Al-Hajj 22:18

Al-Hajj · from ayah 18

22:18Sajda

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ؕ— وَكَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ ؕ— وَمَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ ۟اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسۡجُدُ لَهٗ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ وَالنُّجُوۡمُ وَ الۡجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِيۡرٌ مِّنَ النَّاسِ‌ ؕ وَكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ‌ؕ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ۩

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو عزت دینے والا نہیں۔ بےشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you not see that to Allah prostrates whoever is in the heavens and whoever is on the earth and the sun, the moon, the stars, the mountains, the trees, the moving creatures and many of the people? But upon many the punishment has been justified. And he whom Allah humiliates - for him there is no bestower of honor. Indeed, Allah does what He wills.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:18

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو عزت دینے والا نہیں۔ بےشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے آگے وہ سب سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور وہ سب جو زمین میں ہیں۔ نیز سورج اور چاند، اور ستارے اور پہاڑ، اور درخت اور جانور، اور بہت سے انسان بھی۔ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر عذاب طے ہوچکا ہے۔ اور جسے اللہ ذلیل کردے، کوئی نہیں ہے جو اسے عزت دے سکے۔ یقینا اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت آدمی اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہے کرے، (السجدة) ۶

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ ہی کے لئے (وہ ساری مخلوق) سجدہ ریز ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج (بھی) اور چاند (بھی) اور ستارے (بھی) اور پہاڑ (بھی) اور درخت (بھی) اور جانور (بھی) اور بہت سے انسان (بھی)، اور بہت سے (انسان) ایسے بھی ہیں جن پر (ان کے کفر و شرک کے باعث) عذاب ثابت ہو چکا ہے، اور اﷲ جسے ذلیل کر دے تو اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک اﷲ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ، اسی کے لیے سجدہ کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگ۔ اور بہت سے وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بیشک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد اللہ کے حضور سربسجود ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں اور اللہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کے آگے جھکتے ہیں ج آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند، ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اور لوگوں میں سے بہتیرے اور بہتیرے ایسے ہیں جن پر خدا کا عذاب لازم ہوچکا ہے اور جن کو خدا ذلیل کر دے تو ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں بن سکتا۔ بیشک اللہ ہی کرتا ہے جو چاہتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی کے حضور سجدہ ریز ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں میں ہیں اور وہ سب بھی جو کہ زمین میں ہیں اور سورج وچاند اور ستارے و پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی اور بہت سے ایسے ہیں جن پر پکا ہوچکا ہے اللہ کا عذاب اور حقیقت یہ ہے کہ جسے اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا بلا شبہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کو سجدۂ (تسلیم) کرتے ہیں جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور کثرت سے انسان بھی۔ اور بہتوں پر عذاب (بھی) ثابت ہوگیا ہے۔ اور کس کو اللہ ذلیل کرے اس کا کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک اللہ جو چاہے کرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ کے سامنے سر بسجود ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے اور لوگوں میں سے بھی بہت سارے اور بہت سے (انسان) ایسے ہیں جو عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں اور جس کو اللہ ہی رسوا کر دے پھر اسے عزت دینے والا کوئی نہیں یقیناً اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ‘ سورج ‘ چاند ستارے ‘ پہاڑ ‘ درخت ‘ چار پائے اور بہت سے انسان اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو اللہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you not seen that all those who are in the heavens and all those who are in the earth prostrate themselves before Allah; and so do the sun and the moon, and the stars and the mountains, and the trees, and the beasts, and so do many human beings, and even many of those who are condemned to chastisement? And he whom Allah humiliates, none can give him honour. Allah does whatever He wills.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you not seen that to Allah prostrate all those in the skies and all those on the earth, and the sun, the moon, the stars, the mountains, the trees, the animals and many from mankind? And there are many on whom punishment has become due. And the one whom Allah puts to disgrace, there is none to give him respect. Surely Allah does what He wills.

— Muhammad Taqi Usmani

Have you not seen that to Allah prostrate all those in the skies and all those on the earth, and the sun, the moon, the stars, the mountains, the trees, the animals and many from mankind? And there are many on whom punishment has become due. And the one whom Allah puts to disgrace, there is none to give him respect. Surely Allah does what He wills.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See you not that whoever is in the heavens and whoever is on the earth, and the sun, and the moon, and the stars, and the mountains, and the trees, and Ad-Dawabb, and many of mankind prostrate themselves to Allah. But there are many (men) on whom the punishment is justified. And whomsoever Allah disgraces, none can honor him. Verily, Allah does what He wills.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen that unto Allah payeth adoration whosoever is in the heavens and whosoever is in the earth, and the sun, and the moon, and the stars, and the hills, and the trees, and the beasts, and many of mankind, while there are many unto whom the doom is justly due. He whom Allah scorneth, there is none to give him honour. Lo! Allah doeth what He will.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you not see that to Allah prostrates whoever is in the heavens and whoever is on the earth and the sun, the moon, the stars, the mountains, the trees, the moving creatures and many of the people? But upon many the punishment has been justified. And he whom Allah humiliates - for him there is no bestower of honor. Indeed, Allah does what He wills.

— Saheeh International

Have you not considered that those in the heavens and the earth, the Sun, the Moon, the Stars, the mountains, the trees, the animals, and many people, all bow down to God? But many people deserve His torment. No one can give honor to whomever God has insulted. God has all the power to do what He wants.

— Muhammad Sarwar

Do you not see that Allah is He, Whom obeys whoever is in the heavens and whoever is in the earth, and the sun and the moon and the stars, and the mountains and the trees, and the animals and many of the people; and many there are against whom chastisement has become necessary; and whomsoever Allah abases, there is none who can make him honorable; surely Allah does what He pleases.

— Muhammad Habib Shakir

Beholdest thou not that Allah unto Him adore whosoever is in the heavens and on the earth, and the sun, and the moon, and the mountains, and the trees and the beasts, and many of mankind! And many are there on whom due is the torment. And whomsoever Allah despiseth, none can honour; verily Allah doth whatsoever He willeth.

— Abdul Majid Daryabadi

Seest thou not that to Allah bow down in worship all things that are in the heavens and on earth,- the sun, the moon, the stars; the hills, the trees, the animals; and a great number among mankind? But a great number are (also) such as are fit for Punishment: and such as Allah shall disgrace,- None can raise to honour: for Allah carries out all that He wills.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

چاند سورج ستارے سب سجدہ ریز۔ مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بےخوشی۔ ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع میں ہے۔ چناچہ قرآن نے سائے کا دائیں بائیں اللہ کے سامنے سربہ سجود ہونا بھی آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48؀) 16۔ النحل :48) میں بیان فرمایا ہے۔ آسمانوں کے فرشتے، زمین کے حیوان، انسان، جنات، پرند، چرند، سب اس کے سامنے سربہ سجود ہیں اور اس کی تسبیح اور حمد کررہے۔ سورج چاند ستارے بھی اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 30 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الرعد، حاشیہ 24۔ 25، الجحل، حاشیہ 41۔ 42۔ سورة الْحَجّ 31 یعنی فرشتے، اَجرام فلکی، اور وہ سب مخلوقات جو زمین کے ماوراء دوسرے جہانوں میں ہیں، خواہ وہ انسان کی طرح ذی عقل و ذی اختیار ہوں، یا حیوانات، نباتات، جمادات اور ہوا اور روشنی کی طرح بےعقل و بےاختیار۔ سورة الْحَجّ 32 یعنی وہ جو محض مجبوراً ہی نہیں بلکہ بالارادہ اور بطوع ورغبت بھی اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرا انسانی گروہ جس کا بعد کے فقرے میں ذکر آ رہا ہے، وہ ہے جو اپنے ارادے سے خدا کے آگے جھکنے سے انکار کرتا ہے، مگر دوسری بےاختیار مخلوقات کی طرح وہ بھی قانون فطرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

خلاصہ تفسیر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اور یہود اور صابئین اور نصاریٰ اور مجوس اور مشرکین، اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان میں قیامت کے روز (عملی) فیصلہ کر دے گا (کہ مسلمانوں کو جنت میں اور سب اقسام کافروں کو جہنم میں داخل کرے گا) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔ اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے (اپنی اپنی حالت کے مناسب) سب عاجزی کرتے ہیں جو کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور (تمام مخلوقات کے مطیع و فرمانبردار ہونے کے باوجود انسان جو خاص درجہ کی عقل بھی رکھتا ہے وہ سب کے سب مطیع و فرمانبردار نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کائنات کی ہر چیز سجدے میں ہے یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوتی ہے جس کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپائے سب خدا کے امروحکم کے تحت مسخر ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی سر مو خدا کے مقرر کئے ہوئے قوانین سے انحرام نہیں اختیار کرتی۔ سورج جس کو نادمانوں نے معبود نبا کر سب سے زیادہ پوجا ہے۔ خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب و روز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے۔ دوپہ تک وہ قیام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 بعض مفسرین نے اس سجدے سے ان تمام چیزوں کا احکام الٰہی کے تابع ہونا مراد لیا ہے، کسی میں مجال نہیں کہ وہ حکم الٰہی سے سرتابی کرسکے۔ ان کے نزدیک وہ سجدہ اطاعت و عبادت مراد نہیں۔ جب کہ بعض مفسرین نے اسے مجاز کے بجائے حقیقت پر مبنی کیا ہے کہ ہر مخلوق اپنے اپنے انداز سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے مثلا (من فی السموات) سے مراد فرشتے ہیں ومن فی الارض سے ہر قسم کے حیوانات، انسان، جنات، چوپائے اور پرندے اور دیگر اشیاء ہیں یہ سب اپنے اپنے انداز سے سجدہ اور تسبیح کرتی ہیں (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ) 17۔ الاسراء :44) سورة بنی اسرائیل۔ سورج چاند اور ستاروں کا بطور خاص اس لیے ذکر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

11: ان مخلوقات کے سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہیں، اور ہر چیز اس کے ہر حکم کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، نیز اس سے عبادت کا سجدہ بھی مراد ہوسکتا ہے ؛ کیونکہ اتنی سمجھ کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، البتہ ہر چیز کے سجدے کی صورت مختلف ہے، اس پوری کائنات میں انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے تمام افراد عبادت کا سجدہ نہیں کرتے ؛ بلکہ بہت سے کرتے ہیں بعض نہیں کرتے اس لئے انسانوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ بہت سے انسان بھی۔ یاد رہے کہ یہ سجدہ کی آیت ہے، جو شخص اصل عربی میں یہ آیت تلاوت کرے یا سنے اس…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم تر …………ما یشآء (18) جب انسان اس آیت پر غور کرتا ہے تو ایک کثیر التعداد مخلوق خدا ، جو نظر آتی ، جو نظر نہیں آتی ، آسمانوں میں اور اجرام فلکی میں ، وہ چیزیں جو نظر آتی ہیں اور جو نظر نہیں آتی ہیں ، پھر جو نہایت ہی حساس آلات کی مدد سے نظر آتی ہیں ، لاتعداد پہاڑ ، درخت ، زمین پر چنلے والے حیوانات ، اور پرندے چرندے ، غرض مخلوقات الٰہی کا یہ سیلاب اللہ کے سامنے سربسجود ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ نہایت ہی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہے لیکن اگر اس مخلوق میں کوئی نافرمان ہے تو وہ انسان ہے۔ یہ واحد مخلوق ہے جو جسورانہ انداز میں نافرمانی کرتی ہے۔ وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 ایک سجدہ ہے جس میں آسمان و زمین کی ہر ایک مخلوق شامل ہے وہ یہ کہ اللہ کی قدرت کے آگے تکویناً سب مطیع و منقاد اور عاجز و بےبس ہیں خواہی نخواہی سب کو اس کے سامنے گردن ڈالنا اور سر جھکانا پڑتا ہے۔ دوسرا سجدہ ہے ہر چیز کا جدا۔ وہ یہ کہ جس چیز کو جس کام کے لیے بنایا اس کام میں لگے، یہ بہت آدمی کرتے ہیں بہت نہیں کرتے۔ مگر آدمیوں کو چھوڑ کر اور ساری خلقت کرتی ہے۔ بناء ً علیہ اِنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہ، الخ میں ہر چیز کا اپنی شان کے لائق سجدہ مراد ہوگا یا " مَنْ فِیْ الْاَرْضِ " کے بعد دوسرا " یَسْجُدُ " مقدر نکالا جائے گا (تنبیہ) پہلی آیت سے ربط یہ ہوا کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ط ” انسانوں کے علاوہ باقی تمام مخلوقات قانون خداوندی اور تکوینی نظام کے اصول و ضوابط کی پابند اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں مصر وف عمل ہیں ‘ البتہ اس سلسلے میں انسانوں کا معاملہ مختلف ہے۔ وہ سب کے سب ایک سے نہیں ہیں۔ انسانوں کو جو محدود آزادی ملی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ اللہ سے بغاوت کردیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں مثلاً سورج ‘ چاند اور درختوں تک کی پرستش شروع کردیتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو ہدایت اور اپنی معرفت عطا فرماتا ہے وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 ساری کائنات میں انسان اور جن ہی مکلف مخلوق ہیں اور انھیں کو قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے باقی مخلوق تکوینی طور پر اللہ کے حضور ہر وقت سجدہ ریز رہتی ہے اور ان کے سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ جس کام پر اللہ نے انھیں لگا دیا ہے یا جو خدمت ان کے ذمہ کردی ہے اور جو قوانین ان کے لئے مقرر کردیئے ہیں ان سے وہ سرمو تجاوز نہیں کرتے اور انسانوں میں سے بھی ایک کثیر طبقہ ایسا ہے جس نے اپنے ارادہ کو اللہ کی مرضی کے تابع بنادیا ہے اور برضا ورغبت اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ تاہم انسانوں کا ایک کثیر طبقہ ایسا بھی ہے جس نے اس اختیار کا غلط استعمال کیا اور باقی تمام مخلوق کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ سجدہ سے مراد یہاں سجدہ شرعی نہیں، بلکہ لفظی معنی مراد ہیں۔ یعنی امور تکوینی میں انقیاد و اطاعت اور اسی اعتبار سے اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے لحاظ سے ساری غیر مکلف مخلوق مطیع ومنقاد ہے۔ لیکن انسان چونکہ عقل کی بنا پر مکلف مخلوق ہے، اس سے اس کے درجہ و مرتبہ کے متناسب، علاوہ انقیاد و اطاعت اور اسی اعتبار سے اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے لحاظ سے ساری غیر مکلف مخلوق مطیع ومنقاد ہے۔ لیکن انسان چونکہ عقل کی بنا پر مکلف مخلوق ہے، اس سے اس کے درجہ و مرتبہ کے متناسب، علاوہ انقیاد و تسخیر ہی کے انقیاد تشریعی بھی مقصود کو مطلوب ہے اور وہ ساری نوع انسان میں نہیں پایا جاتا۔ اس لیے انسان کے مطیع ومنقاد ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجروا الدوآب کیا آپ نہیں جانتے کہ جو (ملائکہ) آسمانوں میں ہیں اور جو مؤمن جن و انس ‘ زمین میں ہیں وہ (سب) اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے بھی مَنْکا استعمال اہل عقل کے لئے ہوتا ہے اور اس لئے مَنْ فِی السَّمٰوٰتِسے مراد ہیں صرف ملائکہ اور مَنْ فِی الْاَرْضِ سے مراد ہیں جن و انس۔ اور جن و انس میں سے بھی صرف اہل ایمان مراد ہیں لفظ مَنْاگرچہ عام ہے کافر و مؤمن دونوں کو شامل ہے لیکن آئندہ آیت وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُسے کافروں کو سجدہ کرنے والے جن و انس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) اے محمد ﷺ آپ کو قرآن کریم کے ذریعے اس عجیب بات کا علم نہیں ہوا کہ اللہ کے سامنے سب اپنی اپنی حالت کے مطابق عاجزی کرتے ہیں جو مخلوقات کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں جیسا کہ مومنین اور سورج چاند اور ستارے پہاڑ اور درخت اور چوپائے (مگر انسان باوجود سب سے زیادہ عاقل ہونے کے ان میں سے) بہت سے تو فرمانبردار ہیں، ان کے لیے جنت ثابت ہوگئی، اور وہ مومنین ہیں اور بہت ایسے ہیں (کہ بوجہ تابعدار نہ ہونے کے ان پر دوزخ کے عذاب کا حق ثابت ہوگیا جیسا کہ کافر جس کو اللہ بدبختی میں مبتلا کر کے ذلیل و خوار کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں کہ اس کو سعادت دے دے۔ یا یہ کہ جسے اللہ تعالیٰ برائیوں کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ۔۔ : پچھلی آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہوا اہل ایمان کے علاوہ سب نے اللہ کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں۔ یہود نے عزیر ؑ کو اور نصاریٰ نے مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے۔ صابی ستارہ پرست، مجوس آتش پرست اور مشرکین بت پرست ہیں۔ اس آیت میں فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی عبادت اور اسے سجدہ کرنے پر متفق ہے ؟ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی، اس کا حق تو یہ تھا کہ اس کے سارے افراد اوروں سے زیادہ اس کی عبادت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر متفق ہوتے، مگر اس کے بہت سے افراد غیر اللہ کی عبادت کی وجہ سے عذاب الٰہی کے حق…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نہیں جانتے) کیا تم نہیں جانتے اے محمد ﷺ ایسا علم جو آنکھوں دیکھنے کی طرح ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ (کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں) ۔ ایک قول : تمام اس کو سجدہ کرتے ہیں مگر ہمیں اس کی اطلاع نہیں جیسا کہ ان کی تسبیح کی اطلاع نہیں۔ ارشاد الٰہی ہے : وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لاتفقہون تسبیحہم ] الاسراء : 44 [ دوسرا قول : غیر مکلف میں افعال کے اعتبار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–23

1۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت، میں سجود سے مراد ہے ان سب چیزوں کا سایہ۔ آیت وکثیر من الناس، یعنی ایمان والے لوگ، آیت وکثیر حق علیہ العذاب اور اس سے مراد کافر کے سایہ کا سجود ہے۔ حالانکہ وہ خود اس کو ناپسند کرتا ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کا سجدہ اس کا مطلب سایہ ہے۔ اور پہاڑوں کا سجدہ ان کا سایہ ہے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ کپڑے سجدہ کرتے ہیں۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ جو کچھ آسمان میں ہے سورج، چاند…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ] [ ان اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ يَسْجُدُ : سجدہ کرتے ہیں ] [ لَهٗ : اس کو ] [ مَنْ : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہیں ] [ وَمَنْ : اور وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہیں ] [ وَالشَّمْسُ : اور سورج ] [ وَالْقَمَرُ : اور چاند ] [ وَالنُّجومُ : اور ستارے ] [ وَالْجبالُ : اور پہاڑ ] [ وَالشَّجَرُ : اور درخت ] [ وَالدَّوَاۗبُّ : اور جانور ] [ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے اکثر ] [ وَكَثِيْرٌ: اور اکثر (وہ ہیں)] [ حَقَّ : ثابت ہوا ] [ عَلَيْهِ : جن پر ] [ الْعَذَابُ : عذاب ] [ وَمَنْ : اور جس کو ] [ يُّهِنِ اللّٰهُ : ذلیل کرتا ہے اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا کہ اے مخاطب کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ کی مخلوق جو آسمان میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہیں اور چاند سورج ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے سب اللہ کو سجدہ کرتے ہیں (ہر ایک کا سجدہ اس کی اپنی حالت اور کیفیت کے اعتبار سے ہے اور بعض حضرات نے یسجد کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کے سامنے عاجزی کرتی ہیں، جو حضرات آسمانوں میں ہیں اور جو مخلوق زمین میں ہے سبھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبر دار ہیں اور سجدہ ریز ہیں البتہ روئے زمین پر جو انسان ہیں ان میں سے بہت سے مسلم ہیں فرمانبر دار ہیں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ منکر ہیں کافر ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–24

بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

29:۔ ” اَلَمْ تَرَ الخ “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے سجود سے مراد انقیاد تام ہے یعنی ہر چیز تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے ماتحت ہے۔ السجود التذلل ولانقیاد لتدبیر اللہ عز وجل (قرطبی ج 12 ص 24) ۔ کیونکہ ہر جماد اور بےجان چیز بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے۔ فانہ ما من جماد الا وھو مطیع للہ خاشع للہ و مسیح لہ الخ (معالم ج 5 ص 8) ۔ جب ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد ہے اور اس کے تکوینی احکام سے سر مُو انحراف نہیں کرسکتی کیونکہ وہی اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک و مختار ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ کارساز اور متصرف بھی وہی ہے لہذا اسی کی عبادت کرنی چاہئے رکوع و سجود…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–22

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پائے جانے والے مختلف مذاہب مثلاً یہودی ، صابی ، نصاریٰ ، مجوسی ، مشرک اور اہل ایمان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں سے صرف اہل ایمان ہی کامیاب ہوں گے جب کہ باقی سارے گروہ گمراہ ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ کریگا۔ تمام گمراہ فرقوں کو اس دن اپنی غلطی کا احساس ہوگا جب کہ ان کے عقیدے اور عمل کا صلہ ان کے سامنے آئے گا۔ اس دن سب کو پتہ چل جائے گا کہ دنیا میں اہل ایمان ہی حق پر تھے جو اللہ کی وحدانیت کو مانتے تھے ، اسی کی عبادت کرتے تھے۔ اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ خدا تعالیٰ کے لئے سجدہ ریزی : اب آج کی پہلی آیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ۝ 0ۭ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْہِ الْعَذَابُ۝ 0ۭ وَمَنْ يُّہِنِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّكْرِمٍ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ۝ 18ۭ۞ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : کثیر مبتداء من الناس صفت خبرہ مطیعون محذوف اور بعض کہتے ہیں من فی السٰموٰت پر معطوف ہے تفصیل کے لیے یصب جملہ مستانفہ اور خبرثانی بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر : :۔ پہلے فرمایا تھا اللہ ہر چیز جانتا ہے جس سے اس کا علم وادراک کامل ثابت ہوا تھا جو یفصل بینھم یوم القیامۃ قیامت کے فیصلے کے لیے ضروری ہے۔ اب یہاں الم تر سے قدرت و جبروت کا ثبوت کرتا ہے کہ اس کے آگے تمام کائنات سرنگوں ہے اور جس کو وہ ذلت دیتا ہے کوئی اس کو عزت نہیں دے سکتا اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت کردیا کہ جو لوگ اس کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں جیسا کہ مشرکین جن کا ذکر اگلی آیتوں میں آیا تھا محض بیوقوف ہیں نہ اور کسی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ط وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ ط وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ط اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایَشَـآئُ ۔ (الحج : 18) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے اور بہت سے انسان، اور بہت سے ایسے ہیں جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے اور جن کو اللہ ذلیل کردے ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی بندگی کا انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے کہ کائنات میں جو چیز پیدا کی گئی ہے، وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ ان میں کوئی ایک چیز ایسی نہیں جو اپنے رب کی حکم عدولی کرتی ہو۔ ہر چیز اپنے خالق کا حکم مانتی اور اس کے سامنے سربسجود ہوتی ہے اے انسان تجھے بھی اپنے خالق کے سامنے جھکنا چاہیے۔ عربی زبان میں ” تَرَیٰ “ کا معنی دیکھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ جاننا اور غور کرنے کے معنٰی میں بھی آتا ہے۔ یہاں اس کے دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ اس فرمان میں بالخصوص کفار اور مشرکین کو اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18: اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نہیں جانتے) کیا تم نہیں جانتے اے محمد ﷺ ایسا علم جو آنکھوں دیکھنے کی طرح ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ (کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں) ۔ ایک قول : تمام اس کو سجدہ کرتے ہیں مگر ہمیں اس کی اطلاع نہیں جیسا کہ ان کی تسبیح کی اطلاع نہیں۔ ارشاد الٰہی ہے : وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لاتفقہون تسبیحہم ] الاسراء : 44 [ دوسرا قول : غیر مکلف میں افعال کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 18۔ الم، ، کیا آپ نہیں جاتے، بعض نے کہا، الم، تر، تم اپنے دل کی آنکھوں سے ، ان اللہ یسجد لہ من فی السموات ومن فی الارض والشمس والقمر ، والنجوم والجبال ، والشجر والدواب۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان کا سجدہ کرنا ان کے سایہ کا دوسری طرف مائل ہونا ہے۔ ابوالعالیہ کا بیان ہے کہ آسمان میں جو کچھ بھی ہے ستارے ہوں یا سورج یاچاند غروب شمس کے وقت یہ سب سجدے میں ہوتے ہیں۔ پھر وہ دوسرے دن اس وقت تک طلوع نہیں ہوتا۔ جب تک کہ اس کو اجازت نہ دی جائے۔ بعض حضرات نے کہا کہ سجود سے مراد طاعت و فرمانبرداری ہے جماد میں سے کوئی بھی ایسی چیز نیہں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرتی ہو۔ اللہ ہی ک لیے عاجزی ہے اور تسبیح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

18:۔ سورة الرعد اور سورة النحل کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے حاصل مطلب یہ ہوا کہ آسمان کے سارے فرشتے زمین پر کے ایماندار جنات اور انسان خوشی سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور ایماندار جنات اور انسان کی پرچھائیاں بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اور یہ مشرک لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم کو چھوڑ کر خود تو پتھروں کی مورتوں کو سجدہ کرتے ہیں لیکن سایہ کے ڈھلنے کے وقت ان کی پرچھائیاں ‘ پہاڑ ‘ درخت اور جانوروں کی پرچھائیاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سورة النحل میں گزر چکی 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–24

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–18

قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

40 اصل فیصلہ قیامت ہی کے روز : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہی سب کے درمیان فیصلہ فرمائے گا قیامت کے دن۔ یعنی عملی طور پر اور آخری فیصلہ کہ ایمان والوں کو جنت میں داخل فرما دے گا اور کفر والوں کو دوزخ میں بھیج دے گا۔ ورنہ علمی طور پر فیصلہ تو وہ ان کے درمیان اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعے اس دنیا میں ہی فرما چکا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور حق کو باطل سے پوری طرح نکھار کر بیان فرما دیا ہے مگر یہ دنیا چونکہ " دارالجزاء " نہیں " دارالعمل " ہے۔ اس لیے یہاں پر سب کو ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ سو آج جو مختلف قومیں اور جماعتیں حق اور اہل حق کے خلاف دندناتی پھرتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

ایمان والوں کیلئے خوشخبری ‘ اللہ کی عظمت و شان تشریح : یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول کو وحی کے ذریعے بتاتا ہے اور رسولوں کو بتاتا ہے اور رسول لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو توحید کا وعدہ لینے کے بعد دنیا میں بھیجا جس کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کو نیکی پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر جس طرح ایک ہی کھیت میں کچھ پودے صحت مند اور کچھ ناقص اگ آتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی کچھ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور کچھ نہیں آئے انہوں نے ایمان کو ترجیح دی اور قائم و دائم رہے تو ایسے ہی لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ آخرت میں ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یہاں سجدہ کا لفظ بیک وقت دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک ” انقیاد “ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے عاجزی و بےبسی جس میں سب مخلوق شامل ہے۔ عام اس سے کہ وہ عق و شعور رکھتی ہے یا نہیں کیونکہ ہر چیز اس کے تکوینی قانون کے مطابق کام کررہی ہے اور دوسرے سجدہ کے معنی ہیں اطاعت فرمانبرداری یعنی تکلیفی اور شرعی احکام کو اپنے اختیار و ارادہ سے بجالانا اس معنی میں سجدہ صرف ذوی العقول کے ساتھ مخصوص ہے اور ” کثیر من الناس “ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سجدہ سے منکر ہیں دوسری تمام مخلوق یہ سجدہ بجالارہی ہے۔ (فتح القدیر) 2 ۔ یعنی اسے کافر و مشرک بنا کر ذلیل کرے۔ 3 ۔ اس مقام پر سجدہ ہے اور سورة…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:18) الم تر۔ الف استفہامیہ۔ لم تر۔ نفی حجد بلم۔ تر اصل میں تری تھا لم کی وجہ سے ی حرف علت گرگیا کیا تو نہیں دیکھتا۔ الدواب۔ دابۃ کی جمع ہے۔ رینگنے والے جانور۔ پائوں چلنے والا جانور ۔ مذکر ومؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے اگرچہ عرف عام میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں بھی دابۃ کا لفظ آیا ہے تو اس میں ہر ایک حیوان داخل ہے۔ یھن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اھانۃ (افعال) مصدر۔ وہ اہانت کرتا ہے ۔ یا ذلیل کرتا ہے ۔ وہ اہانت کے یا ذلیل کرے۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل من ہے (جو اسمائے متضمن بمعنی حرف شرط میں سے ہے۔ اسمائے شرطیہ کو کلم المجازات بھی کہتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–25

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 : ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

کائنات کی ہر چیز بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ۔ (ف 2) سورة الرعد اور سورة النمل کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے حاصل مطلب یہ ہوا کہ جو چیز آسمان میں ہے، اور جو چیز زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور ایماندار جنات اور انسان خوشی سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور ایمان دار جنات اور انسان کی پرچھائیں بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اور یہ مشرک لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم چھوڑ کر خود پتھروں کی مورتوں کو سجدہ کرتے ہیں لیکن سایہ کے ڈھلنے کے وقت ان کی پرچھائیاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں احقاف میں لکھا ہے کہ حقیقت میں ماتھا زمین پر ٹیکنے کا نام سجدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–19

[15] آیت 17 میں جن فرقوں کا ذکر ہوا ان سب کو حق و باطل کے اعتبار سے دو فریق کہہ سکتے ہیں۔ ایک مومنین کا گروہ اور دوسرا کفار کا مجمع جس میں یہود، نصاریٰ ، مشرکین، مجوس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دو فریق بحث ومناظرہ میں اور جہاد و قتال میں ایک دوسرے کے مدمقابل رہتے ہیں۔ ان دونوں فریقوں کا انجام آگے بتلایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

آقا کے ناشکر گزار بندے : (ف 1) یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کے قانون اطاعت کی فرمانبرداری کرتی ہے ، اور کوئی چیز اس کے اقتدار وعلم سے باہر نہیں ، آسمان کی بلندیاں ، اور زمین کی پستیاں سب اس کی سامنے جھکتی ہیں آفتاب اور چاند ، نجوم اور ستارے ، درخت اور بےسمجھ حیوانات تمام کے تمام اس کے حضور میں سربسجود ہیں ، بہت سے سعادتمند انسان بھی ہیں ، جن کو توفیق اطاعت وفرمانبرداری ابتدائی ہوئی ہے ، مگر کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی گردنیں تکبر سے نہیں جھکتیں ارشاد ہے کہ یہ لوگ دراصل ذلیل ہیں ، اپنے آقا کے ناشکر گزار بندے ہیں ، نہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اصل عزت یہ ہے کہ آقا انہیں پسند کرے اور محبوب رکھے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور اکثر انسان یہ سب اللہ تعالیٰ کو اپنی اپنی حالت کے مناسب سجدہ کرتے ہیں اور اکثر انسان ایسے ہیں جن پر ان کی نافرمانی کے باعث عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و خوار کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ سجدہ ہر ایک کا اس کے حال کے مناسب ہے انسان چونکہ مکلف ہے اس کا سجدہ تشریعی ہے باقی چیزوں کا سجدہ اطاعت وانقیاد ہے اور وہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد ہیں خواہ وہ آسمان میں ہوں یا زمین میں البتہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–23

ف 9۔ باوجود تمام مخلوقات کے منقاد ہونے کے آدمی جو خاص درجہ کی عقل رکھتا ہے ان میں سب منقاد نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین وآسمان کی ہرچیز رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سجدہ ریز ہے : 18۔ ” سجدہ “ اور ” تسبیح “ دونوں ہی عربی الفاظ ہیں لیکن ہماری اردو زبان میں بھی مستعمل ہیں اور بچہ بڑا سب ان سے واقف ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ہمارے ہاں معدودمعنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور عربی زبان میں ان کے معنوں میں بہت وسعت پائی جاتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی وہ اپنی ساری معنوی وسعت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کیونکہ قرآن کریم کی زبان واضح طور پر عربی ہے اس لئے (من فی السموات) سے مراد آسمان و دنیا کی ہرچیز ہے وہ ذوی العقول ہو یا غیر ذوی العقول ‘ وہ حیوانات ہوں ‘ نباتات ہوں یا جمادات پھر ان سب میں سے چند مخصوص مخلوق کے نام بھی بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

Commentary In verse 17 it is stated that Allah will decide among the believers and non-believers of different faiths on the Day of Resurrection, because He knows everything. What that decision would be, has been related in the Qur'an at several places, namely that the good Muslims will enjoy a life of everlasting peace and comfort, while the infidels would be condemned to a life of eternal perdition. In the next verse, by using the word "Sajdah" (prostration), it has been declared that all created things, be they living things, minerals or plants, are in obedience and thus submit to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30. See (13:25) and (16:41) 31. That is, "Angels, stars, planets, etc. and all the creation that exists in other parts of the universe, whether it is rational and possesses freedom of will and choice like man, or irrational like animals, vegetation, solid matter, air and light. 32. That is, "A large number of the people bow down before Allah not by compulsion but willingly. On the other hand, there are many other people who bow down before Him under compulsion along with everything else in the universe, but they deserve punishment because they refuse to obey Allah in those spheres of life in…

Read the full tafseer →