Explained with ayahs 23–24
جنت کے محلات وباغات
اوپر دوزخیوں کا، ان کی سزاؤں کا، ان کے طوق و زنجیر کا، ان کے جلنے جھلسنے کا، ان کے آگ کے لباس کا ذکر کرکے اب جنت کا، وہاں کی نعمتوں کا اور وہاں کے رہنے والوں کا حال بیان فرما رہا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی سزاؤں سے بچائے اور جزاؤں سے نوازے آمین ! فرماتا ہے ایمان اور نیک عمل کے بدلے جنت مل گئی جہاں کے محلات اور باغات کے چاروں طرف پانی کی نہریں لہریں مار رہی ہونگی جہاں چاہیں گے وہیں خود بخود ان کا رخ ہوجایا کرے گا سونے کے زیوروں سے سجے ہوئے ہوں گے موتیوں میں تل رہے ہوں گے۔ متفق علیہ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ کعب احبار ؒ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 39
اگرچہ پاکیزہ بات کے الفاظ عام ہیں، مگر مراد ہے وہ کلمہ طیبہ اور عقیدہ صالحہ جس کو قبول کرنے کی بنا پر وہ مومن ہوئے۔
سورة الْحَجّ 40
جیسا کہ دیباچے میں بیان کیا گیا ہے، ہمارے نزدیک یہاں سورے کا وہ حصہ ختم ہوجاتا ہے جو مکی دور میں نازل ہوا تھا۔ اس حصے کا مضمون اور انداز بیان وہی ہے جو مکہ سورتوں کا ہوا کرتا ہے، اور اس میں کوئی علامت بھی ایسی نہیں ہے جس کی بنا پر یہ شبہ کیا جاسکے کہ شاید یہ پورا حصہ، یا اس کا کوئی جز مدینے میں نازل ہوا ہو۔ صرف آیت ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ (یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے بارے میں جھگڑا ہے) کے متعلق بعض مفسرین نے یہ کہا…
Read the full tafseer →وَهُدُوْٓا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ ہے۔ بعض نے فرمایا قرآن مراد ہے (قرطبی) صحیح یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں۔
Read the full tafseer →اہل حق کے انجام کی تفصیل
مخالفین حق کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو مخالفین کی تمام مخالفتوں کے علی مرغم موقف حق پر ڈٹے رہے۔ فرمایا کہ ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یخرفیھا من ساد رمن ذھب ذنولوا میں لولوا اساور کے محل پر عطف ہے۔ یعنی وہ اس جنت میں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔ ولبا سھرفیھا حریر کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس جنت میں ان کا لباس ریشم ہی ریشم ہوگا۔ اسی کا لباس اسی کا اوڑھنا اسی کا بچھونا اسی کے دوسرے لوازم
قومی میب سے بعد
وھدوآ انی الطبیمن انقول سے اہل جنت کے اس کلمہ حمد و شکر کی طرف اشارہ ہے…
Read the full tafseer →24۔ 1 یعنی جنت ایسی جگہ ہے جہاں پاکیزہ باتیں ہی ہونگی، وہاں بےہودہ اور گناہ کی بات نہیں ہوگی۔
24۔ 2 یعنی ایسی جگہ کی طرف جہاں ہر طرف اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کی صدائے دل نواز گونج رہی ہوگی۔ اگر اس کا تعلق دنیا سے ہو تو مطلب قرآن اور اسلام کی طرف رہنمائی ہے جو اہل ایمان کے حصے میں آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
12: مسجد حرام اور اس کے آس پاس کے وہ مقامات جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں، مثلا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ، منی، عرفات اور مزدلفہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وقف عام ہیں، اور ان کو عبادت کے لیے استعمال کرنے میں مقامی باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔
13: ٹیڑھی راہ نکالنے سے مراد کفر و شرک حرم کے احکام کی خلاف ورزی، بلکہ ہر قسم کا گناہ ہے۔ حرم میں جس طرح ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ یہاں گناہوں کا وبال بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ھذن خصمن ……فیھا حریر (23)
یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔
آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے…
Read the full tafseer →10 دنیا میں بھی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا، قرآن پڑھا، خدا کی تسبیح وتحمید کی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیا اور آخرت میں بھی کہ فرشتے ہر طرف سے سلام کریں گے اور جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ستھری باتیں کرتے ہوں گے بک بک جھک جھک نہ ہوگی اور نعمائے جنت پر شکر خداوندی بجا لائیں گے۔ مثلاً کہیں گے " اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہ، وَاَوْرَثَنَا الْجَنَّۃَ " سورة فاطر میں ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُــؤْلُــؤًا ۚ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 33 وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) 35 ۔ فاطر :34-33) اس سے آیت حاضرہ کی…
Read the full tafseer →آیت 24 وَہُدُوْٓا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ج ”
یہاں بہترین بات سے مراد کلمہ طیبہ : لَااِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہوسکتا ہے یا پھر یہ کلمہ : سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ۔
وَہُدُوْٓا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ ”
انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے کی ہدایت دی گئی ہے جو سب تعریفوں کے لائق ہے اور وہ اس راستے پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ ج وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ کے اندر پہنچ جائیں گے۔
Read the full tafseer →29 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ ہے کہ اس آیت کو اس دنیا سے متعلق سمجھا جائے۔ اس صورت میں جو مطلب ہوگا وہ ترجمہ سے ہی واضح ہوجاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اسے آخرت سے متعلق سمجھا جائے جیسا کہ پہلے اہل جنت کا ذکر چل رہا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی ایسے مقام کی طرف راہنمائی کی جائے گی جہاں فرشتے انھیں سلام کہیں گے۔ مبارک باد پیش کریں گے۔ وہاں کسی قسم کی بک بک اور جھک جھک نہ ہوگی اور یہ ایسی راہ ہوگی جہاں پہنچ کر اہل جنت ستودہ صفات اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں ہی ہمیشہ مشغول رہا کریں گے۔
Read the full tafseer →30۔ (اسی دنیا میں اور یہ جنت کا انعام واکرام سب اسی ہدایت کا نتیجہ ہے) (آیت) ” الطیب “۔ طیب کا اطلاق ہر پاکیزہ نافع چیز پر ہوسکتا ہے۔ یہاں مراد ہے کلمہ طیبہ توحید، بعض نے مراد قرآن وغیرہ لی ہے۔ ماحصل ہر تفسیر کا ایک ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت نمبر 23 تا 25
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ایسے باغات میں داخل کرے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور جنت میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا جس کا مردوں کے لئے دنیا میں پہننا حرام ہے، لؤلؤ جر کے ساتھ، یعنی کنگن سونے اور موتیوں سے بنے ہوں گے، اس طریقہ سے کہ موتی سونے میں جڑے ہوئے ہوں گے اور لؤ لؤ نصب کے ساتھ بھی ہے اساور کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے اور ان کو دنیا میں کلمہ طیب کی ہدایت کردی گئی تھی، اور وہ لا الٰہ الا اللہ ہے اور ان کو اس راستہ کی ہدایت کردی گئی تھی جو لائق تعریف ہے یعنی اللہ کا پسندیدہ…
Read the full tafseer →وہدوا الی الطیب من القول وہدوا الی صراط الحمید۔ اور (جنت میں یہ نعمتیں اس
لئے ملیں گی کہ دنیا میں) ان کو کلمۂ طیب (پر ایمان کی) ہدایت ہوگئی تھی اور اس (خدا) کے راستہ پر چلنے کی توفیق مل گئی تھی جو مستحق حمد ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا طیب قول سے مراد ہے لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِکی شہادت۔ جس کی ہدایت ان کو دنیا میں مل گئی تھی۔ سدی نے کہا پاکیزہ قول سے مراد ہے قرآن مجید۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں ماضی بمعنی مستقبل ہے یعنی جنت کے اندر ان کو پاکیزہ کلام کی ہدایت ملے گی مطلب یہ کہ وہ جنت میں پہنچ کر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ ۔۔ پڑھیں…
Read the full tafseer →(24) ان کو دنیا میں کلمہ طیب یعنی ”لا الہ الا اللہ“۔ کی ہدایت ہوگئی تھی اور ان کو اس اللہ کے رستہ کی ہدایت ہوگئی تھی جو لائق حمد وستایش ہے یہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری اور مسلمانوں کے درمیان ان کے اختلاف کے بارے میں فیصلہ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →وَهُدُوْٓا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ : یعنی دنیا میں انھیں پاکیزہ بات کلمۂ توحید ”لا الٰہ الا اللہ“ کی ہدایت عطا ہوئی اور انھیں تمام تعریفوں والے پروردگار کے راستے اسلام کی ہدایت ملی۔ اسی طرح آخرت میں انھیں اس مقام کی طرف لے جایا جائے گا جہاں وہ پاکیزہ کلام ہی سنیں گے، کوئی لغو یا گناہ کی بات کان میں نہیں پڑے گی۔ نہ جھگڑا ہوگا اور نہ کوئی بک بک، ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی، فرمایا : (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙاِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا) [ الواقعۃ : 25، 26 ] ”وہ اس میں نہ بےہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات، مگر یہ کہنا کہ سلام ہے،…
Read the full tafseer →وَھُدُوْا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَھُدُوْا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ (اور ان کی راہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی اور مستحقِ حمد ذات کے راستہ پر چلنے کی ان کو توفیق مل گئی) ان لوگوں کی راہنمائی کلمہ توحید کی طرف کردی گئی اور صراط الحمید یعنی اسلام کی طرف کردی گئی یا آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور ان کی زبان پر الحمدللہ الذی صد قنا وعدہ جاری فرمادیا اور جنت کا راستہ ان کو دکھایا۔
الحمیدؔ اللہ تعالیٰ کی ذات جن کی تعریف ہر زبان پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب سے مراد ہے کہ ان کو پاکیزہ قول کی طرف الہام کیا گیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول صحابہ کرام جھگڑے کے وقت کفار کو کہتے تے اور ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں۔
3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے اسماعیل بن ابی خالد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدو الی الطیب من القول سے مراد ہے قرآن اور آیت وھدو الی صراط الحمید سے مراد ہے اسلام۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وھدوا الی الطیب من القول سے مراد ہے اخلاص اور آیت وھدوا…
Read the full tafseer →[ وَهُدُوْٓا : اور ان کی رہنمائی کی جائے گی ] [ اِلَى الطَّيِّبِ : پاکیزہ کی طرف ] [ مِنَ الْقَوْلِ : بات میں سے ] [ وَهُدُوْٓا : اور ان کی رہنمائی کی جائے گی ] [ اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ : الحمید (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے راستے کی طرف
(آیت۔ 24) ۔ یہاں پر اَلْحَمِیْدِ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر نہیں آیا ہے بلکہ اس کے نام کے طور پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے جو دوسرا لفظ قرآن میں اس کے نام کے طور پر آیا ہے وہ اَلرَّحْمٰن ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب) ۔ جیسے اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی (الرحمن یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر متمکن ہوا) 20:5 ۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں فرمایا (وَ ھُدُوْٓا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ) کہ ان کو دنیا میں اچھی بات یعنی کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ کی طرف رہبری کی گئی اس کو انہوں نے قبول کیا اللہ کی توحید کے قائل ہوئے اور اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب پر ایمان لائے جن کے ذریعہ انہیں ہدایت ہوئی، اب انہیں اس کا یہ پھل ملے گا کہ جنت میں آرام سے نعمتوں میں رہیں گے (وَ ھُدُوْٓا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ ) اور انہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ کی ہدایت دی گئی جو تعریف کے لائق ہے اور سب تعریفیں اسی کو زیبا ہیں، دنیا میں جب اس کی راہ پر چلے آخرت میں اس کی طرف سے انعام پائیں گے وہ اپنی راہ پر چلنے والوں کو محروم نہ فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
33:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ الخ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے اور اس میں توحید پرستوں کا نیک انجام بیان کیا گیا ہے آخرت میں ان کو چشموں اور ندیوں والے باغ عطا ہوں گے انہیں سونے اور جواہرات کے زیور اور ریشمی ملبوسات پہنائے جائیں گے۔ ” وَ ھُدُوْا اِلَی الطَّیِّبِ الخ “ دنیا میں ان کو کلمہ توحید اور دین اسلام قبول کرنے کی توفیق دی گئی جس کی وجہ سے آخرت میں انہیں یہ جزا دی گئی ای ارشد ھؤلاء فی الدنیا الی کلمۃ التوحید والی صراط الحمید ای الاسلام (مدارک ج 3 ص 75) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں دو قسم کے دعویداروں کا ذکر تھا۔ ایک قسم اہل ایمان اور اہل توحید کی ہے جب کہ دوسری قسم اہل کفر اور اہل شرک کی۔ قیامت کے دن ان دونوں گروہوں کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور پھر وہاں فیصلہ ہوگا۔ اللہ نے فرمایا کہ کافروں کے سروں پرکھولتا ہوا پانی ڈالا جائیگا جو ان کے پیٹوں میں موجود ہر چیز کو کاٹ کر باہر پھینک دے گا۔ ان کی کھالوں کو جلایا جائے گا اور ان پر لوہے کے ہتھوڑے برسائے جائیں گے اور اس طرح وہ جلاڈالنے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے ان پر یہ عذاب ہمیشہ مسلط رہے گا۔ اور اس سے باہر نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔
اہل ایمان کے لئے انعامات :
قرآن کا یہ اسلوب…
Read the full tafseer →وَہُدُوْٓا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ 0ۚۖ وَہُدُوْٓا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ 24
طيب
يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172]
( ط ی ب ) طاب ( ض )
الشئی یطیب طیبا فھم طیب (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ان اللہ میں اس دوسرے فریق کا ذکر ہے کہ اللہ ان کو بھی بہشتوں میں داخل کرے گا کہ جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور وہ اس میں جڑاؤ زیور اور موتی اور ریشمی لباس پہنیں گے پھر ان اہل ایمان کے وصف میں فرماتا ہے وھدوا الی الطیب من القول کہ یہ باتیں ان کو اس وجہ سے نصیب ہوں گی کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کو اچھی بات اور عمدہ رستہ کی ہدایت کی گئی تھی اچھی بات کہ جس کو قول طیب سے تعبیر کیا کلمہ پاک لا الہ الا اللہ یا قرآن مجید ہے اور عمدہ رستہ دین اسلام ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جنت میں جا کر اچھی باتیں کہنا ہے اس کی حمد وثناء گویا اس میں روحانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے ان الذین کفروا ویصدون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَمِنْ ذَھَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ط وَلِبَاسُھُمْ فِیْھَا حَرِیْر۔ وَھُدُوْٓ ا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَھُدُوْٓا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ ۔ (الحج : 23، 24)
(بےشک ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے ندیاں رواں ہیں انھیں وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا پہناوا ریشم ہوگا۔ اور ان کی راہنمائی پاکیزہ قول کی طرف کی گئی ہوگی اور خدائے حمید کی راہ کی طرف۔ )
اہلِ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کی سزاؤں کے مقابلے میں جنتیوں کے انعامات۔
قاری کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے لیے قرآن مجید اکثر مقامات پر دونوں قسم کے انجام کا بیک وقت ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن مجید پڑھنے والا شخص موقعہ پر صحیح فیصلہ کرسکے۔ کہ اسے کونسا کردار منتخب کرنا چاہیے اس لیے جہنمیوں کی سزاؤں کے مقابلے میں جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب پر حقیقی ایمان لائے اور خلوص نیت کے ساتھ صالح اعمال کرتے رہے۔ ان کا رب انھیں ہر صورت جنت میں داخل کرے گا۔ جس کے نیچے نہریں جاری ہیں انھیں سونے اور موتیوں کے کنگن اور زرق بر ق ریشم کا لباس پہننے کے لیے دیا جائے گا۔ یہ انعام اس لیے…
Read the full tafseer →24: وَھُدُوْا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَھُدُوْا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ (اور ان کی راہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی اور مستحق حمد ذات کے راستہ پر چلنے کی ان کو توفیق مل گئی) ان لوگوں کی راہنمائی کلمہ توحید کی طرف کردی گئی اور صراط الحمید یعنی اسلام کی طرف کردی گئی یا آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور ان کی زبان پر الحمدللہ الذی صد قنا وعدہ جاری فرمادیا اور جنت کا راستہ ان کو دکھایا۔
الحمیدؔ اللہ تعالیٰ کی ذات جن کی تعریف ہر زبان پر ہے۔
Read the full tafseer →24۔ وھدوا الی الطیب۔ ابن عباس نے فرمایا طیب قول سے مراد ہے کہ لاالہ الا اللہ واللہ اکبر والحمدللہ۔ کی شہادت۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد لاالہ الاالہ واللہ اکبر ۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے اور بعض نے کہا کہ اہل جنت کا قول الحمدللہ ہے کہ اس نے اپناوعدہ سچ کردکھایا۔ وھدوالی صراط الحمید۔ اس سے مراد اللہ کا دین اسلام ہے ۔ حمید سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں محمود سے مراد اچھے افعال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ 24:۔ صحیحین ابوداؤد ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت علی ؓ اور ابوذر ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور شیبہ کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک انصاری جوان نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش کے لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور عبیدہ بن حارث ان ان تینوں کو مشرکوں کے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
مکہ مکرمہ کی اراضی کا حکم اور اس کے مکانات کو اجارے پر دینے کا بیان
قول باری ہے (والمسجد الحرام الذی جعلنا لا للناس سواء ن العاکف فیہ والباد اور اس مسجد حرام کی زیارت میں بھی مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے بنایا ہے جسمیں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں) اسماعیل بن مہاجر نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ کا ارشاد ہے (مکۃ مناخ لاتباع ربا عھا ولد تو اجر بیو تھا مکہ مکرمہ اونٹوں کے بٹھانے کی جگہ ہے یعنی لوگوں کے قیام کا مقام ہے اس کے قطعات اراضی نہ فروخت کئے جائیں اور نہ ہی اس کے مکانات کو اجاڑے پر دیا جائے گا یعنی کرائے پر چڑھایا…
Read the full tafseer →52 پاکیزہ قول کی ہدایت ایک عظیم الشان نعمت : ان کو پاکیزہ قول کی ہدایت (و توفیق) مل گئی تھی۔ یعنی کلمہ توحید کی جو کہ اصل اساس و بنیاد ہے تمام خوبیوں اور جملہ محاسن و محامد کی۔ (مدارک، جلالین، معارف اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ کہ اسی کلمہ طیبہ کے ذریعے قرآن حکیم کے ان خزائن تک انسان کو رسائی حاصل ہوتی ہے جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کے کفیل وضامن اور امین و پاسدار ہیں۔ اور اسی قول طیب کے نتیجے اور اس کے صلہ وثمرہ میں اہل ایمان کو جب آخرت میں جنت اور اس کی بےمثال نعمتوں سے نوازا جائے گا تو ان کی زبان پر اپنے رب کی حمد وثناء کے ترانے جاری ہوجائیں گے اور وہ طرح طرح کے الفاظ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
مومنین کا انعام
تشریح : کتنی مزے کی بات ہے کہ جو لوگ اللہ پر پکا ایمان لے آتے ہیں وہ خود بخود ہی اس قدر پاکیزہ ہوجاتے ہیں کہ وہ جو بات کرتے ہیں جو کام کرتے ہیں وہ پاکیزہ ہوتا ہے غرض دنیا میں ان پر اللہ کی طرف سے یہ خاص رحمت ہوتی ہے۔ اور جو نیک بات کرے نیک خیال ہو وہ نیک عمل ضرور ہوتا ہے اسی وجہ سے ایسے لوگوں کے چہروں پر اطمینان سکون اور نور ہوتا ہے۔ ایسے ہی بہترین اور خوش خلق لوگوں کو اللہ تعالیٰ موت کے بعد بھی اور پھر قیامت کے بعد بھی بہترین آسائشوں سے بھری زندگی ملنے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ نہ ان کو یہاں غم ہے نہ وہاں فکر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور ان کے مقابل جنہوں نے ایمان و اطاعت کو اختیار کیا تھا انہیں اللہ جل جلالہ ایسے عظیم الشان باغوں میں جگہ دے گا جہاں نہریں جاری ہوں گی اور انہیں اعزاز واکرام کی خاطر سونے اور موتیوں کے کڑے پہنائے جائیں گے جبکہ ان کا لباس جنت کا ریشم ہوگا اس لیے کہ انہیں حق قبول کرنے کی توفیق ہوئی اور انہیں زندگی میں ایمان وعمل کی خوبصورت راہ نصیب ہوئی تھی ۔
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور پھر اس پر اصرار ایسا کہ دوسروں کو بھی اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان جیسے ہوں یا جیسے کفار مسلمانوں کو حرم سے روک رہے ہیں جو سب کے لیے برابر ہے اور مسافر…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ یعنی اس مقام کی طرف جہاں وہ پاکیزہ اور بہتر کلام سنیں گے۔ مراد ہے جنت کہ وہاں ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آوازآئے گی۔ لغو اور بیہودہ باتوں سے اہل جنت کے کان کبھی آشنا نہ ہوں گے۔ (واقعہ : 62) یا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں (دنیا میں) نیک بات (یعنی کلمہ توحید) کی ہدایت دی گئی۔ (شوکانی، ابن کثیر)
Read the full tafseer →(22:24) ھدوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ھدایۃ مصدر (باب ضرب) ان کو ہدایت کی گئی۔ ان کو راستہ بتایا گیا۔ وھدوا الی الطیب من القول۔ ان کی راہنمائی کی گئی تھی کلمہ طیبہ کی طرف (بعض نے قرآن مراد لیا ہے۔ ماحصل ایک ہی ہے)
صراط الحمید۔ مضاف مضاف الیہ۔ الحمید سے مراد ذات خداوند تعالیٰ ہے کہ سزاوار حمد وثنا ہے اور صراط (راستہ) سے مراد اسلام ہے۔ وھدوا۔ اور یہ باتین یعنی نہروں والے باغ، سونے اور موتیوں کے زیورات اور ریشمی لباس ان کو اس وجہ سے نصیب ہوں گی کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کو کلمہ طیبہ گامزن فرما دیا گیا تھا۔ حمید بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول یعنی محمود ہے اور اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 :
ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(ف 1) شان نزول :
جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو عمرہ سے روکا اور مسجد حرام میں داخل نہیں ہونے دیا اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
[16] مراد ہے کلمہ طیبہ۔
[17] یعنی اسلام کی راہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
بیت اللہ کی حرمت :
(ف 1) کفار اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ صادر فرمانے کے بعد اب بیت اللہ کی عزت و حرمت کا بیان ہے ، بتایا ہے کہ یہ لوگ کس درجہ محروم اور قسی القارب ہیں ، کہ مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، اور بیت اللہ تک جانے نہیں دیتے ، تاکہ مسلمان آزادانہ اپنے مناسک ادا کرسکیں ،
بات یہ تھی کہ حضور ﷺ سال حدیبیہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ، تاکہ وہاں پہنچ کر کھلے بندوں اپنی عقیدت ونیاز مندی کا اظہار کریں ، مگر مکہ والوں نے حدیبیہ کے مقام میں حضور ﷺ کو روک لیا ، اور آگے نہ بڑھنے دیا ۔
قرآن حکیم نے ان کے اس فعل کی مذمت فرمائی ہے اور کہا ہے کہ بیت اللہ…
Read the full tafseer →(24) یہ لوگ وہ ہیں جن کی پاکیزہ اور ستھری بات یعنی کلمہ طیب کی جانب رہنمائی کی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ جو ستودہ صفات اور سب خوبیوں سے سراہا گیا ہے اس کے راستے کی ان کو ہدایت ہوگئی تھی۔
پاکیزہ قول یعنی کلمۂ لآ الٰہ الا اللہ کی ہدایت نصیب ہوئی۔ صراط الحمید یعنی اللہ تعالیٰ کا راستہ جو اسلام ہے اس کی ہدایت بھی ان کو نصیب ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ بھی حمید ہے اور جو راستہ اس تک پہنچتا ہے وہ بھی حمید ہے اور خوبیوں والا ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ وہ رستہ اسلام ہے۔
Read the full tafseer →انہیں پاکیزہ باتوں کی طرف راہنمائی ملی اور وہ ایسے راہ پر چلے :
24۔ فرمایا اہل جنت ‘ جنت تک کیسے پہنچ گئے ؟ اس لئے کہ ان کو دنیا میں پاکیزہ باتوں کے قبول کرنے کی توفیق بخشی گئی اور انہیں رب ذوالجلال والاکرام کے بتائے گئے راستہ کی طرف جب دعوت دی گئی تو انہوں نے اس کو فورا قبول کرلیا اور ان سعید روحوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن اس راستہ سے ہٹنا کبھی پسند نہ کیا اور آج اس رب ذوالجلال والاکرام نے جب جنت کے انعامات سے نوازا تو ان کے دلوں کی گہرائی سے یہی ترانہ گایا گیا ۔ (آیت) ” الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشآئ “۔ (الزمر 39 : 74) ” سب اچھی تعریفیں اس ذات کبریا…
Read the full tafseer →وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ (And guided they were to the good word (of faith) - 22:24) Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has said that this refers to the Kalimah tayyibah لا إله إلا اللہ . Some others say that it means Qur'an. (Qurtubi) As a matter of fact it includes all these things in its meaning.
Read the full tafseer →39.“Purest of the speeches”: though it may imply every pure thing, here it refers to the basic articles of the faith.
40. As already stated in the introduction, the portion of the Surah, which was revealed at Makkah, comes to an end here. Though its style is clearly that of the Makki Surahs and there is nothing to indicate that any part (or the whole) of it was revealed at Al-Madinah, yet the words,“these are the two parties”, have given rise to the misunderstanding that this verse was revealed at Al-Madinah. Some commentators are of the opinion that the two parties referred to were the…
Read the full tafseer →