…
Read the full tafseer →67 " شعائر اللہ " کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " جس نے تعظیم کی اللہ کے شعائر کی " یعنی ایسی مقدس یادگاروں کی جو ایک طرف تو اس وحدہ لاشریک کی عظمت شان اور جلالت قدر کا پتہ دیتی ہیں اور دوسری طرف وہ اس کے بندوں کو اپنے خالق ومالک کے حضور صدق و اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ جھک جانے کا درس دیتی ہیں۔ " شعائر "، " شعیرہ " یا " شعارہ " کی جمع ہے۔ (الجمل وغیرہ) جس کے معنیٰ علامت اور نشانی کے آتے ہیں۔ اور شعائر اللہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے کرنے اور بجالانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہو اور اس سے اس نے اپنے بندوں کو باخبر کردیا ہو۔ (صفوۃ البیان فی معانی القرآن) ۔ سو دین حق کے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
اعلان حج
تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…
Read the full tafseer →15 ۔ یعنی ان چیزوں کی تعظیم کرے جو خدا پرستی کی علامت ہیں خواہ وہ اعمال ہوں جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ یا چیزیں ہوں جیسے قربانی کے جانور ان کے گلوں میں پڑے ہوئے پٹے، صفا ومروہ، خانہ کعبہ بلکہ کوئی مسجد لفظ شعائر اللہ ان سب کو شامل ہے۔ (دیکھئے بقرہ :158، مائدہ :2) 16 ۔ یعنی اس کے دل میں خوف خدا ہے تبھی تو وہ ان شعائر یک تعظیم کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(22:32) ذلک۔ ای الذی ذکر من اجتناب الرجس وقول الزور۔ (ملاحظہ ہو 22:3) ۔
شعائر اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی نشانیاں ۔ اللہ کے نام کی چیزیں شعائر اللہ وہ چیزیں اور نشانات ہیں جو خدا کے نام سے نامزد ہیں۔ اور جن کی عظمت و احترام کا خدا نے حکم دیا ہے۔ شعائر شعیرۃ کی جمع ہے شعیرۃ بروزن فعیلۃ بمعنی مفعلۃ (یعنی مشعرۃ ) ہے اور مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں۔
حضرت الامام شاہ ولی اللہ (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ حصہ اول باب 7 (شعائر اللہ کی تعظیم و احترام) میں فرماتے ہیں :۔
” شعائر الھیہ سے ہماری مراد وہ ظاہری و محسوس امور اور اشیاء ہیں جن کا تقرر اسی لئے ہوا ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 :
بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
قربانی اور اس کے ثواب وآداب کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جو شخص خدا کی نشانیوں کی تعظیم سمجھتا ہے یہ اس کی پرہیزگاری کی علامت ہے آگے مطلب یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کو عرب اپنے ساتھ کعبہ شریف میں لایا کرتے تھے یا پہلے بھیج دیتے تھے اور ایسے جانوروں کو اکثر ان میں اونٹ ہوا کرتے تھے ان جانوروں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے ان میں ہر طرح کے فائدے ہیں ان پر بوقت ضرورت سوار ہولیا کروبوقت حاجت ان کا دودھ پی لیا کرو، ضرورت کے وقت بوجھ لاد دیاکرو، ان کے اون اور بال کام میں لے آیاکرو، یہ فوائد تم کو ذبح کے وقت تک حاصل رہیں گے پھر اس کے ذبح کی جگہ بیت العتیق یعنی حرم شریف ہے۔
Read the full tafseer →[29] یعنی یہ تعظیم اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کے دل میں کچھ نہ کچھ تو اللہ کا خوف ہے جبھی تو وہ اس کے شعائر کا احترام کر رہا ہے۔ شعائر کی تشریح سورة مائدہ حاشیہ 3 صفحہ 276 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
(ف 1) شعائر شعیرہ کی جمع ہے ، جس کے معنی ان چیزوں کے ہیں جہیز نشان ہو ، عبادت اور قربانی بمعنی چونکہ خدا پرستی اور خدا دوستی کی نشانیاں ہیں ، اس لئے شعائر سے تعبیر کیا ہے ۔
بعض کوتاہ فہم لوگوں نے قربانی کو عہد وحشت وجاہلیت کی یادگار قرار دیا ہے ، اور کہا ہے کہ اس کی بنیادیں دیوتاؤں سے خوف دہر اس کے تخیل پر قائم ہیں ، یہ محض غلط ہے ۔
اصل میں مذہب ان رسوم کو باقی رکھنے کے حق میں ہوتا ہے جس سے روحانی اور ملی فوائد حاصل ہو سکتے ہوں ، قربانی قدیم قوموں میں بھی رائج تھی ، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور غرباء و مساکین کو پیٹ پھر کر کھلایا جائے اب اگر اس قربانی کو…
Read the full tafseer →(32) یہ بات ہوچکی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور یادگاروں کو پورا احترام قائم رکھے تو ان شعائر کا احترام دلوں کی پرہیزگاری سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی شعائر اللہ اللہ کے نام لگی ہوئی چیزیں خواہ ان کا تعلق زمان سے ہو یا مکان سے ان کا پورا پورا ادب و احترام کرنا تو یہ علامت ہے اس خوف کی جو ایک مسلمان کے دل میں اللہ کا ڈر ہوتا ہے جس کے دل میں ڈر ہوتا ہے وہ تمام احکام کی رعایت کرتا ہے خواہ وہ قربانی کرنے سے پہلے کے احکام ہوں یا قربانی کے بعد کے یا حج کے دوسرے احکام ہوں یا قربانی کے گوشت کے متعلق ہوں۔ شعائر کی تفصیل پارہ سیقول میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 4۔ اس طرح جو شرک کرتا ہے یا تو کسی کے ہاتھ سے مارا گیا، یا کسی وقت موت طبعی سے مر گیا۔ ہر حالت میں دار البوار میں پہنچے گا، اور یوں بےہوا کے جھونکوں کے بھی ضرور ہی گرتا ہے، لیکن اس صورت میں اور زیادہ کلفت ہوگی۔ چناچہ موت طبعی کے ساتھ فرشتوں کے دھکے اس کے مشابہ ہیں۔
Read the full tafseer →شعائر اللہ کی تعظیم دلوں کے تقوی کی نشانی ہے :
32۔ شعائر اللہ کیا ہیں ؟ وہ جو گزشتہ آیت 30 میں (حرمات اللہ) سے تعبیر ہوئے ہیں اور انہی کو اس جگہ شعائر اللہ فرمایا گیا ہے شعائر شعیرہ کی جمع ہے بروزن فعیلہ اس کے معنی ہیں ہر وہ شے کہ جو کسی چیز کا نشان مقرر ہو یا جو کسی علامت کو بتائے اسے شعیرہ سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ (کبیر ج 3 ص 353 مصر) ” شعائر اللہ “ اللہ کی نشانیاں ‘ اللہ کے نام کی چیزیں یا وہ چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے نشان بندگی ٹھہرایا ہے (اشعار بدن) کے معنی یہ ہیں کہ تم اس جانور پر ایسی نشانی مقرر کر دو جس سے یہ پتہ چلے کہ یہ جانور قربانی کا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ…
Read the full tafseer →وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ (And if one observes the sanctity of the symbols of Allah - 22:32) The word شَعَائِرَ is the plural of شَعِیرہ which means a ` symbol', ` a distinctive sign', and refers to those things which are considered as the specific emblems of certain groups of people or certain faiths. شَعَائِرَ are those special laws which are generally taken to be the identifying features of a Muslim. Most of the rules of Hajj fall in this category.
فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (then such things emanate from the piety of the hearts - 22:32). It means that respect for the…
Read the full tafseer →60.“Symbols of Allah”: the performance of Salat, Hajj, Fasting, etc., or things like a Mosque or sacrificial offerings, etc. See (Surah Al-Maidah, Ayat 2 and E.Ns 5-7) thereof).
61. That is, the observance of the sanctity of the symbols by a man is a proof that there is piety in his heart. On the other hand, the man who violates their sanctity proves himself to be void of piety and fear of God. It shows that he either does not believe at all in Allah or adopts a rebellious attitude against Him.
Read the full tafseer →