مسجدالحرام سے روکنے والے
اللہ تعالیٰ کافروں کے اس فعل کی تردید کرتا ہے جو وہ مسلمانوں کو مسجد الحرام سے روکتے تھے وہاں انہیں احکام حج ادا کرنے سے باز رکھتے تھے باوجود اس کے اولیاء اللہ کے ہونے کا دعوی کرتے تھے حالانکہ اولیاء وہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہو اس سے معلوم ہوتا کہ یہ ذکر مدینے شریف کا ہے۔ جیسے سورة بقرہ کی آیت (یسألونک عن الشہر الحرام الخ) ، میں ہے یہاں فرمایا کہ باوجود کفر کے پھر یہ بھی فعل ہے کہ اللہ کی راہ سے اور مسجد الحرام سے مسلمانوں کو روکتے ہیں جو درحقیقت اس کے اہل ہیں۔ یہی ترتیب اس آیت کی ہے (الذین امنوا وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ الخ) ، یعنی ان کی صفت یہ ہے کہ ان کے دل…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 41
یعنی محمد ﷺ کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ آگے کا مضمون صاف بتارہا ہے کہ ان سے مراد کفار مکہ ہیں۔
سورة الْحَجّ 42
یعنی محمد ﷺ اور آپ کے پیروؤں کو حج اور عمرہ نہیں کرنے دیتے۔
سورة الْحَجّ 43
یعنی جو کسی شخص یا خاندان یا قبیلے کی جائیداد نہیں ہے، بلکہ وقف عام ہے اور جس کی زیارت سے روکنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔
یہاں فقہی نقطہ نظر سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں جن کے بارے میں فقہائے اسلام کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں
اول یہ کہ " مسجد حرام " سے مراد کیا ہے ؟ آیا صرف، مسجد یا پورا حرم مکہ ؟
دوم یہ کہ اس میں عاکف (رہنے والے) اور باد (باہر سے آنے والے) کے حقوق برابر ہونے کا کیا مطلب…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور (مسلمانوں کو) اللہ کے راستہ سے اور مسجد حرام سے روکتے ہیں (تاکہ مسلمان عمرہ ادا نہ کرسکیں حالانکہ حرم کی حیثیت یہ ہے کہ اس میں کسی کی خصوصیت نہیں بلکہ) اس کو ہم نے تمام آدمیوں کے واسطے مقرر کیا ہے کہ اس میں سب برابر ہیں اس (حرم کے داخل حدود) میں رہنے والا بھی (یعنی جو لوگ وہاں مقیم ہیں) اور باہر سے آنے والا (مسافر) بھی اور جو کوئی اس میں (یعنی حرم شریف میں) ظلم کے ساتھ کوئی بےدینی کا کام کرنے کا ارادہ کرے گا تو ہم اس شخص کو عذاب درد ناک چکھا دیں گے۔
معارف و مسائل
پچھلی آیت میں مومنین اور کفار کے دو فریق کی باہمی مخاصمت کا ذکر تھا اسی مخاصمت کی ایک خاص…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون ……… آیات 37-25
توحید و شرک کی بحث جو اوپر سے چلی آرہی ہے یہاں وہ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ قریش اور ان کے ہمنوائوں نے اس دور میں جو اتنی شدید خصومت کی روش اختیار کرلی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ دعوت توحید اور ابطال شرک کی اس جدوجہد کی نوعیت صرف ایک کلامی و عقائدی نزاع کی نہیں ہے بلکہ اس کی ضرب ان کی اس مہنتی اور سیادت و قیادت پر بھی پڑنے والی ہے جو ان کو حرم کی تولیت کی بدولت حاصل ہے۔ قریش نے حرم پر اپنا قبضہ جما رکھا تھا اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس وراثت کے اصلی حقدار اور متولی و امین وہی ہیں۔ خاندان بنی ہاشم کو خانہ کعبہ…
Read the full tafseer →25۔ 1 روکنے والوں سے مراد کفار مکہ ہیں جنہوں نے 6 ہجری میں مسلمانوں کو مکہ جاکر عمرہ کرنے سے روک دیا تھا، اور مسلمانوں کو حدیبیہ سے واپس آنا پڑا تھا۔
25۔ 2 اس میں اختلاف ہے کہ مسجد حرام سے مراد خاص مسجد (خانہ کعبہ) ہی ہے یا پورا حرم مکہ۔ کیونکہ قرآن میں بعض جگہ پورے حرم مکہ کے لیے بھی مسجد حرام کا لفظ بولا گیا ہے۔ ، یعنی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔ جو شخص بھی کسی جگہ سے حج یا عمرے کے لئے مکہ جائے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے ٹھہر جائے، وہاں رہنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹھہرانے سے نہ روکیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ مکانات اور زمینیں ملک خاص ہوسکتی ہیں اور ان میں مالکانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
12: مسجد حرام اور اس کے آس پاس کے وہ مقامات جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں، مثلا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ، منی، عرفات اور مزدلفہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وقف عام ہیں، اور ان کو عبادت کے لیے استعمال کرنے میں مقامی باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔
13: ٹیڑھی راہ نکالنے سے مراد کفر و شرک حرم کے احکام کی خلاف ورزی، بلکہ ہر قسم کا گناہ ہے۔ حرم میں جس طرح ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ یہاں گناہوں کا وبال بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 145 ایک نظر میں
پچھلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ ذات باری کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہیں۔ کافروں کا انجام قیامت میں کیا ہوگا اور اہل ایمان کے حالات کیسے ہوں گے۔ اسی حوالے سے کفار نے اس طرز عمل پر بحث کی جاتی ہے جو انہوں نے اس دنیا میں اختیار کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو مسجد حرام کی زیارت سے اب روکنے لگے ہیں۔ مکہ میں تو انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی بےحد جدوجہد کی ، مگر جب یہ تحریک مدینہ منتقل ہوگئی تو انہوں نے مسلمانوں کو زیارت حرم سے روک دیا۔
اس حوالے سے بتایاج اتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اس حرم کو تعمیر کیا تھا تو ان کے پیش نظر کیا مقاصد تھے۔ انہوں نے کن مقاصد…
Read the full tafseer →1 پہلے (ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ ) 22 ۔ الحج :19) میں مومنین اور کفار کے اختصام (جھگڑے) کا ذکر تھا۔ اس اختصام کی بعض صورتوں کو یہاں بیان فرمایا ہے۔ یعنی ایک وہ لوگ ہیں جو خود گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں سے مزاحم ہوتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص اللہ کے راستہ پر نہ چلے۔ حتی کہ جو مسلمان اپنے پیغمبر کی معیت میں عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ معظمہ جا رہے تھے ان کا راستہ روک دیا۔ حالانکہ مسجد حرام (یا حرم شریف کا وہ حصہ جس سے لوگوں کی عبادات و مناسک کا تعلق ہے) سب کے لیے یکساں ہے۔ جہاں مقیم و مسافر اور شہری و پردیسی کو ٹھہرنے اور عبادت کرنے کے مساویانہ حقوق حاصل ہیں۔ ہاں وہاں سے نکالے…
Read the full tafseer →یہ دو رکوع مناسک حج کے بارے میں ہیں۔ سورة البقرۃ کے چوبیسویں اور پچیسویں رکوع میں بھی مناسک حج کا تذکرہ ہے مگر وہاں پر قربانی کا ذکر نہیں ہوا۔ صرف قبل از وقت سر منڈوانے کی صورت میں کفارے کے طور پر جانور ذبح کرنے دم جنایت اور حج وعمرہ کو جمع کرنے ِ قران یا تمتع ّ کی صورت میں دم شکر کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہاں قربانی اور طواف کا خاص طور پر ذکر ہے۔
آیت 25 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ”
کفار مکہ کی مخالفانہ سر گرمیوں کی طرف اشارہ ہے جن کے باعث مسلمان نہ صرف جوار بیت اللہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے بلکہ ایک عرصے تک حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرنے سے…
Read the full tafseer →30 کفار مکہ ہیں، جنہوں نے مسلمانوں پر یہ پابندیاں لگا رکھی تھیں کہ وہ نہ بیت اللہ میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ نہ طواف کرسکتے ہیں اور نہ حج وعمرہ کے ارکان بجا سکتے ہیں۔ ایک تو وہ خود مشرک اور کافر تھے۔ کعبہ کو بھی بتوں کی نجاستوں سے بھر رکھا تھا۔ پھر مزید یہ کہ توحید پرستوں پر سب راہیں مسدود کر رکھی تھیں۔ چودہ سو مسلمان رسول اللہ ﷺ کی معیت میں عمرہ کرنے آئے۔ تو ان سے جنگ کی ٹھان لی۔ اور حدیبیہ کے مقام تک پہنچ کر ان سے عمرہ کرنے سے روک دیا گیا اور مسلمانوں پر یہ پابندیاں فتح مکہ تک بدستور بحال رہیں۔ فتح مکہ کے بعد جب کفر کا زور ٹوٹ گیا تو یہ پابندیاں از خود ہی ختم ہوگئیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق ہی…
Read the full tafseer →31۔ یعنی دین کے کام سے۔ یہاں مراد عمرہ ہے۔ 6 ھی میں جب رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ سے عمرہ کا قصد کیا تھا تو مشرکین مکہ نے آپ کو مقام حدیبیہ پر آکر آگے بڑھنے سے روک دیا تھا اشارہ اسی طرف سے مفصل ذکر پ 26 سورة فتح کے ذیل میں آئے گا۔
32۔ یعنی حرم مکہ ہے۔ شریعت کی مخالفت تو سب ہی جگہ موجب عذاب ہے۔ حرم کے اندر اور زیادہ موجب عذاب ہے۔ (آیت) ” المسجد الحرام “۔ مسجد حرام سے مراد یہاں پورا رقبہ حرم ہے۔ والمراد بالمسجد الحرام مکۃ وعبربہ عنھا (روح) فیہ قولان ...... الثانی انہ ارادبہ الحرم کلہ (ابن العربی)
33۔ (اس کے مأمن و مرجع ہونے کی حیثیت سے) حرم محترم کے دروازہ ہر مومن موحد کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت نمبر 23 تا 25
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ایسے باغات میں داخل کرے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور جنت میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا جس کا مردوں کے لئے دنیا میں پہننا حرام ہے، لؤلؤ جر کے ساتھ، یعنی کنگن سونے اور موتیوں سے بنے ہوں گے، اس طریقہ سے کہ موتی سونے میں جڑے ہوئے ہوں گے اور لؤ لؤ نصب کے ساتھ بھی ہے اساور کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے اور ان کو دنیا میں کلمہ طیب کی ہدایت کردی گئی تھی، اور وہ لا الٰہ الا اللہ ہے اور ان کو اس راستہ کی ہدایت کردی گئی تھی جو لائق تعریف ہے یعنی اللہ کا پسندیدہ…
Read the full tafseer →ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم۔ اور جو شخص اس میں یعنی حرم میں کسی خلاف
دین کام کا قصد ظلم (یعنی شرک و کفر) کے ساتھ کرے گا تو ہم اس کو دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ فیہ کی ضمیر مسجد حرام کی طرف راجع ہے خواہ اس سے کعبہ مراد ہو یا عام حرم۔ الحاد مفعول ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے اور بِ زائد ہے جیسے تُنْبِتُ بالدُّہْنِمیں بِ زائد ہے (کیونکہ انبات خود متعدی ہے) اعمش شاعر کا قول ہے ضَمِنَتْ بِرِزقِ عِیَالِنَا اَرْمَاحُنَا اس میں بھی بِ زائد ہے بِظُلْمٍکا تعلق یُّرِدْ سے ہے۔
بخاری نے صحیح میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →(25) بیشک جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کے ساتھ کفر کیا جیسا کہ حضرت ابو سفیان اور ان کے ساتھی (اس واقعہ تک حضرت ابوسفیان اسلام نہیں لائے تھے) اور لوگوں کو دین خداوندی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں اور مسجد حرام سے بھی روکتے ہیں جب کہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام حدیبیہ کے سال عمرہ کے لیے تشریف لے جارہے تھے حالانکہ جس مقام کو ہم نے سب آدمیوں کے لیے حرم اور قبلہ بنایا ہے اس میں سب برابر ہیں اس حرم کے اندر رہنے والا بھی اور باہر سے آنے والا بھی اور جو شخص حرم میں کسی خلاف دین کام کی ظلم کے ساتھ ابتدا کرے گا تو ہم اسے دردناک عذاب دیں گے یعنی سخت ترین اس کو سزا دیں گے تاکہ اس کو پھر…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : ابن عاشور ؓ نے فرمایا کہ یہ ”هُدُوْٓا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ“ کے مقابلے میں ہے کہ اہل ایمان کو اللہ (اَلْحَمِیْد) کے راستے کی ہدایت عطا ہوئی، جب کہ کفار کا یہ حال ہے کہ وہ خود بھی راہ ہدایت اختیار کرنے کا انکار کرچکے ہیں اور لوگوں کو بھی اللہ کے راستے (اسلام) اور مسجد حرام سے مسلسل روک رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مومنوں کے لیے جنت اور کافروں کے لیے عذاب الیم ہے۔ ”كَفَرُوْا“ ماضی ہے اور ”َيَصُدُّوْنَ“ مضارع، یعنی وہ کافر تو گزشتہ زمانے سے ہوچکے، البتہ ان کا لوگوں کو اسلام سے اور مسجد حرام سے روکنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ماضی پر مضارع…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (بیشک جو کافر ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے (مسلمانوں کو) روکتے ہیں) اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
کفروا کی ضمیر فاعلی سے ویصدون حال ہے جیسا کہا جاتا ہے فلان یحسن الی الفقراء اس سے مراد اس کی طرف سے فقراء کے ساتھ حسن سلوک کا حال و استقبال میں پایا جانا ہے۔
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (اور مسجد حرام سے) وہ مسجد حرام اور اس میں داخلہ سے روکتے ہیں۔ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ (جس کو ہم نے تمام آدمیوں کیلئے مقرر کیا) اس میں شہری اور دیہاتی کے امتیاز کے بغیر داخلہ کی کھلی اجازت دی ہے۔
مراد مسجد حرام :
نمبر 1۔ مکہ مکرمہ مراد ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب سے مراد ہے کہ ان کو پاکیزہ قول کی طرف الہام کیا گیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول صحابہ کرام جھگڑے کے وقت کفار کو کہتے تے اور ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں۔
3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے اسماعیل بن ابی خالد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول سے مراد ہے قرآن اور آیت وھدو الی صراط الحمید سے مراد ہے اسلام۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدوا الی الطیب من القول سے مراد ہے اخلاص اور آیت وھدوا…
Read the full tafseer →[ ان الَّذِينَ : بیشک وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ وَيَصُدُّوْنَ : اور روکتے ہیں (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کے راستے سے ] [ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : اور مسجد حرام سے ] [ الَّذِي : وہ (مسجد) ] [ جَعَلْنٰهُ : ہم نے بنایا جس کو ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ سَوَاۗءَۨ: برابر (کا حق) ہے ] [ الْعَاكِفُ : ٹھہرنے والے (یعنی مکہ کے شہری) کا ] [ فِيْهِ : اس (مسجد) میں ] [ وَالْبَادِ : اور صحرا نشین (یعنی آفاقی) کا ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ يُّرِدْ : ارادہ کرے گا ] [ فِيْهِ : اس (مسجد) میں ] [ بِاِلْحَادٍۢ: کسی کج روی کا ] [ بِظُلْمٍ : کسی ظلم کے ساتھ ] [ نُّذِقْهُ :…
Read the full tafseer →مسجد حرام حاضر اور مسافر سب کے لیے برابر ہے، اس میں الحاد کرنا عذاب الیم کا سبب ہے
مکہ مکر مہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے توحید کی دعوت دینا شروع کی اس وقت مکہ والے چونکہ مشرک تھے اس لیے پوری طرح دشمنی پر تل گئے خود بھی ایمان نہیں لاتے تھے اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے باز رکھتے تھے اور مسجد حرام کے چونکہ وہی متولی تھے اس لیے مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔ ان کی دشمنی کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ وہاں سے ہجرت فرما گئے چند سال مدینہ منورہ قیام کے بعد 6 ھ میں رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو شہر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
مذمت کفار لئام بر مزاحمت اہل اسلام و زیارت مسجد حرام
وبیان بعض احکام متعلقہ آں مقام واجب الاحترام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام .... الیٰ .... ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں فریق کفار کی خصوصیت اور جدال اور اضلال کا ذکر تھا کہ کفار مکہ اہل اسلام کی عداوت اور خصوصیت پر تلے ہوئے ہیں اب ان آیات میں ان کی دوسری قسم کی خصومت اور جدال کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکتے ہیں اور ان کو حج اور عمرہ کے ارکان ادا کرنے دیتے، حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس بیت حرام یعنی خانہ کعبہ کے اولیاء یعنی متولی ہم ہیں کما قال…
Read the full tafseer →34:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ “۔ تخویف اخروی ان مشرکین کے لیے جو لوگوں کو توحید اور مسجد حرام میں اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ ” وَ یَصُدُّوْنَ “ میں واؤ زائدہ ہے۔ اور ” یَصُدُّوْنَ “ اِنَّ کی خبر ہے یا یَصُدُّوْنَ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای وھم یصدون اس پر یہ جملہ کفروا کے فاعل سے حال ہوگا اور اِنَّ کی خبر محذوف ہوگی بقرینہ آخر آیت ای نذیقھم الخ (روح) یعنی جو لوگ خود بھی توحید کا انکار کریں اور دوروں کو بھی توحید سے روکیں انہیں ہم دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں دو قسم کے دعویداروں کا ذکر تھا۔ ایک قسم اہل ایمان اور اہل توحید کی ہے جب کہ دوسری قسم اہل کفر اور اہل شرک کی۔ قیامت کے دن ان دونوں گروہوں کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور پھر وہاں فیصلہ ہوگا۔ اللہ نے فرمایا کہ کافروں کے سروں پرکھولتا ہوا پانی ڈالا جائیگا جو ان کے پیٹوں میں موجود ہر چیز کو کاٹ کر باہر پھینک دے گا۔ ان کی کھالوں کو جلایا جائے گا اور ان پر لوہے کے ہتھوڑے برسائے جائیں گے اور اس طرح وہ جلاڈالنے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے ان پر یہ عذاب ہمیشہ مسلط رہے گا۔ اور اس سے باہر نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔
اہل ایمان کے لئے انعامات :
قرآن کا یہ اسلوب…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْہِ وَالْبَادِ 0ۭ وَمَنْ يُّرِدْ فِيْہِ بِـاِلْحَادٍؚبِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ 25ۧ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو…
Read the full tafseer →سواء کو یعقوب و عاصم نے با لنصب پڑھا ہے جعل کا معمول بنا کر بعض نے مرفوع پڑھا ہے مبتداء کی خبر مقدم قرار دے کر صاحب کشاف کہتے ہیں بالحاد بظلم یہ دونوں حال مترادف ہیں رجال جمع راجل پیادہ والضمور اہزال نہر یضمر مضموراً والمعنی ان الناقۃ عبارت مرضاۃ بطول، سفر باوابفح الطریق میں الجبلیں ثم یستعمل فی سائر الطریق الساحاً والعمیق البعید کبیر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآئَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ ط وَمَنْ یُّرِدْفِیْہِ بِاِلْحَادٍ م بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الحج : 25)
(بےشک وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے (بلا امتیاز) سب لوگوں کے لیے یکساں بنایا ہے۔ خواہ وہ اس کے شہری ہوں یا آفاقی۔ (تو انھوں نے بہت زیادتی کی ہے) اور جو اس میں کسی بےدینی کسی شرک کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔ )
آیت کے ترجمے کی آسانی کے لیے صرف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جنت میں جانے والوں نے ” اللہ “ کی توحید کو قبول کیا ہے اور صراط مستقیم پر گامزن ہوئے ان کے مقابلے میں جہنمیوں کا کردار اور انجام۔
جہنم میں جانے والے کفر کے مرتکب ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے اور بیت اللہ سے روکتے تھے۔ جو لوگ دوسروں کو اللہ کے راستے اور مسجد حرام سے روکتے ہیں انھیں اذّیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ اس فرمان کے پہلے مخاطب اہل مکہ ہیں جو ناصرف لوگوں کو دین اسلام سے منع کرتے تھے بلکہ مسلمانوں کو حرم میں آنے سے روکتے تھے۔ اہل مکہ نے مسجد حرام کو ذاتی ملکیت سمجھ رکھا تھا۔ جس بنا پر وہ مسلمانوں کو بالخصوص نبی معظم ﷺ کو حرم میں پریشان کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ سجدہ کی…
Read the full tafseer →25: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (بیشک جو کافر ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے (مسلمانوں کو) روکتے ہیں) اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
: کفروا کی ضمیر فاعلی سے ویصدون حال ہے جیسا کہا جاتا ہے فلان یحسن الی الفقراء اس سے مراد اس کی طرف سے فقراء کے ساتھ حسن سلوک کا حال و استقبال میں پایا جانا ہے۔
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (اور مسجد حرام سے) وہ مسجد حرام اور اس میں داخلہ سے روکتے ہیں۔ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ (جس کو ہم نے تمام آدمیوں کیلئے مقرر کیا) اس میں شہری اور دیہاتی کے امتیاز کے بغیر داخلہ کی کھلی اجازت دی ہے۔
مراد مسجد حرام :
نمبر 1۔ مکہ مکرمہ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
25۔ ان الذین کفروا یصدون عن سبیل اللہ۔ مستقبل کا عطف ماضی پر ہے کیونکہ یہاں لفظ مستقبل سے ماضی مراد ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا، الذین کفروا صدو ا عن سبیل اللہ ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے ، ان الذین کفروا سے جو ماقبل میں گزرچکے ہیں۔ ویصدون عن سبیل اللہ ، سے حال مراد ہے۔ یعنی وہ روکنے والے ہیں۔ والمسجد الحرام، اور وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ الذی جعلناہ للناس، ان کے لیے قبلہ بنایا تاکہ اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں اور حج کرنے کی جگہ بنائی۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، وضع للناس، ،،۔ سواء ، حفص نے عاصم و یعقوب کے حوالے سے منصوب پڑھا ہے۔ سوائ، اس صورت میں یہ دونوں مفعولوں کی…
Read the full tafseer →25:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یہ الزام دیا ہے کہ یہ مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہمی پر کہتے ہیں حالانکہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ بنایا ہے تو اس لیے بنایا ہے کہ دور دور سے لوگ آویں اور اس میں خالص اللہ کی عبادت کریں حضرت عبداللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق کعبہ کے بن جانے کے بعد مقام ابراہیم جس پتھر کا نام ہے اس پر کھڑے ہو کر حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے لوگوں کے دل کعبہ کی طرف مائل ہوجانے کی غرض سے ایک اذان دی جس اذان کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو ! حج کرنے کو آؤ ‘ اللہ کا گھر بن کر تیار ہوچکا ہے اس اذان کی تاثیر اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دل…
Read the full tafseer →آیت 25
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی برائی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (آپ) کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، لوگوں کو ایمان لانے سے منع کیا اور لوگوں کو مسجد حرام سے روکا، جو ان کی ملکیت ہے نہ ان کے باپ دادا کی۔ بلکہ مسجد حرام مقیم اور دور سے زیارت کے لئے آنے والوں کے لئے برابر ہے۔ بلکہ انہوں نے مخلوق میں افضل ترین ہستی محمدٓ اور آپ کے اصحاب کرام کو بھی مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا، حالانکہ مسجد حرام کا احترام، حرمت اور عظمت یہ ہے کہ جو کوئی اس مسجد میں الحاد اور ظلم کا ارادہ کرتا ہے، ہم اسے درد ناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
مکہ مکرمہ کی اراضی کا حکم اور اس کے مکانات کو اجارے پر دینے کا بیان
قول باری ہے (والمسجد الحرام الذی جعلنا لا للناس سواء ن العاکف فیہ والباد اور اس مسجد حرام کی زیارت میں بھی مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے بنایا ہے جسمیں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں) اسماعیل بن مہاجر نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ کا ارشاد ہے (مکۃ مناخ لاتباع ربا عھا ولد تو اجر بیو تھا مکہ مکرمہ اونٹوں کے بٹھانے کی جگہ ہے یعنی لوگوں کے قیام کا مقام ہے اس کے قطعات اراضی نہ فروخت کئے جائیں اور نہ ہی اس کے مکانات کو اجاڑے پر دیا جائے گا یعنی کرائے پر چڑھایا…
Read the full tafseer →54 اللہ کی راہ سے روکنا ایک سنگین اور ہولناک جرم ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر اور وہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے۔ اور اس طرح یہ لوگ ضلال کے ساتھ اضلال کا بھی ارتکاب کرتے ہیں اور اس طرح یہ دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کے اس جرم کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں پر۔ { الذین کفروا } ۔ کی خبر ذکر نہیں فرمائی گئی جو کہ عربی زبان و بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اور بلاغت کے اس اسلوب میں یہ درس پنہاں ہوتا ہے کہ وہ خبر اتنی ہولناک اور اس قدر خطیر ہے کہ الفاظ گویا اس کا احاطہ نہیں کرسکتے اور اس کو سامع کے فہم اور اس کے اختیار پر…
Read the full tafseer →حج بیت اللہ
تشریح : مسجد حرام ایسی مسجد ہے جو مکہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کی، یعنی خانہ کعبہ (بیت اللہ) یہ مسجد تمام مسلمانوں کے لیے کھلی رہتی ہے۔ کسی کو بھی اس میں جا کر عبادت کرنے سے منع نہیں کیا جاسکتا ہے یہ اللہ کا گھر ہے اور مسلمانوں کا مرکزی نشان ہے۔ یہاں جا کر عمرہ بھی کیا جاتا ہے اور حج بھی۔ لیکن جب مسلمان مدینہ ہجرت کر گئے تو 6 ہجری میں آن سیدنا ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو کفار مکہ نے آپ کو عمرہ کرنے سے روک دیا، لہٰذا آپ عمرہ کیے بغیر مقام حدیبیہ سے واپس مدینہ لوٹ گئے۔ حرم کعبہ میں کسی بھی قسم کی لڑائی جھگڑا منع ہے۔ مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور ان کے مقابل جنہوں نے ایمان و اطاعت کو اختیار کیا تھا انہیں اللہ جل جلالہ ایسے عظیم الشان باغوں میں جگہ دے گا جہاں نہریں جاری ہوں گی اور انہیں اعزاز واکرام کی خاطر سونے اور موتیوں کے کڑے پہنائے جائیں گے جبکہ ان کا لباس جنت کا ریشم ہوگا اس لیے کہ انہیں حق قبول کرنے کی توفیق ہوئی اور انہیں زندگی میں ایمان وعمل کی خوبصورت راہ نصیب ہوئی تھی ۔
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور پھر اس پر اصرار ایسا کہ دوسروں کو بھی اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان جیسے ہوں یا جیسے کفار مسلمانوں کو حرم سے روک رہے ہیں جو سب کے لیے برابر ہے اور مسافر…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ خدا کی راہ سے مراد اسلام اور چھی راہ سے مراد جنت ہے۔9 ۔ مراد ہیں کفار مکہ جنہوں نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو حج اور عمرہ سے روکا تھا۔10 ۔ یعنی دونوں وہاں بلامزاحمت عبادت کرسکتے ہیں اور کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے کو اس میں آکر عبادت کرنے سے منع کرے۔ ایک حدیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب بھی کوئی چاہے بیت اللہ میں نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کا طواف کرسکتا ہے۔ مسجد حرام کی اس حیثیت پر سب کا اتفاق ہے لیکن اختلاف اس بارے میں ہے کہ آیا یہی حکم کہ زمینوں اور مکانوں کے لئے بھی ہے ؟ اکثر صحابہ اور بعد کے اہل علم کے نزدیک ان کے لئے وہ حکم نہیں ہے جو مسجد حرام کے لئے ہے بلکہ…
Read the full tafseer →(22:25) جعلنہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب المسجد الحرام کے لئے ہے۔
سواء برابر۔ اسم مصدر ہے بمعنی استواء یعنی دونوں طرف سے بالکل برابر ہونا۔ اس کا تثنیہ وجمع نہیں آتا ہے۔ سوائ۔ جعلنہ کی ضمیر ہ سے (ضمیر مفعول) سے حال ہے، جسے ہم نے بنایا سب لوگوں کے لئے برابر۔
العاکف فیہ۔ خواہ عاکف اس میں والباد۔ خواہ باہر سے آنے والا ہو۔ العاکف۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ رہنے والا۔ باشندہ۔ متوطن، مجاور۔ لگ بیٹھنے والا جم کر بیٹھنے والا۔ عکوف مصدر۔ جس کے معنی ہیں تعظیما کسی پر متوجہ ہونا اور اس سے وابستہ رہنا۔
شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف کے معنی ہیں عبادت کی نیت سے مسجد میں رہنا اور اس سے باہر نہ نکلنا۔ قرآن مجید میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 :
ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(ف 1) شان نزول :
جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو عمرہ سے روکا اور مسجد حرام میں داخل نہیں ہونے دیا اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →[18] یعنی تمام مسلمان، ملکی ہوں یا غیرملکی، مسجد حرام پر یکساں حق رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
بیت اللہ کی حرمت :
(ف 1) کفار اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ صادر فرمانے کے بعد اب بیت اللہ کی عزت و حرمت کا بیان ہے ، بتایا ہے کہ یہ لوگ کس درجہ محروم اور قسی القارب ہیں ، کہ مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، اور بیت اللہ تک جانے نہیں دیتے ، تاکہ مسلمان آزادانہ اپنے مناسک ادا کرسکیں ،
بات یہ تھی کہ حضور ﷺ سال حدیبیہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ، تاکہ وہاں پہنچ کر کھلے بندوں اپنی عقیدت ونیاز مندی کا اظہار کریں ، مگر مکہ والوں نے حدیبیہ کے مقام میں حضور ﷺ کو روک لیا ، اور آگے نہ بڑھنے دیا ۔
قرآن حکیم نے ان کے اس فعل کی مذمت فرمائی ہے اور کہا ہے کہ بیت اللہ…
Read the full tafseer →(25) بلاشبہ جو لوگ منکر ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جس کو ہم نے سب لوگوں کے لئے خواہ وہاں کا رہنے والا ہو یا باہر سے آنے والا ہو یکساں طور پر معبد مقرر کیا ہے اور جو شخص ظلم اور شرارت سے اس مسجد حرام یعنی مقام حرم میں کوئی بےدینی اور ٹیڑھی راہ کا قصد اور ارادہ کرے گا تو ہم اس کو دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اور اس کو دردناک عذاب کریں گے۔ کفار میں سے بعض لوگ اشد کفر کے خوگر تھے جس کی حالت یہ تھی کہ دوسرے لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے منع کرتے اور روکتے تھے اور نہ صرف اسلام سے روکتے تھے بلکہ مسلمانوں کو حرم میں آنے اور عمرہ کرنے سے بھی روکتے تھے حالانکہ حرم…
Read the full tafseer →ف 3۔ ہرچند کہ دین کے خلاف کرنا ہر جگہ موجب عذاب ہے، لیکن حرم کے اندر اور زیادہ موجب عذاب ہے۔
Read the full tafseer →کفر پر قائم رہ کر بیت اللہ سے روکنے اور شرک کرنے کی پاداش میں عذاب الہی :
25۔ کفر پر قائم رہ کر بیت اللہ سے کن لوگوں نے روکا ؟ مشرکین مکہ نے کن کو روکا ؟ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو ‘ پوری دنیا میں سے بیت اللہ کو ‘ بیت اللہ ماننے والوں میں سے قریش مکہ نے مسلمانوں کو روک دیا کہ تم حج اور عمرہ ادا نہیں کرسکتے حالانکہ مکہ والوں کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی جس دلیل سے وہ مسلمانوں کو حج بیت اللہ ادا کرنے سے روک دیتے ، بلاشبہ مسلمانوں اور کفار مکہ میں جنگ جاری تھی لیکن ان کے اپنے قانون کے مطابق حج کے مہینوں کو حرمت کے مہینے قرار دیا گیا تھا اور وہ ان مہینوں میں جنگ بند کردیتے تھے اور…
Read the full tafseer →Commentary
In the previous verse, mention was made of the mutual hostility between the believers and infidels. One aspect of this hostility has been described in this verse, namely that among the infidels there are those who not only persist in error themselves but also prevent others from following the path of virtue. Those were the people who prevented the Holy Prophet ﷺ and his companions when they wanted to enter the Sacred Mosque wearing the pilgrim's garb. Traditionally the Sacred Mosque and that part of Makkah which has an essential role in the rituals of the pilgrimage was not their…
Read the full tafseer →41.“Those who disbelieved”were the people who rejected the message of the Prophet (peace be upon him). The subsequent theme clearly shows that they were the disbelievers of Makkah.
42. That is, they debarred the Prophet (peace be upon him) and his followers from performing Hajj and Umrah.
43. That is, this is not exclusively the property of any person or family or clan but is meant for all mankind alike. Therefore none has any right to debar others from it.
In this connection, two questions have arisen among the Jurists of Islam:
(1) What is meant by the Sacred Mosque? Does it mean the mosque…
Read the full tafseer →