Al-Hajj 22:23

Al-Hajj · from ayah 23

22:23

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ؕ— وَلِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ ۟اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّلُـؤۡلُـؤًا ‌ؕ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہیں ہیں۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی۔ اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah will admit those who believe and do righteous deeds to gardens beneath which rivers flow. They will be adorned therein with bracelets of gold and pearl, and their garments therein will be silk.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 3 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:23

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اُن کو اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہیں ہیں۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی۔ اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایمان والوں اور نیک کام والوں کو اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں تلے سے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں وه سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سچے موتی بھی۔ وہاں ان کا لباس خالص ریشم ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے سجایا جائے گا، اور جہاں ان کا لباس ریشم ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، انھیں اس میں کچھ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی بھی اور ان کا لباس اس میں ریشم ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اللہ تعالیٰ یقینا انھیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہاں انھیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہاں، اللہ ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے، ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا پہناوا ایکسر ریشم ہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ تعالیٰ داخل فرما دے گا اپنے کرم سے ان لوگوں کو جو صدق دل سے ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے ایسے عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان اور بےمثل نہریں وہاں ان کو آراستہ کیا جائے گا سونے کے گنگنوں اور موتیوں سے اور ان کے لباس وہاں پر ریشم کے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے باغوں میں داخل کرے گا کہ ان کے نیچے ندیاں بہ رہی ہوں گی وہاں ان کو کنگن سونے کے اور موتی پہنائے جائیں گے وہاں ان کی ریشم کی پوشاک ہوگی۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی پہنائے جائیں گے اس (جنت) میں انہیں سونے کے کنگن اور موتی اور اس میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اللہ ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتیوں کے ہار اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(On the other hand), Allah will cause those who believed and acted righteously to enter the Gardens beneath which rivers flow. They shall be decked in them with bracelets of gold and pearls and their raiment shall be of silk.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely Allah will admit those who believe and do good deeds to gardens beneath which rivers flow. They will be adorned therein with bracelets of gold and with pearls, and their dress therein will be (of) silk.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely Allah will admit those who believe and do good deeds to gardens beneath which rivers flow. They will be adorned therein with bracelets of gold and with pearls, and their dress therein will be (of) silk.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, Allah will admit those who believe and do righteous good deeds, to Gardens underneath which rivers flow (in Paradise), wherein they will be adorned with bracelets of gold and pearls and their garments therein will be of silk.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah will cause those who believe and do good works to enter Gardens underneath which rivers flow, wherein they will be allowed armlets of gold, and pearls, and their raiment therein will be silk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah will admit those who believe and do righteous deeds to gardens beneath which rivers flow. They will be adorned therein with bracelets of gold and pearl, and their garments therein will be silk.

— Saheeh International

God will admit the righteously striving believers to the gardens wherein streams flow. There they will be decked with gold bracelets, pearls, and garments of silk,

— Muhammad Sarwar

Surely Allah will make those who believe and do good deeds enter gardens beneath which rivers flow; they shall be adorned therein with bracelets of gold and (with) pearls, and their garments therein shall be of silk.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah will cause those who believe and work righteous works to enter Gardens whereunder the rivers flow, wherein they will be bedecked with brace lets of gold and with pearls, and their garment therein shall be of silk.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah will admit those who believe and work righteous deeds, to Gardens beneath which rivers flow: they shall be adorned therein with bracelets of gold and pearls; and their garments there will be of silk.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–24

جنت کے محلات وباغات اوپر دوزخیوں کا، ان کی سزاؤں کا، ان کے طوق و زنجیر کا، ان کے جلنے جھلسنے کا، ان کے آگ کے لباس کا ذکر کرکے اب جنت کا، وہاں کی نعمتوں کا اور وہاں کے رہنے والوں کا حال بیان فرما رہا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی سزاؤں سے بچائے اور جزاؤں سے نوازے آمین ! فرماتا ہے ایمان اور نیک عمل کے بدلے جنت مل گئی جہاں کے محلات اور باغات کے چاروں طرف پانی کی نہریں لہریں مار رہی ہونگی جہاں چاہیں گے وہیں خود بخود ان کا رخ ہوجایا کرے گا سونے کے زیوروں سے سجے ہوئے ہوں گے موتیوں میں تل رہے ہوں گے۔ متفق علیہ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ کعب احبار ؒ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 38 اس سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ ان کو شاہانہ لباس پہنانے جائیں گے۔ نزول قرآن کے زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس سونے اور جواہر کے زیور پہنتے تھے، اور خود ہمارے زمانے میں بھی ہندوستان کے راجہ اور نواب ایسے زیور پہنتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اہل جنت کو کنگن پہنائے جانے کی حکمت یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ کنگن ہاتھوں میں پہننا عورتوں کا کام اور انہیں کا زیور ہے۔ مردوں کے لئے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کی یہ امتیازی شان رہی ہے کہ سر پر تاج اور ہاتھوں میں کنگن استعمال کرتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سراقہ بن مالک کو جبکہ وہ مسلمان نہیں تھے اور سفر ہجرت میں آپ کو گرفتار کرنے کے لئے تعاقب میں نکلے تھے، جب ان کا گھوڑا باذن خداوندی زمین میں دھنس گیا اور اس نے توبہ کی تو آنحضرت ﷺ کی دعا سے گھوڑا نکل گیا اس وقت سراقہ بن مالک سے وعدہ فرمایا تھا کہ کسریٰ شاہ فارس کے کنگن مال غنیمت میں مسلمانوں کے پاس آئیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–23

آیت (23-19) دونوں گروہوں کے نبی ﷺ کی تفصیل ایک سوال اور اس کا جواب اب یہ ان دونوں فریقوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جن کا ذکر اوپر آیت 17 میں گزرا وہاں صرف اس قدر اشارہ فرمایا تھا کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ان کے انجام کی تفصیل اس آیت میں بیان نہیں ہوئی تھی۔ ان آیات میں ان کے انجام کی تفصیل آرہی ہے۔ آیت 17 میں کئی گروہوں کا ذکر ہے اور یہاں ھذن خصمن کے الفاظ ہیں۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس آیت میں انہی گروہوں کی طرف اشارہ ہے تو ان کے لئے مثنیٰ کا صیغہ کیوں استعمال ہوا۔ جمع کا صیغہ کیوں نہیں استعمال ہوا ؟ اساتذ امام ؒ کا رجحان کلام عرب کی روشنی میں اس بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 جہنمیوں کے مقابلے میں یہ اہل جنت کا اور ان نعمتوں کا تذکرہ ہے جو اہل ایمان کو مہیا کی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–25

12: مسجد حرام اور اس کے آس پاس کے وہ مقامات جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں، مثلا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ، منی، عرفات اور مزدلفہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وقف عام ہیں، اور ان کو عبادت کے لیے استعمال کرنے میں مقامی باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔ 13: ٹیڑھی راہ نکالنے سے مراد کفر و شرک حرم کے احکام کی خلاف ورزی، بلکہ ہر قسم کا گناہ ہے۔ حرم میں جس طرح ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ یہاں گناہوں کا وبال بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–24

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی بڑی آرائش اور زیب وزینت سے رہیں گے اور ہر ایک عنوان سے تجمل و تنعم کا اظہار ہوگا۔ 9 پہلے (قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ ) 22 ۔ الحج :19) میں دوزخیوں کا لباس مذکور ہوا تھا، اس کے بالمقابل یہاں جنتیوں کا پہناوا بیان فرماتے ہیں کہ ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یہ جو فرمایا کہ وہاں گہنا اور وہاں پوشاک۔ معلوم ہوا یہ دونوں (چیزیں مردوں کے لیے) یہاں نہیں۔ اور گہنوں میں سے کنگن اس واسطے کہ غلام کی خدمت پسند آتی ہے تو کڑے ہاتھ میں ڈالتے ہیں۔ " (تنبیہ) احادیث میں ہے کہ جو مرد یہاں ریشم کا لباس پہنے گا آخرت میں نہیں پہنے گا اگر وہ پہننے والا کافر ہے تب تو ظاہر ہے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًاط وَلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ ” دنیا میں ریشم پہننا مردوں کے لیے حرام ہے مگر جنتیوں کے لباس خصوصی طور پر ریشم سے تیار کیے جائیں گے۔ اوپر والا لباس باریک ریشم کا ہوگا جبکہ اس کے نیچے گاڑھے ریشم کا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–23

28 عہد نبوی میں یہ رواج عام تھا کہ شاہان وقت اور بڑے بڑے رئیس لوگ سونے اور جواہرات کے مرصلے زیور پہنتے تھے۔ حتیٰ کہ ہمارے زمانہ میں بھی ہندوستان کے مہاراجے اور نواب ایسے زیور اور ریشمی لباس پہنتے ہیں۔ یہاں یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اہل جنت کو وہاں ہر وہ راحت آرام اور عیش و عشرت حاصل ہوگی جس کا کوئی انسان تصور کرسکتا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کی حقیقت کو سمجھنا بھی اس وقت ناممکن ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسی ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے آج تک دیکھا، نہ کانوں نے سنا۔ حتیٰ کہ کسی کے دل میں ان کا خیال تک بھی نہیں آسکتا (مسلم۔ کتاب الجنہ و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ زیور اور ریشم اس دارالعمل میں مردوں کے لئے ناجائز ہیں۔ جنت میں جو صرف دارالجزاء ہے اور جس کے قانون اور ضابطے دارالعمل سے بالکل مختلف ہوں گے وہاں بالکل جائز ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–25

آیت نمبر 23 تا 25 ترجمہ : اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ایسے باغات میں داخل کرے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور جنت میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا جس کا مردوں کے لئے دنیا میں پہننا حرام ہے، لؤلؤ جر کے ساتھ، یعنی کنگن سونے اور موتیوں سے بنے ہوں گے، اس طریقہ سے کہ موتی سونے میں جڑے ہوئے ہوں گے اور لؤ لؤ نصب کے ساتھ بھی ہے اساور کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے اور ان کو دنیا میں کلمہ طیب کی ہدایت کردی گئی تھی، اور وہ لا الٰہ الا اللہ ہے اور ان کو اس راستہ کی ہدایت کردی گئی تھی جو لائق تعریف ہے یعنی اللہ کا پسندیدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتہا الانہر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اللہ یقیناً ان کو جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے (درختوں اور کوٹھیوں کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی ‘ اس آیت میں اسلوب بیان بدل دیا اور مؤمنوں کی قابل ستائش حالت کی قدردانی اور برتری کو ظاہر کرنے کے لئے جنت کے داخلے کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا اور لفظ اِنّ ذکر کر کے کلام میں زور پیدا کردیا۔ یحلون فیہا من اساور من ذہب ولولوا جنت کے اندر ان کو سونے کے کنگن اور موتیوں کا زیور پہنایا جائے گا۔ قرطبی نے لکھا ہے کہ اہل تفسیر کا قول ہے کہ ہر جنتی کے ہاتھ میں تین کنگن پہنائے جائیں گے۔ ایک سونے کا دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(23) اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے ددودھ، شہد، پانی، اور شراب کی نہریں جاری ہوں گی، اور ان کو جنت میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور لباس ریشم کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۧاِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : ”يُحَلَّوْنَ“ ”حَلَّی یُحَلِّيْ تَحْلِیَۃً“ (تفعیل) سے مضارع مجہول ہے۔ اسی سے ”حِلْیَۃٌ“ بمعنی زیور ہے۔ ”اَسَاوِرَ“ ”أَسْوِرَۃٌ“ کی جمع ہے جو خود ”سِوَارٌ“ کی جمع ہے۔ جمع الجمع ان کنگنوں کی کثرت اور حسن و خوبی کے بیان کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ ”مِنْ اَسَاوِرَ“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ کنگن سونے اور موتیوں کے ہوں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو تم نہیں جانتے، جیسا کہ فرمایا : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ) [ السجدۃ : 17 ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ (جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے یقینا اللہ تعالیٰ ان کو جنتوں میں داخل فرمائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس میں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے) اساوۃ یہ أسورۃ کی جمع ہے اور اسورۃ یہ سوارٌ کی جمع ہے۔ مِنْ ذَھَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا (سونے اور موتیوں کے) ۔ وَلِبَاسُہُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ (اور انکا لباس اس میں ریشم کا ہوگا) ۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–23

1۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت، میں سجود سے مراد ہے ان سب چیزوں کا سایہ۔ آیت وکثیر من الناس، یعنی ایمان والے لوگ، آیت وکثیر حق علیہ العذاب اور اس سے مراد کافر کے سایہ کا سجود ہے۔ حالانکہ وہ خود اس کو ناپسند کرتا ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کا سجدہ اس کا مطلب سایہ ہے۔ اور پہاڑوں کا سجدہ ان کا سایہ ہے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ کپڑے سجدہ کرتے ہیں۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ جو کچھ آسمان میں ہے سورج، چاند…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يُدْخِلُ : داخل کرے گا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ يُحَلَوْنَ : ان کو آراستہ کیا جائے گا ] [ فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [ مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ : مثلاً سونے کے کنگنوں سے ] [ وَّلُؤْلُؤًا : اور موتی سے ] [ وَلِبَاسُهُمْ : اور ان کا لباس ] [ فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [ حَرِيْرٌ: باریک ریشم ہے ] ل ء ل ء [ لاَ ْٔلَأَۃً : (رباعی) ستارے یا بجلی کا چمکنا۔ لُؤْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ایمان اور اعمال صالحہ والوں کا انعام، جنت کا داخلہ ان کے کنگنوں اور لباس کا تذکرہ یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، یہ حضرات جنت کے باغوں میں ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کا لباس سونے کا ہوگا اور ان کو کنگنوں کا زیور بھی پہنایا جائے گا۔ ان کنگنوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ سونے کے کنگن ہوں گے جو موتیوں سے جڑے ہوئے ہوں گے، دنیا میں تو عورتیں ریشم پہنتی ہیں اور زیور پہنتی ہیں اور شرعاً مردوں کو ان کا پہننا ممنوع ہے لیکن جنت میں مرد بھی ریشم کے کپڑے پہنیں گے اور زیور بھی پہنیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–24

بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

33:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ الخ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے اور اس میں توحید پرستوں کا نیک انجام بیان کیا گیا ہے آخرت میں ان کو چشموں اور ندیوں والے باغ عطا ہوں گے انہیں سونے اور جواہرات کے زیور اور ریشمی ملبوسات پہنائے جائیں گے۔ ” وَ ھُدُوْا اِلَی الطَّیِّبِ الخ “ دنیا میں ان کو کلمہ توحید اور دین اسلام قبول کرنے کی توفیق دی گئی جس کی وجہ سے آخرت میں انہیں یہ جزا دی گئی ای ارشد ھؤلاء فی الدنیا الی کلمۃ التوحید والی صراط الحمید ای الاسلام (مدارک ج 3 ص 75) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–25

ربط آیات : گزشتہ آیات میں دو قسم کے دعویداروں کا ذکر تھا۔ ایک قسم اہل ایمان اور اہل توحید کی ہے جب کہ دوسری قسم اہل کفر اور اہل شرک کی۔ قیامت کے دن ان دونوں گروہوں کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور پھر وہاں فیصلہ ہوگا۔ اللہ نے فرمایا کہ کافروں کے سروں پرکھولتا ہوا پانی ڈالا جائیگا جو ان کے پیٹوں میں موجود ہر چیز کو کاٹ کر باہر پھینک دے گا۔ ان کی کھالوں کو جلایا جائے گا اور ان پر لوہے کے ہتھوڑے برسائے جائیں گے اور اس طرح وہ جلاڈالنے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے ان پر یہ عذاب ہمیشہ مسلط رہے گا۔ اور اس سے باہر نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ اہل ایمان کے لئے انعامات : قرآن کا یہ اسلوب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًا۝ 0ۭ وَلِبَاسُہُمْ فِيْہَا حَرِيْرٌ۝ 23 دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–24

ان اللہ میں اس دوسرے فریق کا ذکر ہے کہ اللہ ان کو بھی بہشتوں میں داخل کرے گا کہ جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور وہ اس میں جڑاؤ زیور اور موتی اور ریشمی لباس پہنیں گے پھر ان اہل ایمان کے وصف میں فرماتا ہے وھدوا الی الطیب من القول کہ یہ باتیں ان کو اس وجہ سے نصیب ہوں گی کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کو اچھی بات اور عمدہ رستہ کی ہدایت کی گئی تھی اچھی بات کہ جس کو قول طیب سے تعبیر کیا کلمہ پاک لا الہ الا اللہ یا قرآن مجید ہے اور عمدہ رستہ دین اسلام ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جنت میں جا کر اچھی باتیں کہنا ہے اس کی حمد وثناء گویا اس میں روحانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے ان الذین کفروا ویصدون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَمِنْ ذَھَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ط وَلِبَاسُھُمْ فِیْھَا حَرِیْر۔ وَھُدُوْٓ ا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَھُدُوْٓا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ ۔ (الحج : 23، 24) (بےشک ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے ندیاں رواں ہیں انھیں وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا پہناوا ریشم ہوگا۔ اور ان کی راہنمائی پاکیزہ قول کی طرف کی گئی ہوگی اور خدائے حمید کی راہ کی طرف۔ ) اہلِ حق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–24

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزاؤں کے مقابلے میں جنتیوں کے انعامات۔ قاری کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے لیے قرآن مجید اکثر مقامات پر دونوں قسم کے انجام کا بیک وقت ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن مجید پڑھنے والا شخص موقعہ پر صحیح فیصلہ کرسکے۔ کہ اسے کونسا کردار منتخب کرنا چاہیے اس لیے جہنمیوں کی سزاؤں کے مقابلے میں جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب پر حقیقی ایمان لائے اور خلوص نیت کے ساتھ صالح اعمال کرتے رہے۔ ان کا رب انھیں ہر صورت جنت میں داخل کرے گا۔ جس کے نیچے نہریں جاری ہیں انھیں سونے اور موتیوں کے کنگن اور زرق بر ق ریشم کا لباس پہننے کے لیے دیا جائے گا۔ یہ انعام اس لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایمان والوں کا حال : 23: اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ (جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے یقینا اللہ تعالیٰ ان کو جنتوں میں داخل فرمائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس میں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے) اساوۃ یہ أسورۃ کی جمع ہے اور اسورۃ یہ سوارٌ کی جمع ہے۔ مِنْ ذَھَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا (سونے اور موتیوں کے) ۔ قراءت : مدنی عاصم نے ویوتون لؤلؤا اصل مان کر نصب پڑھا ہے۔ اور دیگر قراء نے من ذھب پر عطف کی بناء پر مجرور پڑھا ہے۔ جبکہ ابوبکر و حماد نے پورے قرآن مجید میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23۔ ان اللہ یدخل الذین آمنوا، ،، ،، اساور من ذھب۔ اساور سوار کی جمع ہے۔ ولولوئ، قراء اہل مدینہ اور عاصم نے ، لولوء منصوب کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة الملائکہ میں بھی اس کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعقوب نے اس جگہ معنی موافقت کی ہے اور مصاحف میں الف کے ساتھ لکھا ہے۔ اور دوسرے قراء نے اس کو جر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں اس کا عطف، من ذھب، پر ہوگا، اور پورے قرآن میں ہمزہ اولی کو چھوڑ دیاپورے قرآن میں، ابوبکر، ابوجعفر، نے ان کی موافقت کی ہے۔ باقی رہی بات الف کو باقی رکھا جائے گایا نہیں ؟ اس بارے میں بعض حضرات نے کہا کہ اس کے الف کو باقی رکھاجائے گا۔ جیسا کہ قالوا اور کانوا میں الف کو باقی رکھاجاتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–24

19۔ 24:۔ صحیحین ابوداؤد ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت علی ؓ اور ابوذر ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور شیبہ کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک انصاری جوان نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش کے لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور عبیدہ بن حارث ان ان تینوں کو مشرکوں کے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–24

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–25

مکہ مکرمہ کی اراضی کا حکم اور اس کے مکانات کو اجارے پر دینے کا بیان قول باری ہے (والمسجد الحرام الذی جعلنا لا للناس سواء ن العاکف فیہ والباد اور اس مسجد حرام کی زیارت میں بھی مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے بنایا ہے جسمیں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں) اسماعیل بن مہاجر نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ کا ارشاد ہے (مکۃ مناخ لاتباع ربا عھا ولد تو اجر بیو تھا مکہ مکرمہ اونٹوں کے بٹھانے کی جگہ ہے یعنی لوگوں کے قیام کا مقام ہے اس کے قطعات اراضی نہ فروخت کئے جائیں اور نہ ہی اس کے مکانات کو اجاڑے پر دیا جائے گا یعنی کرائے پر چڑھایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–23

48 کافروں کے عذاب کی شدت اور ہولناکی کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پگھل پگھل جائے گا وہ سب کچھ جو کہ ان کے پیٹوں کے اندر ہوگا اور ان کی کھالیں بھی "۔ اور جلنے اور پگھلنے کے بعد یہ سب کچھ دوبارہ اسی طرح ہوجائے گا اور اس طرح ان کو ملنے والا یہ عذاب مسلسل جاری رہے گا۔ یعنی ایسا نہ ہوگا کہ آگ سے جل کر یہ ختم ہوجائیں اور جان چھوٹ جائے۔ جیسا کہ دنیا میں آگ سے جلنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ بلکہ وہاں وہ جلتے ہی رہیں گے اور مرنے بھی نہیں پائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لَا یَقْضٰی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتَوْا وَلَا یَخَفّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِہَا } ۔ (فاطر : 36) ۔ بلکہ اس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–24

مومنین کا انعام تشریح : کتنی مزے کی بات ہے کہ جو لوگ اللہ پر پکا ایمان لے آتے ہیں وہ خود بخود ہی اس قدر پاکیزہ ہوجاتے ہیں کہ وہ جو بات کرتے ہیں جو کام کرتے ہیں وہ پاکیزہ ہوتا ہے غرض دنیا میں ان پر اللہ کی طرف سے یہ خاص رحمت ہوتی ہے۔ اور جو نیک بات کرے نیک خیال ہو وہ نیک عمل ضرور ہوتا ہے اسی وجہ سے ایسے لوگوں کے چہروں پر اطمینان سکون اور نور ہوتا ہے۔ ایسے ہی بہترین اور خوش خلق لوگوں کو اللہ تعالیٰ موت کے بعد بھی اور پھر قیامت کے بعد بھی بہترین آسائشوں سے بھری زندگی ملنے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ نہ ان کو یہاں غم ہے نہ وہاں فکر ہوگی۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–25

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور ان کے مقابل جنہوں نے ایمان و اطاعت کو اختیار کیا تھا انہیں اللہ جل جلالہ ایسے عظیم الشان باغوں میں جگہ دے گا جہاں نہریں جاری ہوں گی اور انہیں اعزاز واکرام کی خاطر سونے اور موتیوں کے کڑے پہنائے جائیں گے جبکہ ان کا لباس جنت کا ریشم ہوگا اس لیے کہ انہیں حق قبول کرنے کی توفیق ہوئی اور انہیں زندگی میں ایمان وعمل کی خوبصورت راہ نصیب ہوئی تھی ۔ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور پھر اس پر اصرار ایسا کہ دوسروں کو بھی اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان جیسے ہوں یا جیسے کفار مسلمانوں کو حرم سے روک رہے ہیں جو سب کے لیے برابر ہے اور مسافر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–23

ف 5 ۔ گزشتہ زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس زینت اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لئے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں شاہانہ لباس پہنچایا جائے گا۔ 6 ۔ حریر سے مراد خالص ریشم ہے جس کا استعمال مردوں کے لئے دنیا میں حرام ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا اسے وہ آخرت میں نہ پہنایا جائے گا “ اس بارے میں اور بھی کئی احادیث ثابت ہیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 22–23

(22:22) منہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نار ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر ثیاب کے لئے ہے لیکن صاحب روح المعانی نے اسے رکیک (کمزور) کہا ہے۔ غم۔ رنج۔ اندہ۔ حزن۔ کرب۔ غم کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کے ہیں۔ اسی سے الغمی ہے۔ جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں۔ اسی لئے بادل کو الغمام کہتے ہیں کہ وہ سورج کی روشنی کو چھپا لیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام (2:210) کہ خدا ان کے پاس بادل کے سائبانوں میں آجائے۔ اور غمۃ الامر۔ بمعنی کسی معاملہ کا پیچیدہ اور مشتبہ ہونا ہے جیسے قرآن مجید میں آیا ہے ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ (10:71) پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–25

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 : ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–23

مسلمانوں اور مشرکوں کا جھگڑا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ حضڑت ابوذرغفاری سے منقول ہے کہ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ آیت چھ آدمیوں کی شان میں ہے جو کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک جوان انصار نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا، انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر نبی ﷺ نے امیر حمزہ عنہ اور حضرت علی اور عبیدہ بن حارث عنہ کو ان تینوں مشرکوں کے مقابلہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–25

بیت اللہ کی حرمت : (ف 1) کفار اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ صادر فرمانے کے بعد اب بیت اللہ کی عزت و حرمت کا بیان ہے ، بتایا ہے کہ یہ لوگ کس درجہ محروم اور قسی القارب ہیں ، کہ مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، اور بیت اللہ تک جانے نہیں دیتے ، تاکہ مسلمان آزادانہ اپنے مناسک ادا کرسکیں ، بات یہ تھی کہ حضور ﷺ سال حدیبیہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ، تاکہ وہاں پہنچ کر کھلے بندوں اپنی عقیدت ونیاز مندی کا اظہار کریں ، مگر مکہ والوں نے حدیبیہ کے مقام میں حضور ﷺ کو روک لیا ، اور آگے نہ بڑھنے دیا ۔ قرآن حکیم نے ان کے اس فعل کی مذمت فرمائی ہے اور کہا ہے کہ بیت اللہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے ان کو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے پائیں نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہائے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس عام طور سے ریشمی ہوگا۔ فریق منکر کے سلسلے میں آگ کے کپڑوں کا ذکر آیا تھا۔ اب اس کے مقابلے میں اہل ایمان اور مومنین صالحین کا ذکر فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جو فرمایا کہ وہاں گہنا اور پوشاک معلوم ہوا یہ دونوں یہاں نہیں اور گہنوں میں سے کنگن اس واسطے کہ غلام کی خدمت پسند آتی ہے تو کڑے ڈال دیتے ہیں ہاتھ میں۔ 12 بعض احادیث میں ہے کہ جو شخص دنیا میں رشیمین کپڑے پہنے گا وہ آخرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–23

ف 9۔ باوجود تمام مخلوقات کے منقاد ہونے کے آدمی جو خاص درجہ کی عقل رکھتا ہے ان میں سب منقاد نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو باغات میں داخل فرمائے گا اور ان پر انعامات وافر کرے گا : 23۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ جنت اس مقام کا نام ہے جو نیکوکار انسانوں کا دائمی گھر ہوگا قرآن کریم میں عموما (الجنۃ) (باغ) اور (جنت) (باغات) کا لفظ آیا ہے اور کبھی کبھی مناسب اضافتوں کے ساتھ بھی ذکر کیا گیا ہے جیسے (جنۃ النعیم) (نعمت کا باغ) (جنۃ الخلد) (بقائے دوام کا باغ) (جنت عدن) دائمی سکونت کے باغ) (جنۃ الماوی) (پناہ کا باغ) وغیرہ پھر جنت کے انعامات کا ذکر بھی مختلف مقامات میں مختلف الفاظ اور مختلف اشیاء دیئے جانے کے ساتھ آیا ہے ، دنیا میں شخصی راحت و آرام کا بلند سے بلند تخیل ایک لفظ ” بادشاہی “ کے اندر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The philosophy of adorning the dwellers of Paradise with gold bracelets Here a point may arise that bracelets are articles of jewellery worn by women only and their use by men is looked upon with disfavor. This objection is not entirely relevant because throughout ages monarchs have embellished their persons with costly jewellery, crowns and bracelets as symbols of their might and wealth. The story is well known that Suraqah Ibn Malik ؓ ، before his conversion to Islam, started out in pursuit of the Holy Prophet ﷺ in order to apprehend him while he was on his way from Makkah to Madinah. As he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38. This is to show that they will be honored like the kings and chiefs who used to wear ornaments of gold and jewelry in the period the Quran was revealed.

Read the full tafseer →