Explained with ayahs 28–29
دنیا اور آخرت کے فائدے
دنیا اور آخرت کے فوائد حاصل کرنے کے لئے آئیں۔ اللہ کی رضا کے ساتھ ہی دنیاوی مفاد تجارت وغیرہ کا فائدہ اٹھائیں۔ جیسے فرمایا آیت (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ01908) 2۔ البقرة :198) موسم حج میں تجارت کرنا ممنوع نہیں۔ مقررہ دنوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں کے عمل سے افضل نہیں۔ لوگوں نے پوچھا جہاد بھی نہیں ؟…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 48
اس سے مراد صرف دینی فائدے ہی نہیں ہیں بلکہ دنیوی فائدے بھی ہیں۔ یہ اسی خانہ کعبہ اور اس کے حج کی برکت تھی کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ سے لے کر نبی ﷺ کے زمانے تک ڈھائی ہزار برس کی مدت میں عربوں کو ایک مرکز وحدت حاصل رہا جس نے ان کی عربیت کو قبائلیت میں بالکل گم ہوجانے سے بچائے رکھا۔ اس کے مرکز سے وابستہ ہونے اور حج کے لیے ہر سال ملک کے تمام حصوں سے آتے رہنے کی بدولت ان کی زبان ایک رہی، ان کی تہذیب ایک رہی، ان کے اندر عرب ہونے کا احساس باقی رہا، اور ان کو خیالات، معلومات اور تمدنی طریقوں کی اشاعت کے مواقع ملتے رہے۔ پھر یہ بھی اسی حج کی برکت تھی کہ عرب کی اس عام بدامنی میں کم از کم…
Read the full tafseer →لِّيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ ، یعنی ان کی یہ حاضری دور دراز سفر طے کر کے اپنے ہی منافع کیلئے ہے قرآن میں منافع کو بصیغہ نکرہ لا کر اس کے عموم کی طرف اشارہ کردیا ہے جس میں دینی منافع تو بیشمار ہیں ہی دنیوی منافع بھی بہت مشاہدہ میں آتے ہیں۔ کم از کم اتنی بات خود قابل تعجب و حیرت ہے کہ حج کے سفر پر عموماً بڑی رقم خرچ ہوتی ہے جو بعض لوگ ساری عمر محنت کر کے تھوڑی تھوڑی بچا کر جمع کرتے ہیں اور یہاں بیک وقت خرچ کر ڈالتے ہیں لیکن ساری دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک واقعہ ایسا نہیں بتایا جاسکتا کہ کوئی شخص حج یا عمرہ میں خرچ کرنے کی وجہ سے فقیر و محتاج ہوگیا ہو۔ اس کے سوا دوسرے کاموں مثلاً بیاہ شادی کی…
Read the full tafseer →حج کی دنیوی برکات
یعشھدوا منافع لھم بقرہ کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ حج کے مہینے اہل عرب کی تجارتی سرگرمیوں کے لئے بھی موسم بہار کا حکم رکھتے تھے۔ اسی زمانے میں باہر سے اہل مکہ کی ضرورت کی تمام چیزیں مکہ کے بازاروں میں پہنچتی تھیں اور مکہ کا مال باہر کی منڈیوں کے لئے نکلتا تھا۔ اگر حج کے اصل مقصود کے ساتھ ساتھ اس قسم کے جائز دنیوی منافع حاصل کئے جائیں تو یہ چیز اس دینقیم کے مزاج کے منافی نہیں ہے جس کی تعلیم حضرت ابراہیم ؑ نے دی ہے بلکہ یہ اس امر کی شہادت ہے کہ یہ دین فطرت رہبانیت کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی اس عبادت میں بھی دین و دنیا کی بہم آمیزی کا اعتدال…
Read the full tafseer →28۔ 1 یہ فائدے دینی بھی ہیں کہ نماز، طواف اور مناسک حج وعمرہ کے ذریعے سے اللہ کی مغفرت و رضا حاصل کی جائے اور دنیاوی بھی کہ تجارت اور کاروبار سے مال و اسباب دنیا میسر آجائے۔
28۔ 2 بہیمۃ الانعام پالتو جانوروں سے مراد اونٹ، گائے، بکری (اور بھیڑ دنبے) ہیں۔ ان پر اللہ کا نام لینے کا مطلب ان کو ذبح کرنا جو اللہ کے نام لے کر ہی کیا جاتا ہے اور ایام معلومات سے مراد، ذبح کے ایام ' ایام تشریق ہیں، جو یوم (10 ذولالحجہ) اور تین دن اس کے بعد ہیں۔ یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ تک قربانی کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر ایام معلومات سے عشرہ ذوالحجہ اور ایام معدودات سے ایام تشریق مراد لئے جاتے ہیں۔
تاہم یہاں ' معلومات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
15: حج کے کاموں میں ایک اہم کام جانوروں کی قربانی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر انہیں ذبح کیا جائے۔ یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29)
پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔
ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔
وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →7 اصل مقصد تو دینی و اخروی فوائد کی تحصیل ہے مثلاً حج وعمرہ اور دوسری عبادات کے ذریعہ حق تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا اور روحانی ترقیات کے بلند مقامات پر فائز ہونا۔ لیکن اس عظیم الشان اجتماع کے ضمن میں بہت سے سیاسی، تمدنی اوراقتصادی فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ کما لایخفی۔
8 " ایام معلومات " سے بعض کے نزدیک ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور بعض کے نزدیک تین دن قربانی کے مراد ہیں۔ بہرحال ان ایام میں ذکر اللہ کی بڑی فضیلت آتی ہے۔ اسی ذکر کے تحت میں خصوصیت کے ساتھ یہ بھی داخل ہے کہ قربانی کے جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لیا جائے اور بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا جائے۔ ان دنوں میں بہترین…
Read the full tafseer →آیت 28 لِّیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ ”
وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّنْم بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ج ”
”اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ“ سے مراد قربانی 10 ‘ 11 اور 12 ذو الحجہ کے دن ہیں۔ یعنی ایام نحر میں وہ لوگ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کریں۔
Read the full tafseer →37 یہ فائدے صرف دینی ہی نہیں بلکہ اس احتیاع حج سے کئی قسم کے سیاسی، اقتصادی، معاشی اور تمدنی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اور تمام مسلمانوں کو ایک مرکز وحد میسر آتا ہے۔ یہ حج ہی کی برکت تھی کہ قریش مکہ کو جو بیت اللہ کے متولی تھے پورے عرب میں ایک امتیازی مقام حاصل تھا۔ اور یہ حج کی برکت تھی کہ لوٹ مار کے دور میں بھی کم از کم چار مہینے لوگ امن وامان سے سفر کرسکتے تھے۔ یہ حج ہی کی برکت تھی کہ مکہ ایک عالمی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔ اس تجارت سے اگرچہ بیرونی حضرات بھی خاصا فائدہ اٹھاتے تھے۔ تاہم سب سے زیادہ فائدہ۔۔ مکہ ہی کو پہنچتا تھا اور یہ حج کی برکت ہے کہ یہاں سے اٹھائی ہوئی آواز دنیا کے کونے کونے…
Read the full tafseer →39۔ فوائد سے مراد اصلا تو منافع اخروی ہیں مثلا حج، عمرہ رضاء حق، اور تبعا دنیوی بھی مثلا تجارت، البتہ منافع دنیوی کو مستقل مقصود بنالینا ممنوع ہے۔ ظاہرہ یوجب ان یکون قداراید بہ منافع الدین وان کانت التجارۃ جائزۃ ان تراد (جصاص) ویدخل فیھا منافع الدنیا علی وجہ التبع والرخصۃ دون ان تکونھی المقصودۃ بالحج (جصاص) اسلام کے ہر رکن اور ہر عبادت کی طرح حج کے فوائد ومصالح بھی بیشمار ہیں۔ انفرادی وشخصی بھی اور ملی واجتماعی بھی، اور مادی وروحانی بھی، احکام الہی کی تعمیل بجائے خود ایک سب سے بڑی روحانی لذت ہے۔ پھر اسلام کے مولد، سردار اسلام کے وطن اور ان تمام مقامات کی زیارت جن سے اسلام وسردار اسلام دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
آیت نمبر 26 تا 33
ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…
Read the full tafseer →لیشہدوا منافع لہم تاکہ اپنے فوائد کے لئے آموجود ہوں۔
منافع دنیوی اور دینی فوائد جو حج سے مخصوص طور پر ان کو حاصل ہوتے ہیں۔ امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین نے اور سعید بن مسیب نے فرمایا منافع سے اس جگہ مراد ہے عفو و مغفرت۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور (دوران حج میں) نہ فحش کلمہ نہ زبان سے نکالا نہ گناہ کیا ‘ وہ ایسا (بےگناہ ہو کر) لوٹے گا جیسا پیدا ہونے کے وقت تھا۔ متفق علیہ۔ سعید بن جبیر کے نزدیک منافع سے مراد تجارت ہے ‘ زید کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا یہی قول آیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے منافع کا ترجمہ لفظ اسواق (بازار) سے…
Read the full tafseer →(28) تاکہ اپنے فوائد اخروی اور دنیوی کے لیے حاضر ہوں، فوائد آخرت دعا اور اللہ کی عبادت اور فوائد دنیا نفع اور تجارت تاکہ ایام مقررہ یعنی ایام تشریق میں ان مخصوص قربانی کے جانوروں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دیے ہیں اور قربانی کے جانوروں میں سے تم خود بھی کھایا کرو، اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلایا کرو۔
Read the full tafseer →لِّيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ : یعنی لوگ پیدل اور سوار ہو کر حج کے لیے آئیں گے، تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں۔ حج کا اصل مقصد تو عبادت کے ذریعے سے دینی اور اخروی فوائد حاصل کرنا ہے، لیکن ضمناً اس میں بہت سے دنیوی اور ملی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ کے دینی و دنیوی فوائد دونوں ذکر فرمائے ہیں، چناچہ فرمایا : (تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّھُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ) [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرۃ : 810، عن عبد اللّٰہ بن مسعود ؓ ] ”حج…
Read the full tafseer →لِّیَشْھَدُوْا (تاکہ وہ حاضر ہوں)
لام یا تو اذن ؔ کے متعلق ہے یایأتوک کے مَنَافِعَ لَھُمْ (اپنے منافع کیلئے۔ )
منافعؔ کو نکرہ لایا گیا کیونکہ مراد اس سے وہ منافع ہیں جو اس عبادت سے متعلق ہیں خواہ دینی ہوں یا دنیوی۔
منافعِ حج :
وہ صرف اسی میں پائے جاتے ہیں دیگر کسی عبادت میں موجود نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت ابتلائے نفس کیلئے مشروع ہے۔ مثلاً نماز، روزہ اور ابتلائے مال کیلئے مثلاً زکوۃ۔ اور حج ان ہر دو کو شامل ہے۔ نمبر 2۔ اس کے ساتھ دیگر مشاق اور اھوال کو برداشت کرنا، اسباب سے یکسو ہونا۔ دوست و احباب سے منقطع شہروں اور وطنوں سے دوری، اولاد سے الگ تھلک، دوستوں سے انفصال، نمبر 3۔ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب سے مراد ہے کہ ان کو پاکیزہ قول کی طرف الہام کیا گیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول صحابہ کرام جھگڑے کے وقت کفار کو کہتے تے اور ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں۔
3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے اسماعیل بن ابی خالد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول سے مراد ہے قرآن اور آیت وھدو الی صراط الحمید سے مراد ہے اسلام۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدوا الی الطیب من القول سے مراد ہے اخلاص اور آیت وھدوا…
Read the full tafseer →[ لِيَشْهَدُوْا : تاکہ وہ دیکھیں ] [ مَنَافِعَ : فائدہ اٹھانے کی چیزوں کو ] [ لَهُمْ : اپنے لئے ] [ وَيَذْكُرُوا : اور یاد کریں ] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کا نام ] [ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ : معلوم دنوں میں ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ رَزَقَهُمْ : اس نے عطا کیا ان کو ] [ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْانعام : بےزبان مویشیوں میں سے ] [ فَكُلُوْا : پھر تم لوگ کھائو ] [ مِنْهَا : اس میں سے ] [ وَاَطْعِمُوا : اور کھلائو ] [ الْبَاۗىِٕسَ : بدحال کو ] [ الْفَقِيْرَ : محتاج کو ]
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے اہل و عیال کو مکہ مکرمہ کی سر زمین میں آباد کیا تھا اس وقت یہ دعا کی تھی (فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ ) کہ اے رب لوگوں کے دلوں کو ایسا بنا دے جو ان کی طرف مائل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آواز بھی پہنچا دی اور ان کی دعا بھی قبول فرمالی اس وقت سے لے کر آج تک کروڑوں انسان حج وعمرہ کرچکے ہیں ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش ہے کہ کعبہ شریف کو دیکھے اور اس کا طواف کرنے زمین کے دور دراز گوشوں سے مختلف راستوں سے طرح طرح کی سواریوں سے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور حج وعمرہ کرتے ہیں اس میں بہت سے دینی و دنیاوی منافع ہیں مکہ مکرمہ کے رہنے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
37:۔ ” وَ یَذْکُرُوْا الخ “ اس حصے میں بھی چاروں عنوانات مذکور ہیں۔ (1) اللہ کی نذریں نیازیں جائز ہیں۔ (2) اللہ کی تحریمات برحق ہیں۔ (3) تحریمات غیر اللہ باطل ہیں۔ (4) غیر اللہ کی نذر و نیاز حرام ہے۔ ” وَ یَذْکُرُوْا اسْمَ اللّٰه الخ “ میں اللہ کی نیازوں کا حکم ہے کہ قربانی کے ایام (10 تا 12 ذی الحجہ) میں اللہ کے نام کی نذریں دو اور خود بھی کھاؤ اور غرباء اور مساکین کو بھی کھلاؤ۔ ” بَھِیمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں اضافت بیانیہ ہے۔ ” ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ “ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں۔ تفث سے تمام مناسک حج مراد ہیں۔ التفث المنسک کلہ من الوقوف بعرفۃ والسعی بین الصفا والمروۃ ورمی الجمار (روح ج 17…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ربط آیات :
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام اور پورے خطہ حرم شریف کے محترم ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے یہ وعید بھی فرمائی کہ جو شخص اس مقدس سرزمین میں ظلم و زیادتی ، معصیت یا الحاد اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دے گا۔ کیونکہ اس نے حرم پاک جیسے پاک خطے کا تقدس برقرار نہیں رکھا۔
تعمیر بیت اللہ شریف :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر ، حج اور قربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا س واقعہ کو دھیان میں لائو واذ بوانا لابراھیم مکان البیت جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ شریف کی جگہ کو واضح کردیا۔ آپ کے زمانہ تک بیت اللہ شریف کی سابقہ…
Read the full tafseer →لِّيَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ 0ۚ فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ 28ۡ
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
فوائد حج : فقال لیشہد وامنافع لہم، حج کے منافع دو قسم کے ہیں ایک منافع دنیا سو وہ بھی 1 ؎ بیشمار ہیں : (1) تمام اہل مذہب کا ایک جگہ جمع ہونامیل جول کرنا۔ (2) ۔ ایک قوم کا دوسرے سے علم و ہنر میں مستفید ہونا۔ (3) دور دراز کے صحیح صحیح حالات کا بہم پہنچانا (4) پھر اس سے تجارت و دیگر امور دنیا میں فوائد حاصل کرنا (5) تجارت کے منافع سے مستفید ہونا (6) قوت اجتماعیہ اور اخوتِ
1 ؎ حج موت کا بھی نمونہ ہے۔ گھر سے چلنا ‘ اولاد مال کو چھوڑنا گویا دنیا سے گزرنے کو یاد دلاتا ہے۔ پھر کعبہ کے قریب آکر احرام باندھنا گویا کفن میں لپٹنے کا نمونہ ہے پھر احرام میں شکار و جماع وغیرہ مرغوبات سے رکنا ‘ مرنے کے بعد…
Read the full tafseer →لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ج فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْبَآ ئِسَ الْفَقِیْرَ ۔ (الحج : 28)
(تاکہ لوگ اپنے فائدہ کی جگہوں پر پہنچیں اور نام لیں اللہ کا چند جانے پہچانے دنوں میں ان جانوروں پر جو اللہ نے انھیں بخشے ہیں۔ پس اس میں سے کھائو اور فاقہ کش فقیروں کو کھلائو۔ )
حج کی دنیوی برکات
اس آیت کریمہ میں حج کے لیے بیت اللہ میں حاضری کو لوگوں کے لیے نفع آور قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حج میں ان کی حاضری مکہ معظمہ میں انھیں ایسی جگہوں پر پہنچا دیتی تھی جہاں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : ایّام تشریق میں کرنے کے کام۔
حج مسلمانوں کی اجتماعی تربیت گاہ اور عالم اسلام کے مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے رابطہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ مسلمان حج سے روحانی فائدے اٹھانے کے ساتھ، ساتھ ایک دوسرے سے معاشی فوائد بھی حاصل کریں۔ اس لیے ایام تشریق یوم عرفہ کے بعد منٰی میں گزارنے والے دو یا تین ایام کو ایام تشریق کہا جاتا ہے جن میں تجارت کرنا جائز قرار دیا۔ اسلام سے پہلے عرب میں عمومی طور پر حج کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جنھوں نے حج کو تجارتی منڈی بنانے کے ساتھ خاندانی تفاخر کا اسٹیج بنا لیا تھا۔ بالخصوص ایّام تشریق کے دوران کھیل تماشا،…
Read the full tafseer →28: لِّیَشْھَدُوْا (تاکہ وہ حاضر ہوں)
: لام یا تو اذن ؔ کے متعلق ہے یایأتوک کے مَنَافِعَ لَھُمْ (اپنے منافع کیلئے۔ )
نحو : منافعؔ کو نکرہ لایا گیا کیونکہ مراد اس سے وہ منافع ہیں جو اس عبادت سے متعلق ہیں خواہ دینی ہوں یا دنیوی۔
منافعِ حج :
وہ صرف اسی میں پائے جاتے ہیں دیگر کسی عبادت میں موجود نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت ابتلائے نفس کیلئے مشروع ہے۔ مثلاً نماز، روزہ اور ابتلائے مال کیلئے مثلاً زکوۃ۔ اور حج ان ہر دو کو شامل ہے۔ نمبر 2۔ اس کے ساتھ دیگر مشاق اور اھوال کو برداشت کرنا، اسباب سے یکسو ہونا۔ دوست و احباب سے منقطع شہروں اور وطنوں سے دوری، اولاد سے الگ تھلک، دوستوں سے انفصال، نمبر…
Read the full tafseer →28۔ لیشھدوا، تاکہ ان کو حاضر کردے۔ منافع لھم ، سعید بن مسیب کا قول ہے کہ منافع سے اس جگہ مراد ہے عفو و مغفرت۔ سعید بن جبیر کے نزدیک منافع سے مراد تجارت ہے۔ یہی ایک روایت ابن زید سے ہے اور کہا کہ اس سے مراد بازار ہیں۔ مجاہد نے کہا کہ تجار ت بھی مراد ہے اور وہ تمام دنیاوی اور خروی امور مراد ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے۔ ویذکراسم اللہ ، ، اس سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہیں۔ اکثر مفسرین کا قول بھی یہی ہے اور معلومات کہنے سے ان دنوں کی گنتی جاننے کی ترغیب دینامقصود ہے کیونکہ اس عشرے کے خاتمے پر حج کا وقت آتا ہے حضرت علی کا قول ہے کہ ان ایام سے مراد ہے قربانی کا دن اور تین روز اس کے بعد کے۔
عطا سیابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27۔ 29:۔ اوپر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول گزر چکا ہے کہ کعبہ کے تیار ہوجانے کے بعد مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اذان دی کہ اے لوگو ! حج کرنے کے لیے آؤ ‘ اللہ کا گھر تیار ہوگیا ہے اور اس اذان کی یہ تاثیر اللہ تعالیٰ نے اہل قبلہ کے دلوں میں ڈال دی کہ وہ حج اور عمرہ کی نیت سے قیامت تک کعبہ کو جاویں گے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ ‘ سنن بیہقی ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ‘ اذان کے معنی جتلانے کے ہیں۔ نماز سے پہلی جو اذان دی جاتی ہے اس سے نماز کا وقت جتلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذ بوانا لابرھیم مکان البیت) ” اور جب ہم نے مقرر کردی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کی جگہ۔ “ یعنی ہم نے ان کیلئے اسے مہیا کردیا، آپ کو وہاں رہنے کے لئے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا…
Read the full tafseer →حج کے اندر تجارت کرنے کا بیان
قول باری ہے (لیشھد وا منافع لھم تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو ان کے لئے یہاں رکھے گئے ہیں) ابن ابی نجیع نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اس سے تجارت مراد ہے۔ نیز وہ تمام امور مراد ہیں جن کا دنیا اور آخرت سے تعلق ہوتا ہے۔ عاصم بن ابی النجود نے ابو ر زین سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ منافع سے وہ منڈیاں مراد ہیں جو لگا کرتی تھیں، منافع کا ذکر صرف دنیا کے سلسلے میں ہوتا ہے۔ ابو جعفر سے مروی ہے کہ منافع سے مغفرت اور بخشش مراد ہے۔
اصل مقصود دینی منافع ہیں دنیاوی منافع بالتبع ہیں
ابوبکر جصاص کہتے ہیں ظاہر آیت اس امر کا موجب ہے کہ اس میں منافع دین مراد ہیں اگرچہ تجارت مراد…
Read the full tafseer →61 حج کی دنیوی برکات و منافع کا ذکر : سو حج کی دنیاوی برکات و منافع کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ یہ سب حاضر ہوں اپنے طرح طرح کے فائدوں کیلئے جو کہ دنیوی بھی ہیں اور اخروی بھی۔ دنیوی یہ کہ اس میں طرح طرح کی تجارت کے بڑے مواقع ہوتے ہیں جو کہ بالا جماع جائز ہے۔ جبکہ تجارت کو مقصود اصلی نہ بنایا جائے۔ بلکہ یہ اس لحاظ سے مستحسن بھی ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور اس میں مسلمانوں کی اقتصادی قوت کے حصول کے مواقع بھی ہیں۔ نیز اس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں سے ملنے ان سے متعارف ہونے اور ان کے دکھ درد سننے اور احوال جاننے کا موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
اعلان حج
تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…
Read the full tafseer →اصل مقصد تو عبادت کے ذریعے دینی اور اخروی فوائد حاصل کرنا ہے لیکن ضمناً حج میں بہت سے دنیوی اور ملی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ 6 ۔ یعنی ایام تشریق جو قربانی کے دن ہیں۔ (دیکھئے سورة بقرہ :203) ان دنوں میں قربانی جائز ہے مگر اس کا مسنون وقت 10 ذی الحجہ رمی جمرہ عقبہ کے بعد ہے۔ (زادالمعاد) 7 ۔ یعنی اونٹ گائے اور بھیڑ بکری (دیکھئے سورة انعام 143 ۔ 144) 8 ۔ یہ حکم استحباب کے لئے ہے اور اس سے مقصود مشرکین کے طریقہ کی مخالفت ہے کیونکہ وہ اپنی قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ (ابن کثیر) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب اونٹ ذبح فرمائے تو حکم دیا کہ ہر اونٹ کی ایک ایک بوٹی لے کر پکائی جائے۔ پھر…
Read the full tafseer →(22:28) لیشھدوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یشھدوا مضارع منصوب بوجہ عمل لام جمع مذکر غائب۔ تاکہ وہ حاضر آویں۔ بمعنی حاصل کریں۔ یہ یا تو اذن سے متعلق ہے یا یاتوک سے۔
منافع لہم۔ اپنے فائدے۔ دینی۔ رضوان اللہ۔ دنیوی : ذبائح کے گوشت پوست سے حاصل کردہ فائدے اور تجارت (جیسا کہ (2:198) میں ہے لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم۔ تمہیں اس باب میں کوئی مضائقہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کے ہاں سے تلاش معاش کرو۔ یذکروا۔ مضارع منصوب اس کا عطف فعل منصوب ہے یشھدوا پر ہے۔ تاکہ نام لیویں۔ تاکہ ذکر کریں۔
ایام معلومت۔ اس سے مراد قربانی کی تاریخیں ہیں یعنی 10 ۔ 11 ۔ 12 ۔ ذوالحجہ۔ اور بعض کے نزدیک جملہ ایام تشریق ایام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 :
بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
حج کا حکم۔
(ف 2) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر جہاں کے لوگوں کو حج کرنے کی دعوت دی کہا کہ اے لوگو تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور اس کا یہ حکم ہے کہ تم اس کا حج کرو، اللہ تعالیٰ نے وہ آواز مشرق سے مغرب تک سارے جہاں میں پہنچا دی ، یہاں تک کہ جو بچے باپوں کی پشت میں، اور اپنی ماؤں کے رحم میں تھے اور ان کی قسمت میں حج کرنا تھا انہوں نے یہ جواب دیا لبیک اللھم، حضرت حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اذن کا خطاب نبی ﷺ کو ہے چناچہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا اے لوگو اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے تم حج کرو۔ تفسیر احمدی میں ہے کہ اپنے شوق سے ہزاروں خلق…
Read the full tafseer →[22] اصل مقصد تو دینی اور اخروی فوائد کی تحصیل ہے، یعنی حج وعمرہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا اور روحانی ترقیات کے بلند مقامات پر فائز ہونا ہے۔ لیکن اس عظیم الشان اجتماع کے ضمن میں بہت سے سیاسی، تمدنی اوراقتصادی فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
توحید سربلندی ہے ! :
(ف 1) ان آیات میں پہلے تو بیان فرمایا ہے کہ قابل احترام احکام کو عزت تسلیم کی قطروں سے دیکھنا اللہ کے نزدیک بہتر ہے اور اس کے بعد مسائل حج کی طرف رجوع فرمایا ہے ۔
شبہ یہ پیدا ہوتا تھا ، کہ جب احرام کی حالت میں شکار کھیلنا درست نہیں ، تو شاید عام چارپائے بھی حرام ہوں ، اس شبہ کی جواب میں فرمایا کہ چارپائے تمہارے لئے حلال ہیں اور احرام ان کی حلت میں خلل انداز نہیں ہوتا ۔
اس کے بعد ارشاد ہے کہ جب تم اللہ کے احکام کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بت پرستی کی نجات سے بچو ، اور جھوٹ سے پرہیز کرو ، اور خدا کی توحید کی سلسلہ میں عزیمت و…
Read the full tafseer →(28) تاکہ یہ سب آنے والے اپنے اپنے فائدے اور منافع کی غرض سے پہنچ جائیں اور تاکہ قربانی کے مقررہ ایام میں ان چوپایوں کی قسم کے مخصوص جانوروں پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کئے اور روئے ہیں پس اے امت محمدیہ تم ان قربانیوں میں سے خود کھانا چاہو تو کھائو اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلائو۔ منافع سے مراد دینی فائدے اور دنیوی فوائد دونوں ہیں۔ دین کا فائدہ تو ظاہر ہی ہے کہ انسان کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور روحانیت میں بڑی ترقی ہوتی ہے ہر تکلیف حج کی موجب کفارہ ہوتی ہے اور دنیوی فوائد جو عام اجتماع سے ہوتے ہیں ان کا تو شمار ہی ہونا مشکل ہے خواہ وہ تجارت ہو یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 4۔ کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا۔
5۔ یہ ان کے مابعد والوں کو سنان ہے، اور ذکر بیت کے ساتھ اس کا ذکر اس لئے نہایت ہی مناسب ہوا کہ کسی حقیقت ناشناس کو تعظیم بیت سے اور اس کے معبد ہونے سے اس کے معبود ہونے کا ابہام نہ ہوجاوے۔
Read the full tafseer →حج کی غرض سے بیت اللہ کی طرف آنے والوں کی غرض بھی واضح کردی :
28۔ لوگوں کے حج کرنے کی طرف والہانہ چلے آنے کی غرض بھی بیان کردی گئی فرمایا کہ انسان جہاں جاتا ہے اس کی ضروریات بھی اس کے ساتھ ہی جاتی ہیں جب وہاں لوگ اکٹھے ہوں گے تو ان لوگوں کی ضروریات بھی ہوں گی اور وہ ان کو پورا کرنے کے لئے اپنی ضروریات کی اشیاء کو خریدیں گے اور پھر جب خریدنے والے ہوں گے تو کیسے ہو سکتا ہے وہاں بیچنے والے نہ ہوں اور اس خریدنے اور بیچنے میں لوگوں کے لئے منافع رکھا گیا ہے بلاشبہ یہ دنیوی فوائد ہیں اور مذہبی فریضہ ادا کرنے سے اس فریضہ کو ادا کرنے والوں کے گناہ بھی رب ذوالجلال والاکرام معاف فرمائے گا اس طرح جہاں…
Read the full tafseer →لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ (So that they witness benefits for them - 22:28) means that the arduous journey undertaken by people to perform pilgrimage is to their own advantage. The use of the word "benefits" as a common noun (without definite article) points to the universal benefits that may be derived from the pilgrimage. Apart from the spiritual rewards, many material profits may also be obtained. It is indeed remarkable that people who sedulously save pennies over long years in order to be able to defray the high expenses involved in performing the Hajj have never become insolvent,…
Read the full tafseer →48.“The benefits”include both religious and worldly benefits. It was due mainly to the Kabah that during the period of 2500 years between the times of Prophet Abraham and the Prophet (peace be upon them), the Arabs, in spite of their tribal life, remained attached to one central place and continued to visit it from all parts of Arabia for performing Hajj year after year. This in turn preserved their language, their culture and their Arab identity. Then during the course of the year they were afforded at least four months of perfect peace when anybody and everybody could safely travel alone or…
Read the full tafseer →