Al-Hajj 22:27

Al-Hajj · from ayah 27

22:27

وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰی كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ۟ۙوَاَذِّنۡ فِى النَّاسِ بِالۡحَجِّ يَاۡتُوۡكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاۡتِيۡنَ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ

اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کر دو کہ تمہاری پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہو (سوار ہو کر) چلے آئیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And proclaim to the people the Hajj [pilgrimage]; they will come to you on foot and on every lean camel; they will come from every distant pass -

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 4 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:27

اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کر دو کہ تمہاری پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہو (سوار ہو کر) چلے آئیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پا پیاده بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، وہ تیرے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر آئیں گے، جو ہر دور دراز راستے سے آئیں گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز یہ کہ لوگوں میں حج کا عام اعلان کردو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور چھریرے بدن کے اونٹوں پر سوار ہو کر آئیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور لوگوں میں حج کی منادی کرو، وہ تمہارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اور نہایت لاغر اونٹنیوں پر بھی جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی رستوں سے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اعلان کردو لوگوں کے درمیان حج کا، کہ اسکے نتیجے میں وہ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیدل بھی اور طرح طرح کی ان پتلی دبلی اونٹنیوں اور دوسری قسما قسم کی سواریوں پر بھی جو چلی آئیں گی ہر دور دراز مقام سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو لوگ تمہارے پاس پیدال بھی آئیں گے اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور لوگوں میں حج کی منادی کر دو آئیں گے آپ ؑ کے پاس لوگ پیدل بھی اور بڑی لاغر اونٹنیوں پر بھی جو پہنچیں گی دور دراز گہری وادیوں میں سے ہو کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیدل بھی اور دبلی پتلی اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز راستوں سے پہنچتی ہوں گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and publicly proclaim Pilgrimage for all mankind so that they come to you on foot and mounted on lean camels from every distant point

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and announce among people about (the obligation of) Hajj, so that they should come to you on foot, and on every camel turned lean, traveling through every distant hilly pathway,

— Muhammad Taqi Usmani

and announce among people about (the obligation of) Hajj, so that they should come to you on foot, and on every camel turned lean, traveling through every distant hilly pathway,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And proclaim to mankind the Hajj (pilgrimage). They will come to you on foot and on every lean camel, they will come from every Fajj `Amiq.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And proclaim unto mankind the pilgrimage. They will come unto thee on foot and on every lean camel; they will come from every deep ravine,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And proclaim to the people the Hajj [pilgrimage]; they will come to you on foot and on every lean camel; they will come from every distant pass -

— Saheeh International

(We commanded Abraham), "Call people for hajj - an act of worship accomplished by visiting the sacred sites in Mecca." They will come on foot and on lean camels from all the distant quarters

— Muhammad Sarwar

And proclaim among men the Pilgrimage: they will come to you on foot and on every lean camel, coming from every remote path,

— Muhammad Habib Shakir

And proclaim thou among mankind the pilgrimage; they shall come unto thee on foot and on any lean mount, coming from every deep defile.

— Abdul Majid Daryabadi

"And proclaim the Pilgrimage among men: they will come to thee on foot and (mounted) on every kind of camel, lean on account of journeys through deep and distant mountain highways;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

مسجد حرام کی اولین بنیاد توحید یہاں مشرکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ گھر جس کی بنیاد اول دن سے اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے تم نے اس میں شرک جاری کردیا۔ اس گھر کے بانی خلیل اللہ ؑ ہیں سب سے پہلے آپ نے ہی اسے بنایا۔ آنحضور ﷺ سے ابوذر ؓ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ فرمایا مسجد حرام۔ میں نے کہا پھر ؟ فرمایا بیت المقدس۔ میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے ؟ فرمایا چالیس سال کا۔ اللہ کا فرمان ہے آیت (اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ للنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ 96؀ۚ) 3۔ آل عمران :96) ، دو آیتوں تک۔ اور آیت میں ہے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 46 اصل میں لفظ ضامر، استعمال ہوا ہے جو خاص طور پر دبلے اونٹوں کے لیے بولتے ہیں۔ اس سے ان مسافروں کی تصویر کھینچنا مقصود ہے جو دور دراز مقامات سے چلے آ رہے ہوں اور راستے میں ان کے اونٹ چارہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے دبلے ہوگئے ہوں۔ سورة الْحَجّ 47 یہاں وہ حکم ختم ہوتا ہے جو ابتداءً حضرت ابراہیم کو دیا گیا تھا، اور آگے کا ارشاد اس پر اضافہ ہے جو بطور تشریح مزید کیا گیا ہے۔ ہماری اس رائے کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کا خاتمہ اس قدیم گھر کا طواف کریں " پر ہوا ہے، جو ظاہر ہے کہ تعمیر خانہ کعبہ کے وقت نہ فرمایا گیا ہوگا۔ (حضرت ابراہیم کی تعمیر خانہ کعبہ کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسرا حکم حضرت ابراہیم ؑ کو یہ دیا گیا کہ وَاَذِّنْ فِي النَّاس بالْحَجِّ ، یعنی لوگوں میں اعلان کر دیجئے کہ اس بیت اللہ کا حج تم پر فرض کردیا گیا ہے۔ بغوی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب ابراہیم ؑ کو فرضیت حج کے اعلان کا حکم ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ (یہاں تو جنگلی میدان ہے کوئی سننے والا نہیں) جہاں آبادی ہے وہاں میری آواز کیسے پہنچے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کی ذمہ داری صرف اعلان کرنے کی ہے اس کے ساری دنیا میں پہنچانے اور پھیلانے کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ ابراہیم ؑ نے مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت اونچا کردیا اور بعض…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رجال راجل کی جمع ہے جس کے معنی پیادہ چلنے والوں کے ہیں، ضامن اس اونٹ یا اونٹنییا گھوڑے کو کہتے ہیں جو طول سفر سے لاغر ہوگیا ہو یہ لفظ مذکر و مئونث دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ لفظ کل اس کے ساتھ صفت کی تاکید کے طور پر ہے مثلاً کہیں گے ھو العالم کل العالم (وہ نہایت جید عالم ہے) نج پہاڑوں کے درمیان کے راستہ کو کہتے ہیں اور عمیق اسی کی صفت ہے۔ پہاڑی راستے چونکہ تنگ ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ کثرت آمد و رفت سے گہرے ہوجاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ……منادی عام یعنی حضرت ابراہیم کو اس گھر سے متعلق ایک ہدایت تو وہ ہوئی تھی جو اوپر کی آیت میں مذکور ہوئی دوسری ہدیات یہ ہونا تھی کہ وہ اس گھر کے حج کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 جو چارے کی قلت اور سفر کی دوری اور تھکاوٹ سے لاغر اور کمزور ہوجائیں گے۔ 27۔ 2 یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ مکہ کے پہاڑ کی چوٹی سے بلند ہونے والی یہ نحیف سی صدا، دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی، جس کا مشاہدہ حج اور عمرے میں ہر حاجی اور معتمر کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

15: حج کے کاموں میں ایک اہم کام جانوروں کی قربانی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر انہیں ذبح کیا جائے۔ یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–29

واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29) پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔ ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔ وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 جب کعبہ تعمیر ہوگیا تو ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پکارا کہ لوگو ! تم پر اللہ نے حج فرض کیا ہے حج کو آؤ۔ حق تعالیٰ نے یہ آواز ہر طرف ہر ایک روح کو پہنچا دی (بلا تشبیہ جیسے آجکل ہم امریکہ یا ہندوستان میں بیٹھ کر لندن کی آوازیں سن لیتے ہیں) جس کے لیے حج مقدر تھا اس کی روح نے لبیک کہا۔ وہ ہی شوق کی دبی ہوئی چنگاری ہے کہ ہزاروں آدمی پا پیادہ تکلیفیں اٹھاتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں اور بہت سے اتنی دور سے سوار ہو کر آتے ہیں کہ چلتے چلتے اونٹنیاں تھک جاتی اور دبلی ہوجاتی ہیں، بلکہ عموماً حاجیوں کو عمدہ سانڈنیاں کہاں ملتی ہیں ان ہی سوکھے دبلے اونٹوں پر منزلیں قطع کرتے ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 وَاَذِّنْ فِی النَّاس بالْحَجِّ ” اس حکم کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیسے اعلان کیا ہوگا ‘ کس طرح لوگوں کو پکارا ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پیغام اور پکار کو کہاں کہاں تک پہنچایا ہوگا ‘ یہ معاملہ اللہ اور ان کے درمیان ہے۔ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ” پہاڑوں کے درمیان کے راستہ کو ”فَجّ“ کہتے ہیں۔ اس سے مکہ کی مضافاتی وادیوں اور گھاٹیوں کی طرف اشارہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے دور و نزدیک سے لوگ آئیں گے۔ ان میں پیدل بھی ہوں گے اور سوار بھی۔ وہ دورو نزدیک کے گہرے پہاڑی راستوں کو عبور کرتے ہوئے یہاں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان عام کردو کہ وہ حج کے لئے یہاں آئیں۔ حضرت ابراہیم کہنے لگے یہاں میری آواز کون سنے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اعلان کردو۔ آواز پہنچا دینا میرا کام ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم نے ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر پکارا : لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ لہذا حج کو آؤ۔ اور اللہ نے یہ آواز ہر اس شخص اور اس روح تک پہنچا دی جس کے لئے حج مقدر تھا اور اس کی روح نے اس اعلان پر لبیک کہا۔ 36 یہاں ضامر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ضامر وہ جانور ہے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سدھارنے اور مشن کی کثرت اور کسرت کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

38۔ مقصود یہ ہے کہ جو آنے والے ہیں ہر حال میں آئیں گے۔ خواہ سواری نصیب نہ ہو، پیدل ہی آنا پڑے۔ سواری کے جانور ملیں مگر مشقت سفر سے وہ ہلکان ہوہوجائیں۔ یا مسافت بہت دور دراز کی طے کرنا پڑے (ملاحظہ ہو ضمیمہ سورة ہذا) ابراہیم (علیہ السلام) کو اس اعلان کا حکم اس وقت ملا تھا جب دنیا نہ تار سے واقف تھی نہ ٹیلیفوں سے نہ مائیکروفون سے نہ لاؤڈ اسپیکر سے۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا معلوم کس لاہوتی اسٹیشن سے اور کس ملکوتی میٹر پر اس پیام کو نشر کیا کہ روئے زمین کے ہر براعظم کے ایک ایک گوشہ میں سمندر کے ایک ایک جزیرہ میں یہ آواز پہنچ گئی اور ہزاروں برس گزر چکے کہ خلقت آج تک اس بےآب وگیاہ سرزمین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–33

آیت نمبر 26 تا 33 ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذن فی الناس بالحج اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو ۔ بغوی نے لکھا ہے ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو جب اعلانِ حج کا حکم دیا گیا تو آپ نے عرض کیا میری آواز کیسے پہنچے گی ‘ اللہ نے فرمایا تمہارا کام اعلان کرنا اور پکارنا ہے اور پہنچانا میرا ذمہ ہے۔ حضرت ابراہیم مقام ابراہیم پر کھڑے ہوئے فوراً وہ مقام اٹھ کر بلند ترین پہاڑ کے برابر ہوگیا ‘ حضرت ابراہیم نے اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں رکھ کر چہرے کو دائیں بائیں اور مشرق کی طرف گھماتے ہوئے کہا لوگو ! تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور تم پر اس کا حج کرنا فرض کردیا ہے ‘ اپنے رب کی دعوت کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) اور اپنی اولاد میں حج کی فرضیت کا اعلان کر دو ، اس اعلان سے لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے، پیدل بھی اور جو اونٹنیاں سفر کی وجہ سے دبلی ہوگئی ہیں ان پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز رستوں سے پہنچی ہوں گی۔ شان نزول : (آیت) ”وعلی کل ضامر“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ حج کے زمانہ میں لوگ سواری پر سوار نہیں ہوتے تھے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی یعنی لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور کمزور اونٹنیوں پر بھی سوار ہونے اور کرایہ پر سواری کرنے کی اجازت دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَذِّنْ فِي النَّاس بالْحَجِّ۔۔ : حج کا لفظی معنی قصد ہے، مراد اللہ کے گھر کا قصد ہے، اس نیت سے کہ وہ قولی، بدنی اور مالی عبادات ادا کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے یہاں مقرر فرمائی ہیں۔ ”رِجَالًا“ ”رَاجِلٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”نَاءِمٌ“ کی جمع ”نِیَامٌ“ ہے، یعنی پیدل چلنے والے۔ ”ضَامِرٍ“ سواری کا وہ جانور جسے چارے کی قلت اور سفر نے تھکا کر دبلا کردیا ہو۔ ”فَجٍّ“ دو پہاڑوں کے درمیان کھلے راستے کو کہتے ہیں، مکہ کے راستے میں اکثر پہاڑوں سے گزر ہوتا ہے، اس لیے اس کے راستوں کو ”فَجٍّ“ کہہ دیا ہے۔ ”عَمِيْقٍ“ کا لفظی معنی گہرا ہے، مراد دور کا سفر ہے، دور کی مسافت کو کنویں کی گہرائی سے مشابہت دی ہے۔ پنجابی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وَاَذِّنْ فِیْ النَّاسِ بِالحَجِّ (اور تم لوگوں میں حج کا اعلان کردو) ان میں آوازلگائو۔ الحجؔ خاص مقصد کیلئے خاص قصد کرنا۔ روایت میں ہے آپ جبل ابوقبیس پر چڑھے اور اس طرح اعلان فرمایا اے لوگو ! اپنے رب کے گھر کا حج کرو۔ تو جن کی قسمت میں حج مقدر تھا انہوں نے اصلاب وار حام سے لبیک اللھم لبیک کہہ کر جواب دیا۔ قول حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے کہ آپ حجۃ الوداع میں یہ اعلان فرما دیں مگر پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور جواب امر یہ آیت ہے۔ یَاْتُوْکَ رِجَالًا (تیرے پاس لوگ پیدل آئیں گے) رجال جمع راجل۔ پیدل۔ جیسا کہ قائم و قیام ہے۔ وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ (اور ہر کمزورو لاغراونٹیوں پر)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–28

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب سے مراد ہے کہ ان کو پاکیزہ قول کی طرف الہام کیا گیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول صحابہ کرام جھگڑے کے وقت کفار کو کہتے تے اور ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے اسماعیل بن ابی خالد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول سے مراد ہے قرآن اور آیت وھدو الی صراط الحمید سے مراد ہے اسلام۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدوا الی الطیب من القول سے مراد ہے اخلاص اور آیت وھدوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَذِّنْ : اور آپ (علیہ السلام) اعلان کریں ] [ فِي النَاسِ : لوگوں میں ] [ بِالْحَجِّ : حج کے لئے ] [ يَاْتُوْكَ : تو وہ لوگ آئیں گے آپ (علیہ السلام) کے پاس ] [ رِجَالًا : پیدل چلنے والے ہوتے ہوئے ] [ وَّعَلٰي كُلِ ضَامِرٍ : اور ہر ایک دبلی پتلی (سواری) پر ] [ يَاْتِيْنَ : وہ سب (سواریاں) آئیں گی ] [ مِنْ كُلِ فَجٍّ عَمِيْقٍ : ہر ایک کشادہ دور دراز راستوں سے ] ض م ر [ ضُمُوْرً : (ن) دبلا پتلا ہونا۔ نحیف و لاغر ہونا۔ ضَامِرٌ فَاعِلٌ کے وزن پر صفت۔ دبلا۔ لاغر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 27 ع م ق [ عُمْقًا : (س۔ ک) (1) دور دراز ہونا۔ لمبا یا طویل ہونا۔ (2) گہرا ہونا۔ عَمِیْقٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ اَذِّنْ فِی النَّاس بالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا) (الآیۃ) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ساتھ ملا کر کعبہ شریف کی تعمیر پوری کرلی تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انہیں حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو یعنی پکارو کہ حج کے لیے چلے آؤ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں لوگوں میں اس بات کا کیسے اعلان کروں حالانکہ میری آواز نہیں پہنچ سکتی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تم پکارو آواز کا پہنچانا ہمارے ذمہ ہے چناچہ صفا پر اور ایک قول کے مطابق جبل ابو قبیس پر کھڑے ہو کر انہوں نے یوں آواز دے دی یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–38

مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–27

35:۔ دوسرا حصہ۔ نفی شرک فعلی :۔ ” وَ اِذْ بَوَّانَا الخ “ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے اس میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دلیل نقلی ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے خانہ کعبہ کی اصل جگہ بتائی جہاں انہوں نے اس کی تعمیر کی تاکہ آنے والی نسلیں اس میں اللہ کی خالص عبادت کیا کریں۔ بینا لہ مکان البیت لیبنیہ ویکون مباء ه لعقبہ یرجعون و یحجونہ (روح ج 17 ص 141) ۔ مشرکین سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرو کیونکہ وہ اولاد ابراہیم میں اور ملت ابراہیمی کے پیرو کار ہونے کے مدعی ہیں انہوں نے کس طرح بیت اللہ کی تعمیر کی اور پھر اسے ہر قسم کے شرک سے پاک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–29

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام اور پورے خطہ حرم شریف کے محترم ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے یہ وعید بھی فرمائی کہ جو شخص اس مقدس سرزمین میں ظلم و زیادتی ، معصیت یا الحاد اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دے گا۔ کیونکہ اس نے حرم پاک جیسے پاک خطے کا تقدس برقرار نہیں رکھا۔ تعمیر بیت اللہ شریف : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر ، حج اور قربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا س واقعہ کو دھیان میں لائو واذ بوانا لابراھیم مکان البیت جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ شریف کی جگہ کو واضح کردیا۔ آپ کے زمانہ تک بیت اللہ شریف کی سابقہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۝ 27ۙ اذن ( تأذين) : كل من يعلم بشیءٍ نداءً ، قال عالی: ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ [يوسف/ 70] ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ [ الأعراف/ 44] ، وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ [ الحج/ 27] اذنتہ بکذا او اذنتہ کے ایک معنی ہیں یعنی اطلاع دینا اور اعلان کرنا اور اعلان کرنے والے کو مؤذن کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ } ( سورة يوسف 70) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ اے قافلے والو ۔ { فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ } ( سورة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

واذن فی الناس حسن اور اکثر معتزلہ کہتے ہیں کہ یہاں سے خطاب آنحضرت ﷺ کی طرف ہے پہلا کلام تمام ہوچکا یعنی اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! لوگوں میں حج کا اعلان کر دو وہ تمہارے پاس حج کرنے نزدیک و دور سے چلے آئیں گے۔ یہ آیت فرضیت حج کے لیے ہے۔ جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ یہی جملہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق ہے اس میں انہیں کی طرف خطاب ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ تعمیر کرچکے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم لوگوں میں حج کے لیے پکار دو تاکہ لوگ حج کو آویں۔ اس میں یہ مراد ہے کہ اے قریش مکہ ! تم جو ان لوگوں کو مسجد الحرام سے روکتے ہو نہ صرف خدا تعالیٰ بلکہ اپنے بزرگ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْ تُوْکَ رِجَالًاوَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ۔ (الحج : 27) ( اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو وہ تمہارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اور نہایت لاغر اونٹیوں پر بھی۔ جو آئیں گی دو ردراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔ ) مشکل الفاظ کا معنی۔ رجالراجل کی جمع ہے۔ جس کے معنی ہیں پیادہ چلنے والے۔ ضامر اس اونٹ یا اونٹنی یا گھوڑے کو کہتے ہیں جو طول سفر کی وجہ سے لاغر ہوجاتا ہے۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فجّ ” پہاڑوں کے درمیانی راستہ “ کو کہتے ہیں۔” درّے “ پر بھی بولا جاتا ہے۔” عمیق “ اس کی صفت ہے۔ پہاڑی راستے چونکہ تنگ ہوتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : تعمیر کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اعلانِ حج کا حکم۔ حضرت خلیل (علیہ السلام) تعمیرکعبہ سے فارغ ہوئے اور رب جلیل کے حضور اپنی مناجات پیش کرلیں تو حکم ہوا ‘ اے ابراہیم (علیہ السلام) پہاڑ پر چڑھ جاؤ اور چاروں طرف اعلان کرو کہ اے لوگو ! تمہارے رب کا گھر تیار ہوچکا ہے لہٰذا اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے حاضر ہوجاؤ۔ ابراہیم (علیہ السلام) عرض کرنے لگے : اے اللہ ! میں کمزور ہوں ‘ میری آواز ساری دنیا میں کس طرح پہنچے گی۔ حکم ہوا ‘ اے ابراہیم (علیہ السلام) تیرا کام آواز دینا ہے ہمارا کام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ” عَلَےْکَ الإِْذْنُ وَعَلَےْنَا الْبَلاَغُ “ علامہ ابن کثیر ؓ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27: وَاَذِّنْ فِیْ النَّاسِ بِالحَجِّ (اور تم لوگوں میں حج کا اعلان کردو) ان میں آوازلگائو۔ الحجؔ خاص مقصد کیلئے خاص قصد کرنا۔ روایت میں ہے آپ جبل ابوقبیس پر چڑھے اور اس طرح اعلان فرمایا اے لوگو ! اپنے رب کے گھر کا حج کرو۔ تو جن کی قسمت میں حج مقدر تھا انہوں نے اصلاب وار حام سے لبیک اللھم لبیک کہہ کر جواب دیا۔ قول حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے کہ آپ حجۃ الوداع میں یہ اعلان فرما دیں مگر پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور جواب امر یہ آیت ہے۔ یَاْتُوْکَ رِجَالًا (تیرے پاس لوگ پیدل آئیں گے) رجال جمع راجل۔ پیدل۔ جیسا کہ قائم و قیام ہے۔ وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ (اور ہر کمزورو لاغر اونٹیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27۔ واذن فی الناس۔ اور لوگوں میں اس کا اعلان کرو۔ بالحج، حضرت ابراہیم نے عرض کی، اے اللہ میری آواز کو پوری دنیا تک کون پہنچائے گا، حکم ہوا آپ کے اوپر اعلان کرنا ہے پہنچانا ہمارا کام ہے۔ حضرت ابراہیم مقام ابراہیم پر کھڑے ہوئے فورا مقام اٹھ کر بلندترین مقام کے برابر ہوگیا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی دونوں انگلیوں دونوں کانوں میں رکھ کرچہرے کو دائیں اور بائیں اور مشرق کی طرف گھماتے ہوئے کہالوگو تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور تم پرس کا حج کرنا فرض کردیا ہے۔ اپنے رب کی دعوت قبول کرو۔ سب نے باپوں کی پشت اور ماؤں کے پیٹ کے اندر سے ، لبیک اللھم لبیک، کہاحضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ سب سے پہلے، لبیک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–29

27۔ 29:۔ اوپر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول گزر چکا ہے کہ کعبہ کے تیار ہوجانے کے بعد مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اذان دی کہ اے لوگو ! حج کرنے کے لیے آؤ ‘ اللہ کا گھر تیار ہوگیا ہے اور اس اذان کی یہ تاثیر اللہ تعالیٰ نے اہل قبلہ کے دلوں میں ڈال دی کہ وہ حج اور عمرہ کی نیت سے قیامت تک کعبہ کو جاویں گے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ ‘ سنن بیہقی ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ‘ اذان کے معنی جتلانے کے ہیں۔ نماز سے پہلی جو اذان دی جاتی ہے اس سے نماز کا وقت جتلایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–29

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذ بوانا لابرھیم مکان البیت) ” اور جب ہم نے مقرر کردی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کی جگہ۔ “ یعنی ہم نے ان کیلئے اسے مہیا کردیا، آپ کو وہاں رہنے کے لئے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–27

فرضیت حج قول باری ہے (واذن فی الناس بالحج اور لوگوں کو حج کے لئے اذن عام دے دو ۔ ) معمر نے لیث سے اور انہوں نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اس حکم پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا۔” باری تعالیٰ ! میں انہیں کس طرح حج کے لئے بلائوں ؟ “ حکم ہوا ۔” یہ اعلان کرو، لوگو ! حاضر ہو جائو، لوگو ! حاضر ہو جائو۔ “ اسی سے تلبیہ لبیک اللھم لبیک بنا۔ عطاء بن الصائب نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر مکمل کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیج کر لوگوں کو حج کے لئے بلانے کو کہا۔ چناچہ حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

57 حضرت ابراہیم کو اعلانِ حج کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اعلان کردو لوگوں کے درمیان حج کا "۔ یعنی اس بات کا کہ لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس گھر کا حج فرض ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعِ اِلَیْہِ سَبِیْلاً } ۔ (آل عمران : 97) ۔ روایات میں ہے کہ اس موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے عرض کیا کہ مالک، میری آواز کہاں تک پہنچے گی۔ فرمایا تم آواز لگاؤ پہنچانا ہمارے ذمے ہے۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) نے جبل ابوقبیس پر چڑھ کر آواز لگائی تو اللہ پاک نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ آواز تمام بنی نوع…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–36

اعلان حج تشریح : آج جو حاجی ” لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “ حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ “ یہ پڑھتے ہوئے حج اور عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو یہ اسی اعلان کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ مکمل ہونے پر حج کے لیے لوگوں کو بلانے کے لیے کیا تھا۔ شان خداوندی ہے کہ اس اعلان کے جواب میں مقررہ تاریخوں پر پوری دنیا سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف سفر کرنے لگتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ پھر حج کے دنیاوی فائدوں کی بات کی گئی دینی فریضہ تو یہ ہے ہی۔ حج بہت بڑی عبادت یعنی ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔ اور دنیاوی فائدہ تجارت کی اجازت ہے۔ دوسرا فائدہ وہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–33

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 وہ اونٹ جسے چارہ کی قلت اور سفر نے تھکا کر دبلا کردیا ہو۔ 4 ۔ چناچہ ابراہیم ( علیہ السلام) نے ایک پہاڑی پر چڑھ کر یہ اعلان کیا اور سب نے ان کی پکار کا جواب دیا لبیک اللھم لبیک۔ (شوکانی) 5

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:27) اذن۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو پکار ۔ تو اعلان کر۔ تاذین (تفعیل) سے۔ الاذان ای الاعلام والاعلان۔ یاتوک۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) جمع مذکر غائب ک واحد مذکر حاضر۔ وہ تیرے پاس آئیں گے۔ (یعنی اس گھر کی طرف آئیں گے جسے تو نے تعمیر کیا ہے یعنی بیت الحرام ۔ رجالا۔ پائوں چلتے ہوئے۔ پائوں پیادہ۔ راجل کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکاب۔ رجل سے مشتق ہے جس کے معنی پائوں کے ہیں۔ اسی مناسبت سے پائوں پیادہ کو راجل کہتے ہیں۔ یاتوک سے موضع حال میں ہے لہٰذا منصوب ہے۔ ضامر۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ دبلا۔ جس کی کمر پتلی ہو اور پیٹ بیٹھ گیا ہو۔ ضمور سے یہاں مراد سواری کا وہ جانور (اونٹ یا گھوڑا) جو دیر تک یا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–33

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 : بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–29

حج کا حکم۔ (ف 2) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر جہاں کے لوگوں کو حج کرنے کی دعوت دی کہا کہ اے لوگو تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور اس کا یہ حکم ہے کہ تم اس کا حج کرو، اللہ تعالیٰ نے وہ آواز مشرق سے مغرب تک سارے جہاں میں پہنچا دی ، یہاں تک کہ جو بچے باپوں کی پشت میں، اور اپنی ماؤں کے رحم میں تھے اور ان کی قسمت میں حج کرنا تھا انہوں نے یہ جواب دیا لبیک اللھم، حضرت حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اذن کا خطاب نبی ﷺ کو ہے چناچہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا اے لوگو اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے تم حج کرو۔ تفسیر احمدی میں ہے کہ اپنے شوق سے ہزاروں خلق…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–27

حج کا فلسفہ : (ف 2) بیت اللہ جو آج تمام مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے ، اس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی ہدایات کے ماتحت تعمیر کیا ، اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا ، کہ اس مقام کو تمام اسلامی دنیا کے لئے روحانی اعتبار سے ملجاوماوی بنا دیا جائے ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوششیں منظور ہوئیں ، اور وہ آواز جو جنگل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے منہ سے نکلی تھی ، ہر خدا پرست کے کانوں تک پہنچی ، اور آج تک اس کا یہ اثر ہے ، کہ دنیا کے اکناف و اطراف سے لوگ کھنچے ہوئے اس مرکز رشد وہدایت کی طرف چلے آرہے ہیں ، دیکھئے کتنا خلوص اور کس درجہ روحانیت اور مقبولیت ہے کہ وہ گھر جو صنعت وحرفت کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور لوگوں میں حج کے فرض ہونے کا اعلان کردے اس کا اعلان سے لوگ تیرے پاس پاپیادہ یعنی پائوں چلتے آویں گے اور ان دبلی دبلی اونٹنیوں پر سوار ہوکر بھی جو دور دراز کی راہ طے کرکے آئی ہونگی۔ یعنی حج کی فرضیت کا اعلان کرایا ابراہیم (علیہ السلام) سے آنے والوں کی دو ہی صورتیں ہوسکتی تھیں۔ قریب کے رہنے والے پیدل آکر حج کریں گے اور دور کے رہنے والے سواریوں پر آکر فریضہ ٔ حج ادا کریں گے۔ تیرے پاس آنے والے سے مطلب یہ ہے کہ تیرے تعمیر کردہ کعبہ کے پاس آئیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک پہاڑ پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پکارا کہ لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے حج کو آئو۔ باپ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–28

ف 4۔ کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا۔ 5۔ یہ ان کے مابعد والوں کو سنان ہے، اور ذکر بیت کے ساتھ اس کا ذکر اس لئے نہایت ہی مناسب ہوا کہ کسی حقیقت ناشناس کو تعظیم بیت سے اور اس کے معبد ہونے سے اس کے معبود ہونے کا ابہام نہ ہوجاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بیت اللہ کی تعمیر کے بعد وہاں مراسم حج ادا کرنے کے اعلان کا حکم الہی : 27۔ بیت اللہ کی تعمیر کی غرض وغایت ایک تو وہ تھی جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا جا چکا ہے اور دوسری غرض یہ تھی کہ بیت اللہ اور اس کے قرب و جوار میں حج بیت اللہ کا مذہبی فریضہ ادا کیا جائے اس لئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ لوگوں کو بیت اللہ کے حج کی دعوت عام دو تاکہ لوگ دور دراز سے سفر کرکے بیت اللہ کی طرف آئیں اور مناسک حج ادا کریں ۔ ہم آپ کو جب بات کا حکم دے دیں وہ کریں اور پھر دیکھیں کہ لوگ کس طرح جوق در جوق دنیا کی تمام دور دراز راہوں سے یہاں آیا کریں گے پاپیادہ بھی اور ہر طرح کی سواریوں پر بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The third command given to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was أَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ (Announce among people about the obligation of Hajj - 22:2'7). Ibn Abi Hatim has related from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was commanded by Allah to make this proclamation, he submitted that the place where he stood was an uninhabited desolate plane with nobody to hear the proclamation whereas he lacked the means to convey it to the populated areas. Allah Ta’ ala then told him that he was required only to make the proclamation and the responsibility for conveying it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

46. The expression lean camels has been deliberately used to depict the picture of the camels of pilgrims coming from far off places to perform Hajj. 47. In my opinion the address to Prophet Abraham (peace be upon him) comes to an end with (verse 27, and verses 28- 29) have been added to emphasize and give further instructions for the performance of Hajj. We have based this opinion on the use of the epithet Ancient House of the Kabah. It could not have been used at the time when Prophet Abraham (peace be upon him) built it. (For further details about the construction of the Kabah see (Surah…

Read the full tafseer →