چاند سورج ستارے سب سجدہ ریز۔
مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بےخوشی۔ ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع میں ہے۔ چناچہ قرآن نے سائے کا دائیں بائیں اللہ کے سامنے سربہ سجود ہونا بھی آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48) 16۔ النحل :48) میں بیان فرمایا ہے۔ آسمانوں کے فرشتے، زمین کے حیوان، انسان، جنات، پرند، چرند، سب اس کے سامنے سربہ سجود ہیں اور اس کی تسبیح اور حمد کررہے۔ سورج چاند ستارے بھی اس کے سامنے…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 30
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الرعد، حاشیہ 24۔ 25، الجحل، حاشیہ 41۔ 42۔
سورة الْحَجّ 31
یعنی فرشتے، اَجرام فلکی، اور وہ سب مخلوقات جو زمین کے ماوراء دوسرے جہانوں میں ہیں، خواہ وہ انسان کی طرح ذی عقل و ذی اختیار ہوں، یا حیوانات، نباتات، جمادات اور ہوا اور روشنی کی طرح بےعقل و بےاختیار۔
سورة الْحَجّ 32
یعنی وہ جو محض مجبوراً ہی نہیں بلکہ بالارادہ اور بطوع ورغبت بھی اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرا انسانی گروہ جس کا بعد کے فقرے میں ذکر آ رہا ہے، وہ ہے جو اپنے ارادے سے خدا کے آگے جھکنے سے انکار کرتا ہے، مگر دوسری بےاختیار مخلوقات کی طرح وہ بھی قانون فطرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
خلاصہ تفسیر
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اور یہود اور صابئین اور نصاریٰ اور مجوس اور مشرکین، اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان میں قیامت کے روز (عملی) فیصلہ کر دے گا (کہ مسلمانوں کو جنت میں اور سب اقسام کافروں کو جہنم میں داخل کرے گا) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔
اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے (اپنی اپنی حالت کے مناسب) سب عاجزی کرتے ہیں جو کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور (تمام مخلوقات کے مطیع و فرمانبردار ہونے کے باوجود انسان جو خاص درجہ کی عقل بھی رکھتا ہے وہ سب کے سب مطیع و فرمانبردار نہیں…
Read the full tafseer →کائنات کی ہر چیز سجدے میں ہے
یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوتی ہے جس کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپائے سب خدا کے امروحکم کے تحت مسخر ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی سر مو خدا کے مقرر کئے ہوئے قوانین سے انحرام نہیں اختیار کرتی۔ سورج جس کو نادمانوں نے معبود نبا کر سب سے زیادہ پوجا ہے۔ خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب و روز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے۔ دوپہ تک وہ قیام…
Read the full tafseer →18۔ 1 بعض مفسرین نے اس سجدے سے ان تمام چیزوں کا احکام الٰہی کے تابع ہونا مراد لیا ہے، کسی میں مجال نہیں کہ وہ حکم الٰہی سے سرتابی کرسکے۔ ان کے نزدیک وہ سجدہ اطاعت و عبادت مراد نہیں۔ جب کہ بعض مفسرین نے اسے مجاز کے بجائے حقیقت پر مبنی کیا ہے کہ ہر مخلوق اپنے اپنے انداز سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے مثلا (من فی السموات) سے مراد فرشتے ہیں ومن فی الارض سے ہر قسم کے حیوانات، انسان، جنات، چوپائے اور پرندے اور دیگر اشیاء ہیں یہ سب اپنے اپنے انداز سے سجدہ اور تسبیح کرتی ہیں (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ) 17۔ الاسراء :44) سورة بنی اسرائیل۔ سورج چاند اور ستاروں کا بطور خاص اس لیے ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
11: ان مخلوقات کے سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہیں، اور ہر چیز اس کے ہر حکم کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، نیز اس سے عبادت کا سجدہ بھی مراد ہوسکتا ہے ؛ کیونکہ اتنی سمجھ کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، البتہ ہر چیز کے سجدے کی صورت مختلف ہے، اس پوری کائنات میں انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے تمام افراد عبادت کا سجدہ نہیں کرتے ؛ بلکہ بہت سے کرتے ہیں بعض نہیں کرتے اس لئے انسانوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ بہت سے انسان بھی۔ یاد رہے کہ یہ سجدہ کی آیت ہے، جو شخص اصل عربی میں یہ آیت تلاوت کرے یا سنے اس…
Read the full tafseer →الم تر …………ما یشآء (18)
جب انسان اس آیت پر غور کرتا ہے تو ایک کثیر التعداد مخلوق خدا ، جو نظر آتی ، جو نظر نہیں آتی ، آسمانوں میں اور اجرام فلکی میں ، وہ چیزیں جو نظر آتی ہیں اور جو نظر نہیں آتی ہیں ، پھر جو نہایت ہی حساس آلات کی مدد سے نظر آتی ہیں ، لاتعداد پہاڑ ، درخت ، زمین پر چنلے والے حیوانات ، اور پرندے چرندے ، غرض مخلوقات الٰہی کا یہ سیلاب اللہ کے سامنے سربسجود ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ نہایت ہی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہے لیکن اگر اس مخلوق میں کوئی نافرمان ہے تو وہ انسان ہے۔ یہ واحد مخلوق ہے جو جسورانہ انداز میں نافرمانی کرتی ہے۔
وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ…
Read the full tafseer →1 ایک سجدہ ہے جس میں آسمان و زمین کی ہر ایک مخلوق شامل ہے وہ یہ کہ اللہ کی قدرت کے آگے تکویناً سب مطیع و منقاد اور عاجز و بےبس ہیں خواہی نخواہی سب کو اس کے سامنے گردن ڈالنا اور سر جھکانا پڑتا ہے۔ دوسرا سجدہ ہے ہر چیز کا جدا۔ وہ یہ کہ جس چیز کو جس کام کے لیے بنایا اس کام میں لگے، یہ بہت آدمی کرتے ہیں بہت نہیں کرتے۔ مگر آدمیوں کو چھوڑ کر اور ساری خلقت کرتی ہے۔ بناء ً علیہ اِنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہ، الخ میں ہر چیز کا اپنی شان کے لائق سجدہ مراد ہوگا یا " مَنْ فِیْ الْاَرْضِ " کے بعد دوسرا " یَسْجُدُ " مقدر نکالا جائے گا (تنبیہ) پہلی آیت سے ربط یہ ہوا کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں…
Read the full tafseer →وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ط ”
انسانوں کے علاوہ باقی تمام مخلوقات قانون خداوندی اور تکوینی نظام کے اصول و ضوابط کی پابند اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں مصر وف عمل ہیں ‘ البتہ اس سلسلے میں انسانوں کا معاملہ مختلف ہے۔ وہ سب کے سب ایک سے نہیں ہیں۔ انسانوں کو جو محدود آزادی ملی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ اللہ سے بغاوت کردیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں مثلاً سورج ‘ چاند اور درختوں تک کی پرستش شروع کردیتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو ہدایت اور اپنی معرفت عطا فرماتا ہے وہ…
Read the full tafseer →23 ساری کائنات میں انسان اور جن ہی مکلف مخلوق ہیں اور انھیں کو قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے باقی مخلوق تکوینی طور پر اللہ کے حضور ہر وقت سجدہ ریز رہتی ہے اور ان کے سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ جس کام پر اللہ نے انھیں لگا دیا ہے یا جو خدمت ان کے ذمہ کردی ہے اور جو قوانین ان کے لئے مقرر کردیئے ہیں ان سے وہ سرمو تجاوز نہیں کرتے اور انسانوں میں سے بھی ایک کثیر طبقہ ایسا ہے جس نے اپنے ارادہ کو اللہ کی مرضی کے تابع بنادیا ہے اور برضا ورغبت اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ تاہم انسانوں کا ایک کثیر طبقہ ایسا بھی ہے جس نے اس اختیار کا غلط استعمال کیا اور باقی تمام مخلوق کے ساتھ…
Read the full tafseer →23۔ سجدہ سے مراد یہاں سجدہ شرعی نہیں، بلکہ لفظی معنی مراد ہیں۔ یعنی امور تکوینی میں انقیاد و اطاعت اور اسی اعتبار سے اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے لحاظ سے ساری غیر مکلف مخلوق مطیع ومنقاد ہے۔ لیکن انسان چونکہ عقل کی بنا پر مکلف مخلوق ہے، اس سے اس کے درجہ و مرتبہ کے متناسب، علاوہ انقیاد و اطاعت اور اسی اعتبار سے اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے لحاظ سے ساری غیر مکلف مخلوق مطیع ومنقاد ہے۔ لیکن انسان چونکہ عقل کی بنا پر مکلف مخلوق ہے، اس سے اس کے درجہ و مرتبہ کے متناسب، علاوہ انقیاد و تسخیر ہی کے انقیاد تشریعی بھی مقصود کو مطلوب ہے اور وہ ساری نوع انسان میں نہیں پایا جاتا۔ اس لیے انسان کے مطیع ومنقاد ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…
Read the full tafseer →الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجروا الدوآب کیا آپ نہیں جانتے کہ جو (ملائکہ) آسمانوں میں ہیں اور جو مؤمن جن و انس ‘ زمین میں
ہیں وہ (سب) اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے بھی مَنْکا استعمال اہل عقل کے لئے ہوتا ہے اور اس لئے مَنْ فِی السَّمٰوٰتِسے مراد ہیں صرف ملائکہ اور مَنْ فِی الْاَرْضِ سے مراد ہیں جن و انس۔ اور جن و انس میں سے بھی صرف اہل ایمان مراد ہیں لفظ مَنْاگرچہ عام ہے کافر و مؤمن دونوں کو شامل ہے لیکن آئندہ آیت وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُسے کافروں کو سجدہ کرنے والے جن و انس سے…
Read the full tafseer →(18) اے محمد ﷺ آپ کو قرآن کریم کے ذریعے اس عجیب بات کا علم نہیں ہوا کہ اللہ کے سامنے سب اپنی اپنی حالت کے مطابق عاجزی کرتے ہیں جو مخلوقات کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں جیسا کہ مومنین اور سورج چاند اور ستارے پہاڑ اور درخت اور چوپائے (مگر انسان باوجود سب سے زیادہ عاقل ہونے کے ان میں سے) بہت سے تو فرمانبردار ہیں، ان کے لیے جنت ثابت ہوگئی، اور وہ مومنین ہیں اور بہت ایسے ہیں (کہ بوجہ تابعدار نہ ہونے کے ان پر دوزخ کے عذاب کا حق ثابت ہوگیا جیسا کہ کافر جس کو اللہ بدبختی میں مبتلا کر کے ذلیل و خوار کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں کہ اس کو سعادت دے دے۔
یا یہ کہ جسے اللہ تعالیٰ برائیوں کے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ۔۔ : پچھلی آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہوا اہل ایمان کے علاوہ سب نے اللہ کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں۔ یہود نے عزیر ؑ کو اور نصاریٰ نے مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے۔ صابی ستارہ پرست، مجوس آتش پرست اور مشرکین بت پرست ہیں۔ اس آیت میں فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی عبادت اور اسے سجدہ کرنے پر متفق ہے ؟ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی، اس کا حق تو یہ تھا کہ اس کے سارے افراد اوروں سے زیادہ اس کی عبادت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر متفق ہوتے، مگر اس کے بہت سے افراد غیر اللہ کی عبادت کی وجہ سے عذاب الٰہی کے حق…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نہیں جانتے) کیا تم نہیں جانتے اے محمد ﷺ ایسا علم جو آنکھوں دیکھنے کی طرح ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ (کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں) ۔
ایک قول :
تمام اس کو سجدہ کرتے ہیں مگر ہمیں اس کی اطلاع نہیں جیسا کہ ان کی تسبیح کی اطلاع نہیں۔ ارشاد الٰہی ہے : وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لاتفقہون تسبیحہم ] الاسراء : 44 [
دوسرا قول :
غیر مکلف میں افعال کے اعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
1۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت، میں سجود سے مراد ہے ان سب چیزوں کا سایہ۔ آیت وکثیر من الناس، یعنی ایمان والے لوگ، آیت وکثیر حق علیہ العذاب اور اس سے مراد کافر کے سایہ کا سجود ہے۔ حالانکہ وہ خود اس کو ناپسند کرتا ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کا سجدہ اس کا مطلب سایہ ہے۔ اور پہاڑوں کا سجدہ ان کا سایہ ہے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ کپڑے سجدہ کرتے ہیں۔
4۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ جو کچھ آسمان میں ہے سورج، چاند…
Read the full tafseer →[ اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ] [ ان اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ يَسْجُدُ : سجدہ کرتے ہیں ] [ لَهٗ : اس کو ] [ مَنْ : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہیں ] [ وَمَنْ : اور وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہیں ] [ وَالشَّمْسُ : اور سورج ] [ وَالْقَمَرُ : اور چاند ] [ وَالنُّجومُ : اور ستارے ] [ وَالْجبالُ : اور پہاڑ ] [ وَالشَّجَرُ : اور درخت ] [ وَالدَّوَاۗبُّ : اور جانور ] [ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے اکثر ] [ وَكَثِيْرٌ: اور اکثر (وہ ہیں)] [ حَقَّ : ثابت ہوا ] [ عَلَيْهِ : جن پر ] [ الْعَذَابُ : عذاب ] [ وَمَنْ : اور جس کو ] [ يُّهِنِ اللّٰهُ : ذلیل کرتا ہے اللہ…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا کہ اے مخاطب کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ کی مخلوق جو آسمان میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہیں اور چاند سورج ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے سب اللہ کو سجدہ کرتے ہیں (ہر ایک کا سجدہ اس کی اپنی حالت اور کیفیت کے اعتبار سے ہے اور بعض حضرات نے یسجد کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کے سامنے عاجزی کرتی ہیں، جو حضرات آسمانوں میں ہیں اور جو مخلوق زمین میں ہے سبھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبر دار ہیں اور سجدہ ریز ہیں البتہ روئے زمین پر جو انسان ہیں ان میں سے بہت سے مسلم ہیں فرمانبر دار ہیں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ منکر ہیں کافر ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن…
Read the full tafseer →29:۔ ” اَلَمْ تَرَ الخ “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے سجود سے مراد انقیاد تام ہے یعنی ہر چیز تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے ماتحت ہے۔ السجود التذلل ولانقیاد لتدبیر اللہ عز وجل (قرطبی ج 12 ص 24) ۔ کیونکہ ہر جماد اور بےجان چیز بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے۔ فانہ ما من جماد الا وھو مطیع للہ خاشع للہ و مسیح لہ الخ (معالم ج 5 ص 8) ۔ جب ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد ہے اور اس کے تکوینی احکام سے سر مُو انحراف نہیں کرسکتی کیونکہ وہی اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک و مختار ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ کارساز اور متصرف بھی وہی ہے لہذا اسی کی عبادت کرنی چاہئے رکوع و سجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ربط آیات :
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پائے جانے والے مختلف مذاہب مثلاً یہودی ، صابی ، نصاریٰ ، مجوسی ، مشرک اور اہل ایمان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں سے صرف اہل ایمان ہی کامیاب ہوں گے جب کہ باقی سارے گروہ گمراہ ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ کریگا۔ تمام گمراہ فرقوں کو اس دن اپنی غلطی کا احساس ہوگا جب کہ ان کے عقیدے اور عمل کا صلہ ان کے سامنے آئے گا۔ اس دن سب کو پتہ چل جائے گا کہ دنیا میں اہل ایمان ہی حق پر تھے جو اللہ کی وحدانیت کو مانتے تھے ، اسی کی عبادت کرتے تھے۔ اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔
خدا تعالیٰ کے لئے سجدہ ریزی :
اب آج کی پہلی آیت…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ 0ۭ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْہِ الْعَذَابُ 0ۭ وَمَنْ يُّہِنِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّكْرِمٍ 0ۭ اِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ 18ۭ۞
سجد
السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات،
وذلک ضربان : سجود باختیار،
ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له،
وسجود…
Read the full tafseer →ترکیب : کثیر مبتداء من الناس صفت خبرہ مطیعون محذوف اور بعض کہتے ہیں من فی السٰموٰت پر معطوف ہے تفصیل کے لیے یصب جملہ مستانفہ اور خبرثانی بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : :۔ پہلے فرمایا تھا اللہ ہر چیز جانتا ہے جس سے اس کا علم وادراک کامل ثابت ہوا تھا جو یفصل بینھم یوم القیامۃ قیامت کے فیصلے کے لیے ضروری ہے۔ اب یہاں الم تر سے قدرت و جبروت کا ثبوت کرتا ہے کہ اس کے آگے تمام کائنات سرنگوں ہے اور جس کو وہ ذلت دیتا ہے کوئی اس کو عزت نہیں دے سکتا اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت کردیا کہ جو لوگ اس کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں جیسا کہ مشرکین جن کا ذکر اگلی آیتوں میں آیا تھا محض بیوقوف ہیں نہ اور کسی…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ط وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ ط وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ط اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایَشَـآئُ ۔ (الحج : 18)
(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے اور بہت سے انسان، اور بہت سے ایسے ہیں جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے اور جن کو اللہ ذلیل کردے ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی بندگی کا انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے کہ کائنات میں جو چیز پیدا کی گئی ہے، وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ ان میں کوئی ایک چیز ایسی نہیں جو اپنے رب کی حکم عدولی کرتی ہو۔ ہر چیز اپنے خالق کا حکم مانتی اور اس کے سامنے سربسجود ہوتی ہے اے انسان تجھے بھی اپنے خالق کے سامنے جھکنا چاہیے۔
عربی زبان میں ” تَرَیٰ “ کا معنی دیکھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ جاننا اور غور کرنے کے معنٰی میں بھی آتا ہے۔ یہاں اس کے دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ اس فرمان میں بالخصوص کفار اور مشرکین کو اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے…
Read the full tafseer →18: اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نہیں جانتے) کیا تم نہیں جانتے اے محمد ﷺ ایسا علم جو آنکھوں دیکھنے کی طرح ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ (کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں) ۔
ایک قول :
تمام اس کو سجدہ کرتے ہیں مگر ہمیں اس کی اطلاع نہیں جیسا کہ ان کی تسبیح کی اطلاع نہیں۔ ارشاد الٰہی ہے : وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لاتفقہون تسبیحہم ] الاسراء : 44 [
دوسرا قول :
غیر مکلف میں افعال کے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
18۔ الم، ، کیا آپ نہیں جاتے، بعض نے کہا، الم، تر، تم اپنے دل کی آنکھوں سے ، ان اللہ یسجد لہ من فی السموات ومن فی الارض والشمس والقمر ، والنجوم والجبال ، والشجر والدواب۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان کا سجدہ کرنا ان کے سایہ کا دوسری طرف مائل ہونا ہے۔ ابوالعالیہ کا بیان ہے کہ آسمان میں جو کچھ بھی ہے ستارے ہوں یا سورج یاچاند غروب شمس کے وقت یہ سب سجدے میں ہوتے ہیں۔ پھر وہ دوسرے دن اس وقت تک طلوع نہیں ہوتا۔ جب تک کہ اس کو اجازت نہ دی جائے۔ بعض حضرات نے کہا کہ سجود سے مراد طاعت و فرمانبرداری ہے جماد میں سے کوئی بھی ایسی چیز نیہں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرتی ہو۔ اللہ ہی ک لیے عاجزی ہے اور تسبیح…
Read the full tafseer →18:۔ سورة الرعد اور سورة النحل کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے حاصل مطلب یہ ہوا کہ آسمان کے سارے فرشتے زمین پر کے ایماندار جنات اور انسان خوشی سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور ایماندار جنات اور انسان کی پرچھائیاں بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اور یہ مشرک لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم کو چھوڑ کر خود تو پتھروں کی مورتوں کو سجدہ کرتے ہیں لیکن سایہ کے ڈھلنے کے وقت ان کی پرچھائیاں ‘ پہاڑ ‘ درخت اور جانوروں کی پرچھائیاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سورة النحل میں گزر چکی 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
40 اصل فیصلہ قیامت ہی کے روز : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہی سب کے درمیان فیصلہ فرمائے گا قیامت کے دن۔ یعنی عملی طور پر اور آخری فیصلہ کہ ایمان والوں کو جنت میں داخل فرما دے گا اور کفر والوں کو دوزخ میں بھیج دے گا۔ ورنہ علمی طور پر فیصلہ تو وہ ان کے درمیان اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعے اس دنیا میں ہی فرما چکا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور حق کو باطل سے پوری طرح نکھار کر بیان فرما دیا ہے مگر یہ دنیا چونکہ " دارالجزاء " نہیں " دارالعمل " ہے۔ اس لیے یہاں پر سب کو ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ سو آج جو مختلف قومیں اور جماعتیں حق اور اہل حق کے خلاف دندناتی پھرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ایمان والوں کیلئے خوشخبری ‘ اللہ کی عظمت و شان
تشریح : یہ سب باتیں غیب کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ رسول کو وحی کے ذریعے بتاتا ہے اور رسولوں کو بتاتا ہے اور رسول لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو توحید کا وعدہ لینے کے بعد دنیا میں بھیجا جس کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کو نیکی پر ہی پیدا کیا گیا ہے مگر جس طرح ایک ہی کھیت میں کچھ پودے صحت مند اور کچھ ناقص اگ آتے ہیں اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بھی کچھ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور کچھ نہیں آئے انہوں نے ایمان کو ترجیح دی اور قائم و دائم رہے تو ایسے ہی لوگوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ آخرت میں ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یہاں سجدہ کا لفظ بیک وقت دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک ” انقیاد “ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے عاجزی و بےبسی جس میں سب مخلوق شامل ہے۔ عام اس سے کہ وہ عق و شعور رکھتی ہے یا نہیں کیونکہ ہر چیز اس کے تکوینی قانون کے مطابق کام کررہی ہے اور دوسرے سجدہ کے معنی ہیں اطاعت فرمانبرداری یعنی تکلیفی اور شرعی احکام کو اپنے اختیار و ارادہ سے بجالانا اس معنی میں سجدہ صرف ذوی العقول کے ساتھ مخصوص ہے اور ” کثیر من الناس “ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سجدہ سے منکر ہیں دوسری تمام مخلوق یہ سجدہ بجالارہی ہے۔ (فتح القدیر)
2 ۔ یعنی اسے کافر و مشرک بنا کر ذلیل کرے۔
3 ۔ اس مقام پر سجدہ ہے اور سورة…
Read the full tafseer →(22:18) الم تر۔ الف استفہامیہ۔ لم تر۔ نفی حجد بلم۔ تر اصل میں تری تھا لم کی وجہ سے ی حرف علت گرگیا کیا تو نہیں دیکھتا۔
الدواب۔ دابۃ کی جمع ہے۔ رینگنے والے جانور۔ پائوں چلنے والا جانور ۔ مذکر ومؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے اگرچہ عرف عام میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں بھی دابۃ کا لفظ آیا ہے تو اس میں ہر ایک حیوان داخل ہے۔
یھن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اھانۃ (افعال) مصدر۔ وہ اہانت کرتا ہے ۔ یا ذلیل کرتا ہے ۔ وہ اہانت کے یا ذلیل کرے۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل من ہے (جو اسمائے متضمن بمعنی حرف شرط میں سے ہے۔ اسمائے شرطیہ کو کلم المجازات بھی کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 :
ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…
Read the full tafseer →کائنات کی ہر چیز بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ۔
(ف 2) سورة الرعد اور سورة النمل کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے حاصل مطلب یہ ہوا کہ جو چیز آسمان میں ہے، اور جو چیز زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور ایماندار جنات اور انسان خوشی سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور ایمان دار جنات اور انسان کی پرچھائیں بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اور یہ مشرک لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم چھوڑ کر خود پتھروں کی مورتوں کو سجدہ کرتے ہیں لیکن سایہ کے ڈھلنے کے وقت ان کی پرچھائیاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں احقاف میں لکھا ہے کہ حقیقت میں ماتھا زمین پر ٹیکنے کا نام سجدہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
[15] آیت 17 میں جن فرقوں کا ذکر ہوا ان سب کو حق و باطل کے اعتبار سے دو فریق کہہ سکتے ہیں۔ ایک مومنین کا گروہ اور دوسرا کفار کا مجمع جس میں یہود، نصاریٰ ، مشرکین، مجوس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دو فریق بحث ومناظرہ میں اور جہاد و قتال میں ایک دوسرے کے مدمقابل رہتے ہیں۔ ان دونوں فریقوں کا انجام آگے بتلایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →آقا کے ناشکر گزار بندے :
(ف 1) یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کے قانون اطاعت کی فرمانبرداری کرتی ہے ، اور کوئی چیز اس کے اقتدار وعلم سے باہر نہیں ، آسمان کی بلندیاں ، اور زمین کی پستیاں سب اس کی سامنے جھکتی ہیں آفتاب اور چاند ، نجوم اور ستارے ، درخت اور بےسمجھ حیوانات تمام کے تمام اس کے حضور میں سربسجود ہیں ، بہت سے سعادتمند انسان بھی ہیں ، جن کو توفیق اطاعت وفرمانبرداری ابتدائی ہوئی ہے ، مگر کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی گردنیں تکبر سے نہیں جھکتیں ارشاد ہے کہ یہ لوگ دراصل ذلیل ہیں ، اپنے آقا کے ناشکر گزار بندے ہیں ، نہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اصل عزت یہ ہے کہ آقا انہیں پسند کرے اور محبوب رکھے ،…
Read the full tafseer →(18) اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور اکثر انسان یہ سب اللہ تعالیٰ کو اپنی اپنی حالت کے مناسب سجدہ کرتے ہیں اور اکثر انسان ایسے ہیں جن پر ان کی نافرمانی کے باعث عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و خوار کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ سجدہ ہر ایک کا اس کے حال کے مناسب ہے انسان چونکہ مکلف ہے اس کا سجدہ تشریعی ہے باقی چیزوں کا سجدہ اطاعت وانقیاد ہے اور وہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد ہیں خواہ وہ آسمان میں ہوں یا زمین میں البتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
ف 9۔ باوجود تمام مخلوقات کے منقاد ہونے کے آدمی جو خاص درجہ کی عقل رکھتا ہے ان میں سب منقاد نہیں۔
Read the full tafseer →زمین وآسمان کی ہرچیز رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سجدہ ریز ہے :
18۔ ” سجدہ “ اور ” تسبیح “ دونوں ہی عربی الفاظ ہیں لیکن ہماری اردو زبان میں بھی مستعمل ہیں اور بچہ بڑا سب ان سے واقف ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ہمارے ہاں معدودمعنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور عربی زبان میں ان کے معنوں میں بہت وسعت پائی جاتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی وہ اپنی ساری معنوی وسعت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کیونکہ قرآن کریم کی زبان واضح طور پر عربی ہے اس لئے (من فی السموات) سے مراد آسمان و دنیا کی ہرچیز ہے وہ ذوی العقول ہو یا غیر ذوی العقول ‘ وہ حیوانات ہوں ‘ نباتات ہوں یا جمادات پھر ان سب میں سے چند مخصوص مخلوق کے نام بھی بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
Commentary
In verse 17 it is stated that Allah will decide among the believers and non-believers of different faiths on the Day of Resurrection, because He knows everything. What that decision would be, has been related in the Qur'an at several places, namely that the good Muslims will enjoy a life of everlasting peace and comfort, while the infidels would be condemned to a life of eternal perdition. In the next verse, by using the word "Sajdah" (prostration), it has been declared that all created things, be they living things, minerals or plants, are in obedience and thus submit to the…
Read the full tafseer →30. See (13:25) and (16:41)
31. That is, "Angels, stars, planets, etc. and all the creation that exists in other parts of the universe, whether it is rational and possesses freedom of will and choice like man, or irrational like animals, vegetation, solid matter, air and light.
32. That is, "A large number of the people bow down before Allah not by compulsion but willingly. On the other hand, there are many other people who bow down before Him under compulsion along with everything else in the universe, but they deserve punishment because they refuse to obey Allah in those spheres of life in…
Read the full tafseer →