Al-Hajj 22:29

Al-Hajj · from ayah 29

22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۟ثُمَّ لۡيَـقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ

پھر چاہیئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) کا طواف کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then let them end their untidiness and fulfill their vows and perform Tawaf around the ancient House."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 4 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:29

پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں، اور اس قدیم گھر کا طواف کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر چاہیئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) کا طواف کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر (حج کرنے والے) لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں، اور اپنی منتیں پوری کریں، اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور اس آزاد گھر کا طواف کریں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر انہیں چاہئے کہ (احرام سے نکلتے ہوئے بال اور ناخن کٹوا کر) اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں (یا بقیہ مناسک) پوری کریں اور (اﷲ کے) قدیم گھر (خانہ کعبہ) کا طوافِ (زیارت) کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا خوب طواف کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر وہ اپنے ملا کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور بیت قدیم کا طواف کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر قربانی کے بعد لوگوں کو چاہیے کہ وہ دور کریں اپنا میل کچیل، اور طواف کریں رحمتوں اور برکتوں بھرے اس قدیم گھر کا یہ بات جو کہ حج کے بعض احکام سے متعلق ہوچکی

— مولانا اسحاق مدنی

پھر لوگوں کو چاہئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں۔ اور اپنے واجبات کو پورا کریں۔ اور چاہیے کہ (اس) قدیم گھر کا طواف کریں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر چاہیے کہ وہ دور کریں اپنے میل کچیل اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereafter, let them tidy up and fulfil their vows and circumambulate the Ancient House."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, they must remove their dirt, and fulfill their vows, and make Tawaf of the Ancient House.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, they must remove their dirt, and fulfill their vows, and make Tawaf of the Ancient House.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then let them complete their prescribed duties and perform their vows, and circumambulate the `Atiq House.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then let them make an end of their unkemptness and pay their vows and go around the ancient House.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then let them end their untidiness and fulfill their vows and perform Tawaf around the ancient House."

— Saheeh International

Let the pilgrims then neatly dress themselves, fulfil their vows, and walk seven times around the Kabah.

— Muhammad Sarwar

Then let them accomplish their needful acts of shaving and cleansing, and let them fulfil their vows and let them go round the Ancient House.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter let them end their unkemptnesss and fulfil their vows and circumambulate the ancient House.

— Abdul Majid Daryabadi

"Then let them complete the rites prescribed for them, perform their vows, and (again) circumambulate the Ancient House."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–29

دنیا اور آخرت کے فائدے دنیا اور آخرت کے فوائد حاصل کرنے کے لئے آئیں۔ اللہ کی رضا کے ساتھ ہی دنیاوی مفاد تجارت وغیرہ کا فائدہ اٹھائیں۔ جیسے فرمایا آیت (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ01908) 2۔ البقرة :198) موسم حج میں تجارت کرنا ممنوع نہیں۔ مقررہ دنوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں کے عمل سے افضل نہیں۔ لوگوں نے پوچھا جہاد بھی نہیں ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 51 یعنی یوم النحر (10 ذی الحج) کو قربانی سے فارغ ہو کر احرام کھول دیں، حجامت کرائیں، نہائیں، دھوئیں اور وہ پابندیاں ختم کردیں جو احرام کی حالت میں عائد ہوگئی تھیں۔ لغت میں تَفَث کے اصل معنی اس غبار اور میل کچیل کے ہیں جو سفر میں آدمی پر چڑھ جاتا ہے۔ مگر حج کے سلسلے میں جب میل کچیل دور کرنے کا ذکر کیا گیا ہے تو اس کا مطلب وہی لیا جائے گا جو اوپر بیان ہوا ہے۔ کیونکہ حاجی جب تک مناسک حج اور قربانی سے فارغ نہ ہوجائے، وہ نہ بال ترشوا سکتا ہے، نہ ناخن کٹوا سکتا ہے، اور نہ جسم کی دوسری صفائی کرسکتا ہے۔ (اس سلسلہ میں یہ بات جان لینی چاہیے کہ قربانی سے فراغت کے بعد دوسری تمام پابندیاں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ ، تفث کے لغوی معنے میل کچیل کے ہیں جو انسان کے بدن پر جمع ہوجاتا ہے حالت احرام میں چونکہ بالوں کا مونڈنا، کاٹنا، نوچنا اسی طرح ناخن تراشنا، خوشبو لگانا یہ سب چیزیں حرام ہوتی ہیں تو ان کے نیچے میل کچیل جمع ہونا طبعی امر ہے اس آیت میں یہ فرمایا کہ جب حج میں قربانی سے فارغ ہوجاؤ تو اس میل کچیل کو دور کرو مطلب یہ ہے کہ اب احرام کھول ڈالو اور سر منڈا لو ناخن تراشو۔ زیر ناف کے بال صاف کرلو۔ آیت مذکورہ میں پہلے قربانی کرنے کا ذکر آیا اس کے بعد احرام کھولنے کا اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اسی ترتیب سے کام کرنا چاہئے قربانی سے پہلے حلق کرنا یا ناخن کاٹنا وغیرہ ممنوع ہے اور جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حج کے آخری مراسم تغث کے معنی میل کچیل کے ہیں تقضی تغثہ ای ازالہ اس نے اپنا میل کچیل دور کیا ہے۔ یہ قربانی سے فارغ ہونے کے بعد حج کے آخری مراسم کی ادائیگی کی طرف اشارہ ہے احرام کی پابندیوں اور مناسک کی سرگرمیوں کی وجہ سے بال وغیرہ بھی بڑھ جاتے ہیں اور جسم کا میل کچیل بھی زیادہ ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہی بات پسند ہے کہ ان ایام میں بندے پر یہی خستہ حال و پراگندہ بال کی حالت طاری رہے، لیکن حج کے بعد حجامت بنوائے، نہانے دھوئے، کپڑے بدلے اور اگر کوئی قربانی وغیرہ نذر مانی ہے تو وہ پوری کرے اور بیت اللہ کا آخری طواف کر کے حج سے فارغ ہوجائے۔ بیت حتیق بیت اللہ کو یہاں بیت حتیق سے تعبیر فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 یعنی 10 ذوالحجہ کو جمرہ کبریٰ (یا عقبہ) کو کنکریاں مارنے کے بعد حاجی تحلل اول (یا اصغر) حاصل ہوجاتا ہے، جس کے بعد وہ احرام کھول دیتا ہے اور بیوی سے مباشرت کے سوا، دیگر وہ تمام کام اس کے لئے جائز ہوجاتے ہیں، جو حالت احرام میں ممنوع ہوتے ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہی ہے کہ پھر وہ بالو، ناخنوں وغیرہ کو صاف کرلے، تیل خوشبو استعمال کرے اور سلے ہوئے کپڑے پہن لے وغیرہ۔ 29۔ 2 اگر کوئی مانی ہوئی ہو، جیسے لوگ مان لیتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائی، تو ہم فلاں نیکی کا کام کریں گے۔ 29۔ 3 عتیق کے معنی قدیم کے ہیں مراد خانہ کعبہ ہے کہ حلق یا تقصیر کے بعد افاضہ کرلے،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: حج کے دوران انسان احرام میں ہوتا ہے تو اس کے لیے بال کاٹنا اور ناخن تراشنا جائز نہیں رہتا۔ یہ پابندیاں اس وقت ختم ہوتی ہیں جب وہ حج کی قربانی سے فارغ ہوجائے۔ چنانچہ یہاں میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حج کرنے والے قربانی کے بعد جسم کے بال اور ناخن کاٹ سکتے ہیں۔ اور منتیں پوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ واجب قربانی کے علاوہ بہت سے حضرات یہ منتیں مان لیا کرتے تھے کہ حج کے موقع پر ہم اپنی طرف سے بھی قربانی کریں گے۔ اس کے بعد بیت اللہ شریف کے جس طواف کا ذکر ہے، اس سے مراد طواف زیارت ہے۔ یہ طواف عام طور پر قربانی اور سر منڈانے کے بعد کیا جاتا ہے اور حج کا اہم رکن ہے۔ بیت اللہ کو یہاں بیت عتیق…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–29

واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29) پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔ ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔ وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 جہاں سے لبیک شروع کرتے ہیں حجامت نہیں بنواتے، ناخن نہیں لیتے، بالوں میں تیل نہیں ڈالتے، بدن پر میل اور گردوغبار چڑھ جاتا ہے زیادہ مل دَل کر غسل نہیں کرتے۔ ایک عجیب عاشقانہ و مستانہ حالت ہوتی ہے، اب دسویں تاریخ کو سب قصے تمام کرتے ہیں، حجامت بنوا کر غسل کر کے سلے ہوئے کپڑے پہن کر طواف زیارت کو جاتے ہیں، جس کو ذبح کرنا ہو پہلے ذبح کرلیتا ہے۔ اور اپنی منتیں پوری کرنے سے یہ مراد ہے کہ اپنی مرادوں کے واسطے جو منتیں مانی ہوں ادا کریں۔ اصل منت اللہ کی ہے اور کسی کی نہیں۔ بعض کے نزدیک " نذور " کے لفظ سے مناسک حج یا واجبات حج مراد ہیں۔ اور یہ ہی اقرب معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ (تنبیہ) " عتیق " کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَہُمْ ” اس سے احرام کھول کر نہانا دھونا مراد ہے۔ حج کرنے والوں کے لیے 10 ذو الحجہ کے دن چار افعال ضروری ہیں ‘ یعنی رمی ‘ نحر ‘ حلق اور طواف۔ نحر اور حلق کے بعد احرام کھولو ‘ پھر نہا دھو کر صاف لباس پہنو اور طواف زیارت کے لیے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 یعنی دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے کے بعد حج کرنے والے حضرات حجامت بنوائیں، ناخن کٹوائیں، نہائیں دھوئیں، اور راستے کی گرد اور میل کچیل دور کریں۔ اور احرام کھول کر عام لباس پہن لیں۔ اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ احرام کھولنے کے بعد احرام کی دوسری پابندیاں تو ختم ہوجاتی ہیں مگر اپنی بیوی کے پاس جانا اس وقت تک جائز نہیں ہوتا جب آدمی طواف افاضہ نہ کرلے۔ جس کا ذکر اسی آیت کے آخری جملہ میں ہے۔ 42 یعنی جو بھی نذر کسی حاجی نے اس موقع کے لئے مانی ہو۔ اور بعض کے نزدیک نذر سے مراد وہی قربانی یا قربانیاں ہیں جن کا حاجی نے ارادہ کر رکھا ہو۔ 43 عتیق کا ایک معنی آزاد ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ یعنی احرام (حج کی وردی) اتاردیں، حجامت بنوائیں، غسل کریں وقس علی ھذا۔ احرام ولبیک کے ساتھ ہی حاجی پر ایک عاشقانہ ومستانہ کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ہزار ہا انسانوں اور جانوروں کے ہجوم میں دھکم دھکا، گرد و غبار، جسم اور جامہ احرام گرد آلود۔ اجازت نہ خط بنوانے کی نہ ناخن کٹانے کی نہ تیل لگانے کی، اب حکم ہوتا ہے کہ وہ ممانعت کا زمانہ ختم ہوا۔ اب آزادی سے نہائیں دھوئیں، کپڑے بدلیں، تیل لگائیں، خط بنوائیں، وغیرہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–33

آیت نمبر 26 تا 33 ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم لیقضوا تفثہم پھر وہ اپنے میل کچیل کو دور کریں یعنی سر منڈوائیں۔ لبیں کتریں ‘ ناخن کاٹیں ‘ زیر ناف اور بغلوں کی صفائی کریں مطلب یہ کہ طواف زیارت سے پہلے احرام کھول کر یہ سب کام کرسکتے ہیں اور سر منڈوانے کے بعد سوائے عورتوں کی قربت کے مذکورۂ بالا ممنوعات حلال ہوجاتے ہیں ‘ عورت سے قربت کی حلت طواف کے بعد ہوتی ہے کذا قال المفسرون۔ قضاء کا لغوی معنی ہے ادا کرنا اور کوئی کام کردینا قَضٰی دَیَّنَہٗاس سے اپنا قرض چکا دیا۔ وَاِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْاور جب تم اپنے مناسک ادا کر چکو۔ قَضَاہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍکر دیا ان کو سات آسمان۔ کسی کام کو کر چکنے کے بعد اس سے فراغت ہوجاتی ہے اس لئے قضاء کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(29) پھر قربانی کے بعد لوگوں کو ارکان حج پورے کردینے چاہئیں یعنی سرمنڈوا ڈالیں اور ناخن اور لب بنوالیں اور رمی جمار کریں اور جو چیزیں انہوں نے اپنے اوپر واجب کرلی ہیں ان کو پورا کریں اور اس کے محفوظ گھر یعنی خانہ کعبہ کا ان ہی دنوں میں طواف کریں جو کہ فرض ہے اس گھر کو عتیق اس معنی کے اعتبار سے کہا کہ یہ ہر ایک ظالم و جابر کے ظلم سے آزاد ہے یا یہ کہ حضرت نوح کے زمانہ میں جو طوفان آیا تھا اس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ فرما لیا تھا یا یہ کہ (عتیق کے معنے قدیم کے ہیں) اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ کہ جو اس کے گرد طواف کرتا ہے وہ گناہوں سے پاک وآزاد ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ : ”تَفَثٌ“ کے دو معنی کیے گئے ہیں، ایک میل کچیل اور دوسرا مناسک حج۔ پہلے معنی کے مطابق ترجمہ ہوگا ”پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام باندھنے کے ساتھ ہی سلے ہوئے کپڑے پہننا، بال یا ناخن کٹوانا اور خوشبو لگانا حرام ہوجاتا ہے۔ صرف دو چادریں ہوتی ہیں، سر ننگا ہوتا ہے اور زیادہ مل مل کر غسل نہیں کرنا ہوتا، اس مسافرانہ اور فقیرانہ حالت میں بدن پر میل کچیل چڑھ جاتا ہے۔ دس محرم کو جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے کے بعد بیوی سے مباشرت کے سوا احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر وہ سر کے بال منڈوائیں یا کتروائیں اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ (پھر وہ اپنی میل کچیل کو دور کریں) نمبر 1۔ اپنے اجسام سے میل کو دور کریں نفطویہ نے اسی طرح کہا دوسرا قول قضاء تفث، مونچھیں کاٹنے، ناخن اتارنے، بغل کے بال لینے، زیر ناف صاف کرنے کو کہتے ہیں۔ التفث تو میل کو کہا جاتا ہے۔ اور یہاں مراد میل کے ازالہ کو پورا کرنا۔ ابن عمر، ابن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ قضاء و تفث تمام مناسک حج کی ادائیگی کو کہتے ہیں۔ وَلْیُوْفُوْانُذُوْرَھُمْ (اور وہ اپنی نذور کو پورا کریں) یعنی حج کے واجبات۔ اور اہل عرب پر اس شخص کو جو اپنے فریضہ سے فارغ ہو کہتے ہیں وفّٰی بنذرہ خواہ اس نے کوئی نذر نہ مانی ہو۔ نمبر 2۔ یا نیکی کے وہ اعمال جن کی اعمال حج کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” التفث “ حج کے سارے احکام ہیں۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” التفث “ سے مراد ہے حج کے سارے احکام پورے کرنا۔ 3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ” التفث “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے سر کو مونڈنا۔ (داڑھی کے) جانبین سے (بڑھے ہوئے بالوں کو) لینا۔ بغل کے بالوں کو نوچنا۔ زیر ناف بالوں مونڈنا۔ عرفات میں وقوف کرنا۔ صفا مروہ کے درمیان چکر لگانا۔ شیاطین کو کنکریاں مارنا۔ ناخنوں کو کاٹنا۔ اور مونچھوں کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ثُمَّ لْيَقْضُوْا : پھر چاہیے کہ وہ فارغ ہوں ] [ تَفَثَهُمْ : اپنے میل کچیل سے ] [ وَلْيُوْفُوْا : اور چاہیے کہ وہ پوری کریں ] [ نُذُوْرَهُمْ : اپنی منتیں ] [ وَلْيَطَّوَّفُوْا : اور چاہیے کہ وہ طواف کریں ] [ بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : اس قدیم گھر کا ] تث [ تَفَثًا : (س) کسی چیز پر میل کچیل چڑھ جانا۔ تَفَثٌ اسم ذات بھی ہے۔ میل کچیل۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 ع ت ق [ عَتْقًا : (ص۔ ن) (1) آزاد ہونا۔ (2) پرانا ہونا۔ عَتِیْقٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ آزاد۔ پرانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 ۔ نوٹ۔ 1: حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو حج کے اعلان کا حکم ہوا تو انھوں نے اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ ) (پھر اپنے میل کچیل کو دور کریں) دس تاریخ کی صبح کو مزدلفہ سے آتے ہیں اس روز منیٰ میں قربانیاں کی جاتی ہیں جس شخص نے صرف حج افراد کیا ہو وہ مزدلفہ سے آکر پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کرے پھر حلق کرائے پھر سر منڈوائے اور اگر حج کی قربانی بھی کرنی ہو (جو اس کے لیے مستحب ہے) تو افضل یہ ہے کہ رمی کرنے کے بعد پہلے قربانی کرے پھر حلق کرائے اور جس شخص نے تمتع یا قرآن کیا ہو وہ منیٰ میں اولاً جمرہ عقبہ کی رمی کرے اس کے بعد قربانی کرے اس کے بعد حلق کرنے کے بعد ناخن وغیرہ کاٹے جائیں اسی کو فرمایا کہ پھر میل کچیل کو دور کرلیں، بالوں کو قصر کرنے یعنی کاٹنے سے بھی احرام سے نکل جاتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–38

مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

37:۔ ” وَ یَذْکُرُوْا الخ “ اس حصے میں بھی چاروں عنوانات مذکور ہیں۔ (1) اللہ کی نذریں نیازیں جائز ہیں۔ (2) اللہ کی تحریمات برحق ہیں۔ (3) تحریمات غیر اللہ باطل ہیں۔ (4) غیر اللہ کی نذر و نیاز حرام ہے۔ ” وَ یَذْکُرُوْا اسْمَ اللّٰه الخ “ میں اللہ کی نیازوں کا حکم ہے کہ قربانی کے ایام (10 تا 12 ذی الحجہ) میں اللہ کے نام کی نذریں دو اور خود بھی کھاؤ اور غرباء اور مساکین کو بھی کھلاؤ۔ ” بَھِیمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں اضافت بیانیہ ہے۔ ” ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ “ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں۔ تفث سے تمام مناسک حج مراد ہیں۔ التفث المنسک کلہ من الوقوف بعرفۃ والسعی بین الصفا والمروۃ ورمی الجمار (روح ج 17…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–29

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام اور پورے خطہ حرم شریف کے محترم ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے یہ وعید بھی فرمائی کہ جو شخص اس مقدس سرزمین میں ظلم و زیادتی ، معصیت یا الحاد اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دے گا۔ کیونکہ اس نے حرم پاک جیسے پاک خطے کا تقدس برقرار نہیں رکھا۔ تعمیر بیت اللہ شریف : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر ، حج اور قربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا س واقعہ کو دھیان میں لائو واذ بوانا لابراھیم مکان البیت جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ شریف کی جگہ کو واضح کردیا۔ آپ کے زمانہ تک بیت اللہ شریف کی سابقہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَہُمْ وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَہُمْ وَلْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ۝ 29 قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–31

فوائد حج : فقال لیشہد وامنافع لہم، حج کے منافع دو قسم کے ہیں ایک منافع دنیا سو وہ بھی 1 ؎ بیشمار ہیں : (1) تمام اہل مذہب کا ایک جگہ جمع ہونامیل جول کرنا۔ (2) ۔ ایک قوم کا دوسرے سے علم و ہنر میں مستفید ہونا۔ (3) دور دراز کے صحیح صحیح حالات کا بہم پہنچانا (4) پھر اس سے تجارت و دیگر امور دنیا میں فوائد حاصل کرنا (5) تجارت کے منافع سے مستفید ہونا (6) قوت اجتماعیہ اور اخوتِ 1 ؎ حج موت کا بھی نمونہ ہے۔ گھر سے چلنا ‘ اولاد مال کو چھوڑنا گویا دنیا سے گزرنے کو یاد دلاتا ہے۔ پھر کعبہ کے قریب آکر احرام باندھنا گویا کفن میں لپٹنے کا نمونہ ہے پھر احرام میں شکار و جماع وغیرہ مرغوبات سے رکنا ‘ مرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۔ (الحج : 29) (پھر وہ اپنے میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور بیت عتیق کا طواف کریں۔ ) تفث کے معنی ” میل کچیل “ کے ہیں۔ اور قضٰی کا معنی ہے اَزََالَ یعنی ” میل کچیل دور کرنا “۔ حج کے آخری مناسک آٹھ ذوالحج کو منیٰ میں پانچ نمازوں کی ادائیگی اور شب بسری، نو ذوالحج کو عرفات کا وقوف اور پھر مزدلفہ میں رات کا قیام اور دس تاریخ کو قربانی دینے کے بعد حج کے مناسک ادا کرنے والے کو احرام کھولنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ گزشتہ دو دنوں کی بھاگ دوڑ اور مناسکِ حج کی ادائیگی کی مصروفیت میں احرام کی چادریں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–29

فہم القرآن ربط کلام : ایّام تشریق میں کرنے کے کام۔ حج مسلمانوں کی اجتماعی تربیت گاہ اور عالم اسلام کے مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے رابطہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ مسلمان حج سے روحانی فائدے اٹھانے کے ساتھ، ساتھ ایک دوسرے سے معاشی فوائد بھی حاصل کریں۔ اس لیے ایام تشریق یوم عرفہ کے بعد منٰی میں گزارنے والے دو یا تین ایام کو ایام تشریق کہا جاتا ہے جن میں تجارت کرنا جائز قرار دیا۔ اسلام سے پہلے عرب میں عمومی طور پر حج کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جنھوں نے حج کو تجارتی منڈی بنانے کے ساتھ خاندانی تفاخر کا اسٹیج بنا لیا تھا۔ بالخصوص ایّام تشریق کے دوران کھیل تماشا،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29: ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ (پھر وہ اپنی میل کچیل کو دور کریں) نمبر 1۔ اپنے اجسام سے میل کو دور کریں نفطو یہ نحوی نے اسی طرح کہا دوسرا قول قضاء تفث، مونچھیں کاٹنے، ناخن اتارنے، بغل کے بال لینے، زیر ناف صاف کرنے کو کہتے ہیں۔ التفث تو میل کو کہا جاتا ہے۔ اور یہاں مراد میل کے ازالہ کو پورا کرنا۔ ابن عمر، ابن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ قضاء و تفث تمام مناسک حج کی ادائیگی کو کہتے ہیں۔ وَلْیُوْفُوْانُذُوْرَھُمْ (اور وہ اپنی نذور کو پورا کریں) یعنی حج کے واجبات۔ اور اہل عرب پر اس شخص کو جو اپنے فریضہ سے فارغ ہو کہتے ہیں وفّٰی بنذرہ خواہ اس نے کوئی نذر نہ مانی ہو۔ نمبر 2۔ یا نیکی کے وہ اعمال جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 29–30

تفسیر۔ تفثھم کی تفسیر۔ 29۔ ثم لیقضوا تفثھم، تفث میل کچیل کو کہتے ہیں اور قذارہ کہتے ہیں بالوں اور ناخنوں کالمبا ہونا اور پراگندہ ہونا عرب کا قول ہے کہ جس چیز کو انسان ناپسند سمجھتا ہو، اس کے لیے یہ لفظ بولتے ہیں یعنی جس سے انسان نفرت کرے اور حاجی بھی پراگندہ بال اور غبارآلود ہوتے ہیں جو اپنے بالوں کونہ کاٹے اور اپنے ناخنوں کونہ کاٹے۔ قضاء تفث کہتے ہیں ان تمام اشیاء سے نکلنا ہے تاکہ اپنی میل کچیل کو دور کردیں مراد یہاں احرام سے نکلنا ہے۔ مونچھوں کا کاٹنا اور بغلوں کے بالوں کالینا اور اپنے ناخنوں کا کاٹنا اور کپڑے پہننا ۔ ابن عمروابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد حج کے مناسک کو پورا کرنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–29

27۔ 29:۔ اوپر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول گزر چکا ہے کہ کعبہ کے تیار ہوجانے کے بعد مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اذان دی کہ اے لوگو ! حج کرنے کے لیے آؤ ‘ اللہ کا گھر تیار ہوگیا ہے اور اس اذان کی یہ تاثیر اللہ تعالیٰ نے اہل قبلہ کے دلوں میں ڈال دی کہ وہ حج اور عمرہ کی نیت سے قیامت تک کعبہ کو جاویں گے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ ‘ سنن بیہقی ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ‘ اذان کے معنی جتلانے کے ہیں۔ نماز سے پہلی جو اذان دی جاتی ہے اس سے نماز کا وقت جتلایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–29

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذ بوانا لابرھیم مکان البیت) ” اور جب ہم نے مقرر کردی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کی جگہ۔ “ یعنی ہم نے ان کیلئے اسے مہیا کردیا، آپ کو وہاں رہنے کے لئے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

حج کے بعد میل کچیل دور کرنا۔ قول باری ہے (ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں) عبدالملک نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ تفث قربانی کا جانور ذبح کرنے، سر مونڈنے، سر کے بال کٹوانے، ناخن اتارنے اور مونچیں کتروانے نیز بغل کے بال صاف کرنے کو کہتے ہیں۔ عثمان بن الاسود نے مجاہد سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے حسن اور ابو عبیدہ سے بھی یہی روایت ہے ۔ حضرت ابن عمر اور سعید بن جبیر سے قول باری (تفثھم ) کی تفسیر میں ” اپنے مناسک “ مقنول ہے۔ اشعت نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ ” وہ اپنے نسک ادا کریں۔ “ حماد بن مسلمہ نے قیس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–30

64 پھر وہ دور کریں اپنے میل کچیل کو : جو کہ احرام کی پابندیوں کی وجہ سے ان پر چڑھ گئی تھی۔ سو حلق و قصر کرا کر اپنی زلفیں اور ناخن وغیرہ ترشوا کر اور نہا دھو کر اس تمام میل کچیل سے صاف ہوجائیں۔ اور امید رکھیں کہ انشاء اللہ ان سے گناہوں کی میل بھی اسی طرح صاف ہوگئی ہوگی جس طرح کہ جسمانی میل صاف ہوگئی ہے۔ کہ حج بیت اللہ کی اس عظیم الشان عبادت کی اس خاصیت اور تاثیر کے بارے میں حضرت نبی ٔ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے تصریح فرمائی ہے کہ حج سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ " الحَجُّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہ " ۔ اور اسی بناء پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–36

اعلان حج تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–33

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ یعنی حجامت بنوائیں اور نہائیں دھوئیں اور جمرہ عقبہ کی رمی کر کے احرام کھول دیں۔ 10 ۔ مراد ہے طواف افاضہ جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں۔ اس پر تمام علما کا اجماع ہے کہ یہ طواف حج کا رکن ہے۔ اس سے مناسک حج کی تکمیل ہوتی ہے اور حاجی سے احرام کے سلسلے کی تمام پابندیاں اٹھ جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:29) اس کا عطف یذکروا پر ہے۔ ثم۔ پھر۔ یعنی جب تم جانور کی قربانی سے فارغ ہو چکو۔ لیقضوا۔ فعل امر جمع مذکر غائب تو انہین چاہیے کہ دور کریں۔ القضاء کے معنی قولا یا عملا کسی کام کا فیصلہ کردینا۔ قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں ۔ (1) قضاء الٰہی ۔ (2) قضاء بشری۔ (1) قضاء الٰہی قضاء قولی کی مثال۔ وقضی ربک ان لا تعبدوا ایاہ (17:23) پھر دو دن میں سات آسمان بنا دئیے۔ (2) (1) قضاء بشری۔ قولی کی مثال۔ قضی الحاکم بکذاحاکم نے فلاں فیصلہ کیا (کیونکہ حاکم ہمیشہ زبان کے ساتھ فیصلہ دیتا ہے (2) قضاء بشری کی عملی کی مثال : فاذا قضیتم مناسککم (2:200) پھر جب تم حج کے تمام ارکان پورے کر چکو۔ آیت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–33

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 : بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–29

حج کا حکم۔ (ف 2) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر جہاں کے لوگوں کو حج کرنے کی دعوت دی کہا کہ اے لوگو تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور اس کا یہ حکم ہے کہ تم اس کا حج کرو، اللہ تعالیٰ نے وہ آواز مشرق سے مغرب تک سارے جہاں میں پہنچا دی ، یہاں تک کہ جو بچے باپوں کی پشت میں، اور اپنی ماؤں کے رحم میں تھے اور ان کی قسمت میں حج کرنا تھا انہوں نے یہ جواب دیا لبیک اللھم، حضرت حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اذن کا خطاب نبی ﷺ کو ہے چناچہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا اے لوگو اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے تم حج کرو۔ تفسیر احمدی میں ہے کہ اپنے شوق سے ہزاروں خلق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[23] یعنی احرام اتار دیں، حجامت بنوائیں اور غسل کریں۔ [24] یعنی واجبات حج ادا کریں، مثلاً منیٰ میں کنکریاں پھینکنا، طواف زیارت کرنا۔ [25] یعنی خانہ کعبہ کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–31

توحید سربلندی ہے ! : (ف 1) ان آیات میں پہلے تو بیان فرمایا ہے کہ قابل احترام احکام کو عزت تسلیم کی قطروں سے دیکھنا اللہ کے نزدیک بہتر ہے اور اس کے بعد مسائل حج کی طرف رجوع فرمایا ہے ۔ شبہ یہ پیدا ہوتا تھا ، کہ جب احرام کی حالت میں شکار کھیلنا درست نہیں ، تو شاید عام چارپائے بھی حرام ہوں ، اس شبہ کی جواب میں فرمایا کہ چارپائے تمہارے لئے حلال ہیں اور احرام ان کی حلت میں خلل انداز نہیں ہوتا ۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ جب تم اللہ کے احکام کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بت پرستی کی نجات سے بچو ، اور جھوٹ سے پرہیز کرو ، اور خدا کی توحید کی سلسلہ میں عزیمت و…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) پھر قربانی کے بعد لوگوں کو چاہئے کہ اپنا میل کچیل اتار دیں اور اپنی نذریں اور منتیں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں یعنی جمرئہ عقبہ کی رمی اور قربانی سے فارغ ہونے کے بعد پھر احرام کھول دیں اور سر منڈائی یا بال کتروائیں جسم پر احرام کے زمانے کا جو گردوغبار اور میل ہو اس کو صاف کریں اور نہا دھوکر سلے ہوئے کپڑے پہن لیں۔ نذور سے مراد یہ ہے کہ کوئی قربانی واجب کرلی ہو یا واجبات حج مراد ہوں یا کوئی اور منت وغیرہ جو اللہ کے لئے مانی ہو۔ قدیم گھر سے مراد کعبۃ اللہ ہے یعنی وہ طواف جس کو طوافِ زیارت کہتے ہیں اور اس کے بعد سب چیزیں حلال ہوجاتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاں سے لبیک…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قربانی کی تکمیل کے بعد اپنی میل کچیل دور کرنے کا ارشاد الہی : 29۔ قربانی کرچکنے کے بعد سفر کی تکان دور کرنے کے لئے غسل اور حجامت جو حج کے دنوں میں ممنوع تھی اس کی اجازت مرحمت فرمائی گئی کہ اپنی میل کچیل دور کرو ‘ احرام کھول کر عام کپڑے پہن لو حجامت کرا کر اور نہا دھو کر صاف ستھرے ہوجاؤ گویا گناہوں کی میل دور کر چکنے کے بعد ظاہری میل کچیل سے بھی صاف ستھرے ہوجاؤ (تفث) ناخن کی میل کو کہا جاتا ہے اور (قضائ) کے معنی دور کرنا ‘ فارغ کرنا ‘ ادا کرنا ‘ قطع کرنے کے ہیں جس طرح وضو ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوۃ وغیرہ میں ترتیب ضروری ہے مناسک حج میں بھی ترتیب لازم وضروری قرار دی گئی ہے ۔ زیر نظر آیت میں قربانی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

ثُمَّ لْيَقْضُوا (Then, they must remove their dirt - 22:29) The word تَفَث means dirt, which gathers on human body. While a person is in the state of ihram, he cannot shave, trim or pluck his hair, nor can he pare his nails, nor use perfume, and it is quite natural that dirt should collect under his hair and nails and on his body. This verse requires of the pilgrims that after they have performed the sacrifice, they should remove this dirt, meaning thereby that they should now remove the ihram, (and wear their normal clothes) shave their heads and pare their nails. This verse mentions…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

51. It means that after performing the essential Hajj rites, one should put off Ihram, have a shave, bath, etc. for one is free from the restrictions of Ihram after Hajj. However, one is not allowed to have sexual relations with his wife till one has performed the Tawaf of Ziyarah or Ifadah. 52. That is, the vow one has made for that occasion. 53. The Arabic word Atiq, which has been used for the Kabah, is very meaningful for it implies. (1) Ancient. (2) Free from the sovereignty and ownership of anyone. (3) Honored and revered. I am of the opinion that here the word Tawaf refers to the…

Read the full tafseer →