Explained with ayahs 30–31
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو
فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لئے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لئے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہوچکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔ اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے مردار جانور بوقت ذبح بہا…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 59
اس تمثیل میں آسمان سے مراد ہے انسان کی فطری حالت جس میں وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہوتا اور توحید کے سوا اس کی فطرت کسی اور مذہب کو نہیں جانتی۔ اگر انسان انبیاء کی دی ہوئی رہنمائی قبول کرلے تو وہ اسی فطری حالت پر علم اور بصیرت کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے، اور آگے اس کی پرواز مزید بلندیوں ہی کی طرف ہوتی ہے۔ نہ کہ پستیوں کی طرف۔ لیکن شرک (اور صرف شرک ہی نہیں بلکہ دہریت اور الحاد بھی) اختیار کرتے ہی وہ اپنی فطرت کے آسمان سے یکایک گر پڑتا ہے اور پھر اس کو دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت لازماً پیش آتی ہے۔ ایک یہ کہ شیاطین اور گمراہ کرنے والے انسان، جن کو اس تمثیل میں شکاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
خلاصہ تفسیر
یہ بات تو ہوچکی (جو حج کے خصوص احکام تھے) اور (اب دوسرے عام احکام جن میں حج اور علاوہ حج کے دوسرے مسائل بھی ہیں سنو کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے محترم احکام کی وقعت کرے گا سو یہ اس کے حق میں اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے (احکام کی وقعت کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا علم بھی حاصل کرے اور یہ بھی کہ ان پر عمل کا اہتمام کرے اور احکام خداوندی کی وقعت کا اس کے لئے بہتر ہونا اس لئے ہے کہ وہ عذاب سے نجات اور دائمی راحت کا سامان ہے) اور ہاں مخصوص چوپاؤں کو باستثنائی ان (بعض بعض) کے جو تم کو پڑھ کر سنا دیئے گئے ہیں (یعنی سورة انعام وغیرہ کی آیت قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ…
Read the full tafseer →یعنی اللہ تعالیٰ کے تمام شعائر کی تعظیم اور تمام مناسک کی ادائیگی اس طرح مطلوب ہے کہ ہر کام جو اس کی طرف یکسو ہو کر اور شرک کے ہر شائبہ سے بالکل پاک رہتے ہوئے کیا جائے۔ اگر کسی کام میں شرک کی کوئی آمیزشہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بالکل باطل ہے۔
مشرک کی تمثیل
ومن یشرک باللہ الآیۃ یہ مشرک کی تمثیل بیان ہوئی ہے کہ آدمی شرک کا ارتکاب کر کے اپنے اصل مرکز سے کٹ جاتا ہے اور جب وہ اصل مرک ز سے کٹ گیا تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کس شیطان کے ہتھے چڑھ جائے وہ ایک بےلنگر کا جہاز ہے جو ہر چٹان سے ٹکرا سکتا اور ایک کٹا ہوا پتنگ ہے جس کو ہوا جہاں چاہے اڑا لے جاسکتی ہے۔ توحید سے انسان کو جس درجے کی…
Read the full tafseer →31۔ 1 حنفاء حنیف کی جمع ہے جس کے مصدری معنی ہیں مائل ہونا ایک طرف ہونا، یک رخا ہونا یعنی شرک سے توحید کی طرف اور کفر و باطل سے اسلام اور دین حق کی طرف مائل ہوتے ہوئے۔ یا ایک طرف ہو کر خالص اللہ کی عبادت کرتے ہوئے۔
31۔ 2 یعنی جس طرح بڑے پرندے، چھوٹے جانوروں کو نہایت تیزی سے جھپٹا مار کر انھیں نوچ کھاتے ہیں یا ہوائیں کسی کو دور دراز جگہوں پر پھینک دیں اور کسی کو اس کا سراغ نہ ملے۔ دونوں صورتوں میں تباہی اس کا مقدر ہے۔ اسی طرح وہ انسان جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، وہ سلامت فطرت اور طہارت نفس کے اعتبار سے طہر و صفا کی بلندی پر فائز ہوجاتا ہے اور جوں ہی وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے تو گویا اپنے…
Read the full tafseer →18: اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی مثال آسمان کی سی ہے۔ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے، وہ ایمان کے بلند مقام سے نیچے گرپڑتا ہے۔ پھر پرندوں کے اچک لے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اسے راہ راست سے بھٹکا کر ادھر ادھر لیے پھرتی ہیں، اور ہوا کے دور دراز پھینک دینے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان اسے مزید گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ایسا شخص ایمان کے بلند مقام سے نیچے گر کر اپنی نفسانی خواہشات اور شیاطین کا غلام بن بیٹھتا ہے جو اسے گمراہی کی انتہا تک پہنچا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ذلک ومن ……مکان سحیق (31)
اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ یہ اللہ کی ہاں بہت بڑی نیکی اور خیر ہے۔ انسانی شعور اور انسانیضمیر کی دنیا میں بھی خیر کثیر ہے۔ واقعی اور عملی زندگی میں بھی یہ خبر ہے ، کیونکہ جو ضمیر حرمتوں کا شعور رکھتے ہوئے بچنے کی کوشش کرے گا وہی پاک ہوگا۔ جس زندگی میں اللہ کی حرمتوں کا احترام ہوگا۔ وہی زندگی امن وامان اور سلامتی کی نعمت سے مالا مال ہو سکتی ہے اور اس میں کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہو سکتی۔ ایسی ہی زندگی میں امن کے مقامات اور اطمینان کے گھر مل سکتے ہیں۔
مشرکین بھی بعض جانوروں کا احترام کرتے تھے۔ مثلاً بحیرہ ،…
Read the full tafseer →3 یعنی ہر طرف سے ہٹ کر ایک اللہ کے ہو کر رہو۔ تمہارے تمام افعال ونیّات بالکلیہ بلا شرکت غیرے خالص خدا کے لیے ہونے چاہئیں۔
4 یہ شرک کی مثال بیان فرمائی، خلاصہ یہ ہے کہ توحید نہایت اعلیٰ اور بلند مقام ہے۔ اس کو چھوڑ کر جب آدمی کسی مخلوق کے سامنے جھکتا ہے تو خود اپنے کو ذلیل کرتا اور آسمان توحید کی بلندی سے پستی کی طرف گراتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر اونچے سے گر کر زندہ بچ نہیں سکتا۔ اب یا تو اہواء و افکار ردیہ کے مردار خوار جانور چاروں طرف سے اس کی بوٹیاں نوچ کر کھائیں گے یا شیطان لعین ایک تیز ہوا کے جھکڑ کی طرح اس کو اڑا لے جائے گا اور ایسے گہرے کھڈ میں پھینکے گا جہاں کوئی ہڈی پسلی نظر نہ آئے۔ یا…
Read the full tafseer →آیت 31 حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط ”
اللہ کی بندگی میں کسی اعتبار اور کسی پہلو سے شرک کا شائبہ تک نہ آنے پائے۔ نہ ذات میں ‘ نہ صفات میں ‘ نہ حقوق میں ‘ نہ اختیارات میں۔
وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ”
شرک کرنے والے انسان کی مثال ایسے ہے جیسے وہ کسی بلندی پر رسّی کی مدد سے لٹکا ہوا تھا تو اس کی رسّی کٹ گئی اور وہ یکدم تیزی سے نیچے آ رہا ہے۔
فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ”
تو ایسے شخص کی اب کیفیت یہ ہے یا تو وہ باز اور عقاب جیسے شکاری پرندوں کے رحم و کرم پر ہوگا یا پھر تیز ہوا کا کوئی جھونکا اسے کسی…
Read the full tafseer →48 حنفاء حنیف کی جمع ہے۔ اور حنیف بھی تمام باطل راہوں کو چھوڑ کر استقامت کی طرف مائل ہونا (مفردات القرآن) اور حنیف وہ شخص ہے جو تمام باطل راہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ کی طرف آجائے۔ اور وہ سیدھی راہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، عبادت و تصرفات میں کسی بھی چیز کو ذرہ برابر بھی شریک نہ سمجھا جائے۔
49 انسان تمام مخلوقات سے اشرف و افضل پیدا کیا گیا ہے۔ لہذا اس کے لئے سزاوار یہی بات ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنے خالق ومالک کے سامنے سر جھکائے اسی سے اپنی حاجات طلب کرے اور اسی کی عبادت کرے۔ اب اگر وہ اللہ کو چھوڑ کر کسی بھی چیز کی عبادت کرے، اس کے آگے سر جھکائے یا حاجات روا کرے تو اس کا…
Read the full tafseer →48۔ غرض یہ کہ بری طرح ہلاک ہی ہوا تو جس طرح وہ بدنصیب منزل مقصود سے بہ مراحل دور پڑگیا، اسی طرح یہ بدنصیب مشرک بھی راہ حق بالکل کھوبیٹھا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ تشبیہ میں شکاری پرندوں سے مراد نفس کے ادہام اور وسوسے ہیں اور ہوا کے جھکڑ سے مراد شیطان کا حملہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
آیت نمبر 26 تا 33
ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…
Read the full tafseer →حنفآء للہ اللہ کے لئے دین کو خالص رکھنے والے (دین میں کسی مخلوق یہاں تک کہ اپنی نفسانیت کو دخل نہ دینے
والے) ۔ حنیف کا لفظ حَنَف سے نکلا ہے حَنَف کا معنی ہے استقامت (قاموس) اور حق پر قائم رہنے اور استقامت رکھنے کا معنی ہی ہے ‘ اللہ کے لئے عبادت کو خالص کرلینا اور دوسروں کی پرستش سے منہ موڑ لینا۔
غیر مشرکین بہ ساجھی قرار دینے والے نہ ہو اس کے ساتھ۔ نہ عبادت میں نہ واجب الوجود ہونے میں
نہ الوہیت میں مقصد یہ ہے کہ شرک کرنے والا نہ حنیف ہوسکتا ہے نہ ابراہیم کے دین پر۔ وَمَنْ یُّعَظِّمْ ۔۔ اگرچہ جملہ خبریہ ہے لیکن حکم امر میں ہے یعنی حرمات اللہ کی تعظیم کرو اور بت پرستی سے پرہیز رکھو ‘ بت پرستی…
Read the full tafseer →(31) اور حج وتلبیہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ کیوں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گر پڑا پھر رستہ میں پرندے اس کی بوٹیاں نوچ کر جہاں چاہا سو لے گئے یا اس کو ہوا نے کسی دور دراز جگہ میں لے جا کر پھینک دیا۔
Read the full tafseer →حُنَفَاۗءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ : ”أَيْ کُوْنُوْا حُنَفَاءَ“ یعنی تمام معبودوں سے ہٹ کر صرف اللہ کی خالص عبادت کرنے والے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے والے بنو۔ ”ۙحُنَفَاۗءَ“ پر نصب ”وَاجْتَنِبُوْا“ کی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (160 تا 163)۔
وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ : جو شخص توحید پر قائم ہے وہ بلندی اور عزو شرف میں گویا آسمان پر ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا اور اسی کا حکم مانتا ہے۔ جب اس نے شرک کیا تو اس بلند مقام سے گرگیا، اب یا تو اسے پرندے راستے ہی میں اچک لیں گے، یعنی وہ بتوں کے پجاریوں یا ان…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 7 ۔ حنفآء للہ اس کا معنی ہے مستقیم، مسلمان اور حق کی طرف مائل ہونا ہے۔ حنفاء کا لفظ اضداد میں سے ہے۔ استقامت پر واقع ہوتا ہے اور میل پر بھی واقع ہوتا ہے۔ اور حنفاء پر نصب حال کی بنا پر ہے۔ بعض نے کہا : حنفئا کا معنی حجاجاً ہے یہ تخصیص ایسی ہے جس کے ساتھ کوئی حجت نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یشرک باللہ فکانما خر من السمآء یہ قیامت کے دن اس کی مانند ہوگا جو اپنے لیے نہ نفع کا مالک ہوگا اور نہ اپنے سے ضررو عذاب کو دور کرسکے گا وہ اس کی مانند ہوگا جو آسمان سے گرا ہو۔ پس وہ اپنے نفس کے دفاع پر قادر نہ ہوگا۔ فتخطفہ الطیر یعنی پرندوں نے اسے اپنے پنجوں سے کاٹ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ذلک ومن یعظم حرمت اللہ، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے حج اور عمرہ اور وہ تمام گناہ مراد ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا
2۔ عبد بن حمید نے عطاء اور عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم حرمت اللہ میں ” الحرمات “ سے مراد ہے۔ المشعر الحرام البیت الحرام، المسجد الحرام، اور البلد الحرام۔
مکہ مکرمہ کی تعظیم امت پر لازم ہے۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ وابن ابی حاتم نے عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ امت ہمیشہ خیر پر ہوگی جب کہ مکہ کی تعظیم کرتی رہے گی جب وہ لوگ اس تعظیم کو…
Read the full tafseer →[ حُنَفَاۗءَ : یکسو ہوتے ہوئے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ : اس کے ساتھ (کسی کو) شریک کرنے والے نہ ہوتے ہوئے ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّشْرِكْ : شرک کرتا ہے ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [ فَكَانمَا : تو وہ اس کی مانند ہے کہ جو ] [ خَرَّ : گرا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ فَتَخْطَفُهُ : پھر اچک لیتے ہیں اس کو ] [ الطَّيْرُ : پرندے ] [ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ : یا گراتی ہے اس کو ] [ الرِّيْحُ : ہوا ] [ فِيْ مَكَان سَحِيْقٍ : کسی دور والی جگہ میں ]
س ح ق
[ سُحْقًا : (س) ] دور ہونا۔
سُحْقٌ اسم ذات بھی ہے۔ دوری۔ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (پس دوری سے دوزخ والوں…
Read the full tafseer →اس کے بعد مشرک کا حال بیان فرمایا (وَ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ) (الایۃ) یعنی جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص بلندی سے گرپڑے اور پرندے اسے اچک لیں اور اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا جائیں اور اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ جیسے کسی شخص کو ہوا اڑا کرلے جائے اور کسی دور دراز جگہ میں لے جا کر پھینک دے، علامہ بغوی نے معالم التنزیل ج 3 ؍ 286 میں لکھا ہے کہ جیسے کوئی شخص گرے اور پرندے اچک کر اور نوچ نوچ کر اس کی بوٹیاں کھا لیں یا جیسے ہوا اڑا کرلے جائے اور کسی دور جگہ لے جا کر پھینک دے یہی حال مشرک کا ہے اور وہ لامحالہ ہلاک ہی ہو کر رہے گا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →42:۔ ” حُنَفَاءَ لِلّٰهِ الخ “ حنفاء اور غیر مشرکین دونوں فاجتنبوا کی ضمیر سے حال موکدہ ہیں وھما حالان مؤکدتان من واو فاجتنبوا (روح ج 17 ص 149) ۔ حنفاء حنیف کی جمع ہے یعنی تمام باطل دینوں سے بیزار ہو کر دین حق کی طرف مائل ہونیوالا اور خالصۃً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا۔ مائلین عن کل دین فرائغ الی الدین الحق مخلصین لہ تعالیٰ (روح ) ۔
43:۔ ” وَ مِنَ الشِّرْکِ الخ “ ایک تمثیل کے ذریعے شرک کی تباہ کار اور اس کی برائی واضح کی گئی ہے۔ یہ تشبیہ مرکب ہے اس میں مشرک کے حال کو اس شخص سے تشبیہ دی گئی ہے جو آسمان سے گر پڑے حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے خود کو ہلاکت اور تباہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی تعمیر وتجدید کا ذکر فرمایا تھا۔ بیت اللہ شریف کی عمارت طوفان میں مٹ چکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے اس کی دوبارہ تعمیرکروائی اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) سے اعلان حج کروایا اور اس بات کی ذمہ داری خود اٹھائی کہ اس اعلان کو قیامت تک آنے والی نسلوں تک پہنچائے گا۔ اللہ نے یہ پیشن گوئی بھی فرمائی کہ اس اعلان کے جواب میں لو گ دور دراز علاقوں سے پیادہ اور سوار حج کے لئے آئیں گے اور اس سفر سے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کریں گے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مویشیوں کو اللہ کا نام لے کر اس کی راہ میں…
Read the full tafseer →حُنَفَاۗءَ لِلہِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِہٖ 0ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ 31
حنف
الحَنَفُ : هو ميل عن الضّلال إلى الاستقامة، والجنف : ميل عن الاستقامة إلى الضّلال، والحَنِيف هو المائل إلى ذلك، قال عزّ وجلّ : قانِتاً لِلَّهِ حَنِيفاً [ النحل/ 120]
( ح ن) الحنف
کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں ۔ اس کے بالمقابل حنف ہے جس کے معنی ہیں استقامت سے گمراہی کی طرف مائل ہونا ۔ الحنیف ( بروزن فعیل) جو باطل کو چھوڑ کر استقامت پر آجائے قرآن میں ہے :۔ قانِتاً لِلَّهِ حَنِيفاً [ النحل/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
فوائد حج : فقال لیشہد وامنافع لہم، حج کے منافع دو قسم کے ہیں ایک منافع دنیا سو وہ بھی 1 ؎ بیشمار ہیں : (1) تمام اہل مذہب کا ایک جگہ جمع ہونامیل جول کرنا۔ (2) ۔ ایک قوم کا دوسرے سے علم و ہنر میں مستفید ہونا۔ (3) دور دراز کے صحیح صحیح حالات کا بہم پہنچانا (4) پھر اس سے تجارت و دیگر امور دنیا میں فوائد حاصل کرنا (5) تجارت کے منافع سے مستفید ہونا (6) قوت اجتماعیہ اور اخوتِ
1 ؎ حج موت کا بھی نمونہ ہے۔ گھر سے چلنا ‘ اولاد مال کو چھوڑنا گویا دنیا سے گزرنے کو یاد دلاتا ہے۔ پھر کعبہ کے قریب آکر احرام باندھنا گویا کفن میں لپٹنے کا نمونہ ہے پھر احرام میں شکار و جماع وغیرہ مرغوبات سے رکنا ‘ مرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ذٰلِکَ ق وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔ حُنَفَآئَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ۔ (الحج : 30، 31)
(ان امور کو یاد رکھو ! اور جو شخص اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے چوپائے حلال ٹھہرائے گئے ہیں بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمات کا تقاضا تبھی پورا ہوسکتا ہے کہ انسان تمام معاملات میں اپنے رب کے لیے یکسو ہوجائے۔
حَنِیْفَ کی جمع ” حُنَفَاءَ “ ہے جس کا معنٰی ہے کسی کام کے لیے پوری طرح یکسو ہوجانا۔ یہاں حنفاء للّٰہ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ اے لوگو ! تمہیں نہ صرف ہر قسم کی ناپاکی، بتوں اور جھوٹ سے بچنا ہے بلکہ پوری طرح اللہ کے بن کر رہنا ہوگا۔ تمہارے عقیدہ اور عمل میں شرک کی ذرہ برابر آمیزش نہیں ہونا چاہیے۔ جس نے اعتقاداً یا عملاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گویا کہ وہ آسمان سے نیچے گرا۔ اس کے زمین پر آتے ہی پرندوں نے نوچ لیا۔ یا اسے تیز ہوا نے ایسے مقام پر جا…
Read the full tafseer →31: حُنَفَآ ئَ لِلّٰہِ (اللہ تعالیٰ کیلئے دین کو خالص رکھنے والے) مسلمان بن کر غَیْرَ مُشْرِکِیْن بِہٖ (اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے نہ بنو)
نحو : یہ حنفاء کی طرح حال ہے۔
شرک و مشرک کی تشبیہ :
وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَاخَرَّ (جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرلیا گویا وہ گرپڑا) خرّ کا معنی سقط آتا ہے مِنَ السَّمَآئِ (آسمان سے) زمین کی طرف فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ (پھر پرندے اس کی بوٹیاں نوچ لیتے ہیں) خطف جھپٹ لینے کو کہتے ہیں جلدی سے چھیننا۔
قراءت : مدنی نے تتخطفہ پڑھا ہے۔
اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ (یا ہوا اس کو پھینک دے) گرادے الھویٰؔ السقوط گرنا۔ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ (دور جگہ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
31۔ حنفاء للہ۔ اس کے ساتھ خالص رکھنے والے۔ غیر مشرکین بہ، قتادہ کا قول ہے کہ دورشرک میں لوگ حج کرتے تھے لیکن ماؤں ، بیٹیوں، اور بہنوں کو روکتے تھے اور اپنے کو حنیف کہتے تھے یعنی دین ابراہیمی پر قائم۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، حنفاء للہ غیر مشرکین بہ، وہ اللہ کے بارے میں مسلمان موحدین سے لڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شرک کرے وہ موحد نہیں وہ حنیف نہیں۔ ومن یشرک بااللہ فکانما، وہ گرجاتا ہے۔ من السماء آسمان سے زمین پر، فتخطہ الطیر، اس کو پرندے اچک لیتے اور لے جاتے خطف اور اختطاف کسی چیز کو جلدی کے ساتھ اچک لینا۔
قراء اہل مدینہ نے خاء کے فتحہ کے ساتھ اور طاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30۔ 31:۔ کعبہ کی تعظیم اور حج کی باتوں میں سے چند باتوں کا ذکر فرمایا کہ یہ باتیں جو لوگ سن چکے یہ اللہ کی بتلائی ہوئی ادب کی باتیں ہیں ان میں سے مناہی کی باتوں سے جو شخص باز رہے گا اور جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجا لاوے گا تو اسی شخص کے حق میں یہ فرمانبرداری بہتر ہے کہ اس کو اس فرمانبرداری کا بدلہ ملے گا ورنہ اللہ کی بادشاہت تو ایسی بادشاہت ہے کہ اس کو کسی کی نیکی بدی کی کچھ پرواہ نہیں ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا دنیا کے جنات اور انسان نیک ہوجاویں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا اور اگر یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 30
(ذلک) یعنی وہ احکام جن کا ہم تمہارے سامنے ذکر کرچکے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم، توقیر اور تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب اور اس کے تقریب کا ذریعہ ہیں۔ جس نے ان کی تعظیم و توقیر کی، اللہ تعالیٰ اسے بےپایاں ثواب عطا کرے گا یہ حرمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کے دین، دنیا اور آخرت میں اس کے لئے بہتر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی حرمات سے مراد، وہ امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ہیں اور جن کے احترام کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی عبادات وغیرہ، مثلاً تمام مناسک حج، حرم اور احرام، بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
شعائر اللہ کا احترام
قول باری ہے (ذلک ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو) جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے) اہل لغت کا قول ہے کہ شعائر شعیرہ کی جمع ہے، یہ اس علامت کا نام ہے جو اس چیز کا احساس دلاتی ہے جس کیلئے اسے مقرر کیا گیا ہے۔ قربانی کے اونٹوں پر علامت قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ تم ان پر ایسی علامتیں قائم کر دو جن سے یہ احساس ہو کہ یہ ھدی یعنی قربانی کے جانور ہیں۔ اس بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ شعائر حج کے تمام مناسک کی علامتوں کا نام ہے۔ ان میں سے رمی جمار اور صفا و مروہ کے درمیان سعی بھی ہیں۔
حبیب المعلم نے عطا بن ابی…
Read the full tafseer →66 شرک کی ہلاکت و تباہی کی ایک واضح اور عبرتناک تمثیل : سو مشرک آسمان توحید کی بلندیوں سے گر کر شرک کے قعر مذلت میں اس بری طرح سے اوندھے جا پڑتا ہے کہ خواہشات نفس مردار خور پرندوں کی طرح اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھاتی ہیں۔ اور اس کو گھسیٹ گھسیٹ کر کبھی کسی کھڈے میں جا گراتی ہیں اور کبھی کسی میں۔ اور یہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے ذلتوں پر ذلتیں اٹھاتا ہے۔ اور دوسری طرف شیطانی اوہام و وس اس اور شکوک و شبہات کی تند و تیز ہوائیں اس کو دور دراز کی کبھی کسی وادی میں اور کبھی کسی گھاٹی میں اس بری طرح پٹختی ہیں کہ اس کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں اور یہ نور حق و ہدایت سے کلی طور پر محروم ہو کر دائمی ہلاکت و تباہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
اعلان حج
تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…
Read the full tafseer →14 ۔ یعنی ایمان ایک اعلیٰ چیز ہے جس نے اسے چھوڑا اور شرک کیا وہ گویا رفعت ایمانی کے مرتبہ سے کفر کے گڑھے میں گرپڑا اور اس نے اپنے آپ کو نوچنے والے پرندوں کے حوالے کردیا، یا وہ ناشکری کی آندھی میں گھر کے انسانیت سے دور جا پڑا۔
Read the full tafseer →(22:31) حنفائ۔ حنیف کی جمع۔ جس کے معنی ہیں ایک طرف ہونے والا۔ حنف سے جس کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑ دے۔ وہ حنیف کہلاتا ہے
حنفاء للہ اور غیر مشرکین بہ۔ دونوں احتنبوا سے حال ہیں اور تاکید کے لئے آئے ہیں۔ خر۔ ماضی واحد مذکر غائب خر سے (باب ضرب) وہ گرپڑا۔ قرآن مجید میں ہے یخرون للاذقان سجدا (17:107) وہ ٹھوڑیوں کے بل سجد میں گرپڑتے ہیں۔
فکانما خر من السمائ۔ ای صورۃ حال من یشرک باللہ کصورۃ حال من کر من السمائ۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اس کی صورت حال اس شخص کی صورت حال کے مانند ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 :
بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
شرک اور جھوٹ کی مناہی (ممانعت ) کا حکم۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ چند کعبہ کی تعظیم اور حج کی باتیں جو لوگ سن چکے ہیں یہ اللہ کی بتلائی ہوئی ادب کی باتیں ہیں ان میں سے مناہی (ممنوعات) سے جو شخص باز رہے گا اور جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجالاوے گا تو اسی شخص کے حق میں یہ فرمانبرداری بہتر ہے کہ اس کو فرمانبرداری کا بدلہ ملے گا، سورة المائدہ میں گزرچکا ہے کہ مشرکین مکہ بہت سے جانوروں کو بتوں کے نام کاٹھہرا کر ان جانوروں کے گوشت کا کھانا حرام سمجھتے تھے اسی وقسطے آگے فرمایا سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل ان لوگوں کو سورة المائدہ کی آیت ، حرمت علیکم المیتہ میں سمجھادی گئی ہے باقی…
Read the full tafseer →[28] مراد یہ ہے کہ شرک کرنے والا اپنی جان کو بدترین ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ یہاں ایمان کو بلندی میں آسمان سے اور شرک کرنے والے کو آسمان سے گرنے والے کے ساتھ اور اس کی خواہشات نفس جو اس کی فکر کو منتشر کرتی ہے پرندوں کے ساتھ اور شیاطین کو جو اسے وادی ضلالت میں پھینکتے ہیں ہوا کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
توحید سربلندی ہے ! :
(ف 1) ان آیات میں پہلے تو بیان فرمایا ہے کہ قابل احترام احکام کو عزت تسلیم کی قطروں سے دیکھنا اللہ کے نزدیک بہتر ہے اور اس کے بعد مسائل حج کی طرف رجوع فرمایا ہے ۔
شبہ یہ پیدا ہوتا تھا ، کہ جب احرام کی حالت میں شکار کھیلنا درست نہیں ، تو شاید عام چارپائے بھی حرام ہوں ، اس شبہ کی جواب میں فرمایا کہ چارپائے تمہارے لئے حلال ہیں اور احرام ان کی حلت میں خلل انداز نہیں ہوتا ۔
اس کے بعد ارشاد ہے کہ جب تم اللہ کے احکام کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بت پرستی کی نجات سے بچو ، اور جھوٹ سے پرہیز کرو ، اور خدا کی توحید کی سلسلہ میں عزیمت و…
Read the full tafseer →(31) تمہاری حالت یہ ہو کہ سب سے کنارہ کش ہوکر صرف اللہ تعالیٰ کے ہو رہو اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے نہ ہو اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تو اس کی حالت ایسی ہے جیسے وہ آسمان سے گرپڑا پھر اس کو راستے میں گوشت خور پرندوں نے اچک لیا یا اس کو ہوا نے کسی دوردراز مقام پر لے جا پھینکا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو لائق ادب اور احترام قرار دیا ہے ان کی تعظیم اور ان کی بڑائی ملحوظ رکھنا یا جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو بڑا اور بھاری سمجھ کر چھوڑ دینا لائق ادب چیزیں جیسے بیت اللہ شریف میدان سعی، میدان عرفات، منیٰ ، قربانی کا جانور وغیرہ بلکہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 4۔ اس طرح جو شرک کرتا ہے یا تو کسی کے ہاتھ سے مارا گیا، یا کسی وقت موت طبعی سے مر گیا۔ ہر حالت میں دار البوار میں پہنچے گا، اور یوں بےہوا کے جھونکوں کے بھی ضرور ہی گرتا ہے، لیکن اس صورت میں اور زیادہ کلفت ہوگی۔ چناچہ موت طبعی کے ساتھ فرشتوں کے دھکے اس کے مشابہ ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ہو کر رہنے کا حکم اور شرک کی سخت ممانعت اور مشرک کی مثال :
31۔ (حنفآئ) حنیف کی جمع ہے اور حنیف حنف سے ہے جس کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں بروزن فعیل صفت مشتبہ کا صیغہ ہے ، جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑے (حنیف) کہلاتا ہے ، شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” حنیف آں را گفتند کر گزار دوفتنہ نماید واز جنابت غسل کند حاصل آن کہ نام کسے بودل کہ بشریعت ابراہیمی متدین باشد “ (فتح الرحمن) (حنفآء للہ ) ہر طرف سے کٹ کر ایک اللہ کی طرف مائل ہونے والے اسی طرح کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے ساتھ شریک کرنے والے نہ ہوں اور تمام شعائر اللہ کی تعظیم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
Commentary
حُرُمَاتِ اللَّـهِ (22:30) are the things sanctified by Allah Ta’ ala, that is the religious laws. They are a source of welfare in this world and in the Hereafter for those pious Muslims who seek to learn them and act upon them.
وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ (And permitted to you are the cattle, except those mentioned to you through recitation (of the verses) - 22:30) The word اَنعَام (cattle) includes camels, cows, goats, sheep etc. which are made lawful at all times and even when one is in the state of ihram. Then the verse contains an exception…
Read the full tafseer →59. In this parable heaven means the original human nature. Man by nature is the servant of none else but Allah and inherently accepts the doctrine of Tauhid. That is why the one who follows the guidance of the Prophets becomes firm in these dictates of his nature and soars higher and higher. On the other hand, the one who rejects Allah or associates a partner with Him falls down from the heaven of his nature. Then he either becomes a victim of satans and evil leaders like the birds of the parable, which snatch away the fallen man, or he becomes a slave of his lusts, passions, whims, etc.,…
Read the full tafseer →