Al-Hajj 22:19

Al-Hajj · from ayah 19

22:19

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ ؗ— فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ؕ— یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُ ۟ۚهٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِىۡ رَبِّهِمۡ‌ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ‌ۚ

یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں۔ تو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

These are two adversaries who have disputed over their Lord. But those who disbelieved will have cut out for them garments of fire. Poured upon their heads will be scalding water

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:19

یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے کا جھگڑا ہے اِن میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں۔ تو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے بیونت کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ (مومن اور کافر) دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کیا ہے۔ اب (اس کا فیصلہ اس طرح ہوگا کہ) جن لوگوں نے کفر اپنا یا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی چھوڑا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے تو جو کافر ہوئے ان کے لیے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں پس جو کافر ہوگئے ہیں ان کے لئے آتشِ دوزخ کے کپڑے کاٹ (کر، سِی) دیئے گئے ہیں۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ دو جھگڑنے والے ہیں، جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جاچکے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا۔ ان میں سے جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے اور ان کے سروں پر اوپر سے کھولتا پانی ڈالا جائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا تو جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے جامے تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا پانی بہایا جائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایمان وکفر والے یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان جھگڑا ہے ان کے رب کے بارے میں سو ان میں جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر وباطل پر ان کے لئے کپڑے کاٹے جا چکے ہیں آگ کے ان کے مجرمانہ قد کاٹھ کے مطابق اور مزید برآں ان کی خبر گیری کے لئے ان کے سروں کے اوپر سے ان پر ڈالا جائے گا ایسا کھولتا ہوا پانی

— مولانا اسحاق مدنی

یہ دو فریق ہیں۔ جنہوں نے اپنے پروردگار کے باب میں اختلاف کیا سو جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے ان کے سروں کے اوپر سے گرم پانی چھوڑا جائے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ دو گروہ ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں تو جو لوگ انکار کر رہے ہیں ان کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے جائیں گے ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ دو فریق کہ جھگڑتے ہیں اپنے رب کے بارے میں تو جو کافر ہیں ان کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے جائیں گے اور ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

These two groups (the believers and unbelievers) are in dispute about their Lord. As for those that disbelieve, garments of fire have been cut out for them; boiling water shall be poured down over their heads,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

These are two opponents who have disputed about their Lord. As for those who disbelieve, garments from fire shall be tailored for them, and boiling water shall be poured from over their heads

— Muhammad Taqi Usmani

These are two opponents who have disputed about their Lord. As for those who disbelieve, garments from fire shall be tailored for them, and boiling water shall be poured from over their heads

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These two opponents dispute with each other about their Lord; then as for those who disbelieved, garments of fire will be cut out for them, boiling water will be poured down over their heads.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These twain (the believers and the disbelievers) are two opponents who contend concerning their Lord. But as for those who disbelieve, garments of fire will be cut out for them; boiling fluid will be poured down on their heads,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

These are two adversaries who have disputed over their Lord. But those who disbelieved will have cut out for them garments of fire. Poured upon their heads will be scalding water

— Saheeh International

(Those who prostrate themselves before God and those who do not) are two groups who dispute with each other about their Lord. For the unbelievers the garment of fire has already been prepared. Boiling water will be poured upon their heads.

— Muhammad Sarwar

These are two adversaries who dispute about their Lord; then (as to) those who disbelieve, for them are cut out garments of fire, boiling water shall be poured over their heads.

— Muhammad Habib Shakir

These twain are opponents who contended respecting their Lord; then as for those who disbelieved, cut out for them shall be raiments of frre: poured out over their head shall be hot water.

— Abdul Majid Daryabadi

These two antagonists dispute with each other about their Lord: But those who deny (their Lord),- for them will be cut out a garment of Fire: over their heads will be poured out boiling water.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

مومن و کافر کی مثال۔ حضرت ابوذر ؓ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دوساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ (بخاری ومسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لئے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا حضرت قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ ؓ اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید۔ اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–22

سورة الْحَجّ 36 یہاں خدا کے بارے میں جھگڑا کرنے والے تمام گروہوں کو ان کی کثرت کے باوجود دو فریقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک فریق وہ جو انبیاء کی بات مان کر خدا کی صحیح بندگی اختیار کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو ان کی بات نہیں مانتا ور کفر کی راہ اختیار کرتا ہے خواہ اس کے اندر آپس میں کتنے ہی اختلافات ہوں اور اس کے کفر نے کتنی ہی مختلف صورتیں اختیار کرلی ہوں۔ سورة الْحَجّ 37 مستقبل میں جس چیز کا پیش آنا بالکل قطعی اور یقینی ہو اس کو زور دینے کے لیے اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ گویا وہ پیش آچکی ہے۔ آگ کے کپڑوں سے مراد غالباً وہی چیز ہے جسے سورة ابراہیم آیت 50 میں سَرَابِیْلُھُمْ مِنْ قَطِرَانٍ فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–22

خلاصہ تفسیر (جن کا ذکر اوپر آیت اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا میں ہوا ہے) یہ دو فریق ہیں (ایک مومن دوسرا کافر۔ پھر کافر گروہ کی کئی قسمیں ہیں۔ یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور بت پرست) جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں (اعتقاد اور کبھی کبھی مباحثةً بھی) باہم اختلاف کیا (اس اختلاف کا فیصلہ قیامت میں اس طرح ہوگا کہ) جو لوگ کافر تھے ان کے (پہننے کے لئے) آگ کے کپڑے قطع کئے جاویں گے (یعنی آگ ان کے پورے بدن پر اس طرح محیط ہوگی جیسے لباس، اور ان کے سر کے اوپر سے تیز گرم پانی چھوڑا جاوے گا جس سے ان کے پیٹ کی چیزیں (یعنی آنتیں) اور کھالیں سب گل جاویں گی، (یعنی یہ کھولتا ہوا تیز پانی کچھ پیٹ کے اندر چلا جاوے گا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–23

آیت (23-19) دونوں گروہوں کے نبی ﷺ کی تفصیل ایک سوال اور اس کا جواب اب یہ ان دونوں فریقوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جن کا ذکر اوپر آیت 17 میں گزرا وہاں صرف اس قدر اشارہ فرمایا تھا کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ان کے انجام کی تفصیل اس آیت میں بیان نہیں ہوئی تھی۔ ان آیات میں ان کے انجام کی تفصیل آرہی ہے۔ آیت 17 میں کئی گروہوں کا ذکر ہے اور یہاں ھذن خصمن کے الفاظ ہیں۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس آیت میں انہی گروہوں کی طرف اشارہ ہے تو ان کے لئے مثنیٰ کا صیغہ کیوں استعمال ہوا۔ جمع کا صیغہ کیوں نہیں استعمال ہوا ؟ اساتذ امام ؒ کا رجحان کلام عرب کی روشنی میں اس بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 ھذان خصمن یہ دونوں تثنیہ کے صیغے ہیں بعض نے اس سے مراد مذکورہ گمراہ فرقے اور اس کے مقابلے میں دوسرا فرقہ مسلمان کو لیا ہے۔ یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں، مسلمان تو وحدانیت اور اس کی قدرت علی البعث کے قائل ہیں، جب کہ دوسرے اللہ کے بارے میں مختلف گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔ اس ضمن میں جنگ بدر میں لڑنے والے مسلمان اور کافر بھی آجاتے ہیں، جس کے آغاز میں مسلمانوں میں ایک طرف حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدۃ ؓ تھے اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں کافروں میں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ تھے (امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ہی مفہوم صحیح اور آیت کے مطابق ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–25

12: مسجد حرام اور اس کے آس پاس کے وہ مقامات جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں، مثلا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ، منی، عرفات اور مزدلفہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وقف عام ہیں، اور ان کو عبادت کے لیے استعمال کرنے میں مقامی باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔ 13: ٹیڑھی راہ نکالنے سے مراد کفر و شرک حرم کے احکام کی خلاف ورزی، بلکہ ہر قسم کا گناہ ہے۔ حرم میں جس طرح ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ یہاں گناہوں کا وبال بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–24

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی پہلے (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِــِٕــيْنَ وَالنَّصٰرٰي وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُـوْٓا) 22 ۔ الحج :17) الیٰ آخرہ میں جن فرقوں کا ذکر ہوا ان سب کو حق و باطل پر ہونے کی حیثیت سے دو فریق کہہ سکتے ہیں۔ ایک مومنین کا گروہ جو اپنے رب کی سب باتوں کو من و عن تسلیم کرتا اور اس کے احکام کے آگے سربسجود رہتا ہے۔ دوسرے کفار کا مجمع جس میں یہود، نصاریٰ ، مجوس، مشرکین، صابئین وغیرہ ہم سب شامل ہیں۔ جو ربانی ہدایات کو قبول نہیں کرتے اور اس کی اطاعت کے لیے سر نہیں جھکاتے، یہ دونوں فریق دعاوی میں، بحث و مناظرہ میں اور جہاد و قتال کے مواقع میں بھی ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 19–21

آیت 19 ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّہِمْز ” یہ سورت چونکہ رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی ‘ اس لیے ان گروہوں سے مکہ کے دو گروہ مراد ہیں۔ یعنی ایک مؤمنین کا گروہ جو حضور ﷺ پر ایمان لا چکا تھا اور دوسرا وہ گروہ جو اب تک آپ ﷺ کی مخالفت پر اڑا ہوا تھا۔ قبل ازیں آیت 11 کے ضمن میں وضاحت کی جا چکی ہے کہ سورة الحج مکی سورت ہے ‘ البتہ اس کی کچھ آیات ایسی ہیں جو سفر ہجرت کے دوران نازل ہوئیں تھیں۔ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ط ” کپڑے کو قطع کرنے کا ذکر کر کے لباس تیار کرنے کے عمل کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ یعنی جس طرح درزی پہلے مطلوبہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 یعنی جھگڑنے اور لڑائی کرنے والے دو فریقوں میں سے ایک فریق تو اللہ کے فرمانبرداروں اور مسلمانوں کا ہے اور دوسرا کافروں کا۔ اور اس کافروں کے فریق میں وہ سب گروہ شامل ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا یعنی یہودی، صابی، عیسائی، مجوس، مشرکین اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جن کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے جیسے ہندو، سکھ، بدھ مت والے، اللہ کی ہستی کے منکر یعنی نیچری اور دہریے وغیرہ سب اس دوسرے فریق شامل ہیں۔ ان دونوں فریقوں میں باعث نزاع مسئلہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ فریق اول تو اللہ کی صفات بالکل اسی طرح تسلیم کرتا ہے جس طرح اللہ نے خود بتلائی ہیں۔ پھر وہ اللہ کا فرمانبردار اور اس کے حضور سجدہ ریز بھی رہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ہذن خصمن اختمصوا فی ربہم یہ دونوں (مذکورۂ بالا) دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے (دین کے) بارے میں اختلاف کیا۔ ہٰذٰنِیعنی یہ دو فریق ہیں ایک فریق مؤمنوں کا دوسرا فریق مذکورۂ بالا پانچوں اقسام کے غیر مسلموں کا ان کا باہم جھگڑا ہے اس بات میں کہ اللہ کا دین کونسا ہے یا اللہ کی ذات وصفات اور احکام کے سلسلہ میں ان کا اختلاف ہے شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوذر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت ہٰذٰنِ خَصْمٰنِٰ اخْتَصَمُوْا فِی رَبِّہِمْکا نزول حضرت حمزہ ‘ حضرت عبیدہ ‘ حضرت علی ؓ اور شبیہ اور ولید بن عتبہ کے متعلق ہوا اوّل تینوں حضرات مؤمن تھے اور مؤخر الذکر تینوں اشخاص کافر۔ اس شان نزول کی بنا پر فریق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–21

(19۔ 20۔ 21) یہ دو دین والے فرقے ہیں یعنی مسلمان اور یہود و نصاری جنہوں نے اپنے پروردگار کے دین کے بارے میں اختلاف کیا ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین سے زیادہ واقف ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے انکے درمیان اس طرح فیصلہ فرما دیا کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے منکر تھے یعنی یہود و نصاری ان کے لیے آگ کے کرتے اور جبے تیار کیے جائیں گے اور ان کے سر کے اوپر سے تیز کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا۔ اس سے ان کے پیٹ کی چربی اور کھال وغیرہ سب گھل جائے گی اور ان کے مارنے کے لیے لوہے کے گرم گزر ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ھذان خصمن“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت ابوذر ؓ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ڍھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ : یہاں دو جھگڑنے والوں میں ایک فریق مسلمان اور دوسرا فریق وہ پانچوں گروہ ہیں جن کا پچھلی آیت میں ایمان والوں کے بعد ذکر ہوا ہے اور جنھیں اس آیت میں کافر قرار دیا گیا ہے۔ رب تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی توحید کے قائل ہیں اور یہ تمام لوگ توحید کے بارے میں طرح طرح کے خیالات رکھتے ہیں جو کفر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس مخالفت کا لازمی نتیجہ مسلمانوں کی طرف سے جہاد ہے۔ پہلا غزوہ جس میں رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں دو بدو جنگ ہوئی غزوۂ بدر تھا، جس میں سب سے پہلے میدان میں نکلنے والے حمزہ بن عبد المطلب، عبیدہ بن حارث اور علی بن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ (یہ دونوں فریق ہیں) آپس میں جھگڑنے والے فریق ہیں۔ یہاں فریق کو خصم سے جو کہ صفت ہے تعبیر کردیا۔ اخْتَصَمُوْا (انہوں نے اختلاف کیا) معنی کا لحاظ کر کے جمع کا صیغہ لایا گیا۔ اور ھذانؔ لفظ کا لحاظ کر کے تثنیہ لایا گیا۔ مراد اس سے مومن اور کافر دو فریق ہیں۔ قول ابن عباس ؓ : یہ ضمیر مذکورہ پانچوں اہل ادیان اور مؤمنوں کی طرف لوٹتی ہے مومن ایک فریق ہیں اور باقی پانچوں ایک فریق ہیں۔ فِیْ رَبِّھِمْ (اپنے رب کے متعلق) اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی صفات کے متعلق پھر ہر ایک کی جزاء ذکر کی۔ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پس وہ لوگ جو کافر ہیں) اللہ تعالیٰ نے : ان اللہ یفصل بینہم یوم القیامۃ ]…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–23

1۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت، میں سجود سے مراد ہے ان سب چیزوں کا سایہ۔ آیت وکثیر من الناس، یعنی ایمان والے لوگ، آیت وکثیر حق علیہ العذاب اور اس سے مراد کافر کے سایہ کا سجود ہے۔ حالانکہ وہ خود اس کو ناپسند کرتا ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کا سجدہ اس کا مطلب سایہ ہے۔ اور پہاڑوں کا سجدہ ان کا سایہ ہے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ کپڑے سجدہ کرتے ہیں۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر، وابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ جو کچھ آسمان میں ہے سورج، چاند…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ھٰذٰنِ : یہ ] [ خَصْمٰنِ : دو حجت بحث کرنے والے (گروہ) ہیں ] [ اخْتَصَمُوْا : جنھوں نے حجت تکرار کی ] [ فِيْ رَبِهِمْ : اپنے رب (کے بارے) میں ] [ فَالَّذِينَ : پس وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ قُطِّعَتْ : کاٹے جائیں گے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ ثِيَابٌ: کپڑے ] [ مِّنْ نَارٍ : کسی آگ میں سے ] [ يُصَبُّ : انڈیلا جائے گا ] [ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ : ان کے سروں کے اوپر سے [ الْحَمِيْمُ : کھولتا پانی ] س ب ب [ صَبًّا : (ن) اوپر سے پانی گرانا۔ برسانا۔ انڈیلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 19] ترکیب : (آیت۔ 19 ) خَصْمٌ مصدر ہے اور مصدر کی تثنیہ اور جمع نہیں آتی۔ لیکن بعض مصادر اسم الفاعل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–22

دوزخ میں کافروں کی سزا، آگ کے کپڑے پہننا سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جانا، لوہے کے ہتھوڑوں سے پٹائی ہونا دو فریق یعنی مومنین اور کافرین نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا یعنی ایک جماعت وہ ہے جو اہل ایمان کی ہے اور ایک جماعت اہل کفر کی ہے دونوں جماعتوں میں اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے آپس میں جنگ بھی ہے جھگڑے بھی ہیں اور قتل و قتال بھی۔ دونوں جماعتوں کی باہمی دشمنی کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے مومنین تو اللہ تعالیٰ کے لیے لڑتے ہیں مشرکین اور کافرین جو کسی درجہ میں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور مالکیت کا اقرار کرتے ہیں وہ بھی اپنے خیال میں اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے لڑتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اپنے دین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–24

بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–22

31:۔ ” ھٰذَانِ خَصْمَانِ الخ “۔ جھگڑنے والے دو فریقوں سے مراد مومن اور کافر ہیں یعنی دلائل وبراہین سے مسئلہ توحید کے اس قدر واضح ہوجانے کے باوجود مشرکین مسلمانوں سے اپنے پروردگار کی توحید میں جھگڑتے ہیں حالانکہ یہ مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہوچکا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق ومالک اور پروردگار مانتے ہیں تو پھر اس کی صفات کارساز میں کیوں غیروں کو شریک کرتے ہیں۔ 32:۔ ” فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ تا ” ذُوْقُوْا عَذاَبَ الْحَرِیْق “ یہ تخویف اخروی ہے اللہ کی توحید میں مومنوں کے ساتھ جھگڑا کرنے والے فریق کا اخروی انجام یہ ہوگا کہ جہنم میں ان کو آگ کا لباس پہنایا جائیگا اور اوپر سے ان کے سروں پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–22

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پائے جانے والے مختلف مذاہب مثلاً یہودی ، صابی ، نصاریٰ ، مجوسی ، مشرک اور اہل ایمان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں سے صرف اہل ایمان ہی کامیاب ہوں گے جب کہ باقی سارے گروہ گمراہ ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ کریگا۔ تمام گمراہ فرقوں کو اس دن اپنی غلطی کا احساس ہوگا جب کہ ان کے عقیدے اور عمل کا صلہ ان کے سامنے آئے گا۔ اس دن سب کو پتہ چل جائے گا کہ دنیا میں اہل ایمان ہی حق پر تھے جو اللہ کی وحدانیت کو مانتے تھے ، اسی کی عبادت کرتے تھے۔ اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ خدا تعالیٰ کے لئے سجدہ ریزی : اب آج کی پہلی آیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّہِمْ۝ 0ۡفَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ۝ 0ۭ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِہِمُ الْحَمِيْمُ۝ 19ۚ خصم الخَصْمُ مصدر خَصَمْتُهُ ، أي : نازعته خَصْماً ، يقال : خاصمته وخَصَمْتُهُ مُخَاصَمَةً وخِصَاماً ، قال تعالی: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] ، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] ، ثم سمّي المُخَاصِم خصما، واستعمل للواحد والجمع، وربّما ثنّي، وأصل المُخَاصَمَة : أن يتعلّق كلّ واحد بخصم الآخر، أي جانبه وأن يجذب کلّ واحد خصم الجوالق من جانب، وروي : ( نسیته في خصم فراشي) «1» والجمع خُصُوم وأخصام، وقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–22

(ف) بخاری و مسلم وغیرہما نے ابوذر سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت حمزہ و عبیدہ و علی ؓ کے اور عتبہ کے حق میں نازل ہوئی جبکہ بدر کے روز یہ دونوں فریق لڑکے کو میدان جنگ میں صف سے نکل کر لڑے اور حاکم نے بھی حضرت علی ؓ سے یوں ہی نقل کیا ہے کہ یہ آیت ہمارے حق اور ہمارے مقابل بازوں کے حق میں نازل ہوئی ہے مراد یہ کہ اس کے ہم یہی مصداق ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–22

ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ ز فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ط یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُ وْسِہِمُ الْحَمِیْمُ ۔ یُصْھَرُبِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِہِمْ وَالْجُلُوْدُ ۔ وَلَھُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ ۔ کُلَّمَآ اَرَادُوْآ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْھَا ق وَذُوْقُوْا عَذابَ الْحَرِیْقِ ۔ (الحج : 19 تا 22) (یہ دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ان میں سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ اس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے سب گل جائے گا اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–22

فہم القرآن ربط کلام : عزت، ذلّت اور ہر قسم کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر پھر بھی لوگ اس کے سوا دوسروں کے سامنے جھکنے اور انہیں ” اللہ “ کی ذات اور صفات میں شریک کرتے اور ان کے حق میں جھگڑتے ہیں، ایسے لوگوں کو آگ کا لباس اور جہنم کا کھولتا ہوا پانی ان کے سروں پر ڈالا جائے گا۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق ومالک کی تابعداری اور اس کی حمد وثنا میں لگا ہوا ہے۔ مگر انسانوں میں کثیر تعداد ایسی ہے جو نہ صرف اپنے رب کے نافرمان اور ناقدر دان ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں کچھ ان میں ذات کبریا کے منکر ہیں اور کچھ نے اس کی صفات میں دوسروں کو دخیل کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کا حال : 19: ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ (یہ دونوں فریق ہیں) آپس میں جھگڑنے والے فریق ہیں۔ یہاں فریق کو خصم سے جو کہ صفت ہے تعبیر کردیا۔ اخْتَصَمُوْا (انہوں نے اختلاف کیا) معنی کا لحاظ کر کے جمع کا صیغہ لایا گیا۔ اور ھذانؔ لفظ کا لحاظ کر کے تثنیہ لایا گیا۔ مراد اس سے مومن اور کافر دو فریق ہیں۔ قول ابن عباس ؓ : یہ ضمیر مذکورہ پانچوں اہل ادیان اور مؤمنوں کی طرف لوٹتی ہے مومن ایک فریق ہیں اور باقی پانچوں ایک فریق ہیں۔ فِیْ رَبِّھِمْ (اپنے رب کے متعلق) اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی صفات کے متعلق پھر ہر ایک کی جزاء ذکر کی۔ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پس وہ لوگ جو کافر ہیں) اللہ تعالیٰ نے : ان اللہ یفصل بینہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19۔ ھذان خصمان اختصموا فی ربھم، وہ جھگڑتے ہیں اپنے دین میں اور اس کے حکم میں۔ خصم، اس شبیہ ہے مصدر کا۔ اس وجہ سے اللہ نے فرامیا، اختصموا، لفظ جمع کے ساتھ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ، وھل اتاک نباالخصم اذ تسوروالمحراب۔ ھذان خصمان کی تفسیر۔ ان دونوں خصمین کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ آیت، ھذان خصمان ، اختصموا فی ربھم، کا نزول حضرت حمزہ، حضرت عبید ، حضرت علی اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ، عتبہ بن زبیعہ کے متعلق ہوا۔ اول تینوں حضرات مومن تھے اور آخری تینوں اشخاص کافر تھے۔ حضرت علی سے روایت ہے کہ یہ آیت ہمارے متعلق اور بدر کے دن کافروں سے ہمارے مقابلے کے سلسلے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–24

19۔ 24:۔ صحیحین ابوداؤد ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت علی ؓ اور ابوذر ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور شیبہ کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک انصاری جوان نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش کے لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور عبیدہ بن حارث ان ان تینوں کو مشرکوں کے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–24

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–25

مکہ مکرمہ کی اراضی کا حکم اور اس کے مکانات کو اجارے پر دینے کا بیان قول باری ہے (والمسجد الحرام الذی جعلنا لا للناس سواء ن العاکف فیہ والباد اور اس مسجد حرام کی زیارت میں بھی مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے بنایا ہے جسمیں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں) اسماعیل بن مہاجر نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ کا ارشاد ہے (مکۃ مناخ لاتباع ربا عھا ولد تو اجر بیو تھا مکہ مکرمہ اونٹوں کے بٹھانے کی جگہ ہے یعنی لوگوں کے قیام کا مقام ہے اس کے قطعات اراضی نہ فروخت کئے جائیں اور نہ ہی اس کے مکانات کو اجاڑے پر دیا جائے گا یعنی کرائے پر چڑھایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

47 کافروں کیلئے آگ کے کپڑے کاٹے جاچکے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے ہیں۔ سو اپنے اختیار کردہ کفر و شرک کی بناء پر آگ کے یہ کپڑے آج بھی ان لوگوں کے جسموں پر موجود ہیں مگر امتحان و آزمائش کے تقاضوں کے پیش نظر آج وہ نظر نہیں آرہے۔ کل جب محنت و مجاہدہ کی اس دنیا سے گزر کر یہ لوگ آخرت کے اس دارالجزاء میں پہنچیں گے جو کہ عالم مشاہدہ ہوگا تو یہ سب پوشیدہ حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے اور دوزخ کی وہ آگ ان کو چاروں طرف سے آ گھیرے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { سَرَابِیْلُہُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–22

آخرت میں عذاب کا نقشہ تشریح : ان دو گروہوں کا ذکر ہے ایک مومن اور دوسرا کافر۔ تو کفار کے لیے جو نقشہ عذاب کا کھینچا گیا ہے جو ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر دیا جائے گا واقعی رونگٹے کھڑے کرنے والا عذاب ہوگا۔ اللہ کبھی نہ دکھائے اور ہمیشہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ دوسرا گروہ جو مومن ہے اس کے انعامات کا ذکر یوں کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ یہاں کافروں سے مراد مسلموں کے علاوہ مذکورہ پانچ فرقے ہیں یہ سب ایک گروہ ہیں اور ان کے مقابلے میں مسلمان دوسرا گروہ، خدا کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان خدا کی توحید کے قائل ہیں اور یہ تمام لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کے خیالات رکھتے ہیں جو کفر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ (کبیر) تفاسیر میں لکھا ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں کی طر سے حضرت حمزہ ؓ ، علی ؓ اور عبید ؓ بن حارث اور کفار مکہ کی طرف سے عقبہ، شیبہ اور ولید بن ربیعہ مبارزت کے لئے نکلے۔ انہی دو جماعتوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ چناچہ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : انا اول من یحبثو بین یدی الرحمن المخومہ، یوم القامۃ، کہ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:19) ھذان خصمن۔ یہ دو فریق۔ یعنی فریق المومنین وفریق لکفار۔ بعض نے حضرت ابو ذر کی روایت پر وہ لوگ مراد لئے ہیں جنہوں نے میدان بدر میں ایک دوسرے کو دعوت مبارزت دی۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت علی ؓ۔ حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ اور کفار کی طرف سے عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔ اختصموا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے جھگڑا کیا ۔ اختصام (افتعال) مصدر جھگڑا کرنا۔ یہاں خصمن کے بعد جمع کا صیغہ تعداد افراد کی وجہ سے لایا گیا ہے۔ قطعت۔ ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب تقطیع (تفعیل) مصدر ۔ پھاڑی جاتی ہے یا پھاڑی جائے گی۔ قطع کی جائے گی۔ قطعت ثیاب۔ کپڑے کاٹیں جائیں گے۔ یعنی ان کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–25

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 : ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–23

مسلمانوں اور مشرکوں کا جھگڑا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ حضڑت ابوذرغفاری سے منقول ہے کہ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ آیت چھ آدمیوں کی شان میں ہے جو کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک جوان انصار نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا، انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر نبی ﷺ نے امیر حمزہ عنہ اور حضرت علی اور عبیدہ بن حارث عنہ کو ان تینوں مشرکوں کے مقابلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–19

[15] آیت 17 میں جن فرقوں کا ذکر ہوا ان سب کو حق و باطل کے اعتبار سے دو فریق کہہ سکتے ہیں۔ ایک مومنین کا گروہ اور دوسرا کفار کا مجمع جس میں یہود، نصاریٰ ، مشرکین، مجوس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دو فریق بحث ومناظرہ میں اور جہاد و قتال میں ایک دوسرے کے مدمقابل رہتے ہیں۔ ان دونوں فریقوں کا انجام آگے بتلایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

دو مخالف گروہ : (ف 2) ” ھذن خصمن “۔ سے مراد دو گروہ ہیں ، ایک اہل معصیت دوسرا اہل خیر ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، نتیجے اور ثمرے کے لحاظ سے یہ دونوں گروہ برابر نہیں ، پہلا گروہ اپنے اعمال بد کی وجہ سے جہنم میں جائے گا ، اور سخت ترین اذیتیں اٹھائے گا ، دوسرا گروہ جنت کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوگا ، اور اللہ کا شکر گزار ہوگا ۔ (آیت) ” قطعت لہم ثیاب من نار “۔ سے مراد یہ ہے کہ جہنم کی آگ ان کے چاروں طرف احاطہ کرئے گی ، گویا انہیں آگ کے پیراہن پہنائے گی ، یہ ایک تشبیہ ہے ، جس طرح دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ (آیت) ” لھم من جھنم مھاد ومن فوقہم غواش “۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر اس آگ کی ایک چنگاری بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) یہ دو فریق ہیں یعنی مومن اور کافرو منکر جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ہے اور اختلاف کیا پس جو لوگ منکر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے اور آگ کا لباس قطع کیا جائے گا ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–23

ف 9۔ باوجود تمام مخلوقات کے منقاد ہونے کے آدمی جو خاص درجہ کی عقل رکھتا ہے ان میں سب منقاد نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فریقین میں سے ایک حق پر ہے ایک کفر پر قائم رہنے والوں کے لئے جہنم تیار ہے : 19۔ حق و باطل دو چیزیں ہیں ۔ باطل کے کتنے ہی شعبے ہیں جو مختلف گروہوں نے اپنا رکھے ہیں اور پھر یہ سارے مختلف گروہ مل کر ایک گروہ تشکیل پاتا ہے اور سب کا مقابلہ حق کے ساتھ ٹھہرا اس لئے زیر نظر آیت میں باطل کے سارے گروہوں کو ایک قرار دے کر بات کی جا رہی ہے کہ ان سب کا جھگڑا حق کے ساتھ ہے تو معلوم ہوا کہ اس طرح یہ سارے گروہ مل کر دو گروہ بن گئے ایک اہل حق اور دوسرے اہل باطل اور پھر فرمایا کہ حق و باطل کا جھگڑا ہے ۔ حق پر کونسا فریق ہے ؟ وہی جو انبیاء ورسل کی بات کو مان کر خالصتا اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

Commentary هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا (These are two opponents who have disputed about their Lord - 22:19). This verse, with its general words, deals with two sets of people, namely the Muslims and the infidels whether they belong to the earliest times or to later ages. However, the particular event in the background of which it was revealed about two groups of men who faced each other in combat on the battleground of Badr. Sayyidna Hamzah and ` Ubaidah ؓ stepped out of the Muslim ranks, whereas ` Utbah bin Rabi'ah, his son Walid and his brother Shaibah came out to challenge them. In the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

36. Here all the disputants about Allah have been divided into two main categories in spite of their large numbers. (1) Those who believe in the message of the Prophets and adopt the righteous way of life. (2) Those who reject their message and follow different ways of disbelief, though they may have countless differences and disputes among themselves. 37. See (Ayat 50 and E.N. 58 of Surah Ibrahim) for explanation.

Read the full tafseer →