Explained with ayahs 30–31
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو
فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لئے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لئے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہوچکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔ اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے مردار جانور بوقت ذبح بہا…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 54
بظاہر یہ ایک عام نصیحت ہے جو اللہ کی قائم کی ہوئی تمام حرمتوں کا احترام کرنے کے لیے فرمائی گئی ہے، مگر اس سلسلہ کلام میں وہ حرمتیں بدرجہ اولیٰ مراد ہیں جو مسجد حرام اور حج اور عمرے اور حرم مکہ کے باب میں قائم کی گئی ہیں۔ نیز اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ قریش نے حرم سے مسلمانوں کو نکال کر اور ان پر حج کا راستہ بند کر کے اور مناسک حج میں مشرکانہ و جاہلانہ رسمیں شامل کر کے اور بیت اللہ کو شرک کی گندگی سے ملوث کر کے ان بہت سی حرمتوں کی ہتک کر ڈالی ہے جو ابراہیم ؑ کے وقت سے قائم کردی گئی تھیں۔
سورة الْحَجّ 55
اس موقع پر مویشی جانوروں کی حلت کا ذکر کرنے سے مقصود دو غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
خلاصہ تفسیر
یہ بات تو ہوچکی (جو حج کے خصوص احکام تھے) اور (اب دوسرے عام احکام جن میں حج اور علاوہ حج کے دوسرے مسائل بھی ہیں سنو کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے محترم احکام کی وقعت کرے گا سو یہ اس کے حق میں اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے (احکام کی وقعت کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا علم بھی حاصل کرے اور یہ بھی کہ ان پر عمل کا اہتمام کرے اور احکام خداوندی کی وقعت کا اس کے لئے بہتر ہونا اس لئے ہے کہ وہ عذاب سے نجات اور دائمی راحت کا سامان ہے) اور ہاں مخصوص چوپاؤں کو باستثنائی ان (بعض بعض) کے جو تم کو پڑھ کر سنا دیئے گئے ہیں (یعنی سورة انعام وغیرہ کی آیت قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ…
Read the full tafseer →ذلک پورے جملہ کا قائم مقام
ذلک جب اس طرح آتا ہے تو یہ پورے جملہ کا قائمقام ہوتا ہے۔ یعنی یہ باتیں ہیں جو بیت اللہ اور اس کے حج و مناسک سے متعلق ابراہیم کو بتائی گئی تھیں۔ ان کو اچھی طرح سن اور سمجھ لو۔ یہگویا تنبیہ کا کلمہ ہے۔ حضرت ابراہیم کو جو ہدایات دی گئی تھیں وہ اس جملہ پر پوری ہوئیں۔ اب آگے ان لوگوں کو ہدایات دی جا رہی ہیں جو بیت اللہ کی وراثت کے مدعی تو تھے لیکن اس امانت کی ذمہ داریوں سے بالکل بیخبر تھے۔
تمام حرمات الٰہی کے احترام کی ہدایت
ومن یعظم حرمت اللہ فھو خیرلہ عند ربہ حرمت اللہ سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے مثلاً حرم، مسجد حرام، ہدی اور…
Read the full tafseer →30۔ 1 ان حرمتوں سے مراد وہ مناسک حج ہیں جن کی تفصیل ابھی گزری ہے۔ ان کی تعظیم کا مطلب، ان کی اس طرح ادائیگی ہے جس طرح بتلایا گیا ہے۔ یعنی ان کی خلاف ورزی کر کے ان حرمتوں کو پامال نہ کرے۔
30۔ 2 جو بیان کئے گئے ہیں ' کا مطلب ہے جن کا حرام ہونا بیان کردیا گیا، جیسے آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ) 5۔ المائدہ :3) میں تفصیل ہے۔
30۔ 3 رجس سے مراد گندگی اور پلیدی کے ہیں یہاں اس سے مراد لکڑی، لوہے یا کسی اور چیز کے بنے ہوئے بت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا، یہ نجاست ہے اور اللہ کے غضب اور عدم رضا کا باعث، اس سے بچو۔
30۔ 4 جھوٹی بات…
Read the full tafseer →17: جانوروں کی قربانی کا ذکر آیا تو مشرکین عرب کی اس جاہلانہ رسم کی بھی تردید کردی گئی جس کی رو سے انہوں نے بتوں کے نام پر بہت سے جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة انعام : 137 تا 144) چنانچہ یہ بتادیا گیا کہ یہ سب چوپائے تمہارے لیے حلال ہیں، سوائے ان چیزوں کے جنہیں قرآن کریم نے سورة مائدہ :3 میں حرام قرار دیا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ جس بنیاد پر مشرکین ان جانوروں کو حرام قرار دیتے تھے، یعنی بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ماننا اور ان کے نام پر جانوروں کو چھوڑ دینا، اس بنیاد کو بھی یہ فرما کر ختم کردیا گیا ہے کہ بتوں کی گندگی سے اور جھوٹی باتوں سے بچو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ذلک ومن ……مکان سحیق (31)
اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ یہ اللہ کی ہاں بہت بڑی نیکی اور خیر ہے۔ انسانی شعور اور انسانیضمیر کی دنیا میں بھی خیر کثیر ہے۔ واقعی اور عملی زندگی میں بھی یہ خبر ہے ، کیونکہ جو ضمیر حرمتوں کا شعور رکھتے ہوئے بچنے کی کوشش کرے گا وہی پاک ہوگا۔ جس زندگی میں اللہ کی حرمتوں کا احترام ہوگا۔ وہی زندگی امن وامان اور سلامتی کی نعمت سے مالا مال ہو سکتی ہے اور اس میں کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہو سکتی۔ ایسی ہی زندگی میں امن کے مقامات اور اطمینان کے گھر مل سکتے ہیں۔
مشرکین بھی بعض جانوروں کا احترام کرتے تھے۔ مثلاً بحیرہ ،…
Read the full tafseer →11 یعنی حرام چیزوں کو بھاری سمجھ کر چھوڑ دینا یا اللہ نے جن چیزوں کو محترم قرار دیا ہے ان کا ادب و تعظیم قائم رکھنا بڑی خوبی اور نیکی کی بات ہے جس کا انجام نہایت اچھا ہوگا۔ محترم چیزوں میں قربانی کا جانور، بیت اللہ، صفا مروہ، منیٰ ، عرفات، مسجدیں، قرآن، بلکہ تمام احکام الٰہیہ آجاتے ہیں۔ خصوصیت سے یہاں مسجد حرام اور ہدی کے جانور کی تعظیم پر زور دینا ہے کہ خدائے واحد کے پرستاروں کو وہاں آنے سے نہ روکیں نہ قربانی کے آئے ہوئے جانوروں کو واپس جانے پر مجبور کریں بلکہ قیمتی اور موٹے تازے جانور قربان کریں۔
12 یعنی ان کے ذبح کرنے کا حکم تعظیم حرمات اللہ کے خلاف نہیں۔ کیونکہ جس مالک نے ایک چیز کی حرمت…
Read the full tafseer →آیت 30 ذٰلِکَق وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَہُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط ”
اللہ نے جس جس چیز کو محترم ٹھہرایا ہے وہ سب ”حرمات اللہ“ ہیں۔ اس میں خود بیت اللہ اور حرمت والے مہینے بھی شامل ہیں۔ پھر جیسا کہ سورة المائدۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ قربانی کے جانور جن کی گردنوں میں قلادے ڈالے گئے ہوں وہ بھی اور خود عازمینِ حج اآمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ آیت 2 بھی محترم ہیں۔ یہ سب حرمات اللہ ہیں اور ان سب کی تعظیم لازمی ہے۔
وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ ”
یعنی خنزیر کے بارے میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ وہ حرام ہے۔ باقی بکری ‘ بھیڑ ‘ گائے ‘ اونٹ وغیرہ کی…
Read the full tafseer →44 حرمت اللہ سے مراد اللہ کی حرام کردہ اشیاء بھی ہیں اور قابل احترام اشیاء یعنی شعائر اللہ بھی۔ یعنی ان سب چیزوں کی حرمت و احترام کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے اور تعمیر کعبہ کا اولین مقصد یہ تھا کہ اسے شرکیہ اعمال و افعال اور بتوں کی نجاستوں سے پاک و صاف رکھا جائے۔ اور قریش مکہ نے ایسی نجاستوں کا بھی۔۔ خیال نہ رکھا اور جو لوگ اللہ کی توحید کے قائل تھے ان کے بیت اللہ میں داخلہ پر بھی پابندیاں لگا دیں۔ گویا اللہ کے گھر اور اس کے شعائر کی ہر طرح سے توہین کی۔ نیز اس مقام پر حرمت سے مراد عموماً حج، عمرہ، کعبہ، قربانی اور احرام سے متعلق احکام ہیں۔ جیسے کسی۔۔ لڑائی جھگڑا کرنے، احرام کی حالت میں…
Read the full tafseer →43۔ نذر کے تحت میں ہر وہ چیز داخل ہے جو اپنے اوپر واجب کرلی گئی ہو۔ یہاں وہ تمام اعمال مراد ہیں جو خود عمل حج کے ضمن وذیل میں لازم ہوں، مثلا منی میں تین نشانوں پر کنکریاں پھینکنا یا جو قربانیاں وغیرہ از خود اپنے اوپر لازم کرلی گئی ہوں۔ (آیت) ” ولیوفوا “۔ صیغہ امر وجوب کے معنی میں ہے۔ والامر علی الوجوب (جصاص) نذر جس مراد کیلئے بھی مانی جائے، چاہیے کہ ہمیشہ اللہ ہی کے نام کی ہو۔ کسی اور کے نام کی نذر حرام ہے۔
44۔ یہ طواف فرض ہے اور اصطلاح فقہ میں طواف الزیارۃ یا طواف الافاضہ کہلاتا ہے۔ (آیت) ” ولیطوفوا “۔ یہاں بھی صیغہ امر وجوب ہی کے لیے ہے۔ ظاھرہ یقتضی الوجوب لانہ امر والاوامر علی الوجوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
آیت نمبر 26 تا 33
ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…
Read the full tafseer →(بقیہ حاشیہ سابقہ آیت)
امام ابوحنیفہ (رح) نے ان احادیث کے جواب میں فرمایا کہ احادیث مذکورہ میں نمازوں سے صرف فرض نمازیں مراد ہیں۔ مساجد میں فرض نمازوں کا ثواب اسی ترتیب کے ساتھ ہے جو ترتیب احادیث میں بیان کی گئی ہے نوافل مراد نہیں ہیں کیونکہ نوافل تو گھروں میں افضل ہیں۔ صحیحین میں حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوائے فرض نماز کے دوسری نمازیں اپنے گھروں کے اندر افضل ہیں۔
ابو داؤد و ترمذی نے حضرت زید بن ثابت کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کی اپنے گھر کے اندر نماز میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ سوائے فرائض کے۔ طحاوی نے حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →(30) یہ بات تو جو احکام مذکورہ اور واجبات کی ادائیگی کے بارے میں تھی ہوچکی، اب یہ کہ جو احکام حج کی توقیر کرے گا سو یہ اس کے حق میں اس کے رب کے نزدی ثواب کے اعتبار سے بہتر ہے اور ان مخصوص جانوروں کا ذبح کرنا اور ان کے گوشت کا کھانا تمہارے لیے حلال کردیا گیا، سوائے ان بعض جانوروں کے جن کی حرمت سورة مائدہ میں تمہیں بتا دی گئی ہے، جیسا کہ مردار، خون، سؤر کا گوشت کہ ان کا کھانا تمہارے لیے حرام ہے، لہذا تم شراب خوری اور بت پرستی کو بالکل قطعا چھوڑ دو ، اور علاوہ اس کے تم باطل اور جھوٹی بات کو بھی چھوڑ دو کیوں کہ کفار زمانہ جاہلیت میں اپنے حج کے تلبیہ میں یہ الفاظ کہا کرتے تھے، ”۔ لبیک اللہم لبیک…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ : یہ لفظ دو کلاموں کے درمیان فاصلے کے لیے آتا ہے اور اس سورت میں تین دفعہ آیا ہے۔ ایک یہ، ایک آیت (32) میں : (ذٰلِكَ ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ) اور ایک آیت (60) میں : (ذٰلِكَ ۚ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ) اس کا مبتدا محذوف مانتے ہیں ”اَلْأَمْرُ ذٰلِکَ“ یعنی حج کا معاملہ تو یہ ہوا اور۔۔
وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ : یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی تعظیم خود بندے کے لیے بہتر ہے، کیونکہ یہ اس کے لیے اس کے رب کی رضا حاصل کرنے کا باعث ہے، جس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ ”حرمٰت“ سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کے احترام کا…
Read the full tafseer →a س میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذلک اس میں احتمال ہے کہ یہ محل رفع میں ہو اور اس کی تقدیر یہ ہو : فرضکم ذالک یا الواجبب ذاللک اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ محل نصب میں ہو اس کی تقدیر یہ ہوا متثلوا ذالک ؛ زہیر کے قول میں اس کی مثل اشارہ ہے :
ھذا ولیس کمن یعیا بخطتہ وسط الندی اذا ما قائل نطقاً
اور یہاں حرمات مقصودہ سے مراد افعال حج ہیں جن کی طرف ثم لیقصوا تفثھم ولیوفوا نذورھم میں اشارہ کیا گیا ہے اس میں جگہوں کی تعظیم بھی داخل ہے ؛ یہ ابن زید وغیرہ کا قول ہے۔ یہ کہنا تمام چیزوں کو شامل ہے کہ حرمات سے مراد تمام فرائض اور سنن کی پیروی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ذلک ومن یعظم حرمت اللہ، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے حج اور عمرہ اور وہ تمام گناہ مراد ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا
2۔ عبد بن حمید نے عطاء اور عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک ومن یعظم حرمت اللہ میں ” الحرمات “ سے مراد ہے۔ المشعر الحرام البیت الحرام، المسجد الحرام، اور البلد الحرام۔
مکہ مکرمہ کی تعظیم امت پر لازم ہے۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ وابن ابی حاتم نے عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ امت ہمیشہ خیر پر ہوگی جب کہ مکہ کی تعظیم کرتی رہے گی جب وہ لوگ اس تعظیم کو…
Read the full tafseer →[ ذٰلِكَ : یہ ہے [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّعَظِّمْ : تعظیم کرتا ہے ] [ حُرُمٰتِ اللّٰهِ : اللہ کی حرمتوں کی ] [ فَهُوَ : تو وہ ] [ خَيْرٌ: بہتر ہے ] [ لَهٗ : اس کے لئے ] [ عِنْدَ رَبِهٖ : اس کے رب کے پاس ] [ وَاُحِلَّتْ : اور حلال کئے گئے ] [ لَكُمُ : تم لوگوں کے لئے ] [ الْانعام : چوپائے ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو ] [ يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : پڑھ کر سنایا جاتا ہے تم کو ] [ فَاجْتَنِبُوا : پس تم لوگ بچو ] [ الرِّجس : گندگی سے ] [ مِنَ الْاَوْثَان : مثلاً بتوں سے ] [ وَاجْتَنِبُوْا : اور تم لوگ بچو ] [ قَوْلَ الزُّوْرِ : جھوٹ کی بات سے ]
و ث ن
[ وُثُوْنًا : (ض) عہد پر جمے رہنا۔ ثابت رہنا۔
وَ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی حرمات اور شعائر کی تعظیم کا حکم، شرک اور جھوٹ سے بچنے کی تاکید ہر مشرک کی مثال، جانوروں کے فوائد کا تذکرہ
دونوں آیتوں کے شروع میں جو لفظ ذٰلِکَ ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ اسم اشارہ فصل بین الکلامین یا کلام واحد کی دو وجوہ بیان کرنے کے درمیان بولا جاتا ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بات تو ہوچکی اب آئندہ بات سنو پھر ایک قول یہ بھی لکھا کہ یہاں لفظ امتشلوا محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کچھ پہلے بیان ہوا ہے اس پر عمل کرو، (وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ) ( اور جس شخص نے اللہ کی حرمات کی تعظیم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →38:۔ ” وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللّٰهِ الخ “ یہ تحریمات اللہ کا ذکر ہے حالت احرام میں جن اعمال کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مثلاً بحالت احرام شکار کرنا وغیرہ ان کو حرام سمجھنا عین تقوی ہے۔
39:۔ ” وَ اُحِلَّتْ لَکُمْ الخ “ تحریمات مشرکین کا ابطال ہے یعنی اپنے طواغیت کی خاطر بحیرہ، سائبہ مت بناؤ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی یہ چوپائے اللہ نے تمہارے لیے حلال کیے ہیں اس لیے انہیں کھاؤ۔ ” اِلَّا مَا یُتْلیٰ عَلَیْکُمْ “ میں تحریمات اللہ کا بیان ہے یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیوں کو حرام سمجھو اور انہیں حلال مت جانو اور مایتلی علیکم سے سے الرجس مراد ہے جو اس کے متصل بعد مذکور ہے یا اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی تعمیر وتجدید کا ذکر فرمایا تھا۔ بیت اللہ شریف کی عمارت طوفان میں مٹ چکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے اس کی دوبارہ تعمیرکروائی اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) سے اعلان حج کروایا اور اس بات کی ذمہ داری خود اٹھائی کہ اس اعلان کو قیامت تک آنے والی نسلوں تک پہنچائے گا۔ اللہ نے یہ پیشن گوئی بھی فرمائی کہ اس اعلان کے جواب میں لو گ دور دراز علاقوں سے پیادہ اور سوار حج کے لئے آئیں گے اور اس سفر سے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کریں گے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مویشیوں کو اللہ کا نام لے کر اس کی راہ میں…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ 0ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَخَيْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ 0ۭ وَاُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ 30ۙ
عظیم
وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ،
( ع ظ م ) العظم
عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
فوائد حج : فقال لیشہد وامنافع لہم، حج کے منافع دو قسم کے ہیں ایک منافع دنیا سو وہ بھی 1 ؎ بیشمار ہیں : (1) تمام اہل مذہب کا ایک جگہ جمع ہونامیل جول کرنا۔ (2) ۔ ایک قوم کا دوسرے سے علم و ہنر میں مستفید ہونا۔ (3) دور دراز کے صحیح صحیح حالات کا بہم پہنچانا (4) پھر اس سے تجارت و دیگر امور دنیا میں فوائد حاصل کرنا (5) تجارت کے منافع سے مستفید ہونا (6) قوت اجتماعیہ اور اخوتِ
1 ؎ حج موت کا بھی نمونہ ہے۔ گھر سے چلنا ‘ اولاد مال کو چھوڑنا گویا دنیا سے گزرنے کو یاد دلاتا ہے۔ پھر کعبہ کے قریب آکر احرام باندھنا گویا کفن میں لپٹنے کا نمونہ ہے پھر احرام میں شکار و جماع وغیرہ مرغوبات سے رکنا ‘ مرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ذٰلِکَ ق وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔ حُنَفَآئَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ۔ (الحج : 30، 31)
(ان امور کو یاد رکھو ! اور جو شخص اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے چوپائے حلال ٹھہرائے گئے ہیں بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قربانی اور بیت اللہ کے طواف کے بعد اللہ کی مقرر کردہ حرمتوں کا احترام کرنے کا اشارہ۔
حج کی ادائیگی کے بعد ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمات کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔ جنھیں سورة البقرۃ میں شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ ان حرمتوں میں بیت اللہ کا احترام، صفا اور مروہ، مزدلفہ میں مشعر حرام، قربانی کا جانور اور اس کا گوشت، مسلمان کا احترام و اکرام یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمتیں ہیں، ان کا احترام کرنے کا حکم ہے۔ اس لیے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمتوں کا احترام کیا۔ حرمتوں کا خیال رکھنے والے کے لیے اس کے رب کے ہاں خیر ہے۔ اس سے پہلے قربانی کا ذکر ہو…
Read the full tafseer →تعظیم حرمات :
30: ذٰلِکَ : یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ اے الامر ذلک یا تقدیر عبارت یہ ہے لیفعلوا ذلک۔
وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ (جو شخص اللہ تعالیٰ کے محترم احکام کی وقعت کرے گا) الحرمۃؔ جس کی بےعزتی کسی طور پر حلال نہ ہو۔ وہ تمام احکام حج وغیرہ جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دے رکھا وہ تمام اسی درجہ میں ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ تمام احکام تکلیفیہ مراد لئے جائیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ فقط احکام حج مراد ہوں۔ ایک قول یہ ہے حرمات اللہ سے بیت اللہ شریف، مزدلفہ، مشعر حرام، مکہ مکرمہ اور مسجد حرام مراد ہے۔
فَھُوَ (پس وہ) تعظیم۔ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ (بہت بہتر ہے اس کے رب کے ہاں) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
تفسیر۔
تفثھم کی تفسیر۔
29۔ ثم لیقضوا تفثھم، تفث میل کچیل کو کہتے ہیں اور قذارہ کہتے ہیں بالوں اور ناخنوں کالمبا ہونا اور پراگندہ ہونا عرب کا قول ہے کہ جس چیز کو انسان ناپسند سمجھتا ہو، اس کے لیے یہ لفظ بولتے ہیں یعنی جس سے انسان نفرت کرے اور حاجی بھی پراگندہ بال اور غبارآلود ہوتے ہیں جو اپنے بالوں کونہ کاٹے اور اپنے ناخنوں کونہ کاٹے۔ قضاء تفث کہتے ہیں ان تمام اشیاء سے نکلنا ہے تاکہ اپنی میل کچیل کو دور کردیں مراد یہاں احرام سے نکلنا ہے۔ مونچھوں کا کاٹنا اور بغلوں کے بالوں کالینا اور اپنے ناخنوں کا کاٹنا اور کپڑے پہننا ۔ ابن عمروابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد حج کے مناسک کو پورا کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30۔ 31:۔ کعبہ کی تعظیم اور حج کی باتوں میں سے چند باتوں کا ذکر فرمایا کہ یہ باتیں جو لوگ سن چکے یہ اللہ کی بتلائی ہوئی ادب کی باتیں ہیں ان میں سے مناہی کی باتوں سے جو شخص باز رہے گا اور جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجا لاوے گا تو اسی شخص کے حق میں یہ فرمانبرداری بہتر ہے کہ اس کو اس فرمانبرداری کا بدلہ ملے گا ورنہ اللہ کی بادشاہت تو ایسی بادشاہت ہے کہ اس کو کسی کی نیکی بدی کی کچھ پرواہ نہیں ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا دنیا کے جنات اور انسان نیک ہوجاویں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا اور اگر یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 30
(ذلک) یعنی وہ احکام جن کا ہم تمہارے سامنے ذکر کرچکے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم، توقیر اور تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب اور اس کے تقریب کا ذریعہ ہیں۔ جس نے ان کی تعظیم و توقیر کی، اللہ تعالیٰ اسے بےپایاں ثواب عطا کرے گا یہ حرمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کے دین، دنیا اور آخرت میں اس کے لئے بہتر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی حرمات سے مراد، وہ امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ہیں اور جن کے احترام کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی عبادات وغیرہ، مثلاً تمام مناسک حج، حرم اور احرام، بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ذلک ومن یعظم حرمات اللہ فھو خیر لہ عند ربہ۔ یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد (اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا لحاظ کرے تو یہ اس کے رب کے ہاں خود اسی کے لئے بہتر ہوگا) اس سے مراد … واللہ اعلم… یہ ہے کہ احرام کے دوران ان تمام افعال و حرکات سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے اور احرام کے دوران اس کی منہیات کے ارتکاب کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے، اجتناب کیا جائے جنہیں اس نے حرام قرار دیا ہے تاکہ اس کے حج اور احرام دونوں کی حفاظت ہوجائے۔ اس کا یہ رویہ اس کے رب کے نزدیک اس کی کوتاہی ، غفلت اور لاپرواہی کے رویے سے بہتر ہے۔
حلال جانور
قول باری ہے (واحلت لکم الانعام الا مایتلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
64 پھر وہ دور کریں اپنے میل کچیل کو : جو کہ احرام کی پابندیوں کی وجہ سے ان پر چڑھ گئی تھی۔ سو حلق و قصر کرا کر اپنی زلفیں اور ناخن وغیرہ ترشوا کر اور نہا دھو کر اس تمام میل کچیل سے صاف ہوجائیں۔ اور امید رکھیں کہ انشاء اللہ ان سے گناہوں کی میل بھی اسی طرح صاف ہوگئی ہوگی جس طرح کہ جسمانی میل صاف ہوگئی ہے۔ کہ حج بیت اللہ کی اس عظیم الشان عبادت کی اس خاصیت اور تاثیر کے بارے میں حضرت نبی ٔ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے تصریح فرمائی ہے کہ حج سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ " الحَجُّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہ " ۔ اور اسی بناء پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
اعلان حج
تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…
Read the full tafseer →11 ۔ جیسے خانہ کعب حرم اور مکہ معظمہ یا ترجمہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے انہیں برا سمجھے یعنی ان سے باز رہے جیسے احرام میں شکار یا لڑائی جھگڑا وغیرہ۔ 12 ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة مائدہ آیت 3 اور نحل :115 ۔ 13 ۔ جھوٹ بولنے میں ہر وہ چیز شامل ہے جو حق کے خلاف ہو جیسے شرک، بہتان، جھوٹی گواہی، جھوٹی قسم اور اپنی مرضی سے چیزوں یا جانوروں کی تحریم و تحلیل وغیرہ۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ” جھوٹی گواہی “ کو سب سے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(22:30) ذلک۔ اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) یہ محل رفع میں ہے۔ مبتدا جس کی خبر محذوف ہے ای ذلک حکم اللہ وامرہ۔
(2) یہ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ ای اللازم ذلک۔ اولواجب ذلک۔
(3) یہ مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے۔ اتبعوا ذلک او احفظوا ذلک۔ اور ذلک کا اشارہ احکام متذکرہ بالا کی طرف ہے۔
من یعظم۔ من شرطیہ۔ یعظم مضارع مجزوم (بوجہ عمل من) واحد مذکر غائب تعظیم (تفعیل) مصدر۔ جو بڑا سمجھے گا۔ جو تعظیم کرے گا۔ ادب کرے گا۔ حرمت اللہ۔ مضاف مضاف الیہ حرمت۔ جمع ہے اس کا واحد حرمۃ اور حرمۃ اور حرمۃ ہے۔ حرم بھی جمع آئی ہے۔
الحرمۃ۔ ہر وہ باحرمت شے جس کی بےحرمتی ممنوع نہ ہو۔ الحرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 :
بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
شرک اور جھوٹ کی مناہی (ممانعت ) کا حکم۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ چند کعبہ کی تعظیم اور حج کی باتیں جو لوگ سن چکے ہیں یہ اللہ کی بتلائی ہوئی ادب کی باتیں ہیں ان میں سے مناہی (ممنوعات) سے جو شخص باز رہے گا اور جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجالاوے گا تو اسی شخص کے حق میں یہ فرمانبرداری بہتر ہے کہ اس کو فرمانبرداری کا بدلہ ملے گا، سورة المائدہ میں گزرچکا ہے کہ مشرکین مکہ بہت سے جانوروں کو بتوں کے نام کاٹھہرا کر ان جانوروں کے گوشت کا کھانا حرام سمجھتے تھے اسی وقسطے آگے فرمایا سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل ان لوگوں کو سورة المائدہ کی آیت ، حرمت علیکم المیتہ میں سمجھادی گئی ہے باقی…
Read the full tafseer →[26] یعنی جن جانوروں کا حرام ہونا وقتاً فوقتاً تمہیں سنایا جاتا رہا ہے جیسا کہ سورة انعام میں تفصیلاً گزر چکا۔
[27] جھوٹی بات کے تحت ہر طرح کا جھوٹ آجاتا ہے لیکن دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ شرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
توحید سربلندی ہے ! :
(ف 1) ان آیات میں پہلے تو بیان فرمایا ہے کہ قابل احترام احکام کو عزت تسلیم کی قطروں سے دیکھنا اللہ کے نزدیک بہتر ہے اور اس کے بعد مسائل حج کی طرف رجوع فرمایا ہے ۔
شبہ یہ پیدا ہوتا تھا ، کہ جب احرام کی حالت میں شکار کھیلنا درست نہیں ، تو شاید عام چارپائے بھی حرام ہوں ، اس شبہ کی جواب میں فرمایا کہ چارپائے تمہارے لئے حلال ہیں اور احرام ان کی حلت میں خلل انداز نہیں ہوتا ۔
اس کے بعد ارشاد ہے کہ جب تم اللہ کے احکام کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بت پرستی کی نجات سے بچو ، اور جھوٹ سے پرہیز کرو ، اور خدا کی توحید کی سلسلہ میں عزیمت و…
Read the full tafseer →(30) یہ بات تو سن چکے اور جو کوئی بڑائی رکھے اللہ تعالیٰ کے ادب اور اس کی حرمتوں کی اور اس کے محترم احکام کی عزت و وقعات کرے گا تو یہ اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لئے بہتر ہوگا اور ان چوپایوں کے سوا جن کی حرمت تم کو سنا دی گئی ہے دوسرے چوپائے تمہارے لئے حلال کردیئے گئے ہیں سو تم بتوں کی ناپاکی اور گندگی سے بچتے رہو اور جھوٹی بتا سے بچو۔
Read the full tafseer →ف 2۔ عام اس سے کہ حج کے احکام مذکور ہوں یا حج کے احکام غیر مذکورہ یا حج کے متعلق نہ ہوں۔
3۔ کیونکہ موجب ثواب و ننجی عن العذاب ہے۔
Read the full tafseer →حرمات اللہ کا احترام سب پر لازم ہے جو ان کی تعظیم کرتا ہے وہ اپنا بھلا کرتا ہے :
30۔ (ذلک) اسم اشارہ ہے اور یہ ساری باتوں پر جو گزشتہ آیات میں بیان کی گئی ہیں ان پر حاوی ہے جو بیت اللہ اور مناسک حج کے متعلق ہیں اور جن کی نشاند ہی قبل ازیں کی جاچکی ہے گویا فرمایا جا رہا ہے کہ یہ باتیں تو اس طرح مکمل ہوگئیں جس طرح آپ کو بتائی گئیں اب ذرا ان کی بات بھی سن لو جن پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور وہ بیت اللہ کی وراثت کے مدعی ٹھہرے تھے کہ انہوں نے اس امانت کی ذمہ داریوں کو کس طرح پورا کیا حالانکہ جو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے فرمایا ” جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ٹھہرائی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
Commentary
حُرُمَاتِ اللَّـهِ (22:30) are the things sanctified by Allah Ta’ ala, that is the religious laws. They are a source of welfare in this world and in the Hereafter for those pious Muslims who seek to learn them and act upon them.
وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ (And permitted to you are the cattle, except those mentioned to you through recitation (of the verses) - 22:30) The word اَنعَام (cattle) includes camels, cows, goats, sheep etc. which are made lawful at all times and even when one is in the state of ihram. Then the verse contains an exception…
Read the full tafseer →54. Though the command is of a general nature, here it refers particularly to the prohibitions which are connected with the Sacred Mosque, Hajj, Umrah and Makkah. Incidentally, there is a subtle hint in it to the Quraish; who had driven out the Muslims from Makkah and debarred them from Hajj and violated the sanctity of the Ancient House by associating indecent, filthy, and ungodly rites with Hajj and the House in contradiction to the ways of Abraham.
55.“And the cattle have been made lawful for you”has been cited here for two objects.
(1) It is to refute the custom of the Quraish under which…
Read the full tafseer →