Explained with ayahs 26–27
مسجد حرام کی اولین بنیاد توحید
یہاں مشرکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ گھر جس کی بنیاد اول دن سے اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے تم نے اس میں شرک جاری کردیا۔ اس گھر کے بانی خلیل اللہ ؑ ہیں سب سے پہلے آپ نے ہی اسے بنایا۔ آنحضور ﷺ سے ابوذر ؓ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ فرمایا مسجد حرام۔ میں نے کہا پھر ؟ فرمایا بیت المقدس۔ میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے ؟ فرمایا چالیس سال کا۔ اللہ کا فرمان ہے آیت (اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ للنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ 96ۚ) 3۔ آل عمران :96) ، دو آیتوں تک۔ اور آیت میں ہے ہم نے…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 45
بعض مفسرین نے " پاک رکھو " پر اس فرمان کو ختم کردیا ہے جو حضرت ابراہیم کو دیا گیا تھا، اور " حج کے لیے اذن عام دے دو " کا خطاب نبی ﷺ کی طرف مانا ہے۔ لیکن انداز کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ خطاب بھی حضرت ابراہیم ہی کی طرف ہے اور اسی حکم کا ایک حصہ ہے جو ان کو خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت دیا گیا تھا۔ علاوہ بریں مقصود کلام بھی یہاں یہی بتانا ہے کہ اول روز ہی سے یہ گھر خدائے واحد کی بندگی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور تمام خدا پرستوں کو یہاں حج کے لیے آنے کا اذن عام تھا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اس قصہ کا تذکرہ کیجئے) جب کہ ہم نے ابراہیم ؑ کو خانہ کعبہ کی جگہ بتلا دی (کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا اور حکم دیا) کہ (اس مکان کو عبادت کے لئے تیار کرو اور اس عبادت میں) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا (یہ دراصل ان کے بعد کے لوگوں کو سنانا تھا اور بناء بیت اللہ کے ساتھ شرک کی ممانعت کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ بیت اللہ کی طرف نماز اور اس کا طواف کرنے سے کسی جاہل کو یہ شبہ نہ ہوجائے کہ یہی معبود ہے) اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے اور (نماز میں) قیام اور رکوع و سجود کرنے والوں کے واسطے (ظاہری اور باطنی نجاسات یعنی کفر و شرک سے) پاک رکھنا (یہ بھی دراصل دوسروں کو…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم اور بیت اللہ کی صحیح تاریخ
اب یہ حضرت ابراہیم ؑ اور بیت اللہ کی تاریخ بیان ہو رہی ہے تاکہ قریش پر یہ اچھی طرح واضح ہوجائے کہ جن مقاصد کے لئے اللہ نے حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل (علیہما السلام) سے یہ گھر تعمیر کرایا تھا وہ سارے ہی مقاصد انہوں نے برباد کر کے رکھ دیئے ہیں اس وجہ سے یہ سزا وار ہیں کہ ابیہاں سے بےدخل ہوں اور وہ لوگ اس کے ذمہ دار بنائے جائیں جو اس عظیم امانت الٰہی کا حق ادا کرنے والے ہوں۔
واذبوانا لابراھیم مکان البیت ! تبویہ کے معنی ٹکانے ٹھہرانے آباد کرن اور بسان یکے ہیں، یعنی تاریخ کی اس سرگزشت کو یاد کرو جب کہ ہم نے خاص اپنے حکم سے ابراہیم کی ہجرت کے بعد، ان کو اور…
Read the full tafseer →26۔ 1 یعنی بیعت اللہ کی جگہ بتلا دی اور وہاں ہم نے ذریت ابراہیم ؑ کو ٹھہرایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح ؑ کی ویرانی کے بعد خانہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے ہاتھوں سے ہوئی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا ' سب سے پہلی مسجد جو زمین میں بنائی گئی، مسجد حرام ہے، اور اس کے چالیس سال بعد مسجد اقصٰی تعمیر ہوئی '
(مسند احمد 5۔ 150، 166، 167 و مسلم کتاب المساجد)
4 یہ خانہ کعبہ کی تعمیر کی غرض بیان کی کہ اس میں صرف میری عبادت کی جائے اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ مشرکین نے اس میں جو بت سجا رکھے ہیں جن کی وہ یہاں آکر عبادت کرتے ہیں یہ ظلم صریح ہے کہ جہاں…
Read the full tafseer →14: جیسا کہ سورة بقرہ : 127 میں گذر چکا ہے، بیت اللہ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے تعمیر ہو کر منہدم ہوگیا تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ جگہ بتائی جہاں بیت اللہ کو دوبارہ تعمیر کرنا منظور تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
واذا بوانا ………بالبیت العتیق (29)
پہلے دن سے یہ گھر توحید کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اس کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اس بنیاد پر اس کی تعمیر کریں۔
ان لا تشرک بی شیئاً (22 : 25) ” میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ کیونکہ یہ صرف اللہ کا گھر ہے۔ اللہ کے سوا اس میں کسی کا حصہ نہیں اور اسے پاک رکھو حاجیوں اور نماز قائم کرنے والوں کے لئے۔
وطھر بیتی للظائفین و القآئمین والرکع السجود (22 : 25) ” اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع اور سجود کرنے والوں کے پاک رکھو۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بیت اللہ بنایا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →3 کہتے ہیں کعبہ شریف کی جگہ پہلے سے بزرگ تھی، پھر مدتوں کے بعد نشان نہ رہا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بیت اللہ تعمیر کرو۔ اس معظم جگہ کا نشان دکھلایا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ تعمیر کیا۔ (تنبیہ) " مسجد حرام " کا ذکر پہلے آیا تھا اس کی مناسبت سے کعبہ کی بناء کا حال اور اس کے متعلق بعض احکام دور تک بیان کیے گئے ہیں۔
4 یعنی اس گھر کی بنیاد خالص توحید پر رکھو، کوئی شخص یہاں آکر اللہ کی عبادت کے سوا کوئی مشرکانہ رسوم نہ بجا لائے۔ کفار مکہ نے اس پر ایسا عمل کیا کہ وہاں تین سو ساٹھ بت لا کر کھڑے کردیئے۔ العیاذ باللہ جن کی گندگی سے…
Read the full tafseer →آیت 26 وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ”
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے نشاندہی کردی گئی کہ ٹھیک اس جگہ پر بیت اللہ کی تعمیر کی جائے۔ غالباً یہ وہی جگہ تھی جہاں حضرت آدم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ بعد میں سیلاب کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی تعمیر شدہ دیواریں گرگئیں اور ان کے آثار بھی ناپید ہوگئے لیکن زمین کے اندر بنیادیں موجود تھیں۔
اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْءًا وَّطَہِّرْ بَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ وَالْقَآءِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ”
یہی مضمون سورة البقرۃ کی اس آیت میں بھی آچکا ہے : وَعَہِدْنَآ اِلآی اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا…
Read the full tafseer →33 حضرت آدم نے سب سے پہلے کعبہ کو تعمیر کیا تھا۔ جس کے اب نشانات بھی زمین بوس ہوچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آندھی چلائی جس سے اوپر کی مٹی اور ریت اڑ کر دور چلی گئی اور کعبہ کی بنیادی ننگی اور ظاہر ہوگئیں۔ انہی بنیادوں پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتھ ملا کر کعبہ کی تعمیر شروع کی تھی۔ اور حضرت ابراہیم کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اس گھر کی بنیادیں خالص توحید پر رکھو۔ کوئی شخص یہاں آکر اللہ کی عبادت کے سوا کوئی مشرکانہ رسوم بجا نہ لائے۔ لیکن مشرکین مکہ نے جو دین ابراہیمی کی پیروی کے مدعی تھے۔ اس ہدیت کی ایسی نافرمانی کی کہ وہاں تین سو ساٹھ بٹ لا کھڑے کئے بالآخر فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →35۔ (آیت) ” البیت “۔ بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ۔ (آیت) ” بوانا “۔ یعنی خانہ کعبہ کی عمارت اس وقت موجود نہ تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہدایت غیبی پاکر خود وہاں تعمیر شروع کی۔ یہ سارا بیان حرم محترم کی عظمت مزید ظاہر کرنے کو اور مجرموں کی مزید تہدید کے لئے ہورہا ہے۔
36۔ (جیسا کہ اب تک بھی نہیں کیا ہے) ذکر بیت کے ساتھ ہی ممانعت شرک کا ذکر اس لئے نہایت ہی مناسب ہوا کہ کسی نافہم کو تعظیم بیت سے پرستش بیت کا اور اس کے معبد ہونے سے اس کے معبود ہونے کا وہم نہ پیدا ہوجائے۔ ان مفسرہ ہے اور قائلین لہ یہاں مقدر مانا گیا ہے۔ انھی المفسرہ للقول المقدر اے قائلین لہ (مدارک)
37۔ اس حکم تطہیر میں نجاستیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
آیت نمبر 26 تا 33
ترجمہ : اور اس واقعہ کا ذکر کیجئے جب ہم نے ابرا ہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کی نشا ند ہی کردی تاکہ اس کی تعمیر کریں اور بیت اللہ کو طوفان (نو ح) کے زما نہ میں اٹھا لیا گیا، اور ہم نے اس کو یہ حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو بتوں سے طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، رُکعٍ جمع راکعٍ اور سجود جمع ساجدٍ اور مراد تمام پڑھنے والے ہیں، اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے، چناچہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے) جبل ابی قبیس پر چڑھ کر اعلان فرمایا ” اے لوگو ! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہارے اوپر اس کا حج کرنا…
Read the full tafseer →واذا بوانا لابراہیم مکان البیت اور جب ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کی جگہ معین کردی۔ یہ ترجمہ
زجاج کے قول کے موافق کیا گیا ہے۔ بعض علماء نے کہا لابراہیم میں لام زائد ہے اس صورت میں ترجمہ اس طرح ہوگا اور جب ہم نے ابراہیم کو کعبہ کے مقام پر ٹھہرایا ‘ اتارا۔
قاموس میں ہے بَوَّأَہٗ منْزِلاً اور فِی الْمَنْزل کسی جگہ اس کو اتارا۔ المبأۃ منزل۔ (فرودگاہ مکان ‘ مقام) واقعہ (تاریخی) یہ ہوا کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے طوفان کے زمانے میں کعبہ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا ‘ پھر جب اللہ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو تعمیر کعبہ کا حکم دیا تو حضرت ابراہیم حیران ہوئے اور آپ کو پتہ…
Read the full tafseer →(26) اور ان لوگوں کے سامنے وہ واقعہ بھی بیان کیجیے جب کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو خانہ کعبہ کی جگہ بتا دی یعنی ایک بادل بھیجا جو اس جگہ کے چاروں طرف رک گیا درمیان میں وحی کے ذریعے حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی اور ہم نے انکو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان بتوں میں سے کسی کو شریک مت ٹھہرانا اور میری اس مسجد کو طواف کرنے والوں کے لیے اور تمام شہروں کے نمازیوں کے لیے نماز میں قیام و سجود و رکوع کرنے والوں کے لیے خواہ وہ کسی طرح کریں بتوں کی گندگی سے پاک رکھنا۔
Read the full tafseer →ۧوَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ : ”بَوَّاْنَا“ (تَفْعِیْل) جگہ دینا، جگہ مقرر کرنا، یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین کی۔ بیت اللہ اس سے پہلے تعمیر ہوچکا تھا، بلکہ زمین پر اللہ کا سب سے پہلا گھر یہی تھا اور ظاہر ہے کہ ابراہیم ؑ سے بہت پہلے آدم ؑ اور دوسرے انبیاء ؑ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر آدم ؑ نے کی یا اس سے پہلے فرشتوں نے اسے تعمیر کیا تھا۔ ایک ٹیلے پر اس کی بنیادیں موجود تھیں جس پر ابراہیم اور اسماعیل ؑ نے کعبہ کی عمارت تعمیر فرمائی۔ صحیح بخاری میں ابن عباس ؓ کی لمبی حدیث سے بھی…
Read the full tafseer →وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ (اور جب ہم نے ابراہیم کیلئے بیت اللہ کی جگہ متعین کردی) اس وقت کو یاد کرو اے محمد ﷺ جبکہ ہم نے مقرر کردیا۔ لا براھیم مکان البیت (ابراہیم کیلئے بیت اللہ کی جگہ) لوٹنے کی جگہ جس طرف وہ تعمیر و عبادت کیلئے رجوع کرسکیں۔ بیت اللہ کو ایام طوفان میں آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا۔ وہ سرخ یا قوت کا بنا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے اس جگہ کی نشان دہی ایک ہوا بھیج کر کی جس نے گھر والی جگہ کو صاف کردیا جیسے جھاڑو دیکر صاف کرتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) نے قدیم بنیادوں پر دیواروں کو اٹھایا۔
اَنْ یہ قول مقدر کی تفسیر کیلئے آیا ہے ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب سے مراد ہے کہ ان کو پاکیزہ قول کی طرف الہام کیا گیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول صحابہ کرام جھگڑے کے وقت کفار کو کہتے تے اور ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں۔
3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے اسماعیل بن ابی خالد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول سے مراد ہے قرآن اور آیت وھدو الی صراط الحمید سے مراد ہے اسلام۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدوا الی الطیب من القول سے مراد ہے اخلاص اور آیت وھدوا…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ بَوَّانا : اور جب ہم نے نشاندہی کی ] [ لِاِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ] [ مَكَان الْبَيْتِ : اس گھر (یعنی خانۂ کعبہ) کی جگہ کی ] [ ان لَّا تُشْرِكْ : (اور حکم دیا) کہ شریک مت کرنا ] [ بِيْ : میرے ساتھ ] [ شَيْـــــًٔا : کسی کو بھی ] [ وَّطَهِرْ : اور پاک رکھنا ] [ بَيْتِيَ : میرے گھرکو ] [ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ : طواف کرنے والوں کے لئے ] [ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ : اور قیام کرنے والوں کے لئے ] [ وَالرُّكَّعِ : اور رکوع کرنے والوں کے لئے ] [ السُّجودِ : سجدہ کرنے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →بحکم الٰہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کعبہ شریف تعمیر فرمانا اور حج کا اعلان کرنا طواف زیارت کی فرضیت اور جانور ذبح کرنے کی مشروعیت
ان آیات میں کعبہ شریف کی تعمیر ابراہیمی اور لوگوں کو حج کی دعوت دینے اور ایام منیٰ میں جانوروں کو ذبح کرنے اور اس میں سے کھانے اور کھلانے اور احرام سے نکلنے کے لیے سر مونڈنے اور نذریں پوری کرنے اور طواف زیارت کرنے کا حکم مذکور ہے۔
اولاً فرشتوں نے پھر ان کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) نے کعبہ شریف تعمیر کیا پھر عرصہ دراز کے بعد جب طوفان نوح کی وجہ سے اس کی دیواریں مسمار ہوگئیں اور عمارت کا ظاہری پتہ نہ رہا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
35:۔ دوسرا حصہ۔ نفی شرک فعلی :۔ ” وَ اِذْ بَوَّانَا الخ “ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے اس میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دلیل نقلی ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے خانہ کعبہ کی اصل جگہ بتائی جہاں انہوں نے اس کی تعمیر کی تاکہ آنے والی نسلیں اس میں اللہ کی خالص عبادت کیا کریں۔ بینا لہ مکان البیت لیبنیہ ویکون مباء ه لعقبہ یرجعون و یحجونہ (روح ج 17 ص 141) ۔ مشرکین سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرو کیونکہ وہ اولاد ابراہیم میں اور ملت ابراہیمی کے پیرو کار ہونے کے مدعی ہیں انہوں نے کس طرح بیت اللہ کی تعمیر کی اور پھر اسے ہر قسم کے شرک سے پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ربط آیات :
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام اور پورے خطہ حرم شریف کے محترم ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے یہ وعید بھی فرمائی کہ جو شخص اس مقدس سرزمین میں ظلم و زیادتی ، معصیت یا الحاد اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دے گا۔ کیونکہ اس نے حرم پاک جیسے پاک خطے کا تقدس برقرار نہیں رکھا۔
تعمیر بیت اللہ شریف :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر ، حج اور قربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا س واقعہ کو دھیان میں لائو واذ بوانا لابراھیم مکان البیت جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ شریف کی جگہ کو واضح کردیا۔ آپ کے زمانہ تک بیت اللہ شریف کی سابقہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ 26
بَوءَ
أصل البَوَاء : مساواة الأجزاء في المکان، خلاف النّبو الذي هو منافاة الأجزاء . يقال :
مكان بَوَاء : إذا لم يكن نابیا بنازله، وبَوَّأْتُ له مکانا : سوّيته فَتَبَوَّأَ ، وبَاءَ فلان بدم فلان يَبُوءُ به أي : ساواه، قال تعالی: وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءا لِقَوْمِكُما بِمِصْرَ بُيُوتاً [يونس/ 87] ، وَلَقَدْ بَوَّأْنا بَنِي إِسْرائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ [يونس/ 93]
( ب و ء ) البواء
۔ کے اصل معنی کسی جگہ…
Read the full tafseer →طائفین جمع طائف بمعنی طواف کنندہ قائمین جمع قائم یعنی قیام کنندہ رکع جمع راکع بمعنی رکوع کنندہ سجود جامع ساجد خواہ یہ افعال ایک ساتھ ادا کئے جاویں جیسا کہ نماز میں یاجداگانہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَھِّرَ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْقَآئِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ۔ (الحج : 26)
(اور یاد کرو جبکہ ہم نے ابراہیم کے لیے ٹھکانا بنایابیت اللہ کی جگہ کو اس ہدایت کے ساتھ کہ کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔ )
حضرت ابراہیم اور بیت اللہ کی تاریخ
اس آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بیت اللہ کی تاریخ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ اس آیت میں غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کو حضرت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بیت اللہ کی تعمیر نو اور اس کے چاروں طرف تعمیر ہونے والی مسجد حرام کے آداب اور حقوق۔
تاریخ کعبۃ اللہ
حافظ ابن حجر عسقلانی ؓ نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں ایک روایت ذکر کی ہے جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی اساس حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاتھوں رکھی گئی اور فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس جگہ کی نشاندہی کی جسے بعدازاں طوفان نوح اور ہزاروں سال کے حوادث نے بےنشان کردیا تھا۔ البتہ بیت اللہ کے کچھ نشان باقی تھے جن پر حضرت ابر اہیم (علیہ السلام) نے بنیاد رکھی تھی۔ یہی وہ مقام بنیاد ہے جس کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے :
اور یہی وہ مقام ہے جس کا…
Read the full tafseer →تذکرئہ ابراہیم ( علیہ السلام) اور شعائر اللہ کا تذکرہ :
26: وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ (اور جب ہم نے ابراہیم کیلئے بیت اللہ کی جگہ متعین کردی) اس وقت کو یاد کرو اے محمد ﷺ جبکہ ہم نے مقرر کردیا۔ لا براھیم مکان البیت (ابراہیم کیلئے بیت اللہ کی جگہ) لوٹنے کی جگہ جس طرف وہ تعمیر و عبادت کیلئے رجوع کرسکیں۔ بیت اللہ کو ایام طوفان میں آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا۔ وہ سرخ یا قوت کا بنا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے اس جگہ کی نشان دہی ایک ہوا بھیج کر کی جس نے گھر والی جگہ کو صاف کردیا جیسے جھاڑو دیکر صاف کرتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) نے قدیم بنیادوں پر…
Read the full tafseer →26۔ واذ بوانا لاابراہیم مکان البیت۔ ہم نے ان کے لیے اس کو وطن کی جگہ بنایا۔ ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا ہے ہم نے بنایا اور بعض نے کہا کہ ہم نے ان کے لیے جگہ مقرر کردی۔ زجاج کے نزدیک اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ معین کردی ۔
مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے اس کو بلند کیا۔ اوپراٹھالیا۔ حضرت نوح کے طوفان کے زمانے میں کعبہ کو آسمان کی طرف اٹھالیا گیا تھا پھر جب اللہ نے حضرت ابراہیم کو تعمیر کعبہ کا حکم دیا تو حضرت ابراہیم حیران ہوئے اور آپ کو پتہ بھی نہ چلا کہ کعبہ کا مقام کہاں ہے اور کہاں بناؤں۔ بحکم خدا ایک تندآندھی آئی جس کی وجہ سے کعبہ کے خطوط اساسی…
Read the full tafseer →26:۔ اس تفسیر میں یہ بات کئی جگہ جتلادی گئی ہے کہ قرآن شریف میں پچھلے قصے فقط قصہ کے طور پر نہیں ذکر کیے جاتے بلکہ ان کے ذکر سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان کو تاریخی ثبوت کے طور پر بیان کیا جا کر قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے کا کوئی مطلب اس تاریخی شہادت سے ثابت کیا جائے ‘ چناچہ مشرکین مکہ نے اللہ کے گھر میں بت پرستی کا شرک جو پھیلا رکھا تھا اوپر اس کا ذکر فرما کر ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ سے ان مشرکین کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ اگرچہ کعبہ کے بنانے کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ کعبے میں شرک نہ پھیلنے پائے بلکہ خالص نیت سے طواف کرنے والوں اور نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذ بوانا لابرھیم مکان البیت) ” اور جب ہم نے مقرر کردی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کی جگہ۔ “ یعنی ہم نے ان کیلئے اسے مہیا کردیا، آپ کو وہاں رہنے کے لئے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فرضیت حج
قول باری ہے (واذن فی الناس بالحج اور لوگوں کو حج کے لئے اذن عام دے دو ۔ ) معمر نے لیث سے اور انہوں نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اس حکم پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا۔” باری تعالیٰ ! میں انہیں کس طرح حج کے لئے بلائوں ؟ “ حکم ہوا ۔” یہ اعلان کرو، لوگو ! حاضر ہو جائو، لوگو ! حاضر ہو جائو۔ “ اسی سے تلبیہ لبیک اللھم لبیک بنا۔ عطاء بن الصائب نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر مکمل کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیج کر لوگوں کو حج کے لئے بلانے کو کہا۔ چناچہ حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →56 بیت اللہ کو پاک رکھنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور پاک رکھنا میرے گھر کو "۔ ظاہری اور باطنی ہر طرح کی نجاستوں سے۔ چناچہ اللہ پاک کا یہ گھر جو ہزاروں سال سے دنیا بھر کا مرکز و مرجع بنا ہوا ہے اور جس میں دن رات کے چوبیس (24) گھنٹے لگاتار و مسلسل اور ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی ہوتی رہتی ہے آج تک ظاہری و باطنی ہر طرح کی نجاستوں سے پاک و صاف ہے۔ نہ اس میں کسی طرح کی کوئی ظاہری ناپاکی پائی جاتی ہے نہ کفر و شرک وغیرہ کی کوئی باطنی ناپاکی۔ جیسا کہ ہمارے برصغیر کے مختلف ملکوں کی خانقاہوں اور درگاہوں میں ہوتا ہے۔ جہاں طرح طرح کے شرکیہ امور کا ارتکاب ہوتا ہے جو کہ سب سے بڑی…
Read the full tafseer →تعمیر کعبہ کا مقصد
تشریح : بیت اللہ کی تعمیر کے بارے میں مفصل مضمون سورة بقرئہ میں گزر چکا ہے۔ مختصراًٍ یہ کہ یہ گھر صرف اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاکہ مسلمانوں کا مرکز بن جائے اور تمام دنیا کے لوگ اس میں نماز قائم کریں اور اس کی عزت و احترام کا خیال رکھیں۔ یہاں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ پہلا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو۔ دوسرا : اللہ کے گھر کو پاک صاف رکھو ہر لحاظ سے۔ تیسرا : حج کا اعلان کر دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا…
Read the full tafseer →ف 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کی اور وہ اس سے پہلے موجود نہ تھا جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ ابوذر ؓ نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول ﷺ ، سب سے پہلے کونسی مسجد تعمیر ہوئی فرمایا ” مسجد حرام “ انہوں نے پوچھا : پھر کونسی ؟ فرمایا : ” بیت المقدس “۔ پھر پوچھا دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ فرمایا : ” چالیس سال “ (ابن کثیر) 2 ۔ صاف ستھرے رکھنے سے مراد شرک و بت پرستی سے پاک و صاف رکھنا ہے۔ اس سے مشرکین کو عار دلانا مقصود ہے کہ یہ شرط تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے وقت سے چلی آتی ہے کہ اس میں بت پرستی حرام ہے۔
Read the full tafseer →(22:26) واذ۔ واذکر حین۔ اور یاد کر جب۔ بوانا۔ ماضی جمع متکلم۔ تبویۃ (تفعیل) سے ہم نے جگہ دی۔ ہم نے مناسب مقام تیار کیا۔ ہم نے مناسب مقام کا تعین کیا۔ جیسے کہ تبوی المؤمنین مقاعد للقتال (3:121) تاکہ مؤمنوں کو لڑائی کے لئے مناسب مورچوں پر متعین کرے۔
البواء (مادہ ب و ع) کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی (ساز گار۔ موافق) ہونے کے ہیں۔ لہٰذا مکان بواء کے معنی ہیں وہ مقام جو اس جگہ پر اترنے والے کے لئے سازگار و موافق ہو۔ بوأت لہ مکانا۔ میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا واذ بوانالابراہیم مکان البیت اور یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے (حضرت) ابراہیم کے لئے بیت اللہ (کی تعمیر کے لئے ) جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–33
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 :
بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تعمیر کعبہ شریف پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے کی تھی ، آخر میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے کعبہ شریف کی جگہ بتائی اور آپ نے اس کی قدیم بنیاد عمارت کعبہ تعمیر کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی فرمائی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو نمازیوں کے لیے پاک رکھنا۔
Read the full tafseer →[19] یعنی خانہ کعبہ کی۔
[20] خانہ کعبہ کی عمارت اس وقت موجود نہ تھی۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اشارہ غیبی پا کر اس جگہ تعمیر شروع کی جس کا نشان انھیں دکھایا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
حج کا فلسفہ :
(ف 2) بیت اللہ جو آج تمام مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے ، اس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی ہدایات کے ماتحت تعمیر کیا ، اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا ، کہ اس مقام کو تمام اسلامی دنیا کے لئے روحانی اعتبار سے ملجاوماوی بنا دیا جائے ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوششیں منظور ہوئیں ، اور وہ آواز جو جنگل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے منہ سے نکلی تھی ، ہر خدا پرست کے کانوں تک پہنچی ، اور آج تک اس کا یہ اثر ہے ، کہ دنیا کے اکناف و اطراف سے لوگ کھنچے ہوئے اس مرکز رشد وہدایت کی طرف چلے آرہے ہیں ، دیکھئے کتنا خلوص اور کس درجہ روحانیت اور مقبولیت ہے کہ وہ گھر جو صنعت وحرفت کے…
Read the full tafseer →(26) اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کی جگہ بتائی اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ کیجیو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھیو۔ مسجد حرام اور اس کی عظمت و احترام کے سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعمیر و تطہیر کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی حرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کو حرم میں بسا آئے اور وہاں آتے جاتے رہے تب ہم نے ان کو شہر بسانے کا حکم دیا اور کعبہ کی بنیادوں کو انہیں بتایا اور کعبہ بنانے کا حکم دیا اور دونوں باپ بیٹوں نے کعبہ کی تعمیر کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 4۔ کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا۔
5۔ یہ ان کے مابعد والوں کو سنان ہے، اور ذکر بیت کے ساتھ اس کا ذکر اس لئے نہایت ہی مناسب ہوا کہ کسی حقیقت ناشناس کو تعظیم بیت سے اور اس کے معبد ہونے سے اس کے معبود ہونے کا ابہام نہ ہوجاوے۔
Read the full tafseer →زیر نظر آیت میں غرض وغایت تعمیر بیت اللہ بیان کی گئی ہے کہ یہ گھر اس لئے تعمیر کرایا جا رہا ہے کہ یہاں شرک کی قطعا ممانعت کردی جائے گویا شرک کی ممانعت کا مرکز بیت اللہ کو قرار دیا گیا کہ نہ اس کے اندر شرک ہو نہ اس کے قرب و جوار میں اور پھر یہاں سے وہ لوگ تیار ہو کر نکلیں جو شرک کی روک تھام کے لئے کام کریں اور جب تک دنیا کا سلسلہ قائم ہے اس وقت تک بدستور یہ سلسلہ قائم رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو اپنی طرف نسبت دی کہ میرے گھر کو صاف ستھرا رکھنا ‘ ظاہری ناپاکیوں سے بھی اور باطنی ناپاکیوں سے بھی ہر جگہ کا طواف بند کردیا گیا اور طواف کے لئے سڑف یہی ایک جگہ مقرر کردی گئی اور یہاں آنے والوں کے لئے…
Read the full tafseer →Commentary
The previous verse contains a warning of severe punishment to the infidels who prevented the Muslims from entering the Sacred Mosque and the precincts of Haram. This verse describes the eminence and the superior status of the Baitullah which magnifies manifold the evil of their deeds.
The start of founding the structure of the House of Allah (the Holy Ka'bah)
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ (And [ remember ] when We pointed out for Ibrahim the place of the House - 22:26.) The word بَوَّء literally means ` to assign to someone a place for his residence.' The…
Read the full tafseer →45. Some commentators opine that the address to Prophet Abraham (peace be upon him) ends with (verse 26) and say that the command contained in (verse 27) was addressed to the Prophet (peace be upon him); but this opinion does not fit in with the context. For it is obvious that this command was also addressed to Prophet Abraham (peace be upon him) when he had built the Kabah. Moreover, the command implies that the House of Allah had been built for the worship of One Allah and there was general permission from the very first day for all worshipers to visit it for performing Hajj.
Read the full tafseer →